Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی اکثریتی دیہات اسرائیل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکیں، تاہم متعلقہ مسیحی دیہات نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے-

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے کچھ مسیحی دیہات نے خود اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کے مخالف ہیں اور اسرائیل انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے یہ دیہات امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور حزب اللہ سے محفوظ رہنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں تاہم انہوں نے نہ تو ان دیہات کے نام بتائے اور نہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مزید تفصیل فراہم کی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات نے جمعہ کو سامنے آنے والی ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں دی کسی فرد یا مقامی ادارے کو ایسا فیصلہ کرنے کا نہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی قانونی حق وہ اپنی سرزمین پر قائم ہیں اور لبنانی پرچم سے مکمل وفاداری رکھتے ہیں، یہی ان کی قومی شناخت ہے اور وہ اس پر قائم رہیں گے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت لبنان کی ایک انچ زمین بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گی تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا یہ بیان انہی مسیحی دیہات کے تناظر میں تھا یا اسرائیل کے قائم کردہ نام نہاد سیکیورٹی زون کے حوالے سے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد سیکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے، جبکہ وہ وقفے وقفے سے جنوبی لبنان میں فضائی اور زمینی حملے بھی کرتا رہا ہے 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 300 لبنانی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی بمباری اور گھروں کی تباہی کے باعث تقریباً 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    بعد ازاں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کی حکومت، جس کی قیادت صدر جوزف عون کر رہے ہیں، کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقوں سے انخلا کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات پر گولہ باری اور بمباری کی، کئی دیہات کو خالی کرایا، جبکہ بعض مقامات پر مقامی آبادی نے اسرائیلی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ان دیہات کا شہری انفراسٹرکچر، رہائشی مکانات اور دیگر املاک بھی شدید متاثر ہوئیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈرز مبینہ طور پر فون پر دیہات کے میئروں سے رابطہ کر کے مطالبہ کرتے رہے کہ حزب اللہ کو ان علاقوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

  • ایران کا ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعاد

    ایران کا ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعاد

    تہران: ایران نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کاز اور آزادی کی جدوجہد کی ہر ممکن سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا انہوں نے واضح کیا کہ تہران اس مقصد کے لیے اپنی تمام ممکنہ سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، فلسطینی مسئلہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ایران مستقبل میں بھی فلسطینی عوام کے ساتھ اپنے تعاون اور حمایت کو برقرار رکھے گا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کو اپنی مستقل پالیسی سمجھتا ہے اور اس مؤقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی، ایران خطے میں امن، انصاف اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور فلسطین کے مسئلے پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ایران کی جانب سے فلسطینی کاز کی حمایت کے اس اعادے کو خطے میں جاری سفارتی پیش رفت کے تناظر میں ایک اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اسرائیل کا ایران جنگ کے دوران  امارات میں جنگی آلات اور اپنے فوجی بھیجنے کا انکشاف

    اسرائیل کا ایران جنگ کے دوران امارات میں جنگی آلات اور اپنے فوجی بھیجنے کا انکشاف

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے حالیہ ایران جنگ کے دوران امارات میں آئرن ڈوم سسٹم اور درجنوں اسرائیلی فوجی بھیجے۔

    یروشلم پوسٹ اور دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس نے 26 اپریل کو اسرائیل کی جانب سےاس اقدام کی اطلاع دی تھی اس وقت اس رپورٹ کو "غیر ملکی ذرائع” سے منسوب کیا گیا تاہم اب اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ مری ریجیو نے عوامی سطح پر اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے،متعدد اسرائیلی حکام نے کہا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی امارات کے صدر محمد بن زید کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے بعد آئرن ڈوم بیٹری اور انٹرسیپٹرز بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ اگر اسرائیلی حکام کا یہ دعویٰ درست ہے تو اسرائیلی آئرن ڈوم کو اسرائیل سے باہر آپریشنل طور پر استعمال کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہوگا۔

  • اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے جارحیت کر رہا ہے،ترک صدر

    اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے جارحیت کر رہا ہے،ترک صدر

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی دونوں ممالک کی یہ یکجہتی برقرار رہے گی۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہاکہ پاکستان اور ترکیہ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی دونوں ممالک کی یہ یکجہتی برقرار رہے گی،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) عالمی امن کے لیے انتہائی اہم پیشرفت ہے اور ترکیہ اس پر دستخط کا خیرمقدم کرتا ہے،ترکیہ پاکستان کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔

    ترک صدر نے کہاکہ امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور ترکیہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،دونوں ممالک امن اور خوشحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں ا ضافے کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے اپنی کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے،صدر اردوان نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں پر کہا کہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے جارحیت کر رہا ہے، تاہم ترکیہ اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے بلوچستان میں پیش آنے والے بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت بھی کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کی پرتپاک میزبانی اور شاندار استقبال پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ دلوں کے رشتے ہیں، جن کی بنیاد مشترکہ تاریخ، مذہبی و ثقافتی اقدار اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں، خصوصاً علی برادران، نے ترک عوام کی بھرپور حمایت کی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ہمیشہ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی، پاکستان اور ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے چاہے جنگ ہو، زلزلہ، سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت، ترکیہ ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔

    وزیراعظم نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران مظفرگڑھ سمیت مختلف متاثرہ علاقوں میں ترکیہ کی امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترک عوام کی محبت اور تعاون پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے زلزلہ متاثرہ علاقوں کی بحالی اور سماجی و معاشی ترقی میں ترکیہ کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ “دو دل، ایک جان” ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا جلال الدین رومی اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی تعلیمات دونوں اقوام کے لیے مشترکہ فکری سرمایہ ہیں، جو بھائی چارے، محبت اور انسانیت کا درس دیتی ہیں۔

    وزیراعظم نے صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ کی صنعتی، اقتصادی اور سماجی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ترقیاتی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکیہ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، بنیادی ڈھانچے، خصوصی اقتصادی زونز اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے، جبکہ علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔

  • مجتبیٰ خامنہ ای نشانے پر ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    مجتبیٰ خامنہ ای نشانے پر ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایر ان کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ سے فوجی حملے کرنے کا فیصلہ کریں گےیا اگر ایران نے اسرائیل پر کوئی بھی میزائل یا ڈرون داغا تو صرف دو دن کے اندر باضابطہ طور پر جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ اس وقت ایرانی قیادت بنکروں میں چھپی ہوئی ہے اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہمارے نشانے پر ہیں،اسرائیلی فوج نے آزادانہ کارروائی کے لیے ’بلیو اینڈ وائٹ‘ نامی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور ایران کے اندر گھس کر نشانہ بنانے کا پورا پلان تیار ہے،اگر امریکا اور ایر ان کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ سے فوجی حملے کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

    تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اس وقت قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والی سفارتی کوششوں اور بات چیت کو خراب نہیں کرنا چاہتا، لیکن جب بات اپنے ملک کی حفاظت اور دفاع کی ہو تو لبنان ہو یا ایران، کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ہم نے اپنا یہ سخت موقف امریکی حکام کو بھی صاف صاف بتا دیا ہے کہ اسرائیل اپنی زمین پر کسی بھی میزائل حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اسرائیلی فوج دفاع اور حملے دونوں کے لیے بالکل تیار کھڑی ہے، اور اگر کوئی بڑا خطرہ نظر آیا تو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے ایران پر فوری حملہ کر دیا جائے گا۔

  • امریکی کانگریس میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ کاسر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریپبلکن رکن تھامس میسی کی پیش کردہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے جس میں اسرائیل کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہےاسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور امریکا کو ایران کے ساتھ تنازع میں الجھانے میں کردار ادا کیا اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کو مزید ہتھیاروں کی مالی معاونت نہیں کرنی چاہیے۔

    مجوزہ ترمیم میں نہ صرف اسرائیل کے لیے 3.3 ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے بلکہ محکمہ خارجہ کے بجٹ میں اسرائیل کے لیے مختص فنڈز بھی منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے،دوسری جانب تھامس میسی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار ایڈ گیلرین کے ہاتھوں ریپبلکن پرائمری انتخاب ہار گئے تھے۔

    یہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی تاریخ کا سب سے مہنگا پرائمری انتخاب قرار دیا گیا جس میں میسی کے خلاف 32 ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے گئے جبکہ اس فنڈنگ کا بڑا حصہ اسرائیل نواز تنظیموں اور ٹرمپ کے حامی گروپوں کی جانب سے آیا،کانگریس میں اس ترمیم پر رواں ہفتے ووٹنگ متوقع ہے جس پر امریکا کی اسرائیل پالیسی کے حوالے سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک نئی فوجی کارروائی کی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں حزب اللہ کے زیرِ زمین عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا،کارروائی کے دوران تقریباً 200 میٹر لمبی زیرِ زمین سرنگ کو تباہ کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق اس حملے سے قبل امریکا کو بھی کارروائی سے آگاہ کر دیا گیا تھا یہ کارروائی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی گئی، تاہم لبنان یا حزب اللہ کی جانب سے اس کارروائی پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے راہ ہموار کرنا بتایا گیا تھا،گزشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخط ہوئے تھے، اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے جنہوں نے کہا تھا کہ امید ہے فریم ورک سے لبنان میں امن کے لیے پیش رفت ہوگی، ہم چاہتے ہیں لبنان اور اسرائیل کے لوگ محفوظ مستقبل کی زندگی گزارسکیں جب کہ لبنانی سفیر نے کہا کہ معاہدہ لبنان کی خود مختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔

  • ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹار لنک تہران اسمگل کیاتھا، سابق اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹار لنک تہران اسمگل کیاتھا، سابق اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں اسرائیل نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹارلنک انٹرنیٹ ریسیورز اسمگل کیے تھے۔

    خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یروشلم میں نفتالی بینیٹ، جو ایک دائیں بازو کی جماعت کے سربراہ ہیں اور آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کے ممکنہ سیاسی حریفوں میں شمار ہوتے ہیں نے جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا تھا جس کے تحت ایران میں دسیوں ہزار اسٹارلنک ریسیورز حاصل کرکے خفیہ طور پر پہنچائے جانے تھےان آلات کا مقصد ایران میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی کو برقرار رکھنا تھا تاکہ حکومت مخالف مظاہرین باہمی رابطہ اور تنظیم سازی جاری رکھ سکیں، یہ منصوبہ ایرانی مظاہرین کو منظم کرنے اور بالآخر ایرانی حکومت کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا تھا، ان کے بقول، بدقسمتی سے موجودہ نااہل اسرا ئیلی حکومت نے اس عمل کو روک دیا، اور جب احتجاجی تحریک اٹھی تو مطلوبہ انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بینیٹ کے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ اسپیس ایکس کی جانب سے بھی امریکی کاروباری اوقات کے اختتام کے باعث کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ ایرانی حکام ماضی میں ملک میں احتجاجی مظاہروں اور بدامنی کے دوران انٹرنیٹ سروس معطل کرتے رہے ہیں رواں سال جنوری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج اور بعد ازاں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران بھی انٹرنیٹ تک عوامی رسائی محدود کر دی گئی تھی انٹرنیٹ بندش کے دوران کچھ ایرانی شہریوں نے رابطے برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک سروس کا استعمال کیا۔

    اسٹارلنک، امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جو زمینی انفراسٹرکچر کے بغیر انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے ایران ماضی میں اسرائیل اور امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسے آلات ایران میں اسمگل کرتے ہیں اگرچہ اسٹارلنک کو ایران میں باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجاز ت حاصل نہیں، تاہم ایلون مسک پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ سروس ایران میں فعال ہے۔

  • اسرائیل نے لبنان میں  فضائی حملے روک دیئے

    اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے روک دیئے

    نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے روکنے کا خیرمقدم کیا ہے-

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی، مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

    ترجمان نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جار ی رہے گاصورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔

  • لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان کے نبطیہ کے قریب کفر تبنیت گاؤں میں قائم اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ کو راکٹوں کی بوچھاڑ اور ایک دھماکا خیز ڈرون سے نشانہ بنایا گیا،اس حملے میں 21 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس نیر بن آری ہلاک ہوگئے جو کمانڈو بریگیڈ کی مگلان یونٹ سے تعلق رکھتے تھے،اسی حملے میں 13 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک کے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ تین روز میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے اس حملے کے فوراً بعد جنوبی لبنان کے نبطیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے اور ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسرائیلی فوجی ٹینک پر حملے میں بھی بٹالین کمانڈر اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جب کہ اس سے ایک روز قبل ایک اور ملٹری وہیکل بارودی سرنگ دھماکے میں تباہ ہوگئی تھی۔