Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی،ایرانی صدر

    اسرائیل نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملوں کے دوران انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اس میں ناکام رہا۔

    تہران میں امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جس وقت اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی، وہ ایک میٹنگ میں شریک تھے، اور اس حملے کا ہدف وہ خود تھے۔صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ان پر ہونے والی اس مبینہ حملے کے پیچھے امریکا نہیں بلکہ اسرائیل تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم یہ شمولیت مشروط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا: ’’ہم امریکا پر ایک بار پھر کیسے یقین کریں؟ اور کیسے مان لیں کہ مذاکرات کے دوران اسرائیل کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟‘‘

    ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا ماننا ہے کہ امریکی سرمایہ کار ایران میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں، ایران کی راہ میں اصل رکاوٹ اسرائیل ہے جو خطے میں امن قائم نہیں ہونے دیتا۔

    لندن بم دھماکوں کے 20 سال مکمل، سینٹ پال کیتھڈرل میں دعائیہ تقریب

    جنوبی افریقہ کی اننگز ڈیکلیئر، برائن لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ بچ گیا

    پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے مخصوص نشستوں کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

  • یمنی میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے بین گوریون ایئرپورٹ بند کر دیا

    یمنی میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے بین گوریون ایئرپورٹ بند کر دیا

    اسرائیل نے یمنی مسلح افواج کی جانب سے میزائل حملے کے بعد بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں فوری طور پر معطل کر دیں، ایئرپورٹ تا حکمِ ثانی بند رہے گا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی ایوی ایشن حکام نے واضح کر دیا ہے کہ بین گوریون ایئرپورٹ پر آمد و رفت مکمل طور پر روک دی گئی ہے، اور فی الحال کوئی پرواز لینڈ یا ٹیک آف نہیں کرے گی۔یہ اقدام یمنی مسلح افواج کی جانب سے کیے گئے اُس بیلسٹک میزائل حملے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جو تل ابیب حکومت کی غزہ میں جاری نسل کشی کے ردعمل میں کیا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق اتوار کی صبح اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں ایئر ریڈ سائرن بجنے لگے، جس کے بعد بین الاقوامی فضائی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی۔ بحیرہ مردار کے قریب متعدد علاقوں میں سائرن کی گونج سنائی دی، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔اسرائیلی فوج نے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے یمنی حملے کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔

    واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل یمنی فوج نے بین گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول کی تھی، اور اب اس حملے کے اثرات اسرائیل کی فضائی سرگرمیوں پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

    برطانیہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال کر رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

  • اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کے درمیان غزہ سے متعلق آئندہ کی فوجی حکمتِ عملی پر ایک بند کمرہ اجلاس میں جھگڑے اور تلخ کلامی کی اطلاعات ہیں۔

    العربیہ کے مطابق اسرائیلی آرمی نے جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ فوج، وزیر اعظم اور وزراء کے درمیان غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے طریقہ کار پر بنیادی اختلاف پیدا ہو گیا ہے نیتن یاہو نے چیف آف اسٹاف ایال زامیر پر کڑی تنقید کی ہے گزشتہ جمعرات کی شام نیتن یاہو کی دعوت پر ایک الجاس طلب ہوا جس میں چیخ و پکار ہوئی اور آوازیں بلند ہوگئی تھیں۔

    اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ غزہ میں جنگ کو کیسے جاری رکھا جائے؟ جیسے سوالوں پر غور کیا گیا۔ یہ تبادلہ خیال کیا گیا کہ اگر اب معاہدہ نہ ہوا تو کیا ہوگا اور 60 روزہ جنگ بندی کا اعلان نہ ہوا تو غزہ کی پٹی میں اگلے اقدامات کیا اٹھائے جانے چاہیں۔

    چیف آف سٹاف نے وزیر اعظم اور وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج غزہ میں 20 لاکھ افراد کو کنٹرول نہیں کر سکتی یہ بات بھی ان بیانات کا حصہ تھی جس نے نیتن یاہو کو ناراض کیا اور اپنے ہی آرمی چیف پر برس پڑے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی چیف کو ہدایت دی کہ وہ غزہ کے بیشتر شہریوں کی جنوبی غزہ جبری منتقلی کا منصوبہ تیار کریں جس پر جنرل ایال زامیر نے جواب دیا کہ کیا آپ وہاں فوجی حکومت چاہتے ہیں؟ دو ملین لوگوں پر کون حکومت کرے گا؟”اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر غصے میں چیختے ہوئے جواب دیا کہ ہماری فوج اور ریاستِ اسرائیل۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میں وہاں فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن میں کسی بھی صورت حماس کو بھی نہیں چھوڑوں گا میں یہ ہرگز قبول نہیں کروں گا اگر فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں نہیں دھکیلا گیا تو پھر ہمیں پورے غزہ پر قابض ہونا پڑے گا اور جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اب تک فوجی کارروائی یرغمالیوں کو نقصان کے خدشے کی وجہ سے نہیں کی گئی، اگر انخلا کا منصوبہ نہ بنایا گیا تو ہمیں پورے غزہ پر قبضہ کرنا ہوگا، جس کا مطلب ہوگا یرغمالیوں کی ہلاکت میں ڈالنا اور میں یہ نہیں چاہتا، نہ ہی میں اس پر تیار ہوں۔

    اس کے جواب میں آرمی چیف زامیر نے خبردار کیا کہ ہمیں اس پر مزید بات کرنی ہوگی اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوا اگر ہم بھوکے، غصے سے بھرے لوگوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور وہ اسرائیلی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں، تاہم نیتن یاہو اپنے آرمی چیف سے اختلا ف کرتے ہوئے حکم دیا کہ انخلا کا منصوبہ تیار کرو، میں جب امریکا سے واپس آؤں تو وہ منصوبہ میرے سامنے ہونا چاہیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی وزرا الزام عائد کرچکے ہیں آرمی چیف حکومت کو غزہ میں ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں جو کہ ناقابل عمل ہے۔

  • وقت آ چکا ہے کہ ہم خود پر اپنی خودمختاری نافذ کریں ،اسرائیلی وزیر

    وقت آ چکا ہے کہ ہم خود پر اپنی خودمختاری نافذ کریں ،اسرائیلی وزیر

    اسرائیلی وزیر انصاف یاریف لیوِن نے کہا ہے کہ غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا وقت آ چکا ہے۔

    العربیہ کے مطابق اسرائیلی وزیر انصاف یاریف لیوِن نے یہ بات اسرائیلی آبادکاروں کے رہنما یوسی ڈاگان سے ملاقات کے دوران کہی کہ غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا موقع تاریخی ہوگا جسے ضائع نہیں کرنا چاہتے ان کا اشارہ ان علاقوں کی جانب بھی تھا جنہیں بین الاقوامی سطح پر متنازعہ قرار دیا جاتا ہے۔

    اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا کہ ملاقات کے دوران لیوِن نے ڈاگان کو مخاطب کرتے ہوئے جو کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم خود پر اپنی خودمختاری نافذ کریں اور اس حوالے سے میرا مؤقف بالکل واضح ہے،یہ مسئلہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

    ملکی سیاسی میدان میں ایک نئی پارٹی کی انٹری

    مقبوضہ مغربی کنارہ 1967 سے اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے، لیکن اسے باضابطہ طور پر کبھی اسرائیل میں ضم نہیں کیا گیا تاہم دائیں بازو کے سخت گیر وزرا طویل عرصے سے اس الحاق پر زور دیتے آئے ہیں، حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے اور اس کے بعد غزہ پر شروع ہونے والی جنگ کے بعد، اسرائیلی حکام نے فلسطینی علاقوں کا نقشہ ازسرِنو ترتیب دینا شروع کر دیا ہےاس کے بعد سے اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے، خاص طور پر شمالی علاقوں میں، روزانہ کی بنیاد پر چھاپے اور اجتماعی گرفتاریاں تیز کر دی ہیں ان علاقوں میں اسرائیلی بلڈوزروں نے رہائشی بستیاں مسمار کی ہیں، اور کم از کم 40 ہزار فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا ہے۔

    محرم الحرام میں مذہبی ہم آہنگی کا فروغ انتہائی ضروری ہے،محسن نقوی

  • امریکا کا  اسرائیل مخالف نعرے لگانے والوں کو امریکی ویزا نہ دینے کا اعلان

    امریکا کا اسرائیل مخالف نعرے لگانے والوں کو امریکی ویزا نہ دینے کا اعلان

    واشنگتن: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے اسرائیل مخالف نعرے لگانے والوں کو امریکی ویزا نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ غزہ کی موجودہ صورت حال کی ذمے دار حماس ہے، اس نے مرنے والے 2 امریکیوں کی باقیات بھی اب تک روکی ہوئی ہیں جو غیر ملکی تشدد کی حمایت کرتے ہیں انہیں امریکی ویزا نہیں دیں گے اور اسرائیل مخالف نعرے لگانے والوں کو بھی امریکی ویزا نہیں دیا جائے گا۔
    اس
    واضح رہے کہ برطانیہ کے سالانہ موسیقی کے میلے گلاسٹنبری فیسٹیول میں گلوکاروں نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے تھے گلاسٹنبری فیسٹیول میں جاری کنسرٹ کے دوران آئرلینڈ کے ریپ گانے والے گروپ نی کیپ (Kneecap) نے فلسطین کو آزاد کرو(free Palestine) اور مرگ بر اسرائیلی فوج (death death IDF) کے نعرے لگائے تھے۔

    نی کیپ بینڈ کے رکن مو شارا نے کہا تھا کہ وہ اپنی آمدنی میں کمی پر تیار ہے، مگر تاریخ کی درُست سمت میں رہنا چاہتا ہے، ہم آواز بلند کریں گے تو فلسطین کے معاملے پر دوسرے میوزک گروپ بھی آواز بلند کریں گے۔

  • اسرائیل کا حماس اور حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا حماس اور حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی تنظیم حماس کے بانی رہنما حکم محمد عیسیٰ العیسیٰ اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر عباس الحسن وہبی کو فضائی حملوں میں شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی میں کارروائی کے دوران حکم عیسیٰ کو نشانہ بنایا گیا، جو حماس کے عسکری ونگ کے اہم بانی رہنماؤں میں شامل تھے بیان کے مطابق وہ 7 اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی اور عملی نفاذ میں بھی ملوث رہےاسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حکم عیسیٰ نے حماس کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، وہ تربیتی ہیڈکوارٹر کے سربراہ اور جنرل سیکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں تاہم حماس نے تاحال اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

    ادھر جنوبی لبنان کے علاقے محرونا میں ایک علیحدہ فضائی حملے میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے کمانڈر عباس الحسن وہبی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، فوج کے مطابق وہبی حزب اللہ کی ’رضوان فورس‘ میں انٹیلیجنس چیف تھے اور تنظیم کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں میں شامل تھے۔

    ملک میں مزید موسلادھار بارشوں کا امکان، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری

    دوسری جانب اسرائیل کی دہشت گردی کے نتیجے میں 24 گھنٹے میں مزید 81 فلسطینی شہید اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ غزہ کے ثالث اسرائیل اور حماس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اس ہفتے ایران کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی بنیاد پر فلسطینی علاقے میں بھی جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

    جمعے کو اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ، جو واشنگٹن اور قاہرہ کے ساتھ مل کر غزہ کے ثالثی عمل میں شامل ہے، اب اس جنگ بندی سے پیدا ہونے والی فضا اور موقع کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں اگر ہم نے اس موقع اور اس رفتار کو استعمال نہ کیا، تو یہ ایک اور ضائع ہونے والا موقع ہوگا، جیسا کہ حالیہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے، ہم دوبارہ ایسا نہیں دیکھنا چاہتے‘، الانصاری قطر کے وزیراعظم کے مشیر بھی ہیں۔

    سعودیہ ایئر لائن کے کیبن کریو منیجر کا دوران پرواز انتقال ہو گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو غزہ میں نئی جنگ بندی کے بارے میں امید کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ اگلے ہفتے تک طے پا سکتا ہے ثالث کئی مہینوں سے دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں گزشتہ 20 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو، ماجد الانصاری نے وضاحت کی کہ اس وقت براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم قطر ہر فریق سے الگ الگ سطح پر بھرپور رابطے میں ہے۔

    جنوری میں صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دو ماہ کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم مارچ میں یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دیں ماجد الانصاری نے جنوری کی اس جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے جس کے تحت حماس کے زیر حراست درجنوں قیدیوں کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدی رہا کیے گئے تھے، کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ امریکا کا دباؤ کیا کچھ کر سکتا ہے، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر امریکا کے عمل دخل کے تناظر میں یہ کسی طرح بعید از قیاس نہیں کہ واشنگٹن کی طرف سے دباؤ غزہ میں بھی ایک نئی جنگ بندی کے حصول کا باعث بن سکتا ہے۔

    :بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونوح میں زلزلہ،21 مکانات تباہ

    یاد رہے کہ اسرائیل خود لبنان کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزیاں کر رہا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

  • خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، اسرائیلی وزیر دفاع

    خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی بہت کوشش کی، مگر کوئی موقع نہیں مل سکا۔

    ’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پبلک ٹی وی چینل ’کان‘ کو انٹرویو دیتے ہوئےاسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تک رسائی ممکن ہوتی تو اسرائیل 12 روزہ جنگ کے دوران انہیں شہید کر دیتامیرا اندازہ ہے کہ اگر خامنہ ای ہمارے نشانے پر آ جاتے، تو ہم انہیں ختم کر دیتے‘ لیکن خامنہ ای کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھااسی لیے وہ بہت گہرائی میں زیر زمین چلے گئے اور ان کمانڈروں سے بھی رابطے ختم کر دیے جنہیں شہید کیے گئے کمانڈروں کی جگہ تعینات کیا گیا تھا، اس لیے یہ عملی طور پر ممکن نہ رہا‘۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل، جنگ بندی کے باوجود خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوششیں جاری رکھ سکتا ہے، ایران اور اسرائیل کے درمیان اس وقت ایک نازک جنگ بندی قائم ہے۔

    محرم الحرام میں نفرت انگیز مواد، اور اشتعال انگیزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    اسرائیلی ٹی وی چینل 13 سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایسا کوئی منظر نظر نہیں آتا جس میں ایران اپنی جوہری تنصیبات کو دوبارہ مکمل طور پر بحال کر سکے امریکا اور اسرائیلی حملوں نے تہران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے مذاکراتی دعوے کو مسترد کردیا

  • اسرائیل،حماس جنگ بندی چند دنوں میں  ممکن، ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ

    اسرائیل،حماس جنگ بندی چند دنوں میں ممکن، ٹرمپ کے ثالث کا دعویٰ

    ٹرمپ کے ثالثی بشارہ بہبہ کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ’چند دنوں میں ممکن‘ ہے، جبکہ بشارہ بہبہ نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مل کر یہ ثالثی کی ہے-

    مصری چینل ’الغد‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اب غزہ ایک بار پھر خطے کی ترجیح بن چکا ہے، جس سے معاہدے کے امکانات روشن ہوئے ہیں تاہم، ایک سینئر عرب سفارتکار نے ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے اتنی امید ظاہر نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بدستور جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق واضح طور پر کوئی وعدہ نہیں کرنے سے انکار کررہا ہے، اسرائیل کی پیشکش یہ ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو عارضی جنگ بندی کے دوران مرحلہ وار کیا جائے گا، اگرچہ ثالث بشارہ بہبہ نے واضح کیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا اسرا ئیل اور حماس تنازع سے براہ راست تعلق نہیں ہے، تاہم قطری اور مصری ثالث اب اسرائیل-حماس تنازع کو ختم کرنے کے لیے زیادہ سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات بہت محدود رہ گئے ہیں اور اصل اختلاف صرف ایک بات پر رہ گیا ہے ، جو غالباً اس شق سے متعلق ہے کہ عارضی جنگ بندی کے اختتام پر اگر مستقل جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو کیا اسے خود بخود توسیع ملے گی یا نہیں، جیسا کہ حماس مطالبہ کر رہی ہے۔

    بشارہ بہبہ فی الحال مذاکرات کی پیشرفت کے حوالے سے مصر میں موجود ہیں، اس دوارن انہوں نے حماس کے سینئر رہنما غازی حمد سے ملاقات کی تاکہ باقی اختلافات پر بات چیت کی جاسکے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق کئی تجاویز زیر غور ہیں جن میں کچھ مکمل اور کچھ جزوی نوعیت کی ہیں ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لائی جائے، کیونکہ گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیل روزانہ اوسطاً صرف 60 ٹرک داخل ہونے دے رہا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے مطابق ضرورت سے کہیں کم ہے۔

  • غزہ :حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ :حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ کے علاقے خان یونس میں حماس کے حملے میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز بتایا کہ منگل کو جنوبی غزہ کی پٹی میں جھڑپ کے دوران اس کے پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ ایک علیحدہ واقعے میں جنوبی غزہ ہی میں ایک اور اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے یہ ساتوں فوجی خان یونس شہر میں اس وقت مارے گئے جب ان کی گاڑی کے نیچے نصب ایک دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے آغاز سے اب تک غزہ میں لڑائی کے دوران 19 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    ترک نشریاتی ادارے انادولو کی جانب سے رواں ماہ شائع کی گئی اسرائیلی اخبار یدیعوت احارونوت کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر فوجی افسر نےبتایا ہے کہ غزہ پر جاری جنگ کے آغاز سے اب تک 10 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں اہلکار ایسے بھی ہیں جو بار بار ذہنی صدمے میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ میں 861 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 5 ہزار921 زخمی ہوئے ہیں تاہم فوجی افسر کی طرف سے دی گئی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جو کہ اسرائیلی فوجی نظام پر گہرے اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

    اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 20 لاکھ سے زائد کی آبادی میں سے بیشتر بے گھر ہو چکی ہے اور علاقے میں شدید غذائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

  • نیتن یاہو نے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی بائیڈن دور میں کرلی تھی،امریکی اخبار

    نیتن یاہو نے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی بائیڈن دور میں کرلی تھی،امریکی اخبار

    امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی بائیڈن دور میں کرلی تھی۔

    امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا ایرانی جوہری سائنس دانوں نے تحقیق دوبارہ شروع کر دی ہے اسرائیلی انٹیلی جنس حکام نے ایرانی جوہری سائنس دانوں اور فوجی کمانڈروں پر مشتمل اہداف کی فہرستیں تیار کیں،اسرائیلی فضائیہ نے لبنان، شام اور عراق میں ایرانی فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا تاکہ ایران پر فضائی کارروائی کی راہ ہموار ہو سکے۔

    رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے صرف فوجی تیاریوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ واشنگٹن پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی، کیونکہ اسرائیل ہمیشہ سے سمجھتا آیا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت اس کے انفرادی حملے سے زیادہ مؤثر ثابت ہو گی۔ آخرکار، ٹرمپ بھی اس تنازع میں شامل ہو گئے اور امریکی افواج کو، جن میں اسٹریٹجک بم بار طیارے بھی شامل تھے، ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا حکم دے دیا۔

    رپورٹ کے مطابق مارچ تک، اور نیتن یاہو کے ٹرمپ سے ملاقات سے چند ہفتے قبل، اسرائیلی اعلیٰ حکام نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جون تک ایران پر حملہ کر دیں گے، خواہ امریکا ساتھ دے یا نہ دے۔ یہ فیصلہ اس خوف کے تحت کیا گیا کہ ایران اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ قائم کر لے گا۔ جب نیتن یاہو نے 13 جون کو اچانک حملہ کیا، تو وہ کسی نئی انٹیلی جنس اطلاع پر مبنی نہیں تھا، بلکہ یہ حملہ ان منصوبوں پر عمل درآمد تھا جو پہلے سے نہایت احتیاط سے تیار کیے جا چکے تھے۔ ان کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو نقصان پہنچانا تھا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی حلقے کو اس اعلان سے حیران کر دیا،اٹرمپ نے یہ معاہدہ اس وقت اچانک ظاہر کیا جب وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایرانی حکام سے، قطری ثالثی کے ذریعے، ٹیلی فون گفتگو کر چکے تھے۔