اسلام آباد :مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو 2 دنوں کی ڈیڈ لائن دے دی انہوں نے کہا تیسرے دن فیصلہ عوام کرے گی نہیں تو اسلام آباد کے اندر انسانوں کا سمندر خود وزیر اعظم کو گرفتار کرلے گا.انہوں نے کہاکہ ہم پرامن لوگ ہیں امن کے دائرے میں رہیں ،قوم کو کرب سے نکالنا چاہتے ہیں. اسلام آباد میں کسی ایک پارٹی کا اجتماع نہیں بلکہ یہ ساری قوم کا اجتماع ہے جو دنیا پر واضح کررہاہے کہ پاکستان پر حکمرانی کرنے کاحق پاکستا ن کے عوام کا ہے ، کسی ادارے کا عوام پر مسلط ہونے کا حق نہیں ہے ۔اجتماع میں آنیوالے تمام کارکنوں ، تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کوخوش آمدید کہتا ہوں، یہ سنجیدہ اجتماع ہے اور پوری دنیا اس کوسنجیدگی سے لے ، ہم یہ فیصلہ کررہے ہیں کہ ہم اس ملک میں عدل پر مبنی نظام چاہتے ہیں جو انصاف پر مبنی ہوتوپھر عوام کاحق ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ،اس مبارک مہینے میں ہم اجتماع کا آغاز کررہے ہیں، اس وقت ختم نبوت کے خلاف سازشیں کرنیوالے ، ناموس رسالت کے خلاف سازش کرنیوالے میدان میں اتر رہے ہیں اور پور ی قوم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اکٹھی ہوئی ہے ۔حکومت نے کشمیر کوبیچاہے ، ہم سے کہا کہ کشمیر کی صورتحال خراب ہے ، سرحد پر ٹینشن ہے ، اس لئے اجتماع نہ کرو لیکن عجیب بات ہے کہ ایک طرف کہا جارہاہے کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کے ساتھ تناﺅ ہے اوردوسری طرف کرتارپور راہداری کے معاملے پر بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا ا پچاس لاکھ گھر بناکر دینگے لیکن پچاس لاکھ گھر گرا دیئے گئے ہیں۔ان کی جانب سے کہاگیا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینگے لیکن بیس سے پچیس لاکھ نوجوانوں کو بیروز گار کردیا گیاہے.باہر سے دو بندے آئے ہیں جن میں ایک سٹیٹ بینک کاگورنر اوردوسرا ایف بی آر کا چیئرمین ہے جو آئی ایم ایف نے بھیجے ہیں۔ جس وقت پاکستان بنا تھا تو قائد اعظم نے کہا تھا کہ ہم مغربی نظام معیشت تسلیم نہیں کرتے ، ہم قرآن وسنت کے مطابق معاشی نظام بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جب اسرائیل وجود میں آیا تواس کے وزیر اعظم نے اسرائیل کی پہلی خارجہ پالیسی میں کہا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد پاکستان کاخاتمہ ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد یہ تھی کہ ہم نے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہنا ہے ، آج فلسطین کوتسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع اعلان کررہاہے کہ کوئی مائی کا لعل عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کو نہیں چھیڑ سکے گا ، کہتے ہیں کہ یہ مذہب کارڈ استعمال کرتے ہیں لیکن پاکستان ہے تو اسلام ہے اور اسلام ہے تو پاکستان ہے ، کوئی مائی کا لعل اسلام کو پاکستان سے جدا نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو توجاناہی جانا ہے لیکن میں اداروں سے بات کرناچاہتا ہوں کہ ہم اپنے اداروں کو غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہوں، ہم اداروں کومضبوط دیکھنا چاہتے لیکن اگر اس حکومت کی پشت پر ہمارے ادارے ہیں تو پھر ہم اداروں کودودن کی مہلت دے رہے ہیں کہ اس پر بات کریں گے کہ ہم اداروں کے بارے میں اپنی کیارائے رکھتے ہیں؟مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج استاد کو سڑکوں پر گھیسٹا جارہاہے ، خواتین اساتذہ کو چہروں پر تھپڑ مارے جارہے ہیں، تھانوں اور سڑکوں پر گھسیٹا جارہاہے ، ڈاکٹر جولوگوں کے زخم سیتا ہے ، ان کی مرہم پٹی کرتاہے ، اس کے زخموں سے خون رس رہاہے ۔انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم ٹرین حادثے میں شہید ہونیوالے کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اس مطالبے کے ساتھ کہ یہ حادثہ تھا یا دہشت گردی تھی،اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیں.
Tag: آزادی مارچ
-
آوسارے مل کر سلیکٹڈ وزیراعظم کوگھر بھیجیں، اکیلاکچھ نہیں کرسکتا ، بلاول بھٹو
اسلام آباد:آوسارے مل کر سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیجیں: اکیلاکچھ نہیں کرسکتا ، بلاول بھٹو آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام صرف جمہوریت کو مانتے ہیں لیکن یہ کس قسم کی جمہوریت ہے کہ 70 سال ہونے کے باوجود ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکے۔کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا اور ہمارا وزیراعظم کہتا ہے کہ میں کیا کروں، کشمیر کے لیے صرف تقریریں اور ٹوئٹس کرتے ہیں، ہر پاکستانی آخری دم تک کشمیر کے لیے لڑے گا، کوئی سودا قبول نہیں کرے گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک واضح پیغام اسلام آباد، وفاق اور پارلیمان کے لیے بھیجا ہے کہ اس ملک کے عوام سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی نظام کو نہیں مانتے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ کس قسم کی آزادی ہے کہ را کے سربراہ کا انٹرویو تو نشر ہو سکتا ہے، بھارتی پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے لیکن صابق صدر آصف زرداری، مولانا فضل اور شہباز شریف کے بیانات نشر نہیں ہو سکتے۔
آزادی مارچ سے خطاب کرتےہوئے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری معیشت بھی آزاد نہیں ہے، ہمارا وزیر خزانہ کون ہو گا آئی ایم ایف طے کر رہا ہے، معاشی دہشت گردی سے ہر طبقے کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، جو ایک پاکستان کا دعویٰ کرتے تھے، عوام کو تکلیف اور امیروں کو ریلیف دے رہے ہیں۔وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ہمارا وزیراعظم نااہل، نالائق اور سلیکٹڈ ہے،
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو یقین دلاتا ہوں کہ ہر جمہوری قدم میں ان کے ساتھ ہوں گے اور اس سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی وزیراعظم کو مل کر گھر بھیجیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں، مزدور، کسانوں اور پورے پاکستان کا ایک ہی نعرہ ہے ’گو سلیکٹڈ گو‘۔
-
وزیراعظم 3 دن کے اندر استعفیٰ دے دیں ،فضل الرحمن
اسلام آباد: فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 3 دن کی مہلت دے دی،اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ۔ ف) کے آزادی مارچ کا جلسہ ایچ 9 گراؤنڈ میں جاری ہے جس سے اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 3 دن کی مہلت دے دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک دن آج کا اور اگلے دو دن، اس دوران وزیراعظم استعفیٰ دے دیں۔
مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے شرکاء سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ استعفے سے کم پر مانو گے؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر ’نہیں‘ کے نعرے لگائے۔اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مزید صبرو تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، ہم اداروں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں، ہم اداروں کےساتھ تصادم نہیں چاہتے، عوام کا فیصلہ آچکا ہے، حکومت کو جانا ہی جانا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میری بات نواز شریف نے بھی سن لی ہے، آصف علی زرداری نے بھی سن لی ہے اور ہم جنہیں سنانا چاہ رہے ہیں وہ بھی سن رہے ہیں۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ اب فیصلہ ہم نہیں کریں گے بلکہ عوام کریں گے کیوں کہ ووٹ عوام کی امانت ہوتا ہے اور عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے لہٰذا فیصلہ بھی عوام کو ہی کرنا ہے۔
آخری میں انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ تحمل کے ساتھ دھرنے میں موجود رہیں، اپوزیشن جماعتیں آپس میں رابطے میں ہیں اور لمحہ بہ لمحہ صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، جو بھی فیصلہ ہوگا شرکاء کو آگاہ کیا جائےگا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آئندہ دو دن میں وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو آئندہ کا لائحہ عمل باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔
-
آزادی مارچ کاررواں2 افراد ہلاک ، 4 شدید زخمی
اسلام آباد: مولانا کا آزادی مارچ جہاں جہاں سے گزررہا ہے تلخ یادیں اور حقائق چھوڑ کر آگے بڑھ رہا ہے ، اطلاعات کے مطابق مولانا کا آزادی مارچ کارواں دیکھنے والے چھ افراد رش کے باعث کھنہ پل سے نیچے جاگرے، گرنے والے 6 افراد میں سے دوافراد موقع پر ہی جانبحق ہوگئے
ذرائع کے مطابق باقی 4 افراد شدید زخمی ہوگئے جن کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، پولیس حکام کاکہنا ہےکہ جانبحق افراد کی شناخت، 13 سالا طلحہ اور 40 سالا شفقت عباسی کے نام سے ہوئِی ہے،
باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق طلحہ منیر راولپنڈی اور شفقت عباسی برما ٹاون کا رہائشی ہے، پولیس حکام کا کہنا ہےکہ مولانا کے مارچ میں زخمی ہونے والوں میں اخلاق اور عباس شامل ہیں، چاروں افراد کھنہ پل کے اوپر سے ایکسپریس ہائی وے سے گزرنے والے آزادی مارچ کو دیکھ رہے تھے
-
آزادی مارچ ، پولیس نے دہشت گردی کی کارروائی ناکام بنادی
اسلام آباد :مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو دہشت گردوں کی کارروائی سے بچانے میں پولیس نے اہم کردار ادا کیا ، اطلاعات کے مطابق آج رات جے ایو آئی ایف کے جلسہ گاہ پر سخت چیکنگ کے دوران اسلام آباد پولیس سپیشل برانچ کے اہلکاروں کی بڑی کارروائی اور دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے
ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے جنرل انٹری پوائنٹ پر پولیس نے 2 اشخاص سے دو پسٹل 50 روند، 5 عدد میگزین برآمد کرلی ، پولیس حکام کا کہنا ہےکہ یہ دونوں اشخاص پنڈال میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے ،دونوں اشخاص سے مزید تحقیقات کے لیے تھانہ انڈسٹریل ایریا شفٹ کر دیا گیا
اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان نے شاباش اور انعام کو اعلان کیا ہے اور کہا ہےکہ اللہ نے مہربانی فرمائی ہے کہ کسی بڑے نقصان سے بچا لیا ہے، آئی جی اسلام اباد کا کہنا ہےکہ تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا انتظام کیا گیا ہے ، تاہم جے یوآئی ایف کے کارکنان تعاون نہیں کررہے
-
آزادی مارچ شرکاء جلسہ گاہ کیسے پہنچیں گے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ٹریفک پلان جاری
اسلام آباد :جلسہ گاہ میں شرکاء کا طرح پہنچیں گے ضلعی انتظامیہ نے ٹریفک پلان جاری کردیا .بھارہ کہو مری روڈ سے آنے والے شرکاء براستہ کوڑیاں والا چوک, کشمیر چوک ,راول ڈیم ,فیض آباد لوپ سے ایکسپریس وے آتے ہوئے سوہان پل سے لے کر فیض آباد آئی جی پی روڈ سے 9th ایونیو چوک سے براستہ 9th ایونیو, ایجوکیشن لوپ سے بائیں ٹرن لے کر سروس پر مخصوص پارکنگ میں اپنی گاڑیاں پارک کر کے جلسہ گاہ میں جائیں گے. روات t کراس اور ایکسپریس وے سے آنے والے شرکاء براستہ فیض آباد آئی جی پی روڈ سے 9th ایونیو چوک سے براستہ 9th ایونیو چوک, ایجوکیشن لوپ سے بائین ٹرن لے کر سروس روڈ پر مخصوص پارکنگ میں اپنی گاڑیاں پارک کر کے جلسہ گاہ میں لے جائیں گے گے. موٹروے, پشاور جی ٹی روڈ سے آنے والے شرکاء براستہ چونگی نمبر 26,اسلام آباد چوک ,جی الیون سگنل کے بعد کشمیر ہائی وے پر مخصوص پارکنگ میں گاڑیاں پارک کرکے جلسہ گاہ جائیں گے.
جاری کیا گیا ٹریفک پلان :
-
25 ہزارآنسوگیس شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے
لاہور:آزادی مارچ کو کنٹرول کرنے اور مولانا فضل الرحمن کی تنظیم کی طرف سے کسی بھی فتنے اور انتشارسے نبٹنے کے لیے پنجاب پولیس بالکل تیاربیٹھی ہے ، اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس نے آزادی مارچ کے حوالے سے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی، لاہور سمیت پنجاب بھر سے دس ہزار سے زائد اضافی پولیس اہلکار متعلقہ اضلاع میں پہنچ گئے جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں راستے بند کرنے کے لیے کنٹینرز بھی پکڑ لیے گئے اور افسران واہلکاروں کی چھٹیاں بھی بند کردی گئیں۔
ٔپنجاب پولیس حکام کے مطابق جے یو آئی (ف ) کے امیر مولانا فضل الرحمن کی جانب سے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کی کال کے پیش نظر پنجاب پولیس نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ اس وقت پنجاب پولیس کے پاس 25 ہزار سے زائد آنسوگیس کے شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے اور 3 ہزار سے زائد انٹی رائٹس کٹس موجود ہیں جبکہ تمام اضلاع کی انٹی رائٹ فورس ڈیوٹی پر موجود ہوگی۔
آئی جی پنجاب کے حکم پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں ضلعی پولیس اور انٹی رائٹ پولیس کی سپورٹ کے لیے پنجاب کانسٹیبلری اور ٹریننگ سکولوں سے 503 ریزرویں اضافی نفری کے طور پر بھجوادی گئی ہیں۔ پنجاب پولیس نے 4 واٹر کیننز میں سے ایک لاہور، ایک ملتان اور 2 واٹرکیننز راولپنڈی بھجوادی ہیں تاکہ ایمرجنسی حالات میں مظاہرین سے نمٹاجاسکے۔
صوبہ بھرمیں پولیس نے سینکڑوں کی تعداد میں کینٹنرز قبضے میں لے لیے ہیں، جن کی نقل وحمل کے لیے کرینیں بھی بھجوادی گئی ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب بھر سے 60 سے زائد اضافی پریژن وینز مانگی گئی تھی جو کہ آئی جی پنجاب نے فوری بھجوانے کا حکم دیا تھا جبکہ حکومت کو رینجرز کو حساس اضلاع میں بیک اپ کے طور پر مہیا کرنے کا مراسلہ بھجوایا ہے۔
-
پولیس کےتمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ
کراچی: انسپکٹر جنرل پولیس نے آزادی مارچ کے تناظر میں سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردیں۔ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کےتناظرمیں آئی جی سندھ کلیم امام نے اہم اقدام اٹھایا ہے۔ آئی جی نے محکمہ پولیس کے تمام افسران و اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردیں۔
میں یتیم تھا ،اداکاری نہیں کرسکتا،جوہی چاولہ کااحسان یاد رکھوںگا
آئی جی آفس کے مطابق چھٹیاں منسوخی کے حوالے سے آئی جی سندھ نے باقاعدہ لیٹر جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چھٹیوں پرجاے والےافسران واہلکار فوراًواپس رپورٹ کریں۔لیٹر کے مطابق کسی بھی افسریااہلکارکی چھٹی کی درخواست ارسال نہ کی جائے اور آئندہ احکامات تک تمام ملازمین اپنی حاضری یقینی بنائیں۔
ڈینگی کے قاتل حملے جاری ، مزید 2 افراد جان کی بازی ہار گئے
یہ فیصلہ اس تناظر میں کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کا آغاز کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ آزادی مارچ کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔
پاک فوج نے بھارت کے 60 سے زائد فوجی ماردیئے ہیں.آصف غفور
-
مسلم لیگ ن کے سیاسی حلیف ساجد میر نے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کردیا
لاہور :مسلم لیگ ن کے سیاسی حلیف امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان سینیٹر ساجد میر نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کردیا. انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ فضل الرحمن اور اپوزیشن کے دھرنے کا بہت چرچا ہے جس کی حکومتی عہدیدار اور پی ٹی آئی کے حامی مخالفت کررہے ہیں اور ان کے دلائل اس حوالے سے کمزور ہیں. کہا جارہا ہے کہ یہ ملکی مفاد کے لئے خطرناک ہے. حالانکہ لوگ حکومت کی طرف سے مہنگائی سے تنگ ہیں اور حکومت اپنی پالیسیوں میں ناکام ہیں اور لوگ اس کے پیش نظر احتجاج کررہے ہیں. مدارس کے بچوں کو اس میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ عاقل اور ذی شعور لوگ شریک ہورہے ہیں .انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا ہے یہ امن و امان کے خلاف ہے یہ باتیں اس وقت کیوں نا یاد آئیں جب 136 دن کا دھرنا دیا گیا. کشمیر کا مسئلہ بہت اہم ہے اس پر پوری قوم متحد ہے اس پر اپوزیشن نے بھی مظاہرے کئے اور پیغامات ریکارڈ کرائے. آزادی مارچ کے حوالے سے اعتراضات حقیقت پر مبنی نہیں. انہوں نے کہا کہ میں اس دھرنے کی حمایت کا اعلان کرتا ہوں اور اس حکومت کے قائم رہنے یا ہونے کا کوئی جواز نہیں .یہ حکومت نتائج کے سلسلہ میں نہیں بنی بلکہ ان کو لایا گیا. اس لیے یہ دھرنا بلکل بجا ہے. یاد رہے اس سے قبل سینیٹر ساجد میر مولانا فضل الرحمان کے سرگودھا میں ہونے والے ملین مارچ سمیت دیگر پروگراموں میں بھی شریک ہوئے .
-

اٹک پل بند،کنٹینرز پہنچا دیےگئے، ہلچل مچ گئی
اٹک :اسلام آباد نہیں آنے دیں گے ، اگر آگئے تو پھر جانے نہیں دیں گے ، وفاقی حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا ، اطلاعات کےمطابق وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے آزادی مارچ کو اسلام آباد انتظامیہ کے ذریعے روکنے پر کام شروع کردیا۔
لاہورمیں 30 ہزار سیکورٹی اہلکار، 94 ہزار293 واقعات،عوام سوال کرتی ہے !
دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے جاری احکامات میں کہا گیا ہےکہ وفاقی دارالحکومت میں آزاد کشمیر، پنجاب اور بلوچستان سے اضافی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے جنہیں ٹھہرانے کیلئے اسلام آباد کی سرکاری عمارتیں خالی کرانے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔
لاہورمیں بھی دھرنے کی دھمکی دے دی گئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اضافی پولیس نفری کو نیشنل لائبریری، اسپورٹس کمپلیکس، کمیونٹی سینٹرز اور اسکولوں میں رہائش دی جائے گی جبکہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد انتظامیہ کو نفری کے قیام اور طعام کیلئے فنڈز بھی جاری کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
دوسری جانب دریائے سندھ پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اٹک پل پر کنٹینرز پہنچادیے گئے ہیں اور پُل کو بند کرنے کیلئے وزارت داخلہ کے فیصلے کا انتظار کیا جارہا ہے، پل پر کنٹینرز لگانے کا کام جاری ہے تاہم ٹریفک کیلئے ابھی ایک لین کھلی ہے۔
پہلے حکومت کرنے دی جائے ، مذہبی جماعت کا مطالبہ سامنے آگیا
دوسری طرف پنجاب پولیس حکام کے مطابق وزارت داخلہ کا حکم ملتے ہی اٹک پل کو مکمل بند کردیا جائے گا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کے پیش نظر پشاور سے لاہور جی ٹی روڈ بھی بند کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ میں کنٹرول روم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے پنجاب، وفاقی دارالحکومت اور خیبرپختونخوا کو کنٹرول کیا جائے، کنٹرول روم سے پنجاب، خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹریز اور چیف کشمنر اسلام آباد رابطے میں رہیں گے جبکہ تینوں آئی جیز کنٹرول روم کے احکامات پر عمل کریں گے۔