Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ  کا بیان جاری

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    بیروت: لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان سامنے آ گیا-

    باغی ٹی وی : لبنان کے مختلف علاقوں میں پیجر دھماکوں میں 9 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 3 ہزار افراد کے زخمی ہونے کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے،حزب اللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مذموم کارروائی کا ذمہ دار اسرائیل ہے، ہم اپنے دشمن کو اس کے جارحانہ فعل کی سزا ضرور دیں گے، اور فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

    گزشتہ روز دوپہر میں جنوبی لبنان اور بیروت میں پیجر ڈیوائسز میں ہونے والے دھماکوں سے حزب اللہ کے متعدد ارکان زخمی ہوئے تھے جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے،پیجر دھماکوں میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی بھی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی ان دھماکوں میں محفوظ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    قبل ازیں مریکہ نے لبنان میں حزب اللہ کے ارکان کے پیجر ڈیوائسز میں دھماکوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، میتھیو ملر، نے کہا ہے کہ امریکہ ان دھماکوں میں براہ راست ملوث نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی رائے قائم کی ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔

    افغان عہدے دار کی قومی ترانے کی بے ادبی: دستاویزات کی کمی کا انکشاف

    ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے والے کسی بھی اقدام کو تشویش کے ساتھ دیکھتا ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ لبنان میں پیجر دھماکوں کا غزہ جنگ بندی مذاکرات پر کس حد تک اثر پڑے گا، اس بارے میں پیشگوئی کرنا ابھی قبل از وقت ہے میتھو ملر نے ایران کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی واقعے کا فائدہ اٹھا کر عدم استحکام بڑھانے کی کوشش نہ کرے۔

    پاکستان کے بیلسٹک پروگرام پر ہماری کڑی نظر ہے،امریکا

  • غزہ جنگ بندی کے لیےنیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہر

    غزہ جنگ بندی کے لیےنیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہر

    تل ابیب: اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی کے لیے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ریلی نکالی، حکومت مخالف ریلی میں مظاہرین نے غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے اور مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں جس کے نتیجے میں 15 مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

  • خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیل کا حملہ، 40 فلسطینی شہید

    خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیل کا حملہ، 40 فلسطینی شہید

    خان یونس: جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیلی طیاروں کے حملے سے 40 فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق خان یونس شہر کے مغرب میں واقع المواسی کے انسانی حقوق کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑے بڑے گڑھے بن گئے۔

    حماس کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے آپریشنز ڈائریکٹر نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حملے میں 40 فلسطینی شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، آدھی رات کے فورا بعد المواسی کے علاقے میں بڑے دھماکے ہوئے اور آسمان پر شعلوں کے شعلے اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    حملے کے مقام کے قریب رہنے والے ایک خیراتی ادارے کے رضاکار خالد محمود نے کہا کہ وہ اور دیگر رضاکار مدد کے لیے پہنچے لیکن وہ تباہی کی شدت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے حملوں سے سات میٹر گہرے تین گڑھے بن گئے جن کے نیچے 20 سے زیادہ خیمے دب گئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے خان یونس میں حماس کے جنگجوؤں کے ایک آپریشن سینٹر پر حملہ کیا ہے،جبکہ حماس نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ علاقے میں حماس کے جنگجو موجود ہیں۔

  • اسرائیلی بمباری ،غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر   اہلخانہ سمیت شہید

    اسرائیلی بمباری ،غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر اہلخانہ سمیت شہید

    غزہ: جبالیا میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عبدالحیی مرسی اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: شہری دفاع کے ترجمان نے اسرائیلی حملے میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر کو ہدف بنا کر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ بھی شہید ہو گئے۔

    رپورٹس کے مطابق صیہونی افواج کے حملوں میں اب تک شہری دفاع کے 83 اہلکار شہید اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 33 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان میں بھی 3 ایمرجنسی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے اسرائیل میں اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوا،اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہل خانہ سمیت لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے،یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی کا مطالبہ دُہرایا۔

    مظاہرین نے نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے یرغمالیوں کی جانیں داؤ پر لگائی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب امریکا کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی نئی تجویز کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم حکام کو ان تجاویز کی منظوری کی زیادہ امید نہیں ہے اور ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا کہ انہیں کب منظر عام پر لایا جائے گا۔

  • جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر نیتن یاہو کیخلاف اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے

    جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر نیتن یاہو کیخلاف اسرائیلی سڑکوں پر نکل آئے

    تل ابیب: غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف ہزاروں اسرائیلی تل ابیب کی سڑکوں پر نکل آئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے اسرائیلی پرچم اور نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بینرز، پوسٹرز اٹھا رکھے تھے، مظاہرین نے جنگ بندی کے حق میں زبردست نعرے بھی لگائے۔

    رپورٹ کے مطابق احتجاج کرنے والے مظاہرین نے نیتن یاہو سے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے فوری طور پر جنگ بندی معاہدہ کرنے کا مطالبہ دہرایا۔

    واضح رہے کہ کئی ماہ سے امریکا، قطر اور مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ثالثی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی جاری جارحیت کے خلاف برطانیہ میں بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا اسرائیلی حملوں کے گیارہ ماہ مکمل ہونے پر لندن میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینیوں سے زبردست اظہار یکجہتی کیامظاہرین نے فلسطینی پرچم کے ہمراہ لندن کی سڑکوں پر مارچ کیا، احتجاج میں شہریوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور غزہ پر حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

    اس کے علاوہ سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بھی احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم رُکوانے کا مطالبہ کیا۔

    خیال رہے کہ غزہ سمیت دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کو 11 ماہ مکمل ہو چکےہیں،حملوں میں اب تک 41 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ 90 فیصد سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بے گھر بھی ہو چکے ہیں،اسرائیل نے غزہ میں کارروائی کرتے ہوئے حماس کے مزید 2 کمانڈر شہید کردیے۔

    اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں فائر بریگیڈ کے عملے پر ڈرون حملہ کرکے 2 اہلکار شہید اور 3 شدید زخمی کردیا جبکہ لبنان سے حزب اللہ نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے شمالی اسرائیل میں 2 ڈرون حملے کیے،امریکا سمیت تمام طاقتور ممالک اور عالمی ادارے 11 ماہ بعد بھی غزہ میں اسرائیلی حملے رُکوانے میں ناکام ہیں۔

    اسی حوالے سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنس کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی کی مزید جامع تجاویز کچھ دنوں میں پیش کریں گے،دوسری جانب یرغمالیوں کے اہلخانہ کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف نئے مظاہروں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

  • اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں،عمران خان کو گزشتہ برس توشہ خانہ کیس میں سزا ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا ،عمران خان کو بعد ازاں دیگر مقدمات میں بھی سزائیں ہوئیں تا ہم عدالت نے سزا ختم کر دی، عمران خان اب توشہ خانہ ٹو اور نومئی کیس سمیت 190ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتار ہیں، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی جیل میں ہیں

    عمران خان نے جیل سے رہائی کے لئے ہرممکن کوشش کی لیکن انہیں کسی صورت کامیابی نہ ملی،عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک انصاف نے جہاں بھارتی لابی کے ساتھ ملکر بیرون ممالک میں قراردادیں لائیں، احتجاج کیا ، اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی، عمران خان کے ہامی،پاکستان مخالف ،اسرائیلیوں کے قریبی سمجھنے جانے والے رہنماؤں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی، لیکن عمران خان کو تمام تر کوششوں کے باوجود رہائی نہ مل سکی، اب اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے رہائی کے لیے اسرائیل سے مدد مانگی ہے،اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے ایک مضمون کے مطابق عمران خان نے گولڈ سمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان تعلقات قائم کریں گے بشرطیکہ اسرائیل ان کی رہائی میں مدد کرے۔

    سوال یہ ہے کہ عمران خان کو رہائی کے لئے اسرائیل سے کیوں مدد مانگنا پڑی؟ عمران خان کہتے تھے کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنائیں گے لیکن انکے اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے ڈھکے چھپے نہیں تھے، اب اسرائیلی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے، عمران خان کو بچانے کے لیے اب اسرائیلی لابی میدان میں آ گئی ہے، سب سے پہلے عمران خان پکڑا گیا،پھر عادل راجہ بے نقاب ہوا،پھر سوشل میڈیا ٹیم کے راز کھل گئے، پھر فیض نیازی اتحاد کا پردہ فاش ہوا ، آپریشن گولڈ اسمتھ کا انکشاف ہوا۔جب سب کچھ بکھر گیا تو سہولت کاروں کو آخر کار خود ہی آگے آنا پڑا۔اسرائیل عمران خان کا سہولت کار ہے یہی وجہ ہے کہ اب اسرائیل عمران خان کی رہائی کی کوشش کرے گا لیکن پھر بھی عمران خان کو رہائی نصیب نہیں ہو گی جب تک پاکستان کی عدالتیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرتیں

    اسرائیلی اخبار کی سٹوری پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ آر اے شہزاد کہتے ہیں کہ اسرائیل نے 75سال میں پہلی بار اقوام متحدہ میں نیازی کی رہائی کے لیے پاکستان کے خلاف آواز اٹھائی اب اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار میں یہ لکھا کہ عمران نے اپنے یہودی سسرال کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اسرائیل سے نارمل تعلقات کرے گا اور اسرائیل تسلیم کر کے مڈل ایسٹ کے حالات بدل جائیں گے ،اب آپ سمجھ جائیں اسرائیلی اثاثے بھلے وہ ہمارے ملک کے ڈالر خور ہوں یا بیرون ملک وہ کیوں نیازی کے ساتھ کھڑے ہو گے ہیں گیم اس سے زیادہ کلئیر نہی ہو سکتی ہے

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان کا اسرائیل کے ساتھ بہت گہرا تعلق ھے،ان کی جمائما گولڈ اسمتھ سے شادی سوچیں سمجھی پلان کے تحت تھی،ان کو ہمارے خطے میں ایک ایسا شخص چاہیے تھا جو فلسطین کے خلاف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرسکے، گولڈ سمتھ خاندان عمران خان کے پیچھے کھڑا ہے، اس رشتے کا مقصد ہی یہی تھا کہ اسرائیل کے مفادات کا اس خطےمیں تحفظ کیا جائے، پاکستان جو اسرائیل کے خلاف ہے اس میں ایسا ماحول بنایا جائے کہ اسرائیلی مفادات کا تحفظ ہوا،رشتے داری ختم ہو تو یہ نہیں ہوتا کہ آپ کے بچے ان کے پاس پل رہے ہوں، جمائما رشتےمیں نہیں ہے لیکن اب بھی وہ عمران کے ساتھ کھڑی ہے کیوں؟

    صحافی امجد بخاری ایکس پر کہتے ہیں کہ ٹائمز آف اسرائیل میں لگے اس مضمون کے اہم نکات
    1۔۔۔عمران خان باقی سیاستدانوں کی نسبت اسرائیل کے معاملے میں لچک رکھتا ہے۔
    2۔۔۔اطلاعات ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ خاندان کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر غور کرنے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو معتدل کرنے کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا گیا۔
    3۔۔۔اس نے مئیر لندن کے انتخاب میں یہودی امیدوار کا ساتھ دیکر یہی پیغام بھیجا
    4۔۔عمران خان کی منفرد پوزیشن، تعلقات اور اسٹریٹجک سوچ اسرائیل-پاکستان تعلقات کو بہتر کر سکتی ہے،
    5…اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور وہ آواز بن سکیں جو ان کی ترجمانی کرے۔

    https://x.com/AmjadHBokhari/status/1832175611965829487?t=ZVVahh-CSDzL4NH9IaUC3A&s=08

    واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کے لیے ان کی رضامندی کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی ایک سطح تجویز کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے بالاتر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ روابط کی اس ممکنہ رضامندی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی حرکیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    اسرائیلی اخبار کی یہ رپورٹ اس حقیقت کو مزید عیاں کرتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لی ےصیہونی لابیز کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں،اسرائیلی اخبار میں بانی پی ٹی آئی کے حق میں مضمون آپریشن گولڈ سمتھ سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دی ٹائمز آف اسرائیل وہ اسرائیلی اخبار ہے جس کی ایڈیٹوریل پالیسی ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں چھاپتا۔

    عمران خان کے ہی دور حکومت میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ بطور وزیراعظم عمران خان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کے لئے تیار تھے، اور اس ضمن میں عمران خان نے خاندانی رابطوں کو بھی استعمال کیا، عمران خان کی حکومت کی حالت جب غیر مستحکم ہوئی تو پھر وہ پیچھے ہٹے، عمران خان کے دور حکومت میں خبریں آئی تھیں کہ زلفی بخاری نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے تا ہم بعد میں انہوں نے تردید کی ،اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا تھا جس میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سینئر مشیر ، سید زلفی بخاری نے نومبر کے آخری ہفتے میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا ،اخبار کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برطانوی شہری ہیں اور انہوں نے برطانوی پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ کیا اور تل ابیب پہنچے، اور موساد کے سربراہ سے ملاقات کی،اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ زلفی بخاری نے وزارت خارجہ میں سینئر حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام پہنچایا،زلفی بخاری کا یہ دورہ متحدہ عرب امارات کی کوششوں سے ہوا ، عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے

    بلاول زرداری نے بھی زلفی بخاری کی اسرائیل کے دورے کی خبروں پر وضاحت مانگی تھی ،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان زلفی بخاری اور اسرائیل حکام کے درمیان کی ملاقات کے حقائق عوام کے سامنے لائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کے حوالہ سے حقائق لے کر آئے اگر وہ نہیں گیا تو جو جہاز جو اسرائیل پہنچا تھا جو جہاز کی ڈیٹیل ہے وہ قوم کے سامنے لائے، سب پتہ چل جائے گا، دوسرا بتایا جائے کہ اگر جہاز کا یہی روٹ تھا تو کس نے اجازت دی، زلفی بخاری کو جہاز نے نہیں اٹھایا تو کس نے اٹھایا یہ خبر اسرائیل کے اخبار نے اسرائیل کے سنسر بورڈ سے اجازت لے کر شائع کی، پی پی مطالبہ کرتی ہے کہ اس جہاز کی تفصیل سامنے لائی جائے،

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی انکشاف کیا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے عرب ممالک کو آمادہ کیا، اس مہم میں عمران خان ساتھ تھا۔جب ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن لڑ رہا تھا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ٹرمپ کی انتخابی مہم کا مرکز بنا دیا تھا اور آج بھی خبریں زیر گردش ہیں کہ کچھ اینکرز اسرائیل میں نظر آئے انہوں نے بھی واضح کردیا کہ اسرائیل جانے کے لیے منظوری عمران خان نے دی۔

    تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو ملکی سیاست میں ایک مضبوط ترین قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ٹیم نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اثر پذیری اور تیزی سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کی اس قدر مضبوط سوشل میڈیا موجودگی کے باوجود، ایک اہم سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس ٹیم نے کبھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف یا کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف واضح مؤقف کیوں نہیں اپنایا؟پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران سوشل میڈیا کو بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے کئی بار قومی اور بین الاقوامی سطح پر ٹرینڈز بنائے، جو مخالفین کے خلاف مہمات سے لے کر اپنی جماعت کے بیانیے کو آگے بڑھانے تک شامل ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کو عوامی رائے عامہ کے تشکیل میں ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک منفرد خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔یہ بات حیران کن ہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم، جو ایک معمولی مسئلے کو بھی بڑا بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نے اسرائیل کے غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مظالم اور کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت پر کبھی کوئی ٹھوس اور واضح مؤقف نہیں اپنایا۔ دونوں مسائل عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ضمن میں آتے ہیں، مگر پی ٹی آئی کی جانب سے ان پر خاموشی یا غیر مؤثر بیانات پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی کی خاموشی کے پیچھے بین الاقوامی مالی معاونین اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقے ہوسکتے ہیں۔ یہ حلقے اسرائیل کی حمایت یا بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہوسکتے ہیں، اور پی ٹی آئی کی جانب سے ان مسائل پر بات کرنا ان کے مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی خاموشی مالی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔پی ٹی آئی کی اس خاموشی پر عوامی سطح پر بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی ناقدین اس بات پر حیران ہیں کہ ایک جماعت جو ہر مسئلے پر بولتی ہے اور اپنے حریفوں پر تنقید کرتی ہے، وہ فلسطین اور کشمیر جیسے حساس معاملات پر کیوں خاموش ہے؟

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • اسرائیلی فوج کا لبنان کے اندر حملے کی تیاری کا انکشاف

    اسرائیلی فوج کا لبنان کے اندر حملے کی تیاری کا انکشاف

    تل ابیب: اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کے اندر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق مقبوضہ گولان کے علاقے میں دورے کے دوران اسرائیل کے چیف آف اسٹاف ہرتزی ہیلفی نے بتایا کہ اسرائیل کی توجہ حزب اللہ سے مقابلے پر مرکوز ہے اسرائیلی فوج شمالی علاقوں اور گولان کے پہاڑی علاقے کی آبادی کو درپیش خطرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    قبل ازیں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر شدید فضائی حملے کیےاس دوران میں کئی قصبوں نشانہ بنایا گیا جبکہ حزب اللہ کی جانب سے جنوبی لبنان سے کیے جانے والے حملوں میں مرکزی طور پر اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے،حزب اللہ کا موقف ہے کہ وہ یہ حملے غزہ میں جاری مزاحمت کی سپورٹ میں کر رہی ہے۔

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    غزہ میں سات اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شروع ہونے والے تصادم میں اب تک لبنان میں کم از کم 610 جاں بحق ہو چکے ہیں، ان میں حزب اللہ کے 394 ارکان اور 135 شہری شامل ہیں، دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں 24 اسرائیلی فوجی اور 26 شہری مارے گئے ہیں۔

    یونائیٹڈ ایئر لائن نے اسرائیل کے حامیوں کی چیخیں نکلوا دیں

  • سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    سعودی عرب اسرائیل کوتسلیم کرنے کے لیے تیار، نئے امریکی صدر کے آنے سے قبل اسرائیل کو تسلیم کر لے گا

    یہ دعویٰ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ہیٹی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ جنوری سے قبل اگر غزہ میں جنگ بندی ہو جاتی ہے تو سعودی عرب کے اسرائیل کےساتھ تعلقات معمول پر آنے کا ایک موقع ابھی باقی ہے،اگر غزہ جنگ بندی ہو جاتی ہے تو امکان ہے کہ جو بائیڈن کے عہدہ چھوڑنے سے پہلے سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لے۔

    امریکی وزیر خارجہ کے تازہ ترین بیان پر سعودی عرب کی جانب کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم اس حوالے سے ماضی میں سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ،گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، محمد بن سلمان نے اس ضمن میں امریکی کانگریس ارکان سے اس خدشے کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، انہوں نے سعودی اسرائیلی تعلقات کی بحالی اور امریکا کے ساتھ تعاون کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال رکھی ہے۔

    یاد رہے کہ رواں سال فروری میں سعودی عرب کی جانب سے امریکا کو کہا گیا تھا کہ سعودی عرب اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز نہیں کرے گا جب تک 1967 کی سرحدوں میں آزاد فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہوجاتا جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو،اس سے قبل رواں سال جنوری میں ہی سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے۔

    رواں برس ماہ فروری میں امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار ہے،امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ سعودی عرب بھی باقی عرب ممالک کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے، وہ قطر سمیت 6 عرب ملکوں سے رابطے میں ہیں،

    قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانےکی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، اسرائیل سے سعودی عرب کا فی الحال کوئی تعلق نہیں ہے مسئلہ فلسطین اہم ہے اسے دو طرفہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران حل ہونا چاہیے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

    جنوری سے پہلے ٹرمپ،اسرائیل اور سعودی عرب کا کھیل تیار، مبشر لقمان کی زبانی تہلکہ خیز انکشافات

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • امریکی ایئر لائن نے اسرائیل کا نام "فلسطین” رکھ دیا

    امریکی ایئر لائن نے اسرائیل کا نام "فلسطین” رکھ دیا

    امریکی ایئرلائن جیٹ بلیو ایئرویز نے اسرائیل کی سرحدیں اور نام تبدیل کر کے فلسطینی علاقہ رکھ دیا –

    جیٹ بلیو کے تازہ ترین ان فلائٹ نقشے نے نئے تنازعہ کو جنم دیا ہے – ایئر لاین نے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کی سرحدوں سے ہٹا دیا، اور اس کا نام ‘فلسطینی علاقوں’ کے ساتھ چھپا دیا۔کمپنی نے مبینہ طور پر کسی تیسرے فریق کو مورد الزام ٹھہرایا ہے لیکن ابھی تک نقشہ کو تبدیل کرنے کے حوالہ سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی.

    اسرائیلی اخبار کے مطابق امریکی ایئر لائن جیٹ بلیو ایئر ویز نے اپنے اندرونِ پرواز نقشے کو اپ ڈیٹ کیا ہے تاکہ لفظ "اسرائیل” سے نمایاں طور پر بڑے متن میں الفاظ "فلسطینی علاقہ” کو دکھایا جا سکے۔ریاستہائے متحدہ میں زیر تعلیم ایک اسرائیلی خاتون ہودایا کنافو نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ میامی سے سان ڈیاگو جانے والی ڈومیسٹک فلائٹ پر تھی جب اس نے اپنی سیٹ کی ذاتی سکرین پر ایک دوسرے مسافر کو دکھانے کی کوشش کی جہاں اسرائیل موجود تھا۔ انہوں نے کہا، "لیبل کو نمایاں طور پر اس طرح ظاہر کیا گیا تھا جو معصوم نہیں لگتا تھا، سرحدیں بھی غلط تھیں،نقشے کے مطابق اسرائیل کی شمالی سرحد میں گولان کی پہاڑیاں شامل نہیں ہیں۔میں اسے دکھانا چاہی تھی کہ جہاز کی سکرینوں پر نقشے پر اسرائیل کہاں واقع ہے۔ جب میں نے نقشہ دیکھا تو میں چونک گئی،گولان کی پہاڑیوں کو ہٹانے کے ساتھ، "وہ مغربی کنارے کی تقسیم نہیں دکھاتے ہیں، اس لیے ایسا نہیں لگتا کہ ‘فلسطینی علاقہ’ کے لیبل سے ان کی مراد یہی تھی۔” مجھے لگتا ہے کہ یہ نیا ہے کیونکہ مجھے پچھلی پروازوں میں ایسا کچھ دیکھنا یاد نہیں ہے۔”
    JetBlue Airways changes Israel's borders to "Palestinian Territories" on its ma
    اسرائیل کے طلباء، یہودیوں، اور یہاں تک کہ اسرائیل کے حامیوں کو پورے امریکہ میں کیمپس میں متاثر کر رہے ہیں،خاتون کے مطابق جیٹ بلیو ایئر ویز کے اسرائیل اور گولان کی پہاڑیوں کے ڈسپلے میں تبدیلی نے اسے سخت پریشان کیا ہے،

    افریقی ایئر لائن بندروں کی غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث نکلی

    امریکن ایئر لائنز پھر بحران کا شکار،ملازمین نوکریوں سے فارغ

    کوکین سمگل کرنے کا جرم،امریکن ایئر لائن کے سابق مکینک کو سزا

    جہاز میں بم ہے،پرچی ملنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

    بم کی دھمکی ملنے کے بعد بھارتی ایئر لائن کا رخ موڑ دیا گیا

    ایئر انڈیا کو بم سے اڑانے کی دھمکی افواہ نکلی

    احمد آباد میں کچھ اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں

    ممبئی میں تین بڑے بینکوں کو دھمکی آمیز ای میل موصول

    ویڈیو لیک ہونے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ڈیٹا ریکوری کا طریقہ

     ایئر انڈیا کی پرواز کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد ہر طرف افرا تفری

    بھارت میں طیارے کا اے سی نہ چلنے پر مسافر برہم ہو گئے

  • اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی کاز کے سخت ترین حامیوں میں سے ایک رہا ہے، جو کہ دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس پوزیشن کی جڑیں ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر پاکستان کی شناخت اور امت یا عالمی مسلم کمیونٹی کے ساتھ اس کی وسیع تر وابستگی میں پیوست ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے تصور کو تاریخی طور پر اس شناخت کے متضاد کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے،

    فلسطین نواز موقف نہ صرف سیاسی ہے بلکہ پاکستانی معاشرے اور رائے عامہ میں بھی گہرا سرایت کر چکا ہے۔ اس کی جھلک یکے بعد دیگرے پاکستانی حکومتوں کی مسلسل پالیسیوں سے ہوتی ہے، جن میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات کی کھلی مذمت، سفارتی تعلقات سے انکار اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی ریاست کی حمایت شامل ہے۔پاکستان کے اسرائیل مخالف جذبات کی شدت کا اندازہ 1947 میں اس کے قیام سے لگایا جا سکتا ہے، جس کے دوران اس نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کرنے والی دیگر مسلم اقوام کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے خود کو مسلم دنیا کے رہنما کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس اتحاد کو اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر اسلامی بلاکس میں پاکستان کی رکنیت کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا، جہاں فلسطین کاز ایک مرکزی مسئلہ رہا ہے۔

    وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور میں، عمران خان نے عوامی طور پر فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا اظہار کیا اور جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کو مسترد کردیا۔ یہ پوزیشنیں ملکی توقعات اور پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی دونوں سے ہم آہنگ تھیں۔تاہم، عمران خان کے دور میں خارجہ تعلقات کے لیے ایک عملی نقطہ نظر کی نشاندہی کی گئی تھی، جس میں اکثر عوامی بیان بازی اور پس پردہ سفارت کاری کے درمیان توازن برقرار رکھا جاتا تھا۔ عمران خان کی عملیت پسندی ان کی خارجہ پالیسی کے وسیع تر تدبیروں سے عیاں ہے، جہاں انہوں نے چین اور سعودی عرب جیسے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے مفادات کے مطابق مخالفین کے ساتھ راستے کھولنے کی کوشش کی۔ اس نقطہ نظر سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے اپنے عوامی بیانات سے کہیں زیادہ کھلے ہیں۔

    عمران خان کے گولڈ اسمتھ فیملی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، خاص طور پر ان کی سابقہ ​​اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ سے جو اسرائیل کی جانب ان کے ممکنہ تبدیلی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ گولڈ اسمتھ خاندان برطانوی اشرافیہ کا حصہ ہے، جس میں جمائما کے بھائی زیک گولڈسمتھ برطانوی سیاست میں شامل رہے ہیں، برطانیہ میں یہودی اور اسرائیل نواز حلقوں سے زیک گولڈ اسمتھ کے روابط، مغربی اشرافیہ کے حلقوں میں خاندان کے وسیع تر اثر و رسوخ کے ساتھ، عمران خان کو اسرائیل کے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظر فراہم کر سکتے تھے۔ لندن کے میئر کے انتخاب میں زیک گولڈ اسمتھ کے لیےعمران خان کی حمایت، یہاں تک کہ ایک مسلم امیدوار، صادق خان کے خلاف عمران خان چلے گئے اورگولڈ سمتھ خاندان اور ان کے وسیع نیٹ ورک کے لیے ان کی وفاداری کو واضح کیا

    ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کے لیے ان کی رضامندی کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی ایک سطح تجویز کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے بالاتر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ روابط کی اس ممکنہ رضامندی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی حرکیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    imran

    عمران خان کی مغربی تعلیم اور مختلف ثقافتی اور سیاسی شعبوں کے درمیان جانے کی صلاحیت انہیں اسرائیل اور مسلم ریاستوں کے درمیان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر منفرد حیثیت دیتی ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر ان کے دور میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم مشرق وسطی کے کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں سے نشان زد کیا گیا تھا – دونوں نے ابراہیم معاہدے اور دیگر معمول پر لانے کی کوششوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو گرمانے کے آثار ظاہر کیے ہیں۔مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی عمران خان کی صلاحیت نظریاتی طور پر انہیں اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات میں اسی طرح کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے سکتی ہے، اگر وہ اقتدار میں واپس آتے ہیں۔ ان کے ذاتی تعلقات اور اسٹریٹجک نقطہ نظر کو اسرائیل اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کے لیے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنظیم سازی میں مدد مل سکتی ہے۔

    تاہم، عمران خان کی طرف سے اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش چیلنجوں سے بھرپور ہوگی۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مذہبی تنظیموں سے بہت زیادہ متاثر ہے، جن میں سے بہت سے اسرائیل مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ رائے عامہ بھی بہت زیادہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے، اور معمول پر آنے کی طرف کسی بھی اقدام کو عوامی اور مذہبی رہنماؤں دونوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان چیلنجوں کے باوجود، عمران خان نے پہلے ہی جمود کو چیلنج کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، خاص طور پر تعلیمی اصلاحات اور خواتین کے حقوق جیسے شعبوں میں، جہاں انہوں نے طاقتور مذہبی تنظیموں کا مقابلہ کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان کے وسیع تر تزویراتی مفادات کی خدمت ہو سکتی ہے تو وہ اسرائیل کے لیے زیادہ سنجیدہ رویہ اپنانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

    اگرچہ عمران خان کا اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات کو تشکیل دینے کا خیال قیاس آرائی پر مبنی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حرکیات کے پیش نظر یہ قابلیت کے بغیر نہیں ہے۔ اسرائیل اور کئی عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے سے ظاہر ہوا ہے کہ عملی سفارت کاری کے ذریعے دیرینہ دشمنی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت بتاتی ہے کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم اکثریتی ممالک مستقبل میں اسرائیل کے بارے میں اپنے موقف کا ممکنہ طور پر دوبارہ جائزہ لے سکتے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ ایک اہم تبدیلی کے درمیان ہے، جو اتحاد، اقتصادی مفادات، اور انتہا پسندی کے مشترکہ خطرے کی وجہ سے کارفرما ہے۔ اس تناظر میں، پاکستان اسرائیل تعلقات کی تشکیل میں عمران خان کا ممکنہ کردار ایک یاد دہانی کا کام کرتا ہے کہ سفارت کاری میں اکثر غیر روایتی سوچ اور غیر متوقع اتحاد شامل ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے خطہ ترقی کرتا جا رہا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی ایسے طریقوں سے بھی ڈھل سکتی ہے جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، ممکنہ طور پر اسرائیل اور وسیع تر اسلامی دنیا کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا دروازہ کھل سکتا ہے۔

    اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور وہ آواز بنیں جو اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ عمران خان کی منفرد پوزیشن، تعلقات اور تزویراتی سوچ اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے، ان اہم چیلنجوں اور مخالفت کے باوجود ممکنہ طور پر انہیں ایسی تبدیلی کی کوشش میں سامنا کرنا پڑے گا۔

    بلاگ ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہوا ہے،بلاگر خاتون صحافی عینور بشیروفا ہیں، جو برسلز میں مقیم ہیں،

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان