Baaghi TV

Tag: آزادی مارچ

  • کیا پرویز الہٰی مولانا کو منالیں گے ؟ قیاس آرائیاں شروع

    اسلام آباد:مولانا کا دھرنا اور پھر اسے کے ثمرات و اثرات پر ویسے تو پاکستان کے معروف صحافی اور ممتاز اینکر مبشر لقمان پشین گوئی کرچکے ہیں کہ مولانا بہت جلد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیں گے ، دوسری طرف سیاست کے ماہر اور مایہ ناز کھلاڑی اور سیاست کے نشیب وفراز کی سوجھ بوجھ رکھنے والی اہم شخصیت نے مولانا سے رابطہ کرلیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سلسلے میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پرویز الٰہی نے فضل الرحمان سے معاملہ افہام تفہیم سے حل کرنے کی درخواست کی ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ چوہدری پرویز الہٰی نے مولانا فضل الرحمن سے درخواست کی ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے سے متعلق معاملہ افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔یہ رابطہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ سے متعلق مشاورتی اجلاس جاری تھا۔

    اجلاس میں ’پلان بی‘ پر بھی غور کیا گیا جس میں اسلام آباد لاک ڈاؤن، ملک گیر پہیہ جام، ملک گیر شٹر ڈاؤن، صوبائی و ضلعی سطح پر لاک ڈاؤن شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) سربراہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے رویے پر مشکل کا شکار ہوگئے۔

    چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا ہےکہ مولانا فضل الرحمان رہبر کمیٹی کی تجاویز اور کارکنوں کے جذبات کی کشمش میں پھنس گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے سینیٹر طلحہ محمود اور کامران مرتضٰی کو بھی طلب کرلیا، کامران مرتضٰی نے اجلاس میں قانونی و آئینی نکات پر اجلاس میں بریفنگ دی۔
    گا۔

  • میٹرو سروس بند, پبلک ٹرانسپورٹ کی موجیں لگ گئیں

    اسلام آباد :آزادی مارچ کے سلسلہ میں میٹرو بس سروس معطل ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹس کی موجیں لگ گئیں. مسافروں سے مقرر کردہ کرایہ کی بجائے اضافی کرایہ وصول کیا جانے لگا. منڈی موڑ سے کمپلیکس جانے والی 121 روٹ کی گاڑی نمل یونیورسٹی سے آئی 10 /2 تک 25 سے 30 روپے وصول کررہی ہے اور آئی نائن سے پشاور موڑ تک 20 روپے, باغی ٹی وی کے پوچھنے پر ڈرائیورز نے کہا کہ پشاور روڈ مکمل بند ہے جس کی وجہ سے ہمیں متبادل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جو لمبا پڑتا اور اوپر سے مہنگائی بھی ہے پٹرول مہنگا ہے گزارا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہم اضافی کرایہ وصول کررہے ہیں

  • مولانا کا ’’حلوہ مارچ‘‘قائداعظم کی اپوزیشن اورفواد چوہدری کا جلوہ

    اسلام آباد:مولانا کے حلوہ مارچ پر فواد چوہدری نے جس تبصرہ کیا ہے وہ بھی جلوے سے کم نہیں ، ویسے بھی فواد چوہدری مولانا کوآڑے ہاتھوں لیتے رہتے ہیں ، مولانا کے اسلام آباد کے آزادی مارچ کو حلوہ مارچ کہتے ہوئے سب کے منہ تو میٹھے کرہی دیئے ہیں‌،

    2 دن کی بچی کو بیچ دیا گیا ،بچی کو کس نے بیچا،بچی اب کہاں اور کس حال میں ہے ؟

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی شاطرانہ چال پرتبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ حلوہ مارچ کی ناکامی پاکستان کی کامیابی ہے، فضل الرحمان کے بزرگ قائد اعظم کی اپوزیشن تھے آج یہ عمران خان کی اپوزیشن ہیں۔


    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے پیغام میں کہا کہ حلوہ مارچ کی ناکامی پاکستان کی کامیابی ہے، ان کی شکست مستقبل کی کنجی ہے، انشاللہ یہ معاملہ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔فواد چوہدری نے مزید کہا ہے کہ حکومت کو کوئی پریشانی نہیں ایک حکمت عملی کے تحت مولانا کو کھیلنے دیا جارہا ہے ، بہت جلد مولانا آوٹ ہوجائیں گے

    سستی اشیاء کے لیے راشن کارڈز،تبدیلی آگئی

    وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ یہ مارچ وہ طبقہ کر رہا تھا جس نے قیام پاکستان کی مخالفت کی، ان کے بزرگ قائد اعظم کی اپوزیشن تھے آج یہ عمران خان کی اپوزیشن ہیں۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ جہاں سے مولانا کا چشمہ پھوٹتا ہے وہ اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں پھر مولانا کیسے پاکستان کو مستحکم دیکھ سکتے ہیں

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحمل کا مظاہرہ وزیراعظم کی ہدایت پرکر رہے ہیں، ورنہ ایک اشارے پر5 پیادوں اوران کے چمچوں پر زمین تنگ کر دیں۔

  • اداروں کا دفاع سیاست سے بالاتر ہو کر کریں گے: وزیر اعظم کا واضح مؤقف

    اسلام آباد: یہ حکومت کی ذمہ داری ہےکہ اپنے اداروں کے دفاع اور کریڈیبلٹی کو ہر صورت برقرار رکھے ، اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کا دفاع سیاست سے بالاتر ہو کر کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پاک فوج کا بھرپور دفاع سامنے آیا ہے، کور کمیٹی اجلاس میں قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی شدید مذمت کی گئی۔

    ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے اجلاس میں کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ فوج نے کن قربانیوں سے ملک سنبھالا، فوجیں ختم ہو جاتی ہیں تو وہ ملک باقی نہیں رہ سکتے، اداروں کا دفاع سیاست سے بالا تر ہو کر کریں گے۔دریں اثنا، وزیر اعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، جن کے مطابق وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے نہ نئے انتخابات ہوں گے، مولانا مارچ کے شرکا جب تک چاہیں بیٹھیں رہیں، کوئی اعتراض نہیں، ریڈ زون کی طرف بڑھنے پر قانون حرکت میں آئے گا۔

    قومی اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سلامتی اور دفاع کے ادارے کو اپوزیشن کا ٹارگٹ نہیں بننے دیا جائے گا، سیاسی اور انتظامی بیانیہ مشترکہ طور پر چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، کہا گیا کہ استعفے کا مطالبہ احمقانہ ہے اور وزیر اعظم کی گرفتاری کا بیان شرم ناک ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم کی گرفتاری کی بات بغاوت قرار دے کر حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا ہے، سینئر قانون دان بابر اعوان اور اٹارنی جنرل نے اس سلسلے میں مشاورت کی ہے، قانونی ماہرین نے بھی وزیر اعظم کی گرفتاری سے متعلق بیان کو جرم قرار دے دیا ہے۔

  • مولانا اکیلے رہ گئے ، ن لیگ اور پی پی پی نے خلع کا فیصلہ کرلیا

    اسلام آباد:مولانا اکیلے رہ گئے ، ن لیگ اور پی پی پی نے خلع کا فیصلہ کرلیا ہے ، اطلاعات کےمطابق ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    نجی سکولوں کو تین دن کی مہلت مل گئی

    رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا وہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہلے ہی آگاہ کرچکے ہیں کہ وہ صرف عوامی جلسے میں شرکت کریں گے اور کسی دھرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ادھر دوسری طرف اسی بات کی تائید اپوزیشن کے اس بیان سے ہوتی ہےکہ کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت سے متعلق کوئی ہدایات بھی جاری نہیں کیں۔

    مولانا کوداغ فراق دینے کا تذکرہ تو احسن اقبال نے اسلام آباد میں پہلے ہی کردیا تھا ، یاد رہےکہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا تھا کہ پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف نے انہیں آزادی مارچ میں صرف ایک روز کے لیے شرکت کرنے کا کہا تھا۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے جوش و جذبے سے آزادی مارچ اور جلسے میں شرکت کی تھی، تاہم ان کی جماعت نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت کی کال نہیں دی تھی۔

    سکولوں میں چھٹیاں کردی گئیں

    مولانا سے خلع کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کثیر الجماعتی کانفرنسز (ایم پی سی) اور رہبر کمیٹی کے اجلاس کے دوران واضح کردیا تھا وہ غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے۔

    فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے 2 روز کی مدت کے بعد جمیعت علمائے اسلام (ف) کیا قدم اٹھائے گی۔3نومبر کے بعد دھرنا جاری رہنے پر پاکستان پیپلزپارٹی کی شرکت کے امکان سے متعلق فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ اپنی جماعت سے تبادلہ خیال کیے بغیر اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دے سکتے۔

    ساتھ ہی فرحت اللہ بابر نے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دھرنے میں شرکت کی درخواست پر پیپلزپارٹی کے ممکنہ موقف پر بھی جواب دینے سے انکار کردیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے جنوبی پنجاب میں جلسوں سے خطاب کا ارادہ برقرار ہے۔

    2-نومبر کو عالم اسلام کے سلطان کی پیدائش نے خطے کا نقشہ ہی بدل دیا ،

    فرحت اللہ بابر کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے جلسے کے لیے رحیم یارخان جانا تھا لیکن موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے نہیں جاسکے۔ان کا کہن اتھا کہ پرواز کی منسوخی کی وجہ سے چیئرمین پیپلزپارٹی آزادی مارچ کے مقام پر پہنچے اور صدر مسلم لیگ(ن) شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ شرکا سے خطاب کیا تھا۔

    یاد رہے کہ آزادی مارچ کا آغاز 27 مارچ کو کراچی سے ہوا تھا جو سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا لاہور اور پھر گوجر خان پہنچا تھا اور 31 اکتوبر کی شب راولپنڈی سے ہوتا ہوا اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔دوسری طرف حکمران جماعت نے بھی مولانا کے ساتھ کس پیش آنا ہے اس کی حکمت عملی تیارکرلی ہے،

    بیٹا ہم ابھی زندہ ہیں‌، کشمیری ماں کا بیٹے کو آخری فون

  • قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے اب بھی پاکستان کے مخالف ہیں، شوکت یوسفزئی

    پشاور:مولانا فضل الرحمن خود آوٹ ہوگئے اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی آوٹ ہوجائیں ، مگرمولانا یاد رکھیں کہ یہ آہ بکا مولانا کو سہارا نہیں دے سکے گی ، اطلاعات کےمطابق وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ ایک سیٹ جیتنے والے بھی کہہ رہے ہیں استعفیٰ دیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مولانا کے بڑوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اب یہ اسی طریقے پر پاکستان کی مخالفت کررہےہیں،

    بے نام جائیداد کے بعد اب بے نام وزیر، اسد کھوکھرکوپتہ نہیں کہ وہ کیا سے کیا بن گئے

    وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا کہ فضل الرحمان پارلیمنٹ سے باہر چلے گئے اس پر تکلیف ہورہی ہے، ان کا ایک مقصد کشمیر کاز کو پیچھے دھکیلنا تھا جس میں وہ کامیاب ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمان کا کام مودی کو خوش کرنا تھا، یہ تو کہتے تھے 15 لاکھ لوگ لے کر آئیں گے، ان سے پوچھیں کتنے لوگ لے کر آئے ہیں، معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے تو ایکشن ہوگا۔

    وزیراعظم 3 دن کے اندر استعفیٰ دے دیں ،فضل الرحمن

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مولانا کے دھرنے کا بڑا شور تھا، دھرنے کی کال کو عوام نے مسترد کردیا ہے، فضل الرحمان کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے تمام راستے کھول رہے ہیں۔وزیر اطلاعات کے پی نے کہا کہ جلسے کے اخراجات (ن) لیگ برداشت کررہی ہے، فکر نہیں ہے جے یو آئی ایک مہینہ بیٹھے، معاہدہ توڑا تو سخت ردعمل ہوگا۔

    ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کرلیاگیا،دنیاخاتمے کے بالکل قریب

    وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جے یو آئی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، مولانا اب بھی اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت کبھی بھی کشمیر کی آزادی کی بات نہیں کرے گی کیوں کہ کشمیر کی آزادی سے بھارت کے ٹوٹنے کا ڈر ہے اور جے یو آئی ف کو یہ منظور نہیں ، اپوزیشن کرپشن بچانے کے لیے نکل پڑی ہے، فضل الرحمان نے کشمیر کاز کو پیچھے دھکیل دیا ہے، کشمیری ان کو بددعائے دے رہے ہیں۔

  • آزادی مارچ کے شرکا کا ڈی چوک کی طرف پیش قدمی

    اسلام آباد:مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ، وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مولانا کا آزادی مارچ شرکاء کے لیے غلامی مارچ بننا شروع ہوگیا ، لوگوں نے جانیں چھڑانا شروع کردی یں دوسری طرف آزادی مارچ کے شرکا کا ڈی چوک کی طرف مارچ کا امکان ہے جس کے پیش نظر انتظامیہ نے بلیوایریا میں ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی۔

    بے نام جائیداد کے بعد اب بے نام وزیر، اسد کھوکھرکوپتہ نہیں کہ وہ کیا سے کیا بن گئے

    ذرائع کے مطابق شرکا کی پیش قدمی کے پیش نظر انتظامیہ نے تمام علاقوں سے نفری ڈی چوک بلیو ایریا تعینات کرنےکافیصلہ کیا جس کے بعد ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری کو طلب کرلیا گیا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، بلیو ایریا اور ڈی چوک کے اطراف رینجرز، ایلیٹ فورس کی مزید نفری بھی تعینات کی جارہی ہے۔وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچا دی گئیں جبکہ حساس علاقے میں مزید نفری کو بھی طلب کرلیا گیا۔

    بنگلہ دیش انڈر16مشکلات کا شکار،دوسری اننگزمیں سکورپورا نہیں ہورہا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی جانب سے کسی بھی اقدام کی صورت میں حکومت ردعمل دے گی، اگر قانون کے دائرے میں احتجاج ہوا تو کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔

    سہیل خان اور اظہر علی کو وارننگ ، پی سی بی نے یہ تنبیہ کیوں دی ؟

  • عمران خان سعودی عرب اور ایران کی صلح تو کروا رہے ہیں مگرہم سے کیوں نہیں کرتے ،شہبازشریف

    اسلام آباد:جو شخص سعودی عرب اور ایران میں صلح کرانے کی کوشش کر رہا ہے پاکستان میں اس نے لڑائی شروع کررکھی ہے،  ہے، ہم ملک میں انتشار نہیں‌چاہتے ، صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کا آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب, شہباز شریف نے عمران خان کی طرف صلح کی کوشش کردی

    ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کرلیاگیا،دنیاخاتمے کے بالکل قریب

    باغی ٹی وی کے مطابق مولانا کے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے شرکائے مارچ سے ایک بہت ہی عجیب بات اشاروں اور کنایوں میں کہہ دی ، شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان دو مسلم برادر ملکوں کی صلح تو کروا رہے ہیں لیکن ملک وہ اپنے مخالفین سے لڑرہے ہیں ،

    پہلے بتانا پڑے گا:چندہ، عطیات، خیرات لینے اور دینے والوں کیلئے بڑی خبر

    دوسری طرف بعض ذمہ داران کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اپنے اس موقف کو پھر دہرایا ہے جس کے بارے میں شیخ رشید بار بار کہہ رہے کہ شہباز شریف عمران خان سے ڈیل چاہتے ہیں، دوسری طرف عمران خان نے اپنا موقف پھر دہراتے ہوئے کہا ہےکہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی کوئی نہیں وہ کرپٹ اور چورسابق حکمرانوں کو عوامی کٹہرے میں ضرور لائیں گے

    عامرلیاقت میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی دوسرے انسان میں نہیں ، سوچ سمجھ کر انتخاب کیا…

  • مولانا نے حکومت کو چور قرار دیدیا

    اسلام آباد:مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو چور قراردیدیا .انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پر فارن فنڈنگ کھانے کا الزام ہے ، دوسروں پر توایک ایک پر الزام لگاتے تھے کہ تم نے یہ کھایاہے ، تم نے یہ کھایاہے لیکن یہاں تو ساراٹبر ہی چورہے ،کارکنان سے کہا کہ سب اس میدان استقامت کے ساتھ رہیں اورکوئی یہاں سے نہیںہلے گا ، استقامت کے ساتھ رہناہے ، ان سے دودن میں استعفیٰ لیناہے اور اگر نہیں دیا تو پھر اسی میدان میں فیصلہ کرناہے کیونکہ عوام آپ ہیں اور آپ کے حق پر ڈاکہ پڑاہے .

  • مولانا نے تین دن کی ڈیڈلائن کو سنت سے تشبیہ دے دی

    اسلام آباد :مولانا فضل الرحمان نے تین دن کی ڈیڈ لائن کو سنت نبوی ﷺ سے تشبیہ دے دی .انہوں نے کہاکہ کہتے ہیں کہ یہ مذہب کارڈ استعمال کرتے ہیں لیکن پاکستان ہے تو اسلام ہے اور اسلام ہے تو پاکستان ہے ، کوئی مائی کا لعل اسلام کو پاکستان سے جدا نہیں کرسکتا ۔میں تین دن کی بات اس لئے کررہا ہوں کہ تین دن کے لئے حضور ﷺ نے بھی غار میں پنا لی تھی ، تین دن کو سنت سے بھی نسبت تھی ۔یاد رہے مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کو تین دن کی مہلت دیتے ہیں نہیں تو اس کے بعد عوام فیصلہ کرے گی.