اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود کی خالہ نے ہوشربا انکشافات کر دیے۔
انہوں نے بتایا کہ وارڈ میں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی اور عملہ اپنی جان بچانے میں مصروف تھا وہاں ایک مرد ڈاکٹر تھا وہ بھی بھاگ گیا، اس کے علاوہ بھی سب جا چکے تھے، میری بہن کا آپریشن ہوا تھا میں نے اسے اور بچی کو لیا اور میں بھی بھاگی اور دونوں کو فوری طور پر پولی کلینک لے آئی، پمز انتظامیہ ہم سے مسلسل رابطہ کر رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم کسی اور کا بچہ لے آئے ہیں اور کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے بچایا، انہوں نے پمز انتطامیہ کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ اس واقعے میں 15 نومولود جاں بحق ہوئے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے لگی تھی۔
