Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسماعیل ہنیہ کے گھر رپورٹنگ کرنیوالا صحافی اسرائیلی حملے میں‌شہید

    اسماعیل ہنیہ کے گھر رپورٹنگ کرنیوالا صحافی اسرائیلی حملے میں‌شہید

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے گھر رپورٹنگ کے لیے جانے والے صحافی کو اسرائیلی فوج نے شہید کر دیا

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ سے منسلک صحافی شمالی غزہ میں اسماعیل ہنیہ کے گھر کے قریب رپورٹنگ کررہے تھے کہ اس دوران فضائی حملہ کیا گیا،صحافی اسماعیل ہنیہ کے گھر گئے اور اس کی قربانیوں پر مبنی رپورٹنگ کر رہے تھے کہ اسی دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا گیا،اس دوران دو صحافی شہید ہو گئے.

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 108 صحافی اور 165 میڈیا ورکر شہید کیے جاچکے ہیں،اسماعیل ہنیہ کو گزشتہ ایران میں نشانہ بنایا گیا تھا، اسماعیل ہنیہ کی موت پر ایران نے کہا ہے کہ ہم بدلہ لیں گے، حماس نے اسرائیل پر موت کا الزام لگایا ہے.

  • ترک صدر کا انجام صدام حسین کی طرح ہو گا،اسرائیل کی دھمکی

    ترک صدر کا انجام صدام حسین کی طرح ہو گا،اسرائیل کی دھمکی

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردگان کو دھمکی دہے کہ ترک صدر کا انجام صدام حسین کی طرح ہو گا

    ترک صدر طیب اردوان کے بیان پر اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاتس نے دھمکی دی ہے کہ ارداان تم صدام حسین کا انجام یاد کرو ،اگر تم نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو تمہارا انجام بھی صدام جیسے ہوگا ،اس دھمکی کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروفا کا ردعمل سامنے آیا ہے،تو وہیں ترک وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کا انجام ہٹلر کی طرح ہونے کا اعلان کیا ہے ،آق پارٹی کے ترجمان عمر چیلک کا کہنا ہے کہ "ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز نے ہٹلر کے وزیر خارجہ ربینٹرپ کو اپنا آئیڈل مان رکھا ہے۔ تم صدام حسین کے خلاف کامیاب ہو سکتے ہو لیکن صدر رجب طیب ایردوان ایک کامیاب سلیف میڈ سیاستدان ہے جس کی جڑیں ہمیشہ ترک قوم میں رہی ہیں۔ تمہارے ان خوابوں سے پہلے ہم اپنے خواب پورے کریں گے اور تمہاری نیندوں سے خراب کر دیں گے”

    ڈچ انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان گیرٹ وائلڈرز کا کہنا تھا کہ ترک صدر نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے. ترکیے کو نیٹو سے نکال دینا چاہیے،اسرائیل کے مرکزی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ کا کہنا تھا کہ ترک صدر ایردوان مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ ہے۔ نیٹو اسرائیل کے خلاف ایردوان کی دھمکیوں کی مذمت کرے اور اسے حماس کی حمایت ختم کرنے پر مجبور کرے۔

    ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا تھا کہ ترکیہ، لیبیا اور ناگورنو کاراباخ کی طرح اسرائیل میں بھی داخل ہوسکتاہے، ہمارے پاس ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں، ہمیں بس مضبوط ہونا ہے تاکہ ہم یہ کرسکیں۔وقت آگیا ہے کہ اب ترکی فوجی لحاظ سے طاقتور ہوجائے ،کیوں کہ فلسطین کے بعد اسرائیل کی نظریں ترکی پر ہیں،اگر اسرائیل باز نا آیا تو ہماری فوجیں اسرائیل میں گھسیں گی ،جیسے اس سے قبل ترک فوجیں آزربائیجان کی مدد کے لیے کارا باخ میں گھسی تھیں اور آرمینیا کے عیسائیوں سے کاراباخ صوبہ آزاد کرایا تھا ،اور جیسے لیبیا کی مدد کے لیے ترک فوجیں وہاں گئیں تھیں اور باغیوں کا قلع قمع کیا تھا

    اگرچہ ترک صدر پر کافی تنقید کی جارہی ہے کہ وہ محض دھمکیاں لگا رہے ہیں اور عملا غزہ کی مدد نہیں کررہے لیکن ایک نیٹو ملک کی اسرائیل کو دھمکی اور پھر ترک صدر کو صدام کی طرح قتل کرنے کی اسرائیلی دھمکی مشرق وسطیٰ میں خون ریز عالمی جنگ کا اشارہ دے رہی ہے جو غزہ جنگ کی شکل میں لبنان ایران یمن سعودی عرب شام عراق تک پھیل چکی ہے ،اردگان کے تازہ بیان کے بعد ترکی سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اردگان گزشتہ دس ماہ میں غاصب اسرائیل کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے رہے ہیں تو یہ حملہ کرنے کی کیا منطق ہے ؟ اردگان کو اپنے بیان پر شدید سبکی کا سامنا ہے ،غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران ترکی سے اسرائیل سپلائی جاری رہی ہے،اب ترک صدر کو غزہ کے مسلمانوں سے ہمدردی جاگ اٹھی ہے،

    دوسری جانب اسرائیلی دہشت گرد درندوں نے غزہ سے اغوا کیے گئے 50 مسلمانوں کو اسرائیلی جیل میںجنسی زیادتی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ،اسرائیلی پولیس نے جیل کے ذمہ دار یہودی دہشت گردوں کو گرفتار کیا ،تو اسرائیلی متشدد یہودی وزیروں نے اس جیل پر صہیونی درندوں کے ساتھ دھاوا بول دیا ،جنہوں نے اس جیل میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو شہید کرنے کا مطالبہ کیا اسرائیلی جیلوں میں 20000 سے زائد نہتے فلسطینی مسلمان قید ہیں ،جن میں 3000 بچے اور خواتین شامل ہیں،گزشتہ 297 دنوں میں صرف فلسطین کے مغربی پٹی سے 10000 فلسطینی گرفتار کیے گئے ہیں

  • برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    اسرائیل کو بڑا دھچکا لگ گیا،برطانیہ عالمی عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کو چیلنج کرنے سے دستبردار ہو گیا ہے

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے ہمارا مؤقف واضح ہے کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے لہٰذا وہی فیصلہ کرے گی،عالمی اور ملکی سطح پر قانون کی حکمرانی اور اختیارات کی منتقلی پر یقین رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چیف پراسیکیوٹر آئی سی سی کریم خان نے مئی میں اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر ان کے وارنٹ کی درخواست دی تھی،چیف پراسیکیوٹر نے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹ کے لیے بھی ایسی ہی درخواست کی تھی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی سابق حکومت کا مؤقف تھا کہ اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اسرائیلیوں پر مجرمانہ دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا،سابق برطانوی وزیراعظم رشی سوناک کی حکومت نے آئی سی سی پراسیکیوٹر کا نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،الجزیرہ کے مطابق برطانیہ کی نئی حکومت سمجھتی ہے کہ اسرائیل کو سپورٹ کرنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ نیتن یاہو کے جنگی جرائم کو سپورٹ کیا جائے،

    قبل ازیں فرانس نےاپنے مغربی اتحادیوں کے برعکس عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کی اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کی حمایت کردی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ عدالت پر منحصر ہےکہ وہ شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد وارنٹ جاری کرنےکا فیصلہ کرے،عالمی فوجداری عدالت، اس کی آزادی اور استثنیٰ کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں، غزہ پٹی میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ناقابل قبول سطح اور امداد کی رسائی میں کمی پرکئی مہینوں سے خبردار کر رہے ہیں۔

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

  • اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر ونائب صدر سے ملاقات،احتجاج میں امریکی پرچم نذرآتش

    اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر ونائب صدر سے ملاقات،احتجاج میں امریکی پرچم نذرآتش

    اسرائیل کے غزہ پر حملے اور اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران احتجاج کیا گیا، اس دوران مظاہرین نے امریکی پرچم کو آگ لگادی۔

    بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا تھا،اس دوران امریکی کانگریس کے باہر بھر پور احتجاج کیا گیا تھا،اسی احتجاج کے دوران امریکی پرچم کو نذر آٹش کیا گیا، واقعہ پر امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹس کی اگلے صدارتی انتخاب کے لیے ممکنہ امیدوار کملا ہیرس نے امریکی پرچم جلانے کی مذمت کی اور کہا کہ جانب سے امریکی پرچم کو جلانے کا واقعہ قابل نفرت اور حب الوطنی سے عاری حرکت ہے

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی امریکی دورے کے دوران امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کی بقیہ مدت صدارت میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے، صدر بائیڈن کےعوامی خدمات میں گزارے 50 سال قابل تعریف ہیں،بائیڈن کی اسرائیل کے لیے 50 سالہ حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    نائب امریکی صدر کاملا ہیرس سے بھی اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی ہے، اس ملاقات میں کاملا ہیرس کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتحال پر خاموش نہیں رہیں گے، غزہ جنگ بندی معاہدہ کرنے کا وقت آگیا ہے ،امریکی نائب صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کیلئے اقدامات کریں اس سے فلسطینی سویلینز کی مشکلات میں آسانی پیدا ہوگی،

    نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل نے یمن پر فضائی حملہ کیا ہے اور حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے

    اسرائیلی فضائیہ ے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے یمن پر حملہ کیا،اسرائیل نے لبنان پر بھی فضائی حملہ کیا ہے،مغربی یمنی بندرگاہی شہر حدیدہ میں اسرائیلی فوج نے حوثی اہداف کو نشانہ بنایا،تین سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی لبنان میں ڈپووں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے گولہ بارود کو ذخیرہ کر رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ حوثیوں کے مضبوط گڑھ حدیدہ میں متعدد "فوجی اہداف” کو نشانہ بنایا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حملہ "حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی ریاست کے خلاف کیے گئے سینکڑوں حملوں کے جواب میں” تھا۔

    ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔اسرائیلی وزیراعظم
    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ بندرگاہ کو حوثی ملیشیا کے لیے ایرانی ہتھیاروں کے داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسرائیل کی سرحدوں سے تقریباً 1,800 کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے والے حملے دشمنوں کے لیے ایک یاد دہانی ہیں کہ ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں کو پیغام دینا تھا۔ گیلنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ”اس وقت حدیدہ میں جو آگ جل رہی ہے وہ پورے مشرق وسطیٰ میں نظر آرہی ہے اور اس کی اہمیت واضح ہے۔” "حوثیوں نے ہم پر 200 سے زیادہ بار حملہ کیا۔ پہلی بار جب انہوں نے کسی اسرائیلی شہری کو نقصان پہنچایا، ہم نے انہیں مارا۔ اور ہم یہ کسی بھی جگہ کریں گے جہاں اس کی ضرورت ہو گی۔

    حوثی تحریک کے زیر انتظام المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے کہا کہ فضائی حملوں میں 80 افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یمن کو ” اسرائیلی جارحیت” کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور صوبے کے پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد "عوام کے مصائب میں اضافہ کرنا اور یمن پر غزہ کی حمایت بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے” لیکن یہ صرف یمن کے عوام اور اس کی مسلح افواج کو اس حمایت کو برقرار رکھنے کے لیے مزید پرعزم بنائیں گے۔

    یمن کے انصار اللہ حوثی گروپ کے ترجمان کا ہنگامی بیان
    اسرائیل نے آج یمن کے حدیدہ پر شہر پر بمباری کی ،یہ بمباری شہری اہداف پر کی گئی ہے ،جس میں الیکٹریسٹی اسٹیشن آئل ریفائنری اور دو بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ،اسرائیلی دہشت گردی میں ہمارے مسلمان شہید ہوئے ہیں ،ہم اسرائیل کی بمباری کا جواب دیں گے ،آج سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب جنگی علاقہ ہے،اسرائیلی شہری تل ابیب چھوڑ دیں ،ہم تل ابیب پر حملہ کریں گے ،ہم ہر قیمت پر غزہ کی مدد اور نصرت جاری رکھیں گے ہم اسرائیل سے لمبی جنگ لڑنے کے لیے تیار رہیں ،تاکہ اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم کردے اور مظلوموں کا خون بہانا بند کردے ،ہم پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قضیہ فلسطین کے لیے کھڑے ہوجائیں ،یمن کے غیور مسلمان اسرائیل سے لڑیں گے اور سبق سکھائیں گے

    یمن پر امریکی ساختہ F35 جہازوں سے بمباری کی گئی ،یہ جہاز 2000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے بحر احمر میں مصر سعودی عرب کی حدود سے گزر کر یمن پہنچے ،فضا میں ان جہازوں میں اٹلی کے جہازوں سے تیل بھرا گیا ،

    قبل ازیں جمعہ کو حوثی باغیوں کے ڈرون حملے میں تل ابیب کے وسط میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک شخص ہلاک اور کم از کم 10 دیگر زخمی ہوئے تھے،

    جنوری سے، امریکی اور برطانوی افواج یمن میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، جسے باغیوں نے غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی کارروائیوں کا انتقام قرار دیا ہے۔ تاہم جن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے کئی کا تعلق اسرائیل سے نہیں ہے۔مشترکہ افواج کے فضائی حملوں نے اب تک ایران کی حمایت یافتہ فورس کو روکنے میں بہت کم کام کیا ہے۔

    دوسری جگہوں پر، فلسطینیوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے جمعہ کے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اس فیصلے پر تنقید کی۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی عدالت کے فیصلے کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور ہونا چاہیے،اردن کے وزیر خارجہ نے بھی آئی سی جے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔اقوام متحدہ کی عدالت نے جمعہ کے روز اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا قبضہ "جتنا جلد ممکن ہو” ختم کرے اور اپنی "بین الاقوامی طور پر غلط کارروائیوں” کے لیے مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے عدالت کی رائے کو "بنیادی طور پر غلط” اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور اپنے موقف کو دہرایا کہ خطے میں سیاسی تصفیہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہودی قوم اپنی سرزمین پر قابض نہیں ہو سکتی‘‘۔امریکہ نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کی، واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے تنازع کو حل کرنے کی کوششیں پیچیدہ ہو جائیں گی۔

  • غزہ، اسرائیل کی اسکول میں پناہ لینے والے فلسطینیوں پر بمباری ، 29 شہید

    غزہ، اسرائیل کی اسکول میں پناہ لینے والے فلسطینیوں پر بمباری ، 29 شہید

    خان یونس: غزہ میں اسکول کے قریب بےگھر افراد کے کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 29 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کو 9 ماہ مکمل ہوگئے ہیں غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے مشرق میں اباسان الکبیرہ قصبے میں العودہ اسکول کے گیٹ کے باہر اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ ہوا جس میں کم از کم 29 افراد شہید ہوگئے، زخمیوں میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ حکام نے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چار دن میں اسرائیل کی جانب سے بے گھر افراد کو پناہ دینے والے اسکولوں پر یہ چوتھا حملہ ہے۔ غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 38 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہم نے حماس کے عسکری ونگ سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کو نشانہ بنانے کے لیے گولہ باری کی،جبکہ ایک ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے شہریوں کو مشرقی خان یونس اور دیگر علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

  • اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

    اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

    برسلز: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے نگراں جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ غزہ کو ملبے کا ڈھیر بننے اور اسے ایک اور صومالیہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ’’العربیہ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ اسرائیل منظم طریقے سے فلسطین میں ایک علاقے کا دوسرے علاقے سے الحاق پر کام کر رہا ہےمغربی کنارے میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے اس سے امن نہیں بلکہ جنگ اور انتشار آئے گا، غزہ میں جنگ مزید طویل ہوسکتی ہے، اور اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے۔

    جوزپ بوریل نے کہا کہ غزہ کو ملبے کا ڈھیر بننے اور اسے ایک اور صومالیہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یورپی یونین غزہ جنگ کو روکنے اور فلسطین کے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے عرب ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

  • غزہ : اسرائیلی فوج  کا حملہ، اسماعیل ہنیہ کی بہن اور ان کے خاندان کے 13 افراد شہید

    غزہ : اسرائیلی فوج کا حملہ، اسماعیل ہنیہ کی بہن اور ان کے خاندان کے 13 افراد شہید

    غزہ : اسرائیلی فوج نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی بہن کے مکان پر میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسماعیل ہنیہ کی بہن اور ان کے خاندان کے 13 افراد شہید ہوگئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی بہن اپنے خاندان کے ہمراہ ساحل کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ کی ایک عمارت میں رہائش پذیر تھیں، اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا فوجی طیاروں نے شتی پناہ گزین کیمپ کی دو عمارتوں کو نشانہ بنایا ان عمارتوں میں حماس کے کمانڈرز موجود تھے۔

    ملک بھر میں 26 جون سے بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپ میں جس عمارت کو نشانہ بنایا ان میں ایک مکان اسماعیل ہنیہ کی بہن کا تھا، حملے میں بہن اور 13 دیگر رشتہ دار شہید ہوگئے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل بھی اسماعیل ہنیہ کے خاندان کو اسی علاقے میں ایک کار پر سفر کے دوران نشانہ بنایا تھا جس میں اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم، عامر اور محمد کے علاوہ پوتے بھی شہید ہوگئے تھےغزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار 500 سے تجاوز کرگئی جب کہ 86 ہزار سے زائد زخمی ہیں شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

    کارگل جنگ میں تعاون پر بھارت اسرائیل کو غزہ کیخلاف اسلحہ فراہم کر رہا …

  • کارگل جنگ میں تعاون پر  بھارت اسرائیل کو غزہ کیخلاف اسلحہ فراہم کر رہا ہے،اسرائیلی سابق سفیر

    کارگل جنگ میں تعاون پر بھارت اسرائیل کو غزہ کیخلاف اسلحہ فراہم کر رہا ہے،اسرائیلی سابق سفیر

    تل ابیب: اسرائیل کے سابق عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے 1999 کی کارگل جنگ میں اسرائیلی تعاون پر اب غزہ جنگ کے لیے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے ایک سابق سفیر Daniel Carmon نے بھارت میں بھی تعینات رہ چکے ہیں نے اسرائیلی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل ان چند ممالک میں سے ایک تھا جس نے کارگل جنگ کے دوران بھارت کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔

    سابق اسرائیلی سفیر کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے غزہ جنگ کے لیے ڈرونز اور گولہ بارود اسرائیل کو سپلائی کیا گیا ہے۔

    2014 سے 2018 کے دوران بھارت میں اسرائیلی سفیر کے طور پر کام کرنے والے Daniel Carmon نے کہا کہ ‘بھارتیوں کی جانب سے ہمیں ہمیشہ یاد دلایا جاتا تھا کہ اسرائیل کارگل جنگ کے دوران ہمارے ساتھ تھا، بھارتی کبھی اس بات کو بھول نہیں سکتے اور اب وہ ممکنہ طور پر احسان کا بدلہ چکا رہے ہیں-

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    فروری 2024 میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے اسرائیل کو 20 جدید ترین Hermes 900 ڈرونز فراہم کیے گئے تھےیہ ڈرونز حیدرآباد دکن کی فیکٹری میں تیار کیے گئے اور اس فیکٹری کو اسرائیل نے ہی قائم کیا تھا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق مئی میں اسپین نے ایک مال بردار بحری جہاز کو بھارت سے اسرائیل جاتے ہوئے روکا تھا اس بحری جہاز میں 27 ٹن فوجی سپلائی موجود تھی، بھارتی حکومت کی جانب سے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی گئی اور اب سابق اسرائیلی سفیر کے بیان پر بھی کوئی ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

    سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

  • غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کو انٹرویو میں وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ سے متعلق اپنی منصوبہ بندی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ہے جس کے دو فائدے ہوں گےغزہ میں جنگ کے خاتمے سے ہم لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر اپنی مزید فوج بھیج سکیں گے تاکہ بے گھر اسرائیلی اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس آسکیں۔

    وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ علاوہ ازیں غزہ جنگ کے خاتمے سے اسرائیلی فوجیں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف یکسو ہوکر بڑے پیمانے کارروائیاں کرسکیں گے جو وقت کی ضرورت بھی ہے غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے وہ غزہ میں حماس کی حکومت ختم کرکے علاقے کا انتظام فلسطین اتھارٹی کے حوالے کرنے کے حامی نہیں، غزہ میں حماس اور اس کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوجیں لمبے عرصے تک غزہ میں ہی رہیں گی اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کریں گی۔

    ’پائریٹس آف دی کیریبین‘ کے اداکار شارک حملے میں جاں بحق

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 88 ہزار کے قریب زخمی ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ سے اب تک 21 ہزار فلسطینی بچوں کے لاپتہ ہو نے کا انکشاف ہوا ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے حقوق اور فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے نتیجے میں جو ہزاروں بچے لاپتہ ہیں وہ یا تو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں یا انہیں کسی اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے یا پھر انہیں اسرائیلی فوجی گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔

    انڈونیشیا میں نیشنل ڈیٹا سینٹر پر سائبر حملہ، متعدد حکومتی سروسز متاثر

    سیو دی چلڈرن کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں بچے دوران جنگ اپنے والدین سے بچھڑے اور ان میں بچوں کی ایک نامعلوم تعداد ہے جنہیں جبری لاپتہ کرکے غزہ سے باہر لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہےغزہ میں جنگ کی صورتحال میں معلومات جمع کرنا اور ان کی تصدیق کرنا مشکل ہے مگر کم از کم 17 ہزار بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے ہیں جب کہ 4000 بچے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں، بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ہے۔

    پنجاب میں ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال،سینئر‌ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ