Baaghi TV

Tag: استعفیٰ

  • ڈپٹی سپیکرقاسم سوری نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    ڈپٹی سپیکرقاسم سوری نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا استعفیٰ سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر کو موصل ہو گیاہے، یاد رہے کہ آج قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف ووٹنگ ہونا تھی ۔

    قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد پرووٹنگ آج ہو گی

    قاسم سوری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سےاستعفیٰ پارٹی کے وژن کے مطابق دیا ،پاکستان کی خودمختاری اورسالمیت پرکبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے،ملکی مفادات اورآزادی کیلئے لڑیں گے،ملک کی آزادی کی تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے-

    سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ قاسم سوری نے آج استعفیٰ دے دیا ہے بحیثیت ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نےبیرونی سازش کا مقابلہ کیا ، قاسم سوری نے ایوان میں جو دلیرانہ فیصلہ دیا وہ تاریخ کا حصہ ہے،تاریخ قاسم سوری کو دلیر اور وفادار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی بحیثیت کارکن تحریک انصاف کو قاسم سوری پر فخر ہے

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے جمع کروائی تھی-

    تحریک عدم اعتماد کے متن میں کہا گیا تھا کہ ڈپٹی سپیکر نے 3 اپریل کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ دی ، ان کی رولنگ کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا، انہوں نے دانستہ طور پر آئین کو سبوتاژ کیا۔

    متن میں مزید کہا گیا تھا کہ قاسم سوری نے ایوان چلاتے ہوئے بدترین مثال قائم کی، انہوں نے آئینی شقوں کی خلاف ورزی کی اور حکومت کی حمایت میں متعصبانہ رویہ اپنایا۔

  • خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا اعلان کیا تو کپتان کے کھلاڑی مراد سعید نے دیر نہ لگائی، کپتان کے ایک اشارے پر فوری اپنا استعفیٰ ٹویٹ کر دیا،کپتان کے کھلاڑی مراد سعید نے قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا

    سابق وزیر مواصلات نے مراد سیعیدنے استعفیٰ کی کاپی بھی شئیر کردی، مراد سعید نے ساتھ پیغام میں کہا کہ جن کی حرصِ زر، ہوس اقتدار نے میری قوم کو “بھکاری” بنایا۔ جن کی غلامانہ زہنیت نے میرے گھروں کو مقتل گاہ، میرے لوگوں کو پناہگزین میری ماں کو زندہ درگور کردیا میں ان کو اس ملک کا سربراہ مانوں؟ absolutely not یہ فیصلہ فقط میرا نہیں میرے ملک کی ۲۲ کروڑ عوام کا بھی ہے

    تحریک انصاف کی رکن عالیہ حمزہ نے بھی استعفیٰ دے دیا پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان استعفے لے کر ایوان میں آ گئے ایم این اے شاہد خان نے اپنا استعفیٰ ایوان میں لہرادیا ،شاہد خان کا کہنا تھا کہ این اے 34 کرک سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوا،فرخ حبیب نے قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا فر خ حبیب نے استعفیٰ کی کاپی ٹوئٹر پر شئیر کردی اور کہا کہ قومی اسمبلی کی نشست عمران خان کی امانت ہے ،ملکی سالمیت،خودمختاری اور قومی غیرت کے لیے ہزاروں نشستیں قربان،پی ٹی آئی رہنما علی حیدر زیدی نے بھی استعفیٰ کی کاپی ٹوئٹر پر شئیر کردی اور کہا کہ کسی بھی طرح غیر ملکی فنڈڈ حکومت کی تبدیلی کو قبول نہیں کرتے،پاکستان کی خودمختاری کی جنگ کا فیصلہ لٹیروں نے نہیں عوام سڑکوں پر کریں گے،شفقت محمود نے کہا کہ آج قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا کہا اسمبلی میں بیٹھ کر ان لٹیروں کی سازشوں کو جائز قرارنہیں دے سکتا،،شیریں مزاری نے بھی استعفی ٰکی کاپی ٹوئٹر پر شیئر کردی تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جے پرکاش نے بھی رکنیت استعفیٰ دے دیا

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم استعفے دے رہے ہیں ،قبول نہ ہوئے تو دیکھ لیں گے عمران خان نے تین دفعہ میری تعریف کی ہے سب متفقہ طور پر استعفے دے رہے ہیں،یہ عمران خان کا فیصلہ ہے شہبازشریف کی کرپٹ حکومت کونہیں چلنے دیں گے ،عمران خان نے استعفوں کے میرے فیصلے کی تعریف کی عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کا فیصلہ درست تھا، بدھ کو پشاور جارہے ہیں ،ہر اتوار کو احتجاج کی کال دیں گے،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم کسی صورت اس اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے، مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ اس لئے کر رہے ہیں کہ اداروں پر پریشر رہے ، ایک بیرونی سازش سے بنائی گئی یہ امپورٹڈ حکومت ہم نہیں مانتے ،کوئی میرے ساتھ استعفی دے یا نہ دے، میں اکیلا مستعفی ہو جاؤں گا،میں ان چوروں کے ساتھ اسمبلی میں نہیں بیٹھوں گا جس آدمی پر کرپشن کیسز ہیں اسے وزیراعظم منتخب کرنا ملک کی توہین ہے

    علی نواز اعوان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر استعفیٰ دیں گے،

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ کون سا انتخاب کون سا قائد ایوان ، گزشتہ رات قوم نے سب ختم کردیا تمام سازشیں ناکام ہوگئی ہیں میں مستعفی ہونے کے حق میں ہوں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی سے مستعفی ہونگے،،یہ جعلی حکومت بنانا چاہتے ہیں،

    سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ مقصود چپڑاسی کی حکوت قبول نہیں کر سکتے صوبائی اسمبلیوں سے بھی استعفٰی دیں گے،پورے ملک میں الیکشن ہوں گے،پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے،آج تمام اراکین اسمبلی اپنا استعفیٰ اسپیکر کو دے رہے ہیں غیر ملکی ایجنڈے پر ہونیوالے مقصود چپڑاسی کے نام نہاد انتخاب کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ،ہم آزادی کیلئے لڑیں گے،

    فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ وزارت عظمیٰ کے انتخاب سے پہلے استعفے دینگے وزارت عظمیٰ کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے،پارلیمانی پارٹی نے فیصلے کا اختیار دیا ہے ڈپٹی اسپیکر بھی استعفیٰ دے رہے ہیں ڈپٹی اسپیکر استعفے منظور کرنے کے بعد استعفیٰ دیں گے شہباز گل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا میں اکیلا بھی رہ جاؤں پھر بھی استعفیٰ دوں گا،فرح حبیب کا کہنا تھا کہ ہم اسمبلیوں میں نہیں بیٹھیں گے ،ہم شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں،یہ حکومت نیب کوبند کرے گی امپورٹڈ حکومت کی وقعت ختم ہوگئی ہے

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    عمران خان منتخب وزیراعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں،عدالت

    وزیراعظم کا انتخاب، تحریک انصاف کی اراکین کو ہدایات جاری

    اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

  • عمران خان، اللہ حافظ، معاون خصوصی نے استعفیٰ بھجوا دیا

    عمران خان، اللہ حافظ، معاون خصوصی نے استعفیٰ بھجوا دیا

    عمران خان، اللہ حافظ، معاون خصوصی نے استعفیٰ بھجوا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی کوشش رائیگاں، خواہشیں بھی دم توڑنے لگ گئیں،وزیراعظم کے معاون خصوصی عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے

    جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور بلوچستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، شاہ زین بگٹی نے گزشتہ روز استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا آج انہوں نے اپنا استففیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوا دیا ہے،جس میں انہوں نے لکھا کہ میں بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی اپنے عہدے سے استعفی دیتا ہوں
    استعفی سے متعلق ضروری اقدامات کئے جائیں، شاہ زین بگٹی کی گزشتہ روز بلاول سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”477391″ /]

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کہ شاہ زین بگٹی نے بہادرانہ فیصلہ کیا ہے وزیر اعظم اور اس کی حکومت کااپنے اتحادیوں سے سلوک افسوسناک ہے عمران خان صاحب نے اتحادیوں کو دھوکہ دیا،بلوچستان کے ایشوز بہت پیچیدہ ہیں بلوچستان کے عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیاہمیں ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے مل کے محنت کرنا ہوگی-چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ دوسرے اتحادیوں سے ہماری اور دوسری جماعتوں کی ملاقاتیں جاری ہیں، اتحادی فیصلے کر چکے ہیں، اب وزیراعظم کا وقت ختم ہو چکا ہے اب سرپرائز کا وقت ختم ہوچکا پاکستانی عوام جانتے ہیں وہ کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوں گے ہمیں ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے مل کر محنت کرنا پڑے گی

    واضح رہے کہ شاہ زین بگٹی کو وزیراعظم نے بلوچستان کے حوالہ سے معاون خصوصی مقرر کر رکھا تھا،

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، اپوزیشن نے اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات دے دیں

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    شاہ زین بگٹی کو ملی سپریم کورٹ سے بڑی کامیابی

  • عمران خان کو ہٹانے کے بعد نئے شفاف انتخابات کروانا ہونگے ، بلاول

    عمران خان کو ہٹانے کے بعد نئے شفاف انتخابات کروانا ہونگے ، بلاول

    عمران خان کو ہٹانے کے بعد نئے شفاف انتخابات کروانا ہونگے ، بلاول
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا ہے کہ کراچی سے اسلام آباد تک احتجاجی مہم چلانی ہے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ 37شہروں سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے،3مارچ سے رحیم یار، بہاولپور سے ہوتے ہوئے ملتان پہنچیں گے،4مارچ کو ملتان سے روانہ ہوں گے،5مارچ کو ہم لاہور پہنچیں گے،8مارچ کو راولپنڈی سے اسلام آباد روانہ ہوں گے، وزیراعظم استعفیٰ دے یں تو عدم اعتماد اور لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہوگی، پاکستان میں جمہوریت کا جنازہ نکالاگیا، معیشت کو تباہ کردیا گیا ،پاکستان کے معاشی حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے ہیں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے،پیپلزپارٹی عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرے گی،چاہتے ہیں کہ تمام صوبوں کو ان کا حق دیا جائے، صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ سے محروم رکھا جارہا ہے،عمران خان کا ہر وعدہ جھوٹا اور دھوکا نکلا،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور نظام غیر جمہوری ہے، ہم جمہوری راستہ اپنائیں گے،ہمارا عوامی مارچ غیر جمہوری حکومت پر جمہوری حملہ ہے،عوام کا سلیکٹڈ وزیراعظم سے اعتماد اٹھ چکا ہے،پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، حکومت کی نالائقی کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہے ہیں عدم اعتماد لا کر چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف اتنخابات کرائے جائیں، عمران خان کو ہٹانے کے بعد جو بھی سیٹ اپ آئے گا شفاف انتخابات اس کی ذمہ داری ہو گی،سینیٹر تاج حیدر نے ایک رپورٹ تیار کی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انتخابات میں دھاندلی کی گئی،ہماری نیت صاف ہے ہمارے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہے،چاہتے ہیں کہ جلد از جلد صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں، میں نوجوانوں سے ، کسانوں سے، مزدوروں سے، خواتین سے ، ہر پاکستانی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس غاصب حکومت کے خاتمے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں اور ہماری آواز بنیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے ساڑھے تین سال کے دوران تبدیلی کے نام پر تباہی مچائی ہے،عمران خان اب بھی دھاندلی کرنا چاہتے ہیں،پیکا آرڈیننس اور ای وی ایم کا معاملہ سب کے سامنے ہے،پی ڈی ایم اور ہماری جماعت میں ایشوز پر بات چیت جاری ہے، عدم اعتماد سے متعلق تمام پارٹیوں سے بات چیت جاری ہے، اس وقت ہمارا فوکس عمران خان ہے،امید ہے ادارے نیوٹرل رہیں گے اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہی تو عمران خان اعتماد نہیں جیت سکے گا احتجاج اور عدم اعتماد جمہوری ہتھیار ہیں جیسے ہم استعمال کرنے جارہے ہیں سب ادارے آئین کے اندر رہیں عمران خان غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال نہ کرے تو عدم اعتماد کامیاب ہوگی ہم سمجھتے ہیں آئین کے مطابق سارے ادارے نیوٹرل رہیں گے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جو حشر اس ملک کا اس حکومت نے کردیا ہے ہم بھی سمجھتے ہیں اگلی حکومت فریش مینڈیٹ سے بنے مگریہ فیصلے اکیلے نہیں ہو سکتے سب کو ملکر آپس میں مشورہ کرکے کرنے ہونگے اکیلی سوچ کچھ نہیں کرسکتی اسوقت ہمارا ٹارگٹ عمران خان ہے جیسے جلد از جلد گھر بھیجنا ضروری ہے

    صحافی نے بلاول زرداری سے سوال کیا کہ کیا کوئی ٹیلی فون آرہے ہیں،جس پر بلاول زرداری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ہمیں کوئی ٹیلی فون نہیں آئے،خان صاحب نے ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا ہے لیکن عدم اعتماد پر کوئی ٹیکس نہیں ہے ،ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم اپنی پوری کوشش کریں گے. ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بی بی شہید نے بھی احتجاج کیا تھا،دھرنے اور حملے کے بجائے جمہوریت بہترین انتقام ہے، عدم اعتماد حکومت سے نجات کا واحد قانونی و آئینی راستہ ہے،چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن مزید طاقتور ہو، تاج حیدر کی تیار کردہ رپورٹ تفصیلی ہے،مناسب ہے کہ الیکشن کمیشن خود اس رپورٹ پر ایکشن لے، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم دوسرے آپشن استعمال کریں گے،سلیکٹڈ حکومت اپنے ناجائز راج کو برقرار رکھنے کیلئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کرنے کیلئے تیار ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جس کا حق ہے انہیں وزیراعظم بننے دیں، پاکستان کو بچانے کیلئے پیپلزپارٹی ہر قربانی دینے کو تیار ہے، اپوزیشن کی بڑی پارٹی کو وزیراعظم کیلئے اپنا امیدوار نامز د کرنے دیں،مناسب نہیں ہو گا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے نام پر لڑیں، جمہوری طریقہ یہی ہے کہ بڑی جماعت وزیراعظم کیلئے اپنا امیدوار نامزد کرے،ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کسی بھی پارٹی کا پرچم اتارا جائے،ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے تمام جماعتوں سے ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہیں،عمران خان رہے تو جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار ایم کیو ایم و دیگر سہولت کار ہوں گے،

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    آصف زرداری،ایم کیو ایم وفد کی ملاقات کے بعد اسد قیصر بھی چودھری پرویز الہیٰ سے ملنے پہنچ گئے

    خبروں میں اِن رہنے کا فن، فردوس عاشق اعوان نے اپنی ویڈیو لیک کر دی

    فردوس عاشق اعوان کے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ کے ساتھ ہتک آمیز رویے کی وجہ سامنے آگئی ، حکومتی وزراء بھی حمایت میں بول اٹھے

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    فردوس عاشق اعوان کسی نئے سیاسی منظر نامے کی منتظر

    بہتری کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرینگے،اتحادی جماعت حکومتی کشتی سے اترنے کو تیار

    جو ملک کے مفاد میں ہوگا وہ کریں گے،چودھری پرویز الہیٰ

    اک زرداری سب پر بھاری، بلاول ہاؤس لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

  • وزیراعظم بورس جانسن کودھچکا،4 قریبی ساتھی مستعفی

    وزیراعظم بورس جانسن کودھچکا،4 قریبی ساتھی مستعفی

    لندن: وزیراعظم بورس جانسن کوبڑا دھچکا،4 قریبی ساتھی مستعفی ،اطلاعات کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے پر تنازع میں گھرے طانوی وزیراعظم بورس جانسن کے چیف آف اسٹاف سمیت 4 قریبی ساتھیوں نے استعفیٰ دے دیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن میں پارٹی کرنے پرشدید تنقید کا نشانے بننے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے4 قریبی اورقابل اعتماد ساتھیوں نے استعفیٰ دے دیا۔

    برطانوی وزیراعظم کے ساتھ 14 سے کام کرنے والی پالیسی چیف منیرہ مرزا نے اپوزیشن لیڈرسر کئیراسٹارمرسے متعلق بورس جانسن کے بیان پراستعفی دیا۔
    بورس جانسن نے اپوزیشن لیڈر سرکئیراسٹارمرپرجنسی جرائم میں ملوث برطانیہ کے مشہورٹی وی اورریڈیو میزبان جمی سوائل پرمقدمہ نہ چلانے کا الزام عائد کیا تھا۔

    برطانوی وزیراعظم کی ہیڈ آف پالیسی منیرہ مرزا، چیف آف اسٹاف ڈین روزنفیلڈ، پرنسپل پرائیوٹ سیکریٹری مارٹن رینلڈز اور کمیونیکیشن ڈائرکٹرجیک ڈوئیل شامل ہیں۔

    وزیراعظم بورس جانسن کے چاروں قریبی ساتھیوں نے اس تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دیا جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم نے کورونا لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے متعدد مرتبہ پارٹیاں منعقد کیں۔

    برطانوی وزیراعظم کو کورونا پابندیوں کے دوران سرکاری رہائش گاہ پرپارٹیاں کرنے کے باعث شدید دباؤ اورتنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن کے علاوہ ان کی اپنی کنزرویٹوپارٹی کے کچھ رہنما بھی بورس جانسن سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔بورس جانسن پارٹیاں منعقد کرنے پرپارلیمنٹ میں معافی بھی مانگ چکے ہیں۔

  • پارٹی قیادت کو بھیجا گیا استعفیٰ اب واپس نہیں لوں گا،یوسف رضا گیلانی

    پارٹی قیادت کو بھیجا گیا استعفیٰ اب واپس نہیں لوں گا،یوسف رضا گیلانی

    اسلام آباد: سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھیج دیا ہے اور میں استعفیٰ واپس نہیں لوں گا، میں نے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے "ہم نیوز” کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میرا تعلق میری پارٹی کے ساتھ ہے اور مجھے یہ عہدہ پارٹی نے دیا تھا سینیٹ میں بل کی منظوری کی ذمہ داری چیئرمین پر عائد ہوتی ہےچیئرمین سینیٹ نے خود بل کے حق میں ووٹ دیا حالانکہ چیئرمین سینیٹ ہاوس کا کسٹوڈین ہوتا ہے حکومت کا نہیں۔

    وزیر اعلیٰ کی کے یو جی گروپ کے نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباد

    سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے استفسار کیا کہ بل کو انہیں خفیہ رکھنے کی ضرورت کیا تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہاوس میں بھی کہا تھا کہ اس کا کریڈٹ چیئرمین کو ملنا چاہیے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں نے پوری زندگی پارٹی کے لیے قربانی دی ہے، میں نے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے پیپلزپارٹی نے کوئی ڈیل نہیں کی، اگر ڈیل کی ہوتی تو میں چیئرمین سینیٹ ہوتا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 16 ممبرز ہمارے ایسے ہیں جنہوں دھوکہ دیا –

    بہت مبارک ہو،انجام کا آغاز ہو چکا،مریم نواز

    سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کے لیے انہیں سپورٹ ملی تھی، ہر ایم این اے کو فنڈز دیئے گئے تھے۔

    واضح رہے کہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے دیا جانے والا استعفیٰ مسترد کردیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کی جمہوریت کے لیے خدمات روشن مثال ہیں انہوں نے ایوان میں یوسف رضا گیلانی کے بیان کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے حکومت سے ملی بھگت کر کے بل منظور کرایا۔

    بریکنگ،ایوان سے ایک اور بڑا استعفیٰ آ گیا

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس کے نمائندگان خود کا احتساب کرتے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے ہمیشہ جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔

    واضح رہے کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے بطور اپویشن لیڈر اپنا استعفیٰ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو جمع کرا دیا ہے انہوں ںے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نہیں رہنا چاہتا اس لیے اپنا استعفی پارٹی قیادت کو جمع کرا دیا ہے میں اپنے مخالفین کے سخت الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے ہمدردوں کی خاموشی سے پریشان ہوں۔

    شہبازشریف بھی باہرجانے کی اجازت کی شرط پر استعفے کی پیشکش کرچکے ہیں،شہباز گل کا دعویٰ

    سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہونے کے باوجود ایوان بالا میں اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا حکومتی بل پاس ہونے پر سید یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے سابق وزیراعظم جمعہ کے دن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے اور حکومتی بل ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور ہو گیا تھا۔

    وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی

    سینیٹ میں جب حکومتی بل پیش کیا گیا تھا تو چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اپنا ووٹ حکومتی بل کے حق میں استعمال کیا تھا کیونکہ گنتی میں دونوں جانب کے ووٹ برابر ہو گئے تھے۔سید یوسف رضا گیلانی نے اجلاس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اسٹیٹ بینک کا بل پیش کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی طرف سے اپنی پارٹی کے سینیٹرز کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ سینیٹ کا اجلاس 28 جنوری کو ہو رہا ہے آپ شریک ہوں۔ انہوں ںے کہا کہ اس میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ اس میں اسٹیٹ بینک کا بل پیش ہوگا اگر ساکھ والے وزرا ان پر تنقید کریں تو انہیں قبول ہے لیکن اگر ایسے لوگ جن کی ساکھ نہیں ہے اور جو پارٹی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں وہ کہیں کہ میں نے حکومت کی مدد کی ہے تو بات نہیں بنتی۔

    اے این ایف کی کاروائی، برطانیہ اسمگل کیلئے روٹی کے بیلنوں میں چھپائی منشیات برآمد

    انہوں ںے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ چئیرمین صاحب! آپ کے ووٹ سے حکومت جیتی ہے کریڈٹ آپ کو ملنا چاہیےاور دھاندلی نہیں ہونی چاہیے میں جب وزیراعظم تھا تو آئین کے تحفظ کے لیے صدر کے خلاف خط نہیں لکھا کیونکہ وہ پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے قانون کے مطابق عمل کیا اور وزارت عظمیٰ چھوڑ دی تھی۔

  • بریکنگ،ایوان سے ایک اور بڑا استعفیٰ آ گیا

    بریکنگ،ایوان سے ایک اور بڑا استعفیٰ آ گیا

    بریکنگ،ایوان سے ایک اور بڑا استعفیٰ آ گیا

    چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا

    سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رات گئے سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کرنا مناسب نہیں تھا، ہمیں معاملات پربات کرنے کا موقع ملنا چاہیے تھا، ووٹنگ کے بعد 30 منٹ کے بعد سینیٹ اجلاس ملتوی کیا گیا چیئرمین کا کردارغیر جانبدارہونا چاہیے ،چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کسٹوڈین ہوتے ہیں حکومت کے نہیں، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کا کردار متنازعہ نہیں ہونا چاہیے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ چیئرمین نے اپوزیشن کی بجائے حکومت کا ساتھ دیا،

    یوسف رضا گیلانی کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان کا شور، چیئرمین سینیٹ نے خاموش رہنے کی ہدایت کی ،یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک بل کے معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا،بل کو کمیٹی کو بھی نہیں بھجوایا گیا،کمیٹیاں پارلیمانی روایات کیلئے ہی بنائی گئی ہیں، سینیٹ اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین کو ووٹ دینا پڑابطور غیر جانبدار چیئرمین کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا،بھیجے گئے پیغام میں یہ نہیں تھا کہ اسٹیٹ بینک کا بل پیش کیا جائے گا،میڈیا میں چلتا رہا کہ شائد ہمیں معلوم تھا کہ بل کل آنا ہے۔

    اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی پارٹی کو بطور اپوزیشن لیڈر استعفیٰ دے دیا ہے ،جب وزیراعظم تھا تو میں آئین کا تحفظ کیا،مجھے سوئس حکام کو خط لکھنے کا کہا گیا مگر میں نے نہیں لکھا، اپوزیشن لیڈر نہیں رہنا چاہتا ،اپنی پارٹی کو استعفیٰ بھجوا دیا، صدر وفاق کی علامت ہے، صدر کو تحفظ حاصل ہے،

    یوسف رضا گیلانی نے اپنی غیر حاضری سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہونے میں سہولت کاری پر اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ جبکہ قائدایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے قومی مفاد میں قانون سازی میں معاونت پر یوسف رضا گیلانی کا شکریہ ادا کیا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے یوسف رضا گیلانی کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضاگیلانی شریف آدمی ہیں،استعفیٰ بلاول کا بنتاہے،زرداری کے کہنے پر پیپلزپارٹی کے سینیٹرز تشریف نہیں لائے،استعفیٰ ان کا بھی بنتا ہے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنما لیڈرشپ کے کرتوتوں سے پریشان ہیں،ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں تبدیلیوں کا سفر خوش آئند ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ استعفیٰ کی بات کرنا بھی کھیل ہے جو کھیلا جارہا ہے ہ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہیں ایجنڈے کی بروقت اطلاع نہیں ملی لیکن ان کے آفس سے اطلاعات ملی ہیں کہ دو روز پہلے انہیں معلومات آ گئی تھی کہ اہم بل آرہا ہے یوسف رضا گیلانی استعفی واپس لے لیں گے اس پر قائم نہیں رہیں گے،

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

    حفیظ شیخ کوہٹانے کی وجہ مہنگائی نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے:جس کے تانے بانے کہیں اورملتے ہیں‌

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

  • شہزاد اکبر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، اسمبلی میں قرارداد جمع

    شہزاد اکبر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، اسمبلی میں قرارداد جمع

    شہزاد اکبر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، اسمبلی میں قرارداد جمع

    شہزاد اکبر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے

    قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہزاد اکبر پر براڈ شیٹ اسکینڈل میں بڑی رقم وصولی کا الزام ہے،تمام اپوزیشن رہنما عدالتوں سے سرخرو ہوئے ہیں وزیراعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،شہزاد اکبر نے احتساب کے نام پر انتقام کو لیڈ کیا شہزاد اکبر اپوزیشن رہنماﺅں پر بنائے مقدمات جھوٹ کاپلندہ ثابت ہوئے ہیں

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے کہا ہے کہ لگتا ہے کرپشن روکنے یا ختم کرنے میں شرمناک ناکامی کا ملبہ بھی کسی وزیر یا مشیر پر ڈالنے کا پلان تیار تھا! شہزاد اکبر کا استعفی نااہل وزیراعظم اپنی روایت پر قائم رہتے ہوئے کوئی نہ کوئی قربانی کا بکرا ڈھونڈ ہی لیتے ہیں!

    سابق وزیراعظم، ن لیگ کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر بتا دیں انہیں عمران خان نے نکالا ہے یا استعفیٰ دیا ؟ ساڑھے 3 سال بعد پتہ چلا بچہ نالائق تھا اسے نکال دیا شہزاد اکبر اپنی ساڑھے 3 سال کی کارکردگی سے آگاہ کریں کوئی کہتا ہے وزیراعظم نے شہزاد اکبر کو چارج شیٹ کر دیا، شہزاد اکبر بڑا کہا کرتے تھے ثبوتوں کے بکسے بھرے ہیں کبھی لندن جا رہے ہیں کبھی آ رہے ہیں، ایک فوج ہے جس کا کام صرف پریس کانفرنسز کرنا ہے کونسی وزارت ہے جس میں سینکڑوں اربوں کا اسکینڈل نہیں ہے

    واضح رہے کہ شہزاد اکبر نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا جسے وزیراعطم عمران خان نے منظور کر لیا،شہزاد اکبر کے استعفے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین کی جانب سے مسلسل اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شہزاد اکبر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،شہزاد اکبر کے حوالہ سے تحریک انصاف کے اندر بھی تشویش پائی جاتی تھی کہ شہزاد اکبر احتساب کے مشیر بنا دیئے گئے اور بلند و بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں لیکن ابھی تک کسی کا کوئی احتساب نہیں ہوا، نہ ہی کسی سے کوئی برآمد گی ہوئی، شہزاد اکبر نے چند روز قبل بھی لاہور میں شریف فیملی کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

    حفیظ شیخ کوہٹانے کی وجہ مہنگائی نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے:جس کے تانے بانے کہیں اورملتے ہیں‌

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    استعفیٰ کافی نہیں، شہزاد اکبر کی نااہلیوں پر مقدمہ درج کیا جائے، مبشر لقمان

  • شہباز گل نےشہزاد اکبر کے استعفیٰ دینےکی وجہ بتا دی

    شہباز گل نےشہزاد اکبر کے استعفیٰ دینےکی وجہ بتا دی

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سابق مشیر داخلہ احتساب شہزاد اکبر کے عہدہ چھوڑنے کی وجہ بتا دی۔

    باغی ٹی وی : معاون خصوصی شہباز گل نے شہزاد اکبر کے عہدہ چھوڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ شہزاد اکبر یا تو کام کر کے تھک گئے ہوں گے یا انہیں کوئی اور اچھا موقع مل رہا ہوگا۔

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہباز گل نے کہا کہ ہو سکتا ہے شہزاد اکبر اپنی موجودہ ذمہ داری سے خود خوش نہ ہوں، بہت سے امکانات ہیں، اس بارے میں بہتر رائے شہزاد اکبر خود دے سکتے ہیں

    استعفیٰ قبول ہوگا یا نہیں، فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے، شہزاد اکبر کو پارٹی میں اہم ذمہ داری ملنے والی ہے، شہزاد اکبر سیاسی طور پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں جا رہے ہیں۔

    جبکہ معاون خصوصی احتساب و مشیر داخلہ شہزاد اکبر کے استعفے کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا، مافیا کے خلاف ان کا کام قابل تعریف ہے، اب وہ جانا چاہتے تھے-

    استعفیٰ کافی نہیں، شہزاد اکبر کی نااہلیوں پر مقدمہ درج کیا جائے، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا ہے شہزاد اکبر نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوایا ہے اور خود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس بات کی تصدیق کی ہے شہبزاد اکبر کا کہنا تھا کہ میں نے بطور مشیر اپنا استعفیٰ آج وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق احتساب کا عمل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جاری رہے گا۔ میں پارٹی سے وابستہ رہوں گا اور ممبر کی حیثیت سے اپنا حصہ ڈالتا رہوں گا۔

    شہباز شریف کا مقدمہ براہ راست نشر ہونا چاہیے، فواد چوہدری

    واضح رہے کہ شہزاد اکبر کے حوالہ سے تحریک انصاف کے اندر بھی تشویش پائی جاتی تھی کہ شہزاد اکبر احتساب کے مشیر بنا دیئے گئے اور بلند و بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں لیکن ابھی تک کسی کا کوئی احتساب نہیں ہوا، نہ ہی کسی سے کوئی برآمد گی ہوئی، شہزاد اکبر نے چند روز قبل بھی لاہور میں شریف فیملی کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ شہزاد اکبر مستعفی ہو گئے انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے، شہزاد اکبر سے براڈ شیٹ اور برطانیہ میں کی گئی ادائیگییوں کی تحقیقات ہونیا چاہئے-

    فیصلہ کرلیا،اسلام آباد ہر حال میں جائیں گے،بلاول کا کسان مارچ سے خطاب میں اعلان

    18 جنوری کو کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نوازشریف کی واپسی سے متعلق سوال اٹھایا تھا جس پر شہزاد اکبر نے نواز شریف کی واپسی کو مشکل قرار دیا تھا وزیراعظم عمران خان شہزاد اکبر کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے ،اگر شہزاد اکبر استعفیٰ نہ دیتے تو وزیراعظم عمران خان انہیں گھر بھجوا سکتے تھے، شہزاد اکبر نے دوستوں سے مشاورت کے بعد استعفیٰ دیا-

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ نے شہزاد اکبر کے استعفے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل یہ بات کی تھی،کیا شہزاد اکبر سے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کرنے کا حساب لیا جائے گا؟ ایسٹ ریکوری یونٹ نے قوم کے اربوں روپے خرچے اور نتیجہ کچھ نہ نکلا شہزاد اکبر قومی مجرم ہیں، انتقامی کارروائیوں کا مداوا کون کرے گا؟-

    الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو دورہ لوئردیرسے روک دیا

  • دما دم مست قلندر شروع،امپورٹڈ مشیروں کی دوڑیں، پہلا استعفی آ گیا

    دما دم مست قلندر شروع،امپورٹڈ مشیروں کی دوڑیں، پہلا استعفی آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل وزیر اعظم عمران خان کی پبلک کالز پر تقریر سن کر ایک شعر میرے ذہن میں آیا۔
    آپ کے لیے بھی ارشاد فرما دیتا ہون۔
    تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا،
    اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان کی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ ان کے درباریوں نے انہیں انتہائی خود فریبی کا شکار کر دیا ہے۔ قوم سے وہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے بادشاہ حضور احسان فرما رہے ہوں۔
    جب کبھی برا وقت آتا ہے یا ان سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے وہ آگے سے احسان جتانا شروع کر دیتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کوئی ہے کہ جو ان سے پوچھے کہ آپ سیاست میں کیوں تشریف لائے، آپ نے جھوٹے وعدے کیوں کیے، آپ حالات سے اتنے نا علم تھے کہ اب کہتے ہیں میں کچھ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، عوام اور ادارے میرا ساتھ دیں۔ عوام کیا ڈنڈے لے کر سڑکوں پر آجائے، آپ کو ووٹ دے دیا، ملک کا وزیر اعظم بنوا دیا۔ سارے گورنر، وزیر اعلی، وزیر ،مشیر، اداروں کے سربراہ آپ کی مرضی کے لگ گئے۔
    کس کس کو اٹھاکر لگا دیا ہے اور انہیں وسیم اکرم پلس کا خطاب دے دیا ہے۔انسان کو کیا چاہیے ہوتا ہے، طاقت وہ آپ نے حاصل کر لی۔ پھر پیسا اس کی آپ کو ضروت نہیں کیونکہ جب ATMکارڈ جیب میں ہو تو پیسہ جیب میں نہیں رکھا جاتا آج کل ویسے بھی ڈیجیٹل دور ہے۔کیوں آپ نے چن چن کر اپنی پارٹی کی ATM کواعلی عہدوں پر بیٹھایا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے آپ کی خدمت کر کے اعلی سرکاری عہدے حاصل کیے اور پھر انہوں نے ملک کو بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ملک کس کے فیصلوں کی وجہ سے برباد ہوا ہے۔ عوام کا بیڑا غرق ہوا ہوا ہے اور آپ فرما رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔آپ سے کس نے کہا تھا کہ حضرت عمر کی مثالیں دے دے کر لوگوں کو بے وقوف بنائیں ، کیوں آپ نے اپنا ہوم ورک اقتدار میں آنے سے پہلے ختم نہیں کیا۔ اقتدار مین آکر بھی ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں اور آپ کو کچھ نہیں پتا کہ کیا کرنا ہے۔ کیوں سارے فصلی بٹیرے اپنی کابینہ میں شامل کیے، کیوں اقتدار کی خاطر کمپرومائز کیا کس نے آپ کی منتین کی تھی۔ قوم پر قرضہ ڈبل کر کے، آئی ایم ایف کا غلام بنا کر، لوگون کو بے روز گار کر کے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ میرے پاس سب کچھ تھا، مجھے کیا ضرورت ہے دو ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننے کی۔آپ کے پرانے ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں، آپ کے نظریاتی ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔
    آپ کے پاس سب کچھ تھا تو یہاں قوم کا وقت خراب کرنے کیوں آئے، آپ کو اپنے جھوٹے دعوے اور جھوٹے وعدوں پر جواب دینا ہو گا، آپ کی حکومت اور وزیروں مشروں کے جو ساڑھے تین سال میں اربوں روپے لگے ہیں اس کا جواب دینا ہو گا،روزانہ جو آپ ہیلی کاپٹروں کی سیریں کر رہے ہیں اس کا بھی جواب دینا ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان فرماتے ہیں کہ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیاتو زیادہ خطرناک ہوں گا‘ابھی تک تو میں چپ ہوں اور تماشے دیکھ رہاہوں ۔اگرسڑکوں پر نکل آیاتو آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی ۔پینتیس سالوں میں سب نے ملکر جو ملک کے ساتھ کیا ہے لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں ۔آپ سمجھ جائیں جو لاوا نیچے پک رہاہے ۔لوگوں کو صرف آپ کی طرف دکھانا ہے ۔پھر کوئی لندن بھاگ رہاہوگا ۔پہلے بھی لوگ بھاگے ہوئے ہیں ۔باقی بھی ادھر جارہے ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ دھمکی ہے جو سمجھا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اپنی مان مانی کرنے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دی ہے، انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن واقفان حال جان گئے ہیں کہ پس منظر میں کیا چل رہا ہے، میں نے ایک ویڈیو کی تھی وہ تیر جو عمران خان کے لیے شہتیر بن سکتا ہے اس میں معاملات کھل کے بیان کیے تھے کہ عمران خان اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اہم تعیناتی اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس دھمکی پر سلیم صافی کا کہنا ہے کہمیں بھی آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔ آپ جن کو دھمکی دے رہے ہیں ،اب وہ آپ کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔۔آپ نے ابھی تک صرف ان کی لاڈ دیکھی ہے، مار نہیں۔۔۔اگر آپ کے خلاف پہلے وعدہ معاف گواہ اسد عمراور زلفی بخاری نہ بنے تو میرا نام شبلی فراز رکھ لیں۔دھمکیوں پر مریم نواز کا کہنا ہے کہ آپ کی دھمکیاں کہ اقتدار سے نکالا گیا تو مزید خطرناک ہو جاؤں گا گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ جس دن آپ اقتدار سے نکلے عوام شکرانے کے نفل پڑھیں گے۔ نا آپ نواز شریف ہیں جس کے پیچھے عوام کھڑی تھی نا ہی آپ بیچارے اور مظلوم ہیں۔ آپ سازشی ہیں اور مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں۔ مشرف زیدی اس پر ٹویٹ کرتے ہیں کہلوگوں میں انتشاری کیفیت پیدا کرکے کرسی پر سوار رہنا؟ کیا یہ ہے، ان کی سوچ میں انصاف پھیلانا؟ یہ کس طرح کی گفتگو ہے ؟ یہ کیا پاکستای عوام کو دھمکی دے رہے ہیں، یا ان کو جنہوں نے ان کا چناؤ کیا تھا؟ افسوس۔

    اس کے بعد وزیر اعظم صاحب فرماتے ہیں کہ پرویز مشرف نے دوخاندانوں کو این آراو دیکر ظلم کیا‘قوم جانتی ہے اپوزیشن کا وقت ختم ہوچکا ہے شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں قوم کا مجرم سمجھتا ہوں اس نے 8 ارب روپے کے گھپلوں کا نیب کو جواب دینا ہے۔ عدلیہ سے اپیل ہے کہ وہ ملک پر رحم کرے اور روزانہ کی بنیاد پران کے کیس کی سماعت کرے‘پی ٹی ایم اور ٹی ایل پی سمیت سب سے بات کرنے کو تیار ہوںمگر چوروں سے نہیں‘ ملک لوٹنے والوں سے مفاہمت اور سمجھوتہ ملک اورقوم سے غداری ہوگی۔اب آپ ان کے ٹون پر غور کریں اور ان کی باتوں پر۔ یہ سانحہ اے پی ایس کے مجرموں سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ لوگ جن کو جیل میں ڈالنا ان کا اپنا مفاد ہے کیونکہ وہ اقتدار ان کے ہاتھ سے چھین سکتے ہیں۔ ان کے سیاسی رقیب ہیں۔ جن کو باہر بھیجنے کے لیے ان کی حکومت کے اپنے بورڈ نے لکھ کر دیا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔کیا چیف جسٹس اس بات کا نوٹس لیں گے کہ ملک کا وزیر اعظم عدالت کو کہہ رہا ہے کہ مل پر رحم کریں، جیسے عدالتیں دانستہ طور پر ملک کو تباہ کر رہی ہوں۔ اب اس ملک کے وزیر اعظم کو ترجیحات بھی بتانی پڑیں گی کہ چوری جو کہ ثابت نہیں ہوئی وہ قتل سے بڑا جرم نہیں ہو سکتی۔ جوش خطابت میں بولنے سے پہلے تھورا سوچ لیا کریں۔آج کل وزیر اعظم صاحب کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا، میڈیا جب تک گن کا رہا تھا سب ٹھیک تھا، میڈیا کی جے جے ہو رہی تھی لیکن جیسے ہی میڈیا نے آئینہ دیکھانے کی کوشش کی تو برا مان گئے۔ خان صاحب فرماتے ہیں۔میڈیا ہم پر تنقید ضرور کرے مگر پروپیگنڈہ نہیں ۔جان بوجھ کرفیک نیوز کے ذریعے مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔اگر اتنے ہی برے حالات تھے تو ملک کو دیوالیہ ہوجانا چاہیے تھا اور بیروزگاری بڑھنی چاہیے تھی۔میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔عوام اور اداروں کو ساتھ دیناہوگا۔ عدالتیں آزادہیں ۔ان کی بھی ذمہ داری ہے ۔ جیلوں میں کوئی طاقتورڈاکونہیں۔وہاں قید چھوٹے لوگوں کو بھی چھوڑدینا چاہئے۔کس نے چھوڑا چور ڈاکوں کو۔ کون ہے جو آپ کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے،۔ آپ تو سچ بولتے تھے۔ مجبوری میں اقتدار سے چپکنے والے نہیں تھے۔ آپ کیوں بلیک میل ہو رہے ہیں کون ہے جسے آپ سڑکون پر آکر مزہ چھکا سکتے ہیں۔ کون آپ کو اپنی من مانی کرنے سے روک رہا ہے۔چلو یہ تو عمران خان نے مانا کہ وہ زبردستی اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں اور ان کا بس نہیں چل رہا، جب انہیں اقتدار سے گھسیٹ کے نکالا جائے گا تب ہی وہ لوگون کو حقیقت بتائیں گے اور حقیقت بھی وہ جسے وہ حقیقت سمجھتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ فرماتے ہیں کہ اگلے پانچ سال بھی میں پورے کروں گا، کون سا تیر آپ نے مارا ہے جو آپ دوبارہ آجائیں گے، اتنے اعتماد سے کہنے کا مطلب ہے جو کھیل آپ نے دو ہزار اٹھارا میں رچایا کیا اسی کی تیاری دوبارہ کی جا رہی ہے۔؟وہ کون سا کارنامہ ہے جو آپ کو نہ صرف دوبارہ منتخب کروائے گا بلکہ دس سال آپ کو اس قوم پر نازل بھی کرے گا۔آپ نے قوم کو اپنے سیاسی مخالفین کی کرپشن اور احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ کربے وقف بنایا، اور اپنے اقتدار میں بھی احتساب نہ کر سکے۔ لیکن بس اب نہیں، ہم مزید بے وقوف نہیں بن سکتے۔سارے مافیا اپنے ارد گرد اکھٹے کر کے ہمیں مافیا پر بھاشن مت دیں۔کرپشن بڑھ گئی ہے، غربت بڑھ گئی ہے، بھوک بڑھ گئی ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ہمارا وزیر اعظم تو ایماندار ہے جس کے اردگرد سارے مافیا اکھٹے ہیں۔آپ خان صاھب کی باتیں سنییں۔۔ بندہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے یہاں طاقتور کیلئے ایک اور غریب کیلئے دوسرا قانون ہے، قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔اس وقت جیلوں میں کوئی طاقتور ڈاکو نہیں۔بدعنوان لوگوں کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ساڑھے تین سال سے آپ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور باتیں ایسے کر رہے ہیں جیسے کوئی مطلق العنان، کرپٹ اور ظالم شخص اس ملک پر حکومت کر رہا ہے، خان صاحب آپ کو اللہ کا واسطہ ہے۔ کنٹینر سے اتر آئیں۔ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جاتے جاتے آپ کو یہ خبر دے دوں کہ بارش کا پہلا قطرہ گر چکا ہے ابھی موسلا دھار بارش کا انتظار ہے۔ ملک میں احتساب کے علمبردار اور کرپشن کے سب سے بڑے دشمن، جنہوں نے ملک میں احتساب کو مذاق بنا دیا ۔۔ نے استعفی دے دیا ہے۔ جی ہاں آپ سمجھ چکے ہوں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ٹویٹر پر استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ
    I have tendered my resignation today to PM as Advisor. I sincerely hope the process of accountability continues under leadership of PM IK as per PTI’s manifesto. I will remain associated with party n keep contributing as member of legal fraternity.

    چلیں اب پریس پریس کانفرنسوں کا بوجھ تو میڈیا سے کم ہو گا۔