Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل کی مسجد پر بھی بمباری،حماس حملوں میں دو ہزار اسرائیلی ہلاک

    اسرائیل کی مسجد پر بھی بمباری،حماس حملوں میں دو ہزار اسرائیلی ہلاک

    حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل کے حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے

    اسرائیلی بمباری سے غزہ ایک کھنڈر بن چکا ہے، عمارتیں تباہ ہو چکیں، ہزاروں شہریون کی موت ہو چکی، ہسپتال لاشوں سے بھر چکے ہیں، ہر طرف زخمیوں کی آہ و بکا ہے مگر بے رحم اسرائیل دنیا کی جانب سے جنگ بندی کی اپیل کو بھی نہیں سن رہا، ادھر جوبائیڈن نے اسرائیل کو شہہ دے دی کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں،

    اسرائیلی حملوں میں ایک ہی دن میں 433 فلسطینی شہید ہو گئے،غزہ میں اموات کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے بڑھ گئی ہے، اب تک خواتین اور بچوں سمیت 13 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں،اسرائیل نے غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر دو گھروں پر بمباری کی ، جس سے ایک گھر میں 27 اور دوسرے میں 13 افراد شہید ہوئے،12 شہریوں کو بندرگارہ کے قریب بمباری کے ذریعے مارا گیا، نوصائرت میں مسجد پر بھی اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کی ،دیر البلاح میں گھر پر اسرائیلی بمباری سے دس افراد کی موت ہوئی،ہلال احمر کے ہیڈ کوارٹر پر بھی اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کی،جہاں آٹھ ہزار شہریوں نے پناہ لے رکھی ہے،اقوام متحدہ کے تحت خان یونس میں چلنے والے اسکول پر بھی بمباری کی گئی، جس سے کئی افراد شہید ہوئے جبکہ قریب ہی گھربھی تباہ کیا گیا.

    حماس اور حزب اللہ کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل نے 2 ہزار ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ ساڑھے چار ہزار سے زائد اسرائیلی زخمی ہیں، مرنیوالوں میں اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں،

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ غزہ کے لئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ 20 ٹرکوں پر مشتمل ہو گی جو جمعہ کو روانہ ہو گی، اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس امداد کو نہیں رکیں گے، جوبائیڈن کا کہناہے کہ مصر کے صدرعبدالفتاح السیسی نے رفح کراسنگ کھولنے کی اجازت انسانی بنیادوں پر دی ہے،امدادی سامان اقوام متحدہ کے تحت تقسیم کیاجائے گا، امدادی سامان کی پہلی کھیپ میں انتہائی ضروری سامان بھجوایا جائے گا جبکہ امدادی سامان کی دوسری کھیپ کا فیصلہ حالات کو دیکھ کر کیا جائے گا، امریکی صدر نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ حماس سامان پر قبضہ کر سکتا ہے، اگر ایسا ہوا تو غزہ کے لئے امداد روک دی جائے گی،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو غزہ کے بحران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی مقرر کر دیا۔2005 میں انہیں جارج بش اور کونڈولیزا رائس نے عراق پر حملے کے بعد رابطہ کار نامزد کیا تھا۔

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی ظلم  و جبر  پر وزرائے خارجہ؛  او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کا  اجلاس

    اسرائیلی ظلم و جبر پر وزرائے خارجہ؛ او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس

    فلسطینی عوام کے خلاف وحشیانہ اسرائیلی فوجی جارحیت پر وزرائے خارجہ کی سطح پر او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اوپن اینڈڈ اجلاس کا حتمی اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے.

    اسلامی تعاون تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق ایگزیکٹو کمیٹی نے مملکت سعودی عرب کی مشترکہ دعوت پر 3 ربیع الثانی 1445 بمطابق 18 اکتوبر 2023 ء کو وزرائے خارجہ کی سطح پر منعقد ہونے والے اپنے غیر معمولی اوپن اینڈڈ اجلاس میں اسلامی سربراہی اجلاس کے موجودہ اجلاس کے چیئرمین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین، اور اسلامی جمہوریہ پاکستان فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی فوجی جارحیت پر تبادلہ خیال کیا ، اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر میں شامل اصولوں اور مقاصد کو یاد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین اور شہر القدس الشریف کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے جاری کردہ تمام قراردادوں پر زور دیتا ہے۔


    جبکہ مزید کہا کہ پوری امت مسلمہ کے لئے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت پر زور دینے کا اعادہ کرنا ہے۔ اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی حمایت، خاص طور پر ان کے حق خودارادیت اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی، ان کا حق آزادی، اور 4 جون 1967 کو اس کے دارالحکومت القدس الشریف کی سرحدوں پر فلسطین کی آزاد اور خودمختار ریاست کے مجسمے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے جائز حق خود ارادیت کی حمایت، ان کے تقدس اور ان کی خصوصیات مقبوضہ فلسطینی علاقے میں کھلم کھلا اور بے مثال اسرائیلی جارحیت اور اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے بہیمانہ قتل عام کی روشنی میں، جس کے نتیجے میں سیکڑوں بے گناہ شہری ہلاک، ہزاروں زخمی اور ان کے گھروں کو مسمار کرکے لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں.

    اعلامیہ کے مطابق فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی قابض افواج کی وحشیانہ جارحیت کے فوری خاتمے اور غزہ پٹی کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ محصور غزہ پٹی اور پورے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں شہریوں کے خلاف بے مثال جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان پر بمباری، جان بوجھ کر انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے، مظالم ڈھانے اور انہیں ختم کرنے کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ کسی بھی بہانے سے شہریوں کو نشانہ بنانے یا انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کرنے، یا بھوک سے محروم کرنے اور تمام بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں انسانی امداد تک محفوظ رسائی سے محروم کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    جبکہ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر انسانی، طبی اور امدادی امداد، پانی اور بجلی فراہم کریں اور فوری طور پر انسانی راہداریاں کھولیں تاکہ غزہ کی پٹی تک فوری امداد بشمول اقوام متحدہ کے اداروں بالخصوص مشرق قریب میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورک ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے ذریعے فوری طور پر فوری امداد پہنچائی جا سکے اور اس سلسلے میں اس کی کوششوں کی حمایت کی جا سکے۔ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور اجتماعی سزا دینے کی پالیسی کو جاری رکھنے اور بھوک، پانی کی کمی اور ایندھن تک رسائی کی روک تھام کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں بجلی پیدا کرنے والے واحد اسٹیشن کو بند کرنے، بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کے مترادف تمام صحت اور انسانی خدمات کے لئے ایک حقیقی تباہی کا باعث بننے کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا۔ جس میں انسانیت کے خلاف جرم بھی شامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں:
    بچوں کو قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
    جناح ہائوس حملہ کیس، خدیجہ شاہ سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور
    کسان، مزدور اور قوم پیپلزپارٹی سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری
    انٹر بینک؛ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں پھر اضافہ
    واضح رہےکہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی جدہ میں منعقد ہونے والے او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے وزارتی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں اور اس وزارتی اجلاس میں اپنے خطاب میں وزیر خارجہ جیلانی غزہ میں سنگین انسانی صورت حال کے بارے میں پاکستان کے سنگین خدشات اور جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے اور غزہ کے عوام کو امدادی امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ او آئی سی کے دیگر رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے بھی ملاقاتیں ہیں۔

  • بائیڈن نے اسپتال حملہ کا ملبہ حماس پر ڈال دیا

    بائیڈن نے اسپتال حملہ کا ملبہ حماس پر ڈال دیا

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کے الاہلی اسپتال پر اسرائیلی فوج کے حملے کے حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیل کی حمایت میں اندھی جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اور حقائق کو تہس نہس کررہے ہیں علاوہ ازیں ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ بائیڈن کو ایسا بیان نہیں دینا چاہئے تھا اور ایسے بیانات سے عالمی رہنماؤں کو اجتناب کرنا چاہئے. جبکہ عالمی ادارے کے ایک صحافی نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت میں اندھا ہوچکا ہے.

    خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن حماس کیخلاف جنگ میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پہنچے اور کہا کہ غزہ کے ایک ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں بڑی تعداد میں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ اسرائیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ منگل کی شام الاہلی العربی ہسپتال میں آگ لگنے سے وائٹ ہاؤس میں مشرق وسطیٰ کے لیے بائیڈن کے ہنگامی سفارتی مشن کے منصوبوں کو نقصان پہنچا اور عرب رہنماؤں نے ان کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی۔

    روئیٹرز کے مطابق فلسطینی حکام نے اس دھماکے کا ذمہ دار اسرائیلی فضائی حملے کو قرار دیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ فلسطینی شدت پسند گروپ اسلامک جہاد کی جانب سے ناکام راکٹ داغے جانے کی وجہ سے ہوا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ ‘میں گزشتہ روز غزہ کے اسپتال میں ہونے والے دھماکے سے بہت افسردہ اور مشتعل تھا اور جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ یہ آپ نے نہیں بلکہ دوسری ٹیم نے کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں:
    جناح ہائوس حملہ کیس، خدیجہ شاہ سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور
    کسان، مزدور اور قوم پیپلزپارٹی سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری
    انٹر بینک؛ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں پھر اضافہ
    جبکہ بائیڈن نے مزید کہا کہ لیکن بہت سے لوگوں کو یقین نہیں ہے، لہذا ہمارے پاس بہت کچھ ہے، ہمیں بہت سی چیزوں پر قابو پانا ہوگا۔’ "دنیا دیکھ رہی ہے. امریکہ اور دیگر جمہوریتوں کی طرح اسرائیل کی بھی قدر و قیمت ہے اور وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔ بائیڈن کا مشرق وسطیٰ کا دورہ خطے کو پرسکون کرنے کے لیے کیا گیا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اتحادی اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا مظاہرہ کیا، جس نے حماس تحریک کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے، جس کے جنگجوؤں نے 7 اکتوبر کو ایک ہنگامہ آرائی میں 1،400 اسرائیلیوں کو ہلاک کیا تھا۔

  • اسرائیلی حملےکےبعد ہسپتال میں طبی عملے کی لاشوں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    اسرائیلی حملےکےبعد ہسپتال میں طبی عملے کی لاشوں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    اسرائیل نے گزشتہ شب غزہ کے ہسپتال پر بمباری کی ہے جس سے کم از کم 500 افراد کی موت ہوئی ہے، اسرائیل کی جانب سے ہسپتال پر یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ سات اکتوبر سے اب تک اسرائیل تقریبا 115 چھوٹے بڑے طبی مراکز پر حملے کر چکا ہے جن میں سے کئی مکمل تباہ ہو گئے ہیں، مسلسل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے طبی عملے کی بھی اموات ہوئی ہیں

    اسرائیلی حملوں میں اب تک 3500 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 12 ہزار شہری زخمی ہیں،ہسپتال پر حملے کے بعد برطانیہ میں فلسطینی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے برطانوی حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کر دیا،برطانیہ میں تنطیموں نے برطانوی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی تجارت کو خط لکھا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل سے اسلحہ برآمد کے تمام لائسنس معطل کئے جائیں.

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    اسرائیل نے غزہ کے ہسپتال پر حملے کا الزام اسلامک جہاد پر ڈال دیا

    الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اسرائیل نے ہسپتال پر حملے کوتسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اسلامک جہاد نے راکٹ فائر کیا تھا جو غلطی سے ہسپتال میں گرا ،اس حملے کی ذمہ دار اسلامک جہاد ہے،اسرائیلی حملے کی دنیا مذمت کر رہی ہے، حملے میں 800 کے قریب شہریوں کی موت ہو چکی ہے،ایسے میں اسرائیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلامی جہاد نے راکٹ فائر کیا،جس نے غزہ کے ہسپتال کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کے اس دعوے کو کہ اسرائیل نے حملہ کیا جھوٹ قرار دے دیا

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشنل سسٹم کے تجزے سے معلوم ہوا کہ دشمن نے ایک راکٹ اسرائیل کی طرف فائر کیا ، جو ہسپتال کے پاس سے گزار اور ہسپتال اسکا نشانہ بن گئی،ہمارے پاس کئی ذرائع ہیں،اس حملے کی ذمہ دار اسلامک جہاد ہے

    اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال پر حملہ اسرائیل نے نہیں کیا، بلکہ اسلامک جہاد نے کیا،نتین یاہو کا کہنا تھا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ غزہ کے دہشت گرد ہی ہیں جنہوں نے ہسپتال پر حملہ کیا نہ کہ اسرائیل فورسز نے،جن لوگوں نے ہمارے بچوں کو قتل کیا، وہ انکے بچوں کو بھی قتل کرتے ہیں،

    حماس اور دنیا بھر میں بہت سے لوگوں نے اس دھماکے کے لیے اسرائیلی فضائی حملے کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس میں سینکڑوں افراد کے مارے جانے کے بارے میں کہا جارہا ہے، جب کہ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینی اسلامی جہاد کا ناکام راکٹ لانچ تھا۔

    واضح ر ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں ایک ہسپتال پر بمباری کی ہے،وزارت صحت کے مطابق ایک اسرائیلی فضائی حملہ میں غزہ شہر کے ہسپتال کو نشانہ بنایا جو زخمیوں اور پناہ کے متلاشی دیگر فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا۔اسرائیل کی جانب سے متوقع زمینی حملے سے قبل شہر اور ارد گرد کے علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دینے کے بعد غزہ شہر کے کئی ہسپتال سینکڑوں لوگوں کے لیے پناہ گاہ بن گئے ہیں۔حملے میں پانچ سو سے زائد اموات ہوئی ہیں،

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین ن، مصر، اردن اور ترکی نے غزہ شہر کے العہلی عرب اسپتال پر بمباری کا الزام اسرائیل پر لگایا،سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ "یہ خطرناک پیشرفت بین الاقوامی برادری کو دوہرے معیارات کو ترک کرنے پر مجبور کرتی ہے،بحرین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی”کی جائے،اور امن قائم کیا جائے،متحدہ عرب امارات کے صدر کے نے "غزہ میں ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    متحدہ عرب امارات اور روس نے غزہ شہر کے ایک اسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بعد کل اسرائیل فلسطین تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے،

    اردن کے شاہ عبداللہ نے مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کو غزہ شہر کے ہسپتال پر راکٹ حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا،عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک گھناؤنا جنگی جرم ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا،سرائیل کو غزہ کے خلاف اپنی وحشیانہ جارحیت کو فوری طور پر روکنا چاہیے، جو کہ انسانی اور اخلاقی اقدار سے متصادم ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

  • اسرائیل کا وجود دنیا کیلئے کینسر کی مانند ہے. ایران

    اسرائیل کا وجود دنیا کیلئے کینسر کی مانند ہے. ایران

    ایران نے اسرائیل کو دنیا کے لیے کینسر کا پھوڑا قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک اس کے وجود کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جائے گا اسرائیل پر حملے جاری رہیں گے کیونکہ یہ ایک ظالم اور ناجائز ریاست ہے ۔ اس امر کا اظہار پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر علی فداوی نے کیا اور اس بیان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ پاسداران انقلاب کور کی طرف سے سامنے آیا ہے جس کے بارے میں تصور ہے کہ یہ کور ناصرف 1979 کے ایرانی انقلاب کی محافظ مانی جاتی ہے بلکہ اسے سپریم لیڈر کا غیر معمولی اعتماد بھی حاصل ہوتا ہے نیز یہ ایران سے باہر ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کی بھی سرپرستی کرنے والا ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔

    عالمی ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر کا یہ بیان سے ایک روز قبل ایرانی سپریم کمانڈر کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ پر بمباری نہیں روکتا تو مزاحمتی گروپوں کو اسرائیل پر حملے سے روکنا مشکل ہو جائے گا جبکہ پاسداران کمانڈر نے کہا ‘ مزاحمتی قوتیں اس وقت تک اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی جب تک دنیا کے نقشے سے اس سرطانی پھوڑے کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔’

    علاوہ ازیں ایران عام طور پر علاقائی سطح پر سرگرم اپنی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کے لیے ‘ مزاحمتی قوتوں، مزاحمتی گروپوں اور مزاحمتی محاذ کی اصلاحات استعمال کرتا ہے۔ ‘ ان میں ایران کا حامی فلسطینی گروپ حماس بھی شامل ہے۔ جبکہ لبنان کی حزب اللہ وغیرہ بھی انہیں گروپوں میں شمار ہوتے ہیں اور ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر نے اسرائیل کو انتباہ کیا ہے ۔ اگر اسرائیل نے غزہ پر حملے جاری رکھے تو اسرا ئیل کو مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    خیال رہے کہ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ‘ اسرائیل حالیہ دنوں ہونے والے غیر معمولی حملوں کے بعد ابھی اپنے اوسان بحال نہیں کر پایا ہے۔ یہ اسرائیل کی ایک بڑی شکست ہے جو اسے حماس سے کھانا پڑی ہے۔ علی فداوی کا کہنا تھا اگر غزہ میں جرم جاری رہا تو دوسرے ممالک کے مسلمان بھی صہیونیوں کے خلاف مزاحمت کا حصہ بن جائیں گے۔ ہوسکتا ہے اسرائیل پر ایک اور حملہ راستے پر ہو یعنی کیا ہی جانے والا ہو۔
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت

    علی فداوی نے اسرائل کے بارے میں کہا وہ غزہ میں سویلینز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کیونکہ مزاحمت کاروں کو نقصان پہنچانے میں ناکام ہو چکا ہے، دنیا کے مسلمان اس صورت حال کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ اسرائیل پر سات اکتوبر جیسے مزید حملے ہو سکیں، ادھر اسرائیل نے اپنے لاکھوں فوجی غزہ کی سرحد پر تعینات کر دیے ہیں۔ یہ تیاری اسرائیل نے غزہ پر ایک بھر پور زمینی حملے کے سلسلے میں کی ہے۔اسی سبب گیارہ لاکھ فلسطینوں کو غزہ سے نکل جانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

  • غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ شہر کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جو زخمیوں اور پناہ کی تلاش میں موجود دیگر فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔ اگر اس حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 2008 کے بعد سے لڑی جانے والی پانچ جنگوں میں اسرائیل کا اب تک کا سب سے مہلک فضائی حملہ ہوگا۔ الاہلی اسپتال کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ نے اسپتال کے ہال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں اور جسم کے اعضاء پورے علاقے میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جبکہ وزارت کا کہنا ہے کہ کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ شہر کے متعدد ہسپتال سینکڑوں افراد کے لیے پناہ گاہ بن گئے ہیں، امید ہے کہ وہ بمباری سے بچ جائیں گے کیونکہ اسرائیل نے شہر اور آس پاس کے علاقوں کے تمام رہائشیوں کو جنوبی غزہ کی پٹی میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اے پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ آیا یہ اسرائیلی فضائی حملہ تھا یا نہیں۔ جنوب میں جاری حملوں میں درجنوں شہری اور حماس کے کم از کم ایک سینیئر رہنما ہلاک ہو گئے ہیں جن کے بارے میں حماس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف عسکریت پسند ہیں۔ امریکی حکام نے اسرائیل کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے کام کیا کہ وہ محصور شہریوں، امدادی گروپوں اور اسپتالوں کو رسد کی فراہمی کی اجازت دے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حماس کے وحشیانہ حملے کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں پانی، ایندھن اور خوراک کے داخلے پر پابندی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں علاقے کے 2.3 ملین افراد کو امداد کی فراہمی کے طریقہ کار کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ فائدہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم پھر بھی، منگل کی دیر تک، کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا. اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کر رہا ہے کہ حماس کے عسکریت پسند کسی بھی امدادی سامان پر قبضہ نہیں کریں گے۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ طزہی حنگبی کا کہنا ہے کہ امداد کے داخلے کا انحصار حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی واپسی پر بھی ہے۔

    تاہم اس حملہ کی ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور کنیڈا کے وزیر اعظم سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے سخت الفاظ میں مزمت ہے اور اسے قتل عام کہا ہے ، اور قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے غزہ کے اس ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں تمام انسانیت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ غزہ میں اس بے مثال بربریت کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ جبکہ جسٹن ٹروڈو نے کہا میں اس کی سخت مزمت کرتا ہوں اور اسرائیل کو چاہئے کہ جنگی اصول کا خیال رکھے.

    دوسری جانب فلسطین نیشنل انیشی ایٹو پارٹی (پی این آئی) کے رہنما مصطفی برغوتی نے کہا ہے کہ الاہلی عرب اسپتال پر حملے سے عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ فتح اور حماس فلسطینی سیاسی جماعتوں کے متبادل کے طور پر پی این آئی کے شریک بانی برغوتی نے کہا، "میرے خیال میں اب کسی بھی عرب حکومت کے لیے اپنے ملک میں اسرائیلی سفیر رکھنا انتہائی شرمناک ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ عرب حکومتوں اور اسرائیل کے درمیان معمول پر لانے کے تمام اقدامات کو ختم اور منسوخ کیا جانا چاہیے۔ یہ کم از کم اتنا ہی ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔ لیکن انہیں امریکہ کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اب بہت ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی عرب دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ بہت سے ممالک امریکہ کو تیل اور گیس اور مدد اور مارکیٹوں اور ہر چیز فراہم کرتے ہیں۔ اب امریکہ اس اسرائیلی جنگی جرم کی حمایت کر کے عملی طور پر ہمیں قتل کر رہا ہے۔ اور یہ بند ہونا چاہئے. جبکہ فلسطینی صدر نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور عالمی رہنماؤں سے کہا ہے اسرائیل کے ظلم کیخلاف آواز بلند کریں.

    خیال رہے کہ پاکستان نے بھی اس کی مزمت ہے اور وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان غزہ کے الاہلی الممدانی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ہسپتال پر حملہ، جہاں شہری پناہ اور ہنگامی علاج کی تلاش میں تھے، غیر انسانی اور ناقابل دفاع ہے۔ شہری آبادی اور تنصیبات کو اندھا دھند نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ پر اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے فوری خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے اور گزشتہ چند دنوں میں اسرائیلی حکام نے جس بے رحمی کے ساتھ کارروائیاں کی ہیں۔

  • امریکی صدر اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیل پہنچ گئے ہیں

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ دورہ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے لئےہو گا،اردن اور مصر بھی جائیں گے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کریں گے،بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ حماس سےلوگوں کو محفوظ بنائے،امریکی کمانڈر مائیکل کوریلا صدر جوبائیڈن کی آمد سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی شہر، تل ابیب پہنچ گئے ہیں،

    https://twitter.com/RTEUrdu/status/1714216107874398578

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹویٹر پر کہا کہ وہ اسرائیل کا دورہ کریں گے، حماس کے اقدامات فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔کچھ بنیادی اقدار ہیں جن کا ہمیں بطور امریکی مل جل کر رہنا چاہیے اور ان بنیادی اقدار میں نفرت، نسل پرستی، تعصب اور تشدد کے خلاف کھڑا ہونا شامل ہے، نفرت کی کارروائیاں ہماری بنیادی اقدار کے خلاف ہیں اور امریکہ میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    حماس کے اسرائیل پرسات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کاروائی میں غزہ پر مسلسل بمباری، حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں میں 2800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں، خوراک،پانی ،بجلی کی سہولیات ختم ہو چکی ہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں شہری اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لئے قیام کر سکیں،عمارتوں پر بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں،شہید ہوانے والوں میں ایک ہزار بچے اور چار سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،اسرائیلی حملوں سے دس ہزار شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، ایک ہزار کے قریب لاشیں عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے.

  • مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    امت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عوامی بیانیٔے کی پیروی اور فلسطینیوں کی حالت زار کو بیان کرنا چاہئے جنہیں بلاشبہ سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ منظر نامےکو دیکھتے ہوئے پاکستان کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو ہر چیز سے بالاتر رکھنے کی ضرورت ہے۔

    ایک جامع نقطہ نظر حاصل کرنے کے لیٔے،ماضی کی طرف جاتے ہیں اور وسیع تر سیاق و سباق پر غور کرتے ہیں۔ 2016-17 میں، مصر نے سینائی کے علاقہ میں اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیٔے، حماس کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا، جو تنظیم کے متعلق، اس کے پچھلے موقف میں اہم تبدیلی تھی۔ اس نقطہ نظر کی وجہ سے مصر نے 2018 سے منتخب تجارتی سامان کو صلاح الدین بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دی۔ 2021 سے، خبروں کے مطابق، حماس غزہ میں مصری درآمدات پر ٹیکس کی مد میں ہر ماہ ایک اندازے کے مطابق 12 ملین ڈالر جمع کر رہی ہے۔

    امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، ایران حماس کے ایک اہم فنانسر کے طور پر سامنے آیا ہے، جو حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عسکری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ٹائمز میگزین کے مطابقہ امریکی کانگریس نے حماس کے خلاف کوششوں کو تقویت دینے کے لیے تقریباً 2 بلین ڈالر کا امدادی پیکج تجویز کیا ہے۔

    حماس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی اہم فنڈنگ حاصل کی ہے، اسرائیلی حکام نے 2020 اور 2023 کے درمیان تقریباً 41 ملین ڈالر ضبط کیٔے، اسکو وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے۔ مزید 94 ملین ڈالر مبینہ طور پر متعلقہ ادارہ فلسطینی اسلامی جہاد کے پاس ہیں۔

    دشمنیوں میں حالیہ اضافہ، طویل عرصہ سے جاری کشیدگی جو کئی مہینوں سے بڑھ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے معصوم جانوں کا المناک نقصان ہوا۔ اس تنازعے کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور کہانیاں دنیا کو چونکاتی رہتی ہیں۔

    اس پیش رفت کو جاری سفارتی مذاکرات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل تین طرفہ مذاکرات میں مصروف ہیں، واشنگٹن نے یروشلم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ریاض کو یقین دہانیاں کروائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیل تجارتی معاہدوں کی تلاش کر رہا ہے، جس میں یورپ کو گیس کی ممکنہ برآمدات، اور ترکی جیسی مختلف ریاستوں کے ساتھ تجارتی راہداری شامل ہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ تاہم، اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ الزامات کہ ایران نے حالیہ حملے میں مرکزی کردار ادا کیا، جیسا کہ اسرائیل کے حامی دھڑوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے، معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس تقریباً ایران کے لیے ایک پراکسی ہے۔ الجزیرہ نے 15 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں کہا کہ ایران نے اسرائیل کو علاقائی کشیدگی سے خبردار کیا ہے اگر اسرائیلی فوج غزہ میں زمینی حملے کے لیے داخل ہوتی ہے تو ایران بھی اس جنگ میں کود پڑے گا.

    تازہ ترین خبروں کے مطابق، سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو موقوف کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے، کیونکہ ریاض خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکہ اس معاہدے میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔

    اس پیچیدہ سفارتی منظر نامے کے پیش نظر پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، اور فریقین کا موقف اپنالینے سے گریز کرنا چاہیے۔ عوامی بیانیہ کے آگے جھکنے کے بجائے، اسے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور اس پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے پر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

  • اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار بچوں سمیت 2800 اموات

    حماس کے اسرائیل پرسات اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کاروائی میں غزہ پر مسلسل بمباری، حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں میں 2800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں، خوراک،پانی ،بجلی کی سہولیات ختم ہو چکی ہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں شہری اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لئے قیام کر سکیں،عمارتوں پر بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں،شہید ہوانے والوں میں ایک ہزار بچے اور چار سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،اسرائیلی حملوں سے دس ہزار شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، ایک ہزار کے قریب لاشیں عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے.

    امریکا اور اسرائیل کے درمیان امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق
    اسرائیلی حملوں سے غزہ میں ہر طرف تباہی نظر آتی ہے، ہسپتال،سکول،کچھ بھی محفوظ نہیں ہر طرف لاشیں، زخمی، چیخ و پکار، اموات اتنی کہ لاشوں کو ٹرک میں ڈال کر اجتماعی قبریں بنا کر دفن کیا جا رہا،ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل سے غز ہ میں امداد بھجوانے کا کہا لیکن اسرائیل نہ مانا بلکہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں کام کرنے والی ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا، طبی عملے کے ارکان بھی شہید ہو چکے ہیں تو کئی ایمبولینس گاڑیاں بھی تباہ ہو چکی ہیں،

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ امدادی سامان بھیجنے سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم سے 8 گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں امدادی سامان غزہ بھیجنے پر اتفاق کیا گیاہے، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دوسری بار دورہ کر رہے ہیں،پہلے دورے کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا دورہ کیا تھا.

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ دورہ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے لئےہو گا،اردن اور مصر بھی جائیں گے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کریں گے،بلنکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ حماس سےلوگوں کو محفوظ بنائے،امریکی کمانڈر مائیکل کوریلا صدر جوبائیڈن کی آمد سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی شہر، تل ابیب پہنچ گئے ہیں،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹویٹر پر کہا کہ وہ اسرائیل کا دورہ کریں گے، حماس کے اقدامات فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔کچھ بنیادی اقدار ہیں جن کا ہمیں بطور امریکی مل جل کر رہنا چاہیے اور ان بنیادی اقدار میں نفرت، نسل پرستی، تعصب اور تشدد کے خلاف کھڑا ہونا شامل ہے، نفرت کی کارروائیاں ہماری بنیادی اقدار کے خلاف ہیں اور امریکہ میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    سلامتی کونسل میں فسلطین،اسرائیل جنگ بندی کی قرارداد مسترد
    اسرائیل کی غزہ پر بمباری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لئے روس نے قرار داد پیش کی تھی جو چار ووٹوں سے مسترد کر دی گئی ہے،روس کو 15 رکنی باڈی میں نو ووٹ نہیں ملے، قرارداد کے حق میں چین، روس، متحدہ عرب امارات، میوزمبیق،گیبون نے ووٹ دیئے، قرارداد کی مخالفت میں امریکا، برطانیہ،فرانس ،جاپان نے ووٹ دیئے،روسی قرارداد پر چھ اراکین البانیہ، برازیل،گھانا، سوئٹزرلینڈ، مالٹا،ایکواڈو نے ووٹ ہی نہیں دیئے.