راولپنڈی : سابق وزیر اعظم نواز شریف کے 40 سالہ رفیق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ان کا نواز شریف سے کوئی سوشل تعلق نہیں. باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق سابق وزیر داخلہ یوسی مغل کلر سیداں سماجی رہنماء چوہدری عامر کے گھر ان کی والدہ کی تعزیت کے لئے پہنچے جہاں سینئر صحافی و کالم نگار محترم طارق بٹ نے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار سے سوال کیا کہ آپ کی میاں نواز شریف سے 40 سالہ رفاقت ہے ان کی عیادت کے لیے جائیں گے تو عظیم سیاسی لیڈر نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا کہ نوازشریف سے کوئی سوشل تعلق نہیں کہ ان کی تیمارداری کے لیے جاؤں. جس پر دوبارہ سوال ہوا کہ کوئی سیاسی تعلق تو جواب آیا کہ کوئی تعلق نہیں ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے. مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ خود دھرنے دینے والی پی ٹی آئی اب دھرنے کی مخالفت کیوں کر رہی ہے. دھرنوں سے ملک بند گلی میں جا رہا ہے عوام کو ریلیف ملنا چاہیےسیاسی حوالہ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا دھرنے کسی بھی صورت ملک کے مفاد میں نہیں ہیں راولپنڈی:سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار یوسی مغل چوہدری عامر کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے موقع پر دعا کررہے ہیں
اسلام آباد: حکومت کو پرواہ ہی نہیں ، ہمیں ہفتہ ہوگیا ہے اور حکومت ہمیں ٹرخا رہی ہے، اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کےکنوینئر اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی نے کہا ہے کہ پیرہو یامنگل ہم پلان بی پرعمل کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ حکومت سےمذاکرات معطل نہیں ہوئے ، مذاکرات آگےکس طرح بڑھانےہیں اس پر مشاورت ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرویزخٹک نےجیسے بات کی اسی لہجےمیں جواب دےدیا،جب صحافی نے پوچھا کہ پیر سے آپ پلان بی پرجارہے ہیں؟ تو اکرم درانی نے کہا کہ پیرہویا منگل اپنےپلان بی پرعمل کریں گے۔اکرم دارنی نے کہا کہ پیر یا منگل کو ہمارا اگلا لائحہ عمل سامنےآ جائے گا جب کہ رہبرکمیٹی کااجلاس ضرورت پڑنےپربلالیں گے۔
واضح رہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے سے مطلوبہ مقاصد پورے نہ ہونے پر جے یو آئی ف نے نئی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہےجس کے مطابق جے یو آئی ف پیر سے ملک بھر کی شاہراہیں، موٹرویز اور ہائی ویزبند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اسلام آباد :وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے گزشتہ روز پہلے ایک تقریب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے خاندان کا کوئی فرد آزادی مارچ میں شریک نہیں. لیکن باغی ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے سب سے چھوٹے بھائی عبیدالرحمان اور بیٹے اسجد محمود کارکنان جمعیت علماء اسلام کے ساتھ دھرنے میں شریک ہیں.بائیں طرف پہلے نمبر پر مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبید الرحمن آزادی مارچ شریک ہیں مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبید الرحمن کے ساتھ موجود جمعیت علماء اسلام ف کے رہنماء پیر عبدالشکور نقشبندی نے کہا کہ فواد چوہدری آزادی مارچ کے شرکاء کی دلجمعی دیکھ کر خوف میں مبتلا ہیں اور جھوٹے پروپیگنڈے پھیلا رہے ہیں. ہم اپنے قائد مولانا فضل الرحمان کے ہر حکم کے پابند ہیں اور مولانا فضل الرحمان کے خاندان کا ہر فرد جمعیت کا کارکن پے اور وہ مولانا کے ساتھ کھڑا ہے .مولانا فضل الرحمنمولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسجد محمود آزادی مارچ میں شریک کے بڑے صاحبزادے اسد محمود نے آزادی مارچ سے خطاب بھی کیا اور مولانا کے باقی بیٹے اور بھائی بھی موجود ہیں.
اسلام آباد:فضل الرحمان چوہدری شجاعت کے گھر پہنچ گئے ، کوئی راستہ نکالیں پر بات ہوگی ، اطلاعات کےمطابق مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت سے ملاقات کیلئے ان کے گھر پہنچ گئے۔ چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات جاری ہے جس میں آزادی مارچ سے متعلق معاملات زیر غور آئیں گے۔
اس موقع پر مختصر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’آج میں چوہدری صاحب کے گھر حلوہ کھانے آیا ہوں، اللہ کرے چوہدری صاحب نے شوگر فری حلوہ بنایا ہو‘۔چوہدری شجاعت اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی خصوصی طیارے پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی لیکن اس ملاقات میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا تھا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف گھیرا بہت تنگ ہوگیا ہے، جبکہ ساتھی ساتھ چھوڑ رہےہیں
اسلام آباد: اور پھر وہی ہوا جس کی پشین گوئی پاکستان کے ممتاز صحافی بڑے اعتمادکے ساتھ کرچکے ہیں، اطلاعات کےمطابق جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دھرنا ختم ہو سکتا ہے لیکن ٹائم فریم نہیں دے سکتا، مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا دھرنا ختم ہوگا یا نہیں یہ فیصلہ اجتماعی طور پر اور اپوزیشن سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، اپوزیشن جماعتیں پہلے بھی ساتھ تھیں اب بھی ساتھ ہیں، ڈی چوک جانے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، سیاسی لوگ ہیں، مطالبات پیش کرنا ہمارا حق ہے۔لیکن دھرنا ختم کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں
حسب عادت مولانا فضل الرحمن نے پھرکہا کہ آج یہاں ہر صوبے اور قومیت کے لوگ موجود ہیں، کبھی کسی نے سوچا ہوگا کہ جے یو آئی ایسا کردار ادا کرے گی؟ ہم وہ باتیں کر رہے ہیں جو آئین میں ہیں، جب غیر منتخب لوگ اقدار پر قابض ہوں گے تو اضطراب پیدا ہوگا، کون اسے دور کرے گا، ہمیں آئینی، سیاسی اور معاشی حوالے سے مطمئن زندگی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے تمام فیصلے اپوزیشن کی مشاورت سے کر رہے ہیں، میں چاہتا ہوں مریم نواز کنٹینر پر آ کر عوام سے خطاب کریں تاہم اب تک ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
اسلام آباد:مولانا فضل الرحمن کی یاری سب پر بھاری ، ن لیگ ہر مشکل وقت طاری ، مولانا کے دھرنے میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پرپارٹی تقسیم نظرآتی ہے ، اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر قیادت آزادی مارچ کو آگے بڑھانے اور دھرنے میں شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکی ہے جب کہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی غیرجمہوری قدم کی حمایت نہیں کرے گی۔
دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پارٹی اجلاس میں شہباز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ، جس کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ عجیب معاملہ ہےکہ میں اگر پیپلزپارٹی کے حوالے سے کسی رائے پر رائے دے دوں تو میرے خلاف ایک محاذ کھڑا ہوجاتا ہے،
یاد رہےکہ باغی ٹی وی قبل از وقت ہی یہ خبر بریک کرچکا تھا کہ مولاناکی اے پی سی میں شہباز شریف اور بلاول شرکت نہیں کریں اورپھرہوا بھی ایسے کہ دونوں رہنماوں نے مولانا کی اے پی سی میں شرکت نہ کرکے مولانا کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں
اسلام آباد :سانوں نہروالی پل تے بلا کے ہورے ماہی کتھے گیا،شہبازاوربلاول کا اے پی سی میں شرکت کرنے سے انکار،مولانا اکیلے رہ گئے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی ) طلب کرلی دوسری طرف سیاسی یاربھی ساتھ چھوڑگئے
مولانا فضل الرحمن کی طرف سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس کو اس وقت دھچکا لگا جب یہ اطلاعات گردش کرنے لگیں کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی)کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی ایف کی جانب سے طلب کی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی ) میں شرکت نہیں کریں گے۔
مولانا کی اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے ن لیگ کے ذرائع کے مطابق شہباز شریف کمر میں تکلیف اور پارٹی مصروفیات کے باعث اے پی سی میں شرکت نہیں کریں گے اور ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق اور ڈاکٹر عباداللہ ان کی جماعت کی نمائندگی کریں گے۔
دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو بھی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے وہ اس وقت بہاولپور میں موجود ہیں۔یہ بھی بات قابل غور ہے کہ پیپلز پارٹی کی یہ خوبی رہی ہےکہ وہ ریاست کے خلاف کسی ایسی ایجی ٹیشن کا ساتھ شروع دن سے ہی نہیں دیتی
اسلام آباد:اسلام آباد کاتھیٹر،مولانا کی اداکاری ،بہتان لگانا،پرانی بیماری، ڈاکٹرنے تشخیص کرلی، اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے اسلام آباد میں تھیٹر چل رہا ہے، مولانا فضل الرحمان نے بہترین اداکاری کی۔ کچھ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اسلام آباد آئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جمہوری روایات کے مطابق مارچ کی اجازت دی، جو حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے آ رہا تھا ہم نے اسے آئین کے مطابق اسلام آباد آنے دیا لیکن خود کو عالم دین کہنے والا الزام تراشی اور بہتان لگا رہا ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مولانا کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کو یہ پرانی بیماری ہےکہ وہ اپنے مخالفین پر اقتدار کے لالچ میں بڑے بڑے بہتان لگا دیتے ہیں
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مارچ کے شرکا کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں ہے، مارچ کے شرکا سے تو بچوں کے جھولے بھی محفوظ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کے اصولوں کو پڑھا ہے لیکن مولانا فضل الرحمان نے مذہب کا کارڈ استعمال کیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
اسلام آباد: کدھرجائیں؟کیاکریں؟ کوئی سمجھ نہیں آرہی،جے یوآئی ف کا اجلاس بے نتیجہ ختم ، مولانا فضل الرحمن کے فیصلے نے جمعیت علمائے اسلام کو تقسیم کردیا ، اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے اجلاس میں کوئی اہم فیصلہ نہیں ہو سکا
بے نتیجہ اجلاس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب اس مشکل صورت حال سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے جس کے مطابق تمام حزب اختلاف کی مرکزی قیادت سے رابطہ کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈ لائن میں بھی ایک دن کا اضافہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ کل پیر کو جے یو آئی کا اہم اجلاس دوبارہ طلب کر لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پارٹی کے طویل مشاورتی اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) سربراہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے رویے پر مشکل کا شکار ہوگئے۔یہ بھی معلوم ہو ا کہ اس اجلاس میں بتایا کہ مولانا فضل الرحمان رہبر کمیٹی کی تجاویز اور کارکنوں کے جذبات کی کشمکش میں پھنس گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ سینیٹر طلحہ محمود نے دیگر سیاسی جماعتوں، تاجروں اور سماجی تنطیموں سے رابطوں پر بریفنگ دی۔دلچسپی والی بات یہ ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے کاروباری طبقے نے مولانا کے مارچ اور دھرنے کو پہلے ہی مسترد کردیا تھا
اسلام آباد:مولانا کا آزادی مارچ جیسے جیسے وقت گزررہا ہے مولانا کے سیاسی حلیفوں کےلیے تباہی سے کم نہیں ، مولانا کا مارچ تو اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ،مگر اس کی حمایت کرنےوالوں کا کیا بنے گا، اسی صورت حال پر پر پاکستان مسلم لیگ نواز نے کل اہم اجلاس طلب کرلیا
اطلاعات کے مطابق یہ اجلاس صدر ن لیگ شہباز شریف کی صدارت میں ان کی رہائش گاہ پر ہوگا جس میں پارٹی قائد نواز شریف کی ہدایات کے تحت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
آزادی مارچ جمعرات کو اسلام آباد پہنچا۔ ایک روز بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے دو روز کی مہلت دی تھی جو آج ختم ہورہی ہے جبکہ آگے کے لائحہ عمل کا اعلان کچھ دیر بعد مولانا فضل الرحمان کریں گے۔
ادھر جے یو آئی (ف) کے اہم اجلاس میں آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ پر بھی مشاورت کی گئی جس میں اسلام آباد لاک ڈاؤن، ملک گیر پہیہ جام، ملک گیر شٹر ڈاؤن، صوبائی و ضلعی سطح پر لاک ڈاؤن شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) سربراہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے رویے پر مشکل کا شکار ہوگئے۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ن لیگ نے یہ اجلاس پیپلز پارٹی کی طرف سے دھرنے میں شرکت سے انکار کے بعد طلب کیا ہے