Baaghi TV

Tag: احتجاج

  • ملک دشمنی کا ایک اور قدم،بھارت سے فنڈوصولی ،ہالینڈ میں پی ٹی آئی کریگی احتجاج

    ملک دشمنی کا ایک اور قدم،بھارت سے فنڈوصولی ،ہالینڈ میں پی ٹی آئی کریگی احتجاج

    پی ٹی آئی کو بھارت اور بنگلہ دیش سے امداد موصول ہوئی ہے، بنگلہ دیش ،بھارت سے پیسے ملنے کے بعد پی ٹی آئی پانچ دسمبر کو ہالینڈ میں احتجاج کرنے جا رہی ہے،

    عمران خان نے جیل سے رہائی کے لئے ہرممکن کوشش کی لیکن انہیں کسی صورت کامیابی نہ ملی،عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک انصاف نے جہاں بھارتی لابی کے ساتھ ملکر بیرون ممالک میں قراردادیں لائیں، احتجاج کیا ، اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی، عمران خان کے ہامی،پاکستان مخالف ،اسرائیلیوں کے قریبی سمجھنے جانے والے رہنماؤں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی، لیکن عمران خان کو تمام تر کوششوں کے باوجود رہائی نہ مل سکی،گولڈ اسمتھ فیملی سے رابطہ کر کے پی ٹی آئی نے مدد مانگی، اسلام آباد پر خیبر پختونخوا حکومت نے یلغار کی، ایک بار پھر نومئی کو دوہرایا گیا مگر عمران خان جیل سے پھر بھی باہر نہ آ سکے، بشریٰ بی بی نے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی، نوجوانوں کو اکسایا،پولیس پر پی ٹی آئی شرپسندوں نے گولیاں برسائیں اور پھر ڈی چوک پہنچنے سے قبل ہی بشریٰ بی بی کارکنان کو رات کے اندھیرے میں چھوڑ کر خود علی امین گنڈا پور کے ساتھ فرار ہو گئیں، عمران خان کی رہائی پھر بھی نہ ہو سکی.

    اب پی ٹی آئی کی جانب سے بیرون ملک احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری متحرک ہیں، زلفی بخاری کی کوشش ہے کہ بیرون ممالک مؤثر احتجاج کیا جائے،اسی سلسلہ میں پی ٹی آئی کل پانچ دسمبر کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے احتجاج کر رہی ہے،پی ٹی آئی کارکنان بینرز،پوسٹر لے کر آرہے ہیں، کارکنان جمع ہوں گے، ریاست پاکستان، حکومت پاکستان،افواج پاکستان کے خلاف پی ٹی آئی احتجاج کرے گی،تاہم فلسطین کے حق اور اسرائیل کے خلاف پی ٹی آئی کو کہیں بھی احتجاج کرنے کی توفیق نہیں ہوئی،پی ٹی آئی جو ہمیشہ سے فارن فنڈز سے ہی چلتی آ رہی ہے، پاکستان کی عدالتوں میں بھی فارن فنڈز کے کیس زیر سماعت ہیں، اب عمران خان کی رہائی اور ذاتی مفادات کے لئے پی ٹی آئی نے ایک بار پھر فنڈز جمع کئے ہیں جس میں سے سب سے زیادہ فنڈز پی ٹی آئی کو بھارت اور بنگلہ دیش سے ملے ہیں، پی ٹی آئی ان فنڈز کی وصولی کے بعد ہالینڈ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے احتجاج کرنے جا رہی ہے، کل 5 دسمبر کو پی ٹی آئی احتجاج کرے گی جس کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے اور مختلف مقدمات میں سزایافتہ پاکستانی مجرم کو بے قصور ثابت کرنا ہے،پی ٹی آئی اس سے پہلے بھی کئی ممالک میں احتجاج کر چکی ہے تا ہم پی ٹی آئی والے یہ نہیں بتاتے کہ عمران خان پر ایک نہیں درجنوں مقدمات ہیں اور ان مقدمات کی وجہ سے ہی عمران خان جیل میں ہیں، گھڑی چوری کا مقدمہ بھی عمران خان نے بنایا تھا، کیا کبھی پی ٹی آئی نے سعودی ولی عہد کے گھر کے باہر جا کر احتجاج کیا کہ عمران خان نے سعودی ولی عہد کی تحفہ دی ہوئی گھڑی خود رکھ لی تو ان پر مقدمہ درج کر لیا گیا، وہ کبھی نہیں کریں گے، کیونکہ پاکستان کے قوانین کو عمران خان نے توڑا اور اسی لئے ان پر مقدمے بنے،

    پی ٹی آئی کی حالیہ سرگرمیاں،اندرون و بیرون ملک جو ریاست اور افواج پاکستان کے خلاف ہ مہم کی شکل اختیار کر چکی ہیں، نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی عمران خان کے لئے تو احتجاج کرتی ہے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت فلسطین کے حق میں کھل کر آواز نہیں اٹھا پائی، اور نہ ہی اسرائیل کے خلاف کوئی مؤثر اور مضبوط موقف اپنانے کی توفیق حاصل کر سکی۔

    ملک دشمنی پر مبنی اقدامات کرکے پی ٹی آئی کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ پی ٹی آئی نے کبھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھے، کبھی امریکہ،کبھی برطانیہ،غرض جہاں ان کو موقع ملا انہوں نے ملک دشمنی کے لئے تمام حدیں پار کر لی ہیں،پی ٹی آئی کو پاکستان میں اسرائیل کے خلاف کبھی جلوس نکالنے کی توفیق نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی ہمیشہ ملکی تشخص کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور ان کے اسرائیل کے مظالم کی کھل کر مذمت نہ کرنے کی وجہ سے ان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، اب اوورسیز پاکستانی عمران خان کا ہدف ہیں، تحریک انصاف جو بھی کر رہی ہے یہ اکیلے پی ٹی آئی نہیں کر رہی ،یہ ایک بیرونی سازش ہے، بھارت سے پیسے آ رہے تو اسرائیل بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے،یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی والےاسرائیل کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولتے،

  • پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ، 24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف اسلام آباد کے تاجروں کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے امن و امان بحال کرنا تھا مگر آپ نے پورا اسلام آباد بند کر دیا، درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے کاروبار کو چلنے دیں، آپ نے میڈیا پر ہر جگہ کہا اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر پر ہم اجازت نہیں دے رہے، عدالت نے آپ سے کہا تھا کہ شہریوں، تاجروں اور مظاہرین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھیں، وہ پی ٹی آئی سے بھی پوچھیں گے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی گئی، پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط ہی کیا، درخواست گزار کا کیا قصور تھا، ان کے کاروبار کو کیوں بند کیا،

    اسٹیٹ قونصل ملک عبدالرحمٰن نے کہا کہ کچھ رپورٹس آگئی ہیں اور کچھ رپورٹس آنا باقی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسٹیٹ قونصل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پہلی بار عدالت میں پیش ہوئے ہیں، یہ ماہرانہ رائے وہاں دینی تھی، آپ نے اسلام آباد کو ایسے بند کیا تھا کہ ججز سمیت میں بھی نہیں آسکا، میں اپنے ہی آرڈر کا خود ہی شکار ہوگیا تھا،عدالت نے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے ایس ایچ او طاہر اقبال کا کہنا ہے کہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایس ایچ او تھانہ نیو ائیرپورٹ طاہر اقبال کا کہنا تھا کہ 24 نومبر 2024 کو میں لا اینڈ آرڈر کیلئے موٹروے پر تعینات تھا، رات تقریباً 11 بجے پرتشدد مظاہرین سے ہمارا سامنا ہوا یہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران آس پاس کی پہاڑیوں پر موجود شرپسند جن کے پاس آتشی اسلحہ تھا وہ ہم پر حملہ آور ہوئے اور ان تمام شرپسندوں کے پاس تیس بور رائفل اور پسٹل تھے۔ ان شرپسندوں نے پہاڑوں پر آگ لگائی اور فائرنگ کرتے ہوئے ہماری جانب بڑھنے لگے،شرپسندوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کھائی میں پھینک دیا جس سے میرا بازو فریکچر ہو گیا اور دیگر چوٹیں بھی آئیں اسی دوران ڈی پی او کے اسکواڈ نے مجھے کھائی سے ریسکیو کیا، اگر ایسا بروقت نہ کیا جاتا تو شاید آج میں یہاں موجود نہ ہوتا آج میں نے ایک بار پھر اپنی ڈیوٹی کو جوائن کرلیا ہے اور میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہوں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی فائنل کال احتجاج کے دوران اسلام آباد میں پی ٹی آئی مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ شرپسندوں کے حملوں کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ڈیوٹی دینے سے معذرت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی پولیس کے اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے 3 دسمبر کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری پر سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

    سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 23 سے 26 نومبر تک غیر حاضر رہنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔ اس حوالے سے فہرستیں فوری طور پر طلب کر لی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ سرکلر کی نقول اسلام آباد کے تمام اہم پولیس افسران جیسے ڈی آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی سکیورٹی، ڈی آئی جی لاء اینڈ آرڈر، ڈی آئی جی سیفٹی، اے آئی جی لاجسٹکس اور اے آئی جی سپیشل برانچ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

    اس وقت تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران پولیس کی ڈیوٹی پر غیر حاضری ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری کا الزام تھا کہ کچھ اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے یا حکومت کے خلاف کسی قسم کی ہمدردی کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنے فرائض سے گریز کیا،سرکلر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس سے پولیس فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے ایسا رویہ اپنانے سے بچا جا سکے جو ادارے کی ساکھ اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالے۔

    اس کارروائی کو حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی سیاسی دباؤ یا ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض کو انجام دیں گے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پولیس فورس میں انضباطی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

    نتیجہ:

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے یہ کارروائی پولیس اہلکاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہیں برتی جائے گی، اور کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو اپنے فرائض سے غفلت یا لاپرواہی برتے گا۔ اس کا مقصد عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

  • پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    حکومت پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں سے متعلق غلط اطلاعات کی نشر کرنے پر برطانوی جریدے "بی بی سی” کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرادی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق 27 نومبر 2024 کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے گمراہ کن اور غلط معلومات نشر کیں، جس پر حکومت نے برطانوی میڈیا ادارے سے وضاحت طلب کی ہے۔

    27 نومبر کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں درجنوں ہلاکتوں کی خبر نشر کی، تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی بی سی نے غلط اعداد و شمار اور گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مبالغہ آرائی کی گئی، اور اس بارے میں عوام کو گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں۔حکومت پاکستان نے اس معاملے پر بی بی سی کی انتظامیہ سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غلط رپورٹنگ کی تصحیح کرے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ "بی بی سی نے تین مختلف رپورٹس میں اس حساس معاملے کو غلط طریقے سے پیش کیا، جس سے نہ صرف عوام میں بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔”حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ میڈیا کا کردار کسی بھی معاشرے میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاملے میں حکومتی ترجمان نے کہا، "صحافتی اقدار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کو درست معلومات مل سکیں۔ بی بی سی کو اس غلط رپورٹنگ پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور اس کی تصحیح کرنی چاہیے۔”پاکستانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ غلط خبر اور گمراہ کن اعداد و شمار کی اشاعت سے میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اور ایسی رپورٹس سے نہ صرف سماجی تنازعات کو ہوا ملتی ہے بلکہ عوامی رائے کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔

    حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ کسی بھی عالمی میڈیا ادارے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس معاملات کو احتیاط سے رپورٹ کرے اور حقائق کو مکمل طور پر درست انداز میں پیش کرے تاکہ معاشرتی امن و سکون میں خلل نہ پڑے۔یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور پاکستان کے میڈیا کے حوالے سے شفافیت کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ دنوں ہونے والے سیاسی احتجاج اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد اقتصادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں حکومتی محصولات میں 160 ارب روپے تک شارٹ فال ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں سیاسی حالات کی وجہ سے پانچ دن تک اقتصادی سرگرمیاں معطل رہیں، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اپنے مقرر کردہ محصولات کے ہدف کو پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا نومبر تک محصولات جمع کرنے کا مجموعی ہدف 1003 ارب روپے تھا، تاہم اب تک صرف 700 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اگر ایف بی آر کو 160 ارب روپے کا شارٹ فال ہو گیا تو پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران ہونے والے 189 ارب روپے کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ ماہ کے مجموعی شارٹ فال کی رقم 349 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق، ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور لاک ڈاؤن کے اثرات قومی خزانے پر سنگین نوعیت کے پڑ رہے ہیں، اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اس بات سے پریشان ہیں کہ بند پڑی اقتصادی سرگرمیوں کے باوجود کس طرح زیادہ سے زیادہ محصولات جمع کیے جا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ایف بی آر کی بھرپور کوششوں کے باوجود زیادہ سے زیادہ 840 سے 850 ارب روپے جمع کیے جا سکیں گے، جس کا مطلب ہے کہ متوقع خسارہ 150 سے 160 ارب روپے کے درمیان ہوگا۔ایک سرکاری عہدیدار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "لاک ڈاؤن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی کال کے نتیجے میں ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیاں رکنے کی وجہ سے حکومتی ریونیو میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔”

    اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی مالیاتی ڈیل کو برقرار رکھتے ہوئے اس خسارے کو پورا کرے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں حکومت کے لیے مطلوبہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف قومی خزانے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بلکہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف سے امداد حاصل کرنے میں بھی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جس کے اثرات ملک کی معیشت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں

    پی ٹی آئی کے شرپسندوں سے ملک کے محافظ بھی محفوظ نہیں رہے ،شر پسندوں نے احتجاج کی آڑ میں رینجرز اہلکاروں پر دھاوا بول دیا ،پنجاب رینجزز کے اہلکاروں کے مطابق شر پسندوں نے ان پر باقاعدہ حملہ کیا ،نائیک سفیر کا کہنا تھا کہ میں 26 نمبر ڈیوٹی پر تھا جب مظاہرین نے ہم پر تشدد کیا، مظاہرین نے لاٹھی چارج کیا، پتھر مارے ، ہم سے ہیلمٹ اور شیٹ بھی چھین لی، ڈنڈے مار کر میرے ناک کی ہڈی اور ٹانگ کو توڑ ڈالا ،

    پنجاب رینجرز کے سپاہی محمد آصف کے بیان کے مطابق ؛”26 نمبر ڈیوٹی کے دوران شرپسندوں نے چھ ساتھیوں کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی”ہمارے تین ساتھی شہید جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے، سپاہی محمد آصف

    پرتشدد واقعات کے چشم دید گواہ پنجاب رینجرز کے سپاہی عرفان بھی ہیں ،سپاہی عرفان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے حملہ کیا، پتھر اور فائرنگ کرتے ہوئے ہیلمٹ اور شیلڈیں چھین لی، میری بازو اور ٹانگ کو توڑ ڈالا اور میں بے ہوش ہو گیا، سپاہی شہزاد کا کہنا تھا کہ ہم ڈیوٹی پر تعینات تھے کہ پی ٹی ائی کے شرپسندوں نے ہم پر پتھر برسائے ،ہمارے پاس صرف Anti Roits شیلڈ پتھراؤ سے بچاؤ کے لیے تھی، ان شر پسندوں کی فائرنگ سے فائر ساتھی کے ہیلمٹ کو لگا، سر پر فائر لگنے سے ساتھی شدید زخمی ہو گیازخمی ساتھی اس وقت آئی سی یو میں وینٹیلیٹر پر ہے،

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پی ٹی آئی احتجاج کی اپنی ناکامی چھپانے کے لیے طرح طرح کے پروپیگنڈے کر رہی ہے

    مذموم سیاسی مقاصد کا حصول ، پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا،پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لئے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلانے لگی ،سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر ، ویڈیوز اور غلط اعداد و شمار کا سہارا لیا جا رہا ہے ،پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے فلسطین کے شہداء کی لاشوں کو بھی نہ بخشا،پی ٹی آئی کافلسطین کے شہداء کی لاشوں کی تصاویر کے ذریعے مذموم پروپیگنڈا جاری ہے

    بیرون ملک فرار سلمان احمد نے فلسطین کے شہداء کی تصاویر کو احتجاج میں من گھڑت ہلاکتوں سے جوڑ دیا ،ہلاکتوں کا پروپیگنڈا ریاست دشمن ایجنڈے کے تحت سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے،ہلاکتوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما ؤں کا پروپیگنڈا بھی جاری ہے جس میں واضح تضا د پایا جاتا ہے ،سلمان اکرم راجا 20، شیر افضل مروت 12، علی امین گنڈا پور سینکڑوں اور لطیف کھوسہ نے تو 278 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دیا ہے،سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی سے منسلک نام نہاد یو ٹیوبر ز کا بھی منفی پروپیگنڈا جاری ہے ،ہلاکتوں کے منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے دو بڑے ہسپتالوں پمز اور پولی کلینک کے وضاحتی بیان سامنے آچکے ہیں،پمز انتظامیہ کے مطابق 36 عام شہری اور 66 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے ،پولی کلینک ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بھی ہسپتال میں کوئی لاش نہیں لائی گئی،، پولی کلینک ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کچھ معمولی زخمی افراد آئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ہلاکتوں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کرنا ہے ،پی ٹی آئی کی جانب سے ہلاکتوں کا پروپیگنڈا صرف کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کیلئے ہے

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • اسلام آباد احتجاج،پی ٹی  آئی کو توہین عدالت درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد احتجاج،پی ٹی آئی کو توہین عدالت درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف توہینِ عدالت کے کیس کی سماعت کی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود مظاہرین اسلام آباد میں کیوں آئے اور ان کے احتجاج کے دوران امن و امان کی صورت حال کیوں خراب ہوئی۔

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 7 کی تاجر تنظیم نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ احتجاج نہ کیا جائے، مگر اس کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شہر میں مظاہرے کیے، جس سے شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتجاج کی وجہ سے شہر میں نظام زندگی کا پہیہ رک گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاجر تنظیم نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا امکان ہے، جس پر آئندہ سماعت میں مزید تفصیل سامنے آئے گی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے، جس دوران پی ٹی آئی، حکومت اور انتظامیہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع ملے گا۔

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • سیاسی جماعت کے احتجاج میں افغانی کیا کررہے تھے، عطا تارڑ

    سیاسی جماعت کے احتجاج میں افغانی کیا کررہے تھے، عطا تارڑ

    وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ اور احسن اقبال نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ ایسے موقع پر پرتشدد احتجاج کیا گیا جب بیلاروس کا وفد پاکستان کے دورے پرتھا،ہم نے سنگ جانی میں پرامن احتجاج کی پیشکش کی تھی،پی ٹی آئی کے عزائم پرامن احتجاج کے نہیں تھے،پی ٹی آئی کے شرپسند اپنے ساتھ آنسوگیس اور ہتھیار لائے ہوئے تھے ،گرفتار کئے جانے والے شرپسندوں میں افغان باشندے بھی شامل ہیں،سوال یہ ہے کہ افغان باشند وں کو احتجاج میں کیوں شامل کیا گیا؟خیبرپختونخوا حکومت کا صوبے کے امن وامان پر کوئی توجہ نہیں، دہشتگردی پھیلانے کے پیچھے ایک شرپسند جماعت کے لیڈر کا ہاتھ ہے،پی ٹی آئی کی طرف سے ہلاکتوں کا بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،پمز اور پولی کلینک انتظامیہ نے بھی ہلاکتوں کی تردیدکی ہے، اسلام آباد سے 37 افغان شہری پکڑے گئے ہیں، سوال یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے احتجاج میں افغانی کیا کررہے تھے، یہ عمران خان ہی تھے جو طالبان کو پاکستان میں واپس لائے کیونکہ وہ طالبان کے ہمدرد ہیں۔

    شرپسندوں کے حملوں سے رینجرز اور پولیس کے اہلکار شہید ہوئے، ان شہداءکا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں؟عطا تارڑ
    عطاتارڑ کا مزید کہنا تھا کہ شرپسندوں کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے، آنسو گیس کے شیلز، پتھر اور غلیلیں ان کے پاس موجود تھیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم تھا کہ کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں ہوگا، شرپسندوں نے ریڈ زون کی خلاف ورزی کی اور تباہی مچانے کی کوشش کی،ہم نے انہیں سنگ جانی میں احتجاج کرنے کی پیشکش کی جہاں پرامن طریقے سے احتجاج ہو سکتا تھا،پرامن احتجاج ان کا ارادہ نہیں تھا،دو روز پہلے ایک فوٹیج جاری کی گئی جس میں پیشہ ور افراد کو فائرنگ، ہتھیار، آنسو گیس کے شیل، پیلٹ گنز کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،شرپسندوں کے حملوں سے رینجرز اور پولیس کے اہلکار شہید ہوئے، ان شہداءکا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں؟ سیکورٹی فورسز نے وفاقی دارالحکومت میں امن قائم کیا،سوشل میڈیا پر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ رینجرز کے جوانوں کو ان کے اپنے لوگوں نے شہید کیا،مجرم کی شناخت کرلی گئی ہے، اس کا تعلق ایبٹ آباد خیبر پختونخوا سے ہے، یہ اسلام آباد کا امن خراب کرنا چاہتے تھے،ان کا کوئی عوامی مطالبہ نہیں تھا، یہ اپنے لیڈر کو رہا کرنا چاہتے تھے، ہم نے 37 افغان شرپسندوں کو گرفتار کیا، افغانستان ہمارا دوست ملک ہے،افغانستان کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں،سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغان شہری اسلام آباد میں سیاسی جماعت کے احتجاج میں کیا کر رہے تھے؟ کیا اس کی بھی اجازت ہے؟ 2013ءسے 2017ءتک بڑے پیمانے پر آپریشن کئے تھے، خیبر پختونخوا میں امن واپس لایا، کراچی میں امن واپس لایا، دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی، بانی چیئرمین پی ٹی آئی اپنے دور میں طالبان کو واپس لائے، خیبر پختونخوا میں اس وقت دہشت گردی کی لہر جاری ہے اور وزیراعلیٰ کو وہاں امن و امان سے کوئی دلچسپی نہیں،کرم ایجنسی میں 50 لاشیں گریں اور یہ اسلام آباد کا محاصرہ کر رہے تھے، ملک میں دہشت گردی کا ذمہ دار صرف ایک شخص ہے جو تشدد کو فروغ دے رہا ہے،یہ وہی جماعت ہے جس نے مذہب کو آلہ کے طور پر استعمال کیا،سعودی عرب کے خلاف بیان دینے کا ان کا کیا مقصد تھا؟ یہ ملک کے عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنا چاہتے ہیں، یہ مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں،شرپسندوں نے میڈیا ہاﺅسز میں توڑ پھوڑ کی جس کی مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی اندرونی خلفشار کا شکار ہے، ان کے احتجاج میں ان کی قیادت موجود نہیں تھی، عاطف خان، شہرام ترکئی، اسد قیصر، حماد اظہر، شیخ وقاص موجود نہیں تھے، علیمہ خان، بشریٰ بی بی کے درمیان پہلے ہی جھگڑا ہے،سوشل میڈیا پر مظاہرین کے حوالے سے ایک جعلی فہرست گردش کر ر ہی ہے،اگر کوئی ہلاکت ہوئی ہے تو ثبوت پیش کریں، پولی کلینک اور پمز ہسپتال سے بیانات جاری ہوئے ہیں کہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،

    یہ لوگ 2014ءکی طرح پارلیمنٹ ہا ؤس پر قبضہ کرنے کے ارادے سے آئے،احسن اقبال
    وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے وفاقی دارالحکومت میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی، جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کیلئے لایا گیا، یہ لوگ 2014ءکی طرح پارلیمنٹ ہا ؤس پر قبضہ کرنے کے ارادے سے آئے،پی ٹی آئی نے2014میں بھی پارلیمنٹ،سرکاری ٹی وی پرحملہ کیاتھا،پرتشدد سیاست پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے، پی ٹی آئی کارکنوں نے رینجرزاور پولیس کوتشددکرکے شہیدکیا،نومئی کو پی ٹی آئی سلامتی کے ادارے کی تنصیبات پرحملہ آورہوئی،پی ٹی آئی نے ایس سی اوکانفرنس کو سبوتاژکرنے کی کوشش بھی کی،یہ لوگ اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے، کسی بھی جمہوری ملک میں ایسے پرتشدداحتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی،پرتشدداحتجاج کیلئے خیبرپختونخواکے سرکاری وسائل کااستعمال کیاگیا،اس شخص کی رہائی کیلئے احتجاج کیاگیاجس پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں،بانی پی ٹی آئی سیاسی قیدی نہیں، ان کیخلاف کرپشن کے سنگین الزامات ہیں،پرتشدداحتجاج بانی پی ٹی آئی کی مقدمات کے ٹرائل سے فرارکی کوشش ہے،بانی پی ٹی آئی کے وکلاءان کے خلاف سماعت میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی انہوں نے تاخیری حربے استعمال کئے تھے، بانی پی ٹی آئی نے لندن میں ضبط شدہ رقم کو اپنے فنانسر کیلئے وائٹ منی میں تبدیل کیا،

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا