Baaghi TV

Tag: اجلاس

  • کسی صورت زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دوں گا،صدر مملکت

    کسی صورت زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دوں گا،صدر مملکت

    کراچی: صدر مملکت آصف زرداری کی زیر صداعت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صدر آصف علی زرداری کی وزیراعلیٰ ہاؤس آمد پراستقبال کیا ،اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سمیت انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی، اجلاس میں کراچی اور سندھ بھر خاص کر کچے کے علاقے میں امن اومان کی صورتحال پر آئی جی سندھ نے بریفنگ دی،صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ کچے میں جو بھی اغوا میں ملوث ہیں اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، پولیس افسران کو اس صورت تبدیل کریں جب وہ امن امان کی صورتحال میں ناکام ہوں،صدر مملکت نے وزیر اعلیٰ سندھ کو واضح احکامات دیئے کہ زمینوں پر قبضوں پر میری زیرو ٹالرنس ہے ،صدر مملکت کا کہنا تھا کہ میں کسی صورت زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دوں گا، کراچی سیف سٹی پروجیکٹ جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے

    صدر آصف زرداری کی زیر صدارت سندھ میں امن و امان پر اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی آئی ہے ،ایرانی صدر کا دورہ، انٹرنیشنل میچز امن و امان کی دلیل ہیں ،2014 میں کرائم انڈیکس میں کراچی چھٹے نمبر پر تھا اب 82 پر اگیا ہے

    امن و امان کی بحالی میں ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے،صدر مملکت
    قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایم کیو ایم کے وفد نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں کراچی میں ملاقات کی۔ ایم کیوایم پاکستان کے وفد میں مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار بھی شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے وفد نے صدر آصف علی زرداری کو دوبارہ صدر مملکت منتخب ہونے پر مبارکباد دی جس پر صدرمملکت نے انکا شکریہ ادا کیا۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ امن و امان کی بحالی میں ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ایم کیو ایم وفد نے اس حوالے سے صدر مملکت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت پاکستان کوسٹ گارڈز کے ہیڈ کوارٹر میں اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ، پاکستان کوسٹ گارڈز کے اعلیٰ حکام اور افسران بھی شریک ہوئے، محسن نقوی نے پاکستان کوسٹ گارڈز کو اپ گریڈ کرنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے گا، کم وسائل کے باوجود کوسٹل گارڈز کی کارکردگی بہترین ہے لیکن کوسٹل ایریاز سے اسمگلنگ روکنے کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈز کو مزید متحرک کردار ادا کرنا ہے۔

    وزیر داخلہ کا پاکستان کوسٹ گارڈز کو اپ گریڈ کرنےکا اعلان

    سابق انگلش کپتان کی ٹی20 ورلڈکپ 2024 میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں سے متعلق …

    قانون کے تحت وزیراعظم نے اپنے تمام اختیارات چھوڑے ہیں،وزیر قانون

  • آرمی چیف اور صوبوں کے تعاون سے انسداد اسمگلنگ میں مدد ملی،وزیراعظم

    آرمی چیف اور صوبوں کے تعاون سے انسداد اسمگلنگ میں مدد ملی،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے انسداد اسمگلنگ کے حوالے سے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد نئی حکومتیں بن چکی ہیں،چیلنجز کو سمجھنا ہے تاکہ معیشت کو سنبھالا جاسکے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے سیاسی افراتفری کا خاتمہ کرنا ہوگا،وفاق، صوبے اور ادارے سب مل کر یکسو ہوجائیں،گزشتہ 24 دنوں میں معیشت کے حوالے مختلف اجلاس کیے،پاکستان میں غیرقانونی تجارت اور اسمگلنگ نے بے پناہ نقصان پہنچایا،اتحادی حکومت نے 2022میں اڑھائی لاکھ ٹن چینی برآمد کی اجازت دی تھی،جو چینی بیچ کر ہم ڈالر کما سکتے تھے وہ افغانستان اسمگل ہونے سے نقصان ہوا،بجلی چوری سے سالانہ 400 تا 500ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،پیٹرولیم کے شعبے میں بھی گیس کی چوری سے نقصان ہو رہا ہے،رواں سال محصولات کا 9کھرب کا تخمینہ ہے،2700ارب روپے کے محصولات سے متعلق کیسز عدالتوں میں زیرالتوا ہیں،نگران دور حکومت میں توانائی کے شعبے میں 58ارب روپے کی چوری ریکور ہوئی،نگران حکومت میں اسمگلنگ کے خاتمے سے متعلق ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے،آرمی چیف اور صوبوں کے تعاون سے انسداد اسمگلنگ میں مدد ملی،تمام صوبوں نے انسداد اسمگلنگ مہم میں وفاق کا ساتھ دیا،ملکی ترقی کے لیے صنعت اور زراعت کا فروغ ناگزیر ہے،بشام واقعہ سے چین پاکستان تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی،دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے.

    چین کا پاکستان سے دہشت گردانہ حملے کی جلد از جلد جامع تحقیقات کا مطالبہ

    بشام واقعہ تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر اتفاق ہوا،عطا تارڑ

    امریکہ نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی شانگلہ میں دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانے پہنچ گئے،

    چین نے شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں اپنے باشندوں کی ہلاکت پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    پاک فوج نے بشام میں چینی شہریوں سمیت 6 بے گناہ افراد کی ہلاکت کی مذمت کی 

    شانگلہ میں گاڑی پر خودکش حملہ، 5 چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک

  • ججز کے خط کی انکوائری کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب

    ججز کے خط کی انکوائری کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: وزیراعظم نے ججز کے خط کی انکوائری کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے ججز کے الزامات کی انکوائری کیلئے کمیشن کے قیام کی منظوری سمیت دیگر معاملات کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا وفاقی کابینہ کا اجلاس 30 مارچ بروز ہفتہ دن بارہ بجے ہوگا جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے الزامات کی انکوائری کیلئے کمیشن کے قیام کی منظوری لی جائے گی۔

    قبل ازیں 6 ججز کے خط پر سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے اعلامیہ جاری کیا ، اعلامیے کے مطابق ‏چیف جسٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کا خط 26 مارچ کو موصول ہوا، ‏ہائیکورٹ کے ججز کی جانب سے خط 25 مارچ کو لکھا گیا،‏ چیف جسٹس نے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ اور دیگر ججز کے ساتھ افطار پر ملاقات کی، ‏ججز سے ملاقات چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رہائش گاہ پر ہوئی-

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    ‏اعلامیے کے مطابق تمام ججز کے تحفظات کو ڈھائی گھنٹے تک ایک، ایک کر کے سنا گیا، 27مارچ کو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون سے ملاقات کی ، ‏ چیف جسٹس نے صدرسپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کے سینئر ممبرز سے ملاقاتیں بھی کیں، 27مارچ کو شام 4 بجے چیف جسٹس نے فل کورٹ میٹنگ طلب کی ،چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور مضبوط جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے دوران انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی، انکوائری کمیشن کسی نیک نام ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کرنے کی تجویز دی گئی، ‏ طے پایا وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ذریعے انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دی جائیگی-

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    ‏ وزیراعظم نے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کے ہمراہ چیف جسٹس، سینئر جج اور رجسٹرار سے ملاقات کی ،چیف جسٹس نے کہا کہ ‏ ججز کے معاملات اور عدالتی امور میں ایگزیکٹو کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،‏ کسی بھی صورتحال میں عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا-

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد ختم ہو ا، سپریم کورٹ ججز کا فل کورٹ اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ہائی کورٹ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت اجلاس دو گھنٹے بعد ختم ہوا اور یہ بیٹھک آج دوبارہ ہوگی،جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی آئینی و قانونی حیثیت پر غور کیا جائے گا-

    واضح ہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے ججز شریک ہوئے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کا جائزہ لیا گیا، فل کورٹ اجلاس تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا ذرائع کے مطابق اجلاس میں معاملہ فل کورٹ بنچ اور سپریم جوڈیشل کونسل میں لے جانے پر غور کیا گیا، فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ کچھ دیر میں جاری ہونے کا امکان ہے۔

    واضح رہےکہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خفیہ اداروں کے عدالتی معاملات میں مداخلت سے متعلق خط پر فل کورٹ اجلاس طلب کیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی تھی، بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور عثمان نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ججز کے خط کا معاملہ سنجیدہ ہے، جس کی تحقیق ہونی چاہیئے۔

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کے معاملے پر پاکستان بار کونسل نے بھی 5 اپریل کو ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا، جس میں پاکستان بار کونسل موجودہ صورتحال پر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

    عدالتی امور میں خفیہ اداروں کی مداخلت پر خط

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہم جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو انڈر ما ئن کرنے والے کون تھے؟ ان کی معاونت کس نے کی؟ سب کو جوابدہ کیا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نہ جا سکے، ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔

    خط میں ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رہ نمائی مانگی ہے، پوچھا ہے کہ ایگزیکٹو بشمول انٹیلی جنس ایجنسیز ارکان کی کارروائیوں پر رپورٹ اور ردعمل سے متعلق جج کی کیا ڈیوٹی ہے؟ یہ کارروائیاں ایک جج کے سرکاری کام میں مداخلت کے برابر ہیں۔

    محکمہ موسمیات میں اصلاحات کیلئے ورلڈ بینک نے پہلی قسط جاری کر دی

    خط میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اہل کاروں کی عدالتی امور میں مداخلت اور ججز کو دھمکاناعدلیہ کی آزادی کم کرتی ہے، درخواست ہے انٹیلیجنس اہلکاروں کی مداخلت اور ججز کو دھمکانے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے، ایسی ادارہ جاتی مشاورت عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے طریقہ کار اور عدلیہ کی آزادی کم کرنے والوں کا تعین کرنے کے میکزم بنانے میں معاون ہوسکتی ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ یہ جاننا اور تعین کرنا ضروری ہے ریاست کی ایک ایگزیکٹو برانچ سے جاری پالیسی ابھی وجود رکھتی ہے، جاری پالیسی پر انٹیلی جنس اہلکار عمل درآمد کرتے ہیں جو ایگزیکٹو برانچ کو رپورٹ کرتےہیں، ہائی کورٹ کے ایک جج کے بیڈ روم کی خفیہ کیمرے سے ریکارڈنگ کی گئی۔

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست …

  • وزیراعظم  نےریکوڈک منصوبے   پر اگلے ہفتہ تفصیلی بریفنگ طلب کرلی

    وزیراعظم نےریکوڈک منصوبے پر اگلے ہفتہ تفصیلی بریفنگ طلب کرلی

    لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے ریکوڈک روڈ و ریل کنکٹیویٹی پر اگلے ہفتہ تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے اہم اجلاس لاہور میں منعقد ہوا،اجلاس میں بیرک گولڈ کمپنی کے وفد نے چیف ایگزیکٹو افسر مارک برسٹوو کی سربراہی میں بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والوں اور ریکوڈک سے بندرگاہ تک لاجسٹکس اور آمدورفت کے حوالے سے سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، منصوبے کے حوالے سےسرکاری سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز سےمشاورت کی جائے گی اور جہاں جہاں رکاو ٹیں ہیں وہ دور کی جائیں گی بلوچستان میں معدنیات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مواصلات کے انفرااسٹرکچر، خصوصاً ریلوے لائن کے حوالے سے منصوبہ سازی کی جائے گی۔

    قیدیوں کی سزا میں 90روز کی کمی کا نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریکوڈک منصوبے کو بذریعہ سڑک گوادر سے جوڑنے کے لیے موجودہ روڈ نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کا کام جلد از جلد کیا جائے، جہاں جہاں نئی سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں ان کی تکمیل کا کام تیز تر کیا جائے، ریکوڈک کی گوادر بندر گاہ تک ریل روڈ نیٹ ورک کی فزیبیلٹی کے حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک سے گوادر ریلوے لائین منصوبے سے بندرگاہ تک رسائی آسان اور کم وقت میں ہوگی اور بن قاسم پورٹ کے مقابلے فاصلہ بھی کافی حد تک کم ہوگانئی ریلوے لائین سے معدنیات سے بھرپور ضلع چاغی مستفید ہو سکے گا اور کان کنی کی صنعت کو فروغ ملے گا۔

    رواں سال کا پہلا چاند گرہن کل ہو گا

    شہباز شریف نے ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے انوائرمنٹ اینڈ سوشل ایمپیکٹ اسیسمنٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے سرکاری سطح پر تمام تر رکاوٹیں دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ریکوڈک منصوبے کی فزیبیلٹی دسمبر 2024 تک مکمل کرلی جائے گی، ریکوڈک سے ہر مہینے 6 ہزار کنٹینرز بندر گاہ تک جائیں گے، منصوبے کی کنسنٹریٹ پائپ لائن دنیا کی دوسری طویل سلری پائپ لائین ہوگی اجلاس کو بتایا گیا کہ ریکوڈک سے قومی شاہراہ 40 تک کی لنک روڈ مائیننگ کمپنی تعمیر کرے گی، ریکوڈک کو گوادر سے ملانے کے حوالے سے نوکنڈی سے ماشخیل تک 103 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کا کام 58 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔

    جماعت اسلامی کا غزہ مارچ،ڈی چوک پر دھرنا،پولیس اور شرکاء میں بحث

    وزیراعظم نے ریکوڈک روڈ اینڈ ریل کنیکٹوٹی پر اگلے ہفتے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی،اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم مصدق ملک، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن محمد جہانزیب اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔

  • سرحد پار سے دہشتگردی اب برداشت نہیں کر سکتے،وزیراعظم

    سرحد پار سے دہشتگردی اب برداشت نہیں کر سکتے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی اب برداشت نہیں کر سکتے-

    باغی ٹی وی : کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل سے تمام کابینہ عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے، وفاقی کابینہ آج پہلا اجلاس تھا، امید ہے کابینہ عوام کے اعتماد پرپورا اترے گی، پاکستان کی سرحدیں دہشت گردی کے خلاف ریڈ لائن ہیں، سرحد پار سے دہشت گردی اب برداشت نہیں کرسکتے، ہمسائیہ ملک کی زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو گی تو یہ قابلِ قبول نہیں ہو گا، خطے میں امن کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قوم نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتےہیں، پاک فوج کے جوانوں کی وطن کے ساتھ والہانہ محبت انمول ہے،شہدا اور ان کے اہلخانہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، شہدا کے والدین نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی گھر تک سروسز فراہم کرنے دستک پروگرام …

    وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھائیں، آئی ایم ایف کی شرط ہےکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں ہمیں آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی ضرورت ہے ،کیونکہ قرضوں کے بغیر ہمارا گزارا نہیں، معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر کے ملک کو قرضوں سے نجات دلانی ہے، کوشش کریں گے کم سے کم قرض لیں، پچھلی حکومت میں ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ہم نے ملک کے لیے اپنا سیاسی اثاثہ بھی داؤ پر لگا دیا-

    احتجاج، توڑ پھوڑ، عمران خان ،شیخ رشید، شاہ محمود قریشی و دیگر بری

    انہوں نے کہا کہ 2400 ارب کے محصولات کے کیسز ٹربیونلز یا عدالتوں میں ہیں، چیف جسٹس سے درخواست ہے تمام ہائیکورٹس کو ہدایت دیں کہ تمام کیسز پر میرٹ پر فیصلہ دیں، نوٹس لینے پر چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں گامافیاز قوم کے اربوں کھربوں روپے کھا رہی ہے، 400 سے 500 ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری ہو رہی ہے، اب بجلی اور گیس کی چوری برداشت نہیں کریں گے، بجلی اور گیس کی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے پلان لانا ہوگاچیئرمین ایف بی آر، وزیر خزانہ کو کہا ہے فرض شناس، دیانتدار افسران کی فہرستیں بنائیں، ٹربیونلز سے میٹنگ کریں اور جلد از جلد انصاف پر مبنی فیصلہ کریں۔

    پاکستان کو اس وقت معاشی لانگ مارچ کی ضرورت ہے ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی

    کفایت شعاری پالیسی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے شاہانہ اخراجات میں کمی انتہائی ضروری ہے، کئی ایسے محکمے ہیں جن کی ضرورت نہیں اور جو محکمے رہ گئے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حوالے کریں، قبل ازیں، کابینہ اجلاس میں وزیراعظم سمیت اراکین نے تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا۔

  • وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس،اعلامیہ جاری

    وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس،اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس، وزیراعظم آفس نے اعلامیہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : اعلامیے کے مطابق ریاستی ، قومی اور عوامی مفادات کے فروغ، دفاع اور بیانیہ سازی کے لئے حکمت عملی مرتب کرلی گئی وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وزیراعظم ہاؤس میں پارٹی اور حکومت کی میڈیا سٹرٹیجی کے حوالے سے اجلاس ہوا ،اجلاس میں میڈیا اور حکومت کی ترجمانی کرنے والے پارٹی رہنماؤں اور وزرا نے شرکت کی-

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ مجموعی صورتحال، میڈیا میں آنے والے موضوعات اور حکومت وجماعت کے موقف کو بھرپور اجاگر کرنے کے حوالے سے امور کا تفصیلی جائزہ لیاگیا، شہدائے وطن کے حوالے سے میڈیا میں ایک جماعت سے وابستہ عناصر کی منفی مہم کی شدید مذمت کی گئی ،پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے، قومی وقار اور مفادات کے منافی چلائی جانے والی شرانگیز مہم کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا-

    فیصلے میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا سمیت ذرائع ابلاغ کے تمام پلیٹ فارم پر موثر، جامع اور بروقت ردعمل دیا جائے، اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیاگیا،وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور چاروں صوبوں سے پارٹی اور حکومتی موقف کی ترجمانی کے لئے سینئر لیڈرز کی راہنمائی میں ترجمان مقرر کئے جائیں-

    وزیراعظم نے پارٹی اور پارلیمنٹ کے ارکان میں میڈیا میں نمائندگی کی صلاحیت رکھنے والے زیادہ سے زیادہ افراد کو ذمہ داریاں دینے کی ہدایت کی، کہا کہ وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومتی وزراء، پارٹی راہنماؤں، ارکان پارلیمان کے درمیان اشتراک عمل پیدا کیاجائے،-

    ٹی وی پروگراموں کے لئے سینٹرلائزڈ میکنزم تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیاگیا،موضوعات کی نشاندہی، بیانیے کی تشکیل، فیک اور گمراہ کن پراپیگنڈے کے فوری تدارک کا فیصلہ کیا گیا سچائی اور حقیقت کو فوری اور موثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لئے طریقہ کار بھی تیار کرنے کی ہدایت کی گئی-

  • قومی اسمبلی اجلاس،اپوزیشن کا ہنگامہ،کورم کی نشاندہی کے بعد ملتوی

    قومی اسمبلی اجلاس،اپوزیشن کا ہنگامہ،کورم کی نشاندہی کے بعد ملتوی

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا،

    حکومتی و اپوزیشن اراکین نے اجلاس میں تقاریر کیں، اس دوران ہنگامہ آرائی بھی ہوئی، بلاول نے اپوزیشن کو خطاب کے دوران کارٹون قرار دے دیا ،اجلاس جاری تھا کہ کورم کی نشاندہی کردی گئی،کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کر دیا گیا، اجلاس کی پہلے صدارت سپیکر بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے کی.

    قومی اسمبلی میں پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، اخترمینگل، اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر نے تقاریر کیں، بلاول زرداری اور خالد مقبول صدیقی کی تقاریر کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے شدید شور شرابہ کیا اور اس دوران ڈپٹی اسپیکر بار بار اراکین کو خاموش رہنے کی تاکید کرتے رہے،کورم کی نشاندہی کی گئی تو ڈپٹی اسپیکرنے گنتی سے قبل ہی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی شام 5 بجے تک ملتوی کردیا

    اس بار لوگوں نے شیطان کو پتھر مارنے کے ثواب کی طرح ووٹ ڈالے،اختر مینگل
    بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کو منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، وزیرِ اعظم کو تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا، سب سے پہلے میں محمود خان اچکزئی کے گھر پولیس ریڈ کی مذمت کرتا ہوں،امید تھی کہ وزیرِ اعظم پابند سلاسل صحافیوں کی رہائی کا اعلان کریں گے، صحافی قلم کے ذریعے ہمیں راہِ راست دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، بلوچستان میں ہم سیاسی نہیں جنگی قیدی ہیں، سیاسی قیدیوں کی رہائی فوری عمل میں لائی جائے، امید تھی کہ وزیرِ اعظم صحافی اسد طور اور عمران ریاض کی رہائی کا اعلان کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، گوادر جس کے نام پر سی پیک بنایا گیا ہے، وزیرِ اعظم صاحب وہ جھومر ڈوب گیا ہے، لوگوں کے ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر بھیج دیتے تو بہتر ہوتا، میں نے کیئر ٹیکر حکومت کا نام انڈر ٹیکر رکھا تھا، بلوچستان کی خواتین اور بچے کچھ ڈھونڈنے دارالخلافہ آئے تھے، اسلام آباد کی سرد راتوں میں ان کا استقبال ٹھنڈے پانی سے کیا گیا، ان عورتوں اور بچوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، ان عورتوں بچوں کا جو کوئٹہ میں استقبال کیا گیا دیکھ لیا، یہ جو شور شرابا ہو رہا ہے ہم جمہوریت کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہے ہیں،تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے،میں بلوچستان کے قیدیوں کی نہیں سیاسی قیدیوں کی بات کررہا ہوں،بلوچستان والے سیاسی نہیں جنگی قیدی ہیں،ووٹ کو عزت دینے دو والوں کے منہ سے اب تو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی نہیں سن رہے ،اس بار لوگوں نے شیطان کو پتھر مارنے کے ثواب کی طرح ووٹ ڈالے ،جتنی عزت شیطان کو حج کے دوران ملتی ہے اس بار ووٹ کو اتنی عزت ملی ہے،

    اختر مینگل کی تقریر کے دوران ڈپٹی سپیکر نے انہیں روک دیا ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آئین ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ اُن کو ہم تنقید کا نشانہ بنائیں، اختر مینگل نے کہا کہ بہت شکریہ ڈپٹی سپیکر صاحب، چلو آئین کی وہ شِق بھی تو بتا دیں جس میں یہ لکھا ھے کہ وہ ہماری پگڑیاں اچھالیں،

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

    میری تقریر کیوں نہیں لائیو کی،پیمرا اور ایم ڈی پی ٹی وی کو طلب کرینگے،عمر ایوب

  • آئی ایم ایف کو خط ،بحث کے لیے تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع

    آئی ایم ایف کو خط ،بحث کے لیے تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع

    تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے پر بحث کے لیے تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی گئی ہے

    سینیٹ میں بحث کے لیے تحریک التوا مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، تحریک التوا کے متن کے مطابق عمران خان کا آئی ایم ایف کو خط پارٹی ترجمان رؤف حسن نے ارسال کیا، آئی ایم ایف کو کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مالی امداد سے قبل شرائط پر خود کو مطمئن کرے،پی ٹی آئی نے الیکشن کے بعد منتخب حکومت کے جائز ہونے کو بھی چیلنج کرنے کی بات کی ہے۔پی ٹی آئی کے خط پر سینیٹ اجلاس میں بحث کی جائے،

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

    قبل ازیں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو لکھے گئے خط پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو خط غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، انتخابی معاملات کا فورم آئی ایم ایف نہیں ہے، پی ٹی آئی کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی، بیرونی قوتوں کے سامنے سرنڈر نہ کرنا ان کا بیانیہ ہے، اس وقت مثبت انداز میں بات ہورہی ہے، امید ہے 6 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف سے بات ہوجائے گی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے جس میں عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا حب الوطنی نہیں،شرجیل میمن

  • قومی اسمبلی اجلاس،نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

    قومی اسمبلی اجلاس،نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

    قومی اسمبلی اجلاس، ایک گھنٹہ تاخیر سے اجلاس کا آغاز ہوا

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اجلاس کی صدارت کی،اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا،تلاوت کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی،اجلاس میں نو منتخب اراکین موجود ہیں،پاکستان کی 16 ویں قومی اسمبلی معرض وجود میں آگئی ۔ نو منتخب ارکان اسمبلی نے اپنا حلف اٹھا لیا،سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے حلف لیا.

    سپیکر قومی اسمبلی الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا فیصلہ فوری جاری کرنے کی رولنگ دیں،عمر ایوب
    عمر ایوب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان تاحال نامکمل ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر فیصلہ نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی، سپیکر قومی اسمبلی الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا فیصلہ فوری جاری کرنے کی رولنگ دیں، اپنے حلقے کی عوام اور قائد کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم اپنے منتخب اراکین کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں، عمر ایوب خان نے اپنی تقریر میں رول 51 کا حوالہ دے دیا، عمر ایوب خان نے خواتین کے لئے مخصوص نشستوں میں نامزد عالیہ حمزہ کی تصویر ایوان میں لہرا دی،عالیہ حمزہ اس وقت جیل میں ہیں،

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب قومی اسمبلی پوری ہو تب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوتا ہے، ببائیں جانب جو بیٹھے ہیں دنیا جانتی ہے وہ اجنبی لوگ ہیں، آئین پر عمل درآمد کئے بغیر ملک آگے نہیں لے جایا جا سکتا،

    قومی اسمبلی،خواجہ آصف نے گھڑی لہرا دی،بولے "یہ گھڑی کے لیے شور کر رہے ہیں”
    خواجہ آصف کو مائک ملنے پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین نےشدید احتجاج کیا،سنی اتحاد کونسل کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے شدید نعرے بازی کی،خواجہ آصف نے بھی اپوزیشن اراکین کو گھڑی لہرا کر دکھا دی، خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا نکتہ اعتراض آیا اس نکتہ اعتراض کا جواب دے رہا ہوں،سنی اتحاد کونسل نے کسی مخصوص نشست کے لئے کوئی فہرست نہیں دی،انہوں نے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا کہ کوئی فہرست نہیں ،میں نے جواب دے دیا اب یہ شور اس لیے کر رہے ہیں ،خواجہ آصف نے گھڑی لہرانا شروع کر دی اور کہا کہ یہ گھڑی کے لیے شور کر رہے ہیں

    اپوزیشن کے شور شرابہ میں اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دی

    سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف، صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف، سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان، خورشید شاہ، سردار ایاز صادق،عمر ایوب، شہر یار آفریدی، علی محمد خان، شیر افضل مروت اور دیگر نو منتخب اراکین ایوان میں موجود ہیں، پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی یوسف تالپور وہیل چیئر پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے۔

    سابق وزیراعظم نوازشریف بھی قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچ گئے، نواز شریف نے سابق صدر آصف زرداری سے مصافحہ کیا،ایوان میں آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے مصافحہ کیا،آصف علی زرداری نے رول آف سائن پر دستخط کر دیئے،مولانا فضل الرحمان نے رول آف ممبرز پر دستخط کر دیے،اسپیکر قومی اسمبلی نے کھڑے ہوکر مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا،عمر ایوب نے بانی پی ٹی آئی کا پوسٹر تھامے رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،نواز شریف نےبھی رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے، نواز شریف کے دستخط کرتے وقت لیگی کارکنان نے "وزیراعظم نوازشریف” کے نعرے لگائے جبکہ سنی اتحاد کونسل اراکین کی جانب سے "دیکھو دیکھو کون آیا؟” کے نعرے لگائے گئے،صاحبزادہ حامد رضا نے رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،خالد مگسی، بیرسٹر عقیل ملک، شیخ آفتاب احمد، طارق بشیر چیمہ نے بھی رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،مولانا عبد الغفور حیدری، اعجاز الحق، نے بھی رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،بیرسٹر گوہر نے رول آف ممبر پر دستخط کرنے کے بعد عمران خان کی تصویر لہرا دی.

    اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی منظور
    قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لیے سردار ایاز صادق، ملک محمد عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے نامزد امیدوار سردار ایاز صادق کے تجویز کنندان میں چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، سید نوید قمر اور اویس احمد لغاری شامل ہیں،ملک عامر ڈوگر کے تجویز کنندان میں صاحبزادہ صبغت اللہ، علی محمد اور ڈاکٹر امجد علی خان شامل، ہیں،قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے سید غلام مصطفی شاہ اور جنید اکبر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ڈپٹی اسپیکر کے لیے نامزد امیدوار غلام مصطفیٰ شاہ کے لیے تجویز کنندان میں محمد رضا حیات ہراج اور اعجاز حسین جاکھرانی شامل ہیں،جنید اکبر کے تجویز کنندان میں محمد ثناء اللہ خان مستی خیل، محمد ریاض خان فتیانہ اور مہر غلام محمد لالی شامل ہیں،اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب بروز جمعہ یکم مارچ 2024 کو ہو گا،قومی اسمبلی کے آج منعقد ہونے والے اجلاس میں 282ممبران قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور رول آف ممبر پر دستخط کیے،

    سپیکر کے لئے ملک عامر ڈوگر،ایاز صادق کے کاغذات جمع
    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے لیے ملک عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے گئے،ڈپٹی سپیکر کے لیے جنید اکبر خان کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے گئے، مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق نے بھی سپیکر قومی اسمبلی کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے ہیں۔پیپلزپارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔سیکریٹری قومی اسمبلی نے ایوان کے اندر ہی کاغذات نامزدگی وصول کیے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی،مہمانوں کی گیلری میں مریم اورنگزیب اور اسحاق ڈار کے ہمراہ موجود تھیں، پیپلز پارٹی کی آصفہ بھٹو نے بھی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی،

    قبل ازیں اراکین اسمبلی کی ایوان میں آمد شروع ہو گئی ہے،عطا اللہ تارڑ، سید خورشید شاہ، شہلا رضا، تہمینہ دولتانہ، انجینئر امیر مقام، شیخ آفتاب ایوان میں موجود ہیں،اویس لغاری، ریاض پیرزادہ، طاہرہ اورنگزیب، نور عالم خان، کھیل داس کوہستانی، ذرائع گل، دانیال چودھری ایوان میں موجود ہیں،رومینہ خورشید عالم، نوشین افتخار، نوید قمر، آغا رفیع اللہ، خالد مگسی، خواجہ آصف ایوان میں موجود ہیں،علیم خان، زرتاج گل، علی محمد خان بھی ایوان میں پہنچ گئے،نامزد امیدوار وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے.

    سابق صدر آصف علی زرداری کی ایوان میں آمد ہوئی،پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے ڈیسک بجا کر آصف علی زرداری کا استقبال کیا، ایوان میں ایک زرداری سب پہ بھاری کے نعروں کی گونج سنائی دی، آصف زرداری نے نعروں کے جواب میں ہاتھ ہلایا،

    یوسف رضا گیلانی سینیٹ سے مستعفیٰ،قومی اسمبلی میں حلف لے لیا
    پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوگئے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کا حلف لے لیا، یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کردیا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یوسف رضا گیلانی کا استعفی منظور کرلیا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے

    قومی اسمبلی اجلاس، کون بچائے گا پاکستان قیدی نمبر 804 کے نعرے
    تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے ایوان میں عمران خان کی تصاویر لہرا دیں، ’’عمران خان زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے،پی ٹی آئی کے اراکین عمران خان کی تصویریں لے کر قومی اسمبلی میں موجود ہیں،سنی اتحاد کونسل کے اراکین نےسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا،بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ جاری ہے،عمر ایوب خان شیخ وقاص اکرم شیر افضل مروت سمیت دیگر اراکین موجود ہیں،سنی اتحاد کونسل اراکین کی قومی اسمبلی ہال میں نعرے بازی جاری ہے، اراکین کی جانب سے کون بچائے گا پاکستان قیدی نمبر 804 کے نعرے لگائے گئے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں،آئی آئی پی ٹی آئی ،عمر ایوب، اسد قیصر نے ایوان میں نعرے لگوائے،

    اپوزیشن ہم ہیں حکومت میں نہیں بیٹھیں گے،نورعالم خان
    جمعیت علمائے اسلام کے رہنما نور عالم نے پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ہم ہیں حکومت میں نہیں بیٹھیں گے، اپوزیشن میں آواز اٹھانی آتی ہے، ہم فرد واحد کے لیے نہیں ملک کے لیےلڑتے ہیں اور عوام کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، پہلے بھی عوام کے لیے آواز اٹھائی اب بھی اٹھائیں گے،مہنگائی ہو، امن و امان ہو یا رائلٹی کی بات ہو، آواز اٹھائیں گے، ملک کی بات ہو یا اداروں کے لیے بات ہو سب کریں گے، اسمبلی میں آئیں لیکن احتجاج کا طریقہ ہوتا ہے،احتجاج ہم سب کو کرنا چاہیے، پاکستان کی سیاست میں آئی ایم ایف باہر کے ممالک کو ملوث کرتے ہیں، اندرونی معاملات امریکا اور آئی ایم ایف کے حوالے کر رہے ہیں،پاکستانی قوم کو احتجاج کرنا چاہیے، عوام کو اپنے ان ارکان قومی اسمبلی سے پوچھنا چاہیے باہر ممالک کو کیسے خطوط لکھ رہے ہیں۔

    صدارتی ووٹ دینے سے متعلق وقت آنے پر بات کریں گے۔فاروق ستار
    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ حکومت اور ریاست سے دنیا کے تعلقات میں رخنہ ڈالنا غیر آئینی بھی ہے۔مشکل حالات ہیں، ڈیلیور کرنا ہوگا، لوگوں کی مشکل آسان کرنا ہو گی، مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بحران بڑے چیلنجز ہیں،صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کو خط لکھا اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ نامناسب بات ہے کہ گھر میں جھگڑا ہے تو عالمی ادارے کو آگاہ کریں،صحافی نے سوال کیا کہ ایم کیو ایم کو کتنی وزارتیں مل رہی ہیں؟ جس پرفاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کا بنیادی نکتہ آئینی ترمیمی بل ہے، مقامی حکومتوں اور ضلع کی سطح پر اختیار ہونے چاہئیں، مضبوط مرکز مضبوط پاکستان کی ضمانت ثابت نہیں ہوئے، صدارتی ووٹ دینے سے متعلق وقت آنے پر بات کریں گے۔

    اپوزیشن نے شرپسندی کی تو سختی سے نمٹیں گے، احسن اقبال
    ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جمہوریت کا ایک پہیہ ہے.اپوزیشن اگر مثبت کردار ادا کرے تو ہم خیرمقدم کریں گے.شرپسندی کی گئی تو سختی سے نمٹیں گے.پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کوئی ایک جماعت اکیلے نہیں کرسکتی.پی ٹی آئی کو چار میں سے ایک فیڈریٹنگ یونٹس کا مینڈیٹ ملا ہے، ہمیں چار میں سے تین یونٹس کا مینڈیٹ ملا ہے، ایک یونٹ کا میڈیٹ رکھنے والے کیسے کہہ سکتے ہیں دھاندلی ہوئی، اتحادی حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہے،

    آج پارلیمنٹ میں سرپرائز دیں گے، شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ آج پارلیمنٹ میں سرپرائز دیں گے، جو اجنبی لوگ ہیں پارلیمان میں جو فارم 47 پر آئے ہیں، وہ ایم این اے نہیں ہیں آج پارلیمان میں بیٹھے ہونگے، ان لوگوں کا اسمبلی میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے، ان لوگوں کو یہ سیٹیں ہضم نہیں کرنے دیں گے، آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا معاملہ بانی پی ٹی آئی دیکھیں گے،

    عمران خان کو اسمبلی میں بطور وزیر اعظم لائیں گے،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت قرضے درست طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، عالمی مالیاتی ادارے چاہتے ہیں کہ ان کے قرض کا درست استعمال ہو۔عمران خان کو اسمبلی میں بطور وزیر اعظم لائیں گے، عوام کے مسائل کے خاتمے کی بھرپور کوششں کریں گے،آج ہم اس اجلاس میں آواز اٹھائیں گے، یہاں پر ہماری ترجیح ہوگی کہ ہم اپنے لیڈرز جو جیل میں ہیں ان کو یہاں پر لائیں گے,الیکشن کمیشن ڈنڈی مار رہا ہے،
    ہم محب وطن ہاکستانی ہیں، ہم چاہتے ہیں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ صحیح کاموں میں استعمال ہو،اپوزیشن لیڈر لانے کا فیصلہ نہیں ہوا،پی ڈی ایم حکومت کا سٹریکچر بنایا گیا، یہ چوں چوں کا مربع کچھ نہیں کر پائے گا،پاکستان کو ہماری ہی پارٹی مشکلات سے نکال سکتی ہے، ہمارا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد ہے، تحریک انصاف کا انٹراپارٹی انتخابات ہورہا ہے، تمام معاملات جلد ہو جائینگے،

    سب سے زیادہ والد صاحب کو مِس کر رہا ہوں،زین قریشی
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ والد صاحب کو مِس کر رہا ہوں، آج وہ یہاں ہوتے تو انکے لیئے فخر کا مقام ہوتا، ان کی غیر موجودگی میں ظاہر ہے دل بھاری ہے انہوں نے بہت بڑی قربانی دی ہے، انکی قربانی کی وجہ سے نہ صرف میں بلکہ میرے جیسے کئی ایم این ایز الیکٹ ہو کر آئے ہیں،

    اراکین قومی اسمبلی کے حلف کے بعد سب سے پہلا مرحلہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا ہو گا، پہلے سامنے آنے والے مجوزہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی یکم مارچ کو جمع ہونے تھے اور 2 مارچ کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہونا تھاتاہم اب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے نیا شیڈول جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کاغذات نامزدگی آج دن 12بجے سے پہلے جمع کرائیں گے اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا الیکشن جمعہ یکم مارچ کو ہو گا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ ن نے ایاز صادق کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے پیپلز پارٹی نے غلام مصطفیٰ شاہ کو نامزد کیا ہے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے تاحال کسی کو بھی امیدوار نامزد نہیں کیا گیا جبکہ جے یو آئی نے ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دیں گے یا اپنا امیدوار سامنے لائیں گے۔

    قومی اسمبلی کااجلاس طلب کرنے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے صدرمملکت کے اعتراضات کا جواب دیدیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟