Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • مجتبیٰ خامنہ ای نشانے پر ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    مجتبیٰ خامنہ ای نشانے پر ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایر ان کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ سے فوجی حملے کرنے کا فیصلہ کریں گےیا اگر ایران نے اسرائیل پر کوئی بھی میزائل یا ڈرون داغا تو صرف دو دن کے اندر باضابطہ طور پر جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ اس وقت ایرانی قیادت بنکروں میں چھپی ہوئی ہے اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہمارے نشانے پر ہیں،اسرائیلی فوج نے آزادانہ کارروائی کے لیے ’بلیو اینڈ وائٹ‘ نامی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور ایران کے اندر گھس کر نشانہ بنانے کا پورا پلان تیار ہے،اگر امریکا اور ایر ان کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ سے فوجی حملے کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

    تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اس وقت قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والی سفارتی کوششوں اور بات چیت کو خراب نہیں کرنا چاہتا، لیکن جب بات اپنے ملک کی حفاظت اور دفاع کی ہو تو لبنان ہو یا ایران، کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ہم نے اپنا یہ سخت موقف امریکی حکام کو بھی صاف صاف بتا دیا ہے کہ اسرائیل اپنی زمین پر کسی بھی میزائل حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اسرائیلی فوج دفاع اور حملے دونوں کے لیے بالکل تیار کھڑی ہے، اور اگر کوئی بڑا خطرہ نظر آیا تو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے ایران پر فوری حملہ کر دیا جائے گا۔

  • امریکی کانگریس میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ کاسر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریپبلکن رکن تھامس میسی کی پیش کردہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے جس میں اسرائیل کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہےاسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور امریکا کو ایران کے ساتھ تنازع میں الجھانے میں کردار ادا کیا اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کو مزید ہتھیاروں کی مالی معاونت نہیں کرنی چاہیے۔

    مجوزہ ترمیم میں نہ صرف اسرائیل کے لیے 3.3 ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے بلکہ محکمہ خارجہ کے بجٹ میں اسرائیل کے لیے مختص فنڈز بھی منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے،دوسری جانب تھامس میسی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار ایڈ گیلرین کے ہاتھوں ریپبلکن پرائمری انتخاب ہار گئے تھے۔

    یہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی تاریخ کا سب سے مہنگا پرائمری انتخاب قرار دیا گیا جس میں میسی کے خلاف 32 ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے گئے جبکہ اس فنڈنگ کا بڑا حصہ اسرائیل نواز تنظیموں اور ٹرمپ کے حامی گروپوں کی جانب سے آیا،کانگریس میں اس ترمیم پر رواں ہفتے ووٹنگ متوقع ہے جس پر امریکا کی اسرائیل پالیسی کے حوالے سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک نئی فوجی کارروائی کی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں حزب اللہ کے زیرِ زمین عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا،کارروائی کے دوران تقریباً 200 میٹر لمبی زیرِ زمین سرنگ کو تباہ کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق اس حملے سے قبل امریکا کو بھی کارروائی سے آگاہ کر دیا گیا تھا یہ کارروائی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی گئی، تاہم لبنان یا حزب اللہ کی جانب سے اس کارروائی پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے راہ ہموار کرنا بتایا گیا تھا،گزشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخط ہوئے تھے، اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے جنہوں نے کہا تھا کہ امید ہے فریم ورک سے لبنان میں امن کے لیے پیش رفت ہوگی، ہم چاہتے ہیں لبنان اور اسرائیل کے لوگ محفوظ مستقبل کی زندگی گزارسکیں جب کہ لبنانی سفیر نے کہا کہ معاہدہ لبنان کی خود مختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔

  • ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹار لنک تہران اسمگل کیاتھا، سابق اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹار لنک تہران اسمگل کیاتھا، سابق اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں اسرائیل نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹارلنک انٹرنیٹ ریسیورز اسمگل کیے تھے۔

    خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یروشلم میں نفتالی بینیٹ، جو ایک دائیں بازو کی جماعت کے سربراہ ہیں اور آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کے ممکنہ سیاسی حریفوں میں شمار ہوتے ہیں نے جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا تھا جس کے تحت ایران میں دسیوں ہزار اسٹارلنک ریسیورز حاصل کرکے خفیہ طور پر پہنچائے جانے تھےان آلات کا مقصد ایران میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی کو برقرار رکھنا تھا تاکہ حکومت مخالف مظاہرین باہمی رابطہ اور تنظیم سازی جاری رکھ سکیں، یہ منصوبہ ایرانی مظاہرین کو منظم کرنے اور بالآخر ایرانی حکومت کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا، ان کے بقول، بدقسمتی سے موجودہ نااہل اسرا ئیلی حکومت نے اس عمل کو روک دیا، اور جب احتجاجی تحریک اٹھی تو مطلوبہ انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بینیٹ کے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ اسپیس ایکس کی جانب سے بھی امریکی کاروباری اوقات کے اختتام کے باعث کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ ایرانی حکام ماضی میں ملک میں احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کے دوران انٹرنیٹ سروس معطل کرتے رہے ہیں رواں سال جنوری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج اور بعد ازاں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران بھی انٹرنیٹ تک عوامی رسائی محدود کر دی گئی تھی انٹرنیٹ بندش کے دوران کچھ ایرانی شہریوں نے رابطے برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک سروس کا استعمال کیا۔

    اسٹارلنک، امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جو زمینی انفراسٹرکچر کے بغیر انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے ایران ماضی میں اسرائیل اور امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسے آلات ایران میں اسمگل کرتے ہیں اگرچہ اسٹارلنک کو ایران میں باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجاز ت حاصل نہیں، تاہم ایلون مسک پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ سروس ایران میں فعال ہے۔

  • اسرائیل نے لبنان میں  فضائی حملے روک دیئے

    اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے روک دیئے

    نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے روکنے کا خیرمقدم کیا ہے-

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی، مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

    ترجمان نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جار ی رہے گاصورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔

  • لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان کے نبطیہ کے قریب کفر تبنیت گاؤں میں قائم اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ کو راکٹوں کی بوچھاڑ اور ایک دھماکا خیز ڈرون سے نشانہ بنایا گیا،اس حملے میں 21 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس نیر بن آری ہلاک ہوگئے جو کمانڈو بریگیڈ کی مگلان یونٹ سے تعلق رکھتے تھے،اسی حملے میں 13 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک کے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ تین روز میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے اس حملے کے فوراً بعد جنوبی لبنان کے نبطیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے اور ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسرائیلی فوجی ٹینک پر حملے میں بھی بٹالین کمانڈر اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جب کہ اس سے ایک روز قبل ایک اور ملٹری وہیکل بارودی سرنگ دھماکے میں تباہ ہوگئی تھی۔

  • صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد  ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ 8 جون کو ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں، تاہم حملہ روانگی سے محض ایک گھنٹہ قبل روک دیا گیا۔

    ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق فضائیہ کے اہلکاروں کے نام اپنے پیغام میں جنرل اوہمر ٹشلر نے بتایا کہ 8 جون کی دوپہر پوری اسرائیلی فضائیہ ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے تیار تھی اس آپریشن کے دوران ایران کے اندر سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم اسکواڈرنز میں بریفنگ کے دوران آخری لمحے میں کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا،دفاعی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف تقریباً 1500 کلومیٹر دور حملے بھی کیے تھے، جن میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچا اور دیگر سرکاری تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے مرحلے میں جنگی طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاع کے 9 نظاموں کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنوب مغربی ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں قائم 3 فیکٹریوں پر حملے کیے گئے اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان تنصیبات کو میزائلوں کی تیاری کے لیے خام مال فراہم کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مزید حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جنگ میں مزید شدت پیدا کی تو اسے اس محاذ پر تنہا رہنا پڑ سکتا ہے گزشتہ ہفتے جاری کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان متعدد بار رابطے ہوئے نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید کارروائی کے حق میں تھے، جبکہ ٹرمپ جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر زور دیتے رہے نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ایک بڑ ے آپریشن کی منظوری بھی دے دی تھی، تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد اس کارروائی کو روک دیا گیا اور طیاروں کی روانگی سے قبل ہی حملہ منسوخ کر دیا گیا-

  • حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام  اور  اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام اور اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے-

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل قانی کا کہنا تھا کہ شدید فوجی دباؤ اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود مزاحمتی محاذ کا ایک بھی گروہ میدان نہیں چھوڑا مزاحمتی گروہوں کی مسلسل موجودگی نے ایران کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے خطے میں موجود مزاحمتی گروہوں نے ایران کی حمایت میں امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اقدام کیا اور اس حوالے سے تہران کی جانب سے انہیں براہِ راست کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

    اسماعیل قانی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو ختم کیے جانے یا اس کی طاقت کمزور ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنانی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں، حزب اللہ کی صلاحیتیں عوامی سطح پر نظر آنے والی طاقت سے کہیں زیادہ ہیں اور ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے دکھائی گئی قوت درا صل برفانی تودے کی صرف نوک تھی۔

    ایرانی جنرل نے باب المندب آبنائے کو ایران کے حامی گروہوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک برتری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران امریکی جنگی جہازوں نے اس علاقے سے گزرنے سے گریز کیاانہوں نے حالیہ سفارتی کوششوں میں شریک ایرانی مذاکرات کاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ لبنان میں ہونے والی پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری اور سفارتی محاذوں پر سرگرم عناصر ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

  • اسرائیل  امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی بن گویر نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے اور وہ امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے۔

    اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایتامار بن گویر نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس لیے اسرائیل اس کا فریق نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا اسرائیل پر کوئی اطلاق نہیں ہوتا ٹرمپ کا معاہدہ ہمارے لیے پابند نہیں ہے اسرائیل امریکا کے تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی نے مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنی افواج کے زیرِ قبضہ آنے والے کسی بھی علاقے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا ہمیں لبنان میں اپنے جنگجوؤں کے قبضے میں آنے والے کسی بھی علاقے سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 14 جون کو اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہو چکا ہےانہوں نے امریکی بحری ناکہ بند ی فوری طور پر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے ٹول فری کھولنے کا بھی اعلان کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، سب کو مبارک ہو میں آبنائے ہرمز کو ٹول فری بنیادوں پر مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں اور ساتھ ہی امریکا کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظو ری دیتا ہوں دنیا کے جہاز اپنے انجن شروع کریں، تیل کو آزادانہ بہنے دیں۔

  • اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےواضح کیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور جوابی کارروائی کرے گا ، اس حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

    یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیلی حملے پر تنقید کی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے معاہدہ اب بھی ممکن حد تک قریب ہے۔

    ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جنوبی بیروت کے مضافات پر اسرائیلی حملے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت یا سیاسی عزم نہیں رکھتا،ایران کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس کے سخت جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے،ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور وہ دشمن کے دل پر وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بیروت پر حملہ ایسے دن نہیں ہونا چاہیے تھا جب ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب تر ہے۔