Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • ایران پر اسرائیلی حملہ، ایرانی وزیر دفاع اور پاسداران انقلاب کے سربراہ کی شہادت کا دعویٰ

    ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی وزیر دفاع امیر نصیر زادہ اور پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور کی شہادت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں دونوں اعلیٰ ایرانی شخصیات جاں بحق ہو گئی ہیں یہ دعویٰ اسرائیلی فوجی کارروا ئیوں سے باخبر دو ذرائع اور ایک علاقائی ذریعے نے کیا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈرز اور بعض سیاسی حکام کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، ایران نے ان حملوں کے جواب میں اپنی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسے “آپریشن وعدہ صادق 4” کا نام دیا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ جن میں بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ بھی شامل ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی اڈوں کے علاوہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں (اسرائیل ) کے مرکزی فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکی افواج اور اسرائیلی حکومت کے خلاف کی جا رہی ہے اور اس کے تحت دشمن کے علاقائی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں ایرانی فوج نے عندیہ دیا ہے کہ میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے، روس کا شدیدردعمل

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے، روس کا شدیدردعمل

    روس نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت دانستہ، اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اور بلااشتعال مسلح جارحیت ہے، ایک آزاد ریاست کے خلاف جارحیت بین الااقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے یہ اقدام قابل مذمت ہے اور یہ حملے ایک بار پھر مذاکراتی عمل کی بحالی کی آڑ میں کیے جا رہے ہیں، جس کا ظاہری مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے گرد صورت حال کو طویل المدت بنیادوں پر معمول پر لانا بتایا جا رہا تھا۔

    روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ روس کو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ اسرائیل ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں دلچسپی نہیں رکھتا، بین الاقوامی برادری، بشمول اقوام متحدہ کی قیادت اور آئی اے ای اے کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا معروضی اور غیرجانب دارانہ جائزہ پیش کریں، وا شنگٹن اور تل ابیب ایک بار پھر ایسے خطرناک راستے پر گامزن ہو گئے ہیں جو خطے کو انسانی، معاشی اور ممکنہ طور پر تابکاری آفت کی طرف تیزی سے دھکیل رہا ہے۔

    ایران کے ایک بار پھر دبئی پر میزائل حملے

    روس کے مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے عزائم واضح ہیں اور کھلے عام بیان کیے جا چکے ہیں کہ وہ ایک ایسی ریاست کے آئینی نظام کو توڑنا اور اس کی قیادت کو ہٹانا چاہتے ہیں جسے وہ ناپسندیدہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے طاقت اور بالادستی کے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کیا ہے امریکا اور اسرائیل اپنی کارروائیوں کو اس مبینہ تشویش کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتے ہیں لیکن آئی اے ای اے کی نگرانی میں چلنے والی جوہری تنصیبات پر بم باری ناقابل قبول ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس فوری طور پر سیاسی اور سفارتی راستے پر واپسی کا مطالبہ کرتا ہے اور ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور مفادات کے متوازن خیال پر مبنی پرامن حل کے فروغ میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حملوں کی شدید مذمت

  • امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

    امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

    تہران: ایران میں سپریم کمانڈر خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ پر امریکی اسرائیلی حملہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کمپاؤنڈ کی ایک سیٹلائٹ تصویر سامنے آئی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام ’’مکمل طور پر خیریت‘‘ سے ہیں، جن میں صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سیکیورٹی امور کے سربراہ علی لاریجانی شامل ہیں اگرچہ اسرائیلی ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا اور حملے میں کامیابی حاصل کی، تاہم ملک کے اندر سرکاری ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکومتی عہدیداران، بشمول مسلح افواج کے سربراہان، مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔

    iran

    ایک امریکی اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ ایران پر فضا اور سمندر سے ’’وسیع‘‘ حملے جاری رکھے گا، اہلکار نے کہا کہ امریکی-اسرائیلی حملوں کا مقصد ایرانی سیکیورٹی اپریٹس کو ختم کرنا ہے اور یہ فی الحال ایران کے اندر اہداف تک محدود ہے-

  • امریکا کا ایران پر حملے جاری رکھنے کااعلان

    امریکا کا ایران پر حملے جاری رکھنے کااعلان

    امریکا نے ایران پر وسیع حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران پر فضا اور سمندر دونوں راستوں سے وسیع پیمانے پرحملے جاری رکھیں گے ، امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا مقصد ایرانی سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے،فی الحال یہ کارروائیاں صرف ایران کے اندر موجود اہداف تک محدود ہیں ، امریکی فضائیہ ایران پر حملوں میں شریک ہے ، امریکی فوج ایران پر اسرائیلی فوج کے ساتھ ملکر کارروائی کر رہی ہے۔

    دوسری جانب آئی ڈی ایف کے ایک افسر سٹیو کوہن نے ریپبلک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نہ صرف مغرب کی جانب سے بلکہ ہندوستان کی جانب سے بھی ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں،ہندوستان کو قریبی اتحادی قرار دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی اظہار کیا کہ اسرائیل میں ہندوستانی وزیر اعظم کی میزبانی کرنا خوشی کی بات ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے اعلیٰ کمانڈروں کے علاوہ درجنوں شہری بھی شہید ہوئے ہیں۔

  • امریکا اور اسرائیل کا ایرانی اسکول پر حملہ ، 53 طالبات شہید،درجنوں زخمی

    امریکا اور اسرائیل کا ایرانی اسکول پر حملہ ، 53 طالبات شہید،درجنوں زخمی

    ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر بمباری کی خبر نے سب کو تشویش میں مبتلا کردیا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت اسکول میں تقریباً 170 طالبات موجود تھیں فضائی حملے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 53 افراد جاں بحق اور تقریباً 60 زخمی ہوئے ہیں جن میں طالبات اور اسکول کا عملہ بھی شامل ہےہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیل نے صبح کے وقت اسکول کو براہِ راست نشانہ بنایا ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہیں،واقعے کے بعد امدادی اداروں اور طبی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا دیا گیا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے ملبے تلے متعدد طالبات اور عملے کے افراد دبے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کا کام جاری ہے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے اس حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تاہم اسرائیلی فوج نے ایرانی شہریوں سے فوجی تنصیبات اور اڈوں سے دور چلے جانے کا کہا تھا۔

  • امریکا،اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے،امیر جماعت اسلامی

    امریکا،اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے،امیر جماعت اسلامی

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہے اور پورے خطے کو جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نےایکس پر بیان میں کہا کہ ایک مرتبہ پھر امریکہ نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا “بورڈ آف پیس” دراصل “بورڈ آف وار” ہےامریکہ اور اسرائیل نے اپنے شیطانی مقاصد کے لیے پورے مشرقِ وسطیٰ کو خطرے میں ڈال دیا ہے، مسلم حکمرانوں کو آنکھیں کھولنا ہوں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 25 سال میں امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنا کر انتشار پھیلایا گیا اور پاکستانی حکمران بھی یہ سبق یاد رکھیں کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں-

    واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کردیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر بھی میزائل داغے ہیں۔

  • ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

    ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

    ایران امریکا کشیدہ صورتحال کے باعث ڈچ ائیر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان کردیا۔

    ڈچ ائیر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ سے غیر معینہ مدت تک پروازیں بند رہیں گی، اس کے علاوہ آسٹریلیا نے اسرائیل، لبنان، اردن، قطر اور امارات سے اپنے شہری نکالنےکیلئے اقدامات شروع کردیے جب کہ امریکا نے 6 مزید ایف 22 طیارے مشرق وسطی روانہ کردیے ہیں۔

    دوسری جانب بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ ایران کے گرد بہت بڑی فوج لگانے کا امریکا کا مقصد ہمیں دھمکا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا ، ایران پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے، تنازع کا واحد حل بات چیت اور سفارت کاری ہے ،پُرامن جوہری استعمال کا حق نہیں چھوڑیں گے۔

    رحیم یار خان:ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے کچے کے خطرناک ڈاکو نے سرنڈر کر دیا

    دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران فی الحال یورینیم کی افزودگی نہیں کررہا لیکن ایران یورینیم افزودگی کی کوشش کررہاہے مارکو روبیو نے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات نہ کرنے کو بڑامسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات سے انکار بھی کررہا ہے ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل کرنا چاہتے ہیں، سفارتکاری ہمیشہ ممکنہ آپشن رہےگی، صدرٹرمپ بھی چاہتے ہیں کہ مذاکرات سے مسئلہ حل ہو۔

    میں نے جواب دینا ہوتا تو جہاز کی خریداری کو درست قرار دیتا،اسپیکر پنجاب اسمبلی

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی فوجی کارروائی سے متعلق دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے صدر ٹرمپ ایران کے مسئلے کو سفارتی طریقے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم امریکا کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

  • جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    تہران: ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل جائیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکا اور اسرائیل کا نام لیے بغیر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ جنگ کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ایران کے دشمن کو مبینہ 12 روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور اب افراتفری اور بدامنی پھیلا کر ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دشمن جنگ شروع کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں تاہم اسے اپنے انجام تک پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات سفارتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسیع تیاریوں میں مصروف ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے اہم اختیارات بڑی حد تک نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں۔

    امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے چھ اعلیٰ حکام، پاسداران انقلاب کے تین ارکان اور دو سابق سفارت کاروں نے بتایا کہ جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں اور امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے بعد علی لاریجانی عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں 67 سالہ علی لاریجانی ماضی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہ چکے ہیں اور اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں اور سپریم لیڈر کو ان پر مکمل اعتماد حاصل ہے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب اسٹیو وٹکوف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی تو اس کے لیے بھی علی لاریجانی سے اجازت طلب کی گئی۔

    اخبار کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے چار سطحوں پر مشتمل جانشینی کا نظام بھی ترتیب دے دیا ہے ہر اس فوجی یا سرکاری عہدے کے لیے، جس پر تقرری ان کے اختیار میں ہے، چار چار متبادل افراد نامزد کیے گئے ہیں تمام کمانڈروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ جانشینوں کے نام پہلے سے طے کریں اس کے علاوہ سپریم لیڈر نے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر ان سے رابطہ منقطع ہو جائے یا انہیں نشانہ بنایا جائے تو وہ فیصلے کر سکیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کی صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جا سکتی ہے اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری انتظام میں علی لاریجانی سرفہرست ہو سکتے ہیں، جبکہ محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کے نام بھی زیر غور بتائے گئے ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق ایرانی حکام اس خدشے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ ممکنہ حملے میں سپریم لیڈر اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کیے جانے اور افواج کو ہائی الرٹ رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جوہری معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم ایرانی قیادت بدترین صورتحال کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق ریاستی نظام کے تسلسل کے لیے مختلف منظرنامے تیار کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت ہلاک ہو جائے تو ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہو گی۔

    رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر ہنگامی صورتحال پیدا ہو تو کون سا رہنما بیرونی دنیا سے مذاکرات کی قیادت کرے گا، جیسا کہ وینزویلا میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر نکولس مادورو کے معاملے میں کیا تھا موجودہ حالات میں صدر مسعود پزشکیان بظاہر اہم اختیارات علی لاریجانی کو منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، اور ایرانی قیادت دونوں امکانات کو سامنے رکھ کر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

  • مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    سعودی عرب اور متعدد دیگر ممالک نے فلسطین کے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے کنٹرول بڑھانے سے متعلق حالیہ فیصلوں کی سخت مذمت کی ہے۔

    مشترکہ بیان پر سعودی عرب، فلسطین، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئی لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لکسمبرگ، ناروے، پرتگال، سلووینیا، اسپین اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے، جبکہ عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرلز بھی اس میں شامل تھے۔

    پیر کے روز جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں بہت وسیع نوعیت کی ہیں، ان کے تحت فلسطین کی زمین کو نام نہاد اسرائیل کی ریاستی زمین قرار دیا جا رہا ہے ان اقدامات کے ذریعے اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیزکیاجا رہا ہے، اسرائیلی انتظامیہ کو مزید مضبوط کیا جارہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاریاں اور انہیں مزید توسیع دینے کے فیصلے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں اور 2024 میں عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ فیصلے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور عملی طور پر الحاق (ڈی فیکٹو انضمام) کی طرف پیش رفت کا حصہ ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے اسرائیل کی آبادکاری پالیسی میں غیر معمولی تیزی، خصوصاً E1 منصوبے کی منظوری اور اس کے ٹینڈر کے اجرا، فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ممالک نے 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی آبادیاتی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے الحاق کی مخالفت کرتے ہیں،وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کو فوری طور پر روکے اور ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ مغربی کنارے کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا۔

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    بیان میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے تناظر میں یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیااس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا اور یروشلم میں بار بار اسٹیٹس کو کی خلاف ورزیوں کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

    ممالک نے مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل کے عزم کا اعادہ کیا، جو عرب امن منصوبے، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو اسرائیل فلسطین تنازع کا خاتمہ علاقائی امن، استحکام اور انضمام کے لیے ناگزیر ہے، اور ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے کے عوام اور ریاستوں کے درمیان بقائے باہمی کو ممکن بنا سکتا ہے۔

    جرمنی میں افغان شہری کا چاقو سے حملہ، متعدد افراد

    وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے واجب الادا ٹیکس محصولات فوری طور پر جاری کرےیہ رقوم فلسطینی اتھارٹی کو پیرس پروٹوکول کے مطابق منتقل کی جانی چاہئیں اور یہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ غیر قانونی آبادکاریوں کے پھیلاؤ، جبری بے دخلی اور الحاق کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

  • پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے-

    ایک مشترکہ اعلامیے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عرب، ریاست قطر، ریاست کویت، سلطنت عمان، مملکت بحرین، لبنانی جمہوریہ، شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی)، عرب لیگ (ایل اے ایس) اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹریٹس نے بھی دستخط کیے۔

    اعلامیے میں امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے، پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔

    گھوٹکی ،رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر

    وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے یہ منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔

    اوکاڑہ،دھی رانی پروگرام،اجتماعی شادیوں کی چوتھی تقریب،90 بیٹیوں کی شادی

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔

    گیمبر پریس کلب اوکاڑہ کینٹ کی23 ویں تقریب حلف برداری

    ادھر سعودی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی سفیر نے اپنے بیان میں غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ تاثر دیا کہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، جو نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ہے۔

    عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینےپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل

    سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے خیالات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں شرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہےسعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے بیانات سے اجتناب کرے اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کرے۔