Baaghi TV

Tag: آصف زرداری

  • آصف   زرداری وہ واحد شخص جنہوں نے  اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دئیے،علی حیدر گیلانی

    آصف زرداری وہ واحد شخص جنہوں نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دئیے،علی حیدر گیلانی

    پنجاب اسمبلی میں صدارتی انتخابات کے لئے پولنگ جاری ہے، اراکین اسمبلی پہنچ چکے ہیں اور ووٹ پول کر رہے ہیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئےہیں,پنجاب اسمبلی میں صدارتی انتخاب کیلئے اب تک 70 ووٹ کاسٹ ہوچکے ہیں،پنجاب اسمبلی میں دو پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔پنجاب اسمبلی میں صدارتی انتخاب کیلئے چار بجے تک پولنگ جاری رہے گی

    پارلیمانی لیڈر پیپلزپارٹی سید علی حیدر گیلانی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری آج بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہوں گے، آج کے انتخاب میں سرپرائز ملے گا،آصف علی زرداری وہ واحد شخص جنہوں نے پہلے بھی بطور صدر اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دئیے، تین پولنگ ایجنٹ مقرر کریں گے کوشش ہوگی ایک خاتون بھی ہو،

    ایک وقت تھا اسمبلی آنے پر لگتاتھا کہ کسی مقبوضہ علاقے میں آگئےہیں ،سپیکر پنجاب اسمبلی
    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ میرے پاس آئینی عہدہ ہے اس لیے کوئی سخت بات نہیں کر سکتا ، ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کی ایوان میں واضح اکثریت ہے،آصف علی زرداری کی جیت یقینی ہو گی،ایک وقت تھا اسمبلی آنے پر لگتاتھا کہ کسی مقبوضہ علاقے میں آگئےہیں ،قاسم سوری مضحکہ خیر جعلی خط لہرا کر عدم اعتماد کی تحریک کو لائے اور اسمبلی توڑ دی ،بطور قانون کے طالب علم اسمبلی توڑنا میرے لیے سیاہ ترین وقت تھا ،جمہوریت برداشت اور آئین پر عمل کر نے کا نام ہے ،ایوان میں ملک احمد خان بچھڑ کے ایک جیسے نام کی وجہ سے درخواست کی کہ میرا مکمل نام ملک محمد احمد خان لکھا یا پکارا جائے،

    سینیٹ کا امیدوار نہیں، فتنہ فساد ہو گا تو ویسا ہی سلوک ہو گا، رانا ثناء اللہ
    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہےکہ آٹھارویں ترمیم کے بعد اور ترمیم بھی آسکتی ہے،زرداری صاحب ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں،ان کا جمہوریت پر بڑا یقین ہے، پہلے بھی انہوں نے پارلیمنٹ کو تو انا اور اختیارات دیے اس بار بھی ان سے ایسے ہی امید ہے، آصف علی زرداری کا مفاہمت کے حوالے سے بڑا نام ہے،اس وقت ملک میں موجود سیاسی تقسیم میں معاملات کو بہتر کریں گے،پارٹی جو بھی فیصلہ کرے میں سینیٹ کا امیدوار نہیں ہوں،اپوزیشن کے ساتھ ان کے رویے کے مطابق سلوک ہو گا،میں نہ مانوں، کسی کو نہیں چھوڑوں گا ان کے ڈائیلاگ ہیں،اگر فتہ فساد ہو گا تو ایسا ہی سلوک ہو گا، اچکزئی صاحب نظریاتی سیاستدان اور اچھے انسان ہیں،اب چیلنجز زیادہ ہیں تاہم پنجاب میں ترقیاتی کاموں کے ریکارڈ کو بہتر کریں گے،

    اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا،عظمیٰ بخاری
    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب عورت کارڈ نہیں چلے گا، میرٹ پر بات ہوگی شاندانہ گلزار میں آپ کو بھاگنے نہیں دوں گی،ظل شاہ سارا دن زمان پارک کے باہر بیٹھا رہتا تھا کہ عمران خان سے ملاقات ہو جائے، شاندانہ گلزار نے مریم نواز پر الزام لگایا ہے کہ مریم نواز کی کوئی آڈیو ہے،شاندانہ گلزار کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست دی گئی ہے، جو کچھ آپ نے کہا اس کو ثابت کرنا پڑے گا، امید ہے شاندانہ گلزار انکوائری میں پیش ہونگی،اسمبلی کے تقدس کا خیال رکھنا سب ارکان کا فرض ہے،پاکستان کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا،پی ٹی آئی ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی ہے،اب عورت کارڈ نہیں چلے گا، میرٹ پر بات ہوگی

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

    صدارتی انتخاب ، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 9 مارچ کو طلب

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

  • آصف علی زرداری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 14ویں صدر منتخب

    آصف علی زرداری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 14ویں صدر منتخب

    پاکستان میں آج صدارتی انتخاب ہوئے، چاروں صوبائی اسمبلیوں اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا، سابق صدر آصف زرداری اور محمود اچکزئی کے مابین مقابلہ تھا، آصف زرداری کو واضح اکثریت حاصل ہے اور وہ صدر پاکستان منتخب ہو گئے ہیں، آصف زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہےکہ وہ پاکستان کی تاریخ میں دوسری بار صدر مملکت منتخب ہوئے ہیں

    بلوچستان اسمبلی سے آصف زرداری نے 47 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے،سندھ اسمبلی سے آصف زرداری کو 60 ، محمود اچکزئی کو 3 الیکٹورل ووٹ ملے،خیبرپختونخوااسمبلی سے آصف زرداری کو 9، محمود اچکزئی کو 48 الیکٹورل ووٹ ملے.

    سینیٹ و قومی اسمبلی، آصف زرداری 255 ووٹ، محمود اچکزئی 119 ووٹ
    سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ایوان سے پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار آصف علی زرداری نے 255 ووٹ حاصل کئے، سنی اتحاد کونسل اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار محمود خان اچکزئی نے 119 ووٹ حاصل کئے،قومی اسمبلی میں 398 میں سے 381 ووٹ کاسٹ ہوئے،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق اور جے یو آئی کے 12 ارکان نے ووٹ کاسٹ نہیں کئے،شبلی فراز ، اعظم سواتی ، مظفر حسین شاہ ، اعجاز چودھری نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا، جی ڈی اے کے سینیٹر مظفر حسین شاہ نے بھی ووٹ کا کاسٹ نہیں کیا

    پنجاب اسمبلی،آصف زرداری کو 246، محمود اچکزئی کو 100 ووٹ ملے
    پنجاب اسمبلی کے صدارتی انتخابات نتائج بھی سامنے آ گئے،حکمران اتحاد کے امیدوار آصف علی زرداری پنجاب اسمبلی میں بھاری اکثریت سے جیت گئے، آصف علی زرداری نے 246 ووٹ حاصل کئے،محمود اچکزئی نے 100 ووٹ حاصل کئے، چھ ووٹ مسترد ہوئے، پنجاب اسمبلی میں ٹوٹل 352 ووٹ کاسٹ ہوئے،نتائج کا اعلان ہوا تو پنجاب اسمبلی کا ایوان جئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھا،پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ آفیسر نثار درانی نے صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا،پنجاب اسمبلی میں کل 353میں سے 352نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ،تحریک لبیک نے پنجاب اسمبلی میں صدارتی الیکشن میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ،پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے جیت کی خوشی میں نعرے بازی کی گئی

    خیبر پختونخوا اسمبلی، آصف زرداری 17 ، محمود اچکزئی کو 91 ووٹ ملے
    خیبر پختونخوا اسمبلی میں 109 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے، سُنی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ امیدوار محمود خان اچکزئی کو 91 اور مرکز میں حکومتی اتحاد کے آصف علی زرداری کو 17 ووٹ پڑے۔ کل 118 ووٹوں میں سے 109 ووٹ پول ہوئے۔ پریڈائیڈنگ آفیسر جسٹس ابراہیم خان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو 91 ووٹ ملے، آصف علی زرداری کو 17 ووٹ ملے، ایک ووٹ مسترد ہوا ہے۔

    محمود خان اچکزئی اپنے صوبے بلوچستان کی اسمبلی سے ایک بھی ووٹ حاصل نہ کر سکے
    بلوچستان اسمبلی میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد گنتی کی گئی،بلوچستان اسمبلی میں ٹوٹل 47 ووٹ کاسٹ ہوئے جس میں سے بلوچستان کے رہائشی صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کو 0 ووٹ جبکہ آصف زرداری کو 47 ووٹ ملے۔

    سندھ اسمبلی، صدارتی انتخابات،آصف زرداری نے 152،محمود اچکزئی نے 9 ووٹ لئے
    سندھ اسمبلی، صدارتی انتخابات، پولنگ ختم ہو گئی، سندھ اسمبلی سے آصف زرداری نے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے ہیں،سندھ اسمبلی میں صدارتی الیکشن کے لئے 161 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا،آصف زرداری کو 152 ،محمود اچکزئی کو 9 ووٹ ملے،جماعت اسلامی کے ایک رکن نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور ووٹ نہیں ڈالے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو ایڈوانس مبارکباد، انشااللہ وہ کل حلف اٹھائیں گے، اٹھارویں آئینی ترمیم قائم رہے گی،

    پہلا ووٹ عامر طلال گوپانگ نے کاسٹ کیا
    پارلیمنٹ ہاؤس میں جسٹس عامر فاروق نے نشست سنبھالنے کے بعد تمام ارکان کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی، اور کہا کہ تمام ارکان اپنے موبائل فون جیب میں رکھیں، استعمال نہ کریں،بیلٹ باکس پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں سیل کر دیئے گئے،بیلٹ پیپرز کے سیل لفافے بھی پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں کھول دیئے گئے،ووٹ خراب ہونے کی صورت میں نیا بیلٹ پیپر حاصل کر سکتے ہیں،پہلا ووٹ عامر طلال گوپانگ نے کاسٹ کیا،دوسرا ووٹ آسیہ اسحاق نے کاسٹ کیا،سینیٹر فیصل جاوید نےصدارتی انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے عمران خان زندہ باد کا نعرہ لگایا،پی ٹی آئی اراکین نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی جس پر پریذائڈنگ افسر نے اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی،وزیر اعظم شہباز شریف نے صدارتی انتخاب کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے صدارتی انتخاب کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے صدارتی انتخابات کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا،مسلم لیگ ن کے بانی اور تا حیات قائد نواز شریف نے اپنے سخت سیاسی حریف،موجودہ حکومتی اتحادی آصف علی زرداری کو صدارتی انتخاب میں اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا، شازیہ عطا مری نے صدارتی الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کردیا،دونوں صدارتی امیدواروں آصف زرداری اور محمود خان اچکزئی نے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صدارتی انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کردیا

    نواز شریف نے ووٹ کاسٹ کر دیا، سنی اتحاد کونسل کا ایوان میں شورشرابہ
    نواز شریف کے بیلٹ پیپر لینے پر اپوزیشن ارکان نےشور شرابہ کیا،ایوان میں نعرے بازی کی گئی، ن لیگ اور سنی اتحاد کونسل ارکان آمنے سامنے آ گئے، نواز شریف نے ووٹ کاسٹ کر دیا،نواز شریف ووٹ ڈالنے کے بعد پھر واپس چلے گئے،وزیر اعظم شہباز شریف بھی ان کے ہمراہ تھے.

    پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود سینیٹر اعجاز چودھری کو ایوان نہ لایا جا سکا
    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجازچوہدری کو پروڈکشن آرڈرز کے باوجود صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں لایا گیا ، ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے سینیٹر اعجاز چوہدری کا نام پکارا گیا مگر وہ ایوان میں موجود نہیں تھے ،سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے سینیٹر اعجاز چوہدری کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی، اور اعجاز چودھری کو رہا کرو کے نعرے لگائے.

    صدارتی انتخاب، سینیٹر بہرامند تنگی نے قرآن پاک پر بیلٹ پیپر رکھ کر ٹک کیا،ووٹ ڈالنے کے بعد بہرامند تنگی نے قرآن پاک آصف زرداری کو دکھایا،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات میں کہا کہ واضح کردوں میں نے پیپلزپارٹی نہیں چھوڑی، شیری رحمان اور نئیر بخاری میرے خلاف سازش کررہے ہیں

    صدارتی الیکشن میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کیلئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور پنجاب اسمبلی کیلئے الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی کو پریذائیڈنگ افسر مقرر کیا گیا ہے،پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کو آصف علی زرداری کی پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سینیٹر شفیق ترین، محمود خان اچکزئی کے پولنگ ایجنٹ ہیں۔ صدارتی انتخابات کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،ریڈ زون میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی ، چھ سو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے، غیر متعلقہ افراد کو ریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی،

    صدارتی انتخابات، بلاول کے ہمراہ بختاور اور آصفہ بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئیں
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں، بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور بی بی بختاور بھٹو زرداری بھی ہمراہ ہیں ، آصف زرداری بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں،صدارتی امیدوار آصف زرداری نے میڈیا سے گفتگو کی ہے اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے ہیں، صحافی نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ آپ نے پہلے بھی اٹھارہویں ترمیم دی مزید کیا اقدام کرینگے ؟ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ نے کی ہم نے صرف ایڈوائز کی تھی,پہلے بھی جو ہوا پارلیمنٹ نے کیا اب بھی پارلیمنٹ کرے گی,

    صدر بنا تھا زرداری، پھر صدر بنے گا زرداری، دم مست قلندر زرداری،بلاول
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری کی کامیابی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، صدر بنا تھا زرداری، پھر صدر بنے گا زرداری، دم مست قلندر زرداری

    پنجاب اسمبلی میں صدارتی انتخاب کیلئے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے،پنجاب اسمبلی کے اراکین صدراتی الیکشن کیلئےاپنا اپنا ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں،پنجاب اسمبلی کے ایوان کوصدارتی انتخاب کیلئے پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے،آئی جی پنجاب عثمان انور نے پنجاب اسمبلی سمیت صوبے بھر کی سیکیورٹی بڑھانے کا حکم دیا ہے، پنجاب اسمبلی کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات کیلئے پولنگ کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائیں گے، ارکان اسمبلی پُرامن اور محفوظ ماحول میں حق رائے دہی استعمال کریں، کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہر گز اجازت نہ دیں، شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں

    اراکین پارلیمنٹ کے لئے پیپلز پارٹی کی جانب سے ناشتے کا اہتمام
    اسلام آباد میں صدارتی انتخاب کے موقع پر اراکین پارلیمنٹ کیلئے ناشتے کا اہتمام کیا گیا ،پیپلز پارٹی کے امیدوار آصف زرداری کی طرف سے اراکین پارلیمنٹ کو ناشتہ کروایا گیا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بطور میزبان ناشتہ کے انتظامات کا جائزہ بھی لیا۔ناشتے میں حلوہ پوری سمیت دیگر پکوان موجود تھے، اراکین پارلیمنٹ سمیت مختلف افراد گرما گرم لذیز ناشتے سے لطف اندوز ہوئے،

    ملک کے خلاف جو باتیں کرے وہ پی ٹی آئی کا پسندیدہ امیدوار ہے، شرجیل میمن
    پیپلز پارٹی کے رہنما ، سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری 400 سے زیادہ ووٹ لیکر کامیاب ہونگے،سندھ سمیت پورے پاکستان سے الیکشن کے بعد سرپرائز زنظر آئیں گے، آصف زرداری ملک کی خدمت کرینگے،پیپلز پارٹی کے رہنما ، شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے پارلیمان کو اختیارات دیئے، وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے، انہوں نے این ایف سی اور سی پیک کے تاریخی کام کیے، آصف زرداری چاروں صوبوں کو جوڑیں گے، تمام اداروں کو ساتھ بٹھائیں گے، ملک کو آگے چلانا ہے تو نفرت اور الزام تراشی کی سیاست ختم کرنا ہو گی،مولانا فضل الرحمٰن کی بات سامنے ہے کہ ووٹ نہیں دیں گے، محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کو بُرے لگتے تھے، انہوں نے اداروں کو برا بھلا بولا اور آج وہ پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں، ملک کے خلاف جو باتیں کرے وہ پی ٹی آئی کا پسندیدہ امیدوار ہے، اچکزئی صاحب بتائیں 2018ء میں انتخابات کس طرح ہوئے، اچکزئی اس جماعت کے امیدوار ہیں جو چور دروازے سے اقتدار میں آئی تھی

    سینیٹر علی ظفر نے قومی اسمبلی آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جمہوری عمل کے تحت الیکشن میں حصہ تو لینا ہے،جب تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک یہ انتخابات متنازع انتخابات تصور کیے جائیں گے،لاہور ہائیکورٹ ، سندھ ہائیکورٹ میں اس حوالے سے ہم نے درخواست دی ہوئی ہے،پشاور ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باوجود مخصوص نشستوں پر حلف لینا افسوس ناک ہے

    صدارتی انتخابات ،جے یو آئی کا بائیکاٹ، کسی کو ووٹ نہیں دیں گے،مولانا فضل الرحمان
    جمعیت علماء اسلام نے صدارتی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے،مولانا فضل الرحمان کسی بھی امیدوارکو ووٹ نہیں دیں گے،پیپلزپارٹی کی جانب سےووٹ کی درخواست پرمولانا نےصاف جواب دے دیا،کہا پارٹی کا فیصلہ ہے صدارتی الیکشن میں کسی امیدوار کو ووٹ نہیں دینا۔محمود اچکزئی کو بھی کہا گیا ہے کہ ووٹ نہیں دیں گے.دوسری جانب ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ان کے بلوچستان اسمبلی سے امیدوار عبدالمجید بادینی اور مولانا ہدایت الرحمان صدارتی الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے بھی صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے

    تحریک انصاف کی سینیٹر فلک ناز بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی تصویر کے ہمراہ پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئیں ،فلک ناز کا کہنا تھا کہ میرا لیڈر نڈر ہے، بہادر ہے، میرے لیڈر نے صدارتی امیدوار کےلئے ایک نڈر انسان کا انتخاب کیا ہے،

    سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا وہ کیسے صدارتی الیکشن کو چیلنج کر سکتے ؟سردار یوسف
    ممبر قومی اسمبلی سردار یوسف نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انشاءاللہ ملک کی صورتحال بہتر ہوگی،صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری اور محمود خان اچکزئی امید وار ہیں:،الیکشن کا آخری مرحلہ بھی مکمل ہو نے جا رہا ہے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے بھی ووٹ کاسٹ کیا ہے وہ کیسے صدارتی الیکشن کو چیلنج کر سکتے ہیں.

    لا الہ کے نیچے جھوٹے حلف والے آئین اور قوم کے وفادار رہیں گے؟ زرتاج گل
    تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی زرتاج گل نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے معاملات پر تنقید کرنا ہمارا اندرونی معاملہ ہے اس پر بہت سی بحث ہو سکتی ہے،پاکستان کی خاطر اپنے منصب کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے،اس ایوان میں لا الہ کے نیچے جھوٹے حلف والے آئین اور قوم کے وفادار رہیں گے،یہ لوگ فارم 45 کے تحت منتخب ہی نہیں ہوئے تو یہ پاکستان کے ساتھ کیا وفاداری کریں گے، آئین و قانون کی کیا پاسداری کریں گے.

    آئینی عہدوں پر غیر آئینی طریقے سے آنا جمہوریت کا مذاق ہے ، بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ دو خاندان پہلے ملک کے وسائل پر قابض تھے اب عہدوں پر قابض ہو گئے ہیں ،یہ بندر بانٹ کی سیاست ہے ، یہ دونوں خاندان عوام پر قابض ہو گئے ہیں،آئینی عہدوں پر غیر آئینی طریقے سے آنا جمہوریت کا مذاق ہے ،

    جعلی صدر بھی بن جائے گا کیوں کہ ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ،اسد قیصر
    سابق سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصرکا کہنا ہے کہ صدارتی الیکشن غیرقانونی ہے، ہم اس پراسس کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، جعلی صدر بھی بن جائے گا کیوں کہ ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے، مینڈیٹ ہمارا ہے،اس کے خلاف ایک مستقل جدو جہد کرنی پڑے گی،تحریک انصاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، ہم ہر سطح پر دھاندلی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    چیئرمین سینیٹ صدارتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

    صدارتی انتخاب ، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 9 مارچ کو طلب

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

  • نواز شریف، آصف زرداری، گیلانی کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت

    نواز شریف، آصف زرداری، گیلانی کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت

    اسلام آباد ،احتساب عدالت میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ گاڑیوں کے کیس کی سماعت ہوئی

    توشہ خانہ گاڑیوں کے کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،نواز شریف کے وکیل قاضی مصباح، پلیڈر رانا عرفان، پراسیکیوٹر عثمان مسعود احتساب عدالت میں پیش ہوئے،پراسیکیوٹر عثمان مسعود نے عدالت سے استدعا کی کہ تفتیشی افسر بتائے گا کہ توشہ خانہ گاڑیوں سے متعلق رپورٹ کیا ہے، تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کر دیں، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کہا کہ تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کر دیتے ہیں، ملزمان کون ہیں؟ حاضری لگوا لیں، احتساب عدالت نے حکم دیا کہ 19 مارچ کو تفتیشی افسر کو طلب کیا جاتا ہے

    نواز شریف کے وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس پر درخواستیں دائر کرنا چاہتا ہوں، حسن نواز اور حسین نواز سے متعلق درخواستیں ہیں، ایون فیلڈ ریفرنس میں حسن نواز اور حسین نواز اشتہاری ہیں، ان دونوں کارواں ماہ 12 مارچ کو پاکستان آنے کا پلان ہے، دونوں پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں، جج ناصر جاوید رانا نے کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز کی درخواستوں پر نوٹس کر دیتے ہیں،وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ آپ کل کا نوٹس کر دیں، چھوٹی سی بات ہے،نیب پراسیکیوٹر عثمان مسعود نے کہا کہ جیسے احتساب عدالت مناسب سمجھے نوٹس کر دے،وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں،احتساب عدالت نے حکم دیا کہ کل کے لیے حسن نواز اور حسین نوازکی درخواستوں پر نوٹس جاری کیا جاتا ہے

    حسن نواز اور حسین نواز کی فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر بھی درخواستیں دائر کر دی گئیں جن پرعدالت نے کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا،تینوں ریفرنسز میں حسن نواز اور حسین نواز کے وارنٹِ گرفتاری معطل کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

    مفتی عبدالقوی کی خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف مذہبی سکالرمفتی عبدالقوی کو حریم شاہ نے تھپڑرسید کردیا :آوازدورتک سنائی دی

    کراچی:ہوٹل کےکمرے میں حریم شاہ کےساتھ کچھ وقت گزارا:پھر کیا ہوا:مفتی عبدالقوی نےسچ سچ بتادیا

  • صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کاراور آئینی تقاضے

    صدارتی انتخاب کے لئے ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوں گے،ملک میں صدارتی عہدہ 1956کے آئین میں رکھا گیا،اس کے بعد 1962 اور 1973کے آئین میں بھی صدر کا عہدہ رکھا گیا،صدر مملکت کا مسلمان ہونا اور عمر 45سال سے زیادہ ہونا ضروری ہے،صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے،صدر نے وزیر اعظم کے ایڈوائس پر کام کرنا ہوتا ہے

    صدارتی انتخاب کے لئے الیکٹوریل کالج سینیٹ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں ہیں،اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر کاانتخاب الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر صدر کا انتخاب کرتے تھے،صدر مملکت کے لئے بھی آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی شرط موجودہے،ووٹرز لسٹ میں ممبران اسمبلی ہیں جنہوں نے حلف لیا ہو،ریٹرننگ افسران حروف تہجی کے اعتبار سے ووٹرز لسٹ بنائیں گے،اسمبلیوں کے پریزائڈنگ صوبائی چیف جسٹسز ہوں گے، پریذائیڈنگ افسر فارم پانچ فائیو پر ابتدائی نتائج جاری کریں گے،آر او چیف الیکشن کمشنرحتمی نتائج فارم سیون پر جاری کریں گے،صدارتی امیدوار کے کاغذات کی چانچ پڑتال کے دوران تجویز اور تاہید کنندہ کا طلب کیا جا سکتا ہے،ریٹرننگ افسر صدارتی امیدوار کو بھی ضرورت پر طلب کر سکتا ہے

    صدارتی انتخاب کے لئے کوئی ٹریبونل نہیں ، صدارتی انتخاب میں کاغذات کی چانچ پڑتال پر ریٹرننگ افسر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے ،آر او کے فیصلوں کے خلاف امیدوار اعلی عدالتوں سے بھی رجوع کرتے ہیں،صرف ایک امیدوار رہ جانے کی صورت میں آر او ان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا،آر او حتمی نتیجے پر مشتمل فارم 7 وفاقی حکومت کو نوٹیفیکیشن کے لئے جاری کرے گا

    صدارتی انتخاب کی پولنگ دس سے چار بجے تک ہو گی،سپیکر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرتے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ افسر ہوں گے،صوبائی اسمبلیوں میں صوبائی چیف جسٹس پریزائڈنگ افسر ہوں گے،پنجاب ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سات مارچ کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ،پنجاب اسمبلی میں پریزائڈنگ افسر صوبائی الیکشن کمشنر ہوں گے،ووٹرز اپنا اسمبلی کارڈ دکھا کر ووٹ ڈال سکیں گے،صدارتی انتخاب میں ووٹرز کو بیلٹ پیپر پر کراس کا نشان لگانا ہوتا ہے ،صدارتی بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے ناموں کے سامنے خانہ بنا ہوتا ہے،ووٹرز ان مٹ خصوصی پنسل ووٹ کے لئے استعمال کریں گے،بیلٹ پیپر خراب ہونے کی صورت میں دوسرا بیلٹ پیپر جاری ہو گا،ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعےہو گی،بیلٹ پیپر کی پشت پر پریزائڈنگ افسر کے دستخط اور سٹمپ ہو گا،پریزائڈنگ افسر کی سٹمپ کے بغیر بیلٹ پیپر جعلی تصور ہو گا،صدارتی الیکشن کے دوران اسمبلی ہالز میں کیمروں کو بھی آف یا کور کیا جاۓ گا،نتائج کے لئے ہر امیدوار کا الگ لفافہ ہو گا جس میں ان کے ووٹ ہوں گے،صدارتی انتخاب کے لئے پرئزائڈنگ افسر کو بیلٹ پیپرز کا حساب دینا ہوتا ہے،

    صوبائی اسمبلیوں اور مشترکہ پارلیمنٹ کے نتائج کے بعد آر او کا کام شروع ہوگا،سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ووٹرز کاایک ایک ووٹ ہے.پنجاب ،سندھ اور کے پی کے اسمبلی کے لئے فارمولہ ،ڈالے گئے ووٹوں کو بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین سے ضرب دیا جائے گا،ضرب کے بعد اعداد کو اس اسمبلی کے کل ممبران پر تقسیم کیا جائے گا.
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخابات میں مقابلہ آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کے محمود اچکزئی کے مابین ہے، دونوں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

  • پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی گزشتہ شب ملاقات ہوئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شامل تھے،وفد نے وزیراعظم کو وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خدائے بزرگ و برتر اور عوام کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کیلئے ایک مرتبہ پھر سے موقع دیا. خادم پاکستان منتخب کرنے کیلئے ایوان میں اپنی اتحادی جماعتوں کے اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں. خدا کے کرم اور اپنی محنت سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات کام کرنے کیلئے پر عزم ہیں. ملاقات میں سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی بھی موجود تھے۔

  • صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال،الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کے موقع پر میڈیا کو باہر نکال دیا،

    صحافی الیکشن کمیشن گئے تو سیکورٹی اہلکاروں نے کہا کہ میڈیا کا داخلہ ممنوع ہے، چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات ہیں،کہ صحافیوں‌کو نہ آنے دیا جائے، جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ انتخابات کے موقع پر بھی ایسے ہی ہوتا تھا صحافیوں کو میڈیا روم تک بھی رسائی نہیں دی جاتی تھی،الیکشن کمیشن صحافیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگا سکتا،

    صدارتی انتخابات کے لئے7 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی،آصف زرداری، محمود خان اچکزئی اور عبدالقدوس کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی،اصغر علی مبارک، سرفراز، اقتدار حیدر اور ایاز فاروقی کا کاغذات کی بھی جانچ پڑتال کی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں،محمود اچکزئی کے کاغذات بھی منظور کر لئے گئے ہیں،عبدالقدوس، اصغر علی مبارک، سرفراز قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے ہیں،اقتدار علی حیدر اور ایاز فاروقی کے کاغذات بھی مسترد کر دیئے ہیں،آزاد امیدواروں کے تجویز اور تائید کنندگان نہ ہونے کے باعث کاغذات مسترد کیے گئے

    سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے صدارتی امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے تھے جنہیں جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیا گیا،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخابات کے ریٹرننگ افسر ہیں انہوں نے اسکروٹنی کے بعد سابق صدر کے کاغذات منظور کیے،

    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی کے لئے الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،محمود خان اچکزئی عامر ڈوگر، شیخ وقاص اکرم اور دیگر کے ہمراہ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تھے،علی محمد خان بھی انکے ہمراہ تھے،اس موقع پر علی محمد خان نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات لگتے رہتے ہیں، 1500 سال میں کسی کو پہلی بار نکاح پر سزا ملی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی نے جیل سے سیاسی استحکام کا دیاپیغام ہےقوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلائیں.

    محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائد
    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائدکیا گیا ہے ،اعتراض میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی اداروں، ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں، سنی تحریک کونسل نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بنانیے کی وجہ سے ان کو صدارتی امیدوار بنایا، محمود خان اچکزئی پاکستان کے پختون علاقوں کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں محمود خان اچکزئی پاکستان مخالف آدمی ہیں، انہوں نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک نے محمود اچکزئی پر اعتراضات عائد کئے،ریٹرننگ آفسر نے دلائل کے بعد اعتراض سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب سنا دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے اعتراضات مسترد کر دیئے اور محمود اچکزئی کے کاغذات منظور کر لئے.

    دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی صدراتی انتخابات کیلئے پولنگ سٹیشن قرار دے دی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے اسمبلی کو پولنگ سٹیشن قرار دینے کی تحریک وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پیش کیا،9 مارچ کو اسمبلی ہال میں پولنگ ہوگی، ممبران نے کثرت رائے سے منظوری دیدی

    صدارتی امیدوار آصف زرداری کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ
    علاوہ ازیں صدارتی انتخابات میں ووٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا ہے،آصف زرداری نے خالد مقبول صدیقی سے فون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں کے مابین صدارتی الیکشن، سیاسی صورتحال اور سندھ کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی، آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم سے ووٹ کی درخواست کی جس پر خالد مقبول صدیقی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ مشاورت کے بعد جلد جواب دیں گے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • صدارتی انتخاب: اے این پی کا  آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان

    صدارتی انتخاب: اے این پی کا آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان

    اسلام آباد: اے این پی نے صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری سے اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی ہے، ملاقات میں سابق صدر آصف علی زرداری اور اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

    اے این پی کی جانب سے 9 فروری کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کیا گیا، سابق صدر آصف علی زرداری نے صدارتی انتخاب میں حمایت پر اے این پی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

    الیکشن 2024: پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،اپسوس سروے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کیے جانے کے بعد انتخابی عمل کاآغاز ہوگیا ہے،9 مارچ کو شیڈول صدارتی الیکشن کیلئے آصف علی زرداری اور محمود خان اچکزئی نے کاغذات نامزدگی جمع کروا ئے ہیں۔

    سعودی عرب میں مساجد میں افطار کرنے پر پابندی عائد

  • محمود   اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سید خورشید احمد شاہ کی نو منتخب ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوئی ،سید خورشید احمد شاہ نے سید غلام مصطفیٰ شاہ کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا،اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی اچھے آدمی ہیں ،لیکن عجیب تماشا ہے،محمود خان اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں، سب کے سامنے ہیں، ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے، یہ انکا حق ہے،ہمیں مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے پیپلز پارٹی یہی چاہتی ہے،مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے، ایم کیو ایم سے بھی بات چیت کریں گے،ہم مفاہمت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں، جب میں اچھی خبر دے رہا ہوں‌تو اچھی خبر لیں.

    دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے پاس بھی ہم ووٹ کے لیے جائیں گے، ایم کیو ایم کے ساتھ ماضی میں اچھے تعلقات رہے ہیں، ہماری لوکل گورنمنٹ اس وقت بااختیار ہے، ایم کیو ایم کی بلدیات سے متعلق ڈیمانڈ پنجاب کے لیے ہو سکتی ہے، بلاول بھٹو زرداری دھاندلی کے حوالے سے کہہ چکے ہیں، ہمیں سندھ سمیت ہر جگہ پر تحفظات ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعلق سوال پر وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ پارٹی گائیڈ لائن کیا ہے.

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

  • صدارتی انتخابات، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع

    صدارتی انتخابات، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع

    صدر مملکت کا انتخاب ، حکومتی اتحاد کی جانب سے آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمود اچکزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے گئے ہیں.

    پیپلز پارٹی کی جانب سے پارٹی رہنما فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائیکورٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرائے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی وصول کیے،پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدارتی امیدوار ہوں گے ،بلاول بھٹو اپنے والد آصف زرداری کے تجویز کنندہ اور فاروق ایچ نائیک تائید کنندہ ہیں۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے بھی صدارتی اتنخاب کےلیے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں، رکن قومی اسمبلی، عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے محمود اچکزئی کے کاغذات جمع کروائے،اس موقع پر لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق سے مکالمہ کیا کہ ہم سمجھ رہے تھے آپ چیمبر میں بلا کر چائے وغیرہ پلائیں گے، اسام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چائے تو اس کے بعد بھی آپ کو پلا دیں گے، عمر ایوب اور علی محمد خان صاحب بھی اس عدالت میں پہلی بار آئے ہیں،علی محمد خان نے کہا کہ میں اس عدالت میں انصاف مانگنے آتا رہا ہوں، اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کھوسہ صاحب آپ اپنا پورا نام کیا لکھتے ہیں؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری پارٹی اب زور دیتی ہے کہ نام کے ساتھ سردار لکھوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو نام کے ساتھ سردار ضرور لکھنا چاہیے۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے صدارتی نامزد امیدوار کا اعلان کر دیا، سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمو دخان اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین محمود خان اچکزئی کو صدرکے لئے ووٹ دیں گے،محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، اب صدارتی الیکشن میں مقابلہ آصف زرداری اور محمود خان اچکزئی کے مابین ہو گا،

    صدارتی انتخابات،سینیٹ کی خالی 10 نشستیں بھی اثر انداز ہوں گی، سینیٹ کی دس نشستیں خالی ہو چکی ہیں، سابق صدر آصف زرداری کو ان دس نشستوں کا نقصان ہو گا، ایم کیو ایم نے ابھی تک آصف زرداری کی حمایت نہیں کی تو وہیں پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے، جے یو آئی بھی ابھی تک کسی کی حمایت نہیں کر رہی بلکہ بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے،ایسے میں آصف زرداری کے لئے ایک ایک ووٹ قیمتی ہے،صدارتی انتخاب کے الیکٹو رل کالج میں سینیٹ کی نشستوں کی بہت اہمیت ہے کیونکہ ہر سینیٹر کا ا یک ووٹ ہوتا ہے جب کہ اسمبلیوں کا فار مولا الگ ہوتا ہے ،اگرچہ قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں اس اتحاد کی اکثر یت ہے ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • صدارتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا

    صدارتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی