Baaghi TV

Tag: آغا نیاز مگسی

  • آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    اناللہ وانا الیہ راجعون
    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے دعائے مغفرت کی درخواست ہے

    سلسلہ پذیرائی ۔
    ادبی دیوان بلوچستان( ادب )پاکستان
    تحریر _ ڈاکٹر عبدالرشید آزاد
    شخصیت – آغا نیاز مگسی
    بلوچستان کے ادب کا اک روشن ستارہ پانچ زبانوں میں اظہار کرنے والے آغا نیاز مگسی ،معروف شاعر / کالم نگار/ ادیب / اور نثر نگار
    آغا نیاز مگسی 2 اپریل 1967کو شہدادکوٹ کے قریب بانڑی وانڈو میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد حسن ہے اور ان ک تعلق بلوچ قوم کے مگسی قبیلے سے ہے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گوٹھ سخی نذر محمد کٹوہر پرائمری سکول میں حاصل کی پھر ایک سال بعد نقل مکانی کرنی پڑی پھر 1975 میں اپنے چچا کے مدرسے میں داخل ہوئے جہاں سے عربی اور سندھی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد 1981 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قبوسعید خان میں جماعت ششم میں داخلہ لیا جہاں دو سال تعلیم حاصل کی۔
    1986 میں میٹرک کیا اور گورنمنٹ انٹر کالج شہدادکوٹ میں داخل ہوئے ۔
    1985 میں سندھی زبان میں شاعری کا آغاز ایک سندھی گیت سے کیا پھر 1988 کو غربت کی وجہ سے سیکنڈ ائیر میں تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔
    1989 میں اپنے مرحوم بھائی کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں ڈسپینسر بھرتی ہوئے انہوں نے نصیر آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1991 میں ریلوئے گراؤنڈ ڈیرہ مراد جمالی مشاعرے کا انعقاد کیا جس سے باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا
    1994 میں آغا نیاز مگسی نے کالم نگاری کی ابتداء کی اور ان کے تعلقات سیاست میں نواب اکبر خان بگٹی ،میر ظفر اللہ جمالی، سردار یار محمد رند، سردار زادہ شیر محمد رند ،میر ظہور حسین کھوسہ،رازق بگٹی ،میرجان محمد جمالی ،میر فائق جان جمالی ،میر خان محمد جمالی ،میر صادق عمرانی ،بابو محمد امین عمرانی ،میر مراد ابڑو ،سید فضل آغا ،میر اظہار حسین کھوسہ ،میر سلیم خان کھوسہ ،مولانا عبداللہ جتک ، صاحب زادہ سکندرسلطان ،میر احمدانی خان بگٹی ، سردار چنگیز خان ساسولی ،میر طارق حسین مسوری بگٹی ،میر ماجد ابڑو ،میر نظام لہڑی ،دریحان بگٹی سے ہوئے ۔بعد میں آپ نے 2018 میں کالم نگاری بھی چھوڑ دی ۔

    اسی طرح ادبی دنیا میں بھی ان کے روابط معروف ادبی شخصیات جن میں احمد فراز ،امجد اسلام امجد ،تابش دہلوی،نور محمد پروانہ ،راغب مراد ابادی ،محسن بھوپالی،عطاالحق قاسمی ،عطا شاد ،سلیم کوثر ،ذکیہ غزل ،رانا ناہید ،گلنار آفرین ،ڈاکٹر طاہر تونسوی،منظر ایوبی،احمد خان مدہوش ،اوریا مقبول جان ،رفیق راز ،ناگی عبدالرزاق خاور ،سید شرافت عباس ناز ،صلاح الدین ناسک ،عرفان احمد بیگ ،عابد شاہ عابد ،عرفان الحق صائم ،بیرم غوری کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔
    ان کے چھ بچے ہیں جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں آپ اردو ،سندھی،بلوچی ،براہوئیی ،اور سرائیکی یعنی پانچ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کا ابھی تک کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا کیونکہ غربت کی وجہ سے اتنے وسائل نہیں ہیں اور اتنے بڑے کنبے کے واحد کفیل ہیں ۔

    آغانیاز مگسی باغی ٹی وی میں بھی لکھتے رہے ہیں، باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان سمیت ٹیم نے آغا نیاز مگسی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • مظہر عباس،  صحافی و کالم نگار

    مظہر عباس، صحافی و کالم نگار

    6 جولائی 1958: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سابق جنرل سیکریٹیری اور کراچی پریس کلب کے سابق سیکریٹری مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔ مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔

    2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں، ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں ان کی 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت کراچی میں مقیم ہیں ۔

  • سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے
    اس کی جانب جانے کا پھر کوئی نہ رستہ یاد رہا

    ڈاکٹر نزہت عباسی (شاعرہ بنت شاعر)

    27 جون 1971: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی نامور ادیبہ اورشاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی صاحبہ 27 جون 1971 میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا اصل نام نزہت سلطانہ ہے ۔ محمد حسین عباسی صاحب (ظفر انجمی) ان کے والد اور وقار النساءصاحبہ ان کی والدہ محترمہ ہیں۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان ہے ۔ 1994 میں ڈاکٹر نزہت صاحبہ کی ظفر اقبال عباسی صاحب سے شادی ہوئی ماشاء اللہ ان کے دو بچے فاکہہ عباسی اور اعتزاز عباسی ہیں ۔

    نزہت عباسی شاعرہ محقق اور نقاد ہیں۔ ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے والد محمد حسین عباسی ظفر انجمی صاحبِ دیوان شاعر تھے، ڈاکٹر نزہت عباسی زمانہ طالب علمی سے ہی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال رہیں، ابتدا بچوں کے لیے نظمیں اور کہانیاں لکھنے سے ہوئی، اسی دور میں مشاعروں میں شرکت کی، کالج اور یونیورسٹی کے مجلوں کی ادارت کی، بزم ادب کی صدر رہیں، اردو ادبیات میں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسی سال تدریس کا آغاز کیا۔
    2005 میں پہلا شعری مجموعہ ’سکوت‘ کے نام سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ 2015 میں ’وقت کی دستک‘ کے نام سےمنظرِعام پر آچکا ہے۔ 2011 میں جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، ان کا تحقیقی مقالہ ’اردو کے افسانوی ادب میں نسائی لب و لہجہ‘ انجمن ترقی اردو نے 2013 میں شائع کیا۔ تحقیقی و تنقیدی مقالات کا مجموعہ ’نسخہ ہائے فکر‘ 2019 میں شائع ہوا۔
    ایک مقامی کالج میں شعبہ اردو کی صدر ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے اردو افسانے پر 100 سے زیادہ پروگرام کیے ہیں، مشاعروں اور ادبی تقاریب کی نظامت کے لیے بھی مشہور ہیں، کئی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں، ادبی تنظیم دبستانِ غزل کی صدر ہیں جس کے تحت ہر مہینے نشست ہوتی ہے۔

    تصانیف
    ڈاکٹر صاحبہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی ترتیب درج ذیل ہے۔
    1. اردو کے ادب میں نسائی لب و لہجہ
    2 دستک
    3 سکوت
    4. نسخہ ہائے فکر

    نزہت عباسی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    موج دریا کے لبوں پر تشنگی ہے کربلا
    ریگ ساحل پر تڑپتی زندگی ہے کربلا

    صبر کی اور ضبط کی یہ منزلیں ہیں آخری
    عزم اہل بیت کا کیا دیکھتی ہے کربلا

    حق کبھی جھکتا نہیں ہے سر بھی کٹ جائے اگر
    ذہن و دل کے واسطے اک آگہی ہے کربلا

    کیوں سکینہ اور زینب اس قدر خاموش ہیں
    دور تک صحرا میں دیکھو خامشی ہے کربلا

    مٹ گیا ہے فرق سب فردا میں اور دیروز میں
    مات دے کر رخش دوراں کو چلی ہے کربلا

    تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
    ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا

    اے غم شام غریباں اے شب تار الم
    اہل دل کو روز و شب تڑپا رہی ہے کربلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں کمی سی رہ گئی ہے
    کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے

    نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب
    فقط اک برہمی سی رہ گئی ہے

    عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر
    ترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے

    سمندر کتنے آنکھوں میں اتارے
    تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے

    نہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا
    مگر اک بیکلی سی رہ گئی ہے

    خلش دل میں کوئی باقی ہے اب تک
    کہ آنکھوں میں نمی سی رہ گئی ہے

    وہی اک بات جو کہنی تھی تم سے
    وہی تو ان کہی سی رہ گئی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود کو اس طرح آج شاد کریں
    تم کو بھولیں تمہیں کو یاد کریں

    تم سے ملنا نہیں قیامت تک
    فیصلہ یہ بھی آج صاد کریں

    رنگ کتنے ہیں تیرے چہرے کے
    کس حوالے سے تجھ کو یاد کریں

    کر کے احسان ہم پہ ناحق ہی
    ہم سے وابستہ وہ مفاد کریں

    آگ گھر کی انہیں بھی یاد رہے
    شہر میں جو کبھی فساد کریں

    آج خود سے ذرا سی دیر ملیں
    آج پوری چلو مراد کریں

    یاد میں ایک مرنے والے کی
    آج محفل کا انعقاد کریں

  • بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    قصے اور کہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    بلوچستان کے محکمہ پولیس میں کرپشن کے انداز ہی نرالے ہیں ۔ ویسے اگر اس کا دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو اخلاقیات کے لحاظ سے سندھ اور پنجاب پولیس کی نسبت بلوچستان پولیس بہت بہتر بلکہ قابل ستائش فورس ہے ۔ سندھ اور پنجاب پولیس کا عام شہریوں کے ساتھ رویہ انتہائی غیر مناسب ہوتا ہے جبکہ گرفتار یا زیر حراست ملزمان کے ساتھ ان کا رویہ غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی سلوک ہوتا ہے گالی گلوچ اور کرپشن تو ان کے منشور کا حصہ ہوتا ہے زیر حراست یا گرفتار ملزمان کو بدترین تشدد کے علاوہ” ہاف فرائی اور فل فرائی “کی اصطلاح کے تحت زخمی اور ہلاک کرنے کے عمل کو پولیس کے ساتھ مقابلہ قرار دینا ان کے معمول کا حصہ ہے لیکن اس کی نسبت بلوچستان پولیس کا عام شہریوں خواہ ملزمان دونوں کے ساتھ دوستانہ رویہ ہوتا ہے ہاف فرائی اور فل فرائی کا یہاں تصور ہی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کرپشن کے حوالے سے بلوچستان پولیس بھی کسی سے کم نہیں ہے ۔ چیک پوسٹ ، قومی شاہراہ ، اسمگلنگ اور تھانوں ، منشیات و قماربازی اور فحاشی کے اڈوں سے روزانہ یا ماہانہ بھتہ وغیرہ ان کے روز و شب کے معمولات کا حصہ ہیں ۔ قومی شاہراہ پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی چاندی ہوتی ہے وہ دن رات پیسہ بٹورنے میں مشغول رہتے ہیں منشیات ، ایرانی پیٹرول و دیگر اشیاء اور گاڑیوں کے اسمگلرز سے ان کا لین دین ہوتا ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان بھر کی قومی شاہراہوں اور چیک پوسٹوں سے پولیس کو مجوعی طور پر روزانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے اور یہی صورتحال صوبے کے شہروں اور قصبات میں قائم منشیات اور قمار بازی کے اڈوں کی ہے جہاں پولیس اور مذکورہ اڈہ مالکان کے درمیان معاملات طے شدہ ہوتے ہیں جن کے خاموش معاہدے کے نتیجے میں معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں جن کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے ۔ مشیات کے کاروبار اور استعمال سے ہماری نئی نسل بری طرح متاثر ہو کر اپنے خاندان اور ملک و قوم پر بوجھ بن جاتا ہے جس سے وہ اخلاقی پستی میں داخل ہو جاتی ہے جس سے بےشمار برائیوں کو فروغ مل رہا ہوتا ہے ۔

    بلوچستان کا صوبہ کافی عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے جس میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد نشانہ بنتی ہے جس کے نتیجے میں وہ شہید اور زخمی بن جاتے ہیں اور دہشت گردی کے اکثر واقعات سیکورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث پیش آتے ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان کے چار اضلاع کوئٹہ ، گوادر ، حب اور لسبیلہ 2020 سے 2600 پولیس اہلکار سرکاری ڈیوٹی دینے کے بجائے بااثر سیاسی و قبائلی شخصیات گن مین یا سیکورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور تنخواہ سرکار سے وصول کر رہے ہیں ان کی تخواہوں کی مد میں سالانہ ڈھائی ارب روپے کی رقم قومی خزانے سے جاری ہوتی ہے یہ وہ اہلکار ہیں جو پہلے لیویز فورس میں تھے 2020 میں بلوچستان پولیس میں ضم کر دیئے گئے اور اس وقت سے اب تک کھاتے پہ چل رہے ہیں جن کی تنخواہوں کا بڑا حصہ ان کے افسران کی جیب میں چلا جاتا ہے لیکن اس کا نقصان بلوچستان پولیس میں نفری کی کمی کے باعث چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں بلوچستان کے شہریوں کا ہوتا ہے۔ یہ تو صرف چار اضلاع کے 2600 پولیس اہلکار ہیں جو کھاتے پر چل رہے ہیں صوبے کے باقی اضلاع کی کھاتے پر چلنے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن میں سے نصف تعداد سیاسی و قبائلی شخصیات کے ذاتی محافظ بنے ہوئے ہیں اور نصف تعداد اپنے ذاتی کاروبار میں مشغول رہتی ہے ۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے بلوچستان پولیس کا محکمہ نفری کی کمی کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی جان و مال اور قومی املاک کا مناسب تحفظ نہیں ہو رہا ہے چناں چہ بلوچستان کو ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کی ضروت ہے جو حقیقی معنوں میں بااختیار اور اپنے صوبے اور مخلص و دیانتدار ہو تب ہی بلوچستان پولیس میں اصلاحات ممکن ہو سکیں جس سے کرپشن میں کمی اور سیکورٹی کی صورتحال بھی بہتر ہو سکے گی ۔

  • جعلی مزدور  جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    جعلی مزدور جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    یر سال یکم مٸی کو مزدوروں کا عالمی دن اور ہر 3 مٸی کو صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے ٠ اس کے علاوہ بھی مختلف موضوعات پر ہر سال عالمی دن مناٸے جاتے ہیں جن میں خواتین کا دن ، ماں کا دن ، باپ کا دن ، زمین پانی و دیگر کٸی موضوعات شامل ہیں ٠ یہ ایک بہت اچھا اور مثبت عمل اور اچھی روایت ہے ٠ ایسے دن یا ایّام کے منانے سے ان موضوعات کے حوالے سے حقاٸق جاننے اور اصلاح کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے ٠ جن کے ماحول اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ٠ مٸی کے مہینے میں مزدوروں ، صحافت اور ماٶں کے عالمی دن مناۓ جاتے ہیں ٠ بقول نواب اسلم رٸیسانی ڈگری ڈگری ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا نقلی لیکن بہت اچھا ہوا کہ نواب صاحب نے بعد میں اپنے کہے پر معذرت کر لی تھی ٠ ہمارے ذہن میں بھی شاید اور اکثر یہ خیال آتا ہوگا کہ مزدور مزدور ہوتا ہے صحافی صحافی ہوتا ہے ماں ماں ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا جعلی ٠ لیکن اصل اور نقل میں فرق کرنا لازمی بھی ہے اور انصاف کا تقاضا بھی ورنہ اصل اور نقل کو ایک سمجھنے سے انسان اور معاشرے کا بڑا نقصان ہوتا ہے اور اس میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کو فروغ ملتا ہے ٠ جھوٹے پر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے لعنت بھیجتے ہیں اور جھوٹ ہی تمام براٸیوں کی جڑ ہے ٠

    دھوکہ دہی کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے کسی کے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہو تو اس انسان کی بربادی واضح ہو جاتی ہے ٠ لیکن افسوس اس وقت بھی ہوتا ہے جب تعلیم کے شعبے سے وابستہ استاد لیکچرر ہوتا ہے مگر جھوٹ بولتے ہوۓ خود کو پروفیسر کہلاتا ہے یہاں تک کہ وہ رٹاٸر بھی لیکچرر کی حیثیت سے ہوتا ہے مگر پھر بھی خود کو پروفیسر ہی لکھتا اور کہلاتا ہے ٠ جب ایک استاد ہی تمام عمر جھوٹ بولتا اور لکھتا رہے تو اس کے اس کذب اور جھوٹ کے خود اس کی ذات پر اس کے شاگردوں پر اس کے خاندان پر اور معاشرے پر کس طرح منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں گے ؟ طب یا صحت کے شعبے سے وابستہ افراد جن میں ڈسپنسر ، میڈیکل ٹیکنیشن ، نرسنگ اردلی اور وارڈ بواۓ وغیرہ بھی خود کو ڈاکٹر کہلاۓ تو اس معاشرے اور سماج کی کیا صورتحال ہوگی ؟ ایسی دیگر کٸی مثالیں ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اصل جج اصل وکیل اصل سیاستدان اصل ساٸنسدان اصل سپاہی اصل سپہ سالار اصل عالم و فاضل اور اصل مولوی اور مولانا و مفتی وغیرہ کی پہچان کیسے اور کس طرح ہو یہ وہ سوال اور وہ مسٸلہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے ٠

    ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل مزدور وہ ہے جو سردی ہو یا گرمی مشکل ہو یا آساں وہ اپنے فراٸض نیک نیتی اور پوری دیانتداری کے ساتھ سر انجام دیتا ہے اور اس کی یہ محنت عبادت بھی بنتی ہے اور حلال رزق کا باعث بھی ٠ ایسے ہی مزدور کیلیٸے مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ ”الکاسب حبیب اللّٰہ “ یعنی محنت کرنے والا اللّٰہ کا دوست ہے ٠ یہ اس انسان اور اس مزدور کے لیے کتنا بڑا اعزاز ہے اور کتنی بڑی کامیابی ہے جس کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اپنا دوست بناتا ہے ٠ گزشتہ یکم مٸی کو بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں مزدوروں کے حوالے سے مستری مزدور یونین کا ایک جلسہ منعقد ہوا ٠ اس یونین کے صدر ہارون الرشید عرف لیاقت چکھڑا نے جلسے سے اپنے خطاب میں جو باتیں کیں وہ رلادینے والی تھیں ٠ اس نے بتایا کہ بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے لیکن ہم مزدوروں کے لیے رحمت کے بجاۓ اس لیٸے زحمت ثابت ہوتی ہے کہ اس دن ہمیں کام نہیں ملتا اور ہم خالی ہاتھ اپنے گھر واپس جاتے ہیں ٠ اور اس دن ہمیں بھوکا رہنا پڑتا ہے ٠ انہوں نے کہا کہ ہم مزدوروں کا جینا تو ویسے بھی امتحان اور سخت آزماٸش تو ہے ہی مگر مرنا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ فوت ہونے والے کی تدفین کیلیۓ کفن کی رقم بھی نہیں ہوتی اور مزدورں کو قرض یا ادھار دینے والا بھی کوٸی نہیں ہوتا ٠ لیاقت علی نے یہ بھی بتایا کہ مزدوروں کی اکثریت کو سر چھپانے کیلیۓ اپنا ذاتی مکان بھی نہیں ہوتا ٠ کرایہ کے مکان میں زندگی مزید مشکل گزرتی ہے ٠ یعنی دوسروں کے لیے گھر اور محل بنانے والے اپنے گھر سے محروم رہتے ہیں ٠ ایسی اور بھی انہوں نے درد بھری باتیں بتاٸیں جن پر الگ سے کالم لکھنے کی ضرورت ہے ٠ اسی یکم مٸی کو ایسے لوگ بھی خود کو مزدور اور مزدور رہنما کہلاتے ہیں جو انتہاٸی بد دیانت کام چور کرپٹ اور بلیک میلر ہوتے ہیں جو مزدوروں کے حقوق کا سودا کرتے ہیں ٠ ایسے سرکاری ملازم جو یونین کی آڑ میں نہ صرف خود ڈیوٹی نہیں کرتے بلکہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی بھرتی کرا لیتے ہیں اور وہ بھی گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ٠ خود یونین لیڈر بن کر اپنے محکمہ سے ماہانہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتے ہیں اور اپنے ہی مزدور ملازمین کا استحصال کرتے ہیں ٠ اور دنیا کے مزدورو ایک ہو جاٶ کا نعرے لگواتے ہیں ٠ مزدور اتحاد اور مزدور مزدور بھاٸی بھاٸی کا منافقانہ نعرہ لگوا کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں ٠ یہی وہ جعلی مزدور ہیں جو اپنے محکمہ میں کرپشن بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کا بازار گرم رکھے ہوٸے ہوتے ہیں ٠ لاکھوں اور کروڑوں کی پراپرٹی کا مالک بنتے ہیں ٠ اور یہی مزدوروں کے لیڈر اور رہبر بنے ہوٸے ہیں ٠ حالانکہ اصل مزدور تو وہ مرد و خواتین بچے اور بوڑھے ہیں جو کھیتوں سڑکوں کارخانوں ہوٹلوں ریستورانوں گیراجوں ورکشاپس اور گھروں وغیرہ میں کام کرتے ہیں ٠ تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور گھروں میں کام کرنے والی بچیاں اور خواتین تشدد کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتی ہیں ٠ مگر افسوس کہ ہماری اسلامی ریاست اپنے محنت کش اور مزدور مرد و خواتین بچوں اور بوڑھوں کو عزت روزگار اور تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے ٠

    صحافت کے شعبے میں بھی جعلسازی اور دھوکہ دہی کا راج ہے ٠ یہ فرق کرنا بہت مشکل لگتا ہے کہ اصل صحافی کون ہے ٠ صحافت ایک بہت ہی معزز پیشہ ہے ٠ صحافی کا بڑا مقام اور مرتبہ ہے ٠ آزادی صحافت کی بات کی جاتی ہے ٠ یہ بھی طے کرنا ابھی باقی ہے کہ آزادی ہے کیا چیز آزادی کی حد کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے ٠ ہمارے یہاں تو سیاستدان حضرات آزادی اور حق و سچ کی صحافت اس کو سمجھتے ہیں جس کے تحت ان کے مخالفین کے خلاف لکھا جاۓ اور خود ان کی تعریف کی جاٸے ٠ خواہ وہ خود کتنا ہی کرپٹ بدعنوان ظالم اور بد کردار ہی کیوں نہ ہو ٠ اگر صحافی اس کے بارے میں سچ لکھتا ہے تو وہ صحافی اس کی نظر میں بلیک میلر بن کر سزا کا مستحق بن جاتا ہے ٠ جبکہ سرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں لکھنا صحافی کیلیۓ مزید مشکل بن جاتا ہے اور سیکوریٹی اداروں کے بارے میں لکھنا گویا موت کو دعوت دینا یا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے ٠ اس لیٸے حق اور سچ لکھنے والے صحافی کیلیۓ صحافت قدم قدم پر آزماٸش اور شدید خطرات کا باعث بنتی ہے ٠ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافی مشکلات اور خطرات میں گھرے رہتے ہیں ٠ اب تک دنیا بھر میں ہزاروں مرد و خواتین صحافی حق اور سچ لکھنے پر قتل کیٸے جا چکے ہیں ٠ قید و بند اور تشدد کے واقعات تو حقیقی صحافیوں کیلیۓ آٸے روز کے معمولات میں شامل ہیں ٠ مگر یہاں بھی مزدور پروفیسر اور ڈاکٹر وغیرہ کی طرح اصل اور جعلی صحافی میں فرق پیدا کرنا بڑا اہم مسٸلہ ہے ٠ صحافت کے شعبے میں ایسے افراد گھس آۓ ہیں کہ اصل صحافی کی پہچان ہی مشکل بن گٸی ہے ٠ سوشل میڈیا میں تو یہ مسٸلہ اور بھی پیچیدہ بن گیا ہے ٠ اب تو ہر دوسرا اور تیسرا شخص صحافی بنا ہوا ہے ٠ ایسے صحافیوں کو نہ تجربہ ہے نہ مہارت اور نہ ہی تربیت ٠ ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح و بھلاٸی اور مساٸل کی نشاندہی نہیں بلکہ ناجاٸز عزت دولت اور شہرت حاصل کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ٠ جس کیلیۓ وہ ہر غلط کام خوشامد چاپلوسی اور جھوٹ لکھ اور بول کر نہ صرف خوش اور مطمٸن ہوتے ہیں بلکہ اپنے شرمناک کرتوتوں پر فخر بھی کرتے ہیں ٠ لوگوں پر رعب جمانے اور بلیک میل کرنے کی غرض سے اور خود کو معزز اور مشہور ثابت کرنے کیلیۓ بڑے نامور لوگوں کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بنوا کر سوشل میڈیا میں پوسٹ کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ٠ حالانکہ کسی بڑے عہدیدار کے ساتھ تصویر بنوانا احساس کمتری کا واضح ثبوت ہوتا ہے ٠ اس کے علاوہ جو اوپری سطح کے اینکر یا صحافی ہیں ان میں کچھ ایسے صاحبان اور صاحباٸیں بھی ہیں جو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں یا تو لوگوں کو مرغوں کی طرح لڑاتے ہیں یا پھر سوال بھی خود کرتے ہیں جواب بھی خود دیتے ہیں ٠ مہمانوں کو بولنے ہی نہیں دیتے اس لیٸے وہ بیچارے اپنا مدعا بیان ہی نہیں کر پاتے اور یہ بھی آزادی صحافت کا ایک حصہ ہے ٠ اس طرح کے لوگ ہی خود کو صحافی سمجھتے ہیں ٠ اس لیٸے آزادی صحافت سے پہلے یہ بھی سوچنا ہے کہ اصل اور جعلی صحافی کی پہچان کیسے ہو اس کے بعد ہی آزادی صحافت کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا ٠

  • چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او  شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    نصیر آباد کا کمشنر ، ڈی آئی جی، ڈی سی اور ایس ایس پی ”بندوق کے سائے میں“
    چھتر کے دو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایک صحافی
    چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوتا ہے

    آغا نیاز مگسی

    ضلع نصیر آباد کا چھتر شہر عام شہریوں خواہ سرکاری افسران کے لیے نو گو ایریا بلکہ سندھ اور پنجاب کے ڈاکوؤں کے ”کچے“ کے علاقہ کی مانند ہے یہاں پر کوئی بھی محفوظ نہیں ہے ۔ گزشتہ 40 سال سے بلوچستان حکومت چھتر کے علاقہ کو محفوظ علاقہ نہیں بنا سکی اور نہ ہی یہاں پر اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے دفتر میں بٹھا سکی ہے ما سوائے دو اسسٹنٹ کمشنرز کے ۔ 1995 میں سردارزادہ سرفراز احمد ڈومکی کو اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔ وہ پہلے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو اپنے دفتر میں بیٹھنے لگے اور اسی دور میں چھتر کی تاریخ کا واحد صحافی میں (آغا نیاز مگسی) تھا جو وہاں ڈیرہ مراد جمالی سے روزنامہ انتخاب حب \کراچی کے نامہ نگار کی حیثیت سے رپورٹنگ کرنے کے لیے گیا جہاں مجھے دیکھ کر چھتر کے مکین حیران ہو گئے میں نے سرفراز خان ڈومکی سے ملاقات کر کے وہاں کی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مجید شاہ کہیری کے ساتھ چھتر شاہ کا جائزہ لیا اور یہاں کے شہریوں کے مسائل معلوم کیے۔ چھتر کے شہریوں نے مجھے ایک مرشد کی طرح کا احترام اور پروٹوکول دیا تھا اور وہ رات میں نے وہاں قیام کیا تھا ۔ سرفراز خان ڈومکی نے اپنے والد سردار چاکر خان ڈومکی کی وفات پر اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے سے استعفی دے دیا اور اپنے والد کی جگہ ڈومکی قبیلے کا سردار بنا ۔ سردار سرفراز خان اس وقت بلوچستان کے صوبائی وزیر بلدیات ہیں ۔ سردار سرفراز کے کافی عرصہ بعد محمد عظیم عمرانی دوسرے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو وہاں اپنے دفترمیں بیٹھنے لگے اس کے بعد آج تک دوسرا کوئی اسسٹنٹ کمشنر چھتر میں نہیں بیٹھ سکا ہے .

    وہاں کے امن و امان کی صورتحال اور خوف کا یہ عالم ہے کہ نصیر آباد کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سخت سیکورٹی اور پیرا ملٹری فورس کے تعاون کے بغیر چھتر کا ”وزٹ“ تک نہیں کر سکتے ۔ چھتر کا ایس ایچ او مقرر ہونا اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرنے کے مترادف ہے چناںچہ چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی بجائے ہر وقت اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتا ہے ۔ چھتر اور اس کے گرد و نواح کے شہری ایف سی \پیراملٹری فورس کی وجہ سے وہاں مقیم ہیں ورنہ چھتر کا علاقہ عام شہریوں کی آبادی سے خالی اور کچے کی طرح ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ۔ جس علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر نہیں بیٹھ سکتا اور جہاں کا کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی بندوق کے سائے میں کئی سال بعد ایک دو گھنٹے کا وزٹ کر کے آئے تو اس علاقہ کے مکینوں کی زندگی کس طرح گزرتی ہے اس صورتحال کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے ۔

    بلوچستان سے بگٹی قبیلے کے کچھ افراد کچے کے ڈاکوؤں سے لڑنے کے لیے گئے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ وہ چھتر کو ڈاکوؤں سے کب خالی کرائیں گے .؟

  • سپاہی،   صحافی اور جاسوس، تحریر:  آغا نیاز مگسی

    سپاہی، صحافی اور جاسوس، تحریر: آغا نیاز مگسی

    دنیا میں جتنی بھی مخلوقات کرہء ارض پر موجود ہیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک مخصوص وقت مقرر ہوتا ہے لیکن ان میں سے سپاہی، صحافی اور جاسوس وہ مخلوق ہیں جو ہمہ وقت یعنی 24 گھنٹے آن ڈیوٹی یا آن کال رہتے ہیں رات کو جب ہر کوئی آرام میں ہوتا ہے لیکن یہ تینوں آپ کو کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئیں گے یہ زیادہ تر اپنے گھر سے باہر رہتے ہیں یعنی گھر کے ہوتے ہوئے بھی بے گھر لگتے ہیں البتہ ان تینوں کی وفاداری ہمیشہ مشکوک رہتی ہے یہ خود بھی مشکوک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان میں سے زیادہ تر سپاہی اور صحافی ”سخاوت“ میں ایسے کہ کسی کو دعا تک بھی نہیں دیتے لیکن خود بہت کچھ کے علاوہ دعا کے بھی ہمیشہ طلبگار رہتے ہیں۔

    کتے کو جہاں وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں نفرت کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے کسی انسان کو کتا کہنا بہت بڑی گالی مانا جاتا ہے 1976 میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پریس پر سخت پابندی عائد کی تو سارے صحافی خوفزدہ ہوکر خاموش ہوگئے تو اندرا گاندھی نے کہا کہ کوئی ایک کتا تک نہیں بھونکا لیکن اس برعکس پاکستان کے صحافی بہت بہادری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں انہوں نے مارشل لاؤں میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بیروزگار بھی ہوئے اور اب بھی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے ہر محاذ پر لڑ رہے ہوتے ہیں سپاہی بھی ایسی ہی مشکلات اور خطرات کا شکار رہتے ہیں اس لیئے یہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کی دعاؤں میں رہتے ہیں جبکہ سپاہی اور صحافی دونوں کی صفوں میں کالی بھیڑیں بھی موجود ہوتی ہیں اصل سپاہی اور صحافی کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے اس لیئے لوگ سپاہی اور صحافی سے کم کم ہی پیار کرتے ہیں بلکہ ان کے حصے میں نفرت اور بد دعائیں زیادہ آتی ہیں تاہم پولیس فورس میں ذوالفقار چیمہ عابد نوتکانی اے ڈی خواجہ خادم رند اور خیر محمد جمالی جیسے کئی بہادر اور مخلص سپاہی اور افسران بھی موجود رہے ہیں جبکہ صحافت میں بھی میر خلیل الرحمان حمید نظامی عنایت اللہ ضمیر نیازی الطاف قریشی منو بھائی ، وارث میر اور ہارون الرشید جیسے صحافی بھی موجود ہوتے ہیں اس کے باوجود بھی اگر لوگ سپاہی اور صحافی سے پیار نہیں کرتے اعتبار نہیں کرتے اور ان کو دعا نہیں دیتے تو اس لیے ایسے عناصر سے ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

    ہر دور میں تین قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہیں پہلی جنگ سپاہی اسلحہ کے بل بوتے پر لڑتے ہیں دوسری جنگ ملکوں اور اقوام کے درمیان جاسوسی کے ذریعے لڑی جاتی ہے جسے جاسوسی جنگ کے علاوہ ملکوں کے درمیان سرد جنگ Cold War بھی کہا جاتا ہے اور یہ ایک خطرناک جنگ ہے جاسوسی کی جنگ میں خوبرو خواتین اور خوبصورت دوشیزاؤں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے وہ فرائض کے دوران اپنی عصمت کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتی ہیں ۔ دنیا میں بہت سی جاسوس خواتین موت کے گھاٹ اتاری گئی ہیں لیکن خواتین نے اپنے فرائض میں بہادری کی مثالیں قائم کی ہیں ۔

    دنیا بھر میں تیسری جنگ صحافی قلم کے ذریعے لڑتے رہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ غزہ فلسطین کی حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی بمباری سے اب تک 60 سے زائد صحافی شہید ہو چکے ہیں جن میں کچھ خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ یونیسکو کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2023 تک دنیا بھر میں 1500 کے لگ بھگ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں ۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں صحافیوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں یہاں حق اور سچ کی صحافت کرنے والے مرد و خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی رہتی ہیں اور یہ لوگ دباؤ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے حقیقی صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور یہ لوگ جیسے صحافت کے پل صراط پر چل رہے ہوتے ہیں وہ خود بھی غیر محفوظ رہتے ہیں اور ان کے خاندان کے افراد بھی غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں چنانچہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو احتیاط اور دعاؤں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے ۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      آغا نیاز مگسی

    جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسا کوئی شخص وہ مرد ہو خواہ عورت بوڑھا ہو یا بچہ غریب ہو یا امیر جوتوں کی خواہش سب کو ہوتی ہے اور یہ سب کی ضرورت ہے موت اور زندگی کی طرح جوتے بھی ہر اس انسان کے لیے ضروری ہوتے ہیں جس کے پاں سلامت ہوں اگر ایک پیر والا ہے وہ بھی اپنے لیئے ایک جوتا رکھتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی دونوں پاؤں سے معذور یے تو پھر اسے جوتوں کی ضرورت اور خواہش نہیں ہوتی۔

    جوتے سستے بھی اور انتہائی مہنگے بھی ہوتے ہیں کس کے نصیب میں کیسے جوتے ہوتے ہیں یہ ہر ایک کے مقدر کی بات ہوتی ہے ،جس کو جوتوں کا شوق ہو تو پھر پتہ نہیں وہ کیسے جوتے حاصل کر لیتے ہیں ہمارے یہاں عام طور پر ملٹی نیشنل کمپنی باٹا اور سروس کے اور مقامی لیول پہ پشاور کے پشاوری چپل کوئٹہ کے نوروزی اور سعادت اور ملتان کے ملتانی کھسے بہت مشہور ہیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی غریب کو جوتے لینے یا خریدنے کی سکت نہ ہو تو وہ جوتے چرانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کے معاشرے میں جوتے چرانے کی آسان ترین جگہ مساجد اور اولیائے کرام کے مزارات و درگاہیں اور شادی بیاہ اور دعوت ولیمہ جیسی تقریبات ہوتی ہیں نمازی حضرات کے جوتے جتنے مہنگے اور قیمتی ہوتے ہیں مسجد میں نماز پڑھتے وقت اس کی توجہ جوتوں کی طرف بھی ہوتی ہے کہیں چوری نہ ہو جائیں ۔

    متحدہ ہندوستان میں ریاست بہار کی رانی اندرا دیوی بہت قابل اور ذہین اور با صلاحیت حکمران عورت تھی اس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ برصغیر کی پہلی عورت تھی جس نے یوگا کی تربیت حاصل کی تھی اور بعدمیں استاد کی حیثیت سے اپنے شاہی خاندان کے افراد کو بھی سکھاتی تھی لیکن اس کو جوتوں کا جنون کی حد تک شوق تھا اس دور میں اٹلی میں جوتے بنانے کا ایک ماہر سیلیٹور فریگامو کے جوتے دنیا بھر میں مشہور تھے اس کی خواہش نے بھی انگڑائی لی اور شاہی فرمان جاری کر دیا کہ اس کو میرے دربار میں لایا جائے چناچہ اس کو اٹلی سے لایا گیا اندرا دیوی نے اس سے کہا کہ مجھے ایسے جوتے چاہیئے جو آج تک دنیا بھر میں کسی عورت نے نہ پہنے ہوں فریگامو سوچ میں پڑ گیا اور اس نتیجے پرپہنچا کہ آج تک کسی عورت نے ہیرے اور جواہرات سے جڑے جوتے نہیں پہنے ہیں جس پر رانی نے خوش ہو کر اس کو اپنے لیئے ایسے 600 جوتے تیار کرنے کا حکم دیا اور وہ سارے جوتے ہیروں جواہرات سونے اور نایاب پتھروں سے بنائے گئے ایسے مہنگے اور قیمتی جوتوں کا سن کر ملکہ برطانیہ حسرت سے آہ بھر کر رہ گئی کیونکہ وہ ایسے جوتے نہیں خرید سکتی تھی ان کے ملک میں احتساب کا خوف ہے

    جب جوتوں کی بات چل ہی نکلی ہے تو جدید دور کی موجودہ اکیسویں صدی میں مشہور شخصیات اور حکمرانوں پر نفرت کے اظہار کے طور پر جوتے پھینکنے کا خطرناک رواج چل نکلا ہے جس کی ابتداء عراق کے ایک صحافی المنتظری نے دنیا کے طاقتور ترین حکمران سپر پاور امریکہ کے صدر جونیئر بش پر یکے بعد دیگرے دو جوتے پھینک کر کی اور پھر یہ سلسلہ دنیا بھر میں چل نکلا ہے اور یہ جوتے پاکستان کے حکمرانوں تک بھی پہنچ گئے،جوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رواج خواتین نے شروع کیا ، ہمارے ملک کے نیوز چینلز پر آئے دن ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں خرانٹ قسم کی بہادر اور باہمت خواتین اور لڑکیاں آوارہ اوباش اور لفنگے اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے مرد اور لڑکوں کو جوتوں سے ٹھکائی کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں ، نفرت کے طور پر کسی معتوب شخص کو جوتوں کے گلے میں ہار بھی پہنائے جاتے ہیں تو کسی کے سر پر برسائے جاتے ہیں چنانچہ جوتوں کے شوق اور استعمال میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے خاص طور پر حکمران اور اونچے طبقہ کے لوگ آجکل جوتوں کے خوف میں مبتلاء نظر آتے ہیں کہ کہیں سے کوئی لہراتا ہوا جوتا نہ آجائے اس لیئے جوتے وہی اچھے جو پاؤں میں پہنے یا پہنائے جائیں لیکن گلے میں اور سر پر جوتے پڑنے سے اللہ پاک سب کو محفوظ رکھے تاہم اس سے بچنے کے لیے بہتر کردار کی ضرورت ہے ۔

  • اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    ڈاکٹر فریاد آذر

    وفات : 12؍اپریل 2024

    معروف شاعر ڈاکٹر فریاد آذر کا اصل نام سید فریاد علی ہت10؍جولائی 1956ء کو اترپردیش کے بنارس شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی تھی اور ان کے شعری آہنگ سے بہت متاثر تھے۔
    انھوں نے دہلی کے کئی اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے دو شعری مجموعے "خزاں میرا موسم” (اشاعت 1994ء) اور قسطوں میں گزرتی زندگی” (اشاعت 2005ء) شائع ہوئے۔آج بروز جمعہ 12؍اپریل 2024ء کو لمبی بیماری کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

    ڈاکٹر فریاد آذرؔ کے منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
    میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

    نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو
    بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا

    معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر
    مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

    بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی
    وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا

    بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں
    پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا

    مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر
    کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
    اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں
    سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے

    ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت
    اور کس شہر محبت میں اماں باقی ہے

    میں کبھی سود کا قائل بھی نہیں تھا لیکن
    زندگی اور بتا کتنا زیاں باقی ہے

    مار کر بھی مرے قاتل کو تسلی نہ ہوئی
    میں ہوا ختم تو کیوں نام و نشاں باقی ہے

    ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
    ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

    لاکھ آذرؔ رہیں تجدید غزل سے لپٹے
    آج بھی میرؔ کا انداز بیاں باقی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے
    یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بلا کے مجھے

    میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر
    وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

    اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
    مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

    جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا
    قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

    میں اپنی قبر میں محو عذاب تھا لیکن
    زمانہ خوش ہوا دیواروں پر سجا کے مجھے

    یہاں کسی کو کوئی پوچھتا نہیں آزرؔ
    کہاں پہ لائی ہے اندھی ہوا اڑا کے مجھے

  • لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    ڈاکٹر صغری صدف
    28 فروری 1963: تاریخ پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ ایک ہمہ جہت اور فعال ادبی شخصیت ہیں۔ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری اور افسانہ نگاری کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے مشہور اخبار ’جنگ‘ میں سماجی، سیاسی، لسانی اور صوفیانہ موضوعات پر کالم لکھتی ہیں۔ فلسفہ، سماجیات اور اردو میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے کئے ہیں۔ وہ 28 فروری 1963 میں ضلع گجرات پاکستان کی تحصیل کھاریاں کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے خاندان خواہ برداری میں لڑکیوں کو پڑھانا معیوب سمجھا جاتا تھا مگر ڈاکٹر صاحبہ کے والد صاحب جو کہ تعلیمی لحاظ سے مڈل پاس تھے انہوں نے اپنی بیٹی صغرا کی خواہش پر اعلی تعلیم دلوائی ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا اصل نام صغری ہے قلمی نام صغرا صدف ہے ۔ صدف کا تخلص انہوں نے چھٹی جماعت میں اختیار کیا اس وقت انہیں صدف کے معنی بھی معلوم نہ تھا۔ شاعری میں ڈاکٹر شاہین مفتی صاحبہ سے انہوں نے رہنمائی حاصل کی ۔ وہ اپنی شاعری کو ” دل کی واردات” قرار دیتی ہیں ۔

    ڈاکٹر صاحبہ نے صوفی شاعر میاں محمد بخش پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تصنیف کیا ہے۔ پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی سماجی اور علمی اداروں اور تنظیموں کی رکن ہیں۔ پی ٹی وی کے لئے کئی پروگراموں کے اسکرپٹ لکھ اور پیش کر چکی ہیں ۔ ان کی اب تک شائع ہونے والی کتابوں میں : ’میں کیوں مانوں ہار‘ ’وعدہ‘ ’مورکھ من‘۔ ’جدا ہیں چاہتیں اپنی‘ ۔ ’مائے میں کنوں آنکھاں‘ (شعری مجموعے ) ’قلم‘ ’نقطہ‘ ’استغراق‘ (کالموں کے مجموعے) ’فیض کا عمرانی فلسفہ‘ اور ’میاں محمد بخش‘ ’فلاسفی آف ڈوائن لو‘(تحقیق اور تنقید) اس کے علاوہ چھ کتابیں انگریزی اور پنجابی سے اردو تراجم کی اور پنجابی میں افسانوں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ علامہ اقبال ٹاون لاہور میں مستقل طور منتقل ہو چکی ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مدتوں جس سے ملاقات نہ تھی
    جب وہ آیا تو کوئی بات نہ تھی

    دل بھی کچھ سرد ہوا جاتا ہے
    مجھ میں بھی شدت جذبات نہ تھی

    وہ کہ سمجھا ہی نہیں نظروں کو
    میری آنکھوں میں کوئی رات نہ تھی

    کیسے ممکن تھا کہ ہوتی مجھ کو
    میری قسمت میں اگر مات نہ تھی

    میں کہ کھوئی رہی اپنے من میں
    میرے رستے میں مری ذات نہ تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے
    طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے

    جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے
    لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے

    بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ
    جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے

    سارے جہاں کی روشنی کب مانگتی ہوں میں
    بس میری زندگی کا ستارا ملے مجھے

    دنیا میں کون ہے جو صدفؔ سکھ سمیٹ لے
    دیکھا جسے بھی درد کا مارا ملے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا
    اب اس کو بھلانے میں ذرا وقت لگے گا

    تو نے جو پکارا تو پلٹ آؤں گی واپس
    ہاں لوٹ کے آنے میں ذرا وقت لگے گا

    لکھا تھا بڑے چاؤ سے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    دیتا ہے کسی اور کو ترجیح وہ مجھ پر
    اس کو یہ جتانے میں ذرا وقت لگے گا

    جس شاخ پہ پھل پھول نہیں آئے ہیں اب تک
    وہ شاخ جھکانے میں ذرا وقت لگے گا

    سب رنج و الم ملنے چلے آئے ہیں مجھ سے
    محفل کو سجانے میں ذرا وقت لگے گا

    میں دیکھ بھی سکتی ہوں کسی اور کو تجھ سنگ
    یہ درد کمانے میں ذرا وقت لگے گا

    جو آگ صدفؔ ہجر نے ہے دل میں لگائی
    وہ آگ بجھانے میں ذرا وقت لگے گا