Baaghi TV

Tag: آصف زرداری

  • کوشش کریں سندھ کےہرگھر میں سولرسسٹم لگوایا جائے،آصف زرداری کی وزیر توانائی کو تاکید

    کوشش کریں سندھ کےہرگھر میں سولرسسٹم لگوایا جائے،آصف زرداری کی وزیر توانائی کو تاکید

    نواب شاہ: سابق صدر آصف علی زرداری کا سندھ کے ہر گھر میں سولر سسٹم لگوانے کا منصوبہ بنایا ہے-

    باغی ٹی وی: سابق صدر آصف علی زرداری سے گزشتہ روز وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ کی ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاست اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر امتیاز شیخ نے آصف علی زرداری کو عید کی مبارک باد بھی دی۔

    سندھ سے غربت ، بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا خاتمہ کیا جائے. آصف علی زرداری …

    رپورٹس کے مطابق ملاقات میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھ سے غربت،بے روز گاری اور معاشی بدحالی کا خاتمہ کیا جائےآصف زرداری نے وزیر توانائی امتیاز شیخ کو تاکید کی کہ کوشش کریں سندھ کے ہر گھر میں سولر سسٹم لگوایا جائے، سولرسسٹم لگنے سےعوام کو مہنگےبجلی بلوں سے نجات مل سکےگی۔

    کریمیا روس کا حصہ؛ چین کے بیان پر مغربی ممالک نالاں

    ملاقات کے دوران آصف زرداری کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں ملک کو فلاحی ریاست بنائیں گے۔

  • آج سنہرا دن،زرداری نے صدرکوحاصل اختیارات پارلیمان کوواپس کیے تھے،شازیہ مری

    آج سنہرا دن،زرداری نے صدرکوحاصل اختیارات پارلیمان کوواپس کیے تھے،شازیہ مری

    وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ آج ملک کی تاریخ کا سنہری دن ہے ،صدر آصف علی زرداری نے آج کے دن صدر کو حاصل اختیارات پارلیمان کو واپس کیے تھے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر آصف علی زرداری نے جمہوریت کو مضبوط کیا،آج کے دن خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے عوام کو شناخت ملی ،صدر آصف علی زرداری نے صوبوں کو خودمختاری دیکر وفاق کو مضبوط کیا،اٹھارہویں آئینی ترمیم وفاق اور تمام اکائیوں کے درمیان میثاق ہے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ثمرات کی وجہ سے پارلیمنٹ تیسری بار اپنی مدت پوری کر رہی ہے پارلیمنٹ بااختیار ہوگی تو باہر سے مداخلت ختم ہوگی

    19 اپریل یوم 18 ویں ترمیم ،18ویں ترمیم کی منظوری کو آج 13 برس مکمل ہوگئے ،8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری دی۔ 15 اپریل 2010 کو سینیٹ آف پاکستان نے اسے منظور کیا ۔ 19 اپریل 2010 کو صدر مملکت نے اٹھارویں آئینی ترمیم کی حتمی منظوری دی ،اٹھاوریں آئینی ترمیم میں جنرل ضیاء کا نام بطور صدر آئین کے متن سے ہٹا دیا گیا ہے۔صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھا گیا، پرویز مشرف کے ذریعہ پیش کردہ 17 ویں آئینی ترمیم اور قانونی فریم ورک آرڈر کو منسوخ کر دیا گیا،تیسری بار وزارت عظمیٰ اور وزرائے اعلیٰ کی عہدے پر پابندی ختم کردی گئی ،آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو معطل کرنے کو بھی غداری کے زمرے میں شامل کیا گیا۔ آرٹیکل 10 اے کے تحت غیر جانبدارانہ ٹرائیل کو بنیادی حق کا درجہ دیا گیا ہے۔آرٹیکل19 کے تحت معلومات تک رسائی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ۔ آرٹیکل 25 کے تحت پانچ سے چودہ برس تک کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کو آئینی تحفظ دیا گیا۔آرٹیکل 37 کے تحت سستے اور جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ،آرٹیکل 48کے تحت صدر کو وزیر اعظم کی مشاورت سے اسمبلی تحلیل کرنے کا پابند بنایا گیا ،آرٹیکل 58(2) کے تحت صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    آرٹیکل 59 کے تحت ایوان بالا یا سینٹ کی نشستیں سو سے بڑھا کر ایک سو چار کر دی گئیں ،آرٹیکل 61 کے تحت سینٹ کے اجلاسوں کے دن نوئے سے بڑھا کر ایک سو دس کر دئیے گئے ۔آرٹیکل 90 کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان تمام کنکرنٹ لسٹ ختم کردی گئی ۔آرٹیکل 92 کے تحت وفاقی کابینہ کی تعداد پارلیمان میں اراکین کی تعداد کا گیارہ فیصد کردی گئی۔صوبوں میں بھی کابینہ پندرہ اراکین یا گیارہ فیصد جو بھی زیادہ ہو۔وزرا اعلی وزیر اعظم کی طرح پانچ سے زیادہ مشیر تعینات نہیں کر سکیں گے۔آرٹیکل 101 کے تحت صوبائی گورنر متعلقہ صوبے کا ہی رہائشی ہو گا۔آرٹیکل 104 کے تحت صوبائی اسمبلی کا سپیکر گورنر کی غیر موجودگی میں قائم مقام گورنر مقرر ہوگا۔آرٹیکل 127 کے تحت صوبائی اسمبلی کی کم سے کم کارروائی کے دن ستر سے بڑھا کر ایک سو کر دیے گئے۔آرٹیکل 157 کے تحت وفاقی حکومت اس صوبے سے مشاورت کی پابند ہوگی جہاں آبی ذخیرہ تعمیر کیا جا رہا ہوگا۔آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کا حصہ آخری این ایف سی ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکے گا۔آرٹیکل 167 کے تحت صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کی مقرر کردہ حد کے اندر مقامی یا بین القوامی سطح پر قرضے حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔آرٹیکل 168 کے تحت آڈیٹر جنرل کی مدت ملازمت چار سال تک محدود کر دی جائے گی۔آرٹیکل 170 کے تحت وفاق یا صوبوں کے زیر انتظام خودمختار اداروں کو آڈیٹر جنرل کے تحت لایا جائے۔آرٹیکل 172 کے تحت تیل و گیس جیسے قدرتی وسائل کا اختیار صوبے اور وفاق کے درمیان مشترکہ ہوگا۔آرٹیکل 175-اے کے تحت ججوں کی تقرری کے لئے سات رکنی کمیشن قائم کیا گیا۔آرٹیکل 213 کے تحت انتخابی کمیشنر کی تقرری کا طریقہ کار چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت کر دیا گیا ہے۔

  • صوابی کی اہم شخصیت بلند خان ترکئی خاندان سمیت پیپلز پارٹی میں شامل

    صوابی کی اہم شخصیت بلند خان ترکئی خاندان سمیت پیپلز پارٹی میں شامل

    سابق صدر آصف علی زرداری سے صوابی کی اہم شخصیت بلند خان ترکئی کی ملاقات ہوئی ہے

    آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد بلند خان ترکئی خاندان اور ساتھیوں سمیت پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے، بلند خان ترکئی کی جانب سے پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر دیا گیا، بلند خان ترکئی نے صدر آصف علی زرداری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کی شناخت دی ، خیبر پختونخوا کے عوام صدر آصف علی زرداری کا احسان بھول نہیں سکتے ،

    ملاقات کے دوران سید نیئر حسین بخاری، رخسانہ بنگش ،عامر فدا پراچہ محمد علی باچا اور بلال شیرپاؤ بھی شریک تھے ،آصف علی زرداری کی طرف سے ترکئی خاندان کی طرف سے پارٹی میں شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اسلام آباد میں ہیں اوروہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ،آصف زرداری نے گزشتہ روز پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا تھا، اور حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ عمران خان سے اگر مذاکرات کرنے ہیں تو کوئی پیشگی شرائط نہ مانی جائیں، جس جس نے ڈائیلاگ کرنا ہے ان کو وزیر اعظم کے پاس آنا پڑے گا۔وزیر اعظم کسی کے پاس نہیں جائیں گے۔میرے پاس وزیر اعظم نہیں آئے کیونکہ میں کچھ نہیں ہوں۔سب کو بات چیت کیلئے وزیراعظم کے پاس آنا پڑے گا۔ہم ملک کو بچاتے آئے ہیں آگے بھی بچائیں گے

  • آصف زرداری نے اہم مشاورتی اجلاس طلب کرلیا

    آصف زرداری نے اہم مشاورتی اجلاس طلب کرلیا

    سپریم کورٹ کا الیکشن سے متعلق فیصلہ ،سابق صدر آصف زرداری نے اہم مشاورتی اجلاس طلب کرلیا،

    پیپلزپارٹی کا مشاورتی اجلاس آج شام چار بجے زرداری ہاوس میں ہوگا،سابق صدر آصف زرداری نے پارٹی کے سینیئر رہنماوں کو بلا لیا، پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری، فرحت اللہ بابر، شیری رحمان اجلاس میں شرکت کریں گے، قمرالزمان کائرہ، ساجد طوری سمیت دیگر رہنماء بھی اجلاس میں شریک ہوں گے،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی بھی اجلاس میں شرکت کا امکان ہے ،اجلاس میں انتخابات سے متعلق اہم مشاورت ہوگی

    قبل ازیں عمران دور میں سہولت کاروں میں 3 ارب ڈالر کی بندر بانٹ پر شازیہ مری کا رد عمل سامنے آیا ہے، شازیہ مری کا کہنا ہے کہ 600 مالی سہولت کاروں میں تین ارب ڈالر کی تقسیم میگا اسکینڈل ہے ،عمران نیازی کی وجہ سے ملک کی معیشت میں سونامی آیا، عمران نیازی نے ملک کا وہ حشر کیا جو پاگل بیل کانچ کے گھر کا کرتا ہے، عمران نیازی کی لوٹ مار کی وجہ سے آج حکومت ایک ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کر رہی ہے،ایک نالائق لاڈلے کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے ہر سمت تباہی مچائی، پندرہ پندرہ ارب روپے کا انٹرسٹ فری قرض دیا گیا کیا، ان کے باپ کا پیسہ تھا؟ معیشت کو تباہ کرکے ملک کو بدحال کرنا عمران نیازی کا ایجنڈا رہا ہے، عمران نیازی سے وہ تین ارب ڈالر ریکور کرکے قومی خزانے میں جمع کیئے جائیں،

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

     15 کلو ہیروئن نہیں ڈالی گئی

  • قوم نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،آصف علی زرداری

    قوم نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،آصف علی زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس 10 سال سے سپریم کورٹ میں سماعت کا منتظر ہے۔

    باغی ٹی وی : پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر جاری بیان میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ قوم نے بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،10 سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ نے اب تک رائے نہیں دی-

    سندھ کے ضلع دادو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت

    آصف علی زرداری نے کہا کہ پھانسی کی سازش میں ملوث کردار تاریخ کے کوڑے دان میں سڑ رہے ہیں پاکستان اور 1973ء کا آئین بھٹو کی امانت ہے جس کی ہر صورت حفاظت کی جائے گی اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کیاجائے گا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکی پھانسی کو 44 برس بیت گئے ہیں پیپلزپارٹی کےبانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 44 ویں برسی کے موقع پر آج سندھ بھر میں عام تعطیل ہےذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں 1979 میں آج ہی کے دن پھانسی دی گئی تھی۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے کيلیفورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی، 1963 ميں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے بعدازاں ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔

    بحیرہ عرب میں زلزلے کے جھٹکے

    1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جب کہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے

    ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں رات دو بجے راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گيا۔

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں …

    ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

  • آصف زرداری نے دی تھی مسکراتے ہوئے گرفتاری، ویڈیو وائرل

    آصف زرداری نے دی تھی مسکراتے ہوئے گرفتاری، ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو پولیس گرفتار کرنے کے لئے زمان پارک پہنچی ہے تا ہم ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی کیونکہ عمران خان نے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے

    دوسری جانب عمران خان کے دور حکومت میں اسوقت کے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین آصف زرداری، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، فریال تالپور سمیت دیگر کو گرفتار کیا گیا تو سب نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے گرفتاری دی کہیں کوئی احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی کارکنان کو ڈھال بنایا

    صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کی ہے اور کہا ہے کہ جون 2019کو جناب آصف زرداری نے نیب کو یوں ہنستے مسکراتے اپنے بچوں کے ہمراہ گرفتاری دی۔ کوئی احتجاج کیا نہ اپنے کارکنوں کو پولیس سے لڑنے کی ہدایت کی ۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حوالہ سے بھی اعزاز سید نے ویڈیو ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 18 جولائی 2019 کو لاہور میں تھے نیب اور پولیس نے گاڑی گھیرے میں لی , بولے وارنٹ دکھائیں آپکے ساتھ جاؤں گا’۔ عباسی بھی ہنستے کھیلتے گرفتار ہوئے ، شکایت کی نہ اپنے کارکنوں کو پولیس پر حملوں کا حکم دیا۔

    شہباز شریف، خواجہ آصف، سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی گرفتاریاں دیں تو کسی نے بھی کارکنان کو ڈھال نہیں بنایا اسکے مقابلے میں عمران خان نے زمان پارک کو سٹیٹ کے اندر سٹیٹ بنایا ہوا ہے،عمران خان زمان پارک بیٹھے اور سب کارکنان کو بلا کر انکو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • 4 سال سے سیاسی قیدی ہوں، ضمانت نہیں ہو رہی، آغا سراج درانی

    4 سال سے سیاسی قیدی ہوں، ضمانت نہیں ہو رہی، آغا سراج درانی

    اسپیکر سندھ اسمبلی ،پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ شیخ رشید پر مقدمے کی ایف آئی آر نہیں دیکھی، قانون تو سب کیلئے برابر ہے،

    آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ میں 4 سال سے سیاسی قیدی ہوں، میری ضمانت نہیں ہو رہی،آصف زرداری کی ملک و صوبے کیلئے خدمات ہیں،ہماری پالیسی ہے کہ عوام کے پاس جائیں اور کام کریں مخالفین الزامات لگاتے رہتے ہیں ،عمران خان بتائیں آصف زرداری کیا عیاشی کرتے ہیں؟مخالفین ایشو بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مہنگائی پر ہم اپنی شکایتیں وفاق تک پہنچائیں گے،وزیراعظم کو بتائیں گے کہ عوام کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے،وفاقی حکومت مہنگائی کم کرنے کےلیے اقدام کرے

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے نیشنل سیکیورٹی کواعتماد میں لیے بغیر دہشتگردی کی پالیسیز بنائیں اگر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلے ہوتے تو نتائج برعکس ہونے تھے عمران خان نے آصف زرداری کے خلاف سنگین الزام لگایا عمران خان صورتحال کو کشیدہ کرنا چاہتے ہیں،عمران خان ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں،شیخ رشید کی گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی عمران خان کے اثاثوں میں اضافہ ہواہے اداروں کو ایسے فیصلے کرنے چاہییں کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو،عمران خان کو آصف زرداری ر الزامات کے حوالے سے لیگل نوٹس دیا،

    امریکہ، ایران، ترکی، سمیت دیگر ممالک نے بھی مذمت کی

    ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو 

     عمران خان پاکستان ہی نہیں دنیا کا جھوٹا ترین شخص ہیں،

    قبل ازیں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں تحریک انصاف سندھ اسمبلی سے بھی مستعفی ہو تا کہ ضمنی انتخاب میں ان لوگوں کا مقابلہ کریں، عمران نیازی ریاستی اداروں کیخلاف مہم چلا رہے ہیں،جو ایوان میں لے کر آئے عمران خان ان کیخلاف ہی سازش کررہے ہیں،کراچی بلدیاتی الیکشن میں پیپلزپارٹی سب سے آگے ہیں، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ کیا ہے،مراد علی شاہ نے سندھ حکومت سے متعلق جماعت اسلامی کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی،عمران خان سندھ سے پیپلزپارٹی کا صفایا کرنا چاہتےتھے،پیپلزپارٹی نے کراچی میں اگر سیٹیں لیں ہیں تو کام بھی کیا ہے،پیپلزپارٹی کو کراچی کے عوام نے خدمت کرنے پر ووٹ دیا،

  • مزدورکی کم از کم ماہانہ تنخواہ 35ہزارکی جائے، آصف زرداری کی تجویز

    مزدورکی کم از کم ماہانہ تنخواہ 35ہزارکی جائے، آصف زرداری کی تجویز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری مزدروں کی آواز بن گئے

    سابق صدرمملکت پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری نے تجویز کیا ہے کہ محنت کشوں مزدوروں کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 35000 ہزار مقرر کی جائے تاکہ مزدور محنت کش کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں مزدور محنت کش کی 35000لازمی تنخواہ مقرر کرنے کا سرکاری سطح پر فیصلہ کیا جائے اصف زرداری نے مزید کہا ہے کہ حکومت عوام الناس کی مشکلات اور تکالیف کے ازالے کیلئے دورس اقدامات اٹھائے عوام الناس کے مسائل کو حل کرنا حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے

    واضح رہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھ چکی ہے ، پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے،ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، آٹا بھی مہنگا ہوچکا ہے، دالیں، چاول گھی، ہر چیز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ غریب کی آمدن میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا، مزدور کو مزدوری اتنی ہی مل رہی، آج آصف زرداری جو حکومت میں ہیں اور انکے بیٹے وزیر خارجہ ہیں، نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 35 ہزار کی جائے

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    پاکستان پیپلز پارٹی جن جن ادوار میں حکومت میں رہی ان ادوار میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام ہوئے ہیں۔ 2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے دور میں مزدوروں کے لئے بہت سے قانون سازی کی گئی۔ اسی دور میں محکمہ محنت کو صوبوں کے تحت کیا گیا۔ صوبہ سندھ میں محکمہ محنت صوبے کے پاس آنے کے بعد تاریخی قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ محنت میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر کام کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت سے لے کر کارکنوں تک نے ہمیشہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کی ہے اور مزدوروں کے لئے آواز بلند کی ہے۔جس ملک کا مزدور خوشحال ہوتا ہے وہاں کی صنعت ترقی کرتی ہے اور ملک کی معیشت بھی ترقی کرتی ہے اور ملک کے حالات بہتر ہوتے ہیں ۔

  • الزام تراشی کرنا عمران نیازی کا وطیرہ ہے،خورشید شاہ

    الزام تراشی کرنا عمران نیازی کا وطیرہ ہے،خورشید شاہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما،وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ الزام تراشی کرنا عمران خان کا وطیرہ ہے،

    سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری پر عمران خان کے سنگین الزامات کیخلاف عدالت جائیں گے،عمران خان جھوٹے الزامات پر پہلے بھی عدالت میں کیس بھگت رہے ہیں،عمران خان کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے کچھ زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں،جھوٹ کا سکہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا اور سچ کی فتح ہوگی، 35 پنکچر اور 10 ارب روپے رشوت جیسے الزامات کا انجام قوم کے سامنے ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایک نیا بیانیہ بنایا جارہا ہے،عمران خان نے ہمیشہ جھوٹ بولنےاورپگڑیاں اچھالنے کی سیاست کی،عمران خان نے اب تو اپنے مخالفین پر قتل جیسے منصوبے کا الزام لگا دیا، عمران خان نے کہا آصف زرداری میری بندوق کے نشانے پر ہے پیپلزپارٹی نےعمران خان کے اس بیان کابھی جواب سیاسی طریقے سے دیا،اسمبلی میں عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو نکال دیا،

    قبل ازیں وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عمران خا ن نے ہمیشہ دوسروں پر الزامات لگائے،عمران خان کی سیاست جمہوری نہیں ہے،عمران خان نے پیپلزپارٹی قیادت پر سنگین الزام لگایا،عمران خان نے کہا کہ دہشتگرد تنظیم کو میرے اوپرحملے کیلئے پیسے دیئے گئے،ملک جب بھی مشکل دور سے گزررہاہوتا ہے عمران خان نے غیرذمہ داری کامظاہرہ کیا، عمران خان کے الزامات کی انکوائری ہونی چاہیے، عمران خان کے اس الزام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں عمران خان نے انتہائی گھٹیا اور بیہودہ الزامات لگائے ہیں، ہم ان بیہودہ الزامات کے خلاف کورٹ جائیں گے٬

     عمران خان کی طرف سے الزام تراشییوں کا سلسلہ پرانا نہیں عمران یو ٹرن لینے کی بجائے قلابازیاں کھا رہا ہے

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    بطور جانشین مشن کو آگے بڑھانے کا ذمہ دار ہوں،بلاول

    آصفہ بھٹو مریم نواز پر پہلے روز ہی بازی لے گئی

     عمران خان کے بیان پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین، وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا ردعمل 

  • ایمل ولی کو دھمکی آمیز ٹیلی فون پر آصف زرداری کا اظہار تشویش

    ایمل ولی کو دھمکی آمیز ٹیلی فون پر آصف زرداری کا اظہار تشویش

    سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے ایمل ولی کو دھمکی آمیز ٹیلی فون پر اظہار تشویش کیا گیا ہے

    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین، سابق صدر آصف زرداری نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت ایمل ولی کی حفاظت کو یقینی بنائے ایمل والی کو ملنے والی دھمکی دہشت گردی ہے ،حکومت ایمل ولی کو دھمکی آمیز فون کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے پاکستان پیپلزپارٹی اور اے این پی کی لیڈرشپ اور کارکنوں نے ہمیشہ دہشت گردوں کی مزاحمت کی ہے

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    قبل ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایمل ولی خان کو دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اے این پی کے رہنما کو دھمکی آمیز ٹیلی فونک کالز دہشت گردی ہے اور دہشت گردوں کو کسی بھی جمہوری سیاسی رہنما، کارکن یا عام آدمی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اپنے دوٹوک مؤقف کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت لائیں اور ایمل ولی خان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔