Baaghi TV

Tag: آڈیو لیکس

  • ججوں کا نیب قوانین کے تحت ٹرائل کیا جا سکتا ہے،عرفان قادر

    ججوں کا نیب قوانین کے تحت ٹرائل کیا جا سکتا ہے،عرفان قادر

    معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم تو موجود ہے، لیکن عدلیہ میں کرپشن کا عنصر آجائے تو ججوں کا نیب قوانین کے تحت ٹرائل کیا جاسکتا ہے.

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اعلی عدلیہ بھی نیب قانون کے دائرہ کار میں آتی ہے ،ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے، نیب بھی دیکھ سکتا ہے، کرپشن کسی بھی معاشرے کے لئے ناقابل قبول ہے اسکے حتمی خاتمے کے لئے عالمی اداروں کے شانہ بشانہ کام رہے ہیں فوج میں بھی آرمی ایکٹ سمیت دیگر قوانین ہیں جب کہ ججز سے متعلق کیسز سپریم جوڈیشل کونسل جاتے ہیں اس قانون میں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس آئیں جس پر حکومت نے ججز پر مشتمل ایک کمیشن قائم کیا آڈیو لیکس میں کرپشن کا بھی عنصر ملتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کمیشن کی پروسیڈنگ کو روک دیا گیا پارلیمان کے قوانین کو نہیں مانا جا رہا لہٰذا قانون کا اطلاق ہونے سے پہلے ہی قانون سازی کو نہیں روکا جا سکتا انصاف سب کے لئے اور احتساب سب کا ہونا چاہئے ہر وہ کام جس کی قانون اجازت نہیں دیتا وہ کرپشن ہے جب تک احتساب نہیں ہوگا کرپشن ختم نہیں ہو سکتی البتہ یہ نہیں ہوسکتا کچھ لوگوں کے خلاف احتساب ہو باقی سے پوچھ گچھ نہ کی جائے

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    تحریک لبیک کا مہنگائی مارچ ،مبشر لقمان نے بھی حمایت کر دی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

  • آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    سپریم کورٹ ،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل تھے،درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف چمبر اپیل دائر کی ہے۔تمام متفرق درخواستوں کو نمبرز لگے ہیں میری اپیل پر نمبر نہیں لگا اپیل کو اوپن کورٹ میں لگا کر سماعت کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے درخواست پر اعتراض کیا لگا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے توہین عدالت کی درخواست کے درخواست گزار کی سرزنش کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے آپ نے توہین عدالت کی درخواست کس کیخلاف دائر کی ہے آپ نے ججز پر توہین عدالت کا الزام لگایا ہے عمومی طور پر ججز کو توہین عدالت کی درخواستوں میں فریق نہیں بنایا جاتا مناسب ہے پہلے توہین عدالت کی درخواست پر لگے اعتراضات کو دور کریں توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور متعلقہ شخص کے مابین ہوتا ہے ،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق آج ججز کیخلاف دائر اعتراضات پر دلائل ہونے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراضات پر دلائل شروع کریں

    اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ کس نقطے پر بات کرنا چاہیں گے؟ آپ ایک چیز مس کر ریے ہیں،چیف جسٹس پاکستان ایک آئینی عہدہ ہے، مفروضہ کی بنیاد پر چیف جسٹس کا چارج کوئی اور نہیں استعمال کر سکتا، اس کیس میں چیف جسٹس دستیاب تھے جنہیں کمیشن کے قیام سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا، چیف جسٹس کے علم میں نہیں تھا اور کمیشن بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ان نکات پر آپ دلائل دیں، اٹارنی جنرل نے بنچ پر اعتراض کی درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ عدالت نے حکم نامہ میں جن فیصلوں پر انحصار کیا وہ ججز کی جانبداری سے متعلق ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنسز ان فیصلوں کے دیے گئے ہیں جہاں متبادل نہ ہو تو فیصلہ مجاز فورم ہی کرتا ہے، ایسی صورتحال میں جانبداری کا الزام واحد دستیاب فورم پر نہیں لگ سکتا، چیف جسٹس کا عہدہ آئینی ہے جس کے انتظامی اختیارات بھی ہوتے ہیں، چیف جسٹس دستیاب نہ ہوں تو آئین کے تحت قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر ہوتا ہے،چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے اختیارات کسی اور کو تقویض نہیں کیے جا سکتے، موجودہ کیس میں کیا الزامات ہیں معلوم نہیں، چیف جسٹس نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کمیشن کیلئے ججز دستیاب ہیں یا نہیں، مفادات کا ٹکرائو ہو بھی تو چیف جسٹس آفس ہی فیصلہ کرے گا کیونکہ یہ آئینی عہدہ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک اعتراض بنچ کی تشکیل دوسرا کمیشن کے ٹی او آرز کی بنیاد پر ہے، چیف جسٹس کی جانب سے کمیشن کیلئے نامزدگی دوسرا اعتراض ہے، ججز ضابطہ اخلاق کے تحت موجودہ بنچ کے کچھ ممبران کیس نہیں سن سکتے، مفادات کا ٹکرائو ہو تو ججز کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ اختیارات کی آئینی تقسیم اور قانونی نکات پر بات کریں،عدلیہ کی آزادی کے نکتے اور ماضی کے عدالتی فیصلوں سے متفق ہیں یا نہیں پہلے یہ بتائیں،آپ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے بنچ کی تشکیل پر دلائل دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس نقطے پر جا رہے ہیں کہ ہم میں سے تین ججز متنازعہ ہیں؟ اگر اس پر جاتے ہیں تو آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر فرض کر لیا کہ ہم میں سے تین کا کنفلکٹ ہے،میں چاہوں گا آپ دوسروں سے زیادہ اہم ایشو پر فوکس کریں،دوسرا اور اہم ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر کا آڈیو لیکس سے تعلق ہے آپ تینوں ججز کیس نہ سنیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی موجودگی میں پوچھے بغیر ججز پر مشتمل کمیشن تشکیل دے دیا گیا، یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس پر دلائل دیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا قانونی طور پر درست ہے جسے آڈیوز کی حقیقت کا نہیں پتہ وہ بنچ پر اعتراض اٹھائے؟ میں آپ کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا پوچھ رہا ہوں وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کیوں کی، کیا ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بیان کے بعد تو اس وزیر کو ہٹا دیا جاتا یا وہ مستعفی ہوجاتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا ایک وزیر کا بیان پوری حکومت کا بیان لیا جا سکتا ہے؟میرے علم میں نہیں اگر پریس کانفرنس کسی نے کی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اتنے اہم ایشو پر کابینہ کی اجتماعی زمہ داری سامنے آنی چاہیے تھی، وزیر اگر چائے پینے کا کہے تو الگ بات، یہاں بیان اہم ایشو پر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے کہ وزیر داخلہ کا بیان نو مئی سے پہلے کا ہے یا بعد کا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واہ کیا خوبصورت طریقہ ہے اورعدلیہ کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے، پہلے ان آڈیوز پر ججز کی تضحیک کی پھر کہا اب ان آڈیوز کے سچے ہونے کی تحقیق کروا لیتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑا آسان ہوجائے گا کسی بھی جج کو کیس سے ہٹانا ہے تو اس کا نام لے کر آڈیو بنا دو،کیس سے الگ ہونے کے پیچھے قانونی جواز ہوتے ہیں، یہ آپشن اسلیے نہیں ہوتا کوئی بھی آکر کہہ دے جج صاحب فلاں فلاں کیس نہ سنیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اسی لیے اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آڈیوز کس نے پلانٹ کی ہیں، کیا حکومت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کون کر رہا ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت کمیشن کے زریعے اس معاملے کو بھی دیکھے گی،کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں کمیشن کے زریعے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا،ابھی تو یہ معاملہ انتہائی ابتدا کی سطح پر ہے، وفاقی حکومت کے مطابق یہ آڈیوز مبینہ آڈیوز ہیں، وفاقی حکومت کا یہی بیان دیکھا جانا چاہیے،کابینہ کے علاوہ کسی وزیر کا ذاتی بیان حکومت کا بیان نہیں،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ اگر وزیر خزانہ کچھ بیان دے تو کیا وہ بھی حکومت کا نہ سمجھا جائے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی معاملہ اگر سپریم کورٹ کے تمام ججز سے متعلق نکل آئے پھر یہ نظریہ ضرورت پر عمل ہوسکتا ہے،اگر تمام ججز پر سوال ہو پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی نے تو سننا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نے اپنے وسائل استعمال کر کے پتہ کیا کہ آڈیوز ریکارڈ کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہیں؟ کون یہ سب کر رہا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ نے آڈیوز کو مبینہ قرار دیتے ہوئے کمیشن تشکیل دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بدنام کرکے معاملہ حقائق جاننے کیلئے بھیج دیا گیا،واہ کیا خوبصورتی سے یہ کام کیا گیا، ججز کی تضحیک کی آخر کیا وجہ تھی؟ کابینہ نے خود کو ایسے بیانات سے الگ کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم میڈیا اور پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر آپ کو شرمندہ کریں؟ حقائق جانے بغیر ججز کی تضحیک کی گئی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سائل نے جج تبدیل کرانا ہو تو ایک آڈیو بنا کر لیک کروا دے گا، اکثر سائلین خود پیش ہوتے ہیں کیس نہ بنتا ہو تو جج پر الزام لگا دیتے ہیں،کیا ایسے موقع پر جج نظام انصاف کو دیکھے یا اٹھ کر چلا جائے اور کیس نہ سنے؟ کل کوئی جج کا نام لے کر ویڈیو بھی ٹوئٹر پر ڈال سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیوز کو پلانٹ کیا گیا حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ تعین کر سکے کس نے پلانٹ کیا، کمیشن بھی حکومت سے ہی معاونت لے گا، کیا حکومت نے آڈیوز کے حوالے سے کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے آڈیوز کیلئے کمیشن تشکیل دیا ہے کمیشن جس بھی ادارے کو کہے گا وہ معاونت کرینگے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کیس سننے والے سات میں سے چار ججز کی فون ٹیپنگ کی گئی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں صدر کے اختیارات کا سوال تھا،بینظیر کیس میں بینچ پر اعتراض نہیں ہوا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا اس کیس میں ججز نے ٹھیک فیصلہ نہیں کیا جن کی کالز ٹیپ ہوئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کیس تعصب کا نہیں مفادات کے ٹکراو کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ اعتراض صرف جوڈیشل کاروائی پر بنتا ہے یا انتظامی امور کی انجام دہی پر بھی ہے؟ ایک ٹویٹر ہینڈل بار بار ایسا مواد جاری کر رہا ہے، یہ سوال ہے ایسی آڈیوز لیک کون کرتا ہے، جس ٹویٹر اکاؤنٹ نے یہ آڈیوز جاری کی اسکے خلاف کیا قانونی کاروائی کی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری اس سارے معاملے پر کوئی بدنیتی نہیں ہے، بنچ تبدیل ہونے سے کمیشن کے خلاف عدالت آئے درخواست گزاروں کا حق متاثر نہیں ہوگا،استدعا ہے کہ بنچ تبدیلی کی درخواست کو زیر غور لائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دو اور ججز پر بھی ہے، ہماری درخواست کا متن آپ کے سامنے ہے اس کا جائزہ لے لیں، کمیشن آڈیو سے متعلق تمام عوامل کا جائزہ لے گا۔وفاقی حکومت کا موقف ہے یہ آڈیوز مبینہ ہیں۔کسی نے پریس کانفرنس کی ہے تو اسکا انفرادی فعل ہے انفرادی فعل پر کابینہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر وزراء کے بیانات کو حکومت کی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تحریری اعتراض جج پر اٹھایا جائے تو صورتحال مختلف ہوجاتی ہے ،وفاقی حکومت کا کسی جج کیخلاف تعصب کا نہیں ،وفاقی حکومت کا کیس ججز کے مفادات کے ٹکراو کا ہے ،ججز پر اعتراض کسی منفی مقصد کے تحت نہیں اٹھایا گیا

    اٹارنی جنرل نے دوران سماعت ارسلان افتخار کیس کا حوالہ دیا،اور کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں بنچ سربراہ جسٹس افتخار چوہدری تھے،ایک فریق کی استدعا پر جسٹس افتخار چوہدری نے خود کو بنچ سے الگ کر لیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دیگر دو ججز پر بھی ہے، کیا آپ دیگر دو ججز پر اعتراض واپس لینگے یا باری باری ہر جج پر دلائل دینگے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست اور اعتراضات کا متن عدالت کے سامنے ہے،بنچ کی تشکیل پر اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کر لئے

    وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تمام آڈیوز 16 فروری کے بعد کی ہیں، عدالت نے انتخابات کا مقدمہ سننا شروع کیا تو آڈیوز آنا شروع ہوگئیں، ایک ہیکر کے اکائونٹ سے تمام آڈیوز لیک کی جاتی ہیںحکومت انتخابات کیس میں فریق ہے وہی کمیشن بھی بنا رہی ہے، پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آڈیوز ریکارڈ اور لیک کون کر رہا ہے، کمیشن کے ٹی او آرز میں آڈیوز ریکارڈ کرنے والے کا ذکر ہوتا پھر تو بات تھی، یہاں عدالت کے سامنے ایک آئینی نوعیت کا معاملہ ہے، یہاں سوال ایگزیکٹو کی عدلیہ میں مداخلت کا ہے، اس بنچ نے کسی کے حق میں یا خلاف فیصلہ نہیں دینا ایک تشریح کرنی ہے،جس بنیاد پر بنچ تبدیلی کی درخواست ہے وہ دیکھی، کیا ہم آڈیوز کو پہلے ہی تسلیم کر لیں؟یہ تو بلیک میلنگ کا بہت آسان طریقہ ہوجائے گا، کسی بھی فیک آدمی کے زریعہ جعلی آڈیوز بنوا دی جایا کریں گی،اس عدالت نے صرف الیکشن کرانے کا کہا تھا،اس پر آڈیوز آنے لگی اور ٹاک شوز میں کیا نہیں کہا گیا پیمرا اس دوران کہاں ہے دیکھ لیں پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر دیکھ لیں،عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی،عدلیہ کی آزادی بہت اہم ہے، لوگ عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں،لوگوں کے سیاسی نظریات پر ان کے بیاسی سال کے والد کو اٹھا لیا جاتا ہے،کیا عدلیہ میں ایگزیکٹو ایسے مداخلت کرے گی،

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار رکھا گیا ہے، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • غیرقانونی طورپرریکارڈ کی گئی کالزکوریلیزکرنےکی ذمہ داری کس پرعائد ہوگی؟ ،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹےکی طلبی کا سمن معطل کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کےجسٹس بابر ستار نے7 صفحات پرمشتمل تحریری حکمنامےمیں کہا ہےکہ بتایا جائےکیا آئین اور قانون شہریوں کی کالز کی سرویلنس اور خفیہ ریکارڈنگ کی اجازت دیتا ہے؟ اگرفون ریکارڈنگ کی اجازت ہے تو کون سی اتھارٹی یا ایجنسی کس میکنزم سے یہ کام کرسکتی ہے؟ اگر اجازت نہیں تو شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پرکون سی اتھارٹی ذمہ دار ہے؟-

    چئیرمین نیب کے اختیارات میں اضافہ،نوٹیفیکیشن جاری

    عدالت نے سوال کیا ہےکہ غیر قانونی طور پرریکارڈ کی گئی کالز کوریلیزکرنےکی ذمہ داری کس پرعائد ہوگی؟ کیا پارلیمنٹ کسی پرائیویٹ شخص کے معاملے پرانکوائری کرسکتی ہے؟ کیا رولز اجازت دیتے ہیں کہ اسپیکرعام افراد کی گفتگو لیک ہونےپرخصوصی کمیٹی بنائیں؟ پارلیمنٹ کے احترام اور تحمل کرتے ہوئے خصوصی کمیٹی کا نوٹیفکیشن معطل نہیں کر رہے۔

    82 سالہ اداکار کی 29 سالہ ساتھی کے ہاں بچے کی ولادت متوقع

    تحریری حکمنامے میں عدالت نے عام افراد کی ٹیلیفونک گفتگو کی ریکارڈنگز اور آڈیولیکس پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی ہے عدالت نے وفاق، وزارت داخلہ، وزارت دفاع اورپی ٹی اے کو بھی پٹیشن میں فریق بنانےکی ہدایت کی ہےسیکرٹری قومی اسمبلی سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتےہوئے شق وار جواب دینےکی ہدایت کی گئی ہےجبکہ عدالت نےاعتزاز احسن، مخدوم علی خان، رضا ربانی اور محسن شاہنواز رانجھا کو عدالتی معاونین مقرر کیا ہے۔

    امریکا کا یوکرین کیلئے30 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کا اعلان

  • سپریم کورٹ،آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع

    سپریم کورٹ،آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع

    سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بھی بینچ میں شامل تھے ،رجسٹرار سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کیس سننے والے ججز پر اعتراضات کی حکومتی درخواست واپس کر دی، کہا کہ جو درخواست کرنی ہو وہ کھلی عدالت میں کریں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیکس کمیشن کا جواب موصول ہوگیا ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن نے جواب میں ٹاک شوز کا بھی ذکر کیا ہے، ٹاک شوز میں ایک سال سے عدلیہ کا دفاع کرنے جاتے ہیں، ٹاک شوز میں جو گفتگو ہوتی ہے وہ عدالت کے سامنے ہے، عدالت کے دروازے پر جو زبان استعمال کی گئی وہ ڈھکی چھپی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے شعیب شاہین کو ہدایت کی کہ کمیشن کے جواب پر تحریری موقف جمع کروا دیں،تحریری موقف آئے گا تو جائزہ لیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراضات کی درخواستیں بھی آئی ہیں، آئندہ سماعت پر درخواستیں سن کر فیصلہ کرینگے، بنچ پر اعتراض پر مبنی درخواستیں پہلے سنی جائیں گی، بنچ پر اعتراض کی حکومتی درخواست کو نمبر الاٹ نہیں ہوا، اعتراض پر مبنی درخواستیں کمرہ عدالت میں دی جاتی ہیں، چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کی درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کر دی ،درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی عدولی ہو رہی ہے، توہین عدالت کی درخواست دائر کرنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست آفس میں فائل کریں جو مروجہ طریقہ ہے،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ بنچ پر اعتراض تو عدالت مسترد کر چکی ہے، سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ،سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس پر بنائے گئے کمیشن پر حکم امتناع میں توسیع کر دی

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل تھے تا ہم سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور سپریم کورٹ نے کمیشن کو کام سے روک دیا، کمیشن کی آخری سماعت ہفتہ کو ہوئی جس میں کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے کام روک دیا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

  • عدالت نے آڈیولیک تحقیقاتی کمیٹی کو ثاقب نثارکے بیٹےکیخلاف کارروائی سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیولیک تحقیقات کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے خلاف کارروائی سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیولیک تحقیقات کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی-

    امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ان کی بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات ہو …

    دوران سماعت جج نے سوال کیا کہ کیا یہ اسپیشل کمیٹی ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ اسپیشل کمیٹی کے لیے بھی وہی رولز ہوں گے جو عام کمیٹی کے لیے ہوتے ہیں عدالت نے کہا کہ آپ کو متعلقہ وزارت کو پارٹی بنانا پڑے گا۔

    وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کوئی متعلقہ وزارت اس معاملے میں ہے ہی نہیں پھر بھی ہم بنا دیں گے، ہم نے صرف یہ چیلنج کیا ہے کہ اسپیکر اور اسمبلی کوپرائیویٹ معاملہ دیکھنےکا اختیار نہیں، سپریم کورٹ میں جو معاملہ زیر التوا ہے ہم نے اس کو چیلنج نہیں کیا،آڈیو لیک دو پرائیویٹ لوگوں کے درمیان مبینہ طور کی گئی بات چیت ہے، پارلیمنٹ کو 2 پرائیویٹ لوگوں کے معاملے کو دیکھنے کا اختیار نہیں۔

    عدالت نے خصوصی کمیٹی کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے خلاف کارروائی سے روک دیا اور پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے نجم الثاقب کی طلبی کا نوٹس بھی معطل کردیا۔

    پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی جاری رہی تو پاکستانی روپیہ مزید گرے گا،بلوم برگ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے درخواست پر رجسٹرارآفس کے اعتراضات بھی دور کر دیئے، عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت کو 19 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیئے اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا ہے کہ یہ آڈیوز ریکارڈ کون کرتا ہے؟-

    واضح رہےکہ گزشتہ دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر ابوزر چدھڑ سے ٹکٹ کے معاملے پر بات کر رہے تھے جب کہ ثاقب نثار نے بھی آڈیو میں بیٹے کی آواز کی تصدیق کی تھی۔

    آصف علی زرداری لاہور پہنچ گئے

    اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی تھی نجم الثاقب نےاسپیکر اسمبلی کی بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کر رکھی ہے۔

  • اسپیکرقومی اسمبلی کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    اسپیکرقومی اسمبلی کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے اسپیکر کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کے خلاف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اسپیکر کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کےخلاف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نےدرخواست دائر کی ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک کمیٹی کو کام سے روکا جائے۔

    9 مئی :حساس ادارے کے دفتر پر حملےکے 4 ملزمان کیخلاف آرمی ایکٹ کےتحت مقدمہ …

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کل درخواست پر سماعت کریں گےاسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی ہے درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ کمیٹی کی تشکیل کالعدم قرار دی جائے-

    واضح رہے کہ 21 مئی کو وفاقی حکومت نے ججز کی آڈیو لیکس کے معاملے پرتحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا تھا جس کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کمیشن کے ارکان میں شامل ہیں۔

    9 مئی حملوں کی ابتدا اورسوشل میڈیا پر اخلاقیات کی تباہی عارف علوی نے کی …

    25 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست 26 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کی تھی 26 مئی کو سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے 31 مئی کو اگلی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔

    چیئرمین نیب ریکارڈ سمیت پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے طلب

  • آڈیو لیکس کی تحقیقات،نیا کمیشن بنانے کی حکومتی تجویز

    آڈیو لیکس کی تحقیقات،نیا کمیشن بنانے کی حکومتی تجویز

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کا معاملہ .وفاقی حکومت نےسپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحقیقات کا عمل مکمل کرنے پر مشاورت شروع کر دی

    سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں نیا کمیشن بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کمیشن میں خفیہ اداروں کے سینیر افسران اور متعلقہ وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہونگے ۔تجویز وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور معاون خصوصی عرفان قادر نے دی حکومت نے آڈیو لیکس سے متعلق نئے کمیشن کا معاملہ وفاقی کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے اینٹلی جنس اداروں کی رپورٹس پر غور کے بعد نیا کمیشن بنانے کی حتمی منظوری متوقع ہے،وفاقی وزارت داخلہ اور وزارت قانون اس حوالے سے اپنی اپنی سفارشات پیش کریں گی

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل تھے تا ہم سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور سپریم کورٹ نے کمیشن کو کام سے روک دیا، کمیشن کی آخری سماعت ہفتہ کو ہوئی جس میں کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے کام روک دیا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے، آج کی کارروائی کا حکمنامہ جاری کریں گے،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

  • آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے قائم انکوائری کمیشن کا معاملہ.انکوائری کمیشن کے لیے کیمرے، کمپیوٹر، پرنٹر و دیگر سامان واپس بھجوا دیا گیا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے انکوائری کمیشن کی کاروائی روک دی تھی. انکوائری کمیشن نے جدید آلات کے ذریعے کاروائی کو آگے بڑھانا تھا. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کاروائی ملتوی کردی ہے.

    مبینہ آڈیوز انکوائری کمیشن کے دوسرے اجلاس کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا محکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے پانچ ججز کا 26 مئی کا جاری کردہ آرڈر پڑھ کر سنایا، اٹارنی جنرل نے کہا درخواست گزاروں نے انکوائری کمیشن کے خلاف مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اٹارنی جنرل سے پوچھا کیا انکوائری کمیشن کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے فریق بنایا گیا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صدر سپریم کورٹ بار اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار نے کمیشن کو بذریعہ سیکرٹری فریق بنا رکھا ہے، اس تناظر میں انکوائری کمیشن کا اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے،

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن ،جسٹس قاضی فائز عیسی اور کمیشن کے ارکان سپریم کورٹ پہنچ گئے. اٹارنی جنرل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ،آج آڈیو لیکس کمیشن نے گواہان کو طلب کر رکھا تھا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کل کمیشن کو کاروائی سے روک دیا تھا سپریم کورٹ نے کل کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا تھا.

    مبینہ آڈیو لیکس کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا دوسرا اجلاس شروع ہو گیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن کاروائی کر رہا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز عامر فاروق اور نعیم افغان کمیشن کا حصہ ہیں ،اٹارنی جنرل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں تھا تو کام سے کیسے روک دیا،سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سن کر اس کے بعد کوئی حکم جاری کیا جاتا ہے،جسٹس قاضی فائز نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کیوں کل کمرہ عدالت میں تھے نوٹس تھا یا ویسے بیٹھے تھے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ مجھے زبانی بتایا گیا تھا کہ آپ عدالت میں پیش ہوں،سماعت کے بعد مجھے نوٹس جاری کیا گیا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایک جج کے خلاف الزام پر سیدھا ریفرنس جائے تو وہ پوری زندگی بھگتتا رہے گا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عبدالقیوم صدیقی کو روسٹرم پر بلا لیا ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے انہیں کمیشن کی کارروائی پرکوئی اعتراض نہ ہو ان کے دوسرے فریق نے ہمیں درخواست بھیجی انکے دوسرے فریق نے کہا کہ وہ میڈیکل چیک اپ کے لیے لاہور ہیں، کہا جب لاہورآئیں توان کا بیان بھی لے لیں،عابد زبیری اور شعیب شاہین نے آج آنے کی زحمت بھی نہیں کی، کیا انہیں آ کر بتانا نہیں تھا کہ کل کیا آرڈ ہوا ،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو جج کا حلف پڑھنےکی ہدایت کی ، انہوں نے حلف پڑھا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حلف میں لکھا ہے فرائض آئین و قانون کے تحت ادا کروں گا یہ انکوائری کمیشن ایک قانون کے تحت بنا ہے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت یہ کمیشن بنایا گیا ہم صرف اللہ کے غلام ہیں اور کسی کے نہیں شعیب شاہین روزانہ ٹی وی پربیٹھ کر وکلا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہیں ہمیں قانون سکھانے آگئے ہیں رولز کے مطابق وکیل اپنے مقدمے سے متعلق میڈیا پر بات نہیں کر سکتا کوئی بات نہیں سکھائیں ہم تو روزانہ قانون سیکھتے ہیں ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سانحہ کوئٹہ کا ذکرکرتے ہوئے جذباتی ہوگئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس طرح کی دردناک تحقیقات کرنی پڑتی ہیں اب ہمیں ٹاک شوز میں کہا جائے گا ہم آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں حلف کے تحت اس کمیشن کی اجازت نہ ہوتی تو معذرت کر کے چلا گیا ہوتا ٹی وی پر ہمیں قانون سکھانے بیٹھ جاتے ہیں یہاں آکر بتاتے نہیں کہ اسٹے ہوگیا ہے ایک طرف پرائیویسی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنی آڈیوز پر ٹاک شو میں بیٹھے ہیں ہم ججز ٹاک شو میں جواب تو نہیں دے سکتے بطور وکیل ہم بھی اس لیے آرڈر لیتے تھے کہ اگلے روز جا کر متعلقہ عدالت کو آگاہ کرتے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ یہ ٹویٹر کیا ہے؟ پتہ تو چلے کہ کون آڈیو جاری کررہا ہے، اصلی ہیں بھی یا نہیں ہوسکتا ہے جن لوگوں کی آڈیوزہیں انہوں نے خود جاری کی ہوں ہوسکتا ہے عبدالقیوم صدیقی نے اپنی آڈیو جاری کی ہو تحقیقات ہونگی تو یہ سب پتا چل سکے گا جج کو پیسے دینے کی بات ہورہی ہے مگر تحقیقات پر اسٹے آجاتا ہے ججز کے بارے میں آڈیوز آئیں تحقیقات تو ہونی چاہیں پرائیویسی کی آڑ میں کیا کسی الزام کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے مجھے کوئی مرضی کے فیصلے کے لیے رقم آفر کرے تو کیا یہ گفتگو بھی پرائیویسی میں آئے گی؟ کیا راستے پر کوئی حادثہ ہوجائے تو اس کی ویڈیو جاری کرنا پرائیویسی کے خلاف ہوگا؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر ایک سافٹ ویئر ہے، ہیکر کا مجھے علم نہیں شاید میڈیا والوں میں سے کوئی جانتا ہو

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حیران ہوں آپ نے کل ان نکات کو رد نہیں کیا، شعیب شاہین نے میڈیا پر تقریریں کر دیں، یہاں آنے کی زحمت نہ کی پرائیویسی ہمیشہ گھر کی ہوتی ہے کسی کے گھر میں جھانکا نہیں جاسکتا باہر سڑکوں پر جو سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں کیا یہ بھی پرائیویسی کے خلاف ہیں؟ آپ نے کل عدالت کو بتایا کیوں نہیں ان کے اعتراضات والے نکات کی ہم پہلے ہی وضاحت کرچکے ابھی وہ اسٹیج ہی نہیں آئی تھی نہ ہم وہ کچھ کر رہے تھے کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں کیا گیا تھا توکام سے کیسے روک دیا، ہم کمیشن کی مزید کارروائی نہیں کر رہے ہم آج کی کارروائی کا حکم نامہ جاری کریں گے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں زندگی میں بعض ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے، ہمیں پٹیشنرز بتا رہے ہیں کہ حکم امتناع ہے آپ سن نہیں سکتے، وکلا کوڈ آف کنڈکٹ کو کھڑکی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا ہے، ہم بعض کام خوشی سے ادا نہیں کرتے لیکن حلف کے تحت ان ٹاسکس کو ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں، ہمیں اس اضافی کام کا کچھ نہیں ملتا، ہمیں کیا پڑی تھی سب کرنےکی

    آڈیو لیکس کمیشن کی کارروائی روک دی گئی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے، آج کی کارروائی کا حکمنامہ جاری کریں گے،

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت نے پانچ رکنی لارجر بنچ پر اعتراض اٹھا دیا ،حکومت کی جانب سے اعتراض اٹارنی جنرل نے کیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس کو اس بنچ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا چیف جسٹس کا استحقاق ہے، مناسب یہی ہے کہ چیف جسٹس اس مقدمے کو نہ سنیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراض کا آپ کو پورا موقع دیا جائے گا، 9 مئی کے سانحے کے بعد عدلیہ کے خلاف بیان بازی بند ہو گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں،عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے،حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی،
    حکومت کسی جج کو اپنی مرضی کے مطابق بینچ میں نہیں بٹھا سکتیاگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے،9 مئی کے واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی،حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے ،آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں نامزدگی کیلئے مشاورت بھی نہیں کی گئی عدلیہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر کوشش نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، ہر بات کھل کر قانون میں نہیں دی گئی ہوتی، آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عدلیہ اصلاحات بل کس کے مشورے سے لایا گیا؟ حکومت نے فیملی سمیت ہر مقدمہ ہی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل کیس میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کیخلاف ہے، عدلیہ اصلاحات قانون خود کہتا ہے 184/3 کے مقدمات پانچ رکنی بنچ سنے گا، اگر لارجر بنچ نے اپیل سننی ہو تو ججز کئی دستیاب نہیں ہونگے،ہمارے انتظامی امور میں مداخلت کرینگے تو کیسے ریلیف ملے گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل پر اعتراض دور کر دینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراض دور کریں کس نے روکا ہے؟ اعتراضات دور ہوگئے تو شاید ریلیف بھی مل جائے، آٹھ رکنی بنچ بنانے کی یہی وجہ ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اختیارات سے متعلق قانون میں حکومت نے پانچ ججز کے بینچ بنانے کا کہہ دیا، نئے قانون میں اپیل کیلئے پانچ سے بھی بڑا بینچ بنانے کا کہہ دیا،ہمارے پاس ججز کی تعداد کی کمی ہے، حکومت بتائے اس نے سپریم کورٹ کے بارے میں قانون سازی کرتے وقت کس سے مشورہ کیا، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا،ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے، یہ سب انا کی باتیں نہیں آئین کی باتیں ہیں،آئین اختیارات کی تقسیم کی بات کرتا ہے،

    دوران سماعت 9 مئی کے واقعات کا بھی تذکرہ ہوا،. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں آپکا اور حکومت کا احترام کرتے ہیں،اب شدت سے سب کو احساس ہو رہا ہے کہ اداروں کا احترام ضروری ہے، 9 مئی کے واقعات کا فائدہ عدلیہ کو ہوا،عدلیہ کو فائدہ ایسے ہوا کہ ہمارے خلاف ہونے والی بیان بازی رک گئی، بدقسمتی سے عدلیہ کیخلاف بیان بازی رکنے کیلئے اتنے بڑے سانحہ کی ضرورت پڑی،ہر آئینی و قانونی ادارے کا تحفظ اور احترام ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اگر جھگڑا کرنا ہے تو تیاری کرکے آئیں،سپریم کورٹ کے انتظامی اختیارات میں مداخلت بند کی جائے،عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ، ہم انا کی بات نہیں آئین کی بات کر رہے ہیں ،

    صدر سپریم کورٹ بار کے وکیل شعیب شاہین نے درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آڈیو لیک کمیشن کی تشکیل میں مشاورت کا حصہ نہیں تھا۔ معاملہ آپ سے متعلقہ تھا اس لئے سینئر جج کو کمیشن کا سربراہ بنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 2017 کے قانون کے مطابق چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں ،کمیشن کی تشکیل کا 2017 کا قانون کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو آئینی روایات کی پاسداری کرنی چاہیے کمیشن کی تشکیل کیلئے مشاورت کا 1956 کے قانون میں بھی نہیں لکھا تھا۔ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ساری آڈیو ایک ہی ٹوئیٹر اکاونٹ سے جاری ہوتی ہے۔آڈیو لیک ہونے کے بعد وفاقی وزراء اس پر پریس کانفرنسز کرتے ہیں۔ ٹوئیٹر پر ہیکر کے نام سے گمنام اکاونٹ ہے،ہیکر کے نام سے اکاونٹ سے آڈیو ویڈیو ریلیز ہوتی ہیں۔یہ اکاونٹ ستمبر 2022 میں بنایا گیا۔ فروری 2023 سے گمنام اکاؤنٹ سے آڈیو ویڈیوز لیک ہوئی۔ ہماری درخواست کمیشن کی تشکیل کیخلاف ہیں۔ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کیے، حکومت تاثر دے رہی ہے فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے،حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اصول طے کیے ہیں، کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اس کا تعین کون کرے گا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ حکومت پہلے تسلیم کرے کہ آڈیوز اس کے اداروں نے ریکارڈ کرکے لیک کی ہیں، اگر آڈیوز کی ریکارڈنگ قانون کے مطابق ہے تو اعتراض نہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ ریکارڈنگ قانون کے مطابق کی گئی،سپریم کورٹ کا بینظیر بھٹو کیس میں 1998 کا فیصلہ کچھ اور کہتا ہے، فیصلے کے مطابق کالز کی ریکارڈنگ عدالت کی اجازت سے ہی ہوسکتی ہیں، ججز کی آڈیوز کو بطور شواہد تسلیم کرکے مس کنڈکٹ کا تعین کیا جا رہا ہے، کیا اب کمیشن سفارش کرے گا کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے؟فیئر ٹرائل ایکٹ بھی ریکارڈنگ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ریکارڈنگ پیکا ایکٹ 2016 اور ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی بھی خلاف ورزی ہے، بینظیر بھٹو کیس بھی 1996 کے قانون کی خلاف ورزی پر بنا تھا، فیئرٹرائل ایکٹ کے مطابق مشکوک افراد کی ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے، ریکارڈنگ کیلئے متعلقہ پولیس یا حساس ادارے کا مجاز افسر درخواست دے سکتا ہے،مشکوک افراد کا متعلقہ کیس سے تعلق ہونا بھی ضروری ہے،قانون کے مطابق جاسوسی کے اجازت نامہ پر دستخط ہائی کورٹ کا جج کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کیس میں بھی قرار دیا گیا کہ ججز کی جاسوسی قانون کیخلاف ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے، کالز ریکارڈنگ آئین کے آرٹیکل 14 کی بھی خلاف ورزی ہے،

    وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ ایک نجی چینل نے ایک ادارے کے سربراہ کی ویڈیو چلائی تو اس پر دس لاکھ کا جرمانہ ہوا، نجی چینل نے کہا ہمیں انفارمیشن ملی اور ہم نے چلایا،ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جب تک تصدیق نہ ہو آڈیو ویڈیو نہیں چلائی جاسکتی ہے، اگر ایسی آڈیو ویڈیو کسی دشمن تک پہنچ جائے تو ملک کی کیا عزت رہے گی،اس وقت عدلیہ کو سب سے زیادہ کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس وقت تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز عدلیہ ہے، عوام کا ہجوم اب خود انصاف کرنے لگا ہے، کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے،کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ کمیشن کا قیام آرٹیکل 209کی بھی خلاف ورزی ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ افتحار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدراتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کے مس کنڈیکٹ کیا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جس ملک کا عدالتی نظام مضبوط ہوتا ہے وہاں حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، اگر ہم تماشائی بن کر بیٹھے رہے گے تو ریاستی ادارے تباہ ہو جائیں گے، کمیشن اپنے ٹی او آرز سے باہر نہیں جا سکتا ہے، یہ بھی دیکھنا ہو گا یہ آڈیوز ریکارڈ کس نے کی ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی میں کیا ہے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اپنی مرضی سے کیسے کیمشن کا حصہ بن سکتے ہیں،میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی تو کیا حکومت یا پیمرا نے اسے روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی بازپرس نہیں کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، عدلیہ کی آزادی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، آج ہی عبوری ریلیف اور سماعت پر حکمنامہ جاری کرینگے،سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے حکومت نے کمیشن جلد بازی میں بنایا،جلد بازی میں کیے گئے کام اکثر غلط ہو جاتے ہیں،آرٹیکل 209 کا معاملہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن کے آرڈر میں ذکر نہیں آڈیو کیسے ریکارڈ کی گئی کمیشن اپنے ٹی او آرز کا پابند ہے کمیشن نے پہلے اجلاس پر پورے پاکستان کو بزریعہ اشتہار نوٹس جاری کردیا، آڈیوز کو کس نے بنایا وہ کسی کو معلوم نہیں۔ معاملہ کے جائزہ کیلئےکمیشن کی کاروائی کو معطل کر دیا جائے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر کرنا ایگزیکٹیو کا اختیار ہے۔ جج سے متعلق معاملہ تو پہلے ہی جوڈیشل کونسل میں زیر التواء ہے۔ بظاہر یہ معاملہ اختیارت کی تقسیم کے آئینی اصول سے منافی ہے۔ جج کیخلاف انکوائری صرف جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیک کمیشن کا معاملہ ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن کو کام سے روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،عابد زبیری نے طلبی کے نوٹس کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی،درخواست میں وفاق، آڈیو لیک کمیشن، پیمرا اور پی ٹی اے کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ آڈیو لیک کمیشن تشکیل کا نوٹی فیکیشن غیر آئینی قرار دیا جائے،آڈیو لیک کمیشن کا نوٹی فیکیشن آرٹیکل 9، 14،18، 19، 25 کی خلاف ورزی ہے،مبینہ آڈیو لیک کمیشن کی کارروائی اور احکامات کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے قرار دیا جائے کسی بھی شہری کی جاسوسی یا فون ٹیپنگ نہیں کی جا سکتی، مبینہ آڈیوز کو غیر قانونی قرار دیا جائے،حکم دیا جائے کہ مبینہ غیر آئینی آڈیوز کی بنیاد پر کسی شہری کیخلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے،غیر قانونی آڈیوز کو میڈیا پر نشر کرنے اور آگے پھیلانے سے روکنے کا حکم دیا جائے،جوڈیشل کمیشن کے نوٹی فیکیشن اور کاروائی کا کالعدم قرار دیا جائے،متعلقہ فریقین کو گمنام سوشل میڈیا اکاونٹس چلانے والوں کی شناخت کا حکم دیا جائے

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج