Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟

    پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیوں ۔۔۔؟
    ڈاکٹر سبیل اکرام
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے شکنجے میں بری طرح پھنس اور دھنس چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عالمی مالیاتی ادارہ اپنی تمام تر جائزو ناجائز شرائط منوانے کے باوجود اس معاہدے پر دستخط نہیں کر رہا جس کے مدد سے ہمارے حکمران اپنی عوام کو مسلسل باور کروارہے ہیں کہ اس کے بعد پاکستان کی معیشت جو کہ مسلسل بستر مرگ پر پڑی کراہ رہی ہے سنبھل جائے گی اور پاکستان معاشی اعتبار سے خود کفیل ہوسکے گا ۔ آئی ایم ایف کے اس جبر اور پاکستان کے عوام کے صبر پر جس بھی زاویہ نگاہ سے اظہار خیال کیا جائے یہ بات طے ہے کہ یہ ایک ایسا عالمی ایجنڈا ہے جس کا واحد مقصدپاکستان کی معیشت اور معاشرت کو اس حد تک تباہ کرنا ہے کہ ہمارا ملک عالمی ساہوکاروں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ہر وہ بات تسلیم کرلے جو وہ چاہتے ہیں ، اس جبر اور دباﺅ کا سب سے بڑا مقصدیہ ہے کہ ہمیں ایٹمی اثاثوں سے محروم کیا جائے اور بھارت سے ان شرائط پر صلح کروائی جائے جو وہ چاہتا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر جو کہ پاکستان کےلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے اسے بھارت کی خواہشات کے مطابق حل کیا جاسکے۔
    یہ وہ حقائق ہیں جو زباں زدعام ہیں مگر ہمارے ارباب رفتہ اقتدار واختیار ان مسلمہ حقائق کا علم ہونے کے باوجود ایسے اقدامات سے نہ جانے کیوں گریزاں ہیں ، جو اس عالمی ایجنڈے سے نجات دلا کر ہمیں ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کا درس دے سکتے ہیں ۔ یہ محض خلوص نیت سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف عالمی ایجنڈا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ہے ۔۔۔۔۔ قدرت نے ہمیں زبردست جغرافیائی محل ووقوع دیا ہے کہ کوئی سا بھی طاقت ور ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے تاہم بات صرف قومی غیرت وحمیت کو جگانے، باہمی اتحاد واتفاق اور عوام کی رہنمائی کی ہے ۔ مگر جب رہنماہی خواب غفلت میں ڈوب کر اپنے ذاتی اغراض ومفادت کے اسیر ہو چکے ہوں تو پھر لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے ۔
    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ آج اگر پاکستان کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں یہ گزشتہ حکمرانوں کی بنائی گئی ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم عالمی سطح پر ایسے گدا گر بن چکے ہیں جو پوری دنیا میں بھیک مانگتے ہیں ۔۔۔۔ستم بالائے ستم یہ کہ جب کوئی ملک ہماری جھولی میں بھیک ڈالتا ہے تو ہم شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ ہم ایسے گدا گربن چکے ہیں جو سودی قرضے ملنے پر بھی جشن مناتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ بحیثیت قوم ہماری عزت داﺅ پر لگ رہی اور ہماری ساکھ۔۔۔۔ راکھ بن کر ہمارے ہی سروں پر پڑ رہی ہے ۔

    سوال یہ ہے کہ جب کفایت شعاری کی پالیسی اپنا کر آئی ایم ایف کے ظلم و جبر اور استحصال کا راستہ روکا جاسکتا ہے تو یہ پالیسی خلوص نیت سے کیوں نہیں اپنائی جاتی ۔ ہمارے حکمرانوں کا قرض کی ۔۔۔۔مئے پینے ۔۔۔۔ اور سینہ چوڑا کرکے غیر ملکی دورے کرنے کا نشہ آخر کب۔۔۔ اترے گا ۔۔۔؟ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ عالم اسلام کے قلعہ پاکستان کی نظریاتی سرحدیں بد ترین خطرے میں ڈالی جارہی ہیں، اس کی معاشی بنیادوں میں ڈائنامیٹ بھرا جارہا ہے تاکہ سیکولرازم کی راہ ہموار ہوسکے اور کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک لادینی ریاست بن جائے ۔ ان تمام حالات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی نہ صرف ہمارے حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں بلکہ وطن عزیز کی بربادی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں جن پر پاکستان کو بچانے اور عوام میں اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔۔۔یہ محض اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کی اولین ترجیح ریاست نہیں اقتدار ہے ، یہ جماعتیں اقتدار چاہتی ہیں چاہے کسی بھی قیمت پر ملے جبکہ پاکستان کی سا لمیت اور تیئس کروڑ عوام کو در پیش مسائل کی کسی کو فکر نہیں ۔ نان ایشوز کو ایشوز بنا کر عوام کو بہکایا اور دھوکے میں رکھا جارہا ہے ۔ نان ایشوز کے ذریعے عوام کے حقیقی مسائل ، غربت، بے روزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال سے توجہ ہٹائی جارہی ہے۔ حکمرانوں نے عوام کو اس حد تک مایوس کردیا ہے کہ اب عوام میں اعتماد کا فقدان بڑھتا رہا ہے۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ حالات بتدریج حتمی تباہی اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں اصلاح و حوال پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ملک میں دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کے باعث غربت، افلاس اور بے روزگاری بڑھ رہی ہیں تمام سہولتیں طبقہ اشرافیہ کے لیے مخصوص ہیں مگر غربت وافلاس کی چکی میں پسنے والے کروڑوں عوام کو بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پرسان حال ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کا قرض ادا کرنے کیلئے عوام کی جیبوں پر مسلسل ڈاکے ڈالے جارہے ہیں مگر حکمران اور اشرافیہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔اگر چہ ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگرہمارا ملک مسائلستان بن چکا ہے ۔ بات بہت سیدھی ہے کہ جب ایک اسلامی نظریاتی ملک کی معیشت کی بنیادیں سود پر رکھی جائیں گی تو معیشت میں سدھارکیسے آ سکتا ہے ؟ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاﺅپالیسیوں نے ملک کو تباہ اور عوام کو بدحال کردیا ہے مگر شعور سے عاری ہماری عوام وڈیروں اور لٹیروں کے لئے ” آوئے ہی آوئے “ کے نعرے بلند کررہے ہیں ۔ کوئی لیڈر اسلام کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے اور کوئی رہنما بنیادی انسانی حقوق کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیل رہا ہے جبکہ دینی جماعتوں کے رہنما جن پر اصلاح احوال کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہوتی تھی ۔۔۔۔وہ بھی قوم کی تقسیم در تقسیم کا سبب بن رہے ہیں ۔ ان حالات میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے جو دور حاضر کے سب سے بڑے مہاجن ہیں پاکستان کی معیشت کو اپنے شکنجے میں نہیں لیں گے۔۔۔۔عوام کاخون نہیں چوسیں گے تو اور کیاہوگا ۔۔۔؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہوں یا اپوزیشن جماعتیں یا دینی جماعتیں سب کے قول وفعل میں تضاد ہے اس تضاد نے ہی قوم اور ملک کو برباد کردیا ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایم ایف سے نجات کے لیے خود انحصاری اور کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنائی جائیں ، قرضے لینے کی بجائے جو کچھ ملک میں میسر ہے اسی پر گزر اوقات کی جائے ۔ مراعات یافتہ طبقے پر نواز شات کی بارش برسانے کے بجائے غریب عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے ۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے ملک میں نان اور روٹی سمیت دیگر اشیا خوردونوش کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں مگر ارکان پارلیمنٹ جو کروڑوں اربوں کے اثاثوں کے مالک ہیں ان کےلئے کھانا شرم ناک حد تک کم نرخوں پر دستیاب ہے۔ کم آمدن والے ملازمین کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو محکموں کے سربراہان کو حاصل ہیں ۔ یہ صورت حال اسلام کے احکامات اور تعلیمات سے متصادم ہے۔یہ طبقاتی تفاوت ملک اور قوم کےلئے تباہ کن ہے جو کہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کی فکر کریں ۔اسلئے کہ طبقہ امرا کی تو پہلے ہی پانچوں گھی میں ہیں ، انہیں ہرطرح کی سہولتیں میسر ہیں جبکہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بحیثیت قو م ہم سادگی اور کفایت شعاری ایسی پالیسیاں اپنا کرآئی ایم ایف سمیت عام عالمی ساہوکاروں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، سودی نظام کو چھوڑنے اور اسلام کا معاشی نظام اختیار کرنے اور اخلاص نیت سے آگے بڑھنے کی ہے ۔ جب ہم خود سدھر جائیں گے تو یقین کریں دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتی ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات حاصل کرنے کا عہد کریں اور ان سیاستدانوں ، حکمرانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور ان کو ووٹ بھی نہ دیں جو اپنے غیر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے ہماری گردنوں سے معاشی غلامی کا ڈالتے اور خود داد عیش دیتے پھرتے ہیں ۔

  • اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں ،عائشہ غوث پاشا

    اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں ،عائشہ غوث پاشا

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر کے بیان کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے عائشہ غوث بخش پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان قانون کے مطابق ہی چل رہا ہے، آئی ایم ایف مشن چیف کا بیان غیر معمولی نوعیت کا ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں. قرض پروگرام میں تاخیر پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں کے مفاد میں نہیں وزیراعظم نےایم ڈی آئی ایم ایف کو شرائط پرعملدرآمد اور پروگرام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے امید ہے نئے بجٹ سے پہلے اسٹاف لیول معاہدہ ہو جائے گا 30 جون کو آئی ایم ایف پروگرام ختم ہو جائے گا آئی ایم ایف سے ڈیل نہ ہوئی تووزارت خزانہ آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھی ہر وقت پلان بی بھی موجود ہوتا ہے ہماری ترجیح آئی ایم ایف پروگرام ہے

    عائشہ غوث بخش پاشا کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال کا بجٹ الیکشن ایئربجٹ ہوگا، نیا بجٹ 9 جون کے حساب سے تیار کیا جا رہا ہے نئے بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا کوشش ہوگی عام آدمی پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائےآئی ایم ایف پاکستان کو ٹارگٹڈ سبسڈی کی اجازت دیتا ہے

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سیاسی پیشرفت کا نوٹس لیتا ہے مگر ملکی سیاست پرتبصرہ نہیں کرتا امید ہے آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھنے کا پُرامن راستہ تلاش کیا جائے گا

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف قرض پروگرام مکمل ہوئے بغیر ختم ہونے کا امکان ہے، نویں اقتصادی جائزہ کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم ہو جائے گا، بجٹ کیلئے آئی ایم ایف سے نواں اقتصادی جائزہ ہر صورتحال میں مکمل کرنے کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،نواں اقتصادی جائزہ مکمل ہونے سے حکومت کو معاشی سطح پر درپیش چیلنجز میں کمی ہو گی وزارت خزانہ حکام بجٹ تجاویز پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں آئی ایم ایف سے دسویں اور گیارہویں اقتصادی جائزہ کیلئے وقت نہیں ہو گا،دسویں اور گیارہویں جائزے سے قبل قرض پروگرام کا وقت ختم ہو جائے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض معاہدہ کی معیاد 30 جون ہے، موجودہ قرض پروگرام کی معیاد بڑھانے پر آئی ایم ایف سے تاحال کوئی بات نہیں ہوئی

    پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں

    وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر 

     پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

  • پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی جاری رہی تو پاکستانی روپیہ مزید گرے گا،بلوم برگ

    پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی جاری رہی تو پاکستانی روپیہ مزید گرے گا،بلوم برگ

    امریکی جریدے بلوم برگ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی کشمکش جاری رہی تو پاکستانی روپیہ مزید گر جائے گا-

    باغی ٹی وی: قتصادی امور پر نظر رکھنے والے امریکی جریدے بلومبرگ نے کہا ہے کہ پاکستان سے سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے۔معاملہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد مزید بگڑ گیا ہے اگر حکومت اور عمران خان کے درمیان سیاسی محاذ آرائی اسی طرح جاری رہی تو پاکستانی روپیہ مزید گرے گا جس سے ملک میں مزید مہنگائی ہو گی۔

    جلاؤ گھیراؤ کے ماسٹرمائنڈ عمران خان کیخلاف ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلے گا،رانا ثنااللہ

    جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض ڈیل نہ ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔سیاسی خلفشار قرض معاہدے پر پیشرفت میں رکاوٹ کی وجہ ہو سکتا ہے جون کے بعد ڈیفالٹ ہو نے کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا، اور آئی ایم ایف سے مزید کوئی ادائیگی موصول نہیں ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک کے ساتھ لین دین بھی تعطل کا شکار ہے اور یہ سب آئی ایم ایف کی منظوری سے متعلق ہے۔ جون اور جولائی سے ستمبر تک 5 سے 6 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں لیکن پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر ہیں، اس سے خطرات بڑھیں گے اور پاکستانی کرنسی پر دباؤ بڑھے گا۔

    جس طرح مجھے گرفتار کیا گیا ،ردِعمل فوجی نشان والی عمارتوں کےسامنےنہ آتا تو اور …

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ 300 روپے سے زائد پر ٹریڈ کر رہا ہے اس لیے ایسا لگتا ہے کہ نئے مالی سال میں ملک کی معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

  • جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے،اسحاق ڈار

    جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے،اسحاق ڈار

    لاہور: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے نویں جائزے کیلئے سب کچھ ہوچکا ہے، گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا۔

    باغی ٹی وی: تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جب پاکستان کی معیشت بہتر ہونے لگتی ہے کوئی سانحہ ہوجاتا ہے، ہم نے گزشتہ دور میں پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بہترین معیشت بنایا تھا، آئی ایم ایف کے نویں جائزے کیلئے سب کچھ ہوچکا ہے، گزشتہ حکومت کی وعدہ خلافی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا پارٹی سے علیحدگی کا سلسلہ تاحال جاری

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا پاکستان پر جیسے 1999ء میں ایٹمی دھماکوں کے وقت بدترین پابندیاں لگائی گئی تھیں لیکن تب بھی ہم مشکلات سے نکل آئے تھے، موجودہ مشکل وقت سے بھی جلد نکل آئیں گے گزشتہ تین سال میں معیشت کا برا حال کیا گیا، پچھلے تین ماہ سے مسلسل پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی، ڈیفالٹ نہ ہونے سے پاکستان کے اندر اور باہر موجود ناقدین کو مایوس ہونا پڑا،مشکل وقت ہے مل کر اس کو نکالنا ہے اور پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے کوشش کریں گے بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے لیکن آئی ایم ایف کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا ہےکہ پاکستانی حکام سے بات چیت میں بجٹ پرتوجہ رکھی جائے گیایک بیان میں آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس کیلئے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کی معیاد جون کے آخر میں ختم ہو رہی ہے پاکستانی حکام سے بات چیت میں اگلے مالی سال کے بجٹ پرتوجہ رکھی جائے گی، پروگرام کے اہداف اور مناسب فنانسنگ کے انتظامات بھی بات چیت کا حصہ ہیں۔

    عمران خان کے ایڈوائزر ہمیشہ انہیں غلط مشورے دیتے رہے،9 مئی کاواقعہ تو انتہا تھی،مراد …

    جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کی ایم ڈی سے مدد مانگ لی ہے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے رابطہ کیا جس میں انہوں نے پروگرام کے لیے 9 واں جائزہ مکمل کرنے میں مدد طلب کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ذرائع کا بتانا ہےکہ ایکسٹرنل فنانسنگ کے معاملے پر آئی ایم ایف کے مطالبات برقرار ہیں اور آئی ایم ایف ایکسچینج ریٹ میں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کا فرق ختم کروانا چاہتا ہے۔

    قبل ازیں وزارت خزانہ حکام نے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر کردی ہیں،گزشتہ روز حکام وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لئےان سے بجٹ کی تفصیلات شیئر کی جائیں گی، اور آئی ایم ایف کے اعتراضات کی صورت میں بجٹ میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

    روسی تیل آنے کے بعد بھی قیمتیں کم ہوں گی یا نہیں؟ وزیر مملکت برائے …

    ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر کر دی گئی ہیں آئی ایم ایف سے تجاویز میں ایف بی آر اہداف، قرضوں کی ادائیگیوں سمیت اہم اہداف کی تجاویز شئیر کی گئی ہیں، آئی ایم ایف ان تجاویز کا جائزہ لے کر وزارت خزانہ حکام سے بجٹ پر بات چیت کرے گا وفاقی بجٹ میں قرض اور سود کیلئے 8 ہزار ارب تک مختص کرنے کی تجویز ہےاور دفاعی اخراجات 1.7 ٹریلین سے زائد رکھنے کا تخمینہ ہے، جب کہ نان ٹیکس آمدن کے ذریعے 2.5 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ہے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق اسٹیٹ بینک منافع 900 ارب اور پی ڈی ایل سے 750 ارب روپے اکٹھے کئے جائیں گے، آئندہ بجٹ میں سبسڈیزکی مد میں1.3ٹریلین مختص کرنے کی تجویز ہے آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کا 6.4 فیصد رہ سکتا ہے، وفاق اور صوبوں کا بجٹ خسارہ 4.8 سے 5 فیصد تک رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا۔

    علی محمد خان اور شہریار آفریدی رہا ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار

    ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی اسٹیٹ بینک حکام سے آئندہ مالی سال کیلئے فنانسنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ سے قبل معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اسٹاف لیول معاہدے کو منظوری کیلئے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو بھجوا دیا جائے، موجود پروگرام مکمل ہوتے ہی پاکستان اگلے پروگرام کے لئے مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیرونی فنانسنگ سمیت تمام مطالبات پورے کردیے ہیں لیکن پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان 1.1 ارب ڈالر کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

  • چین سے 2.3 ارب ڈالر کا مزید قرض ملنے کا امکان

    چین سے 2.3 ارب ڈالر کا مزید قرض ملنے کا امکان

    پاکستان کے مشکل معاشی حالات کیلئے اچھی خبر، چین سے 2.3 ارب ڈالر کا مزید قرض ملنے کا امکان ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرض واپسی میں بھی مزید مہلت ملنے کا امکان ہے, چین سے 1.3 ارب ڈالر کے تجارتی قرضوں کی ری فنانسنگ کیلئے ملنے کا امکان ہے ایک ارب ڈالر چینی حکومت کے فنڈز سے پاکستان دیئے جائیں گے,پاکستان کو دوست ممالک سے 400 ملین ڈالر تک کی امداد ملنے کا امکان ہے پاکستان کو جون کے آخر تک 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے ،ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 4.3 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکے ہیں,

    واضح رہے کہ پاک چین دوستی گہری، بے مثال ہے،چین کی قیادت نے محنت،عزم اورجذبے کے ساتھ ترقی کی منزل حاصل کی ہے چین ترقی پذیر ریاستوں کیلئے بدعنوانی سے چھٹکارا پانے اور اپنے عوام کو غربت سے نکال کر خوشحالی کی طرف لیجانے کیلئے رول ماڈل ہے۔ چینی قوم نے اپنی عظیم لیڈر شپ میں غربت،بے روزگاری اور کرپشن کیخلاف کامیاب جدوجہد کی ہے۔چین پاکستان کاسب سے زیادہ با اعتماد دوست ملک ہے۔ پاک چین دوستی پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔چین آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ کھڑا رہاہے۔ پاکستان اور چین عالمی امور، امن پسندی اور باہمی احترام کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔ پاک چین ناقابل تسخیر دوستی اور سٹریٹجک شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف کے مطالبے پر منی بجٹ کے ٹیکسز 2023,24 میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق فروی میں منی بجٹ کے ذریعے لائے گئے میں 177 ارب روپے کے ٹیکسز برقرار رہیں گے, حکومت کو منی بجٹ کے ٹیکسز برقرار رکھنے سے 5 سو ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی, سیلز ٹیکس کی شرح کو 18 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا ،لگژری اشیاء پر 25 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہے گا,سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز ہے,بجٹ 2023.24 میں نان فائلرز کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے, نان فائلرز سے لین دین کرنے والوں کی بھی سخت ماںیٹرنگ کی جائے گی ،ٹیکس چوروں کے خلا ف آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے, ٹیکس نظام کو ڈیجٹلائز کر کے ٹیکس آمدن بڑھائی جائے گی,ایف بی آر کو ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھانے کا بھی ہدف دیا گیا ہے,

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

     10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،

     عمران خان کو سی ٹی ڈی نے طلب کر لیا۔

  • پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں،آئی ایم ایف

    پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں،آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہےکہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اورتین سالہ بجٹ سٹریٹیجی پیپرکا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے-

    باغی ٹی وی : نمائندہ آئی ایم ایف ایسٹر پیریز کا کہنا ہےکہ بیرونی شراکت داروں کی جانب سے پاکستان کی مالی معاونت کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں، آئی ایم ایف بقیہ ضروری فنانسنگ کی یقین دہانیاں حاصل کرنےکا منتظر ہے پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں، امید ہے آگے بڑھنےکا ایک پر امن راستہ تلاش کیا جائےگا۔

    فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق فیصلہ محفوظ

    آئی ایم ایف کی ریذیڈنٹ نمائندہ ایسٹر پیریز نے اتوار کے روز کہا کہ 9ویں جائزے کیلئے ضروری بیرونی فنانسنگ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی 9 ویں اقتصادی جائزے میں نظرثانی شدہ پالیسی فریم ورک پر عمل درآمد اہم ہوگا، فروری میں پیش کردہ منی بجٹ اور توانائی کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ اہم اقدامات ہیں، درآمدی پابندیوں میں کمی، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ اور کمزور طبقے کی مدد معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں شراکت داروں کی جانب سے مالی اعانت میکرو اکنامک استحکام کے دوبارہ حصول کے لیےکلیدی ہے۔

    جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پروگرام کے 9 ویں جائزے کے لیے ہونے والی بات چیت، پاکستان اور آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے فنانسنگ گیپ کی نشاندہی کی تھی۔ اب تک پاکستان نے 3 ارب ڈالر کا بندوبست کیا ہے اور بقیہ خلا کو پر کرنا باقی ہے، جس سے تعطل کا شکار بیل آؤٹ پیکج کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو 2 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    یاسمین راشد کو سروسز اسپتال سے پولیس لائن اسپتال منتقل کر دیا گیا

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اورتین سالہ بجٹ سٹریٹیجی پیپرکا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہےبجٹ سازی سے متعلق آئی ایم ایف کے ساتھ آج سے مشاورتی عمل شروع ہوگاوفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور تین سالہ بجٹ اسٹر یٹیجی پیپرکا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف ٹیم سے مشاورت کا عمل آئندہ ہفتے بھی جاری رہے گا، بجٹ اسٹرٹیجی پیپر آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گابجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف3.5 فیصد رکھنے کی تجویز ہےمہنگائی کی شرح کا ہدف21 فیصد مقررکرنے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 8879 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جب کہ ٹیکس وصولیوں کو دیکھ کرگروتھ کا ٹارگٹ طے کیا جائے گا۔

    مری: جنگلی بوٹی کھانے سے چار بچوں کی حالت غیر،ایک بچہ جاں بحق

  • امریکہ ڈیفالٹ ہونے پر عالمی معیشت پر سنگین اثرات کا خطرہ

    امریکہ ڈیفالٹ ہونے پر عالمی معیشت پر سنگین اثرات کا خطرہ

    امریکہ ڈیفالٹ ہونے پر عالمی معیشت پر سنگین اثرات کا خطرہ

    عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہےکہ اگر امریکہ ڈیفالٹ ہوا تو اس کے دنیا بھر کی عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ ملکی قرضوں میں تیزی سے بڑھتے اضافےکے باعث ڈیفالٹ کا خطرہ صرف امریکا کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ہے۔

    ایک نیوز بریفنگ میں آئی ایم ایف ترجمان نے زور دیا کہ امریکی حکام کو ملکی بینکنگ سیکٹر سمیت علاقائی بینکوں کی نئی خامیوں کے حوالے سے ہوشیار رہنا چاہیے جو زیادہ شرح سود کے ماحول میں سامنے آسکتی ہیں۔ جبکہ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں فیڈرل ریزرو بینک نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کر دیا تھا جس کے بعد امریکا میں شرح سود 16 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    امریکا میں ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں شرح سود میں یہ 10ویں مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا ڈیفالٹ ہوجائےگا، کانگریس قرض کی حد بڑھائے یا حد کو معطل کر دے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا میں سلیکون ویلی بینک اور سگنیچر بینک ڈیفالٹ ہوچکے ہیں۔

  • پاکستان کے ڈیفالٹ سے متعلق افواہیں نہ پھیلائی جائیں. وزیر خزانہ

    پاکستان کے ڈیفالٹ سے متعلق افواہیں نہ پھیلائی جائیں. وزیر خزانہ

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ہو یا نہ ہو پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، تمام شرائط پوری کر دی ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق معاہدے کیلئے اقدامات کیے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر پراظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ سے متعلق افواہیں نہ پھیلائی جائیں، پاکستان کے بارے میں ناانصافی پر مبنی عالمی سیاست ختم ہونی چاہیے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک عالمی ریٹنگ ایجنسی نے بھی ممکنہ ڈیفالٹ سے متعلق تبصرہ کیا ہے، بین الاقوامی سطح پر لوگ حیران ہیں پاکستان مینج کیسے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون تک 3.7 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، پاکستان تمام وعدے پورے اور بروقت ادائیگیاں کرے گا۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 10 ارب ڈالر ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ 9 فروری کو تکنیکی مذاکرات ختم ہوگئے تھے، ایکسٹرنل اکاؤنٹ سے متعلق گیپ کا سامنا تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کیلئے مزید وقت چاہتا ہے تو مزید وقت لے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    ان کا کہنا تھا کہ مئی اور جون میں 3.7 ارب ڈالر کی ادائیگیاں بروقت کی جائیں گی، اس دوران ادائیگیوں کا انتظام کر لیا جائے گا، دوست ممالک کی جانب سے فنانسنگ کے وعدے کیے گئے جو جلد پورے ہوں گے۔ واضح رہے کہ عالمی ادارے بلوم برگ سے بات چیت کرتے ہوئے آئی ایم ایف ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان کےساتھ قرض کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، پاکستان کی جانب سے بات چیت میں تعطل کا کوئی اشارہ نہیں آیا۔ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پیٹرول سبسڈی نہ دینے کی یقین دہانی کرادی ہے جبکہ پاکستان سے پالیسی معاملات پر یقین دہانی چاہتے ہیں۔

  • نوواں جائزہ مکمل ہونے پر پاکستان کی ضروری فنانسنگ جاری ہوگی،چیف آئی ایم ایف

    نوواں جائزہ مکمل ہونے پر پاکستان کی ضروری فنانسنگ جاری ہوگی،چیف آئی ایم ایف

    اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز(آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر بیل آؤٹ پروگرام کا 9 واں جائزہ اس وقت مکمل ہو گا جب ضروری فنانسنگ ہو جائے گی تب معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: آئی ایم ایف کے بیان میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان کو اجاگر کیا گیا ہے آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ نوے جائزے پر مسلسل کام کر رہے ہیں، اس جائزےکو مکمل کرنے کے لیے ضروری اصلاحات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    لاہورانتظامیہ نےپی ٹی آئی کولاہورمیں ریلی کا مشروط اجازت نامہ جاری کر دیا

    آئی ایم ایف مشن چیف برائے پاکستان نیتھن پورٹر نے کہا کہ نویں جائزے کےکامیابی سے مکمل ہونے پر پاکستان کی ضروری فنانسنگ جاری ہوگی اور نویں جائزے کی کامیابی سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوسکے گا۔

    بیان 9ویں جائزے کو مکمل کرنے کیلیے ضروری تمام پیشگی اقدامات کو پورا کرنے کے حکومتی دعوے کی نفی کرتا ہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ سمیت آئی ایم ایف کی ان پالیسیوں کے بارے میں جو وہ نافذ کرنا چاہتا ہے، وزارت خزانہ کے حکام اس کو ایسا مطالبہ قرار دیتے ہیں جو گول پوسٹ تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے اسٹاف لیول معاہدے کی تمام پیشگی شرائط پوری کر دی ہیں لہذا حتمی معاہدہ نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

    توشہ خانہ کیس میں نیب میں طلبی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کی درخواستوں …

    آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر کے بیان نے اس بات کی نفی کر دی جس کا پاکستانی حکام 9 فروری سے دعویٰ کر رہے ہیں۔ جب دو طرفہ بات چیت بے نتیجہ ختم ہوگئی تھی،ناتھن پورٹر نےضروری فنانسنگ کی مقدارکی وضاحت نہیں کی جوپاکستان کو 1.2 ارب ڈالر قرض کے حصول اور 9 ویں جائزے کی تکمیل کیلئے ظاہر کرنا ہے،جو پہلے ہی سات ماہ کی تاخیر کا شکار ہے۔

    دوسری جانب وزارت خزانہ کے سینئر حکام کا موقف ہے کہ آئی ایم ایف کو نویں جائزے کی منظوری کو بجٹ سے نہیں جوڑنا چاہیے، بجٹ کا معاملہ 11ویں جائزہ کیلیے بحث کے وقت اٹھایا جانا چاہیے، کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ تشویشناک ہے۔

    پرویز الٰہی کے گھر چھاپہ: ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر افسران کی غیر مشروط …

  • وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے عزم کی یقین دہانی

    وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے عزم کی یقین دہانی

    اسلام آباد: پاکستان نے ایک مرتبہ پھر امریکا سے درخواست کی ہے کہ آئی ایم ایف کو اسٹاف لیول معاہدے پر قائل کرنے میں امریکا مدد دے۔

    باغی ٹی وی: وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے امریکی سفیر اینڈریو شوفر نے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان کو درپیش تجارتی و اقتصادی چیلنجز پر گفتگو کی اور اقتصادی رابطوں کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    امریکا میں شرح سود میں مزید اضافے کے بعد 16 سال کی بلند ترین سطح …

    اینڈریو شوفر نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور کو ملکی معیشت سے آگاہ کیا، وزیر خزانہ نے ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    اسحاق ڈار نے حکومت کی طرف سے لیے گئے مشکل پالیسی فیصلوں سے متعلق آگاہ کیا، وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے بارے میں بھی آگاہ کیا، وزیر خزانہ نے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے عزم کی یقین دہانی کرائی۔


    امریکی ناظم الامور نے معاشی استحکام کے لیے حکومت پاکستان کی پالیسیوں اور پروگراموں پر اعتماد کا اظہار کیا، امریکی ناظم الامور نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔

    ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی ، جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

    انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ( آئی ایم ایف) نے ایک اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی ایک یادداشت کا مسودہ مرتب کیا ہے جس کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کی پیشگی منطوری کے بغیر کسی قسم کی اضافی سبسڈی نہیں دے گا جس کے بعداسٹاف لیول ایگریمنٹ پر دستخط کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

    وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور کا شکریہ ادا کیا، وزیرخزانہ نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کی حکومتی خواہش کا اعادہ کیا-

    واضح رہے کہ بدھ کو پاکستان نے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کو قائل کرنے کےلیے امریکا سے مداخلت کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے کرنے کےلیے بڑھا جاسکے وہ بھی ایسی صورت میں کہ جب اسلام آباد فنڈ کی تجویز کردہ تمام بڑی شرائط نافذ کرچکا ہے۔

    میسی کا فرنچ کلب کو خیرباد کہنے کا فیصلہ،سعودی کلب سے معاہدہ آخری مراحل میں داخل

    پاکستان اور آئی ایم ایف نے وسیع تر اتفاق رائے مرتب کیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کی پیشگی منطوری کے بغیر کبھی اضافی سبسڈی نہیں دے گا، یہ اتفاق رائے فنڈ اسٹاف سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی ( ای ایف ایف ) کے باقی ماندہ جاری عرصے کےلیے تھا چنانچہ مجوزہ کراس فیول سبسڈی کے حوالے سے جاری تنازع بڑی حدتک طے ہوگیا ہے اور یہی چیز اسٹاف لیول ایگریمنٹ پر دستخط کی راہ میں حائل بڑا پتھر تھا۔

    ایک اور وجہ نزاع بیرونی مالیاتی گیپ پورا کرنے کے حوالے سے جون 2023 تک 5 ارب ڈالر کے حصول کی تصدیق کا معاملہ تھا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بالترتیب دو ارب ڈالر اور ایک ارب ڈالر کے قرض کی توسیع کی تصدیق کردی ہے۔

    میرا دل ٹوٹا تو خدا دل میں بس گیا نور بخاری

    توقع کی جارہی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اس سلسلے میں رسمی معاہدے جلد طے پاجائیں گے۔ باقی ماندہ دوارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ میں سے 45 کروڑ ڈالر ورلڈ بینک اپنے رائیز پروگرام ، 25 کروڑ ڈالر ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک ( اے آئی آئی بی) سے ملنے کی توقع ہے ۔

    اس طرح مجموعی طور پر ورلڈ بینک اور اے آئی آئی بی سے 70 کروڑ ڈالر کا قرض جون 2023 کے آخر تک مل سکتا ہے جب کہ باقی ماندہ 1.3 ارب ڈالر کمرشل بینکوں سے اس وقت لے لیے جائیں گے جب پاکستان اور آئی ایم ایف کےمابین اسٹاف لیول معاہدہ طے پاجائے گا۔

    پاکستان نے جولائی سے دسمبر کے پہلے نصف کے دوران کمرشل بینکوں کو 5 ارب ڈالر واپس کر دیئے ہیں ان میں سے دو ارب ڈالر چینی کمرشل بینک سے دوبارہ قرض مل سکتا ہے۔ جبکہ باقی ماندہ تین ارب ڈالر آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول ایگریمنٹ معاہدہ طے ہونے کے بعد حاصل کیاجاسکتا ہے۔

    کوئٹہ :پاکستان مسیحی اتحاد کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس