Baaghi TV

Tag: ارشد شریف

  • ارشد شریف قتل کیس،جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست

    ارشد شریف قتل کیس،جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست

    صحافی ارشد شریف قتل کیس ،ارشد شریف کی والدہ نے کیس کی جلد سماعت کیلئے متفرق درخواست دائر کر دی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 27 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں کیس سماعت کیلئے مقرر کیاجائے،سپریم کورٹ میں کیس زیر التوا ہونے کے باعث معاملے کی تحقیقات رک چکی ہیں، کیس کی آخری سماعت 13 جون کو ہوئی تھی،جس طرح معاملات چل رہے ہیں فیملی میں مایوسی پائی جاتی ہے سپریم کورٹ میں کیس آخری بار 13 جون کو سنا گیا تھا 27نومبر سے شروع ہفتے میں کیس کو مقرر کیا جائے

    ارشد شریف کو  کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • صحافی ارشد شریف کے قتل کو ایک سال بیت گیا

    صحافی ارشد شریف کے قتل کو ایک سال بیت گیا

    پاکستان کے سینئر صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل کو ایک برس گزر گیا تاہم ملزمان ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے جا سکے

    ارشد شریف کو ایک برس قبل کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف قتل کیس کی ٹرائل کورٹ میں کارروائی روک دی گئی

    ارشد شریف قتل کیس کی ٹرائل کورٹ میں کارروائی روک دی گئی

    اسلام آباد: مقتول صحافی ارشد شریف قتل کیس کی ٹرائل کورٹ میں کارروائی روک دی گئی،گواہان کی عدم پیشی اور عدم دلچسپی کے باعث کارر وائی کی فائل ریکارڈ روم بھیج دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا عدالتی فیصلے کے مطابق 16 مارچ کو ارشد شریف قتل کیس میں عدالت کو پینل کوڈ سیکشن 512 کا چالان موصول ہوا، 5 اپریل کو بیانات ریکارڈ کروانےکے لیے عدالت نےگواہان کو طلبی کا نوٹس جاری کیا، متعدد بار بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے گواہان کو طلب کیا مگر کوئی پیش نہ ہوا، ارشد شریف قتل کیس میں گواہان کی بیان ریکارڈ کروانے میں دلچسپی نہیں، 15 بار پراسیکیوشن کو شواہد جمع کروانے کا موقع دیا، گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کو نوٹس دیا کہ کیوں نہ فائل ریکارڈ روم بھیج دی جائے پراسیکیوٹر کے مطابق پرائیویٹ اور سرکا ری گواہان بیانات ریکارڈ کروانے عدالت نہیں آرہے۔

    سرکاری ملازمین کو مفت بجلی فراہم نہیں کر سکتے،وزارت توانائی

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ارشد شریف قتل کیس کی کارروائی روکی جاتی ہے، گواہوں کی پیشی کو دیکھتے ہوئے پراسیکیوشن نئی تاریخ کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے آئندہ احکامات تک ارشد شریف قتل کیس کی فائل کو داخل دفتر کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

    نیب کا کیسز کا ریکارڈ احتساب عدالت جمع کروانے کا فیصلہ

  • ارشد شریف کی اہلیہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ارشد شریف کی اہلیہ کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ارشد شریف قتل کیس ،جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے ارشد شریف کی اہلیہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

    اہلیہ سمیعہ ارشد کے ناقابلِ وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے ،ارشدشریف کے پروڈیوسر علی عثمان کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے،عدالت نے متعدد سماعتوں سے ارشدشریف کی اہلیہ اور پروڈیوسر کو بیان کے لیے طلب کررکھا تھا، عدم پیشی پر وارنٹ جاری کئے گئے،ارشد شریف کی اہلیہ، بیٹا اور پروڈیوسر علی عثمان سمیت انیس افراد گواہان میں شامل ہیں، واضح رہے کہ ارشد شریف کی اہلیہ کی وارنٹ پہلے جاری ہوئے تھے جو آج برقرار رکھے گئے ہیں

    ارشد شریف کی فیملی سرکار کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کو پہلے ہی رد کرچکی ہے

    ارشد شریف کی اہلیہ سمیعہ ارشد نے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر کہا کہ مجسٹریٹ کی سطح پر کیس اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا علم نہیں مجھے صرف سپریم کورٹ کے کیس کا علم ہے میرے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا میڈیا سے پتا چلا ہماری درخواست پر ایف آر نہیں کاٹی گئی مجسٹریٹ کی سطح پر کیس کیا چل رہا ہے اور کہاں چل رہا ہے اس کا علم نہیں

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

  • ارشد شریف قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے اہلکار ڈیوٹی پر بحال

    ارشد شریف قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے اہلکار ڈیوٹی پر بحال

    صحافی واینکر ارشد شریف کے قتل میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکاروں کے انکے عہدوں پو بحال کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہ ڈیوٹی پر واپس آ گئے ہیں،

    ارشد شریف قتل کیس کی کینیا پولیس نے انکوائری کی اور پولیس اہلکاروں کو بے گناہ قرار دے دیا، ارشد شریف کے قتل میں ملوث پانچ اہلکاروں میں سے دو کو ترقی بھی دی گئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیا کی انڈی پینڈنٹ پولیسنگ اوور سائٹ اتھارٹی نے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کا نتیجہ ہفتوں میں دینے کے وعدہ کیا تھا اسکے باوجود آج تک منظر عام پر نہ لائی، پولیس اہلکاروں کی بحالی اور تحقیقات کی طوالت سے متعلق سوال کا جواب بھی اتھارٹی کے ترجمان نہ دے سکے

    کینیا میں ارشد شریف کے میزبان خرم اور وقار قتل میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار چکے ہیں اور کینیا میں ہی مقیم ہیں

    واضح رہے کہ ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

  • مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    اسلام آباد: مرحوم صحافی اور اینکر ارشد شریف کی صاحبزادی علیزہ ارشد نے اپنے والد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا ۔

    باغی ٹی وی: والد ارشد شریف کی طرح اب ان کی جواں سالہ بیٹی علیزہ ارشد نے بھی صحافت کا انتخاب کرتے ہوئے ’اے آر وائی نیوز‘ پر بطور رپورٹر کیریئر کا آغاز کردیا، انہوں نے دارالحکومت اسلام آباد سے نیوز چینل کے اسٹاف رپورٹر کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا ہے۔

    علیزہ ارشد مرحوم صحافی کی پہلی اہلیہ سمعیہ ارشد کی بیٹی ہیں،ارشد شریف کو پہلی اہلیہ سے چار بچے تھے جس میں سے ان کی بیٹی اور بیٹا علی ارشد 18 سال سے زائد العمر ہیں۔


    مرحوم ارشد شریف کی صاحبزادی علیزہ ارشد کی جانب سے والد کی طرح صحافت شروع کرنے پر متعدد شخصیات نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ترقی اور حفاظت کے لیے دعائیں کی ہیں-

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی


    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل نے علیزہ ارشد کی رپورٹنگ کی ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا انہوں نے ٹوئٹ میں علیزہ ارشد کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ شاباش بیٹا۔ خوش کر دیا خوب محنت کرو ،خوب بڑھو۔ ابھی بہت سفر کرنا ہےآپ کا والد ایک بہت بڑا آدمی تھا، انشاللہ آپ ایک دن ان کا نام روشن کریں گی-


    معروف صحافی اور اینکر صابر شاکر نے قبھی ارشد شریف کی بیٹی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف ثبوت دے،ہم اقدامات کریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف …


    https://twitter.com/SyedTah51256136/status/1679987738509029376?s=20
    واضح رہے کہ ارشد شریف کو اکتوبر 2022 میں براعظم افریقہ کے ملک کینیا میں قتل کیا گیا تھا اور تاحال ان کے قتل کی تفتیش مکمل نہیں ہو سکی ارشد شریف تین دہائیوں تک صحافت سے وابستہ رہے، انہوں نے نہ صرف رپورٹنگ کی بلکہ ان کا شمار ملک کے مقبول ترین اینکرپرسنز میں بھی ہوتا تھا۔

    حکومت عوام پر ظلم کی بجائے اپنی مراعات ختم کرے،سراج الحق

  • ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،ارشد شریف کی قتل ازخود نوٹس کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان نے دو رپورٹس کا حوالہ دیا، خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے عبوری تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ،دوسری رپورٹ میں وزارت خارجہ کی طرف سے اب تک اقدامات کے بارے میں بتایا گیا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کینیا اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں حکومت پاکستان کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں پر بات چیت کے عمل میں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگے گا،ارشد شریف کی دوسری اہلیہ کے وکیل نے عدالت کو اقوام متحدہ کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کی ان کمیٹیوں کا حوالہ دیا جو دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات میں شامل ہیں، ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے دو متفرق دائر درخواستوں کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بعض افراد کے نام بتائے ہیں جن کو ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث سازشیوں اور مجرموں کے بارے میں علم ہے،

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ارشد شریف کی والدہ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کو مذکورہ افراد کی جانچ کرنے کی ہدایت دی جائے،متفرق درخواستوں پر غور کرنے کے بعد والدہ کے وکیل کی استدعا قابل قبول نہیں ہے،سوموٹو میں عدالت ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں محض سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کیس پر مذید سماعت جولائی 2023 میں دوبارہ کی جائے گی،

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے حکومت سے کینیا کیساتھ باہمی قانونی معاہدے پر پیشرفت رپورٹ طلب کر لی

    واضح رہے کہ ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

  • ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی

    سپریم کورٹ ،سینئیر صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لاجر بنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بنچ میں شامل تھے،سپیشل جے آئی ٹی نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کر دی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینیا میں موجود ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں،
    ملزمان کے ریڈ وارنٹس کیلئے انٹرپول سے رجوع کیا گیا ہے، کینیا کی حکومت نے معاہدے کا ہی کہا ہے،اس معاہدے کے بغیر کوئی چوائس نہیں ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تحقیاتی ٹیم کا دورہ کینیا لاحاصل مشق تھی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر رپورٹ دیکھ کر سرپرائز ہوا۔جو جرم ہوا وہ بہت سنگین تھا۔ایک صحافی کا قتل ہونا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش تھا۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کسی بھی قسم میں کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ایم ایل اے کا معاہدہ ہونا ضروری ہے،فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع ہونے کے بعد بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کا سیکشن 3 کینیا کی حکومت سے تعاون سے منع نہیں کرتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیوں شائع کی گئی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے متعلق احتیاط کیوں نہیں کی گئی،ارشد شریف کی بیوہ نے اپنی رپورٹ میں مختلف عالمی قوانین کا حوالہ دیا ہے,چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جویریہ صدیق کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین تک رسائی کا کیا طریقہ کار ہے ؟سعد بٹر وکیل جویریہ صدیق نے کہا کہ اقوام متحدہ فورم کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے ، جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں،اسطرح کے قتل کیسسز میں بین الاقوامی اداروں کو لکھا جا سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت خود اس سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتی،ارشد شریف کے قتل میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی،وکیل سعد بٹرنے کہا کہ اگر کینیا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو عالمی کنونشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے،صحافیوں سے گزارش ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھیں اور اٹارنی جنرل کی رپورٹنگ میں احتیاط کریں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا زکر موجود ہے،

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے حکومت سے کینیا کیساتھ باہمی قانونی معاہدے پر پیشرفت رپورٹ طلب کر لی

  • عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے،اہلیہ ارشد شریف

    عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے،اہلیہ ارشد شریف

    اسلام آباد: سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ ارشد نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا۔

    باغی ٹی وی: ارشد شریف کی اہلیہ نے جواب میں اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں اور عالمی قوانین کا حوالہ بھی دیا کہا کہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے، عالمی قوانین کے کینیا کی جانب سےعدم تعاون کی شکایت متعلقہ فورم پر کی جا سکتی ہے-

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری

    جواب میں کہا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت دوسری ریاستوں میں ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون موجود ہے پاکستان اور کینیا دونوں ہی اس حوالے سے عالمی قوانین کو تسلیم کر چکے ہیں، خلاف ورزی پر اقوام متحدہ سمیت دیگر فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ کا خصوصی لارجر بینچ 13 جون کو ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ 24 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

    ارشد شریف کی میت پاکستان لائے جانے کے بعد پمز اسپتال کے 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے، ان کو گولی انتہائی قریب سے ماری گئی تھی پمز ذرائع کے مطابق ارشد شریف کا کینیا میں بھی پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا جس کی وجہ سے موت کے وقت پہنے کپڑے ساتھ نہیں دیئے گئے۔

    سیالکوٹ:کھیلوں کی صحت مندانہ سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پہ فروغ دینا وقت ضرورت ہے- چوھدری …

  • ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس میں بڑی پیشرفت، ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی درخواست دائر کر دی

    ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    والدہ ارشد شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اقدام کو سراہتی ہوں،ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات پاکستان میں ہونے والی سازش سے شروع کی جائیں، کئی افراد نے ارشد شریف کے قتل کی سازش بارے جاننے کا دعوی کیا ہے،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ اور نہ جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی گئی،سپریم کورٹ جے آئی ٹی سربراہ کو پانچ افراد کو تحقیقات میں شامل کرنے کا حکم دے، سپریم کورٹ جے ائی ٹی کی رپورٹس فراہم کرنے کا حکم دے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،