Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • ترک صدر نے سرائیلی وزیراعظم  کو ہٹلر قرار دیا

    ترک صدر نے سرائیلی وزیراعظم کو ہٹلر قرار دیا

    انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک بار پھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے ہٹلر قرار دیا-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انقرہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ نیتن یاہو ہٹلر سے مخلتف نہیں ہے، ہٹلر نے دہائیوں پہلے یورپ میں جو کچھ کیا، اسرائیلی وزیراعظم غزہ میں اس سے کچھ کم نہیں کر رہا نیتن یاہو تو اتنا امیر ہے جتنا ہٹلر بھی نہیں تھا، اس کو مغربی حمایت مل رہی ہے، امریکا کی ہر قسم کی مدد حاصل ہے اور نیتن یاہو نے ان ساری حمایتوں اور مدد کے ساتھ 20 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو مار دیا،جرمنی آج تک ہٹلر کے مظالم کی قیمت ادا کر رہا، ہٹلر کی وجہ سے آج تک جرمنی کا سر جُھکا ہوا ہے۔

    دوسری جانب ترکیہ کی ایوارڈ یافتہ نیوز اینکر میلتم گونے کو امریکی کوفی اسٹار بکس کا کپ سامنے رکھ کر نیوز پڑھنے پر نوکری سے برخاست کر دیا گیا، ترکیہ میں امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی سرکاری مہم جاری ہے ایسے میں میلتم گنے نے اسٹار بکس کو کپ سامنے رکھ کر عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائی-

    یمنی حوثیوں کا پاکستان آنے والے امریکی جہاز پر حملہ

    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1739919264717697115?s=20
    واضح رہے 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی وحشیانہ بمباری سے 20 ہزار 977 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 54 ہزار 536 افراد زخمی ہوئے ہیں، شہدا اور زخمیوں میں نصف سے زائد تعداد صرف بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اب بھی غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بعض دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر غزہ سے فلسطینیوں کی رضا کارانہ نقل مکانی پر کام کررہے ہیں ان کایہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب غزہ میں گھمسان کی جنگ جاری ہے اور تین ماہ کی جنگ کے نتیجے میں اب تک 90 فی صد آبادی اپنے گھر بار سے محروم سڑکوں پر کھلے آسمان تلے وحشیانہ بمباری میں زندگی گذاز رہی ہے۔

    اسرائیلی فوج حماس کے جانی نقصان کے بارے جھوٹ بول رہی ہے،سابق اسرائیلی جنرل

    اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکمراں لیکود پارٹی کے ارکان کنیسٹ کے ایک بند پارلیمانی اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کی "رضاکارانہ ہجرت” کو نافذ کرنے کے منصوبے کی تیاری پرکام کر ر ہے ہیں،اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ وہ ممالک ہیں جو فلسطینیوں کو پناہ دے سکتے ہیں تاہم تل ابیب اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کام کررہا ہے‘‘۔

    نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی کے ایک رکن کنیسٹ ڈینی ڈینن نے کہا کہ دنیا پہلے ہی اس معاملے پر بات کر رہی ہے۔ کینیڈا کے امیگریشن وزیر مارک ملر نے ان معاملات کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی جب کہ امریکی صدارتی امیدوار اور سابق سفارت کار نکی ہیلی نے بھی اس امکان کو رد نہیں کیا ہے،ہمیں اسرائیل میں ایک ٹیم بنانا ہوگی جو اس معاملے کو دیکھے۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ غزہ سے اپنی مرضی سے فلسطینی علاقہ چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جانے کے تیار ہیں تو ہم ان کی کیسے مدد کرسکتے ہیں جنگ کے خاتمے کے بعد اس کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے اس معاملے کو منظم کیا جانا چاہیے،” نیتن یاہو نے ڈینن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اس پر کام کر رہے ہیں”۔

    صیہونی فوج کا فلسطینی ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر پر بھی …

  • اسرائیلی فوج حماس کے جانی نقصان کے بارے جھوٹ بول رہی ہے،سابق اسرائیلی جنرل

    اسرائیلی فوج حماس کے جانی نقصان کے بارے جھوٹ بول رہی ہے،سابق اسرائیلی جنرل

    تل ابیب: اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل یتزاک برک نے اسرائیلی فوج کی صلاحیتوں کا پردہ فاش کر دیا-

    باغی ٹی وی: اسرائیلی اخبار میں لکھےگئے ایک مضمون میں جنرل (ر) یتزاک برک کے مطابق غزہ میں لڑنے والے اسرائیلی فوجی اہلکاروں اور افسران سے مجھے جو معلومات ملی ہیں اس کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) کے ترجمان اور عسکری تجزیہ کار غزہ میں دوبدو لڑائی کے دوران حماس کے ہزاروں جنگجوؤں کی ہلاکت کی جھوٹی خبریں دے رہے ہیں، اس کے برعکس حماس کے مارے جانے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

    جنرل (ر) یتزاک برک کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر اسرائیلی فوجی حماس کے بموں اور ٹینک شکن میزائلوں کا شکار ہوئے، اسرائیلی فوج کے پاس اس وقت حماس کے ارکان کو ختم کرنےکا کوئی مؤثر اور تیز طریقہ نہیں ہے، حماس کے لوگ سرنگوں میں چھپے ہوتے ہیں اور صرف بم نصب کرنے، دھماکا خیز مواد کا جال بچھانے یا اسرائیلی ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں پر میزائل فائر کرنے کے لیے سرنگوں سے باہر آتے ہیں، اسرائیل کے پاس حماس کی سرنگوں کا کوئی حل نہیں ہے-

    اسموگ کی وجوہات جاننے کیلئے چینی ماہرین ماحولیات لاہور آئیں گے

    سابق اسرائیلی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ترجمان اور اعلیٰ دفاعی حکام جنگ کی دھول چھٹ جانے اور حقیقی تصویر واضح ہونے سے قبل جنگ کو ایک عظیم فتح کےطور پر پیش کرنا چاہتے ہیں اس مقصد کے لیے وہ بڑے ٹیلی ویژن چینلز کے نامہ نگاروں کو غزہ میں مبینہ ‘فتح ‘ دکھانےکے لیے لا رہے ہیں، وہ دراصل صرف شیخیاں بگھار رہے ہیں۔

    جوئے کمپنیوں کے اشتہارات نشر کرنے پر قانونی کارروائی ہو گی،پیمرا

    جنرل (ر) یتزاک برک کا کہنا تھا کہ اب مجھے یاد آرہا ہےکہ کس طرح 7 اکتوبر کے حماس کے آپریشن طوفان الاقصیٰ سے قبل اسرائیلی حکام اور سابق فوجی جنرل دنیا کو باور کراتے تھے کہ اسرائیل کی فوج مشرق وسطیٰ کی سب سے مضبوط فوج ہے جس نے اپنے دشمنوں کو روکے رکھا ہے سرنگوں کی تباہی میں کئی سال لگیں گے اور اس میں اسرائیل کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا، اسرائیلی فوج اب خود سیکڑوں کلومیٹر گہری سرنگوں کے وجود کو تسلیم کر رہی ہے۔

    انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنز کی درجہ بندی مکمل

    ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل نے کہا کہ یہ حماس پر قابو پانےکا وہم تھا جس کے باعث اسرائیل نے زیر زمین جنگ کے لیے مطالعہ، منصوبہ بندی اور مناسب سازوسامان تیار کرنےکی ضرورت کو نظر انداز کیا، غزہ میں لڑنے والے افسران بتاتے ہیں کہ حماس کے ٹھکانوں پر اسرائیل کی شدید بمباری کے باوجود حماس کو دوبارہ کھڑے ہونے سے روکنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔

  • صیہونی فوج  کا فلسطینی  ہلال  احمر کے ہیڈکوارٹر  پر  بھی حملہ

    صیہونی فوج کا فلسطینی ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ

    غزہ: صیہونی فوج نے فلسطینی ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ہلال احمر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہےکہ اسرائیلی فوج نے خان یونس میں واقع ہیڈکوارٹر کی بالائی منزلوں کو نشانہ بنایا، اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور اموات کا بھی خدشہ ہے، ہیڈکوارٹر کے احاطے میں ہزاروں بے گھر پناہ گزین ہیں۔

    دوسری جانب غزہ کے رہائشی علاقوں پر اسرائیلی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 100 سے زائد مقامات پر حملے کر کے 241 فلسطینیوں کو شہید کر دیا 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک شہدا کی تعداد 20 ہزار 900 سے تجاوز کرگئی ہے53 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں، شہدا میں 8 ہزار سے زائد بچے اور 6 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں 310 طبی عملےکے ارکان اور 100 صحافی شہید ہوچکے ہیں جب کہ سول ڈیفنس کے 35 اہلکار بھی جان کی بازی ہارچکے ہیں۔

    ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں،اسرائیلی خواتین

    عراق،ایئر بیس پر حملے میں امریکی زخمی،امریکہ کا بھی جوابی حملہ

    ہمیں آج بھی ناشتہ نہیں ملا،اسرائیلی بمباری سے شہید ہونیوالی فلسطینی بچی کی ڈائری …

  • ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں،اسرائیلی خواتین

    ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں،اسرائیلی خواتین

    تل ابیب: رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالی ماں بیٹی نے کہا ہے کہ حماس کے نوجوان ہماری ڈھال نہیں بنتے تو ہم اپنی ہی فوج کی گولی باری میں مارے جاتے ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں-

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا کے مطابق 48 سالہ چن گولڈسٹین الموگ اور ان کی 17 سالہ بیٹی اگم گولڈسٹین الموگ نے حماس کی قید سے رہائی کے بعد انٹرویو میں حماس کے جنگجوؤں کے رویے کی تعریف کی ہے چن گولڈسٹین نے بتایا کہ انہیں ایک سپر مارکیٹ کے عقب میں رکھا گیا تھا اور وہیں اسرائیلی فوجی بمباری کر رہے تھے ہم لوگوں کو گولہ بارود کی زور دار آوازیں اور بو صاف محسوس ہو رہی تھی-

    48 سالہ خاتون نے مزید بتایا کہ اگر اس موقع پر حماس کے نوجوان ہماری ڈھال نہیں بنتے تو ہم اپنی ہی فوج کی گولی باری میں مارے جاتے ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں ایک موقع پر ہم نے حماس کے لوگوں سے کہا کہ کیا ہم مارے جائیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ سے پہلے ہم مرجائیں گے لیکن آپ کو کچھ ہونے نہیں دیں گے آپ ہمارے لیے قیمتی ہیں۔

    ہمیں آج بھی ناشتہ نہیں ملا،اسرائیلی بمباری سے شہید ہونیوالی فلسطینی بچی کی ڈائری …

    اسی طرح 17 سالہ اگم گولڈسٹین نے بتایا کہ حماس کا سلوک انتہائی اچھا تھا، وہ ہماری ہر چیز کا خیال رکھتے اور مصروف رکھنے کے لیے ہمارے ساتھ مختلف کھیل بھی کھیلتے ایک بار پنجہ آزمائی کا کھیل بھی کھیلا اس کھیل کے دوران حماس کے جنگجوؤں نے اپنے ہاتھ پر تولیہ رکھا ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ ان ماں بیٹی کو حماس نے فلسطینی قیدیوں کے بدلے گزشتہ ماہ ہی رہا کیا تھا 71 فلسطینی خواتین اور 169 بچوں سمیت 240 فلسطینیوں کے بدلے 81 اسرائیلیوں اور 24 غیر ملکیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

  • ہمیں آج بھی ناشتہ نہیں ملا،اسرائیلی بمباری سے شہید ہونیوالی فلسطینی  بچی کی ڈائری وائرل

    ہمیں آج بھی ناشتہ نہیں ملا،اسرائیلی بمباری سے شہید ہونیوالی فلسطینی بچی کی ڈائری وائرل

    غزہ میں اسرائیلی حملوں اور بمباری کے دوران شہید ہونے ہونے والی 11 سالہ بچی کی شہادت کے بعد بچی کے ڈائری سے وائرل صفحات نے لوگوں کے دل چیر دیئے-

    باغی ٹی وی : اسرائیل نے المغازی کیمپ پربمباری کی جس میں سیلہ بھی اہلخانہ کے ساتھ موجود تھی،المغازی مہاجرین کیمپ میں رہنے والی 11 سالہ سیلا نے شہادت سے ایک دن قبل ڈائری لکھی تھی جس کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اس حملے میں سیلہ کے علاوہ اسکے چھوٹے بہن بھائی 8 سالہ ہالہ، 6 سال کی لین اور 5 سالہ حسین بھی شہید ہوئے،جبکہ سیلا کے ساتھ کھیلنے والےدیگربچے بھی شہید ہوگئے۔
    https://x.com/Timesofgaza/status/1739316445199147278?s=20
    سیلہ نے شہادت سے ایک روز قبل ڈائری میں اپنی آپ بیتی رقم کی تھی جو اس کے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہے،سیلہ نے لکھا کہ آج ہفتہ 23 دسمبر 2023 ہے میں صبح ساڑھے7 بجے اٹھی اورپھر اپنا بستر صاف کیا لیکن ہمیں آج بھی ناشتہ نہیں ملا، میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگی اورہمیں بہت مزا آیا، اس کے بعد ہم نے دوپہرکا کھانا ساتھ مل کر کھایا جس میں بہت مزیدار پیسٹریز اور پیزا تھے۔

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے پیر کے روز المغازی مہاجرین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 70 فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے کل 250 فلسطینی شہید ہوئے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 674 ہوگئی ہے جب کہ 54 ہزار 536 فلسطینی زخمی ہیں۔

    ای سی پی کا انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے …

    دوسری جانب غزہ کے مرد و خواتین، بچوں اور بوڑھوں سے تضحیک آمیز اسرائیلی سلوک کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک اسٹیڈیم میں بچے اور بڑے مردوں کو برہنہ کرکے قطار میں کھڑا کیا گیااسرائیل کی قید سے چھوٹ کر واپس غزہ آنے والے فلسطینیوں نےبدترین تشدد کے حوالے سے شکایات کرتے ہوئے کہا کہ برہنہ کرکے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، غیر انسانی حربے آزمائے گئے۔

    شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سردار سید رازی موسوی جاں بحق

    قبل ازیں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے بھی اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جن کے ساتھ انسانی ہمدردی کے سلوک کی ویڈیو عالمی میڈیا نے بھی نشر کی تھیں۔

  • اسرائیل  کی مصری سرحد پر قبضے کی تیاری

    اسرائیل کی مصری سرحد پر قبضے کی تیاری

    اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضے کی تیاری کرلی،غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے –

    باغی ٹی وی : قدس نیٹ ورک کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس سلسلے میں مصر کے حکام کو مطلع کردیا ہے قاہرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ علاقے سے فوج نکال لے سرحد پر قبضے کے دوران جو کچھ بھی ہوگا اس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہوگی۔

    غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر اسرائیل نے مصری سرحد پر قبضہ کرکے اسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ مصر کو منظور ہو یا نہ ہو، یہ عمل جاری رہے گا اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر نتائج کا وہ خود ذمہ دار ہوگاغزہ پر مکمل قبضے کی کوشش میں اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے ملنے والے داخلی و خارجی راستے بند کردیئے ہیں اسرائیلی فوج کی کوشش ہے کہ غزہ میں حماس کے مزاحمت کاروں کو کہیں سے بھی کمک نہ مل سکے۔

    یونان نے بحیرہ روم میں 81 تارکین وطن کو بچالیا

    دوسری جانب زہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں مزید2 سو فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ صیہونی جارحیت کا نشانہ بن کر غزہ میں موجود 5 اسرائیلی یرغمالی بھی مارے گئے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو وسطی غزہ کا علاقہ بھی خالی کرنے کی دھمکی دے دی گئی، وسطی غزہ کے نصائرت کیمپ پر حملے سے 18 فلسطینی شہید جبکہ جبالیہ کیمپ میں مکان پربم سے حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد شہید ہوگئے۔

    فلسطینی میڈیا آفس کے مطابق 78 روز سے جاری حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 258 ہوچکی ہے جبکہ 53 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہدا میں 8 ہزار سے زائد بچے اور 6 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں،78 روز کے دوران 310 طبی عملےکے ارکان اور 100 صحافی شہید ہوچکے ہیں جبکہ سول ڈیفنس کے 35 اہلکار بھی جان کی بازی ہارچکے ہیں، غزہ میں بمباری سے جاں بحق اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی تعداد بھی 136 تک جا پہنچی ہے۔

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    اسرائیل کا حماس کے اہم رہنما حسن الاطرش کو مارنے کا دعویٰ،حسن الاطرش پر حماس کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ہے ادھر امریکی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی کیلئے غزہ میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔

    خوراک کی قلت سے غزہ میں قحط کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگا ہےصیہونی فوج نےپینے کے پانی کا آخری پلانٹ بھی تباہ کر دیا ہے سلامتی کونسل میں غزہ کیلئے امداد کی قرارداد پر بین الاقوامی فلاحی اداروں نے غزہ میں جنگ بندی ناگزیر قرار دے دیا۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کل ہو جائے گی لیکن اس شرط پر کہ حماس اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کر دے۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    دوسری جانب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نےایک پریس کانفرنس کے دوران ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ روکے جانے تک اسرائیلی قیدیوں کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی اگر اسرائیل اپنے یرغمالی افراد کو زندہ واپس یچاہتا ہے تو اسے غزہ کی پٹی پر حملہ روکنا ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی حکومت ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں، وہ غزہ کی ریت میں زیادہ سے زیادہ دھنس رہے ہیں۔ ان کی حکومت کا خاتمہ بالکل قریب ہے۔ انہوں نے فلسطینی دھڑوں کو ختم کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں کو بھی کھوکھلے دعوے قرار دے دیا۔

    فلسطینی دھڑوں نے اعلان کیا کہ ایک قومی فیصلہ ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے تک قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ حماس کو مختصر جنگ بندی کے بارے میں تحفظات تھے۔ اس نے کم از کم 14دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

    شہری کو پارک سے ملنے والا شیشے کا ٹکڑا 4.87 قیراط کا ہیرا نکلا

    حماس نے اسرائیلی فوجی مہم کو مزید عارضی طور پر روکنے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ صرف ایک مستقل جنگ بندی پر بات کی جائے گی یہ ایسی جنگ بندی ہو گی جس میں فلسطینی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے قیام پر زور دیا جائے گافلسطینی شہریوں کو مناسب خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی بات کی جائے گی۔

  • غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد   شہید

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    غزہ میں اسرائیلی بمباری کے باعث حماس کا پانچ قیدیوں کے رکھوالی کرنے والے اپنے گروپ سے رابطہ منقطع ہو گیا ۔

    باغی ٹی وی: اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے باعث اس کا پانچ قیدیوں کے رکھوالی کرنے والے اپنے گروپ سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیلی حملے میں ان قیدیوں کی اموات ہو گئی ہے ان قید یوں میں وہ تین یرغمالی بھی شامل ہیں جنکی ویڈیو گذشتہ دنوں وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنی رہائی کی اپیل کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    بھارت کے مشہور موٹیویشنل اسپیکر کا نئی نویلی بیوی پر تشدد،مقدمہ درج

    اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے باوجود جمعے کی رات بھی غزہ پر اسرائیلی حملے جاری رہے جبکہ ہفتے کے روزغزہ میں ریسکیو کرنے والے ادارے نے بتایا کہ اسرائیل نے غزہ پر بمباری جاری رکھتے ہوئے ایک ہی خاندان کے 76 افراد کو شہید کر دیااسرائیلی فوج نےیہ شدید بمباری اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس انتباہ کہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے کے محض ایک دن بعد کی ہےسیکرٹری جنرل نے اسرائیلی بمباری کو امدادی کارروائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔

    غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمد باسل کے مطابق جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بلڈنگ کو بمباری کا نشانہ بنایا، یہ اسرائیل اور حماس جنگ کے دوران اڑھائی ماہ سے جاری بمباری میں سے شدید ترین بمباریوں میں سے ایک تھی۔

    ملک میں چند مقامات پر ہلکی بارش کا امکان

    ترجمان نے اس بمباری کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیل بتائی تاہم مکمل فہرست نہیں جاری کی ہےان 76 افراد کا تعلق مراکشی خاندان سے ہے ان شہدا میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سابق سینئیر کارکن عصام المغربی، ان کی اہلیہ اور پانچ بچے بھی شامل ہیں-

    دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی بمباری سے اب تک 20000 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 53000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    عوام چار سال میں مہنگائی کا ظلم ڈھانے والوں کا سیاسی طور پر صفایا کردیں …

  • غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    غزہ: اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں ہر گزرتے لمحے اموات کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خبر رساں ادارے ” نیویارک ٹائمز” کے مطابق ایک امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے قیام 1948 سےلے کر اب تک فلسطینیوں اور دوسرے عرب ممالک کے خلاف جنگیں لڑیں ان کی نسبت موجودہ جنگ زیادہ خونی اور مہلک ثابت ہوئی ہے اس میں ہونے والے جانی نقصان نے ماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلط کی گئی جارحیت میں اموات میں کا حساب لگانا مشکل ہے، اب تک اموات کا جو تناسب سامنے آیا ہے وہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کی نمائندگی نہیں کرتا،غزہ کی پٹی میں ہونے والی اموات نے امریکا کی عراق اور افغانستان میں شروع کی گئی جنگوں میں ہونے والی اموات سے بھی بڑھ گیا ہے۔

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جانی نقصان میں بے پناہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں ان میں ایک بڑی وجہ اسرائیل کا بھاری ہتھیاروں اور زیادہ تباہی پھیلانے والے بموں کا استعمال اور علاقے کا گنجان آباد ہونا ہے گنجان آباد علاقے میں تباہی پھیلانے والے بموں کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اسرائیل کی تاریخ میں موجودہ جنگ سب سے بتاہ کن اور مہلک ہے،75 سال میں اسرائیل نے اتنے لوگ کسی جنگ میں نہیں مارے جتنے اس بار قتل کردئیےگئے ہیں-

    اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    "العربیہ” کے مطابق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے غزہ میں حماس کے 7 ہزار جنگجو ہلاک کئے ہیں مگر اسرائیل نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے اس تعداد کا اندازہ کیسے لگایاغزہ میں حکومت کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کی بمباری میں 6700 لوگ لا پتا ہیں یہ لوگ بھی جنگ میں مارے جانے والوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

  • اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    بھارتی ساحل کے نزدیک اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: بھارت سے متصل سمندر میں اسرائیلی بحری جہاز کے ساتھ ڈرون ٹکرا نے سے جہاز کو آگ لگ گئی کیمیکلز سے لدے اس جہاز کو زیادہ نقصان سے بچا لیا گیا ہےبرطانوی میری ٹائم سیکیورٹی فرم ایمبری کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا ہے، کیمیکلز لے جانے والے جہاز پر لائبیریا کا پرچم لہرا رہا ہے، یہ حملہ بحیرہ عرب میں بھارت کی مغربی ریاست گجرات کی بندر گاہ ویر اول کے جنوب مغرب میں 200 کلو میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔

    برٹش میری ٹائم سیکیورٹی فرم ایمبرے نے ہفتے کو بتایا کہ ڈرون حملے سے لگنے والی آگ فوری طور پر بجھادی گئی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے بعد عرشے پر کچھ پانی بھی دیکھا گیا،آگ بجھانے کے لیے پانی فوری طور پر جہاز تک پہنچایا گیا یہ جہاز اسرائیل سے وابستہ ہے حملے سے قبل اس جہاز کی آخری کال سعودی عرب کے لیے تھی حملے کے وقت اس کی منزل بھارت ہی تھا۔

    ڈی جی خان :ڈی پی او نے ملازمین کی ویلفئیر کی مد میں چیک …

    بھارتی کوسٹ گارڈ شپ آئی سی جی ایس وکرم بحیرہ عرب میں پوربندر کی بندر گاہ سے 217 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک مال بردار جہاز ایم وی کیم پلوٹو کی طرف بڑھ رہا تھا، اسی نے اطلاع دی کہ ایک جہاز میں ممکنہ طور پر ڈرون حملے سے آگ لگی ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں معمولی کمی

  • اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    تل ابیب: اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ کو منظم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اسرائیل میں تشکیل دی گئی ہنگامی جنگی کابینہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    باغی ٹی وی: "العربیہ” کے مطابق اسرائیلی وزیر نے "ایکس ” پرآج جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ "غزہ میں آپریشن کم کرنے کا خیال جنگی کابینہ میں کمزوری اور اس کی ناکامی کا ثبوت ہےاسے فوری طور پر تحلیل کیا جانا چاہیے-

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے بارہا غزہ کی پٹی میں کسی بھی انسانی جنگ بندی کی مخالفت پر زور دیا ہے، اس نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر سخت تنقید کی ہے اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تل ابیب اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلےکی نئی ڈیل کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس ڈیل کے لیے بھی اسرائیل کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کرنے کو کہا جائے گا۔

    بیرونی قوتوں سے ملی بھگت کی تو بھر پور جواب دیں گے،چین کی فلپائن کو …

    دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نےکہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی میں جاری تنازع کو طول نہیں دینا چاہتا انہوں نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کی حمایت پر زور دیا جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ نے غزہ میں امداد پہنچانے اور یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے جنگ بندی کے نفاذ کی حمایت پر زور دیا ہے لندن دو یرغمالیوں کی رہائی میں دلچسپی لے رہا ہے۔

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر ایٹمی حملے کی دھمکی دیدی

    برطانوی وزیر خارجہ نے غزہ تک امداد پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ ان کا ملک اردن کے ذریعے امداد بھیجنے پر غور کر رہا ہے،ہم غزہ کے لیے امداد کی سب سے بڑی رقم بھیجنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک نہیں مل رہی امداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے، ان کے اس خطے کے دورے کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کے ایام پر بات چیت کرنا ہے۔

    چیک جمہوریہ کی یونیورسٹی میں فائرنگ،15 افراد ہلاک 30 زخمی