Baaghi TV

Tag: آڈیو لیکس

  • عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی،اعظم نذیر تارڑ

    عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی،اعظم نذیر تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں،

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس آس میں اپنے ذاتی فائدے کو نہیں ریاست کو فوقیت دی جاتی ہے،عمران خان کی آڈیو سے واضح ہے سائفر پر جو فیصلے کیے وہ غیر ضروری تھے،ایسے سائفر روزانہ کی بنیاد پر آتےہیں ،ان کا جواب وزارتوں کے ذریعے دیا جاتا ہے، عمران خان نے اس سائفر پر کھیلنے کی بات آڈیو میں کی ہمیں یہ صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ وہ سازش تھی یا نہیں، اب تو سارا پاکستان سن رہا ہے، یہ سوشل میڈیا پر موجود ہے،

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی تو عمران خان کے خلاف ہوتی ہے، جب تک کابینہ اس پر غور نہیں کرتی تب تک خان صاحب کے موقف پر کچھ نہیں کہتا،وزیراعظم کمیٹی کے ارکان کا تقرر کررہے ہیں،سائبر سیکیورٹی بہر حال مسئلہ ہے، ملکی سلامتی کے معاملے پر ریاست کی اہمیت کو فوقیت دیتے ہیں،میں اپنی ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر کبھی ترجیح نہیں دوں گا عمران خان کی آڈیو سے واضح ہے سائفر پر جو فیصلے کیے وہ غیر ضروری تھے،

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان کی بھی آڈیو لیک ہوئی ہے عمران خان کی آڈیو امریکی سائفر سے متقلق ہے، عمران خان کی آڈیو میں سنا جا سکتا ہے ، اس آڈیو میں عمران خان کہتے ہیں کہ اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا بس صرف کھیلنا ہے

    عمران خان کی آڈیو آنے کے بعد ن لیگی رہنما، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کہتی ہیں پوری قوم کا وقت ضائع کرنے اور یوتھیوں کو بیوقوف بنانے پر کیا عمران خان کیخلاف کوئی ایکشن ہوگا؟؟ اس جھوٹے شخص کیخلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے

  • پیپلزپارٹی کاعمران خان اوراعظم  خان کی آڈیو لیک پراعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ

    پیپلزپارٹی کاعمران خان اوراعظم خان کی آڈیو لیک پراعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ

    پیپلزپارٹی نے عمران خان اور اعظم خان کی آڈیو لیک پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے

    پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کے مفادات کا تحفظ کرنے کا حلف اٹھایا تھا،افسوسناک گفتگو عمران خان کی نہیں، پاکستان کے وزیر اعظم کی ہے،عمران خان نے جھوٹ کی بنیاد پر ملک میں تقسیم کی سیاست کی، پہلے دن سے کہہ رہی ہوں یہ عمران بچاو تحریک ہےعمران خان اپنی سیاست کو بچانے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، سائفر پر کھیلنےکے بیانیے سے عمران خان کو فائدہ پہنچا ہوگالیکن پاکستان کو نقصان ہوا، سائفر پر کھیلنےکا معاملہ سنگین ہے جو معافی تلافی سے ختم نہیں ہوگا عمران خان سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ نہیں کریں گے

    دوسری جانب ن لیگ کے رہنما، سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ عمران نیازی کی آڈیو نے دہرے معیا ر کے سیاست کا پردہ چاک کر دیا،سائفر کے معاملے پر مسلسل جھوٹ بول کر سازش کا بیانیہ گھڑا گیا ،سائفر کے معاملے پر بیانیہ مفاد اور موقع پرستی کا مظہر ہے،35 پنکچر ، اسلامی ٹچ اور کبھی سائفر پر کھیلنا یہ ہے انتشار اور فساد کی سیاست کا خلاصہ ہے،

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان کی بھی آڈیو لیک ہوئی ہے عمران خان کی آڈیو امریکی سائفر سے متقلق ہے، عمران خان کی آڈیو میں سنا جا سکتا ہے ، اس آڈیو میں عمران خان کہتے ہیں کہ اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا بس صرف کھیلنا ہے

    عمران خان کی آڈیو آنے کے بعد ن لیگی رہنما، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کہتی ہیں پوری قوم کا وقت ضائع کرنے اور یوتھیوں کو بیوقوف بنانے پر کیا عمران خان کیخلاف کوئی ایکشن ہوگا؟؟ اس جھوٹے شخص کیخلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے

  • آڈیو کس نے لیک کروائی؟ِ عمران خان کا ردعمل، نام بھی بتا دیا

    آڈیو کس نے لیک کروائی؟ِ عمران خان کا ردعمل، نام بھی بتا دیا

    آڈیو کس نے لیک کروائی؟ِ عمران خان کا ردعمل، نام بھی بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی ، سابق وزیراعظم عمران خان پنجاب ہاؤس پہنچے ہیں

    پنجاب ہاؤس میں عمران خان نے میڈیا سے مختصر بات کی ہے، میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ہی آڈیوز لیک کی ہیں،ابھی تو سائفر پر کھیلا ہی نہیں،چاہتا ہوں سائفرکو پبلک کیا جائے، سائفر کی تحقیقات ہونی چاہیے،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک بار پھر سائفر کی تحقیقات کا مطالبہ دہرا دیا

    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ مذاکرات ہوں گے یا دھرنا؟ جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ تو ابھی انتظار کرنا ہوگا، کس وقت کیا ہوگا،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی بھی آڈیو لیک ہو گئی ہے عمران خان کی آڈیو امریکی سائفر سے متقلق ہے، عمران خان کی آڈیو میں سنا جا سکتا ہے ، اس آڈیو میں عمران خان کہتے ہیں کہ اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا بس صرف یہ کھیلنا ہے

    وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیکڈ ہونے کا سلسلہ جاری ہے، پہلے وزیراعظم شہباز شریف ،مریم نواز و دیگر کی آڈیو لیک ہوئیں، آج عمران خان کی آڈیو لیک ہوئی، ہیکز نے پیغام دیا ہے کہ جمعہ کو مزید آڈیو بھی جاری کروں گا، پاکستان کی سیاست میں آڈیو لیکس نے تہلکہ مچایا ہوا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آگئی

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • آڈیو لیکس،کڑیاں ملائیں تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے

    آڈیو لیکس،کڑیاں ملائیں تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے

    آڈیو لیکس ، ہر طرف سیکورٹی کی کوتاہی کے چرچے تھے، کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نجی یونیورسٹی میں ہونے والی تقریب میں دوران خطاب انکشاف کیا کہ اب مریم نواز کی ایک اور آڈیو آنے والی ہے

    وزیراعظم ہاؤس کی لیکڈ آڈیو کی وجہ سے تہلکہ مچا ہوا ہے، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا جو ملتوی کر دیا گیا ہے تا ہم عمران خان کے اس بیان کے بعد کہ اب اگلی آڈیو مریم کی اور آنیوالی ہے سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا، عمران خان کیسے جانتے ہیں کہ اگلی آڈیو مریم کی ہی ہو گی؟

    اس سے قبل پہلی آڈیو آنے کے بعد ہی فواد چودھری بولے اور کہا کہ آڈیو ڈارک ویب پر دستیاب ہیں، شہباز گل بھی کہتے ہیں کہ اگلی آڈیو جمعرات کو آئے گی اور جمعہ کا دن بھاری ہو گا، ان تمام کڑیوں کو ملایا جائے تو ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ ان آڈیوز کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟

    عمران خان کے وزیراعظم ہاؤس سے جانے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم ہاؤس آئے، آنیوالی آڈیو ن لیگ کی ہیں، پی ٹی آئی کی ابھی تک وزیراعظم ہاؤس کی کوئی آڈیو لیک نہیں ہوئی، جس سے اس خدشے کو تقویت مل رہی ہے کہ ان آڈیوز کے پیچھے مبینہ طور پر کوئی اور نہیں بلکہ وہی "بیٹے ” ہیں جو اپنی "ماں” کے حکم پر لوگوں کو غدار بناتے ہیں

    ن لیگی رہنما ، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ عمران صاحب مریم نواز کی آڈیو لیکس پر شور نہ مچائیں، اس میں بشریٰ بی بی فرح گوگی اکنامک کاریڈور کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ افسوس آڈیو میں سے ہیروں کی سودا بازی برآمد ہوسکی، نہ کوئی غیرقانونی کام۔ نہ کوئی پالیسی بدلی فارن ایجنٹ کی سیاست مریم نواز کے نام کی مرہون منت ہو کر رہ گئی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آگئی

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

  • آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    پاکستانی وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس کی ہر طرف باز گشت سنائی دے رہی ہے، حکومت نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، اپوزیشن ان آڈیوز کو لے کر عدالت جا رہی ہے، وزیراعظم شہباز شریف سمیت ن لیگی دیگر رہنماؤں کی گفتگو پر مبنی آڈیوز نے وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے

    وزیراعظم ہاؤس کی لیکڈ آڈیو کو ڈارک ویب پر برائے فروخت کا دعویٰ تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہیکر نے صرف ن لیگ کی ہی آڈیوز کیوں وائرل کیں؟ آخر کون ہے جو ہائی پروفائل شخصیات تک اس قدر رسائی رکھتا ہے کہ انکا سب کچھ ریکارڈ کر رہا ہے اور کسی کو خبر تک نہیں‌

    آڈیو لیکس سے وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی کے حامل ادارے کی نااہلی واضح ہو چکی ہے ، وزیراعظم ہاؤس میں انتہائی اہم ملاقاتیں اور حساس بات چیت بھی ہوتی ہے .ملکی سلامتی ، سیکورٹی کے معاملات پر اہم فیصلے ہوتے ہیں،ایسے میں اگر مزید آڈیوز آتی ہیں تو یہ بہت سنگین خطرہ ہو گا

    وزیراعظم شہباز شریف نے آڈیو کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کاروائی کریں گے،تا ہم سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ المیہ ہے ابھی تک کسی کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی یہ ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے جس کی تہہ تک پہنچنا ہوگا ورنہ پھرمعاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آگئی

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

  • آڈیو لیکس،تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    آڈیو لیکس،تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    وزیر اعظم ہاؤس سے اہم ڈیٹا ہیک، تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں

    وزارت داخلہ نے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی جے آئی ٹی میں حساس اداروں کا نمائندہ شامل ہو گا، میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم تحقیقات کرے گی کیسے آئی ٹی ڈیٹا ہیک کیا گیا،جے آئی ٹی کو وزیراعظم ہاؤس کے عملے کو شامل تفتیش کرنے کا اختیارہوگا،وزیر اعظم ہاؤس میں ڈیوائسز لگائی گئیں یا موبائل سے ریکارڈنگ کی گئی ،تحقیقات ہوں گی،تحقیقاتی ٹیم جائزہ لے گی کہ کون کون سے افسران وزیراعظم ہاوس میں موجود تھے،وزیراعظم سیکریٹریٹ میں 6 ماہ سے مامور اسپیشل برانچ کے اہلکاروں سے بھی تحقیقات ہوں گی،وزیر اعظم ہاؤس اور پی ایم آفس پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی وزیر اعظم ہاؤس میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں تھی،

    گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ باتیں پارلیمنٹ لاجز یا اسپیکرچیمبر میں کی ہوں اور وہاں سے لیک ہوئی ہوں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فون ہیک ہونا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے،‏ہو سکتا ہے کسی کا فون ہیک ہوا ہو اور باتیں ریکارڈ کی ہوں،آڈیو لیکس میں کوئی سیریس باتیں نہیں تھیں اس لیے احتیاط نہیں برتی گئی، آڈیو لیکس پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے، آڈیو لیکس پر تحقیقات کاآغاز کیا جائے گا،ہ وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی میں سے کوئی شخص ہو سکتا ہے،تحقیقات ہونے دیں ،اسکے بعد کارروائی کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آگئی

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

  • آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کی جنگ اور ایک دوسرے کی جاسوسی پر اترانے والے سیاستدانوں او رنجی ٹی وی چینلز پر تبصرہ کرنے والوں کو معاملے کی حساسیت پر غور وفکر کرنا چاہیئے ۔ کہ کہیں وطن عزیز کی سیکورٹی اور سالمیت تو داؤ پر نہیں لگ چکی ؟ پاکستان ایک عظیم ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور اس کی ہمسائیگی میں ازلی دشمن تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ملک کی آئی ایس آئی ایک مایہ ناز ملکی سلامتی کا ادارہ ہے۔ جس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی اقوام عالم معترف ہے جبکہ آئے دن سابقہ و وموجودہ وزیراعظموں ،وزراء اور سیاسی لیڈروں کی پارٹی میٹنگ پالیسی ایشیو پر گفتگو حتی کہ خواتین راہنمائوں کے بیڈ روم تک بکنگ اور فون ریکارڈنگ کے لیک ہونے کے الزامات اور مبینہ واقعات ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔

    ایک دوسرے کے آڈیو ویڈیو لیکس اور بغلیں بجانے والے سیاسی مخالفین کو نہ صرف شادیانے بجانے سے اجتناب کرنا چاہیئے بلکہ فکر کرنی چاہیئے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ایوان صدر وزیراعظم ہائوس و آفس سے لے کر تمام وزارتوں اور حساس تنصیبات پر موجود اہلکاروں کی سخت ترین سکریننگ ہونی چاہئے اور ا س کے ساتھ ساتھ موبائل فون و ٹیلی فون کمپنیوں کو بھی تطہیر کے عمل سے گزارا جائے کیوں کہ اگر وزیراعظم ہاؤس و آفس اور اعلی سیاسی قیادت بھی محفوظ نہیں تو وطن عزیز کی سیکورٹی پر تبصرہ کرنے سے قلم اجازت نہیں دیتا

     

     

    حکومتی عہدیداروں اور سیاسی شخصیات کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی خدمت کا شیوہ اپنائیں کیونکہ کھوکھلے نعروں اور دوغلی پالیسی کے جھانسے میں عوام نہیں آئیںگے پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے جہاں تک سرحدوں کی حفاظت پر ماموس ہیں انہیں اس حساس معاملے پر قومی سلامتی کے فول پروف اقدامات کرنا چاہیئے ۔

  • صحافی احمد نورانی کی اہلیہ پر لاہور میں حملہ، آر آئی یو جے کی شدید مذمت

    صحافی احمد نورانی کی اہلیہ پر لاہور میں حملہ، آر آئی یو جے کی شدید مذمت

    اسلام آباد: آر آئی یو جے نے سینئر صحافی احمد نورانی کی اہلیہ اور بچوں پر نامعلوم افراد کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافی احمد نورانی کی اہلیہ اور بچوں پر نامعلوم افراد کی طرف سےحملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر عامر سجاد سید،جنرل سیکرٹری طارق علی ورک اور مجلس عاملہ کے اراکین نے کہا ہے کہ‏سینئر صحافی عمبرین فاطمہ پر جان لیوا حملہ کیا گیا گاڑی پر ڈنڈوں سے حملہ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کب تک صحافیوں اور ان کی فیملی پر ہونے والے حملوں پر خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ انہوں نے کہا کہ احمد نورانی کی اہلیہ عمبرین فاطمہ اور بچوں پر حملے کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے ورنہ پھر پور طریقے سے احتجاج کیا جائے گا انہوں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ احمد نورانی کی فیملی کو تحفظ دیا جائے اگر ان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی-

    ثاقب نثار کی آڈیولیکس والے صحافی احمد نورانی کی اہلیہ کی کار پر لاہور میں نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا ثاقب نثار کی آڈیولیکس والے صحافی احمد نورانی کی اہلیہ کی کار پرحملہ لوہے کے راڈز سے کیا گیا ملزمان نے اسکرین توڑ دی ذرائع کے مطابق احمد نورانی کی اہلیہ امبرین فاطمہ کار میں بچے کے ہمراہ تھیں۔

    لاہور کے علاقہ غازی آباد میں مقامی اخبار کی سینئرخاتون صحافی اور سینئر صحافی احمد نورانی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے ڈنڈوں سےحملہ کر کے ونڈ سکرین توڑ دی۔

    عنبرین فاطمہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنی کار پر نکلیں تو دو نامعلوم افراد نے تعاقب شروع کر دیا کار جیسے ہی ایک تنگ گلی میں پہنچی تو دونوں نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا عنبرین فاطمہ نے کار دوڑا دی ،جس پر نامعلوم افراد سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے۔

    پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کیخلاف مقدمہ نمبر 2231/2021 درج کر لیا عنبرین فاطمہ کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، اس کے باوجود مجھ پر اور میری فیملی پر جان لیوا حملہ ہوا، جو قابل مذمت ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تصدیق کرنے والی فرم نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دھمکی دی گئی ہے ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کا فرانزک تجزیہ کرنے والی امریکی فرم گیریٹ ڈسکوری کا کہنا تھا کہ صحافی احمد نورانی کی جانب سے چلائی جانے والی فیکٹ فوکس ویب سائٹ کے لیے پاکستان کے سابق چیف جسٹس کی آڈیو ٹیپ کی تصدیق کے لیے اس کے عملے کو دھمکی آمیز کال موصول ہوئی ہے۔

    گیریٹ ڈسکوری نے کہا تھا کہ اس کے عملے کو ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کا مختلف نتیجہ حاصل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ فرانزک لیبارٹری نے ٹویٹر کے ذریعے کہا کہ آج ہمیں ایک کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ ہماری جان کو خطرہ ہے اور اسی شخص نے کہا کہ وہ فیکٹ فوکس کے لیے ایک فائل کی توثیق کرنے والے ہمارے کام کے لیے ہمارے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرنے جا رہا ہے۔

    ہماری ٹیم کو مختلف نتیجہ حاصل کرنے کی دھمکی دینا غیر اخلاقی ہے فرم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ فون کرنے والا کون تھا اور کس ملک سے تھا لیکن کہا کہ اس کے عملے کی جان کو خطرہ ہے۔

    دھمکیوں کے بارے میں ٹویٹ کرنے والا اکاؤنٹ غیر تصدیق شدہ ہے لیکن یہ فرانزک فرم کے کام کو طویل عرصے سے پوسٹ کر رہا ہے اور اسی اکاؤنٹ کا ذکر فرم کی ویب سائٹ پر آفیشل اکاؤنٹ کے طور پر کیا گیا ہے۔

    گیریٹ ڈسکوری کے ترجمان نے کہا کہ اس سے قبل فیکٹ فوکس ویب سائٹ نے اس کلپ کی فرانزک جانچ کے لیے اسے مامور کیا تھا اور پیشہ وارانہ فرانزک ٹیسٹ کی ضروریات پوری ہونے کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فیکٹ فوکس کیلئے کام کیا؛ تمام پیشہ ور فرمز کا یہ معمول ہے کہ وہ کسی بھی دستاویز کو پبلک ڈومین میں جاری نہ کریں جب تک کہ کلائنٹ کی اجازت نہ ہو (اس معاملے میں فیکٹ فوکس کی)۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ فیکٹ فوکس یا رپورٹر احمد نورانی کو فرانزک لیبارٹری کو تفویض کیا گیا کام اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ تو ترجمان کا کہنا تھا کہ گیریٹ ڈسکوری قانونی شرائط کے تحت پابند ہے کہ وہ فرانزک رپورٹ کے کچھ حصے کسی کو بھی جاری نہ کرے جب تک کہ اس کے مؤکل’ فیکٹ فوکس‘ کی طرف سے اس کی اجازت نہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معیاری معاہدے کے حصے کے طور پر ہمارے پاس رازداری کی ایک شق ہے جو ہمیں کام یا کام کے دائرہ کار کے بارے میں بولنے سے منع کرتی ہے جو ہم نے انجام دیا ہے۔ ہمیں تفصیلات جاری کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے جب تک کہ ہمارا کلائنٹ ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دینے والے معاہدے پر دستخط کرتا ہو۔

    انہوں نے درخواست کی کہ ہم نے جو کام کیا ہے اس کے بارے میں کسی بھی استفسار کے لیے فیکٹ فوکس سے رابطہ کریں اور ان کے ساتھ معلومات کے اجراء پر بات کریں۔