Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام  تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،امیر طبقے کے لیے جنت، عام عوام تباہ ، عثمان خان کاکڑ

    ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

    کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

    چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ  تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں  کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔ افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ  جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • طلباء کی جسمانی و ذہنی صحت کو خطرہ، منشیات کا خاتمہ اولین ترجیح ، صدر عارف علوی

    طلباء کی جسمانی و ذہنی صحت کو خطرہ، منشیات کا خاتمہ اولین ترجیح ، صدر عارف علوی

    صدر عارف علوی کی زیرِ صدارت منشیات کے استعمال اور ذہنی صحت سے متعلق اجلاس منعقد کیا گیا- عارف علوی کی زیرِ صدارت اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری ، عندلیب عباس اور ممبر قومی اسمبلی ساجدہ ذوالفقار خان بھی شریک ہوئے- اجلاس میں فلاحی تنظیموں کے ممبران نے بھی شرکت کی- اس اجلاس میں صدر مملکت کو پاکستان میں منشیات کے پھیلاؤ کے بارے میں بریفنگ دی گئی- صدر عارف علوی نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے اسکا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہئے-

    منشیات اور ذہنی صحت سے متعلق شعور پیدا کرنے کیلئے قومی رابطہ حکمت عملی کی ضرورت ہے- بریفنگ میں بتایا گیا کہ منشیات سے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کی جسمانی اور ذہنی صحت کو خطرہ لاحق ہے- صدر عارف علوی نے کہا کہ رضاکاروں ، اساتذہ ، والدین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے ایک بنیادی فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے- میڈیا اور تعلیمی ادارے منشیات کے استعمال اور ذہنی صحت سے متعلق شعور اجاگر کریں- منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیلئے معاشرے خصوصا ً والدین اور اساتذہ کا کردار اہم ہے-

  • قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ناخوشگوار واقعہ پیش آنے پے  مخصوص عناصر کے  خلاف ایکشن

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ناخوشگوار واقعہ پیش آنے پے مخصوص عناصر کے خلاف ایکشن

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کا معاملہ
    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں اہم اجلاس : اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری بھی شریک۔ سیکرٹری قومی اسمبلی نے واقع کی فوٹیج اور تصاویر سپیکر کو پیش کیں.ایوان کے تقدس کو کسی صورت پامال نہیں ہونے دوں گا۔ایوان کا ماحول خراب کرنے والو کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس کی کاروائی کی فوٹیج اور تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد تین ممبران کو اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے قاعدہ 21 کے تحت لیٹر جاری کرنے کا فیصلہ
    لیٹر جاری ہونے والے ممبران میں پی پی پی کے سید نوید قمر، پی ایم ایل این کے چوھدری حامد حمید اور پی ٹی آئ کے عطااللہ خان شامل۔

  • وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نالج اکانومی کے فروغ کے حوالے سے اجلاس

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نالج اکانومی کے فروغ کے حوالے سے اجلاس

    اسلام آباد،
    ٭ اجلاس میں وزیرِ تعلیم شفقت محمود، سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری ایجوکیشن، ڈاکٹر عطا الرحمن، پروفیسر شعیب خان، پروفیسر ناصر خان و سینئر افسران شریک
    ٭ اجلاس کے دوران ملک میں نالج اکانومی کے فروغ کے حوالے سے مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ
    ٭ وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے وزیرِ اعظم کو تعلیم کے فروغ کے حوالے سے مختلف منصوبوں اور اقدامات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔
    ٭ ڈاکٹر عطا ء الرحمن کی جانب سے ملک میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، بائیو ٹیکنالوجی و دیگر جدید علوم کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
    ٭ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل تعلیم کے فروغ سے وابستہ ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان نوجوانوں کی صلاحیتوں سے اسی وقت ہی استفادہ کیا جا سکتا ہے جب یہ نوجوان جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا فروغ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجود حکومت کی جانب سے تعلیمی اصلاحات کا مقصد نہ صرف تعلیم کا فروغ بلکہ طلبا کی شخصیات میں اعلیٰ اقدار کواجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی کلاسوں کے نصاب میں سیرت النبی ﷺ کے مضمون کو شامل کرنے کا مقصد طلبا کو اسلامی شعار سے روشناس کرانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے فنی تعلیم اور اسکل ڈویلپمنٹ کی اہمیت پر خاص طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی و فنی تعلیم کے اداروں میں فراہم کی جانے والی تربیت کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق یقینی بنایا جائے اور تعلیمی اداروں اور مارکیٹ کے مابین تعلق کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

  • حکومت ملازمین کی فلاح پر یقین رکھتی ہے: پرویز خٹک کا اجلاس سے خطاب

    حکومت ملازمین کی فلاح پر یقین رکھتی ہے: پرویز خٹک کا اجلاس سے خطاب

    وزیر دفاع پرویز خٹک کی زیر صدارت آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائینس کی تنخواہ اور مراعات بڑھانے کے حوالے سے اجلاس

    اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی شرکت- آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائینس کے نمائیندوں کی شرکت- سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی- ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات کے حوالے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا- حتمی فیصلہ فنانس ٹیم سے ملکر ہوگا۔اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے-

    پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت ملازمین کی فلاح پر یقین رکھتی ہے۔ان کو تمام سہولیات فراہم کرینگے۔ ملک معاشی ترقی کر رہا ہے۔وسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں ضروراضافہ کرینگے۔ملکی وسائل کے تناسب سے دیگرمراعات بھی دینگے۔ ہمارے دل بہت بڑے ہیں۔اگلے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں کا خاص خیال رکھیں گے۔ تنخواہوں میں موجودہ تضادات کو ختم کرنے کی کوشش کرینگے۔ پے اینڈ پینشن کمیشن کی سفارشات کو جلد حتمی شکل دیں گے- پے اینڈ پینشن کمیشن حکومت نے سرکاری ملازمین کی فلاح کے لئے قایم کیا ہے۔

  • ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020، سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے 26اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے وفاقی اداروں میں گزشتہ ایک سال سے خالی رہ جانے والی اسامیوں کو ختم کرنے، سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعداد، اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کار کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے یکم ستمبر 2020کو ریفر کی گئی عوامی عرضداشت نمبر 3260 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس بل کی بدولت مقابلے کے امتحان کے معاملات میں مزید شفافیت آئے گی آئی ٹی کے بہتر استعمال سے معاملات مزید بہتر ہونگے۔ سفارش اور رشوت کا کلچر ختم ہو گا لوگ ڈیجیٹل پر بہت ایکٹو ہیں نتائج چیک کرنے کا موقع ملے گا ایف پی ایس سی کے قانون کے سیکشن 7میں ترمیم تجویز کی ہے۔ ڈیجیٹل ایؤلویشن (ارتقا) سے لوگوں کو فائدہ ہو گا جس پر سیکرٹری ایف پی ایس سی نے کمیٹی کو بتایا کہ مقابلے کے امتحان کے پرچے سب جیکٹیو اور اوبجیکٹیو ہوتے ۔ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے اوبجیکٹیو چیک ہو سکتا ہے سب جیکٹیو نہیں۔ سب جیکٹیو میں بہت سی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ بل صرف مقابلے کے امتحانات کے لئے نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ایف پی ایس سی اس بل کا تفصیل سے جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کریں۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں سوال اٹھایا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری اداروں میں تقریبا 70ہزار کے قریب خالی آسامیوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیا ان آسامیوں کی ضرورت نہیں تھی اور وہ ایک سال سے خالی کیوں تھیں یہ بھی بتایا جائے کہ اُن میں سے کتنی ٹیکنیکل آسامیاں ہیں۔ اسپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ کیبنٹ کی عملدرآمد کمیٹی میں اس حوالے سے ایک تجویز آئی تھی اُس تجویز کی بنیاد پر مشاورت کی جا رہی ہے اور وزارت قانون سے بھی رائے حاصل کی جا رہی ہے ابھی کچھ فائنل نہیں ہو ا اور نہ ہی ایک دم ختم کرنے کا ارادہ ہے۔ وزارت خزانہ کو بھی لکھا ہے کہ ایس او پیز بنا کر محکموں سے تفصیلات حاصل کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مکمل تیاری سے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں آگاہ کریں۔

    سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعدادکے معاملے کا کمیٹی اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں موبائل سگنل کا بہت بڑا ایشو ہے۔ سدرن بیلٹ میں گیارہ اضلاع ہیں جہاں کی آبادی 84لاکھ کے قریب ہے اور کمیٹی کو فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق ہر ضلع میں 48ٹاور لگائے گئے جبکہ جیز اور یو فون کمپنی کے فی ضلع پانچ ٹاور بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں بے شمار تعلیمی ادارے ہیں اور کسطرح لوگ آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہونگے۔ ممبر پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ این 55پر ٹاورز کی تعداد 530ہے البتہ ٹاور لگانے کی ذمہ داری یو ایس ایف کی بنتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ موبائل سگنل کا مسئلہ بہت زیادہ ہے یہاں پہاڑوں پر بھی سگنل نہیں ہوتے اور خیبر پختونخواہ کے بے شمار علاقوں میں سگنل کے مسائل ہیں۔ ڈی جی لائسنسنگ پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پورے ملک میں 46555موبائل فون ٹاورز لگائے گئے ہیں جن میں سے خیبر پختونخواہ میں 6444ٹاورز ہیں یہاں ٹیلی نار نے زیادہ کام کیا ہے اور پہاڑ ہونے کی وجہ سے مسلسل کوریج میں مسئلہ ہوتا ہے اگلے چار سے چھ سال میں ملک کی 90فیصد آباد ی کو کور کر لیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے آئندہ اجلاس میں یو ایس ایف کے حکام سے بریفنگ حاصل کی جائے۔

    اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کارکے معاملات کا تفصیل سے قائمہ کمیٹی نے جائزہ لیا۔ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن و ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کلب سردار احمد نواز سکھیرا اور اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کلب کے کل ممبران کی تعداد 9554ہے جن میں سے 52فیصدسروس، 44فیصد نان سروس اور دیگر 4فیصد شامل ہیں۔ کلب کے اخراجات ممبران سے لئے جاتے ہیں، اخراجات کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں کل ملازمین کی تعداد 912ہے جن میں سے 492کنٹریکٹ اور 420مستقل ہیں۔ کمیٹی کو ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار بارے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کلب کی ایک مینجمنٹ کمیٹی ہے جس کے نو ممبران ہوتے ہیں پانچ ممبران حکومت نامزد کرتی ہے تین ممبر، ممبران میں سے لئے جاتے ہیں اور ایک ممبر ڈیپلومیٹک کمیونٹی سے ہو تا ہے۔ کلب کے امور کے حوالے سے دیگر چھ کمیٹیاں بھی بنائی گئی ہیں اور رولز اور آڈٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے تاکہ کمرشل آڈٹ کے ساتھ فیڈرل آڈٹ بھی ہو سکے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملات کی بہتری کیلئے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں قابل تعریف ہے کمیٹی ان کو مکمل سپورٹ کرتی ہے غیر قانونی چیزوں کو روکنے کیلئے کمیٹی بھر پور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کلب کی حیثیت سیکنڈ ہوم کی ہوتی ہے کلب کے معیار اور سروس کو مزید بہترین ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایف نائن پارک میں بھی ایک کلب بنایا گیا تھا کروڑوں روپے لگنے کے باوجود ویران پڑا ہے اسکا جائزہ لیا جائے۔ وزیر انچارج کیبنٹ ڈویژن علی محمد نے کہاکہ ہمیں مڈل کلاس طبقے کیلئے بھی کلب قائم کرنے چاہئے جہاں لوگوں کو معیاری سہولت میسر ہو سکے۔

    کمیٹی اجلاس میں عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اسپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت سے کوٹہ طے کیا گیا تھا معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے۔ پٹشنر کے وکیل نے بتایا کہ آئین کے کسی ایکٹ میں اجازت نہیں دی گئی کہ وفاقی ادارے صوبوں کی آسامیوں پر وفاق کے بندے بھرتی کرے۔ انہوں نے کہا کہ 1954کے رولز کے بعد 2014میں ایک ایس آر او آیا جس میں 1954کے رولز کو تبدیل کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پہلے یہ تعین کیا جائے یہ معاملہ عدالت میں ہونے پر کمیٹی جائزہ لے سکتی ہے یا نہیں وزارت قانون و انصاف، سینیٹ کی قانون سازی کے حکام اور معزز پٹشنر کا وکیل مل کر تعین کریں اور کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری قانون و انصاف تفصیلات سے آگاہ کریں۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزسیمی ایذدی، روبینہ خالد، مشتاق احمد، فیصل جاویداور انور لال دین کے علاوہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، ا سپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن،ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانےاور گاؤں کی آباد کاری میں اہم پیشرفت

    پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانےاور گاؤں کی آباد کاری میں اہم پیشرفت

    وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی زیر صدارت منگل کے روز منعقد پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے اور دیگر امور سمیت منقسم گاؤں کی آباد کاری کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کےحوالے سے پیشرفت ، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور باڈر پر موجود منقسم علاقوں پر موجود آبادیوں کی آباد کاری کے حوالے سے انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں باڑ،گاوں کی آباد کاری  کے حوالے سے کئے گئے فیصلوں اور جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیتے ہوئے ان فیصلوں پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا۔ صوبائی وزیر زراعت انجینیئر زمرک خان اچکزئی کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حافظ عبدالباسط، کمشنر کوئٹہ ڈیویژن اسفندیار کاکڑ، ڈی آئی جی کوئٹہ محمد اظہر اکرم، کمانڈنٹ  چمن سکاوٹس کرنل محمد راشد،ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ بقام چمن و دیگر متعلقہ محکموں کے انتظامی سول و عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی –

    اجلاس میں متعلقہ حکام کی جانب سے اپنے اپنے محکموں کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک پاک افغان بارڈر پر 213 کلومیٹر کی فینسگ میں 182 کلومیٹر کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ 27 کلومیٹر کی فیسنگ کا کام جاری ہے صوبائی وزیر داخلہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر باڈ لگانے کا کام جاری ہے اور باڈر پر باڑ لگانے کے مسئلہ کے حل کے لیے قبائلی عمائدین کی خواہشات کے تناظر میں افغانستان کی حکومت سے دو طرفہ معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بارڈر ایریا میں سیٹلمنٹ کے مسائل کے حل میں صوبائی حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے  سیٹلمنٹ کے مسائل خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ،  بورڈ آف ریونیو کو جلد از جلد رپورٹ جمع کروانے کی ہدایات بھی کی۔

    وزیر داخلہ نے باڈرکے حوالے سے دیگر مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تمام مسائل کا حل مشاورت سے تجویز کردہ رپورٹ کی بناء پر حل کیے جا سکیں گے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت زمرک اچکزئی نے کہا کہ چمن باڈر پر آباد کار لوگوں کا مسئلہ ان کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا ۔اور قبائلی عوام سے مشاورت کے بعد مربوط لائحہ عمل بناتے ہوئے اس مسلے کا حل پائیدار بنیاد پر حل کر لیا جائے گا۔ جبکہ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو باڈر سے منسلک تمام عوامل کا باخوبی علم ہے جبکہ باڈر علاقوں میں کاروبار کے فروغ بھی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اس حوالے سے پاک افغان اور پاک ایران بارڈر پر 13 باڈر کمرشل ایریاز بھی بنانے جارہی ہے جس سے دو طرفہ تجارت اور باہمی روابط کو بڑھانے میں خاطر خواہ بہتری آ سکے گی جبکہ ان کمرشل ایریاز کے بننے سے روزگار کے وسیع مواقع دستیاب آ سکیں گے۔

  • امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا.

    امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا.

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی نے اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی بد امنی اور جرائم کی جانب کمیٹی کی توجہ مبز ول کراوئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے جبکہ یہاں پولیس نے ایک نہتے طلب علم کو جان سے مار ڈالا اور اسکے والدین انصاف انتظار میں ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اسلام آباد کی امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا۔
    سینیٹر میاں عتیق شیخ نے بھی کہا کہ اسامہ ستی قتل کیس کے حقائق چھپانے کی کوشش نہ کی جائے اور اس کی غیر جانبدارنہ انکوائری کرائی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے بعض عوامی ارداشتوں کا بھی جائزہ لیا اور اُس پر بھی مناسب کاروائی کی ہدایات دیں۔
    اسلام آباد قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز جاوید عباسی، میاں عتیق شیخ کے علاوہ وزارت داخلہ، وزارت پیٹرولیم و ایف آئی اے اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔

  • صدر گوگیرہ میں ن لیگ کی ذیلی تنظیم حمزہ یوتھ لوورز کی تنظیم سازی

    صدر گوگیرہ میں ن لیگ کی ذیلی تنظیم حمزہ یوتھ لوورز کی تنظیم سازی

    اوکاڑہ(علی حسین) صدر گوگیرہ میں ن لیگ کی ذیلی تنظیم حمزہ یوتھ لوورز کی تنظیم سازی کے لیے ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں چوہدری ضیاء حسین گوگیرہ، رائل نیوز کے نمائندے غلام عباس، ڈاکٹر اسامہ فرید ، ملک آصف ، محمد زاہد نظیر، چوہدری فرید ، چوہدری شاہد نذیر، ڈاکٹر عثمان، رائے ظہیرپروکہ، چوہدری نواز گوگیرہ، رائے مبشر ساغراور دیگر معززین نے شرکت کی۔ اجلاس میں حمزہ یوتھ لوورز کی تنظیم سازی کے لیے باہمی مشاورت کی گئی۔

  • اوکاڑہ، پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ کا مرکزی اجلاس، ملکی معاملات اور مشاورت کی گئی

    اوکاڑہ، پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ کا مرکزی اجلاس، ملکی معاملات اور مشاورت کی گئی

    اوکاڑہ(علی حسین) پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ(پامی) کی ویڈیو لنک میٹنگ پامی کے چیئرمین محمد اسلم زار کی صدارت میں ہوئی. میزبان اجلاس وسیم خان تھے. میٹنگ میں صدر گوگیرہ اور اوکاڑہ سمیت ملک بھر سے پامی کے عہدیداران نے شرکت کی اور ملکی صورتحال، کرونا وائرس، کشمیر ایشو اور تنظیمی معاملات پر مشاورت کی گئی. میٹنگ سے اسلم زار، غلام سرور انجم مغل، اقبال ڈار، جاوید گورائیہ، مظہر الحق، خالد کیانی، نذر مسعود شاہ، انوار احمد شاہ، محمد جہانگیر، سید مجتبیٰ بخاری، مرزا محمد اسلم بیگ اور آصف آصفی الخیری نے خطاب کیا. آئندہ میٹنگ جولائی کے وسط میں ہوگی.