Baaghi TV

Tag: ارشد شریف

  • ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    سپریم کورٹ میں صحافی ارشد شریف کے قتل پر ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایم ایل اے کا جواب تاحال نہیں آیا، جے آئی ٹی دوبارہ یو اے ای جانے کی تیاری کررہی ہے ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جے آئی ٹی کا مقصد بتا دیں ابھی تک کوئی میٹریل نہیں دیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد شریف قتل کیس تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہیں،متحدہ عرب امارات کا 11 اپریل کو ایم ایل اے آیا،یو اے ای کو27 اپریل کو ایم ایل اے سوالات کا جواب دیدیا،کینین حکومت نے بھی تحقیقات کے سلسلے میں ابتک انکار نہیں کیا ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر2022 میں معاملے پر ازخودنوٹس لیا تھا،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی نے قتل سے متعلق ابتک کیا مواد اکٹھا کیا؟جے آئی ٹی ٹیم دبئی سے آ رہی ہے کینیا جارہی ہے،اس کے علاوہ ابتک کی کیا پراگرس ہے؟ پراگرس رپورٹ میں خرم، وقار کو ملزم لکھا گیا۔

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت 13جون تک ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کر دی ، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی رپورٹس نہیں چاہیے جن میں کچھ پیش رفت ہے ہی نہیں،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • سپریم کورٹ کا ارشد شریف قتل ازخود نوٹس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا عندیہ

    سپریم کورٹ کا ارشد شریف قتل ازخود نوٹس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا عندیہ

    سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل سے متعلق از خود نوٹس کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات پر عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا، ارشد شریف کی فیملی کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے عدالتی کارروائی پر اعتراض اٹھایا شوکت عزیزصدیقی کے مطابق سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی تحقیقات کی نگرانی نہیں کر سکتیسپریم کورٹ بنیادی حقوق سے متعلق معاملات کی نگرانی اور تحقیقات کروا سکتی ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کینیا اور یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون معاونت سے آگاہ کیاایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق کینین حکام نے تاحال باہمی قانونی معاونت کا جواب نہیں دیا خصوصی جے آئی ٹی کو بیرون مماملک سے تحقیقات کیلئے 3 ہفتے مزید دیئے جاتے ہیں

    تحریری حکمنامے میں سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اہم بنیادی حقوق کا معاملہ ہونے کے باعث عدالت تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنا سکتی ہے ارشد شریف قتل کا معاملہ ایک بڑے صحافی کے قتل کے علاوہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے 5 ہزار سے زائد خطوط سپریم کورٹ کو لکھے گئے سپریم کورٹ ارشد شریف قتل کی صاف اور شفاف تحقیقات کرانا چاہتی ہے کیس کی مزید سماعت اپریل کے مہینے میں ہوگی

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف کی والدہ کا سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پراعتراض

    ارشد شریف کی والدہ کا سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پراعتراض

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل پرازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر اعتراض کردیا، وکیل والدہ ارشد شریف شوکت عزیز صدیقی نے عدالت میں کہا کہ ارشد شریف کیس پر سپریم کورٹ کی کاروائی پر تحفظات ہیں،سپریم کورٹ معاملے کی نگرانی نہیں کر سکتی،سپریم کورٹ شہناز بی بی کیس میں واضح کر چکی کہ عدالت کے پاس سپروائز کرنے کا اختیار نہیں،سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ اس کیس کی نگرانی نہ کرے،جسٹس فار پیس کو یہ معاملہ بھجوایا جائے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ تحقیقات کی نگرانی کر سکتی ہے،وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کر لی ،یا فیصلہ بدل گیا ؟ جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم یہ کیس نہ سنیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ارشد شریف کی والدہ اپنے موقف کے مطابق ایف آئی آر درج کرانا چاہتی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ ارشد شریف کیس میں گناہ گاروں کو سزا ملے اور بے گناہ لپیٹ میں نہ آئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں کسی کو سزا اور بری نہیں کررہے صرف تحقیقات میں سہولیات فراہم کررہے ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک نامور صحافی کے قتل پر از خود نوٹس لیا،سپریم کورٹ صحافت کے شعبہ کا بے حد احترام کرتی ہے،بنیادی انسانی حقوق کی خاطر عدالت نے از خود نوٹس لیا،23اکتوبر کو قتل ہوا عدالتی نوٹس سے پہلے آپ کہاں تھے؟ ارشد شریف ایک اہم شعبے کے اہم فرد تھے، بہت دکھ ہے کہ ارشد شریف کیس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،دفتر خارجہ دو ممالک سے ارشد شریف کیس میں مدد لینے میں ناکام رہا، وکیل نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ روزانہ جیتی اور روزانہ مرتی ہیں لیکن مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج نہیں کراسکتی، اگر ہماری ایف آئی آر غلط ہوئی تو بے شک خارج کردیں لیکن مقدمہ تو ہماری مرضی کا درج ہونا چاہیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا عدالت بہت احترام کرتی ہے صحافی ہمیں کچھ بھی کہیں کبھی توہین عدالت کی کارروئی نہیں کی، صحافی کو قتل کردیا گیا جو دوسروں کیلئے سبق ہو سکتا ہے،ارشد شریف صحافی اس ملک کا شہری تھا، صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے عدالت نے سوموٹو لیا، جے آئی ٹی کے کام میں عدالت نے کوئی مداخلت نہیں کی،عدالت نے ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے پہلے تو کچھ ہو ہی نہیں رہا تھا سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے پہلے تو کچھ ہو ہی نہیں رہا تھا ارشد شریف کا قتل کینیا میں ہوا یہ دو ممالک کے درمیان معاملہ ہے،ہم نہ تو کسی کو اس کیس میں پھنسانا اور نہ ہی کسی کو نکالنا چاہتے ہیں،قانون کے مطابق اس کیس کو چلانا چاہتے ہیں،ہمارا اس کیس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ،اٹارنی جنرل سے تحقیقات سے متعلق معلومات لیتے ہیں، ساڑھے پانچ ہفتے انتظار کے بعد سوموٹو لیا،ارشد شریف ازخود نوٹس کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ نے درخواست کی تھی اورجوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے خط لکھا تھا تحقیقاتی معاملات میں بہت سی چیزیں خفیہ ہوتی ہیں،اگر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو مانیٹر نہ کیا تو پیشرفت سست رہے گی،سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنایا نہ تحقیقات میں مداخلت کر رہی ہے، شوکت صدیقی نے درست کہا کہ سپریم کورٹ تفتیش نہیں کر سکتی،اگر سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنا دیا تو پھر سب کو طلب بھی کر سکیں گے،اس نکتے پر شفافیت چاہیے کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا،اس دور میں فیک نیوز، جھوٹے الزامات اور پراپیگنڈہ کی بھرمار ہے،جو ارشد شریف کو بیرون ملک سپورٹ اور تحفظ دے رہے تھے ان پر بھی الزامات ہیں،کچھ اور لوگوں پر بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں،اس وقت شدید انتشار اور تقسیم کی کیفیت ہے،ارشد شریف قتل نے صحافیوں میں دہشت پھیلا رکھی ہے،ہمیں بھی بطور شہری ارشد شریف کے قتل پر تشویش ہے،عدالت صرف شفاف اور بروقت تحقیقات چاہتی ہے،شفاف تحقیقات تب تک نہیں ہو سکتیں جب تک رکاوٹیں ختم نہ ہوں،ایسا کوئی تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ ارشد شریف قتل کی تحقیقات میں کوئی رخنہ ڈالا جا رہا ہے،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کو سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کو سماعت کیلیے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کو سماعت کیلیے مقرر کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت 17 مارچ کو دن سوا گیارہ بجے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں لارجر بنچ کرے گا۔

    پنجاب اسمبلی کے انتخابات :حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

    سماعت کے حوالے سے جے آئی ٹی ارکان، ایف آئی اے اور آئی بی سربراہان کو نوٹس جاری کر دیئے جبکہ سیکرٹری داخلہ، خارجہ اور اطلاعات، شہید ارشد شریف کے اہلخانہ کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بینچ کا حصہ ہوں گے، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ میں شامل ہوں گے۔

    اگرزمان پارک کراچی میں ہوتا توکب کے عمران خان گرفتار ہوچکے ہوتے، فاروق ستار

    یاد رہے کہ کینیا میں صحافی ارشد شریف کو 22 اور 23 اکتوبر 2022 کی درمیانی شب گاڑی میں جاتے ہوئے کینین پولیس نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا کینیا پولیس کی جانب سے ارشد شریف کی موت کو شناخت کی غلطی قرار دے کر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔

    ایف آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران پر مشتمل ٹیم صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے 28 اکتوبر کو کینیا گئی تھی۔

    واضح رہے کہ جے آئی ٹی نے گزشتہ ہفتے اپنی تیسری پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی۔

    آج جو عمران کررہاہے ،ہم کرتے تو ہماری مائیں ہمیں تلاش کررہی ہوتیں- خالد مقبول

  • ارشد شریف قتل ازخود نوٹس،سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس،سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس ،سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    2 صفحات پر مشتمل حکمنامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے ، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ سے آگاہ کیا،رپورٹ کے مطابق اب تک 41 گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے، قتل کی تحقیقات پاکستان،یو اے ای اور کینیا میں کی جارہی ہیں، کینیا اور یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون کیلئے حکومت نے خط لکھ دیا ہے امید ہے اسپیشل جے آئی ٹی تیاری کیساتھ یو اے ای اور کینیا جائے گی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اگلی رپورٹ جمع کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت طلب کی، کیس کی مزید سماعت فروری کے پہلے ہفتے میں ہوگی،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ، ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا تاثر تھا کہ بیرون ملک افراد سے رابطہ کیا ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایسے لوگ جو ملک سے باہر تھے ان سے رابطہ کیا، کچھ لوگوں کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے تین سٹیجز ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کچھ لوگوں کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں،’

    دوران سماعت ارشد شریف کی اہلیہ روسٹرم پر آ گئیں ،اور عدالت میں کہا کہ اس جے آئی ٹی میں اے ڈی خواجہ جیسے افسران کو شامل کریں، جے آئی ٹی میں شامل افسران سب ارڈینیٹ ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی ریٹائرڈ افسر کو شامل نہیں کرینگے، ان کو کام کرنے دیں، لوگوں کو ٹرسٹ کرنا چاہیئے، ہماری نظر ان پر ہے،آپ یہاں آیا کریں، دیکھیں کہ کاروائی کیسے چلتی ہے، ارشد شریف کی اہلیہ نے استدعا کی کہ اس کیس میں اے ٹی اے شامل کی جائے ، جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے کہا کہ اگرتفتیش کے دوران اے ٹے اے شامل ہوسکتا ہے تو وہ ہوجائیگا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسے لوگ جو ملک سے باہر تھے ان سے رابطہ کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو یہاں ڈسکس نہیں کرسکتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کینین اتھارٹی متعلقہ لوگوں کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے کینیا کے جن لوگوں سے تحقیقات کرنی ہیں ان کے نام دیے ہیں جے آئی ٹی کو وزارت خارجہ کی مکمل مدد حاصل ہے،عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کے لئے بیرون ملک جانے کے لئے فنڈز جاری کئے گئے ہیں، بتایا گیا کہ فارن آفس پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے،ہم نے نوٹ کیا کہ جو تفتیش میں پیش رفت ہوئی اس میں 41 گواہوں کے بیان قلمبند کئے گئے، جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے 3 فیز ہیں، ایک پاکستان، دوسرا دبئی اور تیسرا کینیا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فیز ون کی تحقیقات تقریبا مکمل ہوچکی ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کی ٹائم لائن نہیں دی جاسکتی، جے آئی ٹی پہلے دبئی، پھر کینیا تحقیقات کریگی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ارشد شریف کے کچھ ڈیجٹل آلات ہیں جو ابھی تک نہیں ملے،کیا جے آئی ٹی کو یہ پتہ چلا کہ وہ آلات کدھر ہیں،پتہ چلائیں وہ ڈیجٹل آلات کینین پولیس، انٹیلیجنس یا ان دو بھائیوں کے پاس ہیں، یہ جے آئی ٹی کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو تحقیقات میں شامل کرنے کیلئے وزارت خارجہ سے ڈسکس کریں، کیا کینین اتھارٹی متعلقہ لوگوں کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے،

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • سپریم کورٹ ،ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ ،ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس سماعت کے لیے مقرر

    سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا

    چف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ پانچ جنوری کو سماعت کرے گا ،ازخود نوٹس کیس کی سماعت دوپہر ایک بجے ہوگی عدالت نے اسپیشل جے آئی ٹی سے تحقیقات کی عبوری رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف قتل کیس: جے آئی ٹی کا روزانہ میٹنگ کرنے کا فیصلہ

    ارشد شریف قتل کیس: جے آئی ٹی کا روزانہ میٹنگ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی نے معاملے پر روزانہ میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے مقتول کے خاندان اور دیگر شہادتیں ریکارڈ کروانے والے افراد کی فہرست مرتب کر نے کا فیصلہ کیا ہے-

    ارشد شریف کی والدہ سے تحریک انصاف نے زبردستی پٹیشن دائر کروائی ، اہم انکشافات


    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق ارشد شریف کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی کا دوسرا اجلاس سی پی او ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کے دفتر میں ہوا ایس پی صدر کو فوری طور پر ارشد شریف کے لواحقین سے رابطہ کرکے جے آئی ٹی کی ملاقات کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔


    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق جے آئی ٹی نے ارشد شریف کے خاندان اور دیگر شہادتیں ریکارڈ کروانے والے افراد کی لسٹیں مرتب کر نے کا فیصلہ کیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ جے آئی ٹی ارشد شریف کیس پر روزانہ میٹنگ کرے گی اور پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

    سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی ایف آئی آر درج کرلی گئی

    قبل ازیں 8 دسمبر کو سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ جے آئی ٹی میں 5ممبران ہیں اور ان کیساتھ سپورٹنگ ٹیم ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ سپورٹنگ ٹیم کو متعلقہ فنڈز بھی فراہم کئے جائیں، اس ٹیم کے ساتھ ہر قسم کی معاونت کی جائے گی-

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا تھا کہ اس کیس میں ہم انٹر پول سے بھی رابطہ کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کیس میں جے آئی ٹی کو کوئی انتظامی ایشوز نہیں آئیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹیم ارشد شریف کی والدہ سمیت تمام متعلقہ افراد جو اندرون اور بیرون ملک ہیں ،کے بیان ریکارڈ کریگی۔تفتیش ہر رخ سے کی جائے گی۔ اس کیس میں اہم پہلو کینین پولیس کا ہے ،ان کی وزارت خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کریں گے۔

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نےریمارکس دیتے ہوئے کہا تھ کہ ہم اس کیس کی شفاف تحقیقات چاہتےہیں سہولت کارکا کردار ادا کریں گے،اس کیس کے لئے ہم موجود ہیں۔اگر کینیا جانے کے لئے فنڈز جاری نہ ہوئے تو ہم حکومت سے بات کریN گے-

    ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

  • ارشد شریف قتل کیس، تحریک انصاف کی کیس پراثرانداز ہونیکی کوشش

    ارشد شریف قتل کیس، تحریک انصاف کی کیس پراثرانداز ہونیکی کوشش

    لاہور:کینیا میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے کیس میں سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ کیس کی سماعت جاری ہے ارشد شریف کی والدہ نے بھئ سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے ۔ مبینہ اطلاعات کے مطابق ارشد شریف قتل کیس میں انکی والدہ کی جانب سے دی گئی درخواست انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے دباو میں آ کر دی

    رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے قتل کو سیاسی رنگ دینے کے حوالے سے بہت سی چیزیں سامنے آئی ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت کی طرف سے لیا جانے والا سوموٹوایکشن ایک سیاسی جماعت کے دباو کی وجہ سے ہے ،حالانکہ عدالت کوسوموٹو ایکشن نہیں لینا چاہیے تھا ، اس حال میں کہ حکومت کی طرف سے پہلے ہی ایک جے آئی ٹی کام کرہی ہے،

     

     

     

    ارشد شریف قتل کیس کا افسوسناک واقعہ 23/24 اکتوبر 2022 کو کینیا میں پیش آیا۔ اس واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا شروع کردیا تھا ،، جس کے نتیجے میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم تشکیل دی گئی جس نے واقعہ کے رونما ہونے کے بعد صرف 7 ہفتوں کے اندر روپورٹ جمع کرا دی

     

     

     

     

     

     

    حکومت پاکستان نے مناسب احترام اور برق رفتاری کے ساتھ ارشد شریف کی لاش کی منتقلی اور تدفین میں سہولت فراہم کی۔اورپھرچند دنوں میں جوڈیشل کمیشن آف انکوائری کی تشکیل کا اعلان کیا۔جہاں ایک طرف حکومت کام کررہی ہے وہاں دوسری طرف سرپم کورٹ  نے سوموٹو لیا اور دو دن سے سماعت جاری ہے عدالت نے کچھ اقدامات کا حکم دیا ہے جن کی فوری تعمیل کی گئی ہے علاقائی دائرہ اختیار کی قانونی خامیوں سے قطع نظر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ واقعہ کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھئ بن چکی ہے۔حکومت  مشکلات کے باوجود کیس کو حل کرنے میں مخلص ہے۔ تاہم عمران خان نے ایک غمزدہ ماں کے جذبات اور دکھ کو اپنے سیاسی حملے کو آگے بڑھانے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے ارشد شریف کے قتل کواستعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عمل میں حکومت پاکستان کی کوششوں، طریقہ کار کے قانون اور کیس کے حقائق کے ساتھ ساتھ ایک ممکنہ نتیجہ یہ سب کچھ عمران خان کے کچھ پاپولسٹ کی انا کی قربان گاہ پر قربان ہونے کا امکان ہے۔

     

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے ارشد شریف کے قتل کے واقعہ پر نوٹس لیتے ہوئے  درخواست کی سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی گئی جو زیادہ تر افواہوں پر مبنی ہے، اور قانونی لحاظ سے اس کے کوئی ثبوت نہین ہین ۔بظاہر، ایک سیاسی جماعت وزیر آباد کیس میں وہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو وہ نہیں کر سکی اور بظاہر اس عمل میں ارشد شریف کے قتل کو انجام تک پہنچانے کے لیے معروضی تحقیقات سے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    سابق آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی سی، اور آئی ایس پی آر کے ساتھ ساتھ سی ڈی وی کے دیگر افسران کی نامزدگی، بغیر کسی ثبوت کے، اداروں اور اس کے نتیجے میں خود ملک کو کمزور کرنے کی انتہائی بدنیتی پر مبنی مہم کا تسلسل ہے۔ ایک سیاسی جماعت نے   یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ریاست اور اس کے اداروں بشمول عدلیہ کی ساکھ کو مجروح کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔یہ بھی ایک قابل فکر بات ہے کہ ایف آئی آر میں ملزمان کون ہیں اس کے باوجود تفتیش کے طریقہ کار کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ جو کہ درج ذیل ہے:-

    FIR CrPC 154 کے تحت شروع کی گئی ہے۔ اس نے فوری کیس میں قانون کو حرکت میں لایا ہے اور ثانوی ایف آئی آر  میں قانونی رکاوٹ ہے۔تفتیشی افسر کے تحت تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ارشد شریف کی والدہ دیگر گواہوں کے ساتھ سی آر پی سی 161 کے تحت تفتیشی افسر کو اپنے بیانات دے سکتی ہیں اور دیں گی۔ اس کے بعد قانون کے ذریعہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ ملزمین کو شامل کرے۔جو لوگ ارشد شریف کے قاتلوں کا پتہ لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور انہیں سزا دینا چاہتے ہیں وہ تحقیقات میں مدد کریں گے، جبکہ جو لوگ اس معاملے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ اس پر سیاست کرکے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ میڈیا کے ذرایعے ٰایسے حقائق توڑ مروڑکرپیش کیے جائیں گے کہ جن سے اس کیس کے قانونی پہلووں پر اثرپڑے گا، ۔ بلکہ یہ خطرناک ثابت ہو گا جو عام طور پر قیاس آرائیوں/افواہوں سے رہنمائی کے لیے تحقیقات/شواہد سے چلتا ہے۔ اگر تحقیقات اس سیاسی جماعت کے سیاسی تھیٹروں اور اس پر پیدا ہونے والے دباؤ کی وجہ سے سامنے آئیں تو یہ ایک نظیر بن جائے گی اور ہمارے عدالتی نظام کا مذاق اڑے گا۔

    یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مقصد بظاہر آسان ہے کہ تفتیش کے عمل اور ہمارے عدالتی نظام کو اتنا متنازعہ بنایا جائے کہ عوام بڑے پیمانے پر دونوں سے غیر مطمئن ہو جائیں اور عمران خان کی  کی پالیسی سے اتفاق کریں۔ فوری کیس میں ہائی پاورڈ جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جس نے آزادانہ قتل کیس کی تحقیقات کرنی ہین ۔ دریں اثناء ارشد شریف کے آلات کی فرانزک جاری ہے اور اس لیے یہ ضروری ہے کہ اسے آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے اور اسے ایک مخصوص سیاسی جماعت اور اس کی میڈیا بریگیڈ کے غیر ضروری اثر و رسوخ سے بچایا جائے۔ اگرسپریم کورٹ کے حکم پر نامزد لوگوں کےخلاف تحقیقات کی اجازت دی جائے تو پھر اس کیس کو سیاسی فوائد کی خاطراستعمال کرنے والے اس سے سیاسی فائدہ اتھائیں گے، یہ ارشدشریف کے ساتھ خیرخواہی نہیں بلکہ اس کے قتل کوسیاسی رنگ دیا جائےگا جو کسی بھی طرح درست نہیں ، اس لیے سپریم کورٹ اس کیس کوکسی سیاسی جماعت کےدباومیں آکراس انداز سے تفتیش نہ کرے

  • ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    ارشد شریف قتل کیس،شفاف تحقیقات چاہتے ہیں سہولت کارکا کردارادا کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،پی ٹی آئی رہنما مراد سعید اور ڈی جی ایف آئی اے کمرہ عدالت میں موجود تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ نے رپورٹ جمع کرائی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی درخواست نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک صفحے پر مشتمل وزارت داخلہ کا جواب عدالت میں جمع کرا دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی میں 5ممبران ہیں اور ان کیساتھ سپورٹنگ ٹیم ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ سپورٹنگ ٹیم کو متعلقہ فنڈز بھی فراہم کئے جائیں، اس ٹیم کے ساتھ ہر قسم کی معاونت کی جائے گی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس کیس میں ہم انٹر پول سے بھی رابطہ کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں جے آئی ٹی کو کوئی انتظامی ایشوز نہیں آئیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹیم ارشد شریف کی والدہ سمیت تمام متعلقہ افراد جو اندرون اور بیرون ملک ہیں ،کے بیان ریکارڈ کریگی۔تفتیش ہر رخ سے کی جائے گی۔ اس کیس میں اہم پہلو کینین پولیس کا ہے ،ان کی وزارت خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کرینگے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔ سہولت کار کا کردار ادا کرینگے،اس کیس کے لئے ہم موجود ہیں۔اگر کینیا جانے کے لئے فنڈز جاری نہ ہوئے تو ہم حکومت سے بات کرینگے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو کینیا کے تین افراد کے ابتدائی رپورٹ میں نام آئے ہیں ان کو سمن کیا گیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان تینوں کے نام رپورٹ میں ہیں،جو ٹیم کینیا گئی تھی ان کے بیان ریکارڈ کئے تھے۔ اس میں کینیا کے اندر جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کرینگے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اس سپیشل جے آئی ٹی کی میٹنگ کب ہوگی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسپیشل جے آئی ٹی کی میٹنگ جلد ہوگی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہیں ،ہم یہ طے کرینگے کہ ہر پندرہ دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے۔ رپورٹ چیف جسٹس کے چیمبر میں جمع ہوگی،جواب میں بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈپلومیٹک میدان میں اس کیس پر کام کریگی۔ اس کیس میں قانونی پہلو اور میوچوئل لیگل اسسٹنس بھی لی جائے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسپیشل جے آئی ٹی پیش رفت کرکے بیان ریکارڈ کریگی، ثبوت اکٹھا کریگی۔ سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہیں،اس دوران جے آئی ٹی کو کوئی انتظامی پریشانی ہو تو وہ براہ راست تحریری طور پرآگاہ کریگی ،ہم امید کرتے ہیں کہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹس وقت پرجمع کرائیگی اور آئندہ سماعت سے پہلے تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائیگی۔

    ارشد شریف قتل کیس، اسپیشل جے آئی ٹی آئی قائم کردی گئی وفاقی حکومت نے نئی اسپیشل جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ میں پیش کردیا نئی اسپیشل جے آئی ٹی میں اسلام آباد پولیس اور آئی ایس آئی کے نمائندہ شامل ہیں،نئی اسپیشل جے آئی ٹی میں آئی بی اور ایف آئی اے کا نمائندہ بھی شامل ہے

    ارشد شریف قتل کیس، اسلام آباد پولیس نے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ،اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہےکہ ارشد شریف کی والدہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے گزشتہ روز رابطہ کیا گیا،ارشد شریف کی والدہ نے طبعیت ناسازی کےسبب بیان ریکارڈ نہیں کرایا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ کو عدالت میں زحمت پر ہم معذرت کرتے ہیں

    ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

     وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف قتل کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس کیس سیکریٹری خارجہ نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے