Baaghi TV

Tag: احتجاج

  • 26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کے 177 کارکنان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے 153 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں، جبکہ 24 کارکنان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    تھانہ کراچی کمپنی میں 48 ملزمان کے کیسز کی سماعت کے دوران، عدالت نے 43 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں جبکہ 5 کی ضمانتیں مسترد کر دیں۔ اسی طرح، تھانہ ترنول میں 7 ملزمان کی ضمانتوں میں سے 2 کی ضمانت منظور کی گئی اور 5 کی ضمانتیں مسترد ہو گئیں۔تھانہ آئی 9 کے 10 ملزمان میں سے 9 کی ضمانتیں منظور ہوئیں اور ایک کی درخواست مسترد ہوئی۔ تھانہ کوہسار کے مقدمے میں 28 ملزمان کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 5 کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ تھانہ رمنا میں 8 ملزمان میں سے 3 کی ضمانتیں منظور کی گئیں اور 5 کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔تھانہ سیکرٹریٹ کے تمام 25 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔ تھانہ مارگلہ کے 45 ملزمان میں سے 42 کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 3 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتیں 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔ یہ فیصلہ عدالت کے مطابق قانونی تقاضوں کے مطابق دیا گیا، اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے حق میں فیصلہ آنا ایک اہم قانونی پیشرفت ہے۔یاد رہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا، جس کے بعد مختلف تھانوں میں ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو ریلیف ملے گا۔

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • پاراچنار واقعے  کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

    پاراچنار واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

    کراچی: وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا ہے کہ پارا چنار واقعے پر ہم سب کو افسوس ہے، وہاں امداد بھی بھیجی ہے، کے پی کی حکومت کو پاراچنار کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں دھرنوں کے حوالے سے وزیرِ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف نے پریس کانفرنس کی،اس موقع پر وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ ایک ہفتے سے جو حالات ہیں، سڑکیں بلاک ہیں،25 تاریخ سے ابتک کے حالات سب کے سامنے ہیں کراچی کے عوام شکایات کر رہے تھے کہ سڑکیں بلاک تھیں لوگ اسپتالوں تک نہیں جاپا رہے تھے یقینا پارا چنار واقعہ پر سب کو افسوس ہے-

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کی ہدایت پر ادویات اور اشیا خوردونوش بھی بھجوائیں وہاں جن کا جان و مال کا نقصان ہوا ہے اس پر غم زدہ ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہی وہاں کے حالات بہتر کیے جائیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں بدامنی پھیلائی جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو نقصان پہنچایا جائے،اگر مظاہرین پُرامن تھے تو 8 موٹر سائیکلیں کیسے جلیں؟ 8 پولیس اہلکار زخمی کیسے ہوئے؟-

    پائلٹ کی عقلمندی، طیارہ حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا

    وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت ان کے غم میں شریک ہے ، احتجاج ریکارڈ ہوگیا ایک دن دو دن، تمام عہدیدار ان سے ملاقاتیں بھی کر رہے تھے، انہیں کہا گیا کہ ایک جگہ فراہم کرتے ہیں وہاں احتجاج کیا جائے، کراچی میں مختلف مکتب فکر کے لوگ آباد ہیں، ہمارے وزرا اور دیگر آفیشل سمیت کراچی پولیس چیف ان سے ملاقاتیں کرتے رہے،سعید غنی، مرتضی وہاب ، ناصر شاہ نے جو پیشکش کی وہ ٹھکرا دی گئی-

    خواتین کیلیے خوشخبری،بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم بڑھا دی گئی

  • کراچی: پاراچنار واقعے پر احتجاج، شہر میں ٹریفک کی روانی شدیدمتاثر

    کراچی: پاراچنار واقعے پر احتجاج، شہر میں ٹریفک کی روانی شدیدمتاثر

    کراچی کے مختلف مقامات پر پاراچنار واقعے پر احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی، کئی چورنگیاں بند ہوئیں تو ٹریفک پولیس نے متبادل راستے فراہم کردیے۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق مین ایم اے جنا ح روڈ نمائش چورنگی ٹریفک کیلیے بند ہے، ٹریفک کو پی پی چورنگی، گرومندر سے سولجر بازار متبادل راستہ فراہم کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق ٹریفک کیلیے سوسائٹی سگنل سے کوریڈور تھری، بریٹو روڈ سے سولجر بازار اور گرومندر کی طرف متبادل راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق ابوالحسن اصفہانی روڈ سے بجانب سپرہائی وے عباس ٹاو?ن کے سامنے دونوں اطراف کی سڑکیں بند ہیں۔حکام کے مطابق ٹریفک کو پیراڈائز بیکری سے فاریہ چوک و اندرون گلیوں کی طرف متبادل راستہ دیا گیا ہے۔ٹریفک حکام کے مطابق فائیو اسٹار چورنگی مکمل بند ہے، سروس روڈ سے ٹریفک کی روانی جاری ہے جبکہ یونیورسٹی روڈ میٹرو شاپنگ سینٹر سمامہ بجانب نیپا بند ہے۔پولیس حکام کے مطابق ٹریفک کو اندرون علاقوں میں متبادل راستہ دیا گیا ہے جبکہ مین شاہراہ فیصل اسٹار گیٹ سے ملیر جانے والا راستہ بند ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق شہرسے آنے والے ٹریفک کو ڈرگ روڈ سے راشد منہاس روڈ کی طرف متبادل راستہ دیا ہے جبکہ ملینئم سے آنے والے ٹریفک کو ڈرگ روڈ سے شہر کی طرف موڑا گیا ہے۔حکام کے مطابق مین نیشنل ہائی وے ملیر 15 برج چڑھائی قائدآباد کی سڑک بند ہے، ٹریفک کو ملیر ہالٹ سے ماڈل کالونی کی طرف متبادل راستہ دیا گیا ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق منزل پمپ سے یونس چورنگی،دائود چورنگی سے انڈسٹریل ایریا کی طرف بھی متبادل راستہ دیا ہے۔

    پاکستان کاآذربائیجان سےگیس سپلائی کا معاہدہ

    ٹیکس جمع نہ کروانے پر شادی ہالز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” کا پاکستان کیلئے پروازوں کے آغاز کا فیصلہ

    تنگوانی: ڈیڑھ ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق، محکمہ صحت کی غفلت بے نقاب

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس آف پاکستان، یحییٰ خان آفریدی، آج سیشن کورٹ گھوٹکی پہنچے، جس کے ساتھ ہی شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ عدالت کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی گھوٹکی آمد کے موقع پر شہید صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا نے احتجاج کیا۔ شہید صحافی کے بچوں اور دیگر اہل خانہ نے چیف جسٹس کے روٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ نصراللہ گڈانی کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لیں۔مظاہرین نے قومی شاہراہ پر کھڑے ہو کر احتجاج ریکارڈ کروایا اور نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کو ابھی تک پولیس نے گرفتار نہیں کیا، اور اس سنگین واقعے میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں تعینات رہ کر صورتحال پر قابو پایا۔ تاہم، مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔

    یاد رہے کہ نصراللہ گڈانی 2023 میں ایک انتہائی وحشیانہ حملے میں شہید ہوگئے تھے، جس کی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔ ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے کیس میں سنجیدگی سے تفتیش نہیں کی جا رہی، جس کے باعث وہ چیف جسٹس سے مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔

    میر ماتھیلو :شہیدصحافی نصر اللہ گڈانی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر احتجاجی ریلی نکالی گئی

    میرپور ماتھیلو:نصراللہ گڈانی قتل کیس،گرفتارملزم کوانسداددہشت گردی عدالت میں پیش کیاگیا

    میرپورماتھیلو:شہید صحافی نصراللہ گڈانی قتل کیس، ملزمان کی ضمانتیں کنفرم نہ ہوسکیں

  • مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری،پنجاب حکومت کیخلاف عوام سڑکوں پر،سیاسی جماعتیں بھی ایک ہو گئیں

    مری لوئر ٹوپہ کے مقام پر متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام عوامی گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا،

    جرگے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اراکین اسمبلی، مرکزی انجمن تاجران، پیپلزپارٹی ،جے یو آئی ف اور دیگر سیاسی رہنما، اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔لوئر ٹوپہ میں منعقدہ عوامی گرینڈ جرگے میں شرکاء نے مال روڈ سے سیکشن فور کے خاتمے اور جھیکا گلی بازار سمیت ایکسپریس وے پر جاری آپریشن کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ تاجروں پر دہشت گردی کے مقدمات کو خارج کرنے اور مری کی تعمیر و ترقی کے لیے دی جانے والی رقم کو تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر خرچ کرنے کی تجاویز دی گئیں۔ جرگے کے دوران مرکزی انجمن تاجران کی کال پر علامتی شٹر ڈاؤن بھی کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز دفعہ 144 نافذکیا گیا تھا جس کے باوجود جرگے کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات رہی شرکاء کا تھا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    حکومت پنجاب کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کے خلاف مری لوئر ٹوپہ میں ہونے والے احتجاج میں سیاستدانوں، تاجروں اور عوام نے یک آواز ہو کر اس منصوبے کی شدید مخالفت کی۔ احتجاج میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، صداقت عباسی، پی ٹی آئی، پی پی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔متحدہ ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس احتجاج میں مری کے عوام، تاجر اور سیاسی رہنما حکومت کے "مری ڈیولپمنٹ پلان” کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی کیونکہ مری میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت عوام کو کسی بھی قسم کے غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات میں خاص طور پر جھیکا گلی بازار کی ری ماڈلنگ اور مال روڈ پر سیکشن فور کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پنجاب کو اربوں روپے کا فنڈ صرف 3 کلو میٹر پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری اور کوٹلی ستیاں کے علاقے اب بھی پسماندگی کا شکار ہیں اور ان علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری فنڈز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے اور مری و کوٹلی ستیاں کے عوام کی بہتری کے لیے وسائل مختص کرے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کا یہ منصوبہ عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کا حامل ہے اور اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مری کے عوام ترقی کے حق میں ہیں، مگر ان کی ترقی کے لیے حکومت کو عوام کی آواز سننی ہوگی اور انہیں ترجیح دینی ہوگی۔مری گرینڈ جرگے میں حکومت کے سوا تمام جماعتیں موجود ہیں، یہاں کے عوام اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ آپ کس قانون کے تحت لوگوں کی عمارتیں گرا رہے ہیں، کیا آپ نے جنگل کا قانون نافذ کر دیا ہے، میری سیاسی تاریخ میں کبھی مری میں دفعہ 144 نافذ نہیں کیا گیا، عوام کے نمائندے عوام میں ہوتے ہیں، آپ عوام کی بات سننے کو تیار نہیں،ہ مری کی انتظامیہ سے سوال کریں تو کہتے ہیں ہمیں اوپر سے آرڈر ہے جبکہ ہم نے کبھی 37 سالوں میں اوپر والوں کا حکم نہیں مانا،حکومت اپنا پلان ہماری عمارتیں گرا کر حاصل نہیں کرسکتی، ہمارے حقوق کا تخفظ نہیں ہوگا تو پھر حق لینا بھی جانتے ہیں، ہماری بدقسمتی ہے یہ حکومت آئینی ترمیم بھی رات کے اندھیروں میں کر رہی ہے۔

    مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کو مری اور کوٹلی ستیاں کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس احتجاج نے علاقے میں ایک نئی سیاسی گرمجوشی پیدا کر دی ہے، اور حکومت کو سخت پیغام دیا ہے کہ عوامی مفاد کو نظر انداز کر کے کسی بھی منصوبے کو منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ضلع لاہورکی باڈی کا اعلان

    عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

  • لندن میں وراثتی ٹیکس کے خلاف کسانوں کا احتجاج، ٹریکٹرز سے سڑکیں بلاک

    لندن میں وراثتی ٹیکس کے خلاف کسانوں کا احتجاج، ٹریکٹرز سے سڑکیں بلاک

    لندن: برطانیہ کے کسانوں نے وراثتی ٹیکس کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا، جس دوران سینٹرل لندن کی سڑکوں کو ٹریکٹرز کے ذریعے بلاک کر دیا۔ احتجاج کا مقصد نئے وراثتی ٹیکس قوانین کی مخالفت کرنا تھا، جنہیں کسانوں کے مطابق ان کی معیشت اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    کسانوں نے ٹریکٹرز کے ذریعے اپنی موجودگی کا اظہار کرتے ہوئے لندن کی مشہور سڑکوں پر ٹریفک جام کر دیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکس پالیسی کے تحت زمینوں کی وراثت کے معاملے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کسانوں کے مطابق، اس ٹیکس کی وجہ سے وہ اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ پورے زرعی شعبے اور خوراک کی فراہمی میں کمی آنے کا خطرہ ہے۔کسانوں نے اس موقع پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کریں اور اسے فوری طور پر واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر یہی پالیسی رہی تو زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا اور ہمارے لیے زمینیں بچانا ناممکن ہو جائے گا۔”

    نئے وراثتی ٹیکس قوانین کے مطابق، 2026 سے 10 لاکھ پاؤنڈ یا اس سے زیادہ مالیت والے فارم پر 20 فیصد ٹیکس ادا کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس ٹیکس پالیسی پر کوئی یو ٹرن نہیں لیا جائے گا اور اسے کسانوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    وراثتی ٹیکس کا یہ نیا نظام کسانوں کے لیے اضافی بوجھ بن رہا ہے، خاص طور پر وہ کسان جو بڑے فارم کی ملکیت رکھتے ہیں اور ان کی وراثت میں آنے والی زمینوں کا قیمتی ہونا اس ٹیکس کی زد میں آتا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے باعث وہ نہ صرف اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں بلکہ زرعی پیداوار کی کمی بھی ہو سکتی ہے، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا۔برطانوی حکومت نے اس ٹیکس کے نئے قوانین کو اس بات پر مبنی قرار دیا ہے کہ یہ قوانین بڑے زمین مالکان کو مالی طور پر بہتر پوزیشن میں لائیں گے اور ایک زیادہ منصفانہ نظام فراہم کریں گے۔ تاہم، کسانوں کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ ان کے کاروبار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا اور ان کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • 24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    24 نومبر احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی نےوزیر اعظم سمیت و دیگر کے خلاف کاروائی کے لئے عدالت سے رجوع کر لیا

    بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرمنل کمپلینٹ دائر کر دی،بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر درخواست میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، خواجہ آصف ، عطا تارڑ کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں آئی جی ، ایس ایس پی ، ڈی آئی جی و دیگر کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے،سردار لطیف کھوسہ نے بیرسٹر گوہر کے ذریعے کمپلینٹ دائر کی،جس میں کہا گیا کہ کرمنل کمپلینٹ منظور کر کے فریقین کو طلب کیا جائے ،38 زخمیوں کی فہرست بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے،درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

  • قصور میں ایس ایچ او نے کوریج کرتے صحافی پر تھپڑوں کی برسات کردی،موبائل،مائیک،چینل لوگو توڑ دیا

    قصور میں ایس ایچ او نے کوریج کرتے صحافی پر تھپڑوں کی برسات کردی،موبائل،مائیک،چینل لوگو توڑ دیا

    قصور
    قصور میں ایک اور صحافی پولیس گردی کا شکار، تھانہ مصطفی آباد قصور کے ایس ایچ او اور سب انسپیکٹر نے اپنی موجودگی میں کوریج کرتے صحافی سمیع اللہ جٹ پر تھپڑوں اور گالیوں کی برسات کروائی، صحافی کا مائیک،چینل لوگو اور موبائل توڑ دیا،صحافیوں کا پولیس گردی کے خلاف احتجاج

    تفصیلات کے مطابق قصور کے تھانہ مصطفی آباد کے ایس ایچ او اور سب انسپیکٹر نے اپنی موجودگی میں کوریج کرتے قصور کے صحافی سمیع اللہ جٹ پر اپنے ماتحتوں سے تھپڑوں اور گالیوں کی برسات کروا دی اور تھانے لیجا کر حبس بیجا میں رکھا
    تھانہ مصطفی آباد للیانی کی حدود میں پبلک پراپرٹی کا معاملہ چل رہا تھا جس پر پولیس اپنی موجودگی میں قبضہ کروا رہی تھی جبکہ دوسری پارٹی رو رہی تھی اور پولیس کو منع کر رہی تھی کہ ابھی کورٹ کے آرڈرز نہیں آئے لہذہ آپ کورٹ کے حکم نامہ آنے تک ایسا نہیں کر سکتے یہ سب خلاف قانون ہے
    اس منظر کی رپورٹنگ کرتے ایک نیوز کے صحافی سمیع اللہ جٹ کو تھانہ مصطفی آباد کے
    سب انسپیکٹر اشرف اور
    ایس ایچ او حسن علی عمران نے گالیاں دینا شروع کر دیں اور پکڑ کر صحافی کا موبائل،مائیک اور چینل کا لوگو توڑ دیا اور اپنے ماتحتوں سے صحافی پر سڑک کنارے تھپڑوں اور ٹھڈوں کی برسات کروا دی اور سرکاری گاڑی میں ڈال کر تھانے لیجا کر حبس بیجا میں رکھا جس پر قصور کی صحافی برادری نے بھرپور احتجاج کیا
    قصور کی صحافی برادری میں اس بابت سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور صحافی برادری پوچھتی ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں ابتک 104 صحافی قتل کئے گئے ہیں کیا قصور پولیس بھی غزہ،شام،عراق اور دنیا بھر کی طرح کوریج کرتے صحافی کو قتل کرکے اپنا نام بنانا چاہتی ہے؟
    واضع رہے کہ اس سے قبل قصور کے صحافی مہر شکیل شریف اور صحافی غنی محمود قصوری بھی قصور پولیس کی پولیس گردی کا شکار ہو چکے ہیں
    صحافی برادری نے وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ و آئی جی پنجاب سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • پی ٹی آئی احتجاج کے دوران  من گھڑت خبریں ، عالمی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری

    پی ٹی آئی احتجاج کے دوران من گھڑت خبریں ، عالمی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : تحقیقاتی رپورٹ عالمی ادارے فیک نیوز واچ ڈاگ نے جاری کی، رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج سے چلنے والی من گھڑت خبروں نے تباہ کن کردار ادا کیا، بغیر تصدیق کے خبروں کے پھیلاؤ سے پاکستان کا عالمی سطح پر چہرہ مسخ ہوا وزیر داخلہ سے منسوب آزاد کشمیر کے شہریوں سے متعلق خود ساختہ اور خطرناک بیان زیر گردش رہا جبکہ بانی پی ٹی آئی کے مبینہ ویڈیو پیغام سے متعلق بھی جعلی خبریں چلتی رہیں۔

    فیک نیوز واچ ڈاگ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے متعلق جعلی خبر نے احتجاج کی شدت بڑھائی جبکہ پمز اور پولی کلینک اسپتال میں سینکڑوں لاشوں کی جعلی خبروں کے بھی منفی اثرات ہوئے، اسد قیصر کو پی ٹی آئی چیئرمین بنانے سے متعلق جعلی خبریں بھی بریکنگ نیوز بنیں، بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادے سلیمان عیسیٰ خان کے نام سے جعلی اکاؤنٹ سےکارکنان کو اکسایا جاتا رہا، بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل سے منتقل کرنے کی خبریں بھی جعلی ثابت ہوئیں۔

    اس کے علاوہ فیک نیوز واچ ڈاگ کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران آرمی اکیڈمیز سے 600 جوانوں کے استعفے کی خبریں بھی بےبنیاد ثابت ہوئیں جبکہ اسد قیصر اور محمود خان اچکزئی پر فائرنگ کی بے بنیاد خبریں بھی چلائی گئیں۔

    تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ قاسم سوری کے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بیانات کے انتہائی منفی اثرات ہوئے، ڈی پی او اٹک غیاث گل کی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی احتجاج کی پرانی تصویر چلائی گئی دوران نماز کنٹینر سےگرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت کی خبر بھی عالمی سطح پر زیر بحث رہی تاہم گرنے والے کارکن کےمنظر عام پر آنے اور وزیر اعلیٰ کےپی سے ملاقات سے موت کی خبریں بھی غلط ثابت ہوئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیک نیوز کی وجہ سے سیکورٹی اداروں بلکہ پی ٹی آئی قیادت کو بھی شدید مشکلات کاسامنا رہا، فیک نیوز کے متاثرین میں حکومت، سکیورٹی ادارے اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں، پاکستان میں فیک نیوز کے سدباب سے متعلق ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال

    آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال

    مظفرآباد: آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 5 دسمبر سے شروع کی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مختلف اضلاع میں کاروبار زندگی معطل ہے۔ احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہروں پر عائد پابندی کے خلاف ہونے والی اس ہڑتال کا مقصد حکومت کے صدارتی آرڈیننس کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔

    ہڑتال کے دوران مظفرآباد، میرپور، باغ، برنالہ، اٹھ مقام، نیلم اور دیگر علاقوں میں تمام کاروباری مراکز بشمول بازار، دکانیں، ہوٹلز، ڈیری شاپس، ریستوران، میڈیکل اسٹورز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ اس کے علاوہ، بین الاضلاعی ٹریفک بھی معطل ہو گئی ہے۔ مضافاتی علاقوں میں بھی ہڑتال کی حمایت میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں، جس کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے ایک ماہ قبل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے احتجاجی مظاہروں، جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کی تھی، جس کے مطابق اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سات سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس آرڈیننس کو عوامی حقوق اور آزادیوں پر قدغن قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی کارروائیاں شروع کی ہیں۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 5 دسمبر کو غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کی کال دی گئی تھی، جسے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کی جامعہ مساجد سے بھی منظم کیا گیا تھا۔ شہریوں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور حکومت کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

    یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے سپریم کورٹ نے ایک دن قبل اس صدارتی آرڈیننس کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا، جس سے عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں کو کچھ حد تک قانونی تحفظ حاصل ہوا ہے۔ تاہم، کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے باوجود وہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی