Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • روس کا اپنے سفارتی عملے کو فیملی سمیت اسرائیل چھوڑنے کا حکم

    روس کا اپنے سفارتی عملے کو فیملی سمیت اسرائیل چھوڑنے کا حکم

    یوکرین میں مقیم دو میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اسرائیل سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے خاندان کے افراد کو "فوری بنیادوں پر” نکال رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس مقصد کے لیے تین پروازیں چلائی گئی ہیں، جس نے نئے سرے سے بحث چھیڑ دی ہےیوکرین کے مشہور میڈیا اداروں کیو پوسٹ اور یوکرین نیشنل نیوز (یو این این) نے اطلاع دی ہے کہ روس انخلاء کے اس عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، انہوں نے دعوی کیا کہ اس طرح کی سرگرمی سے پتہ چلتا ہے کہ ماسکو کے پاس کچھ "اہم یا حساس معلومات” ہوسکتی ہیں۔

    ڈیلی ایران نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے، Kyiv پوسٹ اور UNN نے جمعرات (8 جنوری) کو اطلاع دی کہ اسرائیل میں روسی سفارت خانے کے عملے اور ان کے خاندان کے افراد کو فوری طور پر روس سے نکالا جا رہا ہے۔

    یو این این نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں یہ تیسری پرواز تھی جس کے ذریعے روس اپنے سفارتی عملے کو نکال رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پوری کارروائی کو منظم اور تیز رفتاری سے انجام دیا جا رہا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ روس اور اسرائیل نے اس معاملے پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    امریکا کی ایران کیخلاف حملوں کی تیاری؟ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس امریکی فوجی طیارےمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ

    کیو پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ روسی سفارت خانے کے عملے اور ان کے اہل خانہ کا اسرائیل سے انخلاء منگل (6 جنوری) کو شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ اس دعوے کی حمایت کے لیے ٹھوس شواہد بہت کم ہیں، یہ معلومات فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا پر مبنی تھیں تاہم اشاعت کے وقت روسی وزارت خارجہ یا کسی دوسرے سرکاری ذریعے سے اس معاملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے ڈرافٹ کے حوالے سے اہم پیش رفت

    واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے سوشل میڈیا ایکس کے چینل ڈیلی ایران نیوز نے بدھ کو سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے فلائٹ ٹریکنگ سائٹ ‘ADS-B ایکسچینج’ کا اسکرین شاٹ شائع کیا اور کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل میں روسی سفارتخانے کو خالی کرنے والی یہ تیسری پرواز تھی،تاہم اسرائیل میں روسی سفارت خانے یا روسی وزارت خارجہ کے کسی سرکاری چینل نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے اسی طرح روس یا بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں کی طرف سے ابھی تک کسی بھی معلومات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    ‎پاکستان اور انڈونیشیا میں تجارتی تعلقات کے فروغ پر اتفاق، مشترکہ تجارتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

  • اسرائیلی اہلکار کا صومالی لینڈ کا دورہ، پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت23 اسلامی ممالک اور اوآئی سی نے اسرائیلی اہلکار کے "صومالی لینڈ” کے غیر قانونی دورے کی مذمت کر دی۔

    دفترخارجہ نے 23 اسلامی ممالک اوراوآئی سی کا مشترکہ بیان جاری کر دیا جس میں اسرائیل کے ایک اہلکار کے 6 جنوری کو "صومالی لینڈ” کے غیر قانونی دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے،مشترکہ بیان الجزائر، بنگلہ دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لیبیا ، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکی، یمن اور او آئی سی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریحاً خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے منافی ہے اسلامی ممالک نے صومالیہ کی وفاقی جمہوریہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ صومالیہ کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سا لمیت کا احترام کرے اورصومالی لینڈ کی تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لےعلیحدگی پسند ایجنڈے کی حوصلہ افزائی ناقابل قبول ہے جو پہلے سے کشیدگی کے شکار خطے میں تناوٴ کومزید بڑھا سکتی ہے۔

    بھائیوں کے ہوٹل پر قبضہ کرنے کا الزام،سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کے خلاف مقدمہ درج

    عظمی بخاری کا معین قریشی کے خلاف ڈیفامیشن کورٹ میں پہلاکیس دائر کرنے کا اعلان

    بنگلہ دیش ایئر فورس چیف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ ،لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار سے ملاقات

  • لبنان میں  حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل

    لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل

    لبنانی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے اہداف حا صل کر لیے گئے ہیں،منصوبے کے پہلے مرحلے میں دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقوں میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا تھا، یہ علاقہ اسرائیلی سر حد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہے اس منصوبے کو آئندہ مرحلوں میں ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دینے کا ارادہ ہے ،اس مرحلے میں وہ علاقے اور مقامات شامل نہیں تھے جو اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    واضح رہے کہ نومبر 2024 میں جنگ بندی ہوجانے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان میں وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے اور جنگجو ہوتے ہیں،اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 5 ایسے علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے جنہیں وہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے جبکہ اسرائیل حزب اللہ پر دوبارہ مسلح ہونے کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔

    ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا چاہیے، جنگ بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اپنے جنگجو دریائے لیطانی کے شمال کی جانب منتقل کرنے اور خالی کیے گئے علاقوں میں اپنی عسکری تنصیبات ختم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم حزب اللہ اب تک اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کرتی ر ہی ہے۔

  • سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں اور وہ جلد ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دورا ن کہا کہ ابراہیمی معاہدے نسبتاً تیزی سےمزید توسیع پائیں گےاور سعودی عرب کی شمولیت بھی بس کچھ وقت کی بات ہےجہاں تک میرا تعلق ہے، سعودی عرب نے وہ سب کچھ کیا ہے جس کی ہم توقع کرسکتے ہیں، وہ اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے معاملا ت چلا رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود سعودی عرب نے ہمیشہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق محتاط بلکہ واضح طور پر انکاری مؤقف اپنایا ہے۔

    سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا انحصار ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہےتاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور علاقائی امور پر غیر اعلانیہ تعاون موجود ہے، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کے تناظر میں۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

    ابراہیمی معاہدے

    ابراہیمی معاہدے 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں طے پائے، جن کا مقصد اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھاسب سے پہلے ستمبر 2020 متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔

    جس کے بعد اکتوبر 2020 میں سوڈان نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا اور دسمبر 2020 میں مراکش بھی اس معاہدے میں شامل ہوگیا اسرائیل اور عرب ممالک ان معاہدوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سفارتی، تجارتی، سیاحتی اور سیکیورٹی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    سال 2026 کا پہلا سپر مون کب نطر آئے گا؟

    صدر ٹرمپ کی اپنے پہلے دور میں بھی کوشش رہی تھی کہ ابراہیمی معاہدوں میں سعودی عرب کو بھی شامل کیا جائے اور اب دوسرے دور میں بھی یہ خواہش ہےاسی تناظر میں صدر ٹرمپ متعدد بار یہ اعلانات کرچکے ہیں کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرکے ابراہیمی معاہدے میں جلد ہی شامل ہونے والا ہے تاہم یہ جلد اب تک نہیں آئی ہے۔

  • اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    اسرائیل کی ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے وائرل

    اسرائیلی فوج نے ابو عبیدہ کو شہید کرنے کی ویڈیو پھر سے شئیر کر دی-

    اسرائیلی فوج نے ایک نئی تصویر جاری کی جس میں حماس کے القسام بریگیڈز کے حال ہی میں شہید کیے گئے ترجمان ابو عبیدہ کو محمد الضیف اور رافع سلامہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک تصویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حماس کے ترجمان حذیفہ الکحلوت المعروف ابو عبیدہ کی ہےترجمان اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے ساتھ ایک ویڈیو بھی منسلک کی ہے جس میں حماس کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا جہاں ان کے بقول ابو عبیدہ مقیم تھے۔

    سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب ، ناروا سلوک کے شکووں پر خواجہ آصف کا ردعمل

    واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ میں ایک ملٹری کارروائی کے دوران حماس کے ترجمان ابوعبیدہ کو شہید کر دیا تھاتاہم اب تازہ تصویر شیئر کرتے ہوئے ترجمان اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ابو عبیدہ تصویر میں حماس کے فوجی ونگ کے کمانڈر محمد الضیف اور خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر رافع سلامہ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے کہا تھا کہ ابو عبیدہ ہمیشہ نقاب لگا کر ویڈیوز میں آتے تھے لیکن ہماری نظر سے پھر بھی بچ نہیں سکے۔

    پنجاب پولیس کے ریٹائر ہونے والے افسران کی فہرست جاری

  • نیتن یاہو کل امریکا کا دورہ کریں گے

    نیتن یاہو کل امریکا کا دورہ کریں گے

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اتوار کے روز امریکا روانہ ہوں گے-

    اسرائیلی وزیرِ اعظم ایک دن بعد فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے یہ رواں سال امریکا میں صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کی 5ویں ملاقات ہوگی،یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور علاقائی ثالث غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر پیشرفت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

    اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ملاقات میں ایران، اسرائیل-شام سیکیورٹی معاہدے پر ممکنہ بات چیت، لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی اور غزہ معاہدے کے آئندہ مراحل سمیت متعدد علاقائی امور زیرِ بحث آئیں گے۔

    تائیوان میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    واضح رہے کہ دسمبر کے وسط میں صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امکان ہے نیتن یاہو کرسمس کی تعطیلات کے دوران فلوریڈا میں ان سے ملاقات کریں گے۔

    حکومت نے یوٹیوبر عادل راجا پر بڑی پابندی عائد کردی

  • اسرائیل کا  صومالی لینڈکو خود مختار ریاست تسلیم کرنےکا اعلان، سعودیہ اور پاکستان کی مذمت

    اسرائیل کا صومالی لینڈکو خود مختار ریاست تسلیم کرنےکا اعلان، سعودیہ اور پاکستان کی مذمت

    اسرائیل نے خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کو آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنےکا اعلان کردیا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہےکہ اسرائیل صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں فوری تعاون کا خواہاں ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہےکہ یہ اعلان ابراہام معاہدوں کی روح کے مطابق ہے۔

    صومالیہ نے اسرائیلی اقدام کو سختی سے مستردکرتے ہوئے اسے غیر قانونی قدم اورخود مختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے، صومالیہ کی وزارت خارجہ نےکہا ہےکہ تمام ممالک اور بین الاقوامی شراکت دار بین الاقوامی قانون کا احترام کریں، عدم مداخلت اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی پاسداری کریں اور افریقا میں امن ،استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، صومالی لینڈ جمہوریہ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابل تقسیم اور ناقابل علیحدہ حصہ ہے، صومالیہ ایک واحد خودمختار ریاست ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

    بھارت کیجانب سے کھیلنے اور بھارتی جھنڈا لہرانے پر پاکستانی کھلاڑی پر پابندی عائد

    سعودی عرب اور پاکستان نے اسرائیلی اقدام مسترد کردیا

    سعودی عرب نے بھی صومالی سرزمین پر ایک نئے ملک کے قیام کو اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے،سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ یکطرفہ علیحدگی کی کوشش بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستان نے بھی اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ تسلیم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے صومالیہ کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانےکی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیا ہے۔

    پاکستان کا 5 سال میں ملائیشیا کو حلال گوشت کی 52 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ ایسے غیرقانونی اور اشتعال انگیزاقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، یہ اقدامات صومالیہ اورپورے خطے کے امن واستحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

    اس کے علاوہ مصر ، ترکیے ، جبوتی اورافریقی یونین نے بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہےکہ علیحدہ علاقوں کو تسلیم کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

    واضح رہےکہ صومالی لینڈ نے 1991 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور وہ عملی طور پر خودمختار بھی ہے تاہم اب تک اسےکسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا، عالمی سطح پر اسے صومالیہ کے اندر ایک خود مختار انتظامی خطے کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔

    پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی ایکٹ مسترد کر دیا

  • اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فوراً واپس لے،صومالیہ

    اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فوراً واپس لے،صومالیہ

    صومالیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

    الجزیرہ کو انٹرویو میں صومالیہ کے وزیر خارجہ علی عمر نے اسرائیل کے متنازع ملک صومالی لینڈ کو علیحدہ ریاست تسلیم کرنے کو اپنی خودمختاری کے خلاف اور ناقابلِ برداشت جارحیت قرار دیا اور خبردار کیا کہ اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا ایک مقصد غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

    ادھر فلسطین کی وزارتِ خارجہ نے بھی صومالیہ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس سے قبل صومالی لینڈ کو فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے ممکنہ مقام کے طور پر دیکھ چکا ہے جو فلسطینیوں کے لیے ایک سرخ لکیر ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کے اس فیصلے کی پیروی نہیں کریں گے-

    کرپشن الزامات :ملائیشین آرمی چیف کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا، تحقیقات شروع

    صومالیہ کے وزیرِ خارجہ علی عمرنے مزید کہا کہ ہم اسرائیل کے اس اقدام کو ریاستی جارحیت اور صومالیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھتی ہے اور اس کے خلاف تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے اسرائیل کا یہ اقدام ہمارے عوام کے لیے کبھی قابلِ قبول نہیں ہوگا ہم اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع میں متحد ہیں، اسرائیل کو چاہیے کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والے اپنے اس اقدام کو فوری طور پر واپس لے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے۔

    صومالیہ کا یہ شدید ردِعمل ایک دن بعد سامنے آیا جب اسرائیل دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے باضابطہ طور پر صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا،صومالی لینڈ کی حکومت متعدد بار اسرائیل کو یقین دلا چکی ہے کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہیں گے اور اپنے یہاں آبادکاری میں اسرائیل کی مکمل حمایت کریں گے۔

    محسن نقوی اور طلال چوہدری کاایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر کا دورہ

    دوسری جانب صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمٰن محمد عبداللہی نے فلسطین کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، عالمی سطح پر مخالفت کے باوجود صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہرگیسا میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بھرپور انداز میں جشن منایا کہ اسرائیل پہلا ملک ہے جس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا ہے۔

    یاد رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں سابق صومالی حکمران محمد سیاد بری کے دور میں ہونے والے مظالم کے بعد خود کو صومالیہ سے الگ ریاست قرار دیا تھا آج تک اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک نے صومالی لینڈ کو تسلیم نہیں کیا تھا البتہ اب اسرائیل اس سلسلے میں پہلا ملک بن گیا ہے ایتھوپیا کے ساتھ اسرائیل کے قریبی روابط اور 1977 کی اوگادین جنگ کے پس منظر میں صومالیہ اور اسرائیل کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں۔

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگئی

  • اسرائیل میں ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شہری گرفتار

    اسرائیل میں ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شہری گرفتار

    اسرائیل میں ایران کے لیے جاسوسی کے شبے میں ایک شہری گرفتار کیا گیا ہے-

    اسرائیلی حکام نے جمعرات کو ایک اسرائیلی کی گرفتاری کا اعلان کیا جس پر شبہ ہے کہ اس نے ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی ہدایت پر سکیورٹی سے متعلق جرائم کا ارتکاب کیا، اس سے چند دن پہلے تہران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک ایرانی کو پھانسی دی تھی۔

    رشون لیزیون شہر کے رہائشی 40 سال سے زائد العمر مشتبہ شخص کو اس ماہ اسرائیلی پولیس اور خفیہ ایجنسی شِن بیٹ کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا،پولیس اور شِن بیٹ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مشتبہ شخص کی شناخت سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کے گھر کے قریب فوٹو گرافی کرنے کے دوران کی گئی ہےایرانی ہینڈلرز کے ساتھ رابطے کے دوران اسے یہ کام انجام دینے کے لیے ڈیش کیمرہ خریدنے کی ہدایت کی گئی تھی،مختلف رقموں کے عوض اس شخص نے اپنے آبائی شہر اور دیگر مقامات پر لی گئی تصاویر منتقل کیں۔

    نائیجیریا کی مسجد میں دھماکا، 5 نمازی شہید، 35 زخمی

    مئی میں اسرائیل نے بینیٹ کی جاسوسی کے الزام میں ایک 18 سالہ اسرائیلی کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا جبکہ گذشتہ ہفتے ایران نے کہا کہ اس نے ایک ایرانی شہری کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دے دی تھی-

    پوپ لیو کا پہلا کرسمس خطبہ: غزہ کی سنگین انسانی صورتحال کو افسوسناک قرار دیا

  • سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے واضح اور دوٹوک پیغٍام میں کہا ہے کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، سعودی عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر بھی غور نہیں کر رہا ہے۔

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی صرف اُسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل ایک نارمل ریاست کی طرح بین الاقوامی قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرے اور فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل سامنے آئے۔

    اُنہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے کے تحت طے نہیں ہو جاتا اگر اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کرے اور ان پر عمل کرے تو پھر سعودی عرب اس کے ساتھ معمول کے تعلقات پر غور کر سکتا ہےسعودی مؤقف میں نہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ کوئی ابہام ہے کہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی بنیاد ہے۔

    پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    اس موقع پر ترکی الفیصل نے 2002 کے عرب امن منصوبے کا حوالہ بھی دیا، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کے منصفانہ حل پر رکھی گئی تھی،سعودی عرب نے ماضی میں بھی امن عمل میں حصہ لیا تھا جیسا کہ 1991 کی میڈر ڈ امن کانفرنس کے بعد ہوا تھا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ اسرائیل امن کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں تھا۔

    شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کے قتل اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات امن عمل کے ناکام ہونے کی علامت تھے،( اسرائیل ہمیشہ سے یاسر عرفات کو زہر دیے جانے کے الزام کی تردید کرتا آیا ہے لیکن ٹھوس شواہد کے تمام اشارے صیہونی ریاست تک ہی جاتے ہیں)۔

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیاں، شام اور لبنان میں فوجی موجودگی، جنگ بندی معاہدوں سے انحراف اور گریٹر اسرائیل جیسے بیانات اعتماد پیدا نہیں کرتےامریکی دباؤ سے متعلق سوال پر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے تحت بناتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرتا، ولی عہد محمد بن سلمان نے خود وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے سامنے واضح کیا تھا کہ دو ریاستی حل کے بغیر اسرائیل سے معمول کے تعلقات ممکن نہیں۔

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    شہزادہ ترکی نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے قریب تھے یہ محض قیاس آرائیاں تھیں اور سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی،اگر اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم کے بعد کوئی نیا رہنما آتا ہے تو اسے بھی دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا نہیں لیکن سعودی عرب کا اصولی مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی