Baaghi TV

Tag: اسرائیلی فوج

  • اسرائیلی محاصرہ، غزہ کے  60 ہزار بچے فاقہ کشی کا شکار، یو این کا تشویش کا اظہار

    اسرائیلی محاصرہ، غزہ کے 60 ہزار بچے فاقہ کشی کا شکار، یو این کا تشویش کا اظہار

    اسرائیلی محاصرے کے باعث خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور 5 سال سے کم عمر کے 60 ہزار بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اقوام متحدہ نے شدید تشویش کا اظہارکیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب 18 مارچ کو اسرائیلی فوج نے جنگ بندی توڑ کر دوبارہ حملے شروع کر دیے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2 مارچ کے بعد سے امدادی قافلوں کی رسائی تقریباً بند ہو چکی ہے، جس سے اسپتالوں کو ایندھن، خوراک کی تقسیم اور امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی (UNRWA) کے مطابق غزہ قحط کے دہانے پر ہے، جہاں بیکریاں بند ہو چکی ہیں، امدادی قافلے روکے جا رہے ہیں، اور بھوک تیزی سے پھیل رہی ہے۔ UNRWA کی ڈائریکٹر جولیٹ توما نے کہا، "تمام بنیادی اشیاء ختم ہو رہی ہیں، بچے بھوکے سو رہے ہیں۔”

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں شہادتوں کی تعداد 50,900 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے نے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کے تحت امداد کی فراہمی کا پابند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالات نہ صرف عام شہریوں بلکہ فلسطینی امدادی کارکنوں کے لیے بھی "خوفناک” ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کا مقدمہ بھی جاری ہے۔اقوام متحدہ نے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان اور غزہ کے شہریوں کو ناقابل تلافی نقصان سے بچایا جا سکے۔

    جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر خورشید احمد کا انتقال

    مرکزی مسلم لیگ کا یکم مئی سے آئی ٹی اسکلز پروگرام،قیام امن کیلیےسب کو متحد کرنے کا اعلان

  • غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں زمینی کارروائی شروع کردی ہے جبکہ تازہ کارروائیوں میں 38 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ فورسز نے نیتزارم راہداری کا کنٹرول سنبھال لیا جو شمال اور جنوبی علاقوں کے درمیان جزوی بفرزون ہے۔حماس نے بیان میں کہا کہ نیتزارم راہداری میں مداخلت دو مہینوں کی جنگ بندی کے دوران نئی اور بدترین خلاف ورزی ہے تاہم حماس نے معاہدے پر عمل پیرا رہنے کا اعادہ کیا اور مصالحت کاروں کو اپنی ذمہ داریاں شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر اقوام متحدہ نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں سے غیرملکی اہلکار جاں بحق اور عملے کے دیگر 5 ارکان زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے حماس کو نشانہ بنایا ہے۔فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں شمالی غزہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں 4 افراد شہید اور 10 زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بیت الاہیا میں اسرائیلی فوج نے خیمے پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع کیے گئے حملوں میں اب تک 49 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں اور فلسطینی حکام نے بتایا کہ غزہ پٹی میں اشیائے خوردنوش اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔

    عثمان خواجہ ایک بار پھر فلسطین کے لیے بول پڑے

    دبئی حکومت کا کم قیمت گھروں کی تعمیر کا اعلان

    کراچی سےحوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان گرفتار، غیر ملکی کرنسی برآمد

    ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

  • اسرائیلی فوج نےحماس کے حملے میں اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف کر لیا

    اسرائیلی فوج نےحماس کے حملے میں اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف کر لیا

    اسرائیلی فوج نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے پر اپنی تحقیقات کی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق فوج اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اسرائیلی فوج کا غزہ ڈویژن پسپا ہوگیا تھا،حماس نے 3 مرحلوں میں حملہ کیا،فلسطینی جنگجوؤں نے علاقے کی آبادیوں اور سڑکوں کا کنٹرول حاصل کرلیاتھا۔تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 5ہزار افراد حملے کے دوران غزہ سے اسرائیلی سرحد کے اندر داخل ہوئے۔دوسری جانب موساد چیف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ایجنٹس نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 والے حملے سے پہلے لبنان میں پیجر اسمگل کیے۔

    موساد چیف کے مطابق ایجنٹس نے حزب اللہ کو نقصان پہنچانے کے لیے 500 پیجرز کی پہلی کھیپ 7 اکتوبر سے پہلے لبنان پہنچائی تھی، گزشتہ سال 17 ستمبر کو لبنان بھر میں ہزاروں پیجر ڈیوائسز ایک ساتھ پھٹیں۔پیجر دھماکے کا نشانہ حزب اللہ کے جنگجو اور اراکین تھے،یہ واقعات ایک وسیع اسرائیلی انٹیلیجنس آپریشن کا حصہ تھے،پیجر حملہ کامیاب رہا جس میں ہزاروں پیجرز اور واکی ٹاکی پھٹے۔یاد رہے گزشتہ سال لبنان میں پیجر دھماکے میں 51 افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

    آرٹیفشل انٹیلی جنس ، تصوراتی گرل فرینڈ نے لاکھوں کا چونا لگا دیا

    ایک اور امریکی اداکارہ کی لاش گھر سے برآمد

    ایک اور امریکی اداکارہ کی لاش گھر سے برآمد

    انڈونیشیا : ہم جنس پرستی پر 2 افراد کو سر عام کوڑے مارے گئے

    امریکی کمپنی نے اڑنے والی کار کی کامیاب آزمائش کر لی

    مسلم لیگ ن نے سیاسی جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

  • حماس کیساتھ جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور 5 شدید زخمی

    حماس کیساتھ جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور 5 شدید زخمی

    مغربی کنارے میں کریک ڈاؤن کے نام پر ملٹری آپریشن کرنے میں مصروف اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے جنین میں ملٹری آپریشن کے لیے جانے والی ٹیم اور حماس کے درمیان گھمسان کی جھڑپ ہوئی۔اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اسٹاف سارجنٹ 20 سالہ لیام ہازی مارا گیا جب کہ دیگر 5 اہلکار شدید زخمی اور زیر علاج ہیں۔زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں میں سے 2 کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جیسے ہی فوجی ٹیم جنین پناہ گزین کیمپ کی ایک عمارت میں داخل ہوئے پہلے سے موجود 2 بندوق برداروں نے فائرنگ کردی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جھڑپ کے بعد دونوں بندق بردار دوسری عمارت کے راستے فرار ہوگئے۔ جن کی تلاش جاری ہے۔یاد رہے کہ مغربی کنارے میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں 800 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ 46 اسرائیلی فوجی اور شہری مارے گئے۔

    ملک کے بعض علاقوں میں بارش کی پیش گوئی

    غیر قانونی امیگریشن، برطانیہ میں انتہائی سخت قوانین متعارف

    پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    سعودی عرب پاکستان سیاحوں کیلئے پسندیدہ ترین مقاما ت میں شامل

  • اسرائیل کا المواصی کیمپ پر حملہ، 50 فلسطینی شہید

    اسرائیل کا المواصی کیمپ پر حملہ، 50 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں بربریت کا سلسلہ کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہا.

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی غزہ میں جبالیا، بیت حنون اور بیت لاہیا کا محاصرہ 70 روز سے جاری ہے، قابض فوج کی جانب سے المواصی کیمپ پر بھی بمباری کی گئی ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 50 سے زیادہ فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے، مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فائرنگ سے 2 فلسطینی شہید ہوئے۔فلسطینی صدر محمود عباس قاہرہ میں غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گئے، امریکا کا کہنا ہے کہ انہیں فریقین کے معاہدے کے قریب پہنچنے کا یقین ہے۔خبر ایجنسی نے جنگ بندی چند دن میں ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ حماس کا کہنا ہے معاہدہ اسی وقت کیا جائے گا جب اسرائیل نئی شرائط نہ لگائے۔دوسری جانب شام کے دارالحکومت دمشق کے باہر ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے، جس میں ہزاروں افراد کی باقیات ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام سے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک بھر میں لاپتہ افراد کی اجتماعی قبریں منظرعام پر آرہی ہیں اور یہ اجتماعی قبر بھی ان ہی میں سے ایک ہے، جس کے باعث بشار الاسد پر ماورائے عدالت قتل عام کے الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں۔

    پی ٹی اے نے 58 لاکھ سے زائد سمز بلاک کر دیں

    پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

    نان فائلرز پرحکومت کی جانب پابندیوں کا امکان

  • اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کو امداد دینےپر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس مقدمے کا باضابطہ اعلان منگل کو کیا گیا جس میں محکمہ خارجہ پر ایک وفاقی قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔وفاقی قانون کے تحت ماورائے عدالت قتل اور تشدد جیسی سنگین خلاف ورزیوں میں مصروف غیرملکی فوجی یونٹوں کو رقوم کی منتقلی پر پابندی عائد ہے۔غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور امریکا میں پانچ فلسطینیوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر اسرائیلی فوج کی امریکی امداد کو روکنے کے لیے امریکی حکومت پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ کی لیہی قانون کو لاگو کرنے میں ناکامی خاص طور پر غزہ جنگ کے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے غیر معمولی اضافے کے پیش نظر حیران کن ہے۔غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں اکتوبر 2023 کے اوائل سے اب تک 45,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور اقوام متحدہ اور دنیا کے معروف حقوق گروپوں نے اسرائیلی فوج پر نسل کشی سمیت جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے۔اس مقدمے کی مرکزی مدعی، غزہ کی ایک ٹیچر ہے جس کا نام امل غزہ ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے سات بار جبری طور پر بے گھر ہو چکی ہے اور اس کے خاندان کے 20 افراد اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔انہوں نے مقدمے کے ساتھ ایک بیان میں کہا کہ میرے مصائب اور میرے خاندان کو جو ناقابل تصور نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس میں نمایاں کمی آئے گی اگر امریکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والے اسرائیلی یونٹوں کو فوجی امداد فراہم کرنا بند کر دیتا ہے۔

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    پاک بحریہ کی ترکیہ میں مشق ماوی بلینہ 2024 میں شرکت

  • اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا  سابق وزیر دفاع  اور  فوجی اہلکاروں کی حساس ویڈیوز جمع کرنے کا انکشاف

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا سابق وزیر دفاع اور فوجی اہلکاروں کی حساس ویڈیوز جمع کرنے کا انکشاف

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے وزیر اعظم نیتن یاہوکے دفتر کی جانب سے سابق وزیر دفاع یواف گیلانٹ اور فوجی اہلکاروں کی حساس ویڈیوز جمع کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے سابق وزیر دفاع اور وزیر اعظم کے دفتر میں کام کرنے والے ایک فوجی اہلکار کی سکیورٹی کیمر ا سے بنی حساس ویڈیوز جمع کی ہوئی ہیں تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔

    متعدد اسرائیلی میڈیا اداروں کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ کچھ ماہ قبل اسرائیل ڈیفنس فورسز کے سربراہ جنرل ہرزی حلاوی کو اس بات کی اطلاع دی گئی تھی کہ وزیر اعظم کے دفتر کے پاس ایک سینئر فوجی اہلکار کی حساس ویڈیو موجود ہے جسے قابل اعتراض انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے دو سینئر حکام سکیورٹی کیمروں سے حساس ویڈیوز حاصل کرنے میں ملوث تھے تاہم اس کی وجہ معلوم نہ ہوسکی،جبکہ اس وقت کے وزیر دفاع یواف گیلانٹ کی ویڈیو بھی حاصل کی گئی تھی، جس میں انہیں اکتوبر 2023 میں تل ابیب میں وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر میں ایک سکیورٹی گارڈ کے ساتھ جھگڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا، وزیر اعظم ہاؤس نے نیتن یاہو کے وزیر دفاع سے بگڑتے ہوئے تعلقات کے دوران اس ویڈیو کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ دنوں وزیر دفاع یواف گیلانٹ کو عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

    خیال رہے کہ اسرائیلی پولیس وزیر اعظم ہاؤس کے حوالے دو علیحدہ معاملات کی تحقیقات کررہی ہے ان میں سے ایک معاملہ اسرائیلی فوج کے حساس ترین دستاویزات کی چوری اور وزیر اعظم کے قریبی افراد کو لیک کیے جانے کے حوالے سے ہے جنہوں نے بعد ازاں ان دستاویزات میں موجود معلومات کو مبینہ طور پر سیاسی مفادات کے لیے غیر ملکی میڈیا کو لیک کیا اس حوالے سے اسرائیلی پولیس 5 افراد کو گرفتار کرچکی ہے جن میں وزیر اعظم کے دفتر کے ساتھ کام کرنے والا ایک ترجمان بھی شامل ہے،اسرائیلی پولیس غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ہونے والی بدعنوانی اور مبینہ مجرمانہ واقعات کے حوالے سے بھی تحقیقات کررہی ہے-

  • فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے  خودکشی کر لی

    فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے خودکشی کر لی

    غزہ میں معصوم فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی، 40 سالہ ایلیران میزراہی کو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد غزہ میں تعینات کیا گیا تھا ،ا اور اسے ڈی 9 بلڈوزر چلانے کا کام سونپا گیا، غزہ میں زخمی ہونے کے بعد اسے علاج کے لیے واپس بلالیا گیا تھا-

    باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این سےگفتگو کرتے ہوئے اہلخانہ نے بتایا کہ غزہ سے واپس آنے کے بعد اس کی شخصیت بالکل بدل گئی وہ جنگ کی ہولناکی کے صدمے میں چلا گیا اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کا شکار ہوگیا، اس سے پہلے کہ اسے دوبارہ واپس محاذ پر تعینات کیا جاتا اس نے اپنی جان ہی لے لی۔

    اس کی ماں جینی میزراہی نے سی این این کو بتایا کہ وہ غزہ سے نکل گیا، لیکن غزہ اس سے نہیں نکلا اور اس کے بعد وہ صدمے کی وجہ سے مر گیا، جب وہ غزہ سے واپس آیا تو اکثر اپنے گھر والوں کو بتاتا تھا کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس میں سے "نظر نہ آنے والا خون” نکل رہا ہے، اس کی بہن نے اپنے بھائی کی موت کا ذمہ دار اسرائیلی فوج کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس فوج کی وجہ سے اور اس جنگ کی وجہ سے میرا بھائی مرگیا، شاید وہ گولی یا راکٹ سے نہیں مرا، لیکن وہ ایک نظر نہ آنے والی گولی سے مر گیا،اس نے غزہ میں بہت سے لوگوں کو مرتے دیکھا اور شاید خود بھی اس نے بہت سے لوگوں کا قتل کیا ہوگا۔

    پاکستان میں سب سے پہلے آصفہ بھٹو کو پولیو ویکسین پلائی گئی،بلاول بھٹو

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی Ma’ale Adumim بستی میں رہنے والی جینی نے کہا، "وہ نہیں جانتے تھے کہ ان (فوجیوں) کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائےفوجیوں نے کہا کہ جنگ بہت مختلف تھی انہوں نے ایسی چیزیں دیکھی جو اسرائیل میں کبھی نہیں دیکھی گئیں۔

    اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ جب میزراہی چھٹی پر تھا، وہ غصے، پسینے، بے خوابی اور سماجی انحطاط کا شکار تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس کے ساتھ غزہ میں تھے کہ وہ کیا کر رہا ہے اس کی بہن، شیر نے سی این این کو بتایا، "وہ ہمیشہ کہتا تھا، کوئی نہیں سمجھے گا کہ میں نے کیا دیکھا ہے۔”

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہزاروں فوجی جنگ سے متعلق پی ٹی ایس ڈی اور دیگر ذہنی امراض میں مبتلا ہیں تاہم فوج نے خودکشیاں کرنے والے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار فراہم نہیں کیے لڑائی سے واپس آنے والے ایک تہائی سے زیادہ اسرائیلی فوجی دماغی صحت کے مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں۔

    ملائیشیا: 27 سال سروس کے دوران ایک بھی چھٹی نہ کرنے والا 70 سالہ ملازم

    اس کے فوجی دوست زکین نے بتایا کہ غزہ میں ہم نے بہت مشکل کام کیے جنہیں قبول کرنا بہت مشکل ہے، زندہ اور مردہ سینکڑوں فلسطینیوں کو اپنے بلڈوزروں سے کچلا، اتنا زیادہ خون خرابا اور لاشیں دیکھیں کہ اب گوشت کھانا ہی چھوڑ دیا کیونکہ گوشت دیکھ کر غزہ کے وہ مناظر اور فلسطینی شہدا کے جسد خاکی یاد آتے جنہیں اپنے بلڈوزر سے روندا تھا، راتوں کی نیند اڑ گئی اور دھماکوں کی آوازیں سونے نہیں دیتیں-

    غزہ میں چار ماہ تک تعینات رہنے والے ایک اسرائیلی فوجی طبیب نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا ہم میں سے بہت سے فوجی حکومت پر بھروسہ نہیں کرتے اور دوبارہ جنگ کے لیے بھیجے جانے سے بہت خوفزدہ ہیں، اسرائیلی فوجیوں نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے ایسی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا جسے باہر کی دنیا کبھی بھی صحیح معنوں میں نہیں سمجھ سکتی۔

    امریکی صدارتی الیکشن میں قبل از وقت ووٹنگ کیوں کی جاتی ہے؟

  • حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر ڈرون حملے کر دیے، شیلٹرز کی طرف بھاگنے والے متعدد اسرائیلی زخمی ہوگئے، تل ابیب میں چار زور دار دھماکے سنے گئے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی صبح تل ابیب کو 5 ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کی کامیاب کارروائی کا اعلان کیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ 2 ڈرون تل ابیب تک پہنچے۔یحییٰ سریع نے المسیرہ ٹی وی پر نشر کیے گئے بیان میں کہا کہ یافا کے ایک اہم ہدف کو متعدد ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی کامیاب رہی کیونکہ ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ہدف تک پہنچے اور دشمن انہیں نہیں گرا سکا۔انہوں نے مزید کہا کہ یافا کی یہ کارروائی "الفتح الموعود والجهاد المقدس” کے پانچویں مرحلے کا حصہ ہے اور یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ اور لبنان پر حملے بند نہیں ہو جاتے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے تل ابیب کے جنوب میں واقع بات یام کے علاقے میں دو ڈرون طیاروں کا پتہ لگایا، جن میں سے ایک کو تباہ کر دیا گیا جبکہ دوسرا ایک کھلی جگہ پر جا کر گرا۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں میونسپلٹی کی عمارت پر حملے میں حزب اللّٰہ کے 15 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے داغے گئے دو ڈرونز اور راکٹوں میں متعدد مار گرائے۔بیروت کے گنجان آباد علاقے میں اسرائیلی حملے میں حزب اللّٰہ سے منسلک طبی ادارے کے 6 ارکان شہید ہوگئے، 24 گھنٹوں کے دوران 46 لبنانی شہید اور 85 زخمی ہوئے۔ لبنان میں گھسنے کی کوشش پر اسرائیل نے ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی، صہیونی فوج کے تین ٹینک تباہ کردیے گئے۔غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کی، جس میں مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41,788 افراد شہید اور 96,794 زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

  • اسرائیلی فوج کا غزہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    اسرائیلی فوج کا غزہ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    غزہ میں اسرائیلی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، جس میں سوار 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کو موصول رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر بدھ کی صبح حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں 2 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے اسے ایک حادثہ قرار دیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق، UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، 123ویں اسکواڈرن کا حصہ تھا جو ایک شدید زخمی انجینئر کو غزہ سے نکالنے کے لیے رفح پہنچا تھا۔ رات تقریباً 12:30 بجے لینڈنگ کے دوران ہیلی کاپٹر صحیح طریقے سے نیچے نہیں اُتر سکا اور زمین پر آ گرا۔حادثے میں 2 فوجی ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں دو پائلٹس، ایک مکینک، یونٹ 669 کا ایک ڈاکٹر اور ایک فوجی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے المواصی کیمپ پر وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ غزہ سے عرب میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے المواصی کیمپ پر حملے میں امریکی بم استعمال کیے۔ غزہ میڈیا دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم بےگھر فلسطینیوں کے خیموں پر گرائے۔ اسرائیلی فوج نے المواصی کیمپ میں گذشتہ رات ہولناک قتل عام کیا ہے۔ دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج کے قتل عام میں 41 فلسطینی شہید اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے۔