Baaghi TV

Tag: آڈیو لیکس

  • آڈیو لیکس ،جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    آڈیو لیکس ،جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت اجلاس ہوا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اجلاس میں شریک تھے، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کمیشن کے پہلے اجلاس میں پیش ہوئے،آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کس قانون کے تحت تشکیل دیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کمیشن انکوائری کمیشن ایکٹ 2016 کے تحت تشکیل دیا گیا،آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا ،انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ کوئی حساس معاملہ سامنے آیا تو ان کیمرہ کارروائی کی درخواست کا جائزہ لیں گے،کمیشن کی کارروائی سپریم کورٹ اسلام آباد بلڈنگ میں ہوگی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن سے متعلقہ انکوائری کرنی ہے ان میں 2 بڑی عمر کی خواتین بھی شامل ہیں،اگر درخواست آئی تو کمیشن کارروائی کیلئے لاہور بھی جا سکتا ہے،کمیش نے اٹارنی جنرل کو کمیشن کیلئے آج ہی موبائل فون اور سم فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،کمیشن نے وفاقی حکومت کو ای میل ایڈریس بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن بذریعہ اشتہار عوام سے بھی معلومات فراہم کرنے کا کہے گا،معلومات فراہم کرنے والے کو شناخت ظاہر کرنا لازمی ہوگی،نامعلوم ذرائع سے آنے والی معلومات قابل قبول نہیں،انکوائری کمیشن نے حکومت سے تمام آڈیو ریکارڈنگز طلب کر لیں تمام آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ بھی ذمہ دار افسر کے دستخط کے ساتھ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

    انکوائری کمیشن نے کہا کہ ٹرانسکرپٹ میں غلطی ہوئی تو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،وفاقی حکومت کو تمام مواد بدھ تک فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، انکوائری کمیشن نے کہا کہ جن کی آڈیوز ہیں ان کے نام،عہدے اور رابطہ نمبر بھی فراہم کئے جائیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انکوائری کمیشن کا دائرہ اختیار بھی واضح کر دیا، کہا کہ انکوائری کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہے،اجلاس کے دوران اٹارنی جنرل نے کمشین کا نوٹیفیکیشن، ٹی او آرز اور اختیارات پڑھ کر سنائے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کی وجہ سے میرے کچھ آئینی فرائض بھی ہیں،میں سپریم جوڈیشل کونسل کا بھی ممبر ہوں،جوڈیشل کمیشن میں پیش ہونے والا کوئی بھی ملزم نہیں،ہم پر بھاری بوجھ ہے، تمام پیش ہونے والوں کو احترام دیا جائے گا، چاہتے ہیں کمیشن جلد اپنی کاروائی مکمل کرے،

    پہلے اجلاس کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ نوٹس وفاقی حکومت مقرر کردہ افسر یا کوریئر کے ذریعے بھیجے جائیں۔ اورجس شخص کو نوٹس بھیجا جائے اس کے نوٹس وصولی کی تصویراتاری جائے ،نوٹس ایک سے زائد بار جاری کیا جائے، بار بار نوٹس بھیجنے کے باوجود وصول کرنے والے فرد کے گھر کے باہر نوٹس چسپاں کرکے اس کی تصویر بنائی جائے.

  • ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس،تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیشن تشکیل

    ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس،تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیشن تشکیل

    وفاقی حکومت نے ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے 3 رکنی  کمیشن تشکیل دے دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر کمیشن میں شامل ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق بھی کمیشن میں شامل ہیں،وفاقی حکومت نے کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    کمیشن جوڈیشری کے حوالے سے لیک ہونے والی آڈیوز پر تحقیقات کریگا یہ آڈیو لیکس درست ہیں یا من گھرٹ کمیشن اس بارے میں تحقیقات کرے گا، وفاقی حکومت کی جانب سے بنایا جانے والا کمیشن ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا،
    وکیل اور صحافی کے درمیان بات چیت کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی سابق چیف جسٹس اور وکیل کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی کمیشن سوشل میڈیا پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے داماد کی عدالتی کارروائی پراثرانداز ہونے کے الزامات کی آڈیو لیک کی تحقیقات کریگا،کمیشن چیف جسٹس کی ساس اور ان کی دوست کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات کرے گا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کمیشن پر رد عمل میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کے معاملے پر 2017 کے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے ترتیب دیے گئے ٹرمز آف ریفرنس میں ایک سوچا سمجھا نقص ،خلاء موجود ہے یا جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے۔ یہ (ٹی او آرز) اس پہلو کا ہرگز احاطہ نہیں کرتے کہ وزیراعظم کے دفتر اور سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کی غیرقانونی و غیرآئینی نگرانی کے پیچھے کون ہے؟ کمیشن کو اس تحقیق کا اختیار دیا جائے کہ عوام اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی ٹیلی فون پر کی جانے والی گفتگو کی ٹیپنگ اور ریکارڈنگ میں کون سے طاقتور اور نامعلوم عناصر ملوث ہیں۔ یہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت پرائیویسی کے حق کی سنگین خلاف ورزی کے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ فون ٹیپنگ کے ذریعے (عوام اور اعلیٰ شخصیات کی) نگرانی اور ان کے مابین کی جانے والی بات چیت تک غیرقانونی رسائی حاصل کرنے والوں کا ہی محاسبہ نہ کیا جائے بلکہ اس ڈیٹا کو کانٹ چھانٹ کر اور اس کے مختلف حصوں کو توڑ مروڑ کر سوشل میڈیا کو جاری کرنے والوں سے بھی باز پرُس کی جائے۔ قانون کی حکمرانی کے سائے میں پنپنے والی جمہوریتوں میں ریاست کی جانب سے (شہریوں کی) زندگی کے بعض پہلوؤں میں اپنی مرضی سے مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جب بھی ریاست یوں غیرقانونی طور پر فرد پر پہرے بٹھاتی/اس کی نگرانی کرتی ہے تو آرٹیکل 14 کے تحت اسے میسّر پرائیویسی اور شخصی وقار کے حق پر زد پڑتی ہے۔ حال ہی میں خفیہ طور پر جاری (Leak) کی جانے والی بعض کالز ایسی تھیں جو اصولاً وزیراعظم کے دفتر کی محفوظ ٹیلی فون لائن پر کی جانے والی گفتگو کے زمرے میں آتی تھی۔ اس کے باوجود انہیں غیرقانونی پر ٹیپ اور کانٹ چھانٹ/رد و بدل کرکے جاری کیا گیا۔ اس ٹیپنگ میں کارفرما یہ دیدہ دلیر عناصر بظاہر وزیراعظم کی دسترس سے باہر دکھائی دیتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ان کا علم تک نہیں۔ یہ کردار ہیں کون جو قانون سے بالاتر ہیں، ملک کے وزیراعظم کے بھی ماتحت نہیں اور پوری ڈھٹائی سے (شہریوں، اعلیٰ شخصیات کی) خلافِ قانون نگرانی کرتے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے ان عناصر کی نشاندہی ناگزیر ہے۔

    واضح رہے کہ ججز کے‌ حوالہ سے آڈیو لیکس چند دن قبل سامنےآئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے بھی آڈیو لیک بارے سوال کیا گیا تھا تا ہم انہوں نے خاموشی اختیار کی تھی، عمران خان کی گرفتاری کے بعد انکی رہائی کے حوالہ سے ایک آڈیو لیک ہوئی تھی، اسی آڈیو کے عین مطابق عمران خان کے کیس میں ہوا اور رہائی ملی،

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • آڈیولیکس کی تحقیقات کیلئے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات عائد

    آڈیولیکس کی تحقیقات کیلئے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات عائد

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر اعتراضات عائد کر دیئے گئے.

    اعتراضات سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے دائر کئے گئے، اعتراضات عائد ہونے کے بعد عمران خان کی تحقیقات کی درخواست واپس کر دی گئی،رجسٹرار آفس کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا کہ درخواست گزار عمران خان نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، درخواست میں بنیادی حقوق سے متعلق معاملے کی وضاحت نہیں کی گئی واضح نہیں کیا گیا کہ آڈیولیکس معاملے پر آرٹیکل 184/3 کا اطلاق کیسے ہوتا ہے

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،

    عمران خان نے آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی استدعا کی تھی، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہاوس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کوغیر قانونی قرار دیا جائے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مزید آڈیوز کو لیک روکنے کی بھی استدعا کردی، عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت اور متعلقہ اتھارٹیز کو مزید آڈیوز کی ریلیز کو روکنے کا حکم دیا جائے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کراکر ذمہ داران کو سزا دی جائے، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت داخلہ،دفاع، آئی ٹی ،وزارت اطلاعات، آئی بی، ایف آئی اے اور پیمرا فریق بنائے گئے ہیں

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی مبینہ آڈیو لیکس ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان بھر میں تہلکہ مچ گیا تھا، پہلی آڈیو شہباز شریف، مریم نواز و دیگر کی جاری ہوئی تھیں اسکے بعد عمران خان کی بھی آڈیو جاری ہوئی ہیں، عمران خان ان آڈیو میں بے نقاب ہوئے ہیں اور انکا حقیقی چہرہ کھل کر قوم کے سامنے آیا ہے، اب عمران خان چاہتے ہیں کہ آڈیو کی ریلیز کو روکا جائے تا کہ انکے کرتوت سامنے نہ آ سکیں

    حالیہ آڈیو لیکس نے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ آڈیو لیکس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی وزرا اور یہاں تک کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہوچکی ہے. 20 اگست کو ہیکرز کے ایک فورم پر ’انڈی شیل‘ کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے ایک مبینہ ہیکر نے اپنے پاس آڈیوز کی موجودگی سے متعلق ایک پوسٹ کی تھی۔ مبینہ ہیکر نے اپنی پوسٹ کا نام Pakistani PM office Data leaked یعنی ’پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کا لیک شدہ ڈیٹا‘ رکھا تھا۔ اس کی کم از کم بولی 180 بٹ کوائن رکھی گئی تھی جو پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔

  • مزید آڈیو لیکس جاری نہ کی جائیں، عمران خان کی عدالت سے استدعا

    مزید آڈیو لیکس جاری نہ کی جائیں، عمران خان کی عدالت سے استدعا

    عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    عمران خان نے آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی استدعا کر دی، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہاوس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کوغیر قانونی قرار دیا جائے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مزید آڈیوز کو لیک روکنے کی بھی استدعا کردی، عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت اور متعلقہ اتھارٹیز کو مزید آڈیوز کی ریلیز کو روکنے کا حکم دیا جائے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کراکر ذمہ داران کو سزا دی جائے، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت داخلہ،دفاع، آئی ٹی ،وزارت اطلاعات، آئی بی، ایف آئی اے اور پیمرا فریق بنائے گئے ہیں

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی مبینہ آڈیو لیکس ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان بھر میں تہلکہ مچ گیا تھا، پہلی آڈیو شہباز شریف، مریم نواز و دیگر کی جاری ہوئی تھیں اسکے بعد عمران خان کی بھی آڈیو جاری ہوئی ہیں، عمران خان ان آڈیو میں بے نقاب ہوئے ہیں اور انکا حقیقی چہرہ کھل کر قوم کے سامنے آیا ہے، اب عمران خان چاہتے ہیں کہ آڈیو کی ریلیز کو روکا جائے تا کہ انکے کرتوت سامنے نہ آ سکیں

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی تھی. وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی تھی۔ کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کو اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔ کابینہ کمیٹی کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی تھی کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ جبکہ ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے۔

    حالیہ آڈیو لیکس نے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ آڈیو لیکس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی وزرا اور یہاں تک کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہوچکی ہے. 20 اگست کو ہیکرز کے ایک فورم پر ’انڈی شیل‘ کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے ایک مبینہ ہیکر نے اپنے پاس آڈیوز کی موجودگی سے متعلق ایک پوسٹ کی تھی۔ مبینہ ہیکر نے اپنی پوسٹ کا نام Pakistani PM office Data leaked یعنی ’پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کا لیک شدہ ڈیٹا‘ رکھا تھا۔ اس کی کم از کم بولی 180 بٹ کوائن رکھی گئی تھی جو پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔

  • عمران خان نے کرسی بچانے کیلئے آئین کی خلاف ورزی کی،شیری رحمان

    عمران خان نے کرسی بچانے کیلئے آئین کی خلاف ورزی کی،شیری رحمان

    عمران خان نے اپنی کرسی بچانے کیلئے آئین کی خلاف ورزی کی،شیری رحمان
    وفاقی وزیر ،پیپلزپارٹی کی رہنما، شیری رحمان نے کہا ہے کہ اعلی عدالت تصدیق کر چکی ہے کہ عمران خان نے اپنی کرسی بچانے کیلئے آئین کی خلاف ورزی کی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آج وہ جلسوں میں آئین کی پاسداری کے حلف لے رہے۔ ان کو معمول ہے کہ لوگ عمران بچاؤ تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتے اس لیے اور لوگوں سے حلف لے رہے۔ حقیقی آزادی سے ان کی مراد اقتدار میں آنا ہے ان کا مقصد ہے تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے ملک کو حقیقی آزادی ملے گی۔

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان آڈیو لیکس کے معاملے پر عدالتی تحقیقات کا مطالبہ فیس سیونگ کیلئے کر رہے۔ ان کو معلوم ہے کہ آڈیو لیکس نے ان کے مفروضی بیانیے دوہرے معیار کو پوری قوم کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

    دوسری جانب پارلیمانی لیڈر پیپلزپارٹی پنجاب سید حسن مرتضی کا کہنا ہے کہ آڈیو لیکس کا فرانزک ہونا چاہئے لیکن ان آڈیو لیکس میں جو عمران نیازی اور اس کے حواریوں کی خطرناک باتیں اور عزائم سامنے آئے انکی تحقیقات بھی قومی سلامتی کے لئے انتہائی ضروری ہیں

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی تھی. وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی تھی۔  کابینہ کمیٹی کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی تھی کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ جبکہ ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے۔

  • آڈیولیکس میں ملوث افراد کون ہیں، اور وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ،رانا ثنااللہ نے بتا دیا

    آڈیولیکس میں ملوث افراد کون ہیں، اور وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ،رانا ثنااللہ نے بتا دیا

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آڈیولیکس میں ملوث افراد کی نشاندہی ہوچکی ہے-

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ وزیراعظم اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے فیصلےکے تحت انویسٹی گیشن ہورہی ہے، رپورٹ وزیراعظم کوپیش ہوگی پھرفیصلہ ہوگا کہ رپورٹ کس حد تک شیئرکرنی ہے۔

    عمران خان پنڈی والوں سے مایوس ہو گئے

    ان کا کہنا تھاکہ آڈیولیکس کوئی ایجنسی نہیں بلکہ بعض افراد کا معاملہ ہے جن کی نشاندہی ہوچکی ہے، ان افراد کا تعلق وزیراعظم ہاؤس میں کام کرنے والوں میں سے ہے، بعض لوگ پیسوں کی وجہ سے بھی ایسا کام کرتے ہیں ابتدائی تحقیقات میں بگنگ نہیں فون ٹیپنگ سامنے آئی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی گزشتہ دنوں آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

    ای سی سی کا اجلاس:برآمدی شعبوں کیلئے بجلی کا ٹیرف 19 روپے 99 پیسے کرنے کی منظوری

    قومی سلامتی کمیٹی نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی تھی جس کے بعد وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں 12 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔

    جبکہ عمران خان نے آج اپنے خطاب میں آڈیو لیکس پر ایجنسیوں پر الازم عائد کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ عدالت اس لیے جارہے ہیں تاکہ تحقیقات کی جاسکیں کونسی انٹیلی جنس ایجنسی بگنگ کی ذمے دارہے ، کون آڈیو لیک کررہا ہے؟-

    عمران خان کا مزید تھاکہ ایجنسیوں سے پوچھناچاہتاہوں آپ کا صرف کام فون ٹیپ کرنا رہ گیا ہے؟ کیا آپ کو فکر ہے یہ لوگ ملک کو کس طرف لےکر جارہے ہیں؟ لوگوں کو ٹیلی فون کرکر کے دھمکا رہے ہیں، ہینڈلرز کو بتانا چاہتا ہوں آپ اپنے آپکو بدنام کرنے لگے ہو۔

    عمران صاحب عدالت نہیں جیل جانے کا وقت ہے،مریم اورنگزیب

  • آڈیو لیکس: وفاقی کابینہ نے عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی

    آڈیو لیکس: وفاقی کابینہ نے عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی کابینہ نے 30ستمبر کو عمران خان کی سائفر سے متعلق آڈیو لیک پر کابینہ کمیٹی بنائی تھی، کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کے اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔

    سائفر کسی جادوگر نے جن کے پاس رکھا ہوگا واپس مل جائے حکومت اعظم خان کو ڈھونڈے جو…

    وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی کابینہ کمیٹی کی سفارشات کو سمری کی شکل میں کابینہ کی منظوری کیلئے پیش کیا گیا تھا-

    وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سفارتی سائفر سے متعلق آڈیو لیک پر تحقیقات ہوں گی، سائفر سے متعلق تحقیقات ایف آئی اے سے کرائی جائے گی۔

    کابینہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔

    آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے-

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں امریکی سائفر اور آڈیو لیکس کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب حکومت کے اس قدام پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ہے کہا کہ عمران خان کی حکومت ایک سازش کے تحت ہٹائی گئی،سائفر کی تحقیقات پرحکومتی آمادگی درست سمت میں قدم ہے-

    فواد چوہدری نے کہا کہ اسی طرح کا کمیشن آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے چاہیے،تحقیقات ایف آئی اے کے بجائے سپریم کورٹ کا بنایا کمیشن کرے-

    جج دھمکی کیس:عمران خان کی حفاظتی ضمانت کا تحریری حکم نامہ جاری

  • آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی
    آڈیو لیکس کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے آنکوائری کمیشن بنانے کے درخواست دائر کردی

    درخواست پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے دائر کی ہے۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم اور کچھ وفاقی وزرا کی آڈیو لیکس سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں ان آڈیو لیکس میں درخواست گزارکو سیاست سے دور رکھنے کے لئے سازش بنائی ان آڈیو لیکس میں ایک مجرمانہ سازش کے تحت درخواست گزارکو ٹارگٹ کیا گیا درخواست میں آڈیو لیکس کا ٹرانسکرپٹ شامل کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومتی وزرا نے ایسی سازش اسپیکر اور قومی اسیمبلی کے سیکریٹری کے تعاون سے تیارکی۔ اس آڈیو لیک کو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تسلیم کرچکے ہیں۔نئی صورتحال پیدا ہونے پر عدالت سے استدعا ہے کہ انکوائری کمیشن بنایا جائے،وزیر اعظم ، رانا ثنااللہ ، اعظم نذیر سمیت نامزد شخصیات کے خلاف کریمنل پروسیڈنگزکی ہدایت کی جائے،

    دوسری جانب حکومت نے بھی آڈیو لیکس کے بعد اہم فیصلے کر لئے ہیں،گزشتہ روز وفاقی کابینہ اجلاس ہوا، جاری اعلامیہ کے مطابق آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی طرف سے آڈیو لیکس کی مکمل تحقیق کے فیصلے کی تائید کی گئی ہے۔وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ آڈیوز نے سابق حکومت اور عمران نیازی کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی، ایک سفارتی’سائفر‘ کو من گھڑت معنی دے کر سیاسی مفادات کی خاطر قومی مفادات کا قتل کیا گیا ،کابینہ نے فیصلہ کیا کہ خصوصی کمیٹی سابق وزیراعظم اور ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری کے خلاف کارروائی کا تعین کرے گی، خصوصی کمیٹی سینیئر وزرا کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا تعین کرے گی جبکہ کابینہ کمیٹی میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے جس میں خارجہ، داخلہ، قانون کی وزارتوں کے وزرا شامل ہوں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور اعظم خان کی ایک اور آڈیو منظر عام پر آ ئی ہے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور پی ایس اعظم خان کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے کہ کس طرح سائفر کو موڑ دیا جائے اور اسے عوام میں اپنی حکومت کے خلاف سازش کے طور پر بیچا جائے

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • ہیکر کی کہانی کیا ہے؟ہیکر کا خصوصی انٹرویو،اہم انکشافات

    ہیکر کی کہانی کیا ہے؟ہیکر کا خصوصی انٹرویو،اہم انکشافات

    لاہور:ہیکر کی کہانی کیا ہے؟ہیکر کا خصوصی انٹرویو،اہم انکشافات نے سب کی آنکھیں کھول دیں‌ کہ کس طرح کسی کی کال اور ویڈیو کو ہیک کیا جاتا ہے، اس حوالے سے سینیئرصحافی مبشرلقمان نے ایک ہیکر سے گفتگو کی ہے جو کہ بہت ہی دلچسپ ہے ،

    سنیئرصحافی مبشرلقمان نے ملک میں‌ آڈیو لیکس کےحوالے سے پائی جانے والے بے چینی کو جس طرح ایک ہیکرکے تجربات اورخیالات کی مدد سے کم کیا ہے یہ واقعی قابل تعریف ہے ،کیوں کہ اس سے پہلے اس قسم کی معلوماتی اور تکنیکی گفتگو کہیں سےبھی سننے کو نہیں ملی

    ہیکر کا نام شاہ میر ہے اور ان سے سوال کرتے ہوئے مبشرلقمان نے پوچھا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعظم ہاوس میں ہونے والی گفتگو اور سرگرمیوں کو کس نے ریکارڈ کیا اور کیسے کیا اس حوالے سے شاہ میر کا کہنا تھا کہ یہ تین طریقوں سے ممکن ہے ، ایک تو وزیراعظم ہاوس میں اس وقت جب بات ہورہی ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی شخص موبائل سے یہ ریکارڈنگ حاصل کرتا ہے

    شاہ میر نے ساری گفتگو کا نچوڑ بیان کردیا ہے ، جس سے یہ ظاہر ہے کہ کہ شہبازشریف کے ارد گرد بیٹھنے والے لوگوں میں سے کسی کا کام ہے ، شاہ میر کہتےہیں کہ یہ جو لیکس سامنے آرہی ہیں یہ واضح ہے کہ یہ موبائل فون سے ریکارڈنگ کی گئی ہے اور یہ ریکارڈنگ گفتگو کرنے والے کے بہت قریب سے کی گئی ہے ، اس لیے یہ کہنا ہے کہ اس کےلیے کوئی خصوصی انتظامات یا ہیکنگ کی گئی ہوگی ، شاہ میر کہتے ہیں کہ میرا خیال نہیں کہ ایسے ہو

    ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے ارد گرد بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کیا اس کے بارے میں وہ کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرسکتے

     

    دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس دوران اس جگہ کوئی نہ کوئی ایسی ڈوائس ہوگی جو یہ سب کچھ ریکارڈ کررہی ہوگی اور تیسری صورت یہ ہےکہ کسی نے وہ کال ریکارڈ کیں لیکن کسی دوسرے شخص نے وہ ہیک کرلی ہوں

    شاہ میر کا کہنا تھاکہ یہ وزیراعظم کے اردگرد رہنے والے لوگ ہی کرسکتے ہیں جن کو وہاں تک براہ راست دسترس حآصل ہے ، شاہ میر نے مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ڈارک ویب ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بعض ہیکر اپنا مواد بیچ کر مال بنانے کے چکروں میں ہیں‌،یہاں ہیکر ہیک ہونے والی کالز ، ویڈیوز اور دیگر ڈیٹا فروخت کرکے مال بناتے ہیں‌

    شاہ میر نے مزید بتایا کہ اس قسم کا ڈیٹا چوری کرنے والےاس ملک کےمخالف ملکوں کو بیچتےہیں ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ حساس معاملہ ہے جس پرحساسیت ہی ضروری ہے، شاہ میر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف کے دفتر سے ریکارڈ ہونے والی کالز اور وڈیو کسی ہیکر نے چوری کی ہیں جو ان کے ذریعے کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتاہے

    ڈارک ویب سے ایک سوال کے جواب میں شاہ میر نے کہا کہ ڈارک ویب پرتو پھر غیراخلاقی اور غیرقانونی انٹرنیٹ ڈیٹا ہوتا ہے جس کی کی کسی بھی صورت اجازت نہیں ہوتی ، جہاں تک تعلق ہے کہ پاکستان کی ان تازہ ترین لیکس کا تو یہ ڈارک ویب پر نہیں یہ ایک علیحدہ پلٹ فارم ہے جہاں سے یہ چیزیں مل رہی ہیں ، ان حالات کے نتاظر میں کہا جاسکتا ہےکہ یہ لیکس وزیراعظم ہاوس سے ہوئی ہیں کس طرح ہوئی ہیں یہ جو تین طریقے بیان کیے جاچکےہیں ان میں سے کوئی نہ کوئی ضرور استعمال کیا گیا ہے

  • ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاوس کے ریکارڈ سے غائب،کابینہ اجلاس میں انکشاف:اعلامیہ جاری

    ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاوس کے ریکارڈ سے غائب،کابینہ اجلاس میں انکشاف:اعلامیہ جاری

    اسلام آباد:وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ سفارتی سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے اور سفارتی سائفر کو فراڈ، جعلسازی،’فیبری کیشن ‘ کے بعد چوری کرلیاگیا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں آڈیو لیکس کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    اعلامیے کے مطابق آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی طرف سے آڈیو لیکس کی مکمل تحقیق کے فیصلے کی تائید کی گئی ہے۔

    وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ آڈیوز نے سابق حکومت اور عمران نیازی کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی، ایک سفارتی’سائفر‘ کو من گھڑت معنی دے کر سیاسی مفادات کی خاطر قومی مفادات کا قتل کیاگیا اور سفارتی سائفر کو فراڈ، جعلسازی،’فیبری کیشن ‘ کے بعد چوری کرلیاگیا۔

    وفاقی کابینہ نے قرار دیا کہ سائفر کی چوری آئینی حلف، قوانین، بالخصوص ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ‘ کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ ریاست کے خلاف ناقابل معافی جرائم کا ارتکاب ہے، کلیدی ریاستی مفادات پر سیاسی مفادات کو فوقیت دی گئی۔

    کابینہ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ سفارتی سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے جبکہ سابق وزیراعظم کو بھجوائے گئے سائفر کی وزیراعظم ہاؤس میں وصولی کا ریکارڈ میں اندراج موجود ہے۔وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ لازم ہے کہ ذمہ داروں کاواضح تعین کرکے قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے۔

    کابینہ نے فیصلہ کیا کہ خصوصی کمیٹی سابق وزیراعظم اور ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری کے خلاف کارروائی کا تعین کرے گی، خصوصی کمیٹی سینیئر وزرا کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا تعین کرے گی جبکہ کابینہ کمیٹی میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے جس میں خارجہ، داخلہ، قانون کی وزارتوں کے وزرا شامل ہوں گے۔

    وفاقی کابینہ نے مریم اورنگزیب کے ساتھ لندن میں پی ٹی آئی کارکنوں کی بدتمیزی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کسی خاتون سے اس نوعیت کے کسی منفی رویے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، خواتین کے بارے میں پی ٹی آئی چیئرمین کا رویہ ہمیشہ متعصبانہ، جانبدارانہ اور توہین آمیز رہا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی سائفر کے حوالے سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ مبینہ آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ امریکا کا نام نہیں لینا، اب ہم نے صرف کھیلنا ہے۔آج دوسری آڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں عمران خان کہتے ہیں کہ کسی کے منہ سے امریکا کا نام نہیں سننا چاہتا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونےوالے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مبینہ آڈیو لیکس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گفتگو پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران مبینہ آڈیو لیکس پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، سیاسی امور اورآڈیو لیکس پر بحث کے دوران سرکاری حکام کو اجلاس کے دوران باہر بھیج دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق نئے ایس او پیز پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے، شرکا کے موبائل فون اور سمارٹ آلات لانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کابینہ ارکان کو موبائل فونز اور سمارٹ واچز ہال سے باہر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کابینہ اجلاس سے قبل تمام شرکاء نے اپنے موبائل فون باہر جمع کرا دیئے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے ریکوڈک کیس پر ریفرنس بھیجنے کی اجازت دیدی۔ کابینہ میں ریفرنس بھیجنے پر تفصیلی بحث ہوئی، وزارت قانون کی طرف سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ذریعے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ریکوڈک پر ہونے والے سیٹلمنٹ معاہدے پر سپریم کورٹ سے رائے لی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ نے بجلی کی بچت اور پیداوار سے متعلق عملدرآمدی لائحہ عمل کی سمری موخر کر دی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس نے عمران خان نیازی کے جھوٹے بیانیے اورموجودہ حکومت کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کو بری طرح بے نقاب کردیا ہے، اب قوم کے سامنے حقیقت عیاں ہوچکی ہے،ہم نے ریاست کو بچانے کےلئے اپنی سیاست کو دائو پرلگا دیا،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا یا،عوام سچ اور جھوٹ ، خدمت اور فراڈ، ریاکاری اور سچائی میں تفریق کریں ،عوام ہمیشہ صحیح فیصلہ کرتے ہیں ۔

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع