Baaghi TV

Tag: آڈیو لیکس

  • علی امین گنڈاپور  کی کے پی کے خزانے کی چوری کی آڈیو سامنے آ گئی

    علی امین گنڈاپور کی کے پی کے خزانے کی چوری کی آڈیو سامنے آ گئی

    خیبر پختونخوا کے وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر اور علی امین گنڈاپور کی فروری 2023 کی آڈیو منظر عام پر آ گئی.

    وائرل آڈیو میں صاف سنا جا سکتا ہے کہ علی امین گنڈاپور صوبائی عہدے دار سے پیسے وصول کرنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ وہ اُس وقت قومی اسمبلی کے ممبر تھے – علی امین گنڈاپور نے افسر سے کہا کہ سولہ کروڑ آپ کے اکیلے کے ہیں – سولہ کروڑلڑکے کے ہاتھ میرے گھر بھجوا دو اور باقی 25 کروڑ کا بھی جلدی کچھ کرو، ٹھیک ہے دوسرامیں نے کہا ایک اور کیس ہمارا گیا ہوا ہے فنانس ڈپارٹمنٹ 25 کروڑ میرا ہے 25 کروڑ CM (محمود خان) صاحب کا ہے۔ فنانس میں اس نے بلایا ہے اس سے جا کہ مل لینا۔ اس میں یہ تھا کہ یہ پیسے پڑے تھے ریلیف والے کہ یہ ڈی جی کے اکاونٹ میں ہیں۔ اس کو ریلیف سے کلوز کرو اپنے اکاونٹ میں لاو فنانس میں۔

    جواب میں افسر کا کہنا تھا کہ کہا کہ اصل میں آجکل وہ فائنانس والے ہماری بات ہی نہیں مان رہے۔ کل سے ہم لگے ہوئے ہیں ان پی ایم ڈی والوں کے ساتھ آج بھی ان کی میٹنگ تھی نئے CM (اعظم خان) کے ساتھ۔ تو میں انشاللہ آپکا یہ کیس پوچھتا ہوں کہ کیا پوزیشن ہے اور 16 کروڑ اپکو بھجواتا ہوں ابھی لڑکوں سے کہتا ہوں۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ علی امین صاحب اگر صوبائی اسمبلی سے باہر رہ کے اگر اتنا کما سکتے ہیں تو بحثیت وزیر اعلیٰ کیا کر رہے ہوں گے جب صوبے کی ساری دولت ان کے ہاتھ سے گزرتی ہے-دوسروں پر چوری کے الزام اور گالم گلوچ کرنے والے خود ہی چور نکل رہے ہیں اسی وجہ سے 15 سال سے صوبے کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے.پی ٹی آئی کی کرپشن کا اپنا ہی لیول ہے عوام کو احتجاج پر لگا کے خود موجیں کر رہے ہیں –

    کراچی ایئرپورٹ کے قریب دھماکا، ایک شخص جاں بحق، 10 زخمی

    غزہ میں 10 ہزار سے زائدلاشیں لاکھوں ٹن ملبے تلے دبی ہونے کا انکشاف

  • سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس سننے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس سننے سے روک دیا

    بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات معطل کر دیئے ،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی کاروائی آگے نہیں بڑھا سکتی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں،سپریم کورٹ نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کو بھی نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 29 مئی اور 25 جون کا حکم اختیارات سے تجاوز ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر آڈیو لیکس کیس کا ریکارڈ طلب کر لیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی

    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا، تفتیش جاری ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنانا چاہتا، سچ جاننے کیلئے انکوائری کمیشن بنا اسے سپریم کورٹ سے سٹے دے دیا، سپریم کورٹ میں آج تک دوبارہ آڈیو لیکس کیس مقرر ہی نہیں ہوا، پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا، نہ پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا نہ عدالت کو تو سچ کیسے سامنے آئے گا؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن سے بات کی جا رہی ہو آڈیو انہوں نے لیک کی ہو،کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے،آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے،

    سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس کی کاروائی آگے بڑھانے سے روک دیا،سپریم کورٹ نے غیر قانونی سسرویلینس سے روکنے کا حکم بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ کی آج کی عدالتی کاروائی کے بعد اداروں کو ڈیجیٹل نگرانی پر بھی ریلیف مل گیا,

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے،جسٹس نعیم اختر افغان
    جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس سے متعلق سماعت روکنے سے پہلے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ جانچنے اور اس تک پہنچنے کیلئے کوئی تیار نہیں،حکومت نے آڈیو لیکس کمیشن بنایا تو اسے سپریم کورٹ سے رکوا دیا گیا، بس اسموک اسکرین بنا دو تا کہ سچ تک رسائی نا ہو سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وہ احکامات دیئے جس کی کسی نے استدعا ہی نہیں کی، سب سے پہلے تو آڈیو لیکس والے افراد کا موبائل لینا چاہیے تھا،جن افراد کی آڈیو لیک ہوئی ان کے موبائل فونز کیوں نہیں لیے گئے؟آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے

    آڈیو لیکس کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا جس میں مبینہ طور پر لطیف کھوسہ اور بشری بی بی کی آڈیو کا تنازعہ تھا جس پر وفاقی حکومت اپیل لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی اور سپریم کورٹ کے معزز ججز پر مشتمل دو رکنی بینچ جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان نے سماعت کی

    سماعت کے دوران ججز نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے آڈیو آپس میں بات کرنے والے دونوں میں سے کسی نے ریلیز کی ہو کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے؟ کیونکہ آج کل ہر موبائل ڈیوائس میں ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہے،جسٹس امین الدین خان نے حکم نامے میں لکھوایا کہ ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں آرٹیکل 199 کی حد کو عبور کیا ہے،کاونٹر ٹیررازم اور قانونی کاروائی کیلئے فون ٹیپنگ سے روکنے کا ہائیکورٹ کا حکم صرف ایک سماعت کیلئے تھا،سرویلینس سے روکنے کے حکم کو بھی سپریم کورٹ نے معطل کر دیا

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ  سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • آڈیو لیکس کیس،سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آڈیو لیکس کیس،سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    آڈیو لیکس کیس سپریم کورٹ پہنچ گیا، بشری بی بی نجم ثاقب آڈیو لیک کیس میں جسٹس بابر ستار کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان ،جسٹس نعیم افغان 19 اگست کو سماعت کرینگے،بشری بی بی نجم ثاقب نے آڈیوز کو اسلام آباد میں چیلنج کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کی کاروائی، حکم ناموں کیخلاف وفاق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،اب سپریم کورٹ میں درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی ہے،19 اگست کو دو رکنی بینچ سماعت کرے گا

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ  سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے۔جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا آپ لائیو کال کو مانیٹر کر سکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 2013ء میں نئی پالیسی آئی، وزارت داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ضرورت پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں.

    جسٹس بابر ستارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارت داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ ان میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کے کام کرنے کیا میکانزم ہے؟

    پی ٹی وی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے،پی ٹی اے کے پاس فون ٹیپنگ کے اختیارات نہیں،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ سرویلنس سے متعلق بنائے گئی پالیسی کی کیبنٹ میٹنگ کی منظوری کے منٹسس اگلی سماعت پر پیش کریں۔

    کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا،جسٹس بابر ستار
    جسٹس بابر ستار نے پولیس کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کسی کے گھر بغیر وارنٹ جا سکتے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا پولیس بھی کسی کی سرویلنس نہیں کرتی، جو سڑکوں پر کیمرا لگے ہیں وہ بھی خلاف قانون ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا بالکل ایسا ہی ہے آپ اس کا ڈیٹا نہیں لے سکتے، اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، پولیس وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں

    میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے،جسٹس بابر ستار
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت ان چیمبر کرلیں،جس پر جسٹس بابر ستار نےکہا کہ قانون بنا ہے یا نہیں اس کا ان چیمبر سماعت سے کیا تعلق ہے، یہاں ججز کے چیمبرز ٹیپ ہورہے ہیں، آپ کی بات میں نے سن لی یہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ نہِیں ہے،آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

    جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا اور کہا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

    پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پرلانے کی ہدایت
    وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے استفسار کیا کہ کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے،وکیل ٹیلی کام کمپنی نے عدالت میں کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا ٹیلی کام کمپنیز کو فون کال اور ڈیٹا ریکارڈنگ  روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا ٹیلی کام کمپنیز کو فون کال اور ڈیٹا ریکارڈنگ روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس کیس میں بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی-

    باغی ٹی وی : سماعت کے آغاز پر عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے وکیل سے استفسار کیا کہ پی ٹی اے نے جواب جمع نہیں کروایا ؟ وکیل نے بتایا کہ چھٹی کے باعث ہم اپنا جواب داخل نہیں کرواسکےبعد ازاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل روسٹرم پر آ گئے، جسٹس بابرستار نے استفسار کیا کہ یہ بتایا جائے کہ شہریوں کی کالز کس قانون کے تحت کون ریکارڈ کرتا ہے ؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیکشن 54 کے تحت پی ٹی اے کو اختیار ہے کہ وہ کالز ریکارڈ کرسکتا ہے، اور یہ کام لیگل فریم ورک کے ذریعے کر رہے ہیں، عدالت نے کہا کہ جو بھی ہے آپ بتائیں شہریوں کی کالز کس قانون کے تحت آپ ریکارڈ کر رہے ہیں، زبانی کلامی نہ بتائیں باضابطہ طور پر بتائیں، آپ بتائیں آپ نے کس کو اجازت دے رکھی ہے، کس نے اتھارٹی دی ہوئی ہے کہ لوگوں کی کالز ریکارڈ کی جائیں؟

    اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ مجھے تھوڑا وقت دے دیں میری استدعا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت برہم ہوگئی، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دئیے کہ کتنا وقت چاہیے؟ کب کی درخواست دائر ہوئیں ہیں؟ یہ 2023 میں درخواستیں آئیں ہیں، آپ کے مطابق کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی، اگر آپ اب اس مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے تو اس کے نتائج ہوں گے، قانون کہتا ہے کہ وفاقی حکومت اجازت دے سکتی ہے مگر آپ کے مطابق اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم آفس، وزارت دفاع، داخلہ، پی ٹی اے کہہ چکے کسی کو اجازت نہیں، تو آج کیسے اجازت دے دی؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پھر استدعا کی کہ مجھے تھوڑا سا ٹائم دے دیں، اس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کو نہیں پتا تھا کہ آج کیس لگا ہوا ہے؟ ایک سال سے یہ پٹیشنز زیر سماعت ہیں، اگر وفاقی حکومت عدالت میں جھوٹ بولے گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی؟ وزیراعظم آفس سمیت دیگر اداروں کی جانب سے رپورٹس جمع کرائی جا چکی ہیں، رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو لیگل انٹرسیپشن کی اجازت نہیں دی گئی۔

    اس پر اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ وہ جواب پٹیشنر کی آڈیو لیکس کی حد تک تھا،بعد ازاں جسٹس بابر ستار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ٹیلی گراف ایکٹ کی متعلقہ سیکشنز پڑھنے کی ہدایت دی،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ غیر قانونی سرویلنس ایک جرم جس کی قانون میں سزا موجود ہے، جب وفاقی حکومت نے جواب جمع کروایا تو عدالت نے اسے سنجیدہ لیا، پی ٹی اے کہہ رہا ہے کہ ہمیں کوئی اجازت نہیں دے رہا، سرویلینس کو اتھورائزڈ اگر کیا گیا ہے تو بتائیں کہاں موجود ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے اگر رولز نہیں بنے ہوئے تو بننے چاہئیں،عدالت نے پوچھا کہ کون بنائے گا رولز؟ کس کے ماتحت بنیں گے رولز؟ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور دیگر گریڈ 20 کے افسر کو نوٹیفائی کریں گے، یہ بتائیں کہ اداروں نے نوٹیفائی کر رکھا ہے اس حوالے سے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں یہ بات پوچھ کر بتا سکتا ہوں۔

    جسٹس بابر ستار نے کہا کہ انٹیلی جنس افسر کی طرف سے درخواست دی جائے گی، تیسرا مرحلہ حکومتی وزیر کی جانب سے سپورٹنگ مٹیریل دیکھ کر اجازت دینا ہے، اس قانون میں بھی پرائیویسی کو مدنظر رکھا گیا ہےایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ریویو کمیٹی ہونی چاہیے۔

    عدالت نے کہا کہ 11 سال سے قانون تو موجود ہے ریویو کمیٹی موجود نہیں، ریویو کمیٹی کیوں موجود نہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں پوچھ کر بتاؤں گا،جج نے کہا کہ کیا کبھی کسی خفیہ ریکارڈنگ کے لیے اِس قانون کے تحت آج تک عدالت سے اجازت مانگی گئی؟ قانون کے تحت ہر چھ ماہ بعد کسی کی ایسی خفیہ ریکارڈنگ کے اجازت نامے پر نظر ثانی کی جائے گی، کیا کوئی ایسی نظر ثانی کمیٹی آج تک بنی، عدالتی اجازت کے بغیر فون ریکارڈنگ اور فون ریکارڈنگ کی فراہمی بھی قابلِ سزا ہے، کیا پی ٹی اے کے لائسنس کی شرا ئط میں یہ چیزیں شامل ہیں یا پی ٹی اے نے اس حوالے سے کوئی پالیسی دی ہے؟جج نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اس قانون کو پچھلے ایک سال میں فالو کیا گیا ہے یا نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پوچھ کر بتاؤں گا۔

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر عدالتی سوالوں کے جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی،عدالت نے ٹیلی کام کمپنیز کو سرویلینس کے لئے فون کال اور ڈیٹا کے استعمال سے روکتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیلی کام کمپنیز کے آلات غیرقانونی سرویلنس کے لیے استعمال ہوئے تو ان پر اس کی ذمہ داری عائد ہو گی اگر کمپنیز نے یہ اجازت دی تو ان کے خلاف کرمنل کاروائی ہو گی، عدالت نے وفاق سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کے اعدادوشمار کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

  • ڈی جی آئی بی کو نوٹس ہے کیوں نہ  توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،عدالت

    ڈی جی آئی بی کو نوٹس ہے کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں آئی بی کی بینچ پر اعتراض واپس لینے کی متفرق درخواست خارج کر دی۔

    جسٹس بابر ستار پر اعتراض واپس لینے کی آئی بی کی درخواست پر سماعت ہوئی،  اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی بی کی بینچ پر اعتراض کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی اعتراض والی درخواست تو پہلے ہی خارج کی جا چکی ہے، درخواست خارج ہونے کا آرڈر آئے گا تو وہ آپ کو مل جائے گا، آرڈر میں ڈی جی آئی بی کو نوٹس ہے کیوں نا ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، آرڈر میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کس نے درخواست دائر کرنے کی اتھارٹی دی تھی، آپ نے جو جواب دینا ہے وہ آرڈر آنے کے بعد دے دیجیے گا،

    واضح رہے کہ پیمرا، آئی بی، پی ٹی اے، ایف آئی اے نے جسٹس بابر پر اعتراض کیا تھا اور آڈیو لیکس کیس سے الگ ہونے کی درخواستیں دی تھیں،پیمرا، پی ٹی اے، ایف آئی اے کی درخواستیں پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانوں کے ساتھ خارج کی گئی تھیں، آئی بی نے 3 اداروں پر 15 لاکھ جرمانے کے بعد اعتراض واپس لینے کی درخواست دائر کی تھی۔

    اضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی اے کو دوبارہ طلب کیا تھا، چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں گزشتہ سماعت پر پیش بھی ہوئے تھے،

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    آڈیو لیکس کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا، پی ٹی اے کی بینچ پر اعتراض کی متفرق درخواستیں پانچ لاکھ روپے جرمانہ لگا کر خارج کردیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس کیس کی سماعت ہوئی،بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے نجم الثاقب کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سماعت کی،عدالت نے پیمرا، پی ٹی اے، آئی بی اور ایف آئی اے کی متفرق درخواستوں پر بھی سماعت کی،عدالت نے درخواست دائر کرنے پر ایف آئی اے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع ہو سکتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے انٹیلیجنس بیورو کے جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ انٹیلیجنس بیورو کی متفرق درخواست کس کی منظوری سے دائر ہوئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو نے منظوری دی ہے،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ ان کا کوئی نام ہو گا، والدین نے کوئی نام رکھا ہو گا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ طارق محمود نام ہے۔جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آئندہ سماعت پر وہ خود پیش ہوں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جو درخواستیں آئی ہیں ان کو سن کر فیصلہ کروں گا، آئی بی، ایف آئی اے، پی ٹی اے سیریس ادارےہیں ان کی درخواستیں سن کر فیصلہ کیا جائے گا، انہوں نے درخواستیں دائر کیں اب میں انہیں سنوں گا، کس نے ان کو درخواستیں دائر کرنے کی اتھارٹی دی ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اتھارٹی دی، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا متعلقہ حصہ پڑھیں جہاں مجھ پر اعتراض کیا گیا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی ہے، اعتراض ہے ہائی کورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا ہے، جسٹس بابر ستار سمیت 6 ججز نے انٹیلیجنس ایجنسیز کی عدلیہ میں مداخلت کا خط لکھا،خط پر ازخود نوٹس کیس زیر سماعت ہے۔ اس لیے آڈیو لیکس کیس نہ سنیں،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے غیر قانونی آڈیو ٹی وی پر چلنے دیں یہ تو توہین عدالت ہے کیوں نہ پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، ججز خط کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے تو کیا فیصلہ آنے تک ہم آئی بی، ایف آئی اے و دیگر کے کیسسز نہ سنے اور بیٹھے رہے؟ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت چیئرمین پی ٹی اے اور ممبران کو شوکاز نوٹس جاری کرنے سے متعلق بھی دیکھے گی،عدالتی معاون بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ آج کی عدالتی فیصلے نے میرا قد بیس فٹ سے اونچا کردیا،

    آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ کے ججز کو بلیک میل کرنے سے ایف آئی اے کا کوئی تعلق ہے ؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایسا تو نہیں ہے لیکن خط میں لفظ اینٹلی جنس ایجنسیز استعمال کیا گیا ہے۔

    ایگزیکٹو ججز کو دھمکائے اور ججز توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کریں تو وہ مفاد کا ٹکراؤ کیسے؟ جسٹس بابر ستار
    مسلم لیگ نون کے سابق ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں لیکن کچھ کہنا چاہتا ہوں ، فضول غیر سنجیدہ درخواستیں دائر کرنے پر ان سب کی جیبوں سے جرمانہ لیا جائے ،قومی خزانے سے یہ رقم ادا نہیں دی جانی چاہیے ،یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے ،جسٹس بابر ستار نےایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے اہم مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی متفرق درخواستیں دائر کرنے کا مقصد عدالتی کارروائی کو شرمندہ کرنا ہے،ہم اور آپ ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں بالکل سمجھ رہے ہیں، اگر ایگزیکٹو ججز کو دھمکائے اور ججز توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کریں تو وہ مفاد کا ٹکراؤ کیسے ہے ؟کیا جج ذاتی مفاد کیلئے توہینِ عدالت کی کارروائی کرے گا؟کیا عدالت آئی بی اور ایف آئی اے کے سارے کیسز سننا چھوڑ دے؟ آپکی دلیل مان لی جائے تو پھر تو حکومت کے خلاف کوئی کیس ہی نہیں سننا چاہیے،

    واضح رہے کہ پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، پیمرا کی درخواست میں جسٹس بابر ستار کی آڈیو لیکس کیس سے علیحدگی کی استدعا کی گئی تھی،،پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی، جس میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کے دوسرے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک اور بنچ فیصلہ کر چکا ہے، چیئرمین پیمرا متعدد بار عدالت میں اس مقدمے میں پیش ہو چکے مگر کیس اب بھی زیر التواء ہے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جسٹس بابر ستار سماعت سے معذرت کر لیں،اس نوعیت کی درخواست پر فیصلہ دینے والا بنچ اس کیس کی باقی کارروائی بھی آگے بڑھائے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی اے کو دوبارہ طلب کیا تھا، چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں گزشتہ سماعت پر پیش بھی ہوئے تھے،

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • آڈیو لیکس کیس، جسٹس بابر ستار پر وفاقی حکومت کا اعتراض،علیحدگی کی درخواست

    آڈیو لیکس کیس، جسٹس بابر ستار پر وفاقی حکومت کا اعتراض،علیحدگی کی درخواست

    وفاقی حکومت نے جسٹس بابر ستار پر اعتراض اٹھا دیا ،آڈیو لیکس کیس کی سماعت سے علیحدگی کی استدعا کر دی

    اس ضمن میں پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی، پیمرا کی درخواست میں جسٹس بابر ستار کی آڈیو لیکس کیس سے علیحدگی کی استدعا کی گئی ہے،پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی، جس میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کے دوسرے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک اور بنچ فیصلہ کر چکا ہے، چیئرمین پیمرا متعدد بار عدالت میں اس مقدمے میں پیش ہو چکے مگر کیس اب بھی زیر التواء ہے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جسٹس بابر ستار سماعت سے معذرت کر لیں،اس نوعیت کی درخواست پر فیصلہ دینے والا بنچ اس کیس کی باقی کارروائی بھی آگے بڑھائے،بشری بی بی کی آڈیو لیک کیس کی 29 اپریل کو جسٹس بابر ستار کی عدالت میں سماعت ہونی ہے

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی اے کو دوبارہ طلب کیا تھا، چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں گزشتہ سماعت پر پیش بھی ہوئے تھے،

    دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار کا کردارمشکوک ہو چکا ہے۔ ان پر دوہری شہریت اور ذاتی نوعیت کے کاروبار کے الزامات لگے ہیں اب عدل وانصاف کا تقاضا ہے کہ جسٹس بابر ستار ان الزامات کی وضاحت دیں اور اگر ان میں سچائی ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف ایکشن لے

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستار نے سماعت کی،موبائل کمپنیز کے وکیل کی جانب سے دلائل دیئے گئے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کہہ رہی ہے ہم کسی کو مجاز نہیں کرتے ، وکیل موبائل کمپنیز نے کہا کہ سسٹم بھی لگا ہوا ہے چابی بھی ان کے پاس ہے وفاقی حکومت کا اختیار ہے گورنمٹ اور ایجنسیز کو سسٹم تک رسائی ہے وہ سسٹم ان کے دائرہ اختیار میں ہے ، ہم سسٹم تک پی ٹی اے کو رسائی دے دیتے ہیں وہ جس ایجنسی کو چاہتی ہے وہ دے دیتے ہیں ، پی ٹی اے اس حوالے سے بہتر جواب دے سکتا ہے ، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کسی موبائل کو ٹریس کرنے کے لیے آپ کا کیا کردار ہوتا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ یہ معلومات میں حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کروں گا ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ابھی تک مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ یہ سب کس قانون کے تحت ہو رہا ہے ؟ کسی ایجنسی کو اتھارٹی دی گئی آپ کو معلوم نہیں ، سسٹم جہاں لگا ہے آپ کی وہاں تک رسائی نہیں ہے ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت میں اپنی رپورٹ میں جو کہا تھا کہ رسائی نہیں دی گئی وہ اس آڈیو کال کی حد تک تھا ،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ دوگل صاحب ایسی بات نا کریں اٹارنی جنرل نے یہاں آکر کہا ہے کہ کسی کو کوئی اجازت نہیں دی گئی ، آٹھ ماہ سے پوچھ رہا ہوں کس فریم ورک کے تحت آپ کام کر رہے ہیں ،آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس آڈیو کال کی بات کر رہے تھے ،چار سیکریٹریز نے بیان حلفی جمع کرائے ہیں ، اگر کسی نے عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ، کل کو عام بندہ آپ کے پاس آجائے تو آپ اس کو مجاز ایجنسی تو نہیں کہیں گے ، آپ کو پتہ تو ہونا چاہیے نا کہ مجاز ایجنسی کون سی ہے جس کو آپ رسائی دے رہے ہیں اگر کوئی تفتیشی افسر آپ سے معلومات مانگے تو آپ دے دیں گے ؟ آپ کی طرف سے معلومات کیسے شئیر ہوتی ہے اس حوالے سے عدالت سمجھنا چاہتی ہے ، پی ٹی اے وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر کیسے لیگل انٹرسیپشن کی شقیں شامل کر سکتا ہے؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ قومی سلامتی یا کسی بھی جرم کے خدشے پر وفاقی حکومت فون ٹیپنگ کی اجازت دے سکتی ہے، فون ٹیپنگ کی اجازت دینا وفاقی حکومت کا اختیار ہے پی ٹی اے کا نہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے لیگل انٹرسیپشن کی کوئی اجازت نہیں دی، کیا وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر ٹیلی کام آپریٹرز کسی ایجنسی کو اجازت دے سکتے ہیں؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ اگر پی ٹی اے کے پاس ایسی کوئی شکایت آئے تو ریگولیٹر کے طور پر ایکشن لیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نیشنل سیکیورٹی کیلئے لیگل انٹرسیپشن کی اجازت دینے میں تو مسئلہ نہیں،آپ کا موقف ہے کہ پی ٹی اے نے لیگل انٹرسیپشن کیلئے کبھی خط و کتابت نہیں کی؟

    مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے،چیئرمین پی ٹی اے
    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا کہ میں بات کر سکتا ہوں؟ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جی بالکل، آپکو انا کی تسکین کیلئے نہیں بلکہ عدالتی معاونت کیلئے طلب کیا ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی اے کسی ایجنسی کو کوئی سہولت فراہم کر رہی ہے؟ چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پی ٹی اے نے یہ شق ڈالنی ہوتی ہے اس پر عملدرآمد ہوتا ہے یا نہیں اس سے ہمارا تعلق نہیں، لیگل انٹرسیپشن کے علاوہ لائسنس کی تمام شقوں پر پی ٹی اے عملدرآمد کراتا ہے،میں گزشتہ ہفتے بارسلونا میں ٹیلی کام سے متعلق کانفرنس میں Keynote Speaker تھا،90 فیصد موبائلز میں وائرس ہوتا ہے، کیمرہ بھی آپریٹ کیا جا سکتا ہے،اسرائیل کی ایک کمپنی نے پیگاسس سافٹ ویئر بنایا جو موبائل کو متاثر کرتا ہے، یہ مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے جسٹس بابر ستار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فون میرے پاس چھوڑ کر واش روم جائیں تو اتنی دیر میں اپنا موبائل کنکٹ کر کے مکمل رسائی لی جا سکتی ہے، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے کہہ رہے ہیں کہ غیرقانونی انٹرسپشن ایک سمندر ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب غیرقانونی فون ٹیپنگ ہو رہی ہے؟

    ٹیلی کام آپریٹرز کے وکیل کو آئندہ سماعت تک تحریری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،چیئرمین پیمرا مرزا سلیم بیگ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،اور کہا کہ پیمرا اس متعلق ایڈوائزری جاری کر سکتا ہے، آڈیولیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت آئیندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، آڈیو لیکس کیس،نجم الثاقب اور بشری بی بی کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نےسماعت کی،ڈی جی ایف آئی اے عدالتی حکم پر عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،پی ٹی اے کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ یہ کیس غیرموثر ہو چکا، نمٹا دیا جائے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے سامنے دو الگ درخواستیں ہیں،چیئرمین پی ٹی اے کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے بارسیلونا گئے ہوئے ہیں، تین چار دن میں واپس آ جائیں گے،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری آڈیو جو لیک ہوئی وہ اوریجنل تھی ، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ڈیجٹیل میڈیا اتنا بڑا سمندر ہے فیس بک یوٹیوب ہماری ایجنسیز کے دائرے اختیار سے باہر ہیں ، مرحوم جج ارشد ملک کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی پھر پانامہ کیس کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے ، جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ یہ پوزیشن لے رہی ہے کہ کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ،یہ آپ نے بتانا ہے کہ شہریوں کی پرائیویسی محفوظ ہے یا نہیں، وکیل ٹیلی کام کمپنیر نے کہا کہ پالیسی ، ایکٹ ، لائسنس کچھ اور کہتے ہیں ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟کیا ٹیلی کام آپریٹرز فون ٹیپنگ کی اجازت دے رہے ہیں؟

    اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر،آڈیو لیکس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں،ڈی جی آئی بی
    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ امریکہ، یوکے اور جرمنی میں بھی آڈیولیکس کے واقعات ہوتے ہیں، ایسی ڈیوائسز موجود ہیں جن سے یہ سب کرنا آسانی سے ممکن ہے، ہم کسی پر ذمے داری فکس نہیں کر سکتے جب تک تحقیقات نہ ہوں، آڈیو ٹیپ کرنے کی کنفرمیشن یا تردید نہیں کر رہے، اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں، اس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں۔وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ان لائسنسز میں قانون کی یہ شقیں کیوں رکھی جاتی ہیں یہ دیکھنا ہے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم بھی یہی سمجھنا چاہتے ہیں،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ پی ٹی اے نے کسی کو ہدایات جاری نہیں کیں، سرکاری افسران آپ سے گھبرا جاتے ہیں، میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

    کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی؟ جسٹس بابر ستار
    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کتنا عجیب جواب ہے کہ سیکشن 19 میں یہ مان رہے ہیں یہ جرم ہے، یہ پورا پورا دن ٹی وی چینلز پر چلاتے رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ مستقبل میں اسے کیسے روکا جا سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم سب کی پرائیویسی خطرے میں ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کلائنٹ سے بات کر رہا ہوں اور اسے کوئی اور بھی سن رہا ہو،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ کیا کوئی فریم ورک ہے؟ کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آٹھ فروری کو تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کھوسہ صاحب آٹھ فروری کو درمیان میں لے کر مت آئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہم سوموٹو کر رہے ہیں، آٹھ فروری سے متعلق ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کر لیے.عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے