Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ

    اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ :3ارب ڈالرسے زائد کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ

    واشنگٹن : اسرائیل کو مزید طاقتور کرنے کا امریکی منصوبہ : تین ارب ڈالر کے جنگی سامان کی خریداری کا معاہدہ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت نے امریکا سے تین ارب ڈالر کے عوض 12 ہیلی کاپٹر اور فضا میں ری فیولنگ کرنے والے دو جہاز خریدنے کا معاہدہ طے کیا ہے۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس معاہدے کو اسرائیلی ائیر فورس کی استعداد کو بڑھانے کے لئے طے کیا گیا ہے اور اسرائیل کے پاس اختیار ہے کہ وہ چھ مزید ہیلی کاپٹر خرید سکے گا۔

    اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق دونوں ری فیولنگ جہاز 2025 کے بعد اسرائیل کے حوالے کئے جائیں گے جبکہ ہیلی کاپٹروں کا پہلا آرڈر 2026 میں اسرائیلی فوج میں شامل ہوگا۔

    اسرائیلی فوج کے بریگیڈئیر جنرل شمعون سینسپر کے مطابق اسرائیل نے چار ری فیولنگ جہاز خریدنے ہیں اور اس آرڈر کی جلد از جلد ڈیلیوری پر زور دیں گے۔

    دوسری طرف اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم جاری ہیں‌ فلسطین کی انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے متعدد علاقوں من جملہ نابلس، الخلیل اور قلقیلیه میں صیہونی فوجیوں کے حملے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں ۔ صیہونی فوجیوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کے شیل داغے۔

    چند روز قبل بھی غرب اردن کے صوبے نابلس کے برقہ علاقے پر بھی صیہونی فوجیوں کے حملے میں کم سےکم 127 فلسطینی زخمی ہوئے تھے ۔ زخمیوں میں سے 5 کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ زخمی ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق شمال مغربی شہر نابلس کے فلسطینی علاقے برقہ سے ہے۔

     

     

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔

  • فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

    فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

    جنیوا :فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطینی بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کا اسرائیل سے مطالبہ کردیا۔

    ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ معصوموں کا بچپن مت چھینو، تعصب اور تشدد بند کرو، فلسطینی بچوں کو تحفظ فراہم کرو.

    ۔ 7 سال کی عمر سے اپنی صحافت سے دنیا بھر میں دھوم مچانے والی بہادر فلسطینی لڑکی جَنّیٰ جہاد کی کہانی ایمنسٹی کی نئی مہم کا حصہ بن گئی۔ اپنی ویڈیوز کے ذریعے جَنّیٰ جہاد نے دنیا کو اسرائیلی فوج کے مظالم کا حقیقی چہرہ دکھایا۔

    رپورٹنگ سے روکنے کے لیے اسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں، کیمرا توڑ دیا، لیکن ننھی فلسطینی لڑکی اپنے عزم پر ڈٹی رہی۔ جَنّیٰ جیسے ہزاروں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایمنسٹی نے دنیا بھر سے لوگوں کو اسرائیل کے خلاف احتجاجی مہم کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔ (ایجنسی )

  • اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا

    تل ابیب :اسرائیل نے شامی بندرگاہ پر میزائلوں سے حملہ کردیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کی بندرگاہ لطاکیہ پر ایک مہینے میں دوسری بار حملہ کیا ہے۔

    شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لطاکیہ پر فضائی حملہ کیا گیا، اسرائیل نے لطاکیہ پورٹ پر متعدد میزائل داغے، اسرائیلی میزائلوں نے لطاکیہ پورٹ کےکنٹینریارڈ کو نشانہ بنایا،جس سے وہاں آگ لگ گئی اور بھاری مالی نقصان ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میزائلوں سے قریب موجود ایک اسپتال اور چند رہائشی عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔شامی حکام کی جانب سے حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوجی ترجمان نے شام میں فضائی حملےکی خبرپر ردعمل سےگریز کرتے ہوئے کہا ہےکہ غیرملکی میڈیا کی خبروں پر ردعمل نہیں دیتے۔اس سے قبل 7 دسمبر کو بھی اسرائیل کی جانب سے لتاکیہ پورٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    امریکی اتحاد کے ترجمان کول ہارپر کا کہنا تھا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کے اعلان کے مطابق ان کا کردار جنگی سے مشورتی میں تبدیل ہو جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی سربراہی میں نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ عالمی اتحاد کی عراق میں کوئی فوجی چھاونی نہیں ہے۔

    ہارپر نے الجزیرہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اتحاد کے فوجی، صوبہ الانبار کی عین الاسد چھاونی، کردستان علاقے میں اربیل اور بغداد میں مشترکہ آپریشنل کمانڈ سینٹر میں موجود ہیں۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ عالمی اتحاد نے ابھی تک عراق میں جنگی کردار ادا نہیں کیا ہے بلکہ ان کی نئی ذمہ داری، عراقی فوج اور کرد میلیشیا پیشمرگہ کی ٹریننگ اور ان کو مشورے دینا ہے۔

    امریکی فوج کے اس کمانڈر نے کہا کہ عالمی اتحاد کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے بلکہ عراقی حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق اتحاد کے فوجیوں کا کردار جنگی سے مشورتی کردار میں بدل جائے گا، اسی لئے اس نئے کردار کے ساتھ عراق میں ہمارا باقی رہنا، بغداد حکومت کی درخواست کی وجہ سے ہے۔

    ہارپر کا کہنا تھا کہ عراق کے اندر امریکی فوجیوں پر ہونے والے نقصان کے بارے میں امریکی اتحاد کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔

  • اسرائیل بہت چھوٹا سا ہے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے، اتحاد امت کانفرنس

    اتحاد امت کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اسرائیل بہت چھوٹا سا ہے کوئی حیثیت ہی نہیں ہے-

    باغی ٹی وی :ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس میں صدر ملی یکجہتی کونسل علامہ ابو الخیر محمد زبیر، اور سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے شرکت کی کانفرنس میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے شرکت کی علاوہ ازیں ایرانی سفیر محمد علی حسینی بھی کانفرنس میں شریک ہوئے مقررین نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے-

    علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ تمام امہ مسلمہ کو تقسیم کیا ہوا ہے، اتحاد پر ہمارا ایمان ہے،امریکہ مسلمانوں کا دشمن ہے،اتحاد کی سوچ دن بدن بڑھ رہا ہے،پاکستان کی سر زمین پر ملی یکجہتی کونسل امید ہے،پاکستان کے تمام علماء دشمن کے منصوبوں کو شکست دیں گے تمام علماء ایک ہی پلیٹ فارم پر ایک ہیں-

    پیپلزپارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں کرتی،جیالے تیاری پکڑیں، کٹھ پتلی کے خلاف اب وار کا وقت آگیا…

    راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ سب دنیا جانتی ہے کہ دشمن نے مسلمانوں کی طاقت کو تقسیم کیا تقسیم در تقسیم کے فارمولے پر ہمیں الگ کیا گیا وحدت ایک اصل ہے جس کا اعلان امام حمینی نے کیا اسرائیل کی کوئی حیثیت نہیں لیکن انہوں نے مسلمانوں کو تقسیم کیا مسلم امہ کے تمام دردوں کی دوا وحدت کو قرار دیتے ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے کہ مسلمانوں کو یکجہتی کی ضرورت ہےسب سے بڑا شیطان امریکہ ہےامریکہ نے مسلم امہ کی طاقت توڑ دی-

    راجہ ناصر عباس نے کہا کہ علامہ اقبال نگاہ نافظ سے دیکھ رہے تھے پاکستان کی سرزمین پر ملی یکجہتی کونسل ایک نعمت ہے پاکستان اس دور سے نکل گیا ہے جب یہاں انتہائی خراب صورتحال پیدا کردی گئی تھی امریکہ چاہتی ہے یہاں تفرقے اور بد امنی ہو جب تک علما زندہ ہے ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا پاکستان میں وحدت سے ہی امن آئے گا،ہم خوشحال ہوں گےوحدت سے پاکستان خوشحالی کی جانب بڑھے گا-

    گزشتہ تین سالوں کے دوران تسلسل کیساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،حکومت کا اعتراف

    نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم نے کہا کہ یہاں موجود سب کا حاضرین کاشکریہ اہل تشیع کے علما کا شکریہ آپ یہاں ایران اور تہران کی نمائندگی کررہے ہیں وہ دن جلد آئے گا جب امت مسلمہ یک جہت ہوگی اللہ۔ہمیں کلمہ کے بنیاد پر یکجہتی کی توفیق عطا فرمائے-

    پاکستان میں ایران کے سفیر محمد علی حسینی نے کہا کہ میں اس پروقار مجلس پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتا ہوں ہر قدم امت مسلمہ کی اتحاد کیلئے اٹھانا خوش آئند ہے آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں کیلئے یکجہتی کا راستہ کھولا انہوں نے امت مسلمہ کی اتحاد کو مضبوط کرنے کیلئے کوششیں کی مغرب اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسلاموفوبیا کی خاتمے کیلئے کوششوں کو سراہتا ہوں-

    مولانا نظیر سلامی نے کہا کہ ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ آج ہم ایک جگہ پر اکٹھے ہیں میری لئے آج دو خوشیاں ہیں تمام مسالک کے شخصیات یہاں موجود ہیں 42 سال پہلے یہاں مسلکی ہم آہنگی نہیں تھی ایک مسلک کے لوگ دوسرے مسلک کے ساتھ ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے تھےآج ایسا کچھ بھی نہیں اور ہم ساتھ بیٹھے ہیں استعماری قوتوں نے سائے تلاش کی اور وحدت کا خاتمہ کیا 10ہجری میں دنیا کے اکثر ممالک میں خلافت عثمانیہ کی حکومت تھی حلافت عثمانیہ مسلمانوں کی اتحاد کا نمونہ تھا سلاطین مغل بھی اسلامی ذہن رکھتے تھے-

    آئندہ قومی الیکشن میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا کیا جائےگا ،سینیٹر مولانا عطا الرحمان

  • خبردار:’معمولی غلطی پر ہاتھ کاٹ دیں گے، ایران کی اسرائیل کودھمکی

    خبردار:’معمولی غلطی پر ہاتھ کاٹ دیں گے، ایران کی اسرائیل کودھمکی

    تہران :’معمولی غلطی پر ہاتھ کاٹ دیں گے‘، ایران کی اسرائیل کودھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایران نے فوجی مشقوں کے دوران 15 مختلف بیلسٹک میزائل فائر کرکے اسرائیل کو وارننگ دے دی۔ادھر ایران کی اسرائیل کو دھمکی کے بعد خطے میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے ، ایرانی فضائیہ تیار بیٹھی ہے

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے پانچ روزہ فوجی مشقوں کے دوران 15 مختلف بیلسٹک میزائل فائر کیے جسے ایرانی فوجی حکام نے اسرائیل کے لیے ایک وارننگ قرار دیا ہے۔

    اس حوالے سے ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف کا کہنا تھا کہ یہ فوجی مشقیں صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے دھمکیوں کا جواب ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مشقوں کے دوران داغے گئے 16 میزائلوں نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا جب کہ مشقوں کا حصہ بننے والے سیکڑوں ایرانی میزائل ایران پر حملہ کرنے کی جرات کرنے والے ملک کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ایرانی جنرل کا کہنا تھا کہ فوجی مشقیں اسرائیلی ریاست کے لیے سنگین وارننگ ہیں لہٰذا ایران کے خلاف معمولی سے بھی غلط ہوئی تو ہم ان کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران جوہری مذاکرات کے معاملے پر بلیک میلنگ کررہا ہے لہٰذا عالمی برادری اس سے سختی سے پیش آئے اور اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ایران پر کل حملہ کرسکتے ہیں۔

  • ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں‌:نامزد اسرائیلی ائیرچیف

    ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں‌:نامزد اسرائیلی ائیرچیف

    تل ابیب : ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں‌:نامزد اسرائیلی ائیرچیف نے دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے نامزد ائیرچیف نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل کل ہی ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کرسکتا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایک بیان میں اسرائیلی فضائیہ کے نامزد ائیرچیف جنرل ٹومر بار نے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایران کے جوہری پروگرام پر مستقبل قریب یا کل ہی کامیابی سے حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

    جنرل ٹومر کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل کامیابی کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر کل حملہ کرسکتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق جنرل ٹومر اپریل میں اسرائیلی فضائیہ کی کمان سنبھالیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل بہت آسانی کے ساتھ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کرسکتا ہے، یہ ہم سے صرف ایک ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسرائیل کے جوہری پروگرام کو چلنے دیں۔

    یاد رہے کہ امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون کل بدھ کے روز تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور اسرائیل کے دفاع اور خارجہ امور کے وزرا سے ملاقات کی ہے ۔ سولیون گذشتہ روز ایک روز دورے پر تل ابیب پہنچے تھے۔ دورے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا ہے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا گیا تھا کہ سولیون ایران اور دیگر موضوعات پر مشاورت کے لیے اسرائیل اور مغربی کنارے کا دورہ کریں گے۔

    قومی سلامتی کے مشیر ایال ہلاتا اور ان کے امریکی ہم منصب جیک سلیوان ایک دو طرفہ فورم کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جو ایران اور دیگر علاقائی معاملات پر بات چیت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "وفود نے ایران کی طرف سے لاحق خطرات کے تمام پہلوؤں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا، بشمول اس کے جوہری پروگرام، خطے میں عدم استحکام کی سرگرمیوں اور دہشت گرد پراکسی گروپوں کی حمایت”۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کا تیزی سے آگے بڑھنے والا جوہری پروگرام خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    سلیوان، جو یروشلم کا دورہ کر رہے ہیں، نے ویانا میں جاری جوہری مذاکرات کے بارے میں اسرائیلیوں کو بھی اپ ڈیٹ کیا اور بیان کے مطابق "دونوں فریقوں نے آگے بڑھنے کے لیے خیالات کا تبادلہ کیا۔”

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔”

  • امریکا اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات:ایرانی جوہری پروگرام کوخطے لیے خطرہ قراردیا

    امریکا اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات:ایرانی جوہری پروگرام کوخطے لیے خطرہ قراردیا

    امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون آج بدھ کے روز تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور اسرائیل کے دفاع اور خارجہ امور کے وزرا سے ملاقات کی ہے ۔ سولیون گذشتہ روز ایک روز دورے پر تل ابیب پہنچے تھے۔ دورے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا ہے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا گیا تھا کہ سولیون ایران اور دیگر موضوعات پر مشاورت کے لیے اسرائیل اور مغربی کنارے کا دورہ کریں گے۔

    قومی سلامتی کے مشیر ایال ہلاتا اور ان کے امریکی ہم منصب جیک سلیوان ایک دو طرفہ فورم کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جو ایران اور دیگر علاقائی معاملات پر بات چیت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

     

    وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "وفود نے ایران کی طرف سے لاحق خطرات کے تمام پہلوؤں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا، بشمول اس کے جوہری پروگرام، خطے میں عدم استحکام کی سرگرمیوں اور دہشت گرد پراکسی گروپوں کی حمایت”۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کا تیزی سے آگے بڑھنے والا جوہری پروگرام خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    سلیوان، جو یروشلم کا دورہ کر رہے ہیں، نے ویانا میں جاری جوہری مذاکرات کے بارے میں اسرائیلیوں کو بھی اپ ڈیٹ کیا اور بیان کے مطابق "دونوں فریقوں نے آگے بڑھنے کے لیے خیالات کا تبادلہ کیا۔”

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔”

  • کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟ فلسطینیوں کا عالمی برادری سے استفسار

    کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟ فلسطینیوں کا عالمی برادری سے استفسار

    تل ابیب: اسرائیلی حکومت کی اجازت سے فوجی قیادت نے اپنے فوجیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر گولیاں چلا سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی حکام کی جانب سے دی جانے والی اجازت کے بعد فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے عالمی برادری کی توجہ اس کی جانب مبذول کراتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟

    مؤقر اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قیادت نے اپنے فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ پتھراؤ کرنے والوں پر گولیاں چلانے کے لیے با اختیار ہیں اس بات کی تصدیق ایک فوجی ترجمان نے کی جس نے کہا کہ یہ پچھلے مہینے یا اس سے زیادہ عرصے سے نافذ ہے-

    انڈیا کی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب

    جب کہ ترجمان نے اس تبدیلی کو ایسی صورت حال کی اصلاح کے طور پر بیان کیا جس سے مشتبہ افراد کو انصاف سے بچنے کی اجازت دی گئی، ماہرین نے ایسے شخص کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جو اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ااسرائیلی فوجیوں کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ ایسی صورتحال میں گولی چلانے کے مجاز ہیں کہ اگر انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو لیکن اب نئے احکامات سے سابقہ حکمنامے کو مزید وسعت دے دی گئی ہے۔

    لندن ہائی کورٹ کا دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کوسابقہ اہلیہ کو554 ملین…

    اسرائیلی اخبار نے اسرائیلی فوجی قیادت کی جانب سے دی جانے والی اجازت پر سوالات کرتے ہوئے از خود اپنی قیادت سے استفسار کیا ہے کہ کیا اس طرح فوجیوں کو مزید خطرات لاحق نہیں ہوں گے؟ کیا آئندہ مستقبل میں انہیں انٹرنیشنل کورٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا؟ اور کیا ایسی صورتحال میں خود اسرائیل کے اپنے نظام انصاف پر سوالیہ نشان ثبت نہیں ہوجائیں گے؟

    میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی ہدایات کے تحت اسرائیلی فوجیوں کو پتھر پھینکنے اور پٹرول بم پھینکنے والوں کو گولیاں مارنے کی اجازت دے دی گئی ہے اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی اس وقت بھی گولی چلا سکتے ہیں جب وہ جائے وقوعہ سے نکل چکے بھی ہوں۔

    امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے اس سے قبل یہ احکامات دیئے تھے کہ اسرائیلی فوجی، فوجی اڈوں یا فائرنگ زون میں داخل ہونے والے ہر شخص پر گولی چلانے کے مجاز ہیں۔

    اسرائیلی فوجی قیادت کی جانب سے دیئے جانے والے احکامات پر اپنے ردعمل میں فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نئی ہدایات قابض فوجیوں کو مزید فلسطینیوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اجازت دینے کے مترادف ہیں۔

    فلسطینی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ نئے احکامات کو متعلقہ بین الاقوامی حکام اور عدالتوں میں اٹھایا جائے گا اسرائیلی فوج کے نئے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے صریحاً خلاف ہیں۔

    90 سال کی عمر میں کاروبار شروع کرنے والی خاتون

  • اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    اومی کرون: امریکہ اور کینیڈا ،اسرائیل کی ریڈ لسٹ میں شامل

    تل ابیب: اسرائیل نے اومی کرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر امریکہ اور کینیڈا کو ریڈ لسٹ میں شامل کرلیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سرائیل نے امریکا اور کینیڈا میں کورونا کی نئی شکل اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کو سفری سے لحاظ ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کر لیا ہے۔

    اسرائیل کی سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل ممالک میں جانے کے لیے اسرائیلی شہریوں کو خصوصی اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا ہے اسی طرح ان ممالک سے ملک میں داخل ہونے والوں کو بھی کڑی نگرانی سے گزرنا ہوتا ہے۔

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

    اسرائیلی صدر نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور کینیڈا پر پابندیوں کا اطلاق منگل سے ہوگا دریں اثنا اسرائیل میں اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بوسٹر ڈوز لگائے جارہے ہیں۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں پہلی بار سامنے آنے والے کورونا کی نئی شکل اومی کرون ویرینٹ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ نئی شکل ڈیلٹا سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

    نیدر لینڈ اومی کرون کے باعث لاک ڈاؤن لگانے والا پہلا ملک

    خیال رہے کہ جنوبی افریقا سے سامنے آنے والا کورونا کا انتہائی خطرناک ویرینٹ ’اومی کرون‘ امریکا، برطانیہ، بھارت اور جاپان سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بھی سامنے آ چکا ہے جنوبی افریقا اور اس کے آس پاس موجود ممالک پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ وائرس ان کے ملک میں نہ پہنچ جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے عالمی سطح پر اومی کرون ویرینٹ کےممکنہ مزید پھیلاؤ کا امکان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ کےسبب مستقبل میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتاہے جس کےسنگین نتائج ہوسکتےہیں۔

    بچ جاو:بچا لو:احتیاط اپنالو:اومیکرون 89 ممالک کو متاثرکرچکا،کنٹرول نہیں ہورہا:عالمی ادارہ صحت

    برطانیہ میں اومی کرون کے کیسز میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دنیا کے کئی ممالک میں وائرس کی اس نئی قسم نے خوف پیدا کر دیا ہے. بھارت کے طبی ماہرین بھی پریشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برطانیہ جیسی ہو گی تو بھارت کے حالات بہت ہی خراب ہوں گے، طبی ماہرین نے مودی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ اومی کرون سے نمٹنے کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہئے،بھارت میں اومی کرون کے اب تک 151 کیسز سامنے آ چکے ہیں-

  • شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جو تبدیلیاں اور انقلاب آ چکا ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو پہلے ہی اپنی کئی ویڈیوز میں بتا چکا ہوں ہے لیکن آج میں آپ کو سعودی عرب میں جاری کچھ اندرونی سازشوں کے بارے میں بتاوں گا۔ کہ کیسے محمد بن سلمان زبردستی خود کو سعودی عرب کا بادشاہ تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی سازشیں کی جا رہی ہیں؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے تو اس وقت سعودی عرب کے اقتدار پر محمد بن سلمان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اس کے کئی ثبوت تو پوری دنیا نے دیکھ بھی لئے کہ کیسے سعودی عرب کی سرزمین پر Justin beiberاور سلمان خان کے میوزیکل کنسرٹ کروائے گئے۔ جن میں مختصر لباس پہنی ہوئی ڈانسرز سعودی عرب کے اس جھنڈے کو خود سے لپیٹ لپیٹ کر ڈانس کر رہی تھیں جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے علاوہ بھی جس طرح سے سعودی عرب میں سینما کھولے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے گئے، خواتین کو نوکری اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دی گئی، خواتین کے لئے حجاب کی پابندی ختم کی گئی، اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضا میں پرواز کی اجازت دی گئی۔ مغربی ممالک کے سیاحوں کیلئے ویزے کی شرائط میں تبدیلی اور نرمیاں کی گئیں۔ یہ سب وہ پالیسیز ہیں جو کہ شاہ سلمان کے نظریے کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کے پیچھے صرف اور صرف محمد بن سلمان کی آئیڈیالوجی ہے جو کہ وہ سعودی عرب میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس وقت تمام صدارتی اجلاسوں کی سربراہی، تمام عالمی وفود اور جو بھی معززین سعودی عرب کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ان کے استقبال سے لیکر، مملکت کے جتنے بھی اہم کام ہیں وہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہی ہورہے ہیں۔ سعودی شاہی عدالت کے معاملات اور رابطہ کاری بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر ہی ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی عدالت کے ساتھ رابطہ بھی اس وقت ایم بی ایس کے دفتر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ویسے تو جون 2017میں جب محمد بن سلمان کی تخت کے وارث کے طور پر تقرری ہوئی اس کے بعد سے ہی وہ ایک طرح سے سعودی عرب کا ڈی فیکٹو لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جس طرح سے شاہ سلمان پورے منظر نامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں تمام پالیسیاں بھی ان کے نظریات کے خلاف بنائی جا رہی ہیں تو اس بات میں کوئی شک ہی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کا بے تاج بادشاہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ مغربی میڈیا میں بھی رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں کہ شاہ سلمان کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا ہے کیونکہ جب سے کرونا پھیلنا شروع ہوا تھا اور شاہ سلمان کو کرونا کے ڈر سے نیوم سٹی شفٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک وہ وہاں پر ہی ہیں وہاں سے باہر تشریف نہیں لائے۔ جس کے بعد محمد بن سلمان خود پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔ان افواہوں کے درست ہونے میں چند دلائل یہ بھی ہیں کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی ریاض میں کسی غیر ملکی عہدیدار کیساتھ آخری ملاقات مارچ2020میں سابق برطانوی وزیر
    Dominik roabسے ہوئی تھی اور ان کا آخری بیرون ملک سفر عمان کا دورہ تھا جو انھوں نے جنوری2020میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کیلئے کیا تھا۔جبکہ سعودی حکام کی طرف سے شاہ سلمان کی اہم مواقعوں پر عدم موجودگی اور غیر حاضری کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ آپ خود سوچیں کہ ایک طرف جب شاہ سلمان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ شاہ سلمان بالکل خیریت سے ہیں لیکن جب حکومتی معاملات اور فیصلوں کی بات کی جاتی ہے تو شاہ سلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے کے شروع میں ہونے والی فرانسیسی صدرEmmanuel Macron
    سے ملاقات اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی قیادت کے بعد تو تمام کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اور اب تو یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاہ سلمان کے برعکس محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہیں۔ اور جلد ہی ان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی سامنے آسکتا ہے۔ یعنی اب سعودی عرب میں وہی ہو گا جو محمد بن سلمان چاہتا ہے شاہ سلمان اور ان کے نظریات اب ماضی کا قصہ بننے جا رہے ہیں۔
    ویسے تو شاہ سلمان کی غیر موجودگی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور کیونکہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اس لیے انہیں کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا اس بات سے یقین اٹھ گیا ہے کہ ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ صرف کرونا ہے۔ ویسے بھی جس طرح سے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان نے کئی سعودی شہزادوں کو قید میں ڈالا ہے یا ملک سے باہر فرار پر مجبور کیا ہے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ ہی خدشہ ہے کہ اس وقت شاہ سلمان کو دراصل قید یا نظر بند کیا گیا ہے تاکہ حکومتی معاملات مکمل طور پر ایم بی ایس کے قابو میں رہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن کھل کر اس مسئلے پر آواز اس لئے نہیں اٹھائی جا رہی کیونکہ سعودی عرب میں جو بھی محمد بن سلمان کے اقتدار کیخلاف آواز اٹھاتا ہے خواہ وہ شاہی خاندان سے ہو یا کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو اس کے نصیب میں قید لکھ دی جاتی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ یہ وہی محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے صرف تنقید کرنے پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں بےدردی سے قتل کروا دیا تھا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن سعودی عرب میں میڈیا آزاد نہ ہونے کی وجہ سے ایم بی ایس کے خلاف کبھی کوئی بھی آواز سامنے نہیں آتی۔ کوئی عالم دین محمد بن سلمان کی پالیسیزکو تنقید کا نشانہ بنائے تو چند لمحوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ سعودی حکام بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے ایم بی ایس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے ہیں۔یہاں تک کہ تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے محمد بن سلمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایسا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر ایک لمحے کی خبریں ایم بی ایس کو دی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی بغاوت سر نہ اٹھا سکے اور اس کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہاں تک تیاری مکمل ہے تو محمد بن سلمان نے ابھی تک اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیوں نہیں کروایا تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اسٹریٹجک اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ملاقات تو دور کی بات ہے یہاں تک کہ جوبائیڈن اور محمد بن سلمان کا ایک بار بھی ٹیلی فون پر رابطہ تک نہیں ہوا ہے۔ ورنہ شاہی عدالت تو خود کو محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار کرچکی ہے۔ اور محمد بن سلمان کے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شاہ سلمان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھوں بادشاہی کا تاج پہن لیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو شاہی خاندان کے اندر سے ہی بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی بادشاہت کا تاج محمد بن سلمان اپنے سر پر سجا چکے ہیں جس کا مظاہرہ پوری دنیا سعودی ولی عہد کے خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران دیکھ بھی چکی ہے کہ کیسے ان کا نیم شاہی استقبال کیا گیا اور کس طرح میڈیا نے اس کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بہت جلد اب سعودی عرب میں صرف وہی ہوگا جو کہ ایم بی ایس چاہے گا۔ اب سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں اور انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب اسلامی روایات اور تشخص جو سعودی عرب کی پہچان ہوا کرتا تھا اب وہ ملیا میٹ ہونے والا ہے جس کے بعد ایک نیا اور ماڈرن سعودی عرب دنیا کے سامنے ہو گا۔