Baaghi TV

Tag: استعفیٰ

  • امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے استعفیٰ دے دیا

    امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے استعفیٰ دے دیا

    امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے امریکی صدر کی انتظامیہ اور محکمہ دفاع میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ ڈرِسکول نے اپنا استعفیٰ وائٹ ہاؤس کو بھیج دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے استعفیٰ منظور کیا ہے یا نہیں، ڈین ڈرِسکول کو فروری 2025 میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین سویلین عہدوں میں سے ایک، سیکر یٹری آف دی آرمی، مقرر کیا گیا تھا وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

    ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ان کے اختلافات کئی ماہ سے بڑھ رہے تھےرائٹرز کے مطابق ڈرِسکول ہیگسیتھ کے دور میں پینٹاگون سے الگ ہونے والے یا عہدوں سے ہٹائے جانے والے کئی اعلیٰ حکام میں تازہ ترین نام ہیں۔

    معاملے سے واقف ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈرِسکول نے امریکی انتظامیہ کے سامنے فوج میں تبدیلیوں اور جنگی تیاری سے متعلق خدشات اٹھائے تھے، ر پورٹ کے مطابق ڈرِسکول کا مؤقف تھا کہ فوج کو جدید بنانے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں، خاص طور پر ان جرنیلوں کو برطرف کیے جانے کے با عث جو ان کوششوں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔

    امریکی محکمہ فوج نے ڈرِسکول کے استعفے کی خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا یہ خبر سب سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کی تھی،تاہم وائٹ ہاؤس نے ڈین ڈرِسکول کے کام کی تعریف کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ایک بیان میں کہا کہ سیکریٹری ڈرِسکول نے محکمہ فوج میں صدر ٹر مپ کے ’امریکا کو دوبارہ مضبوط بنانے‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیاڈرِسکول نے تاریخی فوجی کارروائیوں کے دوران بہترین قیادت فراہم کی، فوج کی جنگی تیاری اور مؤثر کارروائی پر دوبارہ توجہ مرکوز کی اور روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی مدد کی۔

    امریکی فوج کے نائب انڈر سیکریٹری ڈیو فٹزجیرالڈ کے بھی استعفیٰ دینے کی توقع ہے فٹزجیرالڈ امریکی فوج میں جدت اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق امور پر کام کر رہے تھے، انہوں نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

    ڈین ڈرِسکول اور پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ امریکی فوج کو جدید بنانے کا معاملہ بھی بتایا جاتا ہے ڈرِسکول نے فوج پر زور دیا تھا کہ وہ کم قیمت اور جدید ہتھیار زیادہ تیزی سے حاصل کرے انہوں نے بڑی دفاعی کمپنیوں پر بھی سخت تنقید کی تھی ڈرِسکول نے گزشتہ برس بڑی دفاعی کمپنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دفاعی صنعت نے مجموعی طور پر، اور خاص طور پر بڑی کمپنیاں، امریکی عوام، پینٹاگون اور فوج کو دھوکا دیا۔

    ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہیگسیتھ ڈرِسکول کو محکمہ دفاع کے اندر اپنے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے تھے اور طویل عرصے سے انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے تاہم عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ڈرِسکول کے قریبی تعلقات کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل تھا۔

    ڈین ڈرِسکول نے اس دوران پینٹاگون سے باہر بھی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ماسکو اور کیف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شامل کیا تھا رائٹرز کے مطابق کسی امریکی آرمی سیکریٹری کے لیے اس نوعیت کا سفارتی کردار غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

    اپریل میں پیٹ ہیگسیتھ نے امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ میں مصروف تھا،امریکی عہدیدار کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی برطرفی نے ڈرِسکول کو حیران کر دیا تھا اور اس واقعے کے بعد ان کے اور ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے۔

    ڈرِسکول نے اپریل میں امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ جنرل جارج کی برطرفی کے بعد ان کا خاندان سابق جنرل کے گھر گیا اور انہیں گلے لگایابعد ازاں جون میں ہیگسیتھ نے یورپ میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی اعلیٰ فوجی افسران کی ترقی بھی روک دی تھی۔

    ریپبلکن رکن کانگریس پیٹ ہیریگن نے ڈین ڈرِسکول کے ممکنہ استعفے پر ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈرِسکول نے ایسے ادارے میں فوری تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا جہاں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈین کی ملک کے لیے خدمت ابھی ختم نہیں ہوئی۔

  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

    پشاور: ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفی دے دیا۔

    انعام یوسف زئی نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ارسال کر دیا ہے،محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم تاہم ذاتی وجوہات کی بنا پر مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا-

    انہوں نے اپنے دورِ ملازمت کے دوران تعاون پر وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اہم عہدے پر کام کرنے کا موقع ملا، جس پر وہ متعلقہ حکام کے شکر گزار ہیں دوسری جانب تاحال ان کے استعفے کی وجوہات یا حکومت کی جانب سے نئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

  • قومی اسمبلی سے استعفےکے بعد اختر مینگل کو ملنے والی تمام مراعات واپس

    قومی اسمبلی سے استعفےکے بعد اختر مینگل کو ملنے والی تمام مراعات واپس

    سردار اختر مینگل کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کے بعد انہیں والی تمام مراعات واپس لےلی گئیں۔

    سردار اخترمینگل نقومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو 78 لاکھ 92 ہزار روپے کا چیک بھجوادیا سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو این اے 256 خضدار سے استعفی دیا تھا، اسپیکرقومی اسمبلی نے استعفی 11فروری 2026کو منظورکرکے اسے 3 ستمبر 2اختر مینگل024 سے مؤ ثر قرار دیا،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی رقم چیک کی صور ت میں وصول ہونے کی تصدیق کردی۔استعفیٰ مؤثر ہونے کے بعد انہیں بطور رکن قومی اسمبلی ملنے والی تمام مالی مراعات اور سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔

  • ناکام احتجاج، سلمان اکرم راجہ پارٹی عہدے سے مستعفی

    ناکام احتجاج، سلمان اکرم راجہ پارٹی عہدے سے مستعفی

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پی ٹی آئی میں سیاسی اور تنظیمی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ پارٹی بشریٰ بی بی کی ضد کی وجہ سے مزید تقسیم ہو چکی ہے، عمران خان کی رہائی کے لئے احتجاج پی ٹی آئی کے گلے پڑ گیا، بشریٰ بی بی ڈی چوک سے فرار ہونے کے بعد سے ابھی تک خاموش ہیں.سلمان اکرم راجہ کو لاہور سے قافلہ لیکر اسلام آباد جانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،راستے بند ہونے کے بعد سلمان اکرم راجہ کی جانب سے لاہور میں ہی احتجاج کا پلان بنایا گیا تھا،سلمان اکرم راجہ لاہور میں بھی ورکرز کو نکالنے میں ناکام رہے تھے

    سلمان اکرم راجہ ایک معروف قانون دان ہیں۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور پارٹی کے اہم قانونی مشیر کے طور پر بھی کام کیا۔ ان کا استعفیٰ پارٹی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، کیونکہ وہ ایک اہم اور متحرک شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔تاہم 24 نومبر کو سلمان اکرم راجہ لاہور میں رہے اور اسلام آباد احتجاج کے لئے نہ نکلے، سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد نہ جانے پر کہا تھا کہ لاہور کے داخلی و خارجی راستے بند تھے اسلئے اسلام آباد نہیں جا سکا تھا

    سلمان اکرم راجہ کے استعفیٰ کے بعد پارٹی کارکنان کا بیرسٹر گوہر،حماد اظہر سے بھی استعفے کا مطالبہ
    دوسری جانب سلمان اکرم راجہ کے استعفیٰ کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے حماد اظہر سے بھی استعفیٰ مانگ لیا،ایک کارکن کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ نے عہدے سے استغفی دے دیا، ان حماد اظہر آپ بھی فوری استعفی دو

    ایک پی ٹی آئی کارکن نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو ایکس پر ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا آپ بھی خود ہی استعفیٰ دے دیں بیرسٹر گوہر، جیسے سلمان اکرم راجہ نے دیا !!میری سوچ سے بھی زیادہ بزدل ڈرپوک نکلے آپ !!

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر علی نے مستعفی ہونے سے متعلق خبروں کی تردید کردی کہا،پارٹی کا منتخب چیئرمین ہوں،مستعفی نہیں ہوا،میرے استعفیٰ سے متعلق خبریں گمراہ کن ہیں،کان نہ دھریں،

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • پی ٹی آئی نے  عمر ایوب کا استعفیٰ منظور کر لیا

    پی ٹی آئی نے عمر ایوب کا استعفیٰ منظور کر لیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے عمر ایوب کا بطور سیکرٹری جنرل استعفیٰ منظور کر لیا ہے،جس کے بعد سلمان اکرم راجہ کو سیکرٹری جنرل نامزد کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق عمران خان نے پارٹی کے پارلیمانی اور عملی سیاسی امور کو الگ کر دیا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز پارلیمانی ٹیم کو لیڈ کریں گے جبکہ سلمان اکرم راجہ بطور پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل ذمہ داریاں نبھائیں گے،اس کے علاوہ رؤف حسن کی سربراہی میں تھینک ٹینک تشکیل دیا جائے گا، رؤف حسن حکومتی کارکردگی پر وائٹ پیپر کا اجراء اور انتخابی معاملات بھی دیکھیں گے،دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سلمان اکرم راجہ کے بطور سیکرٹری جنرل نامزدگی کا علم نہیں۔

    عمر ایوب نے 27 جون کو سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد انہوں نے چیئرمین مرکزی فنانس بورڈ پی ٹی آئی کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا،عمران خان نے عمر ایوب کا بطور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی یہ استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

    عمر ایوب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نام تحریر کئے گئے میں کہا تھا کہ مئی 2023 سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دینا باعث اعزاز رہا، بےحد مشکور ہوں کہ آپ نے مجھ پر اعتماد کیا، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات کا موقع دیا گیا، شاندار سپورٹ پر سینیٹر شبلی فراز، کورکمیٹی اور تنظیمی ممبران کا شکر گزار ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا اس لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں، پی ٹی آئی کا ورکر بن کر کام کرتا رہوں گا، کارکن اسلام آباد جلسے کو کامیابی سے ہمکنار کریں،ان کے استعفے پر 22 جون 2024 کی تاریخ درج ہے۔

    سو جلسے کریں مگر 9 مئی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے،طلال چوہدری

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    پائلٹ بیمار،پرواز منسوخ،نائیجیرین گلوکار پھٹ پڑے

  • اختر مینگل نے استعفیٰ پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے،اسد قیصر

    اختر مینگل نے استعفیٰ پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف کے وفد کی اختر مینگل سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات ہوئی ہے

    وفد میں اسد قیصر عمر ایوب روف حسن و دیگر پارٹی قیادت شامل تھی،ملاقات میں سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا بھی شامل رہے،ملاقات کے بعد اسد قیصر نے پارلیمنٹ لاجز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل سے ملاقات کی ہے، پانچ بجے ہمارے اتحاد کا اجلاس ہے،اختر مینگل نے استعفیٰ پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے،

    دوسری جانب حکومتی رہنما رانا ثناء اللہ نے سردار اختر مینگل سے ملاقات کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل نے فوری استعفیٰ واپس لینے سے معذرت کرلی ہے،سردار اختر مینگل نے سیاسی جماعتوں کے وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی استعفی واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،جبرو تشدد، بلوچستان کے استحصال کا مسئلہ ہر حکومت میں اٹھایا،حکومت ریاست بلوچستان کے مسائل سمجھ نہیں پا رہی

    علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے اختر مینگل سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل سے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا حصہ رہیں، اختر مینگل نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کی بات کی ہے، اختر مینگل قانون اور آئین کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں،ہم نے اختر مینگل کے پاس ریویو پٹیشن دائر کردی ہے، اختر مینگل نے کہا ہے کہ ہماری ریویو پٹیشن پر غور کریں گے. امید ہے اختر مینگل ہماری نظرثانی کی درخواست منظور کریں گے،اختر مینگل نے جن تحفظات کا اظہار کیا وہ امانت ہیں، اختر مینگل کے تحفظات متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے،زیراعظم تمام پارٹی لیڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد آگے بڑھیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بی این کے سربراہ، رکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے اسمبلی رکنیت سےمستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میں آج اسمبلی سے استعفیٰ کا اعلان کرتا ہوں،میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکا، بلوچستان کے حالات دیکھ کر فیصلہ کر کے آیا تھا، میں ریاست، صدر اور وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اعلان کرتا ہوں، پورے نظام پر عدم اعتماد کر رہا ہوں

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

  • سیاست سے بہتر پکوڑے کی دکان،اختر مینگل اسمبلی سے مستعفی

    سیاست سے بہتر پکوڑے کی دکان،اختر مینگل اسمبلی سے مستعفی

    بی این کے سربراہ، رکن قومی اسمبلی اختر مینگل نے اسمبلی رکنیت سےمستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میں آج اسمبلی سے استعفیٰ کا اعلان کرتا ہوں،میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکا، بلوچستان کے حالات دیکھ کر فیصلہ کر کے آیا تھا، میں ریاست، صدر اور وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اعلان کرتا ہوں، پورے نظام پر عدم اعتماد کر رہا ہوں،بلوچستان کے معاملے پرلوگوں کی دلچسپی نہیں، میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکا، جب بھی اس مسئلے پربات کرو تو بلیک آؤٹ کردیا جاتا ہے، ملک میں صرف نام کی حکومت رہ گئی ہے، 65 ہزار ووٹرز مجھ سے ناراض ہونگے ان سے معافی مانگتا ہوں ،پاکستان میں سیاست سے بہتر ہے پکوڑے کی دکان لگالوں ،یہ نظام بلوچستان کا قاتل ہے،یہاں پر لوگ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں تو ان کو بھی نہیں بولنے دیا جاتا، آج جو آئین کی بات کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں آئین کے مطابق بات کرے گا ان سے بات کریں گے، کیا اسمبلی آئین کے مطابق نہیں؟ ہم تو اسمبلی میں بات کر رہے تھے، ہمیں اسمبلی میں بات نہیں کرنے دیتے، ایپکس کمیٹی کی میٹنگ کوئٹہ میں بلائی گئی، ہمیں بھی دعوت دی گئی، 75سالوں میں ہم آپ کو سمجھا رہے ہیں لیکن آپ کو سمجھ نہیں آرہا، بلوچستان کے حالات کی نشاندہی میں کئی سال پہلے کر چکا ہوں لیکن کسی کو پرواہ نہیں،خود اس ریاست سے، اداروں سے اور سیاسی جماعتوں سے میں مایوس ہو چکا ہوں، محمود خان اچکزئی اس امید سے ہیں کہ شاید ان کو اس پارلیمنٹ سے ان کو کچھ ملے گا، ہم نے اس ملک کے ہر ادارے کے دروازے کھٹکٹائے لیکن ہماری بات نا سنی گئی، ہم کہاں جائیں اور کس کا دروازہ بجائیں، آئین کے بنانے والے نا خود کو بچا سکے نا آئین کو بچا سکے، 4 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے تو اختر مینگل کے پاس آجاتے ہیں،جب ضرورت ہوتی ہے تو محمود خان اچکزئی کو تحفظ آئین کا چئیرمین بنا دیا جاتا ہے،

    بعد ازاں ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میرے والد سردار عطاء اللہ مینگل کی تیسری برسی کے موقع پر، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بطور رکن پارلیمنٹ استعفیٰ دیتا ہوں۔ میں، اختر مینگل، رکن قومی اسمبلی، بطور رکن پارلیمنٹ اپنے عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں۔بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارا صوبہ مسلسل اس ایوان کی جانب سے نظرانداز ہوتا رہا ہے۔ ہر روز، ہمیں دیوار سے مزید لگایا جاتا ہے، جس سے ہمیں اپنے کردار پر نظرثانی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ اس اسمبلی میں بلوچستان کے عوام کی حقیقی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے، میری طرح کی آوازیں بھی کوئی معنی خیز تبدیلی نہیں لا سکتیں۔یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے احتجاج یا اظہار رائے کو ہمیشہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے لوگوں کو یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے، غدار قرار دیا جاتا ہے، یا بدتر، قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں، میں اس صلاحیت میں مزید کام کرنا ناممکن سمجھتا ہوں، کیونکہ یہاں میری موجودگی میرے نمائندہ عوام کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں رہی۔لہٰذا، میں درخواست کرتا ہوں کہ میرے استعفے کو قبول کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ بلوچستان کی حفاظت فرمائے اور اسے خوشحال کرے۔

    اختر مینگل این اے 256 خضدار سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے،اختر مینگل گزشتہ پی ڈی ایم حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں، اختر مینگل عمران خان کی حکومت کا بھی حصہ رہ چکے ہیں.

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • چیئرمین ایف بی آر کا قبل وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

    چیئرمین ایف بی آر کا قبل وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

    چیئرمین ایف بی آر امجد زبیرٹوانہ نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے

    چیئرمین ایف بی آر نے عہدے سے سبکدوشی کے لیے حکومت کو دو ہفتوں کا نوٹس دے دیا ہے،امجد ٹوانہ نے اگلے برس 25فروری کو ریٹار ہوناتھاتاہم انہوں نے حکومت کو مراسلہ بھجوا دیا ہے جس میں انہوں نےکہا ہے وہ دو ہفتے بعد ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین ایف بی آر امجدزبیر ٹوانہ نے وزیر مملکت احدچیمہ کو بھی ملاقات میں زبانی طورپر آگاہ کردیا تھاکہ وہ ایف بی آر کی مزید سربراہی نہیں کرسکتے جس کے بعد اب انہوں نے وزیراعظم آفس کو بھی تحریری طورپر مطلع کردیاہے، امجد زبیر ٹوانہ کو پی ڈی ایم حکومت میں اس وقت کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے تعینات کیا تھا اور وہ موجودہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے قریب سمجھے جاتے ہیں

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کو مشکوک کال اور میسجیز موصول

    جسٹس طارق جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم ، غریدہ فاروقی،حسن ایوب،عمارسولنگی کو نوٹس

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • رشی سونک کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی

    رشی سونک کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی

    برطانیہ کے سابق وزیراعظم رشی سونک کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو گئے ہیں

    برطانوی میڈیا کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے نئے لیڈر کے انتخاب کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے ، اس ضمن میں آج سے 29 جولائی تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں، امیدواروں کو ووٹنگ کے پہلے دور کیلئے 10 ایم پیز کی حمایت درکار ہوگی جبکہ حتمی 2 امیدواروں میں کسی ایک کا انتخاب ووٹ سے مشروط ہوگا،کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ کا انتخاب آن لائن ووٹنگ سے کرایا جائے گا اور پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان 2 نومبر کو ہوگا،نئے لیڈر کے انتخاب تک رشی سونک قائم مقام کے طور پرکام کریں گے

    واضح رہے کہ برطانیہ میں عام انتخابات میں رشی کو شکست ہوئی تھی، رشی سونک نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ رشی سونک نے سر کیئر اسٹارمر کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔انتخابات میں شکست کے بعد 10ڈاؤننگ اسٹریٹ سے رشی سونک نے الوداعی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں، نیالیڈرآنے تک ذمے داری ادا کرتا رہوں گا،عوام کے غصے اور مایوسی کا احساس ہے، اس نقصان کی ذمے داری قبول کرتا ہوں، عوام نے واضح اشارہ دیا ہے کہ حکومت کو بدلنا ہوگا، ہم ڈیلیور نہیں کر سکے، وزیر اعظم بننے کے بعد میرا سب سے اہم کام معیشت میں استحکام بحال کرنا تھا، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور معیشت ترقی کر رہی ہے ملک اب مضبوط ہے،اپنی کامیابیوں پر فخر ہے ،برطانیہ 2010 کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہے

  • استعفیٰ دے دوں گا لیکن پریشر برداشت نہیں کروں گا، وزیراعظم شہباز شریف

    استعفیٰ دے دوں گا لیکن پریشر برداشت نہیں کروں گا، وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ استعفیٰ دے دوں گا لیکن پریشر برداشت نہیں کروں گا،

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ہیڈکوارٹر آمد ہوئی،وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ملک امجد زبیر ٹوانہ نے وزیرِاعظم کا استقبال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نےیادگار شہداء پہ پھولوں کی چادر چڑھائی۔

    ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ ایف بی آر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،ایف بی آر کی آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم نےویب بیسڈ ون کسٹمز سسٹم (WeBOC) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے فوری طور پر 2 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم کو ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی، وزیراعظم کو طویل مدتی ڈیجیٹائزیشن حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا،بتایا گیا کہ پاکستان کسٹمز کی تمام سروسز کی جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹائزیشن تیزی سے جاری ہے ،وزیراعظم کو ایف بی آر تاجر دوست موبائیل ایپلی کیشن کا پہلا مرحلے کی تکمیل پر بریفنگ دی گئی،ایف بی آر کی تاجر دوست موبائل ایپلی کیشن خود کار نظام پر مبنی جس میں گھر بیٹھے ٹیکس نظام میں رجسٹریشن سے لے کر ٹیکس جمع کروانے تک کا تمام عمل کی سہولت دی گئی ہے ،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس دینے کی صلاحیت رکھنے والے 49 لاکھ افراد کی نشاندہی کی گئی ہے ،وزیر اعظم نے ٹیکس بیس بڑھانے اور نشاندہی شدہ افراد کو فوری ٹیکس نیٹ میں لانے کی ہدایت کی،چیئرمین ایف بی آر کو کہا کہ فلور ملز ملز مالکان سے ملیں اور ان کے تمام جائز مسائل حل کریں.

    وزیراعظم شہبازشریف نے اس دوران اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی پریشر میں نہیں آؤں گا، استعفیٰ دے کر گھر چلا جاؤں گا،وزیراعظم شہبازشریف نے ایف بی آر افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سفارش قبول نہیں، کوئی ذاتی پسند نا پسند بھی نہیں ہے، قومی مفاد سب سے اوپر ہے، کوئی غلطی ہے تو درست کریں گے، چیئرمین ایف بی آر نے ڈیجیٹائزیشن پر چند دن پہلے سرپرائز دیا، 3 ماہ پہلے بتا دیتے تو سوچتے غیر ملکی فرم میکانزی کو لانا ہے یا نہیں؟،چیئرمین ایف بی آر کو پھر کہتے ہیں اب بھی کوئی سرپرائز ہے تو دے دیں، کوئی ایکشن نہیں لیں گے، لیکن اس کے بعد چھپن چھپائی کی تو برداشت نہیں کریں گے،میں کراچی گیا ،نیشنل شپنگ کارپوریشن،دس جہاز اور پانچ ارب کی تنخواہیں، کتنا ظلم ہے،بنگلہ دیش کے پانچ چھ سو جہاز ہیں، بھارت کے اس سے بھی زیادہ ہیں، کسی کو پرواہ نہیں ہے،اب ٹیکس کا نفاذ ان افراد پر کریں جو ایک دھیلے کا ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکس لینے کے نام پر تاجروں اور صنعت کاروں کو تنگ کرنے کی بھی اجازت نہیں دیں گے، نہیں چاہتا کہ آپ میری بدنامی کریں،

    ’سابقہ شوہر نہیں بتا سکتا کہ عدت اور خاتون کی ماہواری کے 3 سائیکل کب مکمل ہوئے‘

    عمران ،بشریٰ مجرم،،نکاح کی اتنی جلدی کیا تھی قوم کو وجہ تو بتادیں،خاور مانیکا

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان