لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی،جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیے۔
بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چیف سیکریٹری سمیت صوبائی وزرا کی کارکردگی کو سراہا،انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک یونٹ بن کر کام کیا اور بجٹ کی تیاری میں غیر معمولی محنت کا مظاہرہ کیا وفاق کو حصہ دینے کی مد میں بڑی رقم کی ادائیگی کے باعث مالی دباؤ ضرور آیا، تاہم حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہ ہو مالی مسائل اور عالمی حالات کے باوجود ایسا بجٹ تیار کیا گیا ہے جو عوامی خوشحالی اور ترقی پر مرکوز ہے اورمالی مسائل اور عالمی حالات کے باوجود کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے بجٹ کا بنیادی مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ہے امیدہے کہ حکومت گزشتہ برسوں کی طرح عوام کی توقعات پر پورا اترے گی، انہوں نے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو ریونیو بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی یہ امید کا بجٹ ہے اور حکومت اپنے وسائل سے عوام کو مزید ریلیف فراہم کرے گی، واضح رہے کہ صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان آج پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کا مجموعی بجٹ 5850 ارب روپے سے زائد جبکہ ترقیاتی بجٹ 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاہم حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق ہوگاپنجاب کو این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل سے 3793 ارب 70 کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں 1330 ارب روپے آمدن متوقع ہےذرائع کے مطابق پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے چکی ہے، جس کے باعث ترقیاتی بجٹ کا حجم مجموعی بجٹ کا تقریباً 47 فیصد رہ جائے گا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق تنخواہوں کیلئے 650 ارب روپے، پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑ روپے اور پنجاب فنانس کمیشن کیلئے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سماجی تحفظ کیلئے 25 ارب روپے، ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب روپے اور سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے صحت کے شعبے کیلئے 680 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ رکھا گیا ہے جبکہ مفت ادویات کیلئے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کینسر اور فالج کے مریضوں کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے بھی خصوصی فنڈز رکھے جائیں گے۔
تعلیم کے شعبے کیلئے 900 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، بجٹ میں طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ، الیکٹرک اسکوٹیز اور سائیکل اسکیمیں شامل ہیں، جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کیلئے 20 ارب روپے سے زائد رکھنے کا تخمینہ ہے پرواز کارڈ کیلئے 7 ارب روپے، کسان کارڈ کیلئے 10 ارب روپے، جبکہ ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کیلئے مجموعی طور پر 3 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ رمضان پیکیج کیلئے 35 ارب روپے اور یونیورسٹی گرانٹس کیلئے 18 ارب روپے رکھنے کا امکان ہے۔
بجٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو اولین ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ان منصوبوں کیلئے 200 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، آئندہ بجٹ میں مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا بھی امکان ہے۔
اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب ، وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








