Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ ختم،ایرانی صدر کی او آئی سی اجلاس میں شرکت متوقع

    سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ ختم،ایرانی صدر کی او آئی سی اجلاس میں شرکت متوقع

    غزہ پر اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا، دس ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے، اسرائیل جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہا تو وہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا، جنگ بندی کے حوالہ سے قرارداد اجلاس میں منظور نہ ہو سکی

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا ، بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں اختلاف ختم نہ ہوئے اور اجلاس بغیر کسی قرارداد کے ختم ہو گیا، اجلاس میں امریکا کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفے کا مطالبہ کیا گیا تو دیگر اراکین نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اجلاس میں قرارداد منظور نہ ہونے پر فلسطینی نمائندے نے امریکا کو سیز فائر معاہدے میں رکاوٹ قرار دے دیا

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نےیرغمالیوں کی رہائی تک جنگ بندی کا امکان مسترد کردیا،ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غزہ پٹی کی غیر معینہ مدت کے لیے سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا اس وقت حماس کی وجہ سے اسرائیل کے پاس سکیورٹی کی ذمے داری نہیں ہے،غزہ میں اس وقت تک جنگ بندی نہیں ہو گی جب تک حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا،

    دوسری جانب او آئی سی کا فلسطین مسئلہ پر اجلاس اگلے ہفتے ہو گا، اجلاس میں ایرانی صدر کی شرکت متوقع ہے، پاکستانی نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی او آئی سی اجلاس میں شریک ہوں گے،او آئی سی سربراہی کانفرنس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شرکت کے حوالہ سے ذرائع نے تصدیق کی کہ وہ شریک ہوں گے،سات برس بعد یہ ایرانی صدر کا دورہ سعودی عرب ہو گا.

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں دس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، شہدا میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، کئی ممالک احتجاجا اسرائیل سے سفیر واپس بلا رہے ہیں، سلامتی کونسل اجلاس ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیل نے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی،ہسپانوی اخبار  کا دعویٰ

    اسرائیل نے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی،ہسپانوی اخبار کا دعویٰ

    مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل نے اپنے فوجیوں کی جانیں بچانے کے لیے فرانس سے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی۔

    باغی ٹی وی: ہسپانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کیلئے اسرائیل نے فرانس کے کرائے کے پرائیوٹ فوجی بھرتی کیے ہیں اور غزہ جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ کرائے کے فوجی بھی شامل ہیں، اسرائیل نے ماہانہ 12 ہزار ڈالرز کرائے پر کچھ پرائیوٹ فوجیوں کو بھرتی کر لیا ہے، اسرائیل دیگر ممالک سے بھی پرائیوٹ فوجیوں کو بھرتی کرے گا، اسرائیلی اقدام کا مقصداسرائیلی فوجیوں کو غزہ میں براہ راست تصادم سے بچانا ہے۔

    خیال رہے کہ غزہ میں آپریشن کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوگیا اور زمینی آپریشن میں اب تک 29 فوجی افسر اور اہلکار مارے گئے ہیں جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک مارے جانے والے اسرائیلیوں فوجیوں کی تعداد 346 ہوگئی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے …

    دوسری جانب غزہ میں 31 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے،فلسطینی وزارت صحت کیجانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 252 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 22 ہوگئی ہے، شہید افراد میں 4104 بچے اور 2641 خواتین بھی شامل ہیں،اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 25 ہزار 408 فلسطینی زخمی ہوئے۔

    امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

    خیال رہے کہ 31 روز سے جاری اس جنگ کے باعث غزہ کے 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہوچکے ہیں اسی طرح مغربی کنارے میں 7 اکتوبر سے اب تک 140 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 192 طبی ورکرز شہید جبکہ 32 ایمبولینسیں تباہ ہوچکی ہیں اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کے 16 اسپتال بند ہو چکے ہیں جبکہ بیکریوں کو نشانہ بنائے جانے سے خوراک کا بحران بڑھ گیا ہے،اسرائیل کی جانب سے غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز الشفا اسپتال کے سولر پینل سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث اسپتال میں توانائی حاصل کرنےکا واحد ذریعہ بھی تباہ ہوگیا ہے،جب کہ باقی اسپتالوں پر بھی شدید دباؤ ہے اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث اسپتالوں میں انکیوبیٹرز اور دیگر طبی آلات چلانا مشکل ہو رہا ہے۔

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا

    اسرائیل کی جانب سے اسپتالوں کو بھی جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے، صیہونی فضائیہ غزہ میں موجود پانی کے کنووں اور بیکریوں کو بھی چن چن کر نشانہ بنا رہی ہے تاکہ غزہ کے باسیوں کی زندگی مزید اجیرن ہوجائے اور وہ غزہ کو خالی کردیں۔

    اسرائیلی بربریت کے باعث 6 نومبر کو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی 18 عالمی تنظیموں کے سربراہان نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں انسانی بنیادوں پر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان فوری سیز فائر کا مطالبہ کیا گیا ہے،انٹر ایجنسی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے پر 18 تنظیموں کے سربراہان نے دستخط کیے جس میں کہا گیا ہےکہ بہت ہوگیا اب اس جنگ کو ہر صورت رکنا چاہیے۔

    محمود عباس نے بلنکن کے ساتھ ملاقات میں غزہ جنگ بندی کا مطالبہ

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے عام شہریوں کا قتل سفاکیت ہے، اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 2.2 ملین فلسطینی محصور ہیں جہاں غذا، پانی، ادویات، بجلی اور ایندھن تک میسر نہیں جب کہ گھروں، پناہ گاہوں، عبادت گاہوں اور اسپتالوں پر بمباری کی جارہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

  • جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے سفارتی عملے کو واپس بلالیا

    جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے سفارتی عملے کو واپس بلالیا

    جوہانسبرگ: غزہ میں جاری خوفناک جنگ کے بعد سے متعدد ممالک اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرچکے ہیں ، اب جنوبی افریقہ نے اسرائیل سے سفارتی عملے کو واپس بلالیاہے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق جنوبی افریقہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل سے اپنے سفارتی عملے کے تمام افراد کو واپس بلالیا ہے، جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ نالیدی پانڈور کے مطابق غزہ میں بچوں اور معصوم شہریوں کے قتل عام پر گہری تشویش ہے، جنوبی افریقی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل کاردعمل اب اجتماعی سزا میں بدل چکا ہے ان کا ملک غزہ میں مکمل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کرتا ہے،ہم فلسطینی علاقوں میں بچوں اور معصوم شہریوں کے مسلسل قتل عام پر انتہائی فکر مند ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ردعمل اجتماعی سزا بن گئی ہے،ہم نے محسوس کیا یہ ضروری ہے کہ ہم جنوبی افریقہ کی تشویش کا اشارہ دیتے ہوئے ایک جامع بندش (دشمنی) کا مطالبہ کرتے رہیں۔

    سعودی عرب کاتیل کی پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ کمی جاری رکھنے کا …

    جنوبی افریقہ کی ایک وزیر خمبدزو انشاوہینی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تل ابیب میں موجود تمام سفارتی عملے کو مشاورت کے لیے پریٹوریا واپس بلایا جائے گا، یاد رہے کہ اس سے قبل اردن، بحرین، ترکیہ، چاڈ، ہنڈراس،بولیویا ، چلی اور کولمبیا بھی اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے …

  • غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    غزہ لہو لہو..انسانیت کی خاطر سوچیں. تجزیہ،شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ ،او آئی سی ، عرب لیگ دوسرے بین الاقوامی ادارے ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدارو ،سعودی عرب، قطر ، ایران ، مصر اورترکی ، مسلمان ملکوں میں بے گناہ انسانوں کو ذبح کرنے والو۔ امت مسلمہ کا درس دینے والو۔ آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 30دن ہو گئے ۔ نسل آدم کی لاشیں گر رہی ہیں آپ کا کردار کیا ہے ؟

    جمہوریت کی دوکانیں چلانے والو، بالخصوص جنت کے دعویدارو. تمہارے سامنے غزہ لہو لہو ہے ۔ جنت کے دعویدارو کیا تم موت کو بھول بیٹھے ہو مرنے کے بعد زندہ ہونا اور خدا کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ نیتن یاہو غزہ کے ساتھ اسرائیلی قوم کا بھی قاتل ہے اسرائیلی عوام بھی سراپا احتجاج ہے ۔ عرب ریاستوں کا کردار پہاڑ پر چڑھ کر جنگ کا نظارہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ کتنی عجیب بات ہے بھارت صدیوں سے بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث ہے ۔ بھارت میں عیسائی ، مسلمان ، غیر محفوظ ۔ عالمی ادارے تادم تحریر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

    بوڑھے سیاستدان جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دیکھ لیں، اہم ریاستوں کی امریکی کمیونٹیز ، بائیڈن کی اسرائیل کی پالیسی کے خلاف ہو رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو آپ کو سچائی کو اپنانا ہوگا۔ موجودہ تباہی کے بعد بائیڈن کے پاس مشرقی وسطی میں امن کی بحالی کے بعد فوری طورپر مردہ حالت میں واپس لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ امریکہ اور عالمی دنیا کو فوری مداخلت کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے۔ حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے پر جنگ ہو تو بے گناہ انسانوں کا خون بہتا ہے ۔ عالمی طاقتیں تماشائی نہ بنیں اپنا کردار ادا کریں انسانیت کی خاطر۔

  • اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے لیا

    اسرائیلی فوج نے حماس کی سرنگوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہار ا لے لیا

    غزہ میں حماس کے ٹھکانے سرنگوں میں ہیں، اسرائیلی فوج کے لئے حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنا ایک چیلنج ہے، اسرائیلی فوج نے اب ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے، حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لئے کتوں کا سہارا لیا ہے

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حماس انسانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے، حماس لیڈر سرنگوں میں ہیں اور خود کو چھپا رکھا ہے، ایسے میں غزہ میں شہری مر رہے ہیں تا کہ حماس پروپیگنڈہ کر سکے کہ اسرائیلی حملوں میں شہری مارے جا رہے، ایسے میں حماس کے ٹھکانوں تک پہنچنے کے لئے اسرائیلی فوج نے کتوں کا استعمال کیا ہے،حماس نے کچھ یرغمالیوں کو بھی ان زیر زمین سرنگوں میں رکھا ہوا ہے

    اسرائیلی فوج کے حماس کی سرنگوں میں جانے والے کتوں کی ویڈیو سامنے آئی ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کتے سرنگ میں دوڑ رہے ہیں، اسی دوران وہ حماس کے اہلکاروں پر حملہ کرتے ہیں تو چیخ و پکار کی آوازیں بھی آتی ہیںَ،کتوں کے ساتھ اسرائیلی فوج نے کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں تا کہ سرنگوں کے اندرونی نظام کو مانیٹر کیا جا سکے،

    اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر گینڈلمین نےبھی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کتے کس طرح حماس کے ٹھکانوں‌تک پہنچے،کچھ لوگوں نے ویڈیو کے بارے میں سوال اٹھایا، لیکن موساد کے اکاؤنٹ نےردعمل دیا۔اور کہا کہ جنگ کے کتے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں المغازی کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں ترک خبر ایجنسی کے فوٹو گرافر محمد علاؤل کے 4 بچے، 4 بھائی اور ان کے بچے شہید ہو گئے، اسرائیلی بمباری میں اب تک 40 صحافیوں سمیت مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب ملازمین شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں

  • امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

    امریکہ نے جوہری میزائل آبدوز تعینات کر دی

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن غزہ پر بات چیت کے لئے غیر معمولی حالات میں ترکی پہنچ گئے ہیں. امریکی فوج نے یہ اعلان کرتے ہوئے غیر معمولی قدم اٹھایا ہے کہ اس نے خطے میں ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوز بھیجی ہے۔

    اتوار کو دیر گئے، امریکی سینٹرل کمانڈ، نے کہا کہ ایک اوہائیو کلاس جوہری میزائل آبدوز خطے میں پہنچ گئی ہے – جوہری آبدوز کی پوزیشن کا ایک غیر معمولی عوامی اعلان جسے ایران کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھاجا رہا ہے،ایٹمی میزائل آبدوز اسرائیل کے عام علاقے میں کہیں تعینات ہے۔امریکا پہلے ہی دو طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیج چکا ہے

    دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر فلسطینی کارکن احد تمیمی کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے 2018 میں نوعمری کے طور پر عالمی سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب اسے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں فوجیوں کو تھپڑ مارنے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تمیمی کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے قریب نبی صالح کے گاؤں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مغربی کنارے کے آباد کاروں کے قتل کا مطالبہ کیا تھا۔اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں تمیمی کی گرفتاری کو سراہتے ہوئے اسے "دہشت گرد” قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر کملا ہیرس پیر کے روز غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ رابطے کریں گی،وہیں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اتوار کو اسرائیل پہنچے ہیں، اور وہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور موساد کے سربراہے علاوہ دیگر لوگوں سے بات چیت کریں گے۔اس کے بعد ان سے خطے کے دیگر ممالک کا سفر متوقع ہے جہاں وہ انٹیلی جنس ہم منصبوں سے "غزہ کی صورتحال، یرغمالیوں کے لیے مذاکرات کی حمایت، اور ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان تنازع کو وسیع کرنے سے روکنے کے لیے جاری امریکی عزم سمیت” مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا،دس ہزار کے قریب شہادتیں

    اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا،دس ہزار کے قریب شہادتیں

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملےکے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری کو ایک ماہ ہو گیا، اسرائیلی بمباری سے غزہ میں دس ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں.

    عالمی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، امریکہ جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں آ رہے، غزہ قبرستان بن چکا ہے، خوراک، پانی سب کچھ ناپید، ہسپتالوں میں بمباری سے ہسپتال بھی ملیا میٹ ہو گئے، تعلیمی اداروں پر بھی بم برسائے گئے،مساجد، چرچ بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہ رہے،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ میں تیسری مرتبہ مواصلات اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے 9770 افراد میں سے 4800بچے شامل ہیں جب کہ 26 ہزار فلسطینی زخمی ہیں

    دوسری جانب امریکی سی آئی اے چیف ولیم برنس اسرائیل پہنچ گئے ہیں، وہ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے،

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ فلسطینی سرزمین کو 2 حصوں جنوبی اور شمالی غزہ میں تقسیم کردیا،اس کے علاوہ انہوں نے حماس کے خلاف اہم کامیابیوں کا دعویٰ بھی کیا، اسرائیلی بربریت کے جواب میں حماس کے تل ابیب پر راکٹ حملے کیے جارہے ہیں راکٹوں کو نشانہ بنانے والا آئرن ڈون کا میزائل خرابی کا شکار ہوگیا اور اسرائیل ہی میں گرگیا

    امریکی وزیر خارجہ جنہوں نے اسرائیل کا تیسرا دورہ کرنے کے بعد اردن میں عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اسکے بعد ترکی پہنچ گئے انکا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا اور اپنے فوجیوں پر حملے برداشت نہیں کریں گے،انٹونی بلنکن نے عراق کا بھی دورہ کیا،سائپرس بھی گئے اور اب ترکی میں ہیں،امریکی وزیر خارجہ کی آمد سے قبل ترکی میں انکے خلا ف بھر پور مظاہرے کئے گئے

    گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں المغازی کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں ترک خبر ایجنسی کے فوٹو گرافر محمد علاؤل کے 4 بچے، 4 بھائی اور ان کے بچے شہید ہو گئے، اسرائیلی بمباری میں اب تک 40 صحافیوں سمیت مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب ملازمین شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینی سیاسی جماعت الفتح کے رہنما رفت اولیان کو براہ راست انٹرویو کے دوران گرفتار کر لیا ، رفت اولیان مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے گھر سے لائیو انٹرویو دے رہے تھے، اسرائیلی فوج نے توبس سے ایک خاتون صحافی کو بھی گرفتار کیا ہے،خاتون صحافی سمیہ سات ماہ کی حاملہ ہیں، انکو الفارع کیمپ سے حراست میں لیا گیا،

    اردن کی ملکہ رانیہ العبداللہ نے غزہ کی پٹی میں "تباہ کن انسانی صورت حال” کی مذمت کی اور تمام لوگوں سے فوری طور پر جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ملکہ رانیہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،وہ علاقے بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں اسرائیلیوں نے لوگوں کو پناہ لینے کے لیے کہا تھا۔ ملکہ رانیا نے نشاندہی کی کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں تقریباً 10,000 شہید ہو چکے ہیں،جس میں نصف بچے ہیں،

    زیادہ تر جنوبی سرحدی دیہاتوں میں الفا مواصلاتی نیٹ ورک کی مکمل بندش مسلسل دوسرے دن بھی جاری ہے۔ان علاقوں کے لوگوں نے وزیر مواصلات اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں،

    غزہ، اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچائی گئی
    غزہ میں اردن کے فیلڈ ہسپتال میں طبی سامان بھیجنے کے عمل کے لیے پیچیدہ لاجسٹک انتظامات کی ضرورت تھی، اور یہ آسان عمل نہیں ہے، پیر کے روز المبیدین نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اردن کےغزہ میں فیلڈ اسپتال کا مقام مشکل ہے لیکن جو چیز اردن کے لیے اہم ہے وہ غزہ کے لوگوں کے درد کو کم کرنا اور اس کی حمایت کرنا ، اسرائیل ہسپتالوں کے ارد گرد بمباری کر رہا ہے،

    شاہ عبداللہ دوم نے پیر کو کہا کہ مسلح افواج کے فضائیہ کے ارکان غزہ کی پٹی میں اردن کے فیلڈ ہسپتال کو فوری طبی اور دواسازی امداد پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔غزہ میں اردنی فیلڈ ہسپتال کو پیراشوٹ کے ذریعے امداد پہنچانے کا عمل مکمل کیا گیا ،

    حماس کے کمپاؤنڈ‌پر ہم نے قبضہ کر لیا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
    اسرائیلی فوج نے حماس کے ایک کمپاؤنڈ کا کنٹرول سنبھال لیا اور رات بھر کی کارروائی میں 450 سے زیادہ فضائی اہداف کو نشانہ بنایا،اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نشانہ بنائے گئے کمپاؤنڈ میں مشاہداتی چوکیاں، تربیتی علاقے اور زیر زمین سرنگیں شامل ہیں،حماس کے کارکن بھی حملے کے دوران مارے گئے ہیں.

    اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو "خوفناک” قرار دیا لیکن کہا کہ "غزہ میں اس سے بھی زیادہ شہریوں کی ہولناک ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس کے بعدفلسطینیوں کو خوراک، پانی، ادویات، بجلی اور بجلی سے محروم کر دیا گیا ہے،

    ہمارے چالیس شہری مارے گئے اور سات لاپتہ ہیں، فرانس
    فرانسیسی وزیر اعظم نے پیر کو کہا کہ اسرائیل کے خلاف 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے چالیس فرانسیسی شہری مارے جا چکے ہیں۔جبکہ آٹھ لاپتہ ہیں انکے بارے میں امکان ہے کہ حماس نے انکو یرغمال بنایا ہوا ہے،پیرس نے پورے تنازع میں اسرائیل کی مضبوطی سے حمایت کی ہے، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا تھا،

  • اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے 60 یرغمالی لاپتہ ہو گئے ہیں،ترجمان حماس

    اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے 60 یرغمالی لاپتہ ہو گئے ہیں،ترجمان حماس

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے 60 یرغمالی لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: عرب نشریاتی ادارے کے مطابق حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بتایا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنائے جانے والے 60 قیدی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے لاپتہ ہو گئے ہیں، اسرائیلی بمباری کی وجہ سے 60 لاپتا اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 23 کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں غزہ میں اسرائیل کی شدید بمباری اور جارحیت کی وجہ سے وہ کبھی بھی یرغمالیوں کی لاشوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ایسا لگتا ہے کہ قابض اسرائیل کی غزہ کے خلاف مسلسل جارحیت کی وجہ سے ہم ان تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔

    اسرائیل میں ہزاروں افراد کا نیتن یاہو کے خلاف احتجاج

    گزشتہ روز 2 امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ان کا ملک یرغمال بنائے گئے افراد کی تلاش میں غزہ کی فضا میں مسلسل ڈرونز طیاروں کے ذریعے ان کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے، واضح رہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے 239 شہریوں کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے چار شہریوں کو رہا کیا جاچکا ہے جبکہ حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ چند روز میں مزید غیر ملکی یرغمالیوں کو انسانی ہمدردی کی بنا پر رہا کر دے گا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سےاب تک ڈھائی ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اسرائیلی فوج نے 2 نومبر کو غزہ میں زمینی کارروائی شروع کی تھی اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غزہ پٹی میں براہ راست لڑائی جاری ہے، رات گئے اسرائیلی حملے میں حماس کے فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج کا رات کی تاریکی میں غزہ پر حملہ،51 فلسطینی شہید سینکڑوں زخمی

    بیان میں ایک بار پھر شمالی غزہ میں موجود فلسطینی شہریوں کو جنوب میں منتقل نہ ہونے پر نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ شمالی غزہ کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کے لیے مختصر وقت دیں گے صلاح الدین اسٹریٹ پر مقامی وقت کے مطابق 5 نومبر کو صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ٹریفک کی اجازت ہوگی، تاکہ عام شہری جنوبی غزہ میں جاسکیں۔

    اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق شمالی غزہ میں 3 لاکھ بے گھر افراد موجود ہیں جن کو وہاں مشکل حالات کا سامنا ہے بیشتر افراد کو ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں جبکہ دیگر کے خیال میں جنوب کی جانب سفر کرنا محفوظ نہیں کیونکہ اسرائیلی فوج پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے 4 نومبر کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران اب تک اس کے 29 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

  • اسرائیل میں ہزاروں افراد کا نیتن یاہو کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں ہزاروں افراد کا نیتن یاہو کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں ہزاروں افراد اپنے ہی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی عوام کی جانب سے7 اکتوبر کے حملے اور یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر شدید تنقید کی جارہی ہے، اس کے علاوہ اسرائیل کے جنگی رد عمل پر احتجاج بھی جاری ہے مقبو ضہ بیت المقدس میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر عوام کی بڑی تعداد کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا اور وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکی شہر نیو یارک میں سینکڑوں افراد نے احتجاج کرکے ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے واشنگٹن میں بھی ہزاروں افراد کا فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا احتجاج میں مظاہرین نے فلسطین کو آزاد کرو اور اسرائیل دہشتگرد ریاست کے نعرے لگائے اور احتجاج کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کے گرد سکیورٹی بھی سخت کردی گئی۔

    اسرائیلی فوج کا رات کی تاریکی میں غزہ پر حملہ،51 فلسطینی شہید سینکڑوں زخمی

    ادھربرطانیہ میں بھی سینکڑوں افراد نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لندن کے پکاڈلی سرکس پر دھرنا دیا اور غزہ میں فوری جنگ بندی کامطالبہ کیا،دھرنا دینے پر لندن پولیس کی جانب سے 29 مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیااس کے علاوہ پیرس میں بھی ہزاروں افراد نے غزہ میں جنگ بندی کے حق میں مارچ کیا گیا جبکہ برلن مظاہرے میں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ناروے، آسٹریلیا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ایران، قطر اور عراق میں بھی مظاہرے کیے گئے جبکہ مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں چلی اور وینیزیلامیں بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

    جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک 3 ہزار 900 بچوں اور 2 ہزار 509 خواتین سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 9 ہزار 488 ہو گئی ہے جب کہ 6 ہزار 360 بچوں اور 4 ہزار 891 خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 24 ہزار 158 سے تجاوز کر چکی ہے۔

  • جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام،بلنکن کو شرمندگی کا سامنا

    امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے لئے متحرک ہیں، انٹونی بلنکن نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کے بعد عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب وزراء خارجہ سے ملاقات کی، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دیگر ممالک کے وزرا خارجہ اجلاس میں موجو د تھے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب رہنماؤں نے جنگ بندی کے لئے اور غزہ کی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے تعاون طلب کیا ہے،امریکی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں عرب ممالک کا کردار اہم ہے،بلنکن نے عمان میں حکام سے ملاقاتیں کیں،انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ سے بھی ملاقات کی اور غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا، اقوام متحدہ کے تقریبا 70 اہلکاروں کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت ہو چکی ہے، اقوام متحدہ کے پاس خوراک،ادویات کی کمی ہو چکی ہے،امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے عرب رہنماؤں سے ملاقات کی تو عرب رہنماؤں نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام کو سزا نہ دی جائے،ایک طرف غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری ہے ایسے میں امریکی وزیر خارجہ کو عربوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسرائیل حماس کو کچلنے کے لئے چار ہفتوں سے مسلسل حملے کر رہا مگر اسے ناکامی ہوئی،عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے وزیر خارجہ کو غصےکی بڑھتی لہر کا سامنا کرنا پڑا،بلنکن نے غزہ میں جنگ بندی کی بات کی تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اسکو رد کر دیاہے، عمان میں بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ ان تمام کوششوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر توقف کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے گی

    مصری وزیر خارجہ سامح شکری، جن کا ملک غزہ کی پٹی سے وہاں جانے کے لیے امداد کے واحد راستے کے طور پر کام کر رہا ہے، نے "فوری اور جامع جنگ بندی” کا مطالبہ کیا۔

    حماس نے ہفتے کو دیر گئے کہا کہ غزہ سے دوہری شہریوں اور غیر ملکیوں کا انخلاء اس وقت تک معطل رکھا جا رہا ہے جب تک کہ اسرائیل کچھ زخمی فلسطینیوں کو رفح پہنچنے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ وہ مصر میں ہسپتال میں علاج کے لیے سرحد عبور کر سکیں۔

    اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے ہفتے کے روز غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کے بعدعلاقے کا دورہ کیا اور اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی۔وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے اندر لڑ رہی ہیں۔اسرائیلی فوج غزہ شہر کو "حماس کا مرکز” کے طور پر بیان کرتی ہے، لیکن امدادی معاونت کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے کہا کہ شہر اور ملحقہ علاقوں میں 350,000 سے 400,000 کے درمیان شہری مقیم ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے 7 اکتوبر سے لے کر اب تک فلسطینی سرزمین پر 12,000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے،

    امریکی وزیر خارجہ ترکی بھی جائیں گے اور ترک صدر سے ملاقات کر یں گے،ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیاہے،ترک وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کے بعد ترکی نے پنے سفیر کو مشاورت کے بعد واپس بلایا ہے، ترکی میں موجود اسرائیلی سفیر بھی سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیل واپس جا چکا ہے،غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکی ملک ہونڈرورس،چلی، کولمبیا اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلا چکے ہیں،سفیر واپس بلائے جانے کے اقدام کا فلسطین نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ دیگر ممالک سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کوبین الاقوامی جرائم کی عدالت میں لے کر جائیں گے،صحافیوں سے گفتگو میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیلئے لکیرکھینچ دی ہے ان سے اب کوئی بات نہیں ہوسکتی، نیتن یاہو ناقابل بھروسہ ہیں نیتن یاہو جوکچھ کررہےہیں اس کی بائبل، توریت اورنہ ہی زبور اجازت دیتی ہے، نیتن یاہو اسرائیلی عوام کی حمایت کھوچکےہیں

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے کچھ دن قبل کے دورہ ایران کی خبر سامنے آئی ہے، اسماعیل ہنیہ نے دورہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی،حماس کے عہدیدار اسامہ حمدان نے اسماعیل ہنیہ کے دورہ ایران کی مزید تفصیل نہیں بتائی

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حماس حملے کی ذمہ داری کیوں لینی چاہئے؟
    سات اکتوبر کو ہفتے کے دن حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا،اس حملے کو تقریبا چار ہفتے ہو چکے،حملے میں تقریبا 1400 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، سینکڑوں افراد کو حماس نے یرغمال بنا لیا، اب بھی حماس کے حملوں میں اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہو رہے ہیں، دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہے، یرغمالیوں کی رہائی کے لئے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف تل ابیب میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تاہم اسرائیلی وزیراعظم خاموش ہیں،

    یروشلم پوسٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو،انتہائی بے حس، لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،حماس کے حملوں میں چودہ سو اسرائیلیوں کی جانیں گئیں لیکن نیتن یاہو نے کسی ایک شخص کے جنازے میں شرکت نہیں کی، سینکٹروں یرغمال بنائے گئے ابھی تک اسرائیلی وزیراعظم نے یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کی،حماس کے حموں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ان میں سے کئی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں تا ہم نیتن یاہو نے کسی بھی زخمی کی ابھی تک عیادت نہیں کی،حماس کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیل میں 21 ہزار کے قریب افراد بے گھرہوئے لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے کسی بھی بے گھر افراد کا حال تک نہیں پوچھا،نیتن یاہو نے یرغمال بنائے گئے افراد میں سے صرف 13 خاندانوں کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں ،لیکن انکی رہائی کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا، 227 سے زائد افراد حماس کے قبضے میں ہیں، انکے خاندان اذیت کا شکار ہیں لیکن نیتن یاہو حملوں پر حملے کروا رہے ہیں

    یروشلم پوسٹ لکھتا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس ابھی تک تین الفاظ ہیں: "میں ذمہ دار ہوں” – حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع سمیت فوجی حکام نے ناکامی کا سہرا اپنے سر لیا، اور کہا کہ ہم ناکام ہوئے،انٹیلی جنیس چیف، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ،اوسی سدرن کمانڈ سمیت سب نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا،یہاں تک کہ وزیرخزانہ تک نے بھی کچھ انٹرویو میں کہا کہ حماس کے حملوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن اب الزام تراشی کا وقت نہیں،نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ہم سب کو فی الوقت جواب دینے کی ضرورت ہے

    نیتن یاہو کس طرح ایک اور سانحے کا الزام اپنے سر لینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں ذمہ دار ہوں لیکن اسکے ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کے مستقبل کی سلامتی کے لیے،نیتن یاہو واضح کر رہے تھے کہ وہ ماضی کے لئے نہیں بلکہ مستقبل کی بات کر رہے ہیں،اور سوچ رہے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد اگلے دن کیا ہو گا،نیتن یاہو کی اپنے دور حکومت میں ہونے والی ہر آفت سے دور رہنے کی ایک طویل تاریخ ہے، جن میں سے تازہ ترین 2021 میں ماؤنٹ میرون پر مہلک ہجوم کا کچلنا تھا، جس میں 45 افراد کی جانیں گئیں۔ گزشتہ سال اس آفت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے سرکاری کمیشن کے سامنے اپنی گواہی میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا تھا کہ ‘جو شخص گزشتہ 12 سالوں سے حکومت کا سربراہ تھا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ عوامی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں؟ اس آفت کے لیے؟” اس پر نیتن یاہونے جواب دیا، "کسی کو اس چیز کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔”

    اسی طرح کی ذہنیت میں، نیتن یاہو جنگ کے بعد کی انکوائری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور اس لیے وہ "میں ذمہ دار ہوں” کے الفاظ کہنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ یہ مخصوص الفاظ کبھی بھی کسی پروٹوکول میں ریکارڈ نہ ہوں۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک، نتن ایشیل نے اس ہفتے صحافیوں کو ایک تفصیلی پیغام بھیجا جس میں براہ راست ذمہ داری اور وزارتی ذمہ داری کے درمیان قانونی فرق کی وضاحت کی گئی،پیغام میں کہا گیا کہ "اگر کوئی سپاہی محافظ ڈیوٹی کے لیے حاضر ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے اور دہشت گرد آرمی بیس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا تو کیا وزیراعظم ذمہ دار ہیں؟

    اگرچہ نیتن یاہو ذمہ داری لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے جنگ ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اس کی سیاسی پروپیگنڈہ ٹیم پہلے دن سے ہی ناکامی کو دوسروں پر ڈالنے کی کوشش میں کام کر رہی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، جنگ کے آغاز پر، وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ہدایت کی کہ وہ آئی ڈی ایف اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر رہنماؤں کے بیانات کے اقتباسات جمع کریں، دونوں عوامی ذرائع کے ساتھ ساتھ خفیہ سیکیورٹی میٹنگوں سے، جس میں انہوں نے خطرے کی شدت اور حماس کی صلاحیتوں اور ارادوں کو کم کیا۔ ان ذرائع کے مطابق، جن لوگوں کے بیانات اور گفتگو کو جانچنے کی ہدایت کی گئی تھی ان کی فہرست طویل ہے، اور اس میں آئی ڈی ایف کے موجودہ اور سابق چیف آف اسٹاف، جیسے بینی گانٹز اور گاڈی آئزن کوٹ شامل ہیں، جو دونوں اس وقت ہنگامی جنگ کا حصہ ہیں۔ماضی کے وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپڈ، وزرائے دفاع،اس طرح کے لوگ شامل ہیں جن کے بیانات کو دیکھا جا رہا ہے تا کہ کسی بھی طرح نیتن یاہو کو حماس کے حملوں کی ذمہ داری سے بچایا جا سکے اور اگر انکوائری ہو تو اس میں ان بیانات کو پیش کر کے فوج کی طرف اور انٹیلی جینس اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جنہوں نے حماس کے حملوں‌کی وارننگ، اطلاع کو نظر انداز کیا .

    ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی نمائش منسوخ کر دی گئی،
    اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش استنبول میں ہونا تھی جسے منسوخ کر دیا گیا ہے، ترک منتظمین نے اسرائیلی فنکاروں کو اس حوالہ سے آگاہ کر دیا ہے،سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش منسوخ کی گئی ہے،اسرائیلی فنکار گور ایری کی نمائش "شکل دی بیوٹی” کو ہٹا دیا گیا، تاہم، طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کی فنکارہ لیلا احمد زئی، جو فی الحال جرمنی میں مقیم ہیں ، نمائش کی جگہ پر موجود ہیں۔فینارو نے دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ "تمام ترک فنکار جن سے ہم ملے وہ ایک ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں ہم ترک فنکاروں کو یہاں اسرائیللائے تھے، جسے ترک ثقافتی اسٹیبلشمنٹ نے سراہا تھا۔

    اسرائیلی فنکاروں بوز کازمین، انجلیکا شیر، اور فینارو، اور حنان ابو حسین کے فن پارے اس وقت نمائش کے لیے پیش ہونا تھا،فینارو نے کہا، "اسرائیل اور اس کے فنکاروں کو اب تنہائی کا سامنا ہے،” ہمیں اپنی آواز سنانے اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ہر موقع کا استعمال کرنا چاہیے۔

    اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کی تجویز پاگل پن ہے،ریپبلکن سینیٹر
    فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر رک سکاٹ نے اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کے کسی بھی مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی تجویز کو "پاگل اور خطرناک” قرار دیا۔سکاٹ نے حماس کے ایک اہلکار کی ایک ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیطانی دہشت گردانہ حملوں کو دہرائیں گے، جیسا کہ اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی شہریوں پر کیا گیا تھا، اس لیے جنگ بندی کا مطالبہ پاگل اور خطرناک ہے،‘‘ سکاٹ نے کہا۔ حماس کے ارکان دہشت گرد ہیں جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اس گھناؤنے خطرے کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کی تردید کی ہے کیونکہ اسرائیل غزہ میں حماس پرحملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل میں جنگ کے بارے میں، سکاٹ نے جی سیون ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اکتوبر کے ابتدائی دہشت گردانہ حملے کے لیے ایران پر پابندیاں لگائیں، جس میں مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی تھی۔سکاٹ نے ایک خط میں کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ حماس اور فلسطینی جہاد کے دہشت گردوں کی طرف سے معصوم شہریوں پر کیے جانے والے وحشیانہ حملوں کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے۔” "امریکہ اور ہمارے اتحادی اس حقیقت کو ایک سیکنڈ کے لیے نظر انداز نہیں کر سکتے۔”سکاٹ نے ستمبر میں امریکی-ایران قیدیوں کے تبادلے میں ایرانی حکومت کے 6 بلین ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر بائیڈن انتظامیہ پر بھی تنقید کی ہے۔فلوریڈا کے سینیٹر نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سب سے زیادہ "اسرائیل نواز” امریکی صدر قرار دیا تھا۔سکاٹ نے کہا، "امریکہ نےداعش کو شکست دی، امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں اپنے صحیح گھر میں منتقل کیا.

    اسرائیلی ماں نے انکشاف کیا کہ اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور شوہر کو لے جایا گیا
    ایک اسرائیلی ماں جس کی بیٹی کو حماس نے اس کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور جس کے شوہر کو اغوا کر لیا گیا تھا، اس نے جو کچھ ہوا اس کا ایک ہولناک بیان شیئر کیا ہے۔خاتون نے فیس بک اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ حماس نے جب حملہ کیا تو اسکے سامنے اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور اسکے شوہر کو حماس اہلکار ساتھ لے گئے، وہ خاموش تھی لیکن اب خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیلی وزیراعظم میرے شوہر کو بازیاب کروائیں

    اسرائیل کا حماس رہنما کے گھر پر میزائل حملہ
    اسرائیل نے حماس کے رہنما کے گھر پر میزائل داغا ہے،حماس سے وابستہ الاقصیٰ ریڈیو نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے غزہ کے گھر پر میزائل داغا ،یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس کے خاندان کا کوئی فرد اس وقت گھر میں موجود تھا جب حملہ کیا گیا،حماس کے سیاسی سربراہ ہنیہ 2019 سے غزہ کی پٹی سے باہر ہیں، جو ترکی اور قطر کے درمیان مقیم ہیں۔دوسری جانب غزہ شہر کے شمال میں اسامہ بن زید بوائز اسکول میں، اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "دہشت گردوں کا خاتمہ” کیا ہے اور گزشتہ روز شمالی غزہ میں سرنگوں کی تلاش کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے ہتھیار برآمد کیے ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے 15 عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا، ان میں سے کئی کو ہلاک کیا اور حماس کے تین مشاہداتی مراکز کو تباہ کر دیا،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    برسوں تک نیتن یاہو نے حماس کو سہارا دیا،ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ
    برسوں سے، بنجمن نیتن یاہو کی زیرقیادت مختلف حکومتوں نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان طاقت کو تقسیم کر دیا – فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ایسی حرکتیں کیں جس سے حماس گروپ کو تقویت ملی۔خیال یہ تھا کہ عباس یا فلسطینی اتھارٹی کی مغربی کنارے کی حکومت میں شامل کسی اور کو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش قدمی سے روکا جائے۔اس طرح، عباس کو نقصان پہنچانے کی اس کوشش کے دوران، حماس کو محض ایک عسکری گروپ سے ایک ایسی تنظیم میں تبدیل کر دیا گیا جس کے ساتھ اسرائیل نے مصر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کیے، اور جس کو بیرون ملک سے نقد رقم وصول کرنے کی اجازت تھی۔
    حماس کو اسرائیل نے غزہ کے مزدوروں کو دیے گئے ورک پرمٹ کی تعداد میں اضافے کے بارے میں بات چیت میں بھی شامل کیا، جس سے غزہ میں پیسہ بہایا جاتا رہا،

    اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اجازت نامے، جو غزہ کے مزدوروں کو انکلیو سے زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہیں۔ 2021 میں نیتن یاہو کی پانچویں حکومت کے خاتمے کے بعد، تقریباً 2,000-3,000 ورک پرمٹ غزہ کے باشندوں کو جاری کیے گئے تھے۔ یہ تعداد 5,000 تک پہنچ گئی اور بینیٹ لیپڈ حکومت کے دوران تیزی سے بڑھ کر 10,000 تک پہنچ گئی۔جنوری 2023 میں نیتن یاہو کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، ورک پرمٹس کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی ہے۔

    مزید برآں، 2014 کے بعد سے، نیتن یاہو کی قیادت والی حکومتوں نے غزہ سے آگ لگانے والے غباروں اور راکٹ فائر کی طرف عملی طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔دریں اثنا، اسرائیل نے پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے ساتھ اپنی نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے، 2018 سے لاکھوں قطری نقدی رکھنے والے کو اپنی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

    زیادہ تر وقت، اسرائیلی پالیسی فلسطینی اتھارٹی کو بوجھ اور حماس کو اثاثہ سمجھتی تھی۔ انتہائی دائیں بازو کے MK Bezalel Smotrich، جو اب سخت گیر حکومت میں وزیر خزانہ اور مذہبی صیہونیت پارٹی کے رہنما ہیں، نے 2015 میں خود ایسا کہا تھا۔

    مختلف رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے 2019 کے اوائل میں ایک اجلاس میں بھی ایسا ہی نقطہ نظر پیش کیا تھا، جب ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ جو لوگ فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں انہیں غزہ میں رقوم کی منتقلی کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے درمیان علیحدگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ غزہ میں ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ میں حماس فلسطینی ریاست کے قیام کو روکیں گے۔اگرچہ نیتن یاہو اس قسم کے بیانات عوامی یا سرکاری طور پر نہیں دیتے ہیں، لیکن ان کے الفاظ اس پالیسی کے مطابق ہیں جو انہوں نے نافذ کی تھی۔اسی پیغام کو دائیں بازو کے مبصرین نے دہرایا، جنہوں نے اس معاملے پر بریفنگ حاصل کی ہو یا لیکوڈ کے اعلیٰ افسران سے بات کی اور پیغام کو سمجھا۔

    اس پالیسی سے تقویت پا کر، حماس مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا، اسرائیل کا "پرل ہاربر”، جو اس کی تاریخ کا سب سے خونریز دن تھا – جب عسکریت پسندوں نے سرحد پار کی، سینکڑوں اسرائیلیوں کو ذبح کیا اور ہزاروں راکٹوں کو برسایا.بڑی تعداد میں شہریوں کو اغوا کر لیا۔

    ابھی چند روز قبل، کان پبلک براڈکاسٹر کے ایک رپورٹر اسف پوزیلوف نے مندرجہ ذیل ٹویٹ کیا: "اسلامک جہاد تنظیم نے سرحد کے بالکل قریب ایک شور مچانے والی مشق شروع کی ہے، جس میں انہوں نے میزائل داغنے، اسرائیل میں گھسنے اور فوجیوں کو اغوا کرنے کی مشق کی۔ ”

    اسلامی جہاد اور حماس کے درمیان فرق اس وقت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ جہاں تک ریاست اسرائیل کا تعلق ہے تو یہ علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے اور وہاں کی تمام تر تربیت اور سرگرمیوں کی ذمہ دار وہی ہے۔حماس مضبوط ہو گئی اور اس نے امن کے ان خوابوں کو استعمال کیا جس کے لیے اسرائیلی اس کی تربیت کے لیے بہت زیادہ ترس رہے تھے، اور سینکڑوں اسرائیلیوں نے اس بڑے پیمانے پر کوتاہی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔اسرائیل میں شہری آبادی پر ہونے والی دہشت گردی اس قدر زبردست ہے کہ اس سے لگنے والے زخم برسوں تک مندمل نہیں ہوں گے، یہ ایک چیلنج غزہ میں اغوا ہونے والے درجنوں افراد کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہے۔

    نیتن یاہو نے گزشتہ 13 سالوں میں جس طرح سے غزہ کا انتظام کیا ہے، اس سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آگے جا کر کوئی واضح پالیسی ہو گی۔