Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیلی حکام نے فلسطین ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا ہے-

    اطلاعات کے مطابق نٹالی ابو دایہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر کیے گئے چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ رند الحلاوانی کو مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس اسٹیشن طلب کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

    فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کھیلوں کے عالمی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ایسوسی ایشن نے فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر نشانہ بنانا ناقابل قبول عمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے بلکہ کھیلوں کی دنیا میں بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

  • امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے دونوں فریق 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

    امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہےدونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیل پر مکمل طور پر حملے بند کیے جائیں گے اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہو گا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہو گا، غیر ریاستی عناصر وہاں داخل نہیں ہو سکیں گےاسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کیے جائیں گے اور جامع معاہدہ کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
    دئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4ہو گئی ہے جبکہ50 سے زائد افراد زخمی ہیں ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں 2 لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.

    لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.

    اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں، ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.

    عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

    دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

  • حزب اللہ  اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان امریکی تجویز کے تحت جزوی جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔

    لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے رابطے کے بعد لبنانی حکام نے تصدیق کی کہ حزب اللہ نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کی سفیر ندا معوض کو بتایا کہ نیتن یاہو بھی اس منصوبے پر آمادہ ہیں۔

    واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کے مطابق حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی جبکہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے بند کرے گا، منگل اور بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو پورے لبنان تک توسیع دینے پر بات چیت کی جائے گی، اس سے قبل اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہاتھا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہےاعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

  • پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس فیصلے سے اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر دیا ہے پابندی کے تحت اسرائیل کو اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے پیرس میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاع سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالو جی کی نمائش کی اجازت ہوگی،تاہم وزارت نے اس فیصلے کی تفصیلات یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

    فرانسیسی حکام نے اس رپورٹ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی سرکاری عہدیداروں کو نمائش میں شرکت سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’باعثِ شرم فیصلہ‘ قرار دیا،کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے لیے حیران کن نہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں فرانس کے رویے میں ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جو اسرائیل کے مطابق اسے تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اور اسرائیل کے تعلقات 2023 کے اواخر سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، پیرس نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر متعدد بار تنقید کی ہے،اسی طرح رواں سال ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس فیصلے پر بھی احتجاج کیا تھا جس میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا فرانس نے گزشتہ سال بھی غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو یوروسیٹری دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    یہ اسلحہ نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں اس سال دنیا کی سب سے بڑی دفاعی اور اسلحہ نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروسیٹری میں 2,600 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے،یہ نمائش 15 جون سے پیرس میں شروع ہوگی۔

  • اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں قدامت پسند یہودیوں کا صیہونیت کیخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

    اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا کہنا ہے کہ ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے-

    عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.

    مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے“ جبکہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“

    اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے،جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے،تاہم اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.

    اب یہ قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.

  • اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کی جانب سے لبنان میں تقریخی قلعے بیفورٹ پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جارحیت کو وسعت دینے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ایک ہنگامی اجلا س کرے گی، اجلاس کی درخواست فرانس کی طرف سے کی گئی تھی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں جاری بڑی کشیدگی کا کو ئی جواز نہیں بنتا، انہوں نے لڑائی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ لبنان پر جنگ اُس وقت مسلط کی گئی جب حزب اللہ نے امریکی اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کے بدلے میں اسرائیل کی طرف راکٹ داغے۔

  • امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے-

    رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا، اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عا ئد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا،اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔

  • اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے،نیتن یاہو

    اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے،نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بھارت سے بے پناہ محبت مل رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بڑی طاقت قرار دے دیا۔

    غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھارت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو سراہا جبکہ دنیا بھر میں ایران اور لبنان پر حملوں کی وجہ سے اسرائیل کو تنقید کا سامنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے لیکن بھارت سے منفرد تعلقات کی تعریف کی اور ان تعلقات کو بڑی طاقت قرار دیا،کہا کہ ہمیں دنیا کے کئی ممالک میں اپنی قانونی حیثیت پر مسائل کا سامنا ہے لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے، بھارت میں اسرائیل کو دیوانہ وار تعاون مل رہا ہے، انتہائی دیوانہ وار تعاون مل رہا ہے۔

    مغربی کنارے میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران نریندر مودی سے اپنے تعلقات کی تعریف کی اور کہا کہ میرے خیال میں سب سے زیادہ فالوورز سب سے زیادہ ہیں، اتنے دنیا میں کہیں اور نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ یہ نیتن یاہو کی جانب سے بھارت میں اپنی مقبولیت سے متعلق یہ پہلا بیان نہیں ہے بلکہ اس سے قبل 2018 میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ نئی دہلی کے دورے کو انہوں نے ‘لوو فیسٹ’ قرار دیا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اب بھی اسرائیل کی عزت کی جاتی ہے، بھارت کی آبادی 1.4 ارب ہے اور وہاں اسرائیل بہت مقبول ہے، اسی طرح یہاں نریندر مودی کو پسند کیا جاتا ہے اور میں اپنی اہلیہ کے ساتھ بھارت گیا جو محبت کا جشن تھا۔

  • مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل  کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    مسلم ممالک اتحاد میں اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی،ترک وزیر خارجہ

    ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے تو وہ بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کے مجوزہ سیکیورٹ اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔

    ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جاپانی اخبار نکی ایشیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کر دیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کو شامل کیا گیا ہےترک وزیرِ خارجہ نے اس اتحاد کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ تمام ریاستوں کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ اتحاد پاکستان سے خلیجِ فارس تک پھیلے ممالک کو ایک مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں جوڑ سکتا ہے مستقبل میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ اسرائیل کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہو گی، اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ہاکان فیدان کے یہ بیانات اس سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا ذکر کیا تھاابراہم معاہدے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ایک معاہدہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں ہوا تھا۔

    ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے دونوں ممالک 1949 سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور غزہ جنگ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ترکیہ نے اس تجارتی سلسلے کو معطل کر دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے تجارت معطل کرتے وقت اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتلِ عام روکنا ہوگا اور غزہ کے عوام کو خوراک، رہائش، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی دینے میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو تعلقات معمول پر لانے میں کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ ترکیہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ترکیہ کو ممکنہ علاقائی حریف قرار دینے کے بیانات پر بھی تنقید کی، انہوں نے کہا کہ اسرا ئیل کی داخلی سیاست میں اکثر ایک ’دشمن‘ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ اس کے جنگی عزائم کو جواز فراہم کیا جا سکے ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ اسر ا ئیل صرف اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ مزید علاقوں پر قبضے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ہاکان نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنا چاہئےجو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی نظامِ امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہےانہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت ناگزیر ہے، جس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول مشکل ہوگا۔