Baaghi TV

Tag: احتجاج

  • آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    سڈنی: آسٹریلیا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں اور غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال کے باعث ایران چھوڑ دیں۔

    بین لاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی آسٹریلوی شہری اس وقت ایران میں موجود ہے تو اسے فوراً واپسی کے انتظامات کرنے کی ضرورت ہےبیان میں خبردار کیا گیا کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہرے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور مجموعی سکیورٹی صورتحال نہایت غیر یقینی ہے۔

    واضح رہے کہ تہران میں آسٹریلوی سفارت خانے نے گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    آسٹریلوی حکومت کے مطابق ایران میں آسٹریلوی شہریوں کو قونصلر مدد فراہم کرنے کی صلاحیت اس وقت انتہائی محدود ہےجاری کی گئی ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ آسٹریلوی شہریوں، بالخصوص دوہری شہریت رکھنے والوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

    یہ احتجاج 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف غصے کے نتیجے میں شروع ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔ خاص طور پر مغربی علاقوں میں، جہاں کرد اور لور آبادی کی بڑی تعداد رہتی ہے، احتجاج زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

  • تاجروں کا 16 جنوری کو ملک بھر کے چوک بند کرنے کا اعلان

    تاجروں کا 16 جنوری کو ملک بھر کے چوک بند کرنے کا اعلان

    صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے 16 جنوری کو ملک بھر کے چوک بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ تاجر برادری پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) قانون کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اسے ایک “کالا قانون” قرار دیتی ہے،ایف بی آر کے اہلکار مبینہ طور پر رشوت وصول کر رہے ہیں اور پی او ایس سسٹم نہ لگانے پر تاجروں کو 5 لاکھ روپے تک کے جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے الزام لگایا کہ ایف بی آر میں کرپشن کھلے عام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ جام ہو گیا ہے اور ملک بھر میں 70 فیصد تک خرید و فروخت کم ہو چکی ہے صنعتوں کی بندش کے باعث ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے جبکہ سرمایہ کاری دبئی اور دیگر بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے۔

    سونے کی قیمت میں ریکارڈ کمی

    ان کا کہنا تھا کہ ایم این ایز اور وزرا مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، جو ان کے بقول فلائی اوورز اور انڈر پاسز کے کمیشن کا پیسہ ہےنہ صرف ملک بھر کے چوک بند کیے جائیں گے بلکہ اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے کو بھی بلاک کیا جائے گا، شوکت عزیز کے دور کی طرح ایف بی آر کو ختم کیا جائے، اور کہا کہ تاجر برادری ڈبل ٹیکس دینے کو بھی تیار ہے، مگر موجودہ نظام کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

    وزیراعظم رحیم یار خان پہنچ گئے،متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات متوقع

  • اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف مظاہرے، گھر کے باہر گاڑی اور ٹینک نذرِ آتش

    اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف مظاہرے، گھر کے باہر گاڑی اور ٹینک نذرِ آتش

    یروشلم میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں اور یرغمالیوں کی رہائی پر ناکامی کے خلاف پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مظاہرے وسعت اور شدت پکڑتے جا رہے ہیں عوام کی بڑی تعداد نے آج اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب شدید احتجاج کیا جس کے دوران وہاں ایک ٹینک کو بھی آگ لگادی گئی،ٹینک میں لگی آگ اتنی خوفناک تھی کہ اس نے ساتھ کھڑی اسرائیلی فوجی اہلکار کی ایک کار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ٹینک اور گاڑی دونوں جل کر خاکستر ہوگئے۔

    متاثرہ گاڑی کے مالک اسرائیلی فوجی اہلکار نے بتایا کہ غزہ میں جنگ کے دوران مسلسل خدمات انجام دے چکا ہوں اور یرغمالیوں کے خاندانوں کے ساتھ ہوں لیکن یہ آگ عوام اور فوج کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا رہی ہے۔

    ڈیرہ غازی خان: وڈور نالے پر پل نہ ہونے سے چٹ سرکانی روڈ بند، دیہی آبادی مشکلات کا شکار

    مظاہرے کے باعث اسرائیلی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قرب و جوار میں رہنے والے رہائشیوں کو اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا،مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں اور ٹائروں کو بھی آگ لگا دی جس سے آگ قریبی گھروں اور گاڑیوں تک پھیل گئی تھی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف یہ احتجاج "یومِ خلل” (Day of Disruption) کے موقع پر ہوا جس کا مقصد غزہ میں قید 48 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھاادھر اسرائیلی پولیس نے اس احتجاج کو "جرم اور دہشت گردی” قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات کسی بھی پرامن مظاہرے کا حصہ نہیں ہو سکتے۔

    وزیرِانصاف یاریو لیوِن اور انتہاپسند وزیرِقومی سلامتی ایتمار بن گویر نے مظاہرین کو "آتش زن دہشت گرد” قرار دیتے ہوئے طاقت کے استعمال کا حکم دیااسی دوران حکومت نے حسبِ روایت اپنے اندرونی اختلافات کا ذمہ دار اٹارنی جنرل گالی بہاراو-میارا اور اعلیٰ عدالت کو ٹھہرانا شروع کر دیا۔

    وزیراعظم کی بیجنگ سے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ٹیلیفونک کال

    دوسری جانب حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے بھی گاڑیوں کو آگ لگانے کی مذمت کی لیکن ساتھ ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اصل جرم یہ ہے کہ حکومت نے غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہونے دیااپوزیشن رہنماؤں یائیر لپیڈ اور بینی گینتز نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن تشدد سے جدوجہد کو نقصان پہنچتا ہے۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے دانستہ طور پر غزہ کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو سبوتاژ کیا تاکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکےماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور حکومت مخالف تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نیتن یاہو کی انتہاپسند پالیسیوں نے نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ اسرائیلی معاشرے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    عالمی بینک پاکستان کو 2 ارب ڈالر سے زائد قرض دے گا

  • سرعام وارداتیں ،روڈ بلاک،پولیس ناکام

    قصور
    پولیس وارداتیں رکوانے میں مکمل ناکام،ڈکیتی میں مزاحمت پر شہری کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا،لاہور قصور روڈ بطور احتجاج بند کئے رکھا گیا
    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس ڈاکوؤں کو لگام ڈالنے میں مکمل ناکام رہی ہے
    گزشتہ دن تھانہ مصطفیٰ آباد کی حدود دفتوہ روڈ پر ڈکیتی کی واردات میں ڈاکوؤں نے شہری سے گن پوائنٹ پر ڈکیتی کی اور مزاحمت پر فائرنگ کرکے شہری کو شدید زخمی کر دیا جس پر شہریوں نے لاہور قصور فیروز پور روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا
    احتجاجی مظاہرین نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
    کیا
    آئے دن کی سرعام وارداتوں کے پیش نظر علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے

  • اسلام آباد میں 5 سال کے دوران ہونیوالے احتجاجوں سے نمٹنے پر کتنے اخراجات ہوئے؟

    اسلام آباد میں 5 سال کے دوران ہونیوالے احتجاجوں سے نمٹنے پر کتنے اخراجات ہوئے؟

    اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت میں احتجاجوں سے نمٹنے میں پچھلے پانچ سال کے دوران ایک ارب 35 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی دارالحکومت میں احتجاجوں سے نمٹنے میں گزشتہ پانچ سالوں کے کل اخراجات کی تفصیلات سامنے آ گئیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریری جواب قومی اسمبلی میں جمع کرادیا، پانچ سال میں دارالحکومت میں احتجاج سے نمٹنے پر سرکار کے کل ایک ارب 35 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔

    وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی میں تحریری طور پر بتایا کہ سال 2018 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آئی تو اسے مولانا فضل الرحمان کے ایک، پی ڈی ایم کے 2 اور پیپلز پارٹی کے ایک مارچ کا سامنا کرنا پڑا، جن پر سال 2019-20 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 15 کروڑ 77 لاکھ 61 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔

    وزیراعظم شہبازشریف وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ گئے

    سال 2020-21 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 9 کروڑ 61 لاکھ 35 ہزار روپے خرچ کیے گئے، سال 2021-22 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 27 کروڑ 79 لاکھ 48 ہزارروپے خرچ کیے گئے۔

    سال 2022 کے آغاز میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت ختم ہوئی تو پی ڈی ایم کی حکومت آئی پھر نگراں حکومت بھی اسی کی ایک طرح سے توسیع تھی، پھر 8 فروری 2024 کے الیکشن کے نتیجے میں دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی ہی حکو مت بنی، جسے پی ٹی آئی کے دھرنوں اور مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

    دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر شکست دیں گے، صدر مملکت

    سال 2022-23 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 72 کروڑ 40 لاکھ 31 ہزار روپے خرچ کیے گئے، سال 2023-24 میں اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کے لیے 10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

  • سربیا  حکومت  کیخلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

    سربیا حکومت کیخلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

    سربیا میں صدر الیگزینڈر ووچک اور ان کی حکومت کے خلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج سامنے آیا، جس میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت بلغراد میں احتجاج کے باعث ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا، جبکہ شہر بھر میں پبلک ٹرا نسپورٹ بھی معطل رہی، سربیا میں یہ حکومت مخالف تحریک گزشتہ چار ماہ سے جاری ہے، جو اس وقت شروع ہوئی جب نومبر 20 24 میں زیر تعمیر ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    سیکڑوں حکومتی حامی، جن میں زیادہ تر سیاہ پوش نوجوان بیس بال کی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے، بلغراد کے پیونیرسکی پارک میں، سربیا کی پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہوئےمقامی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ان میں فٹ بال کے منظم گروپوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ ریڈ بیریٹس اسپیشل فورسز یونٹ کے سابق فوجی بھی تھے جو 2003 میں سربیا کے آزاد خیال وزیر اعظم زوران ڈینڈجیچ کے قتل میں ملوث تھے۔

    بلوچستان میں نوشکی اور قلعہ سیف اللہ میں دھماکے

    پولیس کے ایک گھنے گھیرے نے اسمبلی کی عمارت کو گھیر لیا اور Vučić کے حامیوں کو مظاہرین سے الگ کر دیا، جو قریبی سلاویجا اسکوائر میں قائم ایک اسٹیج کے سامنے بھی جمع تھے۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ حکومت کی بدعنوانی اور نااہلی کا نتیجہ ہے، جبکہ حکومت نے مظاہرین کو سخت کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔

    نواز شریف کی تجاوزات سے متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت

  • یوٹیلیٹی اسٹورز یونین  کا 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کا 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    اسلام آباد: ملازمین کی برطرفی کے خلاف یوٹیلیٹی اسٹورز یونین نے 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی :رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہیڈ آفس بلو ایریا کے سامنے دن 2 بجے احتجاج ہوگا جبکہ ملک بھر کے پریس کلبز کے سامنے بھی مظاہرے کیے جائیں گےوفاقی دارالحکومت میں دھرنے کا امکان ہے، مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، یونین عہدیداران کا کہنا ہے کہ برطرفی کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا احتجاج شدت اختیار کر سکتا ہے اور ملک بھر میں اسٹورز بند کرنے کی وارننگ بھی دے دی گئی۔

    مالی میں سونے کی کان بیٹھ جانے سے 48 کان کن ہلاک

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے 2500 سے 2600 ڈیلی ویجز ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا یو ایس سی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پہلے ہی ان ملازمین کو نکالنے کی منظوری دے دی تھی اور اب متعلقہ زونز کو اس پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں یہ اقدام حکومتی "رائٹ سائزنگ پالیسی” کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا مقصد اداروں میں غیر مستقل ملازمین کی تعداد کم کرنا ہے اس پالیسی کے تحت ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر کام کرنے والے 2600ڈیلی ویجز ملازمین کو برطرف کیا جائے گا۔

    آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، آرمی چیف

  • پی ٹی آئی نے 8 فروری کے احتجاج  کو حتمی شکل دے دی

    پی ٹی آئی نے 8 فروری کے احتجاج کو حتمی شکل دے دی

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے 8 فروری کو احتجاج کے معاملے پر پی ٹی آئی نے احتجاج کو حتمی شکل دے دی-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق 8 فروری کو پی ٹی آئی اسلام آباد میں کوئی احتجاج نہیں کرے گی، جلسہ صرف خیبرپختونخوا میں کیا جائے گا،اسلام آباد کی قیادت اور کارکنان صوبائی جلسے میں شرکت کرے گی، تمام قافلوں کے پہنچنے کے بعد خیبر پختوبخوا کو باہر کے لوگوں کے لیے بند کیا جائے گا-

    پنجاب کے ورکرز اور قیادت لاہور جلسے میں شرکت کرے گی، جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کرے گے جبکہ سندھ کی قیادت کراچی سمیت اپنے حلقوں میں احتجاج کریں گے-

    قذافی اسٹیڈیم چیمپیئنز ٹرافی کی میزبانی کے لیے تیار ،عوام کیلئے داخلہ مفت

    لاہور ہائیکورٹ نے لاہور کی ضلعی انتظامیہ کو پی ٹی آئی کی 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسے کی درخواست پر شام 5 بجے تک فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹیرینز کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے موجودہ ملکی سیاسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمنٹیرینز کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے پارٹی کی جانب سے آئندہ ہفتے لاہور میں پارلیمنٹیرینز کنونشن منعقد کیا جائے گا پارلیمنٹیرینز کنونشن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام ارکان اسمبلی شریک ہوں گے۔

    مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت

    لاہور میں ہونے والے پارلیمنٹیرینز کنونشن میں سندھ،بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پارلیمانی لیڈرز بھی شرکت کریں گے اس کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز،پارلیمانی لیڈرز اور چیف وہپ شریک ہوں گے پارلیمنٹیرینز کنونشن میں آئین و قانون کی بالادستی،انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کے موضوع پر گفتگو ہوگی، پی ٹی آئی پالیمنٹیرینز کنونشن میں قراردادیں بھی منظور کی جائیں گی-

    موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

  • بھارتی یوم جمہوریہ کیخلاف کشمیریوں کا یوم سیاہ اور احتجاج

    بھارتی یوم جمہوریہ کیخلاف کشمیریوں کا یوم سیاہ اور احتجاج

    بھارتی یوم جمہوریہ کے خلاف کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں، اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے آل پارٹیز حریت کانفرنس نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق احتجاج میں کشمیری مرد و خواتین اور بچوں سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بازو پر سیاہ پٹیاں اور ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے تھام رکھے تھے۔کشمیری مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت جمہوری نہیں بلکہ ایک فاشسٹ ملک ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تمام انسانی سلوک صلب کر رکھے ہیں، بھارت کا جمہوریت کا راگ الاپنا دوہرے معیار کا ثبوت ہے۔مظاہرین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اقلیتوں اور کشمیریوں سے زندہ ہونے کا حق بھی چھین رکھا ہے، بھارت سیکولر نہیں بلکہ اس وقت ہندتوا کی سوچ پر چل رہا ہے، بھارت نے خواتین سمیت کشمیری قیادت کو کئی سالوں سے پابند سلاسل رکھا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کو قتل عام کا لائسنس دے رکھا ہے۔

    احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ بھارت دہشت گرد ریاست ہے لہٰذا دنیا بھارتی ریاست پر دہشت گردی کا مقدمہ چلائے، بھارت نے کشمیر نہیں بھارت میں اقلیتوں کو بھی ذبح کیا اسکے باوجود بھارت کو یوم جمہوریہ مناتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارتی وزیر داخلہ کا پاکستان پر دراندازی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت الزام پاکستان پر لگاتا ہے، بھارت نے کینیڈا اور امریکا میں لوگوں کو قتل کروایا، بین الاقوامی دنیا کے دوہرے معیار اب نہیں چل سکیں گے۔ دنیا اب جان چکی ہے اپنی آزادی کی جنگیں اپنے خون سے لڑنی پڑتیں ہیں، محض اخلاقی اور سفارتی حمایت سے یہ مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، کشمیر کی آزادی کے لیے ہمیں ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔

    امیر جماعت اسلامی کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر مشتاق نے احتجاج سے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے میں مزید تاخیر نہیں کر سکتا، عرب دنیا کو کشمیری عوام کے حقوق کا بھرپور خیال رکھنا چاہیے۔ڈاکٹر مشتاق نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد عالمی برادری کی فوری توجہ کی مستحق ہے، مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

    واٹس ایپ نےآئی او ایس ڈیوائسز میں نیا فیچر متعارف کرادیا

    عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

  • مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

    مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

    منی پور میں حالات دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں جھڑپوں اور احتجاج کی وجہ سے سکیورٹی کی صورتحال نازک ہوگئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، گزشتہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران بھارتی فوج کا ایک افسر زخمی ہوگیا، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔

    مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم کرے، لیکن جب بھارتی افسران نے انہیں دھمکیاں دیں، تو جوابی کارروائی کے طور پر مظاہرین نے پولیس سٹیشن پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔دریں اثنا، بھارتی فوج کی جانب سے جاری جعلی انکاؤنٹرز کے خلاف کوکی قبیلے اور دیگر مقامی تنظیموں نے شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    کانگریس کے رہنما ملک ارجن کھرگے نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے منی پور میں فسادات نے شدت اختیار کی ہے اور پورا ریاستی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "منی پور میں گاؤں کے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ کی نااہلی کی وجہ سے حالات بگڑتے جا رہے ہیں”۔اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "نااہل اور بے شرم ہیں، جو افسوس کا اظہار کرنے کے باوجود غائب ہوگئے ہیں”۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ منی پور فسادات پر بی جے پی کی مسلسل خاموشی اس کی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت پر شدید تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ "مودی کے دور حکومت میں مذہبی عدم برداشت اور فرقہ واریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے”۔ ان کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں کا منی پور پر قابض ہونا مودی کی ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔اس کے ساتھ ہی، اپوزیشن نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ "جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہوئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے اور منی پور پر مکمل چپ سادھ رکھی ہے”۔

    منی پور کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ جھڑپوں، مظاہروں اور سیاسی الزامات نے پورے علاقے کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ بھارتی فوج کی کارروائیاں، مقامی تنظیموں کا احتجاج، اور سیاسی جماعتوں کے سخت بیانات اس بات کا غماز ہیں کہ یہ بحران اب ایک نیا موڑ اختیار کر چکا ہے، اور اس کی شدت میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی