Baaghi TV

Tag: آغا نیاز مگسی

  • گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    گوئٹے، شاعر ،ناول نویس،ڈرامہ نگار کا یوم وفات

    پیدائش:28 اگست 1749ء
    فرینکفرٹ
    وفات:22 مارچ 1832ء
    وایمار
    وجۂ وفات:دورۂ قلب
    طرز وفات:طبعی موت
    رکن:سائنس کی پروشیائی اکیڈمی
    فری میسن، الومناتی
    سائنس کی روسی اکادمی
    مادر علمی:لائپزش یونیورسٹی
    (1765-1768)
    تخصص تعلیم:اُصول قانون
    تعلیمی اسناد:سند یافتہ جامعہ
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:تشریح، موسمیات
    کارہائے نمایاں:دیوان الشرقی للمولف الغربی
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    آرڈر آف سینٹ آنا
    فرسٹ کلاس (1808)

    گوئٹے (آلمانی زبان میں Johann Wolfgang von Goethe ) آلمان یعنی جرمنی کا مشہور شاعر اور فلسفی تھا۔ وہ 28 اگست 1749ء کو پیدا ہوا اور 22 مارچ 1832ء کو انتقال کیا۔ شاعری، ڈراما، ادب، فلسفہ، الٰہیات، الغرض بے شمار اصناف میں لکھتا رہا۔ گوئٹے اگرچہ جرمن ادیب تھا لیکن وہ عالمی ادب کے گنے چنے قافلہ سالاروں میں شمار ہوتا ہے- وہ بیک وقت شاعر، ناول نویس، ڈراما نگار اور فلسفی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ متنوع اور ہمہ گیر طبعیت کا مالک تھا اور اس کی دلچسپیاں بھی لامحدود تھیں۔ ادب کے علاوہ اس نے قانون، طب، علم کیمیا اور علم برق کی تعلیم بھی حاصل کی- وہ سیاست دان، تھیٹر ڈائریکڑ، نقاد اور سائنس دان بھی تھا- ان تمام صفات نے مل جل کر اسے عالمی ادب کی دیوقامت شخصیات کی صف میں لاکھڑا کیا- بین الاقوامی شہرت و مقبولیت میں وہ ہومر، شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ نظر آتا ہے۔
    خاندان
    ۔۔۔۔۔۔
    اس کا باپ جوہان کیسپر گوئٹے(کاسپارگوٹے) (1710ء۔1782)ایک وکیل تھا لیکن گوئٹے کی پیدائش کے وقت وہ اپنے چار منزلہ مکان میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی اپنی لائبریری بہت بڑی تھی اور مصوری کے بہت سے نمونے بھی اس کے پاس تھے۔ مزاجاً سخت، مغرور اور سنکی کتابوں کا رسیا گوئٹے کی ماں کیتھرین ایلزبیتھ (کاتارین الیسابیتھ) (1731۔ 1808) فرینکفرٹ (فرانکفورٹ) کے میئر کی بیٹی تھی۔ خوش مزاج، ہنس مکھ، نیک سیرت، شاعری اور تھیٹر کی رسیا۔ اس نے ایک چھوٹا سا تھیٹر بھی اپنے گھر میں بنا رکھا تھا۔ اپنے بچپن کا ذکر گوئٹے نے بہت محبت سے کیا ہے۔ ماں کی خوش مزاج شخصیت نے گوئٹے کی شخصیت کو وہ دلآویزی عطا کی کہ وہ جہاں جاتا پسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم اپنے باپ سے حاصل کی اور بعد میں مختلف اتالیق سے مختلف علوم کی تعلیم حاصل کی۔ گوئٹے لاطینی، یونانی اورانگریزی پڑھ سکتا تھا۔ عبرانی سے بھی شدبد تھی۔ فرانسیسی اور اطالوی روانی سے بول سکتا تھا۔ وائلن بجانا۔ اسکیچ بنانا، مصوری کرنا، گھوڑ سواری، رقص اور تیرا کی اس نے اسی زمانے میں سیکھے۔ 1765میں وہ قانون کی تعلیم کے لیے لیئپ زگ گیا 1768ء میں وہ بیمار پڑ گیا اور فراینکفرٹ(فرانکفورٹ) واپس آگیا۔ چھ بچوں میں سے صرف گوئٹے اور اس کی بہن بچے تھے اس لیے ان کی تعلیم و تربیت پر والدین نے پوری توجہ دی۔ 1771ء میں اسٹراس بورگ میں اس نے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ وہیں اس کی ملاقات ہر ڈر سے ہوئی۔ ہر ڈر گوئٹے سے پانچ سال بڑا تھا۔ یہیں اس کی ملاقات ان نوجوانوں سے بھی ہوئی جو درباروں کی تصنع پسندی، مبلغوں کے کھوکھلے لفظوں اور تاجروں کے استحصال کے خلاف تھے اور اس بات پر افسردہ اور شاکی تھے کہ نوجوانوں کو جرمن معاشرہ میں وہ مقام نہیں مل رہا ہے جس کے وہ اپنی اہلیت وصلاحیت کے لحاظ سے مستحق ہیں۔ احساس محرومی ان پر چھایا ہوا تھا۔ وہ آزادی فکر و اظہار کے حامی اور سارے معاشرے میں ذہنی بیداری پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔ نوجوانوں کی اس تحریک کا نام شٹورم اونڈ ڈرانگ Sturm Und Drang تھا۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر گوئٹے نے غنائیہ نظمیں لکھیں۔ اسی زمانے میں گوئٹے رومو اور اسپنوزا سے بھی متاثر ہوا۔ اسی دور میں اسے جانوروں اور پودوں کے مطالعے کا شوق بھی پیدا ہوا، جو ساری عمر جاری رہا اور اس نے علم حیاتیات اور نباتات کی بھی اہم خدمت انجام دی۔1772ء میں اس نے وکالت شروع کی۔ اس وقت گوئٹے کی عمر صرف 23سال تھی ۔

  • ظفر لشاری (لاشاری)  سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    یوم وفات : 16 مارچ 2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر محمود لشاری (لاشاری) 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ/ڈیرہ نواب صاحب کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن ٹی بی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ۔ کافی عرصہ سینی ٹوریم میں زیر علاج رہے. صحت یاب ہونے پر چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا۔ پرائیویٹ ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا۔ ہیڈ ماسٹر بھی بنے۔ 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    سرائیکی زبان میں پہلا ناول "نازو” انہوں نے ہی لکھا۔ یہ 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور نے شائع کیا۔ دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ نے شائع کیا۔ افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی دوسری کتابیں "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” ،”خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” اور”سرائیکی لوک سہرے” ہیں۔ 16 مارچ 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری

    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں

    ہستی مل ہستی

    تاریخ ولادت:11 مارچ 1946ء
    جائے ولادت:ضلع راجسمند، راجستھان

    ہستی مل ہستی ہندی غزل میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ 11 مارچ 1946 کو راجستھان کے ضلع راجسمند میں پیدا ہوئے۔ 5 دہائیوں سے زائد عرصے سے ادبی خدمات میں مصروف ہیں۔ ان کی غزلوں کو جگجیت سنگھ، پنکج ادھاس، منوہر ادھاس وغیرہ جیسے مشہور غزل گائیکوں نے گایا ہے۔ جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی یہ غزل ‘”پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے“ بہت مشہور ہوئی۔ کس سے کیا کہیں، کچھ اور طرح سے بھی، پیار کا پہلا خط وغیرہ ان کے اہم مجموعے ہیں۔ انھیں مختلف ادبی اداروں نے ایوارڈ سے نوازا جن میں مہاراشٹر ہندی ساہتیہ اکادمی سرفہرست ہے۔ یہ گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے ”یوگن کاویہ“ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ نکالتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
    نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے
    جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا
    لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
    گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
    لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے
    ہم نے علاج زخم دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
    گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ بھی چپ چاپ ہے اس بار یہ قصہ کیا ہے
    تم بھی خاموش ہو سرکار یہ قصہ کیا ہے
    صرف نفرت ہی تھی میرے لیے جن کے دل میں
    ہو گئے وہ بھی طرف دار یہ قصہ کیا ہے
    سامنے کوئی بھنور ہے نہ تلاطم پھر بھی
    چھوٹتی جائے ہے پتوار یہ قصہ کیا ہے
    بیٹھتے جب ہیں کھلونے وہ بنانے کے لیے
    ان سے بن جاتے ہیں ہتھیار یہ قصہ کیا ہے
    وہ جو قصے میں تھا شامل وہی کہتا ہے مجھے
    مجھ کو معلوم نہیں یار یہ قصہ کیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں
    ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں
    ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں
    ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں
    ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری
    جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
    کہیں خلوص کہیں دوستی کہیں پہ وفا
    بڑے قرینے سے گھر کو سجا کے رکھتے ہیں
    انا پسند ہیں ہستیؔ جی سچ سہی لیکن
    نظر کو اپنی ہمیشہ جھکا کے رکھتے ہیں