Baaghi TV

Tag: آتشزدگی

  • فلپائن: فیری میں آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 76 ہو گئی ، 13افراد لاپتا

    فلپائن: فیری میں آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 76 ہو گئی ، 13افراد لاپتا

    فلپائن میں مسافر فیری ایم وی جون ایسٹر میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 76 ہو گئی ہے، 13 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ جبکہ 43 کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

    فلپائنی میڈیا کے مطابق فیری 9 ستمبر کو منیلا سے پالاون کے سیاحتی شہر کورون جا رہی تھی جس میں 132 سے زائد افراد سوار تھے، منزل کے قریب پہنچنے سے کچھ دیر پہلے جہاز میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جو انتہائی تیزی سے پھیل گئی، آگ بجھانے کے بعد امدادی کارکن پہلی مرتبہ فیری کے اندر داخل ہو سکے، جہاں اکانومی رہائشی حصے سے 41 جلی ہوئی لاشیں ملیں۔

    فلپائن کوسٹ گارڈ کے مطابق متاثرین کی شناخت کے لیے فرانزک ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور ذاتی اشیاء کے ساتھ ڈی این اے کے ذریعے بھی شناخت کا عمل جاری ہے،متاثرہ خاندان اپنے لاپتا عزیزوں کی معلومات کے لیے بندرگاہ پر موجود ہیں، حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم حادثے کی وجہ تا حال معلوم نہیں ہو سکی، زندہ بچ جانے والے افراد کے بیانات کے مطابق آگ لگنے سے پہلے فیری کے اندر دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، ایم و ی جون ایسٹر چلانے والی کمپنی اٹینزا انٹرآئی لینڈ فیریز انکارپوریٹڈ نے کہا ہے کہ وہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے حکام سے تعاون کر رہی ہے۔

  • چین کی چنگ ڈاؤ پورٹ پر کارگو  شپ پر آتشزدگی، 20 افراد ہلاک

    چین کی چنگ ڈاؤ پورٹ پر کارگو شپ پر آتشزدگی، 20 افراد ہلاک

    چین کی چنگ ڈاؤ پورٹ پر کھڑے ایک غیر ملکی کارگو شپ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس میں 20 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 5 افراد لاپتہ ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چنگ ڈاؤ کی بندرگاہ پر مرمت کے لیے کھڑے لائبیریا کے پرچم تلے چلنے والے غیر ملکی کارگو جہاز اوشین میلوڈی میں آگ بھڑک اٹھی،جہاز پر 42 افراد موجود تھے جس میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 5 افراد لاپتا ہیں، 12 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا اور 5 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

    آگ مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 11 بجے لگی اور دوپہر 2:30 بجے تک اسے بجھا دیا گیا،چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے،چینی صدر نے حادثے کی تحقیقات کے ساتھ ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔

  • کے ایم سی کی عمارت میں آتشزدگی، میئر کراچی کا دفتر مکمل جل گیا

    کے ایم سی کی عمارت میں آتشزدگی، میئر کراچی کا دفتر مکمل جل گیا

    کراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع کے ایم سی کی عمارت میں آتشزدگی کے باعث میئر کراچی کا دفتر مکمل طور پر جل گیا۔

    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق کے ایم سی ہیڈ آفس میں لگنے والی آگ پر 3 فائر ٹینڈرز نے قابو پا لیا،آگ میئر کراچی کے دفتر سے متصل کچن میں لگی تھی، آتشزدگی کے نتیجے میں میئر کراچی کا دفتر بھی مکمل جل گیا میئر کراچی کے دفتر میں آتشزدگی سے دفتر اور اس میں موجود ریکارڈ مکمل طور پر جل گیا تاہم آتشزدگی کے دوران کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، فوری طور پر وجوہات معلوم نہ ہو سکیں۔
    ٕ
    واضح رہے کہ گزشتہ روز لانڈھی پروسیسنگ زون میں واقع کپڑے کی فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی کے دوران سامان جل کر خاکستر ہوگیا تھا،ریسکیو حکام نے آتشزدگی سے متاثرہ عمارت کو مخدوش قرار دے دیا۔

  • کراچی کی فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی

    کراچی کی فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی

    لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں پیر کے روز ایک فیکٹری میں تیسرے درجے کی شدید آگ بھڑک اٹھی-

    ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو فیکٹری میں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی ہنگامی رسپانس ٹیم نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں،فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔

    ترجمان کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ فیکٹری میں موجود تمام کارکنوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا،فیکٹری کی عمارت میں 3 افراد عارضی طور پر پھنس گئے تھے، جو شدید دھویں کے باعث دم گھٹنے سے متاثر ہوئے،ریسکیو اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں افراد کو بحفاظت عمارت سے باہر نکال لیا۔

    دوسری جانب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے لیے فوری طور پر پانی کی فراہمی میں معاونت کی درخواست کی تھی،کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کی ہدایت پر لانڈھی اور شیرا پاؤ ہائیڈرنٹس پر ہنگامی اقدامات فعال کردیے گئے، جبکہ فائر فائٹنگ آپریشن کے لیے پانی سے بھرے ٹینکرز فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے۔

    ترجمان کے مطابق ہائیڈرنٹس سیل کے انچارج مسلسل فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے رابطے میں رہے، جبکہ ہائیڈرنٹس سیل آپریشنز کے لیے سی ای او کے فوکل پرسن نے امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کی، آگ بجھانے کے دوران فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے،آگ مکمل طور پر بجھنے تک فائر بریگیڈ کو پانی کے ٹینکرز فراہم کیے جاتے رہیں گے، جبکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔

  • بنوں اسپتال کے یورولوجی وارڈ میں آتشزدگی

    بنوں اسپتال کے یورولوجی وارڈ میں آتشزدگی

    بنوں: خلیفہ گل نواز ہسپتال کے یورالوجی وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی-

    ترجمان ایم ٹی آئی بنوں کے مطابق ہسپتال عملے اور ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی سے آگ پر قابو پا لیا گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مریضوں کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا-

    ریسکیو 1122 کے مطابق ہنگامی اطلاع ملنے کے تقریباً 5 منٹ بعد ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے، جنہوں نے اسپتال عملے کے ساتھ مل کر آگ بجھانے اور مر یضوں کے انخلا کا عمل شروع کیا، آگ پر تقریباً 10 منٹ میں قابو پالیا گیا جبکہ وارڈ میں موجود تمام مریضوں کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    اسپتال کے ترجمان محمد نعمان کے مطابق آگ صبح تقریباً 10 بجے لگی اور ابتدائی معلومات کے مطابق اس کی وجہ بجلی کا شارٹ سرکٹ یا برقی چنگاری معلوم ہوتی ہے اسپتال عملے اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر وارڈ میں موجود مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور آگ بجھانے کی کارروائیاں شروع کردیں بروقت اقدامات کے باعث آگ کو دوسرے حصوں تک پھیلنے سے روک لیا گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بجلی کا اسپارک بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجہ کا تعین مزید جائزے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ بروقت کارروائی کے باعث آگ کو ہسپتال کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روک لیا گیا-

    بنوں کا یہ واقعہ اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد پیش آیا ہے، جہاں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھےواقعے کے بعد ملک بھر میں اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات بہتر بنانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کیے گئے۔

    اسی سلسلے میں لاہور کے جنرل اسپتال کی گائنی وارڈ میں اور ہفتے کے روز پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں شیخ زاید میڈیکل کالج اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں بھی دورانِ جراحی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا،ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ بجلی کی ناقص وائرنگ کے باعث لگی، جس کے بعد ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے فوری طور پر آپریشن روک کر مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

  • پمز اسپتال سانحہ:آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں نیبولائزر پھٹنے سے لگی

    پمز اسپتال سانحہ:آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں نیبولائزر پھٹنے سے لگی

    اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے –

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ کسی ایئر کنڈیشن کا کمپریسر پھٹنے یا الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے باعث پیش نہیں آیا، بلکہ نرسری میں انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن کی مقدار جانچنے والے نیبولائزر کے پھٹنے کے باعث رونما ہوا،انکیوبیٹر کے ساتھ موجود نیبولائزر پھٹنے سے آکسیجن نے فوری طور پر آگ پکڑ لی، ابتد ا میں آگ کی شدت کم تھی تاہم آکسیجن کی موجودگی کے باعث یہ تیزی سے پھیل گئی۔

    رپورٹ کے مطابق اس آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری کے اندر شدید دھواں پیدا ہوا جو پائپ کے ذریعے معصوم بچوں کے سانس کے نظام میں داخل ہو گیا اس کے علاوہ حادثے کے دوران آکسیجن کی فراہمی بند ہونا بھی نومولود بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ بنا۔

    پمز سانحے پر وفاقی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات اٹھائے گئے تھے جن کے تحت وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔

    دوسری جانب سی ڈی اے فائر بریگیڈ رپورٹ اور ای ڈی پمز رانا عمران سکندر کے بیانات میں تناؤ اور متضاد دعوے سامنے آئے تھے ای ڈی پمز رانا عمران سکندر کا کہنا تھا کہ اسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود تھا اور عملے نے بچوں کو بچانے کی پوری کوشش کی جبکہ سي ڈی اے کی رپورٹ میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

  • پمز اسپتال سانحہ:  زندہ بچنے والی واحد نومولود کی خالہ نے انتظامیہ کا پول کھول دیا

    پمز اسپتال سانحہ: زندہ بچنے والی واحد نومولود کی خالہ نے انتظامیہ کا پول کھول دیا

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود کی خالہ نے ہوشربا انکشافات کر دیے۔

    نومولود کی خالہ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وہ موقع پر موجود تھیں، جیسے ہی آگ بھڑکی وہ وارڈ کی جانب دوڑیں جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر اپنی جان بچا کر باہر نکل رہی تھی ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اندر جا کر اپنی مدد آپ کے تحت بھانجی کو اٹھایا، اس دوران آگ ان کے بالوں اور کندھے تک پہنچی۔

    انہوں نے بتایا کہ وارڈ میں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی اور عملہ اپنی جان بچانے میں مصروف تھا وہاں ایک مرد ڈاکٹر تھا وہ بھی بھاگ گیا، اس کے علاوہ بھی سب جا چکے تھے، میری بہن کا آپریشن ہوا تھا میں نے اسے اور بچی کو لیا اور میں بھی بھاگی اور دونوں کو فوری طور پر پولی کلینک لے آئی، پمز انتظامیہ ہم سے مسلسل رابطہ کر رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم کسی اور کا بچہ لے آئے ہیں اور کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے بچایا، انہوں نے پمز انتطامیہ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

    واضح رہے کہ اس واقعے میں 15 نومولود جاں بحق ہوئے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے لگی تھی۔

  • اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق

    اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، اسپتال حکام نے تصدیق کردی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے، ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث بھڑکی،اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیا ب ہوئیں جبکہ 15 بچے جان کی بازی ہار گئے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا، جبکہ بیشتر بچے شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہوئے،واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لے لیا اور حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات دی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ دران کا تعین کیا جاۓ اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائےشہباز شریف نے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت کیا انہوں نے کہا کہ اس اندوہ ناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے،والدین کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

  • کولکتہ : ہوٹل میں خوفناک  آتشزدگی، بچے سمیت 9 افراد ہلاک،6 زخمی

    کولکتہ : ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی، بچے سمیت 9 افراد ہلاک،6 زخمی

    بھارتی شہر کولکتہ کے مرزا غالب روڈ پر واقع ایک ہوٹل میں رات گئے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 9 افراد ہلاک جبکہ کم از کم 6 زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ رات تقریباً 2 بج کر 50 منٹ پر پیش آیا جب ہوٹل کی دوسری منزل سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگے اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور عمارت میں موجود تقریباً 30 افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیاجاں بحق افراد میں بنگلادیش کے 5 شہری بھی شامل ہیں، جو علاج کی غرض سے کولکتہ آئے تھے اور اس ہوٹل میں مقیم تھے۔

    ریسکیو کارروائی کے دوران 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی جن میں ایک بنگلادیشی صحافی، ان کی ہلیہ اور معصوم بیٹا اور 2 دیگر بھی شامل ہے، زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا،فائر بریگیڈ نے تقریباً ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا۔= ابتدائی تحقیقات میں آتشزدگی کی ممکنہ وجہ بجلی کا شارٹ سرکٹ بتائی جارہی ہے تاہم واقعے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت میں عمارتوں کی تعمیر میں سیفٹی اقدامات نہیں کیے جاتے اور نہ ہی کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے ان شدید نقائص کی وجہ سے ایسے واقعات عام ہیں۔

  • پشاور:گھر میں آگ لگنے سے4 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

    پشاور:گھر میں آگ لگنے سے4 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق

    پشاور کے علاقے تہکال پایان میں ایک انتہائی افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک گھر میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے ایک ہی خاندان کے 6افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    جاں بحق ہونے والوں میں میاں، بیوی اور ان کے چار معصوم بچے شامل ہیں جو آگ کی لپیٹ میں آنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق، سرچ آپریشن کے دوران گھر کے ایک کمرے سے چھ افراد کے جسد خاکی نکالے گئے جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت ہو گئی ہے جن میں 55 سالہ سراج، ان کی 40 سالہ اہلیہ، 11 سالہ حریرہ،9 سالہ حنایا، 4 سالہ حسنین اور3سالہ منہال شامل ہیں ہلاک ہونے والے تمام افرا د ایک ہی کمرے میں موجود تھے اور ان کی موت آگ کی شدید تپش اور دم گھٹنے یعنی دھویں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے ریسکیو 1122 کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ مکان کے ہال والے حصے میں لگی تھی جہاں فرنیچر، فوم اور دیگر سا ما ن رکھا ہوا تھاجس نےتیزی سے آگ پکڑ لی ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہیں اور اس حوالے سےتحقیقات کی جا رہی ہیں ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر مکمل قابو پا لیا تھا لیکن کمرے میں دھواں اور تپش زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔