Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ، مبینہ اسرائیلی سازش بے نقاب

    ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ، مبینہ اسرائیلی سازش بے نقاب

    ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایرانی سازش سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ دراصل ایک دھوکہ اور ڈرامہ تھی، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو ناکام بنانا تھا۔

    ’مڈل ایسٹ آئی‘ کے مطابق، گزشتہ ماہ 8جولائی کو انقرہ کے ایئرپورٹ پر اچانک سیکیورٹی کی غیر معمولی تعیناتی نے سب کو حیران کر دیا تھا جہاں صدر ٹرمپ کا طیارہ ائیر فورس ون کھڑا تھاسیکیورٹی کے ان سخت ترین انتظامات کے دوران امریکی حکام نے ترک حکام کو بتایا کہ انہیں اسرائیل سے ایک خفیہ رپورٹ ملی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ایرانی خفیہ یونٹ کندھے پر رکھ کر مارے جانے والے میزائلوں کی مدد سے ایئرپورٹ کے قریب ٹرمپ کے نئے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    اس رپورٹ کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی ’سیکریٹ سروس‘ نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات تبدیل کیے ٹرمپ کی روانگی کو ایک دور دراز سویلین ایئرپورٹ پر منتقل کیا گیا اور نئے طیارے کے بجائے پرانے ائیر فورس ون کو لایا گیا کیونکہ اس میں فضائی دفاعی نظام موجود تھا۔

    امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، سیکریٹ سروس نے ٹرمپ کو خفیہ طور پر پرانے ائیر فورس ون سے نکال کر کھانے پینے کا سامان سپلائی کرنے والی گاڑی میں منتقل کیا اور وہاں سے دوسرے امریکی طیارے سی-32 میں پہنچایا۔

    مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، ایک ترک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام نے آخری منٹ پر پروازوں کی اجازت مانگی جس سے انقرہ کو اندازہ ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے،اس سے قبل جولائی اور نومبر 2024 میں بھی پاکستانی شہری آصف مرچنٹ اور افغان شہری فرہاد شاکری پر ایران کے لیے ٹرمپ پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات لگ چکے تھے، تاہم ایران نے ہمیشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ترک حکام کا اب ماننا ہے کہ اسرائیل کی یہ رپورٹ ایک سوچی سمجھی چال تھی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم امن معاہدے پر بات چیت کر رہے تھے۔

    اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں ٹرمپ نے بار بار کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہ مذاکرات کے حوالے سے پرامید ہیں، جو کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایجنڈے کے بالکل خلاف تھا کیونکہ وہ ایران کی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں اور ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی مہم چلانا چاہتے تھے،اس کے علاوہ ٹرمپ نے ترکیہ پر لگی پابندیاں ہٹانے اور ایف-35 طیارے بیچنے کا اشارہ بھی دیا تھا، جس کی اسرائیل ہمیشہ سے مخالفت کرتا رہا ہے۔

    ایک ترک عہدیدار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ یقیناً ہم نے رپورٹ کو بہت سنجیدگی سے لیا اور اپنے امریکی شراکت داروں کی پوری مدد کی، لیکن ہمارے لیے یہ بالکل واضح تھا کہ یہ رپورٹ کسی صورت سچی نہیں ہو سکتی، انقرہ جیسے سخت سیکیورٹی والے دارالحکومت میں اتنے بڑے میزائل پہنچانا اور ایسا حملہ کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اور ایران کبھی بھی ترکیہ کے ساتھ اپنے پرامن تعلقات خراب کرنے کا خطرہ نہیں مول لے سکتا۔

  • مکہ دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے،اسرائیلی وزیر

    مکہ دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے،اسرائیلی وزیر

    تل ابیب: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے پر اسرائیلی حکومت نے تشویش کا اظہار کیاہے-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے امور تارکین وطن نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اسرائیل کے لیے پریشان کن ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی دفاعی معاہدہ موجود ہے، جبکہ اب ترکیہ بھی اس تعاون کا حصہ بن گیا ہے، جس کے اسرائیل کے ساتھ براہ راست اختلافات ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ تینوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اسرائیل کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے،مکہ دفاعی معاہدے کو ’’انتہائی خطرناک پیش رفت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہے۔

  • جنوبی لبنان میں دھماکا: 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 4 شدید زخمی

    جنوبی لبنان میں دھماکا: 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 4 شدید زخمی

    اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہےکہ گزشتہ روز جنوبی لبنان کے قصبے مجدل زون میں دھماکا خیز مواد پھٹنے کے نتیجے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 4 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ سرحد کے قریب پیش آیا جہاں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں،اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز حزب اللہ کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت 34 سالہ میجر حارل بیرنسٹاک اور 33 سالہ سارجنٹ میجر تمیر واکنین کے نام سے ہوئی ہے، دونوں اہلکاروں کا تعلق 55ویں پیراٹروپرز بریگیڈ سے تھا۔

    اسرائیلی فوج کی ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کی دوپہر تقریباً 12 بجے ریزرو بریگیڈ کے اہلکار حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی غرض سے مجدل زون کی ایک عمارت میں داخل ہوئے تھےاہلکاروں کے عمارت میں داخل ہوتے ہی ایک زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک اور 4 شدید زخمی ہوگئے،زخمی فوجیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    یہ واقعہ لبنانی سرزمین کے اندر قابض فوج کے آپریشنز کے تسلسل کے سائے میں پیش آیا، واشنطن میں امریکی سرپرستی میں دستخط ہونے والے پرامن اور جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود، جو کہ جنوبی علاقوں میں دھماکے اور فائرنگ کے آپریشنز کے نفاذ کے ذریعے بار بار ہونے والی خلافورزیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

    قابض فوج کا ایک افسر گذشتہ ہفتے کے روز فجر کے وقت جنوبی لبنان کے علاقے علی الطاہر میں اسلامی مزاحمت "حزب اللہ” کے عناصر کے ساتھ جھڑپوں کے دوران زخمی ہو گیا تھا، جو کہ علاقے میں جاری میدانی کشیدگی کی علامت ہے۔

    قابض اسرائیل کی فورسز دو مارچ سنہ 2026ء سے لبنان پر اپنی عسکری جارحیت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں چار ہزار تین سو تتیس افراد شہید اور بارہ ہزار دو سو پچاس دیگر زخمی ہو چکے ہیں، جیسا کہ لبنانی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہے۔

    اس کے علاوہ قابض اسرائیل جنوب لبنان میں بعض ایسے علاقوں پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے جو دہائیوں سے ہیں، جبکہ دیگر علاقوں پر ان تصادمات کے بعد سے کنٹرول کیے ہوئے ہے جو اس علاقے نے سنہ 2023ء اور سنہ 2024ء کے درمیان دیکھے، اس کے علاوہ موجودہ جارحیت کے دوران لبنانی سرزمین کے اندر دس کلومیٹر سے زیادہ مسافت تک اس کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔

  • اسرائیلی عدالت نے فلسطینی قیدیوں کی جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑنے کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا

    اسرائیلی عدالت نے فلسطینی قیدیوں کی جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑنے کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا

    اسرائیل کی ایک عدالت نے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کے جنوبی اسرائیل کے صحرائے نقب (نیگیو) میں واقع کیتزیوت جیل کے اطراف کھودی گئی خندقوں میں مگرمچھ چھوڑنے منصوبے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے-

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے ان فلسطینیوں کے لیے مختص جیل کے حصے کے گرد خندقیں کھودنا شروع کر دی تھیں، جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا بن گویر کے منصوبے کے مطابق ان خندقوں میں مگرمچھ رکھے جانے تھے تاکہ انہیں حفاظتی اقدام اور باز رکھنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے مطابق یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے اتوار کی شام جانوروں کے حقوق کی تنظیم ’لیٹ دی اینیملز لِو‘ کی درخواست پر عارضی حکمِ امتناع جاری کیا اس منصوبے کی حمایت اسرائیل کی وزارتِ قومی سلامتی اور اسرائیلی جیل سروس کر رہی تھی۔

    عدالت کے جج ابراہم روبن نے حکام کو ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایدیت سلمن کے اس فیصلے پر عمل درآمد سے روک دیا، جس میں مگرمچھوں کو قانونی طور پر نگہداشت میں رکھے جانے والے جنگلی جانورقرار دیا گیا تھا اس قانونی درجہ بندی کے بعد انہیں جیل منتقل کرکے وہاں رکھا جا سکتا تھا۔

    عدالت کا یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب مذکورہ تنظیم نے تل ابیب یونیورسٹی کے ماحولیاتی انصاف اور جانوروں کے حقوق کلینک کے تعاون سے وزیر ایدیت سلمن، ایتامار بن گویر اور اسرائیلی جیل سروس کے خلاف انتظامی درخواست دائر کی۔

    عدالت کی جانب سے جاری عارضی حکم اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اسرائیلی حکام عدالت میں اپنا جواب جمع نہیں کرا دیتے، جس کی توقع اگست کے وسط تک کی جا رہی ہے تنازع کی بنیاد 15 جولائی کو وزیر ایدیت سلمن کا وہ فیصلہ ہے، جس کا مقصد مگرمچھوں کو جیلوں میں حفاظتی اور باز رکھنے کے ذریعےکے طور پر استعمال کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

    درخواست گزار تنظیم کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے مگرمچھوں کی قانونی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور ان پر بطور محفوظ جنگلی جانور لاگو نگرانی اور لائسنسنگ کے ضوابط ختم ہو جائیں گےاسرائیلی جیل سروس جیل کے گرد نہر نما خندق کی تعمیر سمیت بنیادی ڈھانچے پر کام شروع کر چکی ہے، جبکہ وزارتِ قومی سلامتی نے اس آزمائشی منصوبے کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ شیکل (تقریباً 69 لاکھ امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں یہ فیصلہ مناسب قانونی اختیار کے بغیر کیا گیا اور ماہرین کی ان آراء کو نظر انداز کیا گیا جن میں جانوروں، عوام اور ماحولیات کے لیے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔

    لیٹ دی اینیملز لِواور تل ابیب یونیورسٹی کے ماحولیاتی انصاف اور جانوروں کے حقوق کلینک نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس حکم سے فی الحال ایسے ناقابلِ واپسی اقدامات رک گئے ہیں جو منصوبے پر عمل درآمد کو آگے بڑھا سکتے تھے، جبکہ تنظیم اس منصوبے کو مستقل طور پر منسوخ کرانے کی کوشش جاری رکھے گی۔

    رپورٹ کے مطابق ایتامار بن گویر نے 2022 کے اواخر میں منصب سنبھالنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کی حراستی شرائط مزید سخت کر دی ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان پالیسیوں میں خوراک کی شدید قلت، طبی سہولیات سے محرومی، تشدد اور طویل تنہائی جیسی اقدامات شامل ہیں،فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 9 ہزار 500 فلسطینی قیدی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سخت حالات میں قید ہیں۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ بھوک، تشدد اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث درجنوں فلسطینی قیدی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • امریکا نے ایران کیخلاف  اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    امریکا نے ایران کیخلاف اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    لبنان کے صدر جوزف عون چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے تھے جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات بھی کی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اہم ملاقات امریکا اور لبنان کے صدور کے درمیان ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، شام کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا یہ ملک کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے،لبنان کو درپیش مسائل میں اس وقت حزب اللہ سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم امریکا نے اس حوالے سے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج دنیا جلد دیکھے گی۔

    ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات اور لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سابق صدر براک اوباما کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو ایران کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا،امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے،جب تک ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکا کی اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے جب صدر ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے تاہم کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی،ایران اردن میں ایک حملے میں امریکی دفا عی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے صدر ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں گزشتہ ماہ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے لبنان اور پورے خطے کو اب استحکام اور امن کی ضرورت ہے اور ان کا امن کا وژن صدر ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے،امید ہے کہ دونوں ممالک مل کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔

  • ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری،ٹرمپ کا اسرائیل کو درجنوں طیارے بھیجنے پر غور

    ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری،ٹرمپ کا اسرائیل کو درجنوں طیارے بھیجنے پر غور

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-

    رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم میٹنگ کی، جہاں انہوں نے کئی نئے فوجی منصوبو ں پر بریفنگ لی، اس بریفنگ کے بعد اب وہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری موجودہ حملوں سے ہٹ کر، ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایگزیوس نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایندھن بھرنے والے مزید طیارے بھیجنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

    جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کے جوہری مراکز پر نئے حملے کیے جائیں تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو زمین میں مزید گہرائی میں دفن کر دیا جائے اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے لیے ان ذخائر تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے تمام امکانات کو ختم کیا جا سکے۔

    اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو بھی بڑھا رہی ہے، تاہم ان نئے مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہےاگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس سے ان منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیل کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا اور فوجی آپشنز پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی اسرائیلی میڈیا خصوصاً ’چینل 12‘ کے مطابق، واشنگٹن اب ایران کے بجلی گھروں اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کی سب سے کمزور کڑی سمجھتا ہے۔

    یروشلم میں ہونے والے سیکیورٹی اجلاسوں کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں-

  • جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں، اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کے لیے خوفناک ترین منصوبہ

    جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں، اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کے لیے خوفناک ترین منصوبہ

    اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی ہائی سیکیورٹی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنانے کا ایک انتہائی متنازع اور خوفناک منصوبہ سامنے آیا ہے،جبکہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پہلا بڑا قانونی قدم اٹھا لیا ہے اس اقدام کا مقصد قیدیوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے ایک ناقا بلِ تسخیر حفاظتی دیوار تیار کرنا ہے-

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی، ایتمار بین گویر، نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باقاعدہ قانونی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے اس منصوبے پر عمل درآمد کے ذریعے جیلوں کے ارد گرد کا ماحول انتہائی سخت اور غیر معمولی بنا دیا جائے گا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک منصوبہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند وزیرِ داخلہ امور ’ایتمار بن گویر‘ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس کی راہ میں حائل سب سے بڑی قانونی رکاوٹ اب دور کر دی گئی ہے اسرائیلی وزیرِ ماحولیات ایڈتھ سلمان نے ایک خصوصی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مگرمچھوں کو ‘محفوظ جنگلی حیات’ کی فہرست سے نکال کر ‘زیرِ انتظام جنگلی جانوروں’ کا درجہ دے دیا گیا ہے، اس اہم قانونی تبدیلی کے بعد اب اسرائیل کی محکمہ جیل خانہ جا ت سمیت کوئی بھی سرکاری اتھارٹی مخصوص شرائط کے تحت مگرمچھوں کو اپنی تنصیبات میں رکھ سکے گی، اس سے قبل قا نون کے مطابق مگرمچھ صرف لا ئسنس یافتہ چڑیا گھروں میں ہی رکھے جا سکتے تھے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی محکمہ جیل خانہ جات نے اس منصوبے (جسے عبرانی میڈیا میں کروکوڈائیل پریزن کا نام دیا گیا ہے) پر کام شروع کر دیا ہے جیل حکام نے مگرمچھوں کی دیکھ بھال اور ان کو سنبھالنے کے طریقے سیکھنے کے لیے چڑیا گھروں کے دورے بھی شروع کر دیے ہیں۔

    حکام کا ماننا ہے کہ جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنانے سے نہ صرف سیکیورٹی ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی بلکہ انسانی گارڈز پر آنے والے اخراجا ت میں بھی واضع کمی آئے گی ایک اندازے کے مطابق ایک چھوٹے مگرمچھ کی قیمت لگ بھگ 8,000 ڈالر جبکہ بالغ مگرمچھ کی قیمت 20,000 ڈالر تک ہے۔

    واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کی مختلف جیلوں میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 9,500 فلسطینی قید ہیں انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیمو ں کی رپورٹس کے مطابق ان قیدیوں کو پہلے ہی بدترین حالات، تشدد، بھوک اور طبی لاپرواہی کا سامنا ہےجس کی وجہ سے درجنوں قیدی بیرکوں میں دم توڑ چکے ہیں اس نئے منصوبے کے سامنے آنے کے بعد تاحال اسرائیلی محکمہ جیل خانہ جات نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  • قطر نے ایران کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

    قطر نے ایران کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

    قطری حکومت نے ایک بیان میں اسرائیلی میڈیا کی ان غلط خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ قطر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

    قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض اسرائیلی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قطر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں اس قسم کی جھوٹی خبریں ایسے عناصر کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں جو قطر کو جاری علاقائی تنازع میں گھسیٹنا چاہتے ہیں، اس کے ثالثی کے کردار کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔

    قطری حکام نے واضح کیا کہ تنازع کے آغاز سے ہی قطر کا مؤقف مستقل اور واضح رہا ہے کہ وہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی میں نہ شر یک ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے قطر اپنے فعال سفارتی کردار کو گمراہ کن اطلاعات سے متاثر نہیں ہونے دے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا قطر علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ موجودہ کشیدگی کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے اور ایسا جامع اور دیرپا معاہدہ طے پائے جو تمام متعلقہ فریقوں کے تحفظات کو دور کر سکے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق قطر گزشتہ کئی برسوں سے مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اسی لیے دوحہ اپنی غیر جانب دار سفارتی پالیسی پر زور دے رہا ہے۔

  • اسرائیلی فوج کا حماس کے بحری کمانڈر سمیت 4 ارکان شہید کر نے کا دعوی

    اسرائیلی فوج کا حماس کے بحری کمانڈر سمیت 4 ارکان شہید کر نے کا دعوی

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں الگ الگ فضائی حملوں کے دوران حماس کی بحریہ کے ایک کمانڈر سمیت تنظیم کے4 ارکان کو شہید کر دیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے علاقے میں پیر کے روز کیے گئے حملے میں حماس کے نیول ارے کے سیل کمانڈر اسامہ نعیم حمدی شملخ کو نشانہ بنایا گیا حماس کی بحری شاخ سمندری کارروائیوں اور کمانڈو سرگرمیوں میں کردار ادا کرتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ شمالی غزہ میں ایک اور فضائی حملے میں حماس کے مزید 3 ارکان شہید ہوئے اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد اسرائیلی دفاعی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے ان دعوؤں کے حوالے سے مزید شواہد جاری نہیں کیے، جبکہ حماس کی جانب سے بھی فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل یا شہادتوں کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری ہیں ، جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں اب تک مزید ایک ہزار 98 فلسطینی جاں بحق اور 3 ہزار 535 زخمی ہو چکے ہیں اسرائیلی فوج نے گزشتہ روزفضائی حملے کے بعد پھر علاقے سے انخلا کا حکم بھی دے دیا ہے فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے غزہ کے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں 73 ہزار 223 فلسطینی جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 73 ہزار 654 زخمی ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیلی وزیر دفاع کی ایرانی قیادت کو مستقبل میں نشانہ بنانے کی دھمکی

    اسرائیلی وزیر دفاع کی ایرانی قیادت کو مستقبل میں نشانہ بنانے کی دھمکی

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےدعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو اس منصوبے کی وجہ سے نشانہ بنایا جس کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا تھا۔

    اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 13 کے مطابق وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو اس منصو بے کی وجہ سے نشانہ بنایا جس کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا تھا اگر مستقبل میں کوئی بھی ایرانی رہنما اسی نوعیت کی پالیسی اختیار کرتا ہے تو اسرائیل اسے بھی نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسر ائیل کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گا جسے وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہو اور ضرورت پڑنے پر پیشگی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب تہران میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور جنازے کی تقریبات جاری ہیں ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور سفارتی کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں-