Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • سکیورٹی ٹیم کے سابق سربراہ  کے نیتن یاہو خاندان سے متعلق انکشافات نے سیاست میں ہلچل مچا دی

    سکیورٹی ٹیم کے سابق سربراہ کے نیتن یاہو خاندان سے متعلق انکشافات نے سیاست میں ہلچل مچا دی

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی ٹیم کے سابق سربراہ ایمی درور نے ایک پوڈکاسٹ میں نیتن یاہو خاندان سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں-

    ایمی درور کے مطابق وزیرِ اعظم کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے ایک موقع پر اپنے والد پر جسمانی حملہ کیا، جس کے بعد صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ سکیورٹی اہلکاروں کو مداخلت کرنا پڑی ، اسی واقعے کے بعد یائر نیتن یاہو کو امریکا کے شہر میامی منتقل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    ایمی درور نے بنیامین نیتن یاہو کی ذاتی اخلاقیات پر بھی سوالات اٹھائے ان کا دعویٰ تھا کہ وزیرِ اعظم اکثر ریستورانوں میں کھانے کے بعد بل ادا نہیں کرتے تھے بلکہ اخراجات اپنے عملے یا محافظوں پر ڈال دیتے تھے بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو چوری کے رجحان میں مبتلا ہیں اور انہوں نے خود ہوٹلوں سے تولیے اور ریاست کی ملکیت میں آنے والے تحائف غائب ہوتے دیکھے۔

    سابق سکیورٹی سربراہ کے مطابق حالیہ برسوں میں سارہ نیتن یاہو گھر میں طاقت کا اصل مرکز بن چکی ہیں،سارہ نیتن یاہو نے ہی اپنے شوہر کو عدالتی تصفیے سے روک رکھا تاکہ وہ اقتدار میں رہیں، کیونکہ وہ اپنے بیٹے یائر کو مستقبل میں اپنے والد کا جانشین دیکھنا چاہتی ہیں، بنیامین نیتن یاہو اکثر اپنی اہلیہ اور بیٹے کے غصے سے بچنے کے لیے خود کو کمرے میں بند کر لیتے تھے۔

    پوڈکاسٹ کے اختتام پر ایمی درور نے خواہش ظاہر کی کہ بنیامین نیتن یاہو کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور جیل بھیجا جائے، ان کے مطابق وزیرِ اعظم نے سیاسی مفادات کے لیے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ناکام بنائے اور تحائف وصول کر کے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

  • لبنان نے اسرائیل کے کیمیائی مواد چھڑکنے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کرلیا

    لبنان نے اسرائیل کے کیمیائی مواد چھڑکنے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کرلیا

    لبنان نے اسرائیل کے مبینہ طور پر سرحدی علاقوں میں کیمیائی مواد کے چھڑکاؤ کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ اس کے طیاروں نے جنوبی لبنان میں زہریلے کیمیائی مادے بشمول گلا ئیفوسیٹ اسپرے کیے ہیں جو ماحول، زراعت اور عوامی صحت کے لیے خطرہ ہیں، لبنان نے اس عمل کو “ماحولیاتی و صحت کے جرائم“ اور اپنی خود مختا ری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    لبنان کی حکومت نے بین الاقوامی فورمز، بشمول اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور سلامتی کونسل میں اس معاملے کو اٹھانے کے لیے دستاویزی شکایات اور قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

  • خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزام

    خامنہ ای کا امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزام

    ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ فسادات کو امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل بغاوت کی ایک منظم کوشش تھی، جسے ایرانی قوم نے ناکام بنا دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ یہ محض الزام نہیں بلکہ شواہد سے ثابت ہے کہ ان واقعات کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک کی گئی امریکی صدر کے بیانات خود اس بات کا ثبوت ہیں، جن میں انہوں نے فسادی عناصر کو آگے بڑھنے اور مدد فراہم کرنے کے اشارے دیےحالیہ فسادات بیرونِ ملک سے کنٹرول کی جانے والی بغاوت کی کوشش تھے، جنہیں ہوا دینے کے لیے سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے تمام وسائل استعمال کیے، تاہم یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایران عالمی جارح طاقتوں کے مفادات سے ٹکرا رہا ہے، اسی لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک دشمن مکمل طور پر مایوس نہ ہو جائےدکانداروں اور تاجروں کے بعض مطالبا ت جائز تھے، مگر فسادی عناصر نے پُرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی تاجروں کو صورتِ حال کا ادراک ہوا، انہوں نے خود کو ان عناصر سے الگ کر لیا ایرانی قوم کی بیداری، اتحاد اور شعور نے اس سازش کو ناکام بنایا اور ثابت کر دیا کہ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

  • اسرائیل نے رفح کراسنگ محدود طور پر کھول دی

    اسرائیل نے رفح کراسنگ محدود طور پر کھول دی

    اسرائیل نے تقریباً دو برس بعد غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گزرگاہ کو محدود سطح پر دوبارہ کھول دیا ہے۔

    اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق اس اقدام کو ’’پائلٹ آپریشن‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ لوگوں کی باقاعدہ آمد و رفت پیر سے شروع ہوگی، ابتدائی مرحلے میں روزانہ تقریباً 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ تقریباً 50 افراد کی واپسی متوقع ہےغزہ چھوڑنے والے فلسطینی صرف اسی راستے سے واپس آ سکیں گے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل سرحدی گزرگاہ پر براہِ راست فوجی تعینات نہیں کرے گا بلکہ جدید نگرانی کے آلات کے ذریعے دور سے مانیٹرنگ کی جائے گی مصر کی جانب سے روزانہ ان افراد کی فہرست اسرائیل کو فراہم کی جائے گی جو اگلے 24 گھنٹوں میں سرحد عبور کریں گے اسرائیل محدود تعداد میں زخمی فلسطینی جنگجوؤں کو بھی رفح کے راستے باہر جانے کی اجازت دے سکتا ہے، اور اصولی طور پر جو افراد باہر جائیں گے انہیں بعد میں واپسی کی اجازت دی جائے گی۔

    محسن نقوی کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد، زخمی اہلکاروں کی عیادت

    تاحال اسرائیلی، مصری یا فلسطینی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ رفح سرحدی گزرگاہ انسانی امداد کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جس پر اسرائیل نے مئی 2024 میں قبضہ کیا تھا اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران اب تک غزہ میں 71 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں،اگرچہ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہے، تاہم غزہ کے میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں مزید 524 افراد جاں بحق اور 1,360 زخمی ہو چکے ہیں۔

    چاند کی جانب سفر ، ناسا نے راکٹ میں ایندھن بھرنے کی تیاری شروع کر دی

  • اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے-

    حکام کے مطابق یہ حملے مختلف مقامات پر کیے گئے اور شہری آبادی شدید متاثر ہوئی ہےہلاکتوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد بھی شامل ہے حماس نے اسرائیل کی کارروائیوں کو ’جرائم‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مزید انسانی نقصان روکا جا سکے۔

    اس سے قبل اکتوبر میں طے شدہ جنگ بندی کے بعد غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی دیکھی گئی تھی، لیکن تازہ حملوں کے بعد صورتحال دوبارہ تشویشناک ہو گئی ہےاسرائیل نے ان حملوں کو اپنی ’قومی سلامتی اور میزائل حملوں کے ردعمل‘ کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں شہریوں کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔

    اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں ییلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے، 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتارکیا گیا۔

  • ایران:بندرعباس کے بعد ایک اور شہر میں دھماکا،4 افراد جاں بحق،14 زخمی

    ایران:بندرعباس کے بعد ایک اور شہر میں دھماکا،4 افراد جاں بحق،14 زخمی

    ایران کے مصروف ترین بندرگاہ اور تجارتی حب بندرعباس کے بعد جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں بھی ایک اور دھماکا ہوا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکے میں کم از کم چار افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ 14 افراد زخمی ہیں جن میں سے 3 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہےیہ دھماکا بھی ایک رہائشی عمارت میں ہوا جس میں گاڑیوں اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کرلیا، اس واقعے کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم اس کی نوعیت ابتدائی طور پر حادثاتی معلوم ہوتی ہے۔

    مقامی میڈیا نے غیر مصدقہ اطلاع دی ہے کہ اہواز میں ہونے والا دھماکا گیس کا سلنڈر پھٹنے سے ہوا تاہم سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

    اس دھماکے سے کچھ دیر قبل ایران کے بندرگاہی شہر بندرعباس کی 8 منزلہ رہائشی عمارت میں بھی دھماکا ہوا تھا جس میں دو منزلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں دھماکے میں کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ متعدد گاڑیاں اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    یہ دونوں دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب اسرائیل اور امریکا نے جوہری معاہدے کی میز پر آنے کے لیے ایران کو بڑی فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہےامریکا کا ایک بڑا جنگی بحری بیڑہ آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں میں مصروف ہے اور ایک میزائل بردار جہاز ایلات میں لنگر انداز ہوچکا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران میں دھماکوں پر اسرائیل سے رابطہ کیا تو دو اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ ایران میں ہونے والے دھماکوں سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں، اس قسم کی کوئی بھی کارروائی ابھی زیر غور نہیں لیکن اپنے دفاع کے لیے ہر وقت چوکنا ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری و منہ توڑ جواب دیں گے۔

    البتہ امریکا کی جانب سے ایران میں ہونے والے دھماکوں میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا حالانکہ صدر ٹرمپ نےکہا تھا کہ انہوں نے ایران کو ڈیڈ لائن دیدی ہے جبکہ ایران نے بھی فوری طور پر ان دھماکوں کی ذمہ داری اسرائیل یا امریکا میں کسی بھی ملک پر عائد نہیں کی۔

  • جنگ بندی کی خلاف ورزی،  اسرائیل کی غزہ میں فضائی حملے،6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید

    جنگ بندی کی خلاف ورزی، اسرائیل کی غزہ میں فضائی حملے،6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے، آج ہونے والے حملوں میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کیے جن میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں،اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہےکہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنایا، اس کے علاوہ اسلحےکے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت نہیں پیش کیےگئے۔

    دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانےکی مذمت کرتے ہوئےکہا ہےکہ اسرائیل کے بے بنیاد اور کھوکھلے دعوے امن معاہدے کے ثالثوں، اسرائیل کے ضامنوں او ر پیس کونسل میں شامل تمام فریقین کی توہین ہے۔

    ٹرمپ نے ایران کو ’ڈیڈ لائن‘ دیدی،امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات پہنچ گیا

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں ییلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے، 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتارکیا گیا۔

    امریکا و اسرائیل کی غلطی سے پورا خطہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، ایرانی آرمی چیف

  • امریکا و اسرائیل کی غلطی سے پورا خطہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، ایرانی آرمی چیف

    امریکا و اسرائیل کی غلطی سے پورا خطہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، ایرانی آرمی چیف

    ایران کے آرمی چیف امیر حاتمی نے امریکا اور اسرائیل کو کسی بھی قسم کی جارحیت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن کی معمولی سی غلطی بھی پورے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کرسکتی ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امیر حاتمی نے امریکا اور اسرائیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نےکوئی غلطی کی تو صرف اس کی نہیں پورے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی، ایران کی مسلح افواج ہائی الرٹ ہیں، دشمن نےکوئی غلطی کی توصہیونی ریاست کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

    ایرانی آرمی چیف نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور ٹیکنالوجی کو ختم نہیں کیا جا سکتا، چاہے قوم کے سائنسدان اور فرزند شہید ہی کیوں نہ ہو جائیں، ایرانی جوہری صلاحیت برقرار رہے گی، کسی بھی حملے کی صورت میں صہیونی ریاست کی سلامتی بھی سنگین خطرے میں پڑ جائے گی،ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایرانی آرمی چیف کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    الجزیرہ کی رپورٹر روزیلینڈ جورڈن نے اپنی رپورٹ میں امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے-

    الجزیرہ کے مطابق امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کے دوران فلسطینی گروپ کے لیے ‘کسی قسم کی معافی’ دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بازیاب ہوئی، جو اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ کچھ قسم کی معافی بھی زیر غور ہے، اور امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے، اہلکار نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاہدے کے تحت حماس کے سیاسی حیثیت کے اعتراف اور معافی پر بات ہو رہی ہے۔

    حماس نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے سے اس کی جنگ بندی میں پابندی ظاہر ہوتی ہے اور اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بھی معاہدے پر مکمل عمل کرے، جس میں رفح کراسنگ کھولنا، ضروری اشیا کی فراہمی، پابندیاں ختم کرنا اور نیشنل کمیٹی کے کام کو آسان بنانا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے مطابق، قیدیوں کی واپسی کے بعد وہ حماس کے ارکان جو ہتھیار جمع کروائیں گے انہیں معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا منصوبے میں امداد کے آزادانہ بہاؤ اور رفح سرحدی کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی وضاحت بھی شامل ہے۔

  • غزہ جنگ بندی نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

    غزہ جنگ بندی نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

    غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد ہونے کے بعد جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل ہو گئی-

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد کر لی ہیں، جس کے بعد ملک کے لیے ایک طویل اور تکلیف دہ باب اختتام کو پہنچ گیا ہے پولیس اہلکار ران گویلی کی باقیات شمالی غزہ کے ایک قبرستان سے ملیں، جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہےاس مرحلے میں غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کھولنے، انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی بحالی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ران گویلی کا تابوت اسرائیل لائے جانے پر فوجی اہلکاروں، رشتہ داروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا تل ابیب کی سڑکوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر تابوت کے گزرنے کے وقت احتراماً خاموشی اختیار کیے رہے۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام یرغمالیوں کی واپسی طے تھی، جسے اب مکمل کر لیا گیا ہے تاہم دوسرے مرحلے میں غزہ کی حکومت، حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے مسائل شامل ہیں، جن پر پیش رفت کو مشکل قرار دیا جا رہا ہے-