Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    فلسطینی صحافی مطیع مصابع نے پروگرام کھرا سچ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ابھی بھی فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں جس میں وہ عام عوام کے گھروں کو نشانہ بنا رہے اور سول بلڈنگ پر ببمباری کررہے ہیں انہوں نے اینکرپرسن مبشرلقمان کو بتایا کہ کہ اسرائیل کی طرف یہ نسل کشی کئی سال سے جاری ہے اور اب وہ سیدھا سویلن آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو انٹرنیشل لاز کی بھی خلاف ورزی ہے.


    فلسطینی صحافی مطیع مصابع کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف یہ تمام تر حملے فلسطینیوں کی زمین پر ہورہے ہیں اور غزہ میں رہائشی آبادیوں پر ہمباری کی جارہی ہے، جبکہ حزب اللہ کے حوالے سے مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا واقعی ایسا ہے کہ حزب اللہ بھی حملے کررہا ہے اس پر فلسطینی صحافی نے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ حزب اللہ کی طرف کی کوئی حملے کیئے جارہے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بریکنگ؛ اسلام آباد؛ ریڈ زون میں وزارت خارجہ بلڈنگ میں آتشزدگی
    ورلڈکپ ؛ انڈیا چھوڑنے والی زینب نے وجہ بتادی
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    سینئر صحافی مبشر لقمان نے ایک سوال کیا کہ بین القوامی میڈیا یہ دعویٰ کررہا ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیل میں عام سویلین پر حملے کیئے گئے جس میں ایک ڈانس پارٹی کے دوران کئی لوگ مارے گئے اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بات کوئی معنی نہیں رکھتی اور ناہی یہ کوئی موازنہ ہے سوئے ہوئے فلسطینی بچوں اور خواتین کو مارا جائے اور یہ عالمی قوانین کے بھی خلاف ہے جبکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ ہے، کیونکہ جس ڈانس پارٹی کی بات کی جارہی ہے وہ عام سویلین نہیں تھے بلکہ اسرائیلی فوجی جوان تھے۔

  • اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد لڑائی چھٹے روز بھی جاری ہے، اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، غزہ میں 12 سو کے قریب اموات ہو چکی ہیں،اب اسرائیل نے غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کرلی ، 3لاکھ صہیونی فوجی ، ٹینک اور بھاری فوجی سازوسامان سرحد پر پہنچادیا گیا، اسرائیل کی جانب سے کلسٹر بموں، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے،غزہ کی مکمل ناکہ بندی کی گئی ہے،ایندھن کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہےبجلی کی پیداوار کا واحد پلانٹ بند ہو گیا ہے،اقوام متحدہ کے 11 ارکان، ہلال احمر اور ریڈ کراس کے 5 رضا کار بھی حملوں میں مارے گئے ہیں

    الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق غزہ کے حوالہ سے وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہیدوں کی تعداد 1200 ہو گئی ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں،بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،کل ایک دن میں 75 ہزار کے قریب افراد بے گھر ہوئے،

    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل جنگی قوانین کا احترام کرے،امریکا میں یہودی امریکیوں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل غصے کے باوجود جنگی قوانین کا احترام کرے، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے ایران کو بھی پیغام دیا کہ وہ خود کو اس جنگ سے دور رکھے

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، غزہ میں خوراک،پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے،بجلی بھی بندہو چکی ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر فاسفورس بم بھی برسائے ہیں،دوسری جانب اسرائیل کے ڈیمانا میں نیوکلیائی پلانٹ کے پاس فائرنگ کی بھی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر اسرائیلی نیو کلیئر پلانٹ کے قریب حملہ لبنان کی جانب سے کیا گیا ہے،اگر اس پلانٹ پر حماس یا حزب اللہ کا قبضہ ہو جاتا ہے تو یہ دنیا کے لئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے، اسرائیل کی جانب سے نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے حوالہ سے مکمل خاموشی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز متحرک ہوئیں،فائرنگ کس نے کی ابھی تک سامنے نہیں آ سکا،

    دوسری جانب بھارت نے اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان کیا ہے، بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے آپریشن شروع کر رہے ہیں، جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں انکے لئے اسپیشل چارٹر فلائٹ کا انتظام کر رہے ہیں،ہم بھارتی شہریوں کی حفاظت کریں گے، بھارتی شہری رجسٹریشن کروائیں، اسکے بعد سب کو واپس لایا جائے گا، ممبئی میں اسرائیل کے قونصلٹ کے مطابق اسرائیل میں 20 ہزار کے قریب بھارتی شہری رہ رہے ہیں

    دوسری جانب اے ایف پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے حماس کے ساتھ یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کے لئے بات چیت شروع کر دی ہے تا ہم ابھی تک مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،حماس نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے،ترک صدر نے علاقائی رہنماؤں کے ساتھ بھی فون پر بات چیت کی،ترکی دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اورحماس کے ارکان کی میزبانی کرتا ہے

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تسلیم کر لیا ہے کہ حماس کے حملے کی اطلاعات تھیں لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حملہ اتنی شدت سے ہو گا، خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کو حملے کے بارے میں کچھ روز قبل اطلاع ملی تھی لیکن اسرائیل نے اسے نظر انداز کیا تھا،اسرائیل نے ملنے والی اطلاع کو اہمیت نہیں دی تھی،ترجمان اسرائیلی فوج ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے حماس کے اسرائیل پرحملے کے خفیہ اشارے مل گئے تھے مگر اتنے بڑے حملے کی تیاری ہو رہی ہے اس کی خبر نہ ہو سکی،

  • برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    لندن: برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی –

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کی سڑکوں پر فلسطین کے جھنڈے کو لہرانا جرم کے زمرے میں شامل کر لیا گیا اور برطانوی وزیر داخلہ نے فلسطینی پرچم لہرانے کو دہشت گردوں کی حمایت قرار دے دیا،برطانوی وزارت داخلہ نے اسرائیل کے خلاف مظاہروں کے پیش نظر مختلف اقدامات کر لیے اور پولیس کو اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو زبردستی روکنے کا حکم دے دیا گیا اس حوالے سے برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے پولیس چیف کو خط لکھ دیا۔

    گزشتہ روز شیفلڈ ٹاؤن ہال کی عمارت پر اسرائیلی جھنڈا اتار کر فلسطینی جھنڈا لہرانے کا برطانوی حکومت نے سخت نوٹس لیا اور پولیس نے اسرائیلی پرچم اتارنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے کہا کہ حماس کے حق میں نعرے لگانے والوں پر پابندی پر غور کر رہے ہیں جب کہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعروں کو بھی جرم تصور کرنے کی تجویز ہے۔

    حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    کینیڈین حکومت نئی دہلی کے ساتھ کشیدہ سفارتی صورتحال کو حل کرنے کی کوششیں کر …

    حیدرآباد،دکن:بابر اعظم نے گراؤنڈ سٹاف کو اپنی شرٹ تحفے میں دیدی

    واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے 2021 میں حماس کو دہشت گرد گروپ تسلیم کر کے کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم اب فلسطینی پرچم لہرانے کو بھی حماس کی حمایت کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اسرائیلی و فلسطینی بچو ں کیلئے ملالہ کا جنگ بندی کا مطالبہ

    اسرائیلی و فلسطینی بچو ں کیلئے ملالہ کا جنگ بندی کا مطالبہ

    حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے اور اسرائیل کے جواب کو آج پانچواں دن ہے، نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ نے آج خاموشی توڑی ہے، پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل پر حملے کے بعد ملالہ اب کیوں خاموش ہے اور وہ کس کا ساتھ دے گی؟ اسرائیل کا یا فلسطینیوں کا ، تا ہم اب ملالہ نے پانچویں دن ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے مابین فوری جنگ بندی ہونی چاہئے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ جیسا کہ میں نے حالیہ دنوں میں دل دہلا دینے والی خبریں دیکھی ہیں اس دوران میرا دھیان فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کی طرف ہے جو جنگ کی صورتحال میں شدید متاثر ہوئے ہیں میں صرف 11 برس کی تھی جب میں نے اپنے ارد گرد دہشتگردی اور تشدد جیسا ماحول دیکھا صبح سویرے ہم مارٹر گولوں کی آوازوں سے بیدار ہوتے تھے اپنے اسکولوں اور مساجد کو بموں سے تباہ ہوتے دیکھا امن ایک ایسی چیز بن گئی جس کا ہم صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے جنگ ہمیشہ بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ اسرائیل کے گھروں سے اٹھائے گئے بچے ہوں یا غزہ میں فضائی حملوں کے ڈر سے چھپے ہوئے یا خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے بچے ہوں آج میں ان تمام بچوں اور لوگوں کے لیے غمزدہ ہوں جو مقدس سرزمین میں امن اور انصاف کے خواہاں ہیں

    واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی کا آج پانچواں دن ہے، پانچ دنوں میں دونوں اطراف سے اموات ہوئی ہیں، اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں بے گھر افراد کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہو گئی ہے،غزہ پر اسرائیل کی جانب سے ہوائی، زمینی اور سمندری حملےکئے جا رہے ہیں، حملوں کی وجہ سے فلسطینی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

  • حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی کا آج پانچواں دن ہے، پانچ دنوں میں دونوں اطراف سے اموات ہوئی ہیں، اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں بے گھر افراد کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہو گئی ہے،غزہ پر اسرائیل کی جانب سے ہوائی، زمینی اور سمندری حملےکئے جا رہے ہیں، حملوں کی وجہ سے فلسطینی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا

    اسرائیلی فوج نے گزشتہ شب غزہ میں 200 مقامات کو نشانہ بنایا ہے،امریکی اسلحے سے بھرا طیارہ بھی اسرائیل پہنچ چکا ہے،اسرائیل نے تین لاکھ فوجی غزہ کی سرحد کے قریب پہنچا دیئے ہیں،اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ حماس کو اب تبدیلی ملے گی،غزہ پر فضائی حملے کے بعد زمینی کارروائی بھی کریں گے، اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلانٹ کا کہنا تھا کہ میں نے غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد پر اپنی فوج سے کہا ہے کہ میں نے تمام پابندیاں ختم کر دی ہیں ہم نے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اب ہم مکمل حملے کی طرف بڑھ رہے ہیں، حماس غزہ میں تبدیلی چاہتی تھی اور وہ جو چاہتی تھی اب اسے اس سے 180 ڈگری پر رجوع کرنا پڑے گا،

    حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے 14 اسرائیلی فوجیوں کی شناخت ظاہر کی گئی ہے، جبکہ ہلاک فوجیوں کی کل تعداد 170 ہو گئی ہے، حماس کے حملوں میں 12 سو کے قریب اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں،

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی ناکام ہو چکی، فلسطینیوں کی ضروریات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، واشنگٹن نے امن کی کوششوں پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ عملی سمجھوتہ کرانے میں ناکام ہو گیا ہے، امریکہ نے فلسطینیوں کے مفادات کو نظر انداز کیا ہے۔

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    اسرائیل پر حماس کے حملے میں ایران کا ہاتھ ؟امریکی انٹیلی جنس کو شواہد کی تلاش
    امریکی انٹیلی جنس ایسے شواہد تلاش کر رہی ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے میں ایران کا ہاتھ کہیں سےمل جائے، امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے شواہد تلاش شروع کرنا شروع کر دیے ہیں کہ آیا اس حملے میں ایران کا براہ راست کردار تھا؟ ، اگرچہ امریکہ کا خیال ہے کہ ایران اس حملے میں "مشغول” ہے، قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے پاس ابھی تک براہ راست ثبوت نہیں ہیں کہ اس حملے میں تہران کا تعلق ہے،سلیوان نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ "ہم مزید انٹیلی جنس حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔

    لیکن سی این این نے وضاحت کی کہ خفیہ معلومات تک رسائی رکھنے والے کئی انٹیلی جنس، فوجی اور کانگریسی عہدیداروں نے نیٹ ورک کو وہی بات بتائی جو سلیوان نے عوامی طور پر کہی، جس کا مطلب یہ ہے کہ براہ راست ایرانی ملوث ہونے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس سابقہ ​​شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔اسکا کہنا تھا کہ "مجھے شک ہے کہ ایران کو بالکل بھی علم نہیں تھا، ہم نے ملاقاتیں دیکھیں اور ان کے درمیان قریبی ہم آہنگی دیکھی۔”، کئی سالوں سے، ایران حماس کا اہم عطیہ دہندہ تھا، جو اسے دسیوں ملین ڈالر، ہتھیار اور غزہ میں سمگل کیے گئے اجزاء فراہم کرتا تھا، تہران نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا، حالانکہ اس نے عوامی سطح پر اس کی تعریف کی ہے.

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فلسطین اور غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حالیہ وحشیانہ حملے کی شدید مذمت
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سیکڑوں بے گناہ شہری جانوں کے ضیاع اور لاتعداد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل کا غزہ پر مکمل محاصرے کا اعلان غیر انسانی اور ناقابل قبول ہے، اس سنگین بحران کے تناظر میں مسلم دنیا کی بے چین خاموشی پر گہری تشویش ہے، عالمی برادری اور مسلم ممالک فلسطینی ریاست اور اس کے عوام کی حمایت میں کھل کر سامنے آئیں،مسجد اقصیٰ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں قبلہ اول کی حیثیت سے گہری اہمیت رکھتی ہے، غزہ (فلسطین) کا مسئلہ اقوام متحدہ کی طرف سے منظور کی گئی دیرینہ قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے ، عالمی برادری معصوم جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے،

    بھارتی ٹی وی اداکارہ مدھرا نائیک کی کزن اور بہنوئی کی اسرائیل میں حماس کے حملے میں موت
    بھارتی ٹی وی اداکارہ مدھرا نائیک کی کزن اور بہنوئی کی اسرائیل میں حماس کے حملے میں موت ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر مدھرا نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کزن اور بہنوئی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، بھارتی نژاد یہودی اداکارہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں مقیم ان کی کزن اور ان کے شوہر ہلاک ہوگئے ہیں اس وقت ہماری فیملی جس درد کا سامنا کررہی ہے، اسے لفظوں میں بیان نہیں کہیں جاسکتا.

    متحدہ عرب امارات کی طرف سے فلسطینی عوام کیلیے 20 ملین ڈالر کی فوری امداد کا اعلان
    متحدہ عرب امارات نے فلسطینیوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر کی امداد بھجوانے کا اعلان کیا ہے ،اماراتی خبر ایجنسی کے مطابق اماراتی صدر محمد بن زاید نے فلسطینیوں کے لیے 20 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا حکم دیا،فلسطینیوں کے لیے اماراتی امداد اقوام متحدہ امدادی ایجنسیوں کے ذریعے بھجوائی جائے گی

    اسرائیل نے حماس کے غزہ پر حملے کا جواب دینے میں اتنی دیر کیوں لگائی؟
    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جنگ چھڑی، 12 سو اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں،ا سرائیل نے غزہ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، تا ہم کچھ لوگ حیران ہیں کہ اسرائیل کی دفاعی افواج ان کئی گھنٹوں کے دوران کہاں تھیں جب حماس کے عسکریت پسند قریبی دیہاتوں میں اپنی مرضی سے گھوم رہے تھے۔ایک اسرائیلی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "فوج فوری ردعمل دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی،

    ایسا کیوں ہوا اس کی مکمل وجہ سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج میں کچھ ایسے لوگ تھے جو حماس کے مجاہدین کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں تھے،اسرائیلی انٹیلی جنس حماس کے حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں جاننے سے قاصر تھی۔حماس کی جانب سے ہزاروں راکٹ داغے گئے۔ اسرائیل سرحدی باڑ کے ساتھ واقعات پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی کے آلات پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔ اس کے بعد حفاظتی باڑ کو بھاری دھماکہ خیز مواد اور گاڑیوں کے ذریعے 80 مرتبہ تک توڑا گیا۔موٹر سائیکلوں اور ہینگ گلائیڈرز کے علاوہ، 800 سے 1000 کے درمیان مسلح افراد غزہ سے نکل کر کئی اہداف پر حملہ آور ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہجوم کی حکمت عملی اسرائیل کے دفاع کو مکمل طور پر زیر کرنے میں کامیاب رہی ہے،

    اسرائیل کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، جو پہلے ہی ہفتہ کی صبح خاموش تھے اس دن انکی چھٹی تھی،جبکہ حماس کے کچھ جنگجوؤں نے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، دوسروں نے شہری بستیوں کو نشانہ بنایا۔ حماس کے ہاتھوں میں اسرائیلی ٹینکوں کی تصویریں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے،حالیہ مہینوں میں اسرائیلی سیکورٹی اور دفاعی افواج غزہ کے مقابلے مغربی کنارے پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی تھیں، جس کی وجہ سے دفاع میں کمزوریاں پیدا ہو سکتی تھیں۔

    کوئی باضمیر انسان غزہ پر ہونے والی بمباری پر سو نہیں سکتا ، علامہ راجہ ناصر عباس
    سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار روز سے غزہ پر بمباری ہورہی ہے، غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، امریکی صدر نے حماس بارے جھوٹ بولا ہے ، سابق امریکی صدر نے عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی بارے جھوٹ بولا، موجودہ امریکی صدر نے حماس کو داعش سے تشبیہ دی ، امریکی وزیر خارجہ کہہ چکی ہے کہ داعش امریکہ نے بنائی ،داعش سے تشبیہ دینی ہے تو اسرائیل سے دی جائے ، اسرائیل سارے کا سارا فوجی کالونی ہے ،اسرائیل کو قائد اعظم نے ناجائز ریاست قرار دیا ہے ، اگر آج کوئی اسرائیل کو جائز ریاست کہے گا تو وہ قائد اعظم کو غلط قرار دے گا ،اسرائیل کی طرف سے غزہ کو مٹانے کی سرپرستی امریکہ کررہا ہے ، حماس نے عالم اسلام پر احساس کیا ہے کہ گریٹر اسرائیل منصوبہ ناکام بنادیا ، کوئی باضمیر انسان غزہ پر ہونے والی بمباری پر سو نہیں سکتا ،فلسطین کی وجہ سے ہمارا مسئلہ کشمیر زندہ ہے ، اگر کچھ حصہ اسرائیل کو دے دینا جائز ہے تو پھر مقبوضہ کشمیر بھی بھارت کو دینا پڑے گا ،جو بھی پاکستانی حکمران دوریاستی حل کی حمایت کرتا ہے وہ کشمیر کی تقسیم کی بات کرتا ہے ،اگر آج فلسطین تقسیم ہوگا تو کل کشمیر تقسیم ہوگا،

    فرانسیسی حکومت نے بدھ کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان ہفتے کے روز سے جاری تنازعہ میں اضافے سے بچنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ دیرپا امن کے حصول کے لیے تنازع کا سیاسی حل ہونا چاہئے،فرانس کے حکومتی ترجمان اولیور ویران کا کہنا ہے کہ”مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے بچنے، شہریوں کی حفاظت، اور صورتحال کو مزید خراب کرنے سے بچنے کے لیے سب کچھ کیا جانا چاہیے،

    خبررساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ابھی تک اپنی طاقت کا نصف بھی استعمال نہیں کیا،حماس کےجنگجو جو غزہ کی پٹی کے اردگرد کی بستیوں تک گئے اور حملے کئے، انہو ں نے اپنی نصف فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے، حماس کے مجاہدین کے پاس آر پی جی گولے، چھوٹے خودکش طیارے، مختلف دھماکہ خیز آلات، کورنیٹ اینٹی میزائل ، پی کے سی مشین گنز اور ہزاروں گولیاں موجود ہیں،اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے بستیوں میں کئی دن تک رہنے، اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنانے اور ہلکا کھانا ساتھ رکھنے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں وہ کامیاب ہوئے،

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی آبادیوں پر فاسفورس بموں کا بھی استعمال کیا ہے، شہری آبادی میں گھر تباہ ہو چکے ہیں، اسرائیلی طیاروں نے کراما محلے کے ساتھ ساتھ خان یونس کے القیزان محلے، تل الحوا محلے، دراج محلے، اور دیگر محلوں پر سینکڑوں ٹن بارودی مواد کے ساتھ بمباری کی۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق شہداء کی تعداد 1,055 ہو گئی، اور 5,148 زخمی ہوئے۔وزارت صحت کے مطابق شہداء میں 260 بچے اور 230 خواتین شامل ہیں جب کہ جاں بحق ہونے والوں میں 10 فیصد بچے تھے۔اسرائیلی حملوں میں 8 صحافی شہید اور 20 زخمی ہوئے ہیں.

    جےیوآئی نے فلسطینیوں کے حق میں سینٹ میں قرار داد جمع کروادی
    حماس کا اسرائیل پر حملہ، جےیوآئی نے فلسطینیوں کے حق میں سینٹ میں قرار داد جمع کروادی ،قرار داد جےیوآئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے سینٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروائی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مجاہدین حماس نے اسرائیل سے اپنے غاصبانہ کو چھڑانے کیلئے تاریخی حملہ کیا ہے۔حکومت پاکستان بغیر کسی ابہام کے فلسطینی عوام کی حمایت میں کھڑی ہوں۔ اقوام متحدہ کی 1967 کے قرار دادوں پر عملدآمد کیلئے زور دیا جائے۔او آئی سی کا فوری اجلاس بلاکر اسرائیلی جارحیت کو دنیاء کی سامنے لایا جائے۔فلسطین کو تسلیم کئیے بغیر مشرق وسطیٰ میں قیام امن ناممکن ہے۔

    فلسطین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے علاقوں پر ممنوعہ فاسفورس بم استعمال کیے جا رہے ہیں،فلسطینی وزارت خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی گئی اور کہا گیا کہ قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے شمالی غزہ کے علاقے الکرامہ میں بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ فاسفورس بم کا استعمال کیا گیا ہے،ممنوعہ وائٹ فاسفورس سے زمین پر وسیع علاقے میں آگ بھڑک اٹھتی ہے انسانی جسم کے پٹھوں اور ہڈیوں تک کو جلادیتا ہے

  • حماس کو ایران کی سپورٹ، مغربی میڈیا کے الزام میں کتنی سچائی؟

    حماس کو ایران کی سپورٹ، مغربی میڈیا کے الزام میں کتنی سچائی؟

    نائب سربراہ فلسطینی مشن نادر الترک نے پروگرام کھرا سچ میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دراصل میں غزہ میں ہیومن کرائسز پیدا کرنے کوشش میں ہے کیونکہ میڈیسن، فوڈ اور بجلی سپلائی منقطع کرنے کا اعلان کرچکا ہے اور امداد میں رکواٹیں پیدا کررہا ہے، جبکہ گیس بجلی سمیت خوراک کی سپلائی تو اب بند کردی گئی ہے اور تین دن سے مسلسل فلسطینی کافی مشکل میں ہیں اس جنگ کے دوران کیونکہ خوراک کی کمی ہے حالات کشیدہ ہیں.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک کئی ہزار سے زائد لوگ زخمی ہیں جنہیں ادویات فراہم کرنے ضرورت ہے مگر اسرائیل نے میڈیسن تک بلاک کی ہوئی ہے، اور زیانسٹ لیڈر شپ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے ایسا اقدام انسانیت کیخلاف ایک جرم ہےجب کہ اب تک جو اسرائیل کے لوگ مارے جاچکے ہیں اور کئی زخمی ہیں، اس میں ان کی سیکورٹی سسٹم کی مکمل ناکامی ہے.

    نائب سربراہ فلسطینی مشن نادر الترک نے بتایا کہ اسرائیل دراصل جنگ کی مارکیٹنگ کررہا ہے ، جبکہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کئی سال سے فلسطینیوں پر حملے کرتا چلا آرہا ہے جبکہ خود پر آزادی کے متوالوں کی طرف سے کیئے گئے حملے کو کہتا کہ خواتین اور بچے مارے جبکہ اب تک فلسطین میں کئی خواتین کو جیل میں ڈال دیا کئی شہید ہوگئے جن میں بچے اور خواتین تھیں کیا وہ دہشگردی نہیں ہے.

    اسٹینڈرڈ چارٹرڈاور کراچی یونائٹیڈ کے تحت یوتھ فٹ بال لیگ، چھٹے ایڈیشن کا آغاز
    کوئلے کی کان میں دھماکہ؛ 11 مزدور زخمی
    ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان
    شیخ رشید کی بازیابی کیلئے مزید آٹھ دن کا وقت مل گیا
    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
    کیا پاکستان ورلڈکپ میں نئی تاریخ رقم کر پائے گا؟
    ورلڈکپ: پاکستان کو جیت کیلئے345 رنز کا ہدف
    انہوں نے کہا کہ ایران کی حماس کو حمایت بارے خبریں بالکل فیک ہیں اور یہ بین الاقوامی میڈیا کا دوغلا پن ہے اور میں پروپیگنڈہ پر یقین نہیں کرتا جو فریڈم فائیٹرز کیخلاف کیا جاتا ہے یہ انتہائی غلط حرکت ہے کیونکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے.

  • 100 افراد ہلاک؛ اسرائیلیوں کو بم پناہ گاہوں میں دن گزارنے کی  ہدایت

    100 افراد ہلاک؛ اسرائیلیوں کو بم پناہ گاہوں میں دن گزارنے کی ہدایت

    حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر کسی بھی نئے بم دھماکے کے جواب میں ایک اسرائیلی یرغمالی کو پھانسی دے گی جو بغیر کسی پیشگی انتباہ کے سامنے آئے گا- اس گروپ کے ایک سینئر رہنما نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ یرغمالیوں کے ساتھ "انسانی سلوک” کیا جائے گا۔ حماس کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت جاری کیا گیا تھا جب جنوبی اسرائیل کی ایک کمیونٹی بیری سے کم از کم 100 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

    جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے آج شام ایک بیان میں کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والی دراندازی پر ان کے ملک کا ردعمل "ابھی شروع ہوا ہے”، انہوں نے مزید کہا: "آنے والے دنوں میں ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ جو کریں گے وہ نسلوں تک ان کے ساتھ گونجتا رہے گا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے اندر ایک ہزار اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے اعلان کے بعد انہوں نے اس سے پہلے کے انتباہ کو دہرایا تھا کہ حماس کہیں بھی موجود ہے اسے ‘ملبے’ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بنائیں گے . میر علی مردان خان ڈومکی
    نگراں وزیراطلاعات سے روسی سفیر کی ملاقات؛ معیشت، تعلیم، ثقافت زیر بحث
    اسرائیل سے بھاگنے والوں کا ائیرپورٹ پر رش
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ متعدد فلسطینی مسلح افراد اب بھی ملک کے اندر موجود ہیں اور انہوں نے ان پر ہتھکڑیاں لگائے گئے بچوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا۔ لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج نے اسرائیلیوں سے کہا ہے کہ وہ بم وں کی پناہ گاہوں اور محفوظ کمروں میں تین دن کے قیام کے لیے تیار رہیں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کم ہونے کی صورت میں وہ خوراک، پانی اور بیٹری سے چلنے والے آلات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔


    دریں اثنا، اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا "مکمل محاصرہ” کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جو حماس کے زیر انتظام فلسطینی علاقہ ہے، جس سے اس کے پاس کھانا، بجلی یا ایندھن نہیں ہے۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے محاصرے کے فیصلے پر ‘شدید پریشان’ ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان دو روز سے جاری تشدد میں اب تک کم از کم 900 اسرائیلی اور 687 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • حماس حملے؛ ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 800 سے بھی تجاوز  کرگئی

    حماس حملے؛ ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 800 سے بھی تجاوز کرگئی

    حماس کے مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوج کی جھڑپیں تیسرے دن بھی جاری ہیں، اسرائیل پر حماس کے حملوں میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 800 سے تجاوز کرچکی ہے ، جبکہ حماس کے حملوں میں 800 سے زائد اسرائیلیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق 2200 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں سے 343 شدید زخمی ہیں اور 22 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے

    تاہم دوسری جانب اسرائیل میں تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں نے خوراک ذخیرہ کرنا شروع کردی اور میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج آئرن ڈوم سسٹم سے لیس کچھ یونٹوں کو گولہ بارود فراہم نہیں کر رہی، اسرائیلی فوج کے پاس گائیڈڈ اینٹی ائیر کرافٹ میزائل محدود تعداد میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ سے قریب ایشکلون، اشدد اور سدیرات شہروں پر اسی وجہ سے راکٹ حملے روکنے میں ناکام رہی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    چین نے ڈالر کے استعمال کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا
    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی
    جبکہ میڈیا رپورٹ کے مطابق 130اسرائیلی فوجی اور شہری غزہ میں قید ہیں، تاہم حماس کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں چار اسرائیلی مغوی بھی ہلاک ہوگئے، آج بھی غزہ سے اسرائیلی شہر ایشکلون پر تقریباً 100 راکٹ داغےگئے جن میں سے کچھ نے ہدف کو نشانہ بنایا، اسرائیلی فوجی ترجمان نے اعتراف کیا ہےکہ حالات کنٹرول کرنے میں توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے، حماس کا حملہ امریکا میں میں ہونے والے نائن الیون کے حملے جیسا تھا۔


    میڈیا ٹوڈے کے مطابق جو اسرائیل کل تک فلسطینیوں کو گھر میں گھس کر مارنے کیلئے مشہور تھا آج حماس کے حملوں سے اس کی ہوا نکل گئی اور کئی فوجیوں کو بھی یرغمال بنالیا گیا ہے جبکہ اسرائیلی شہری اب اسرائیل چھوڑنے پر مجبور ہیں‌ائیرپورٹ پر تش لگا ہوا ہے، حالانکہ اس سے قبل اسرائیل فلسطینی انسانوں کے خون کی ہولی کھیل رہا تھا مگر اب الاقصیٰ آپریشن کے بعد دنیا سے مدد کی بھیگ مانگ رہا ہے.

    واضح رہے کہ حماس نے اسرائیل پر تقریبا 500 ہزار میزائیل مارے ہیں، جس کے باعث اسرائیل میں خوف کی لہر ہے اور اب نیتن یاہو کہہ رہا ہے کہ ہماری مدد کی جائے کیونکہ ہم پر حملہ کردیا گیا ہے، جبکہ ان حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے بھی جواب میں غزہ پر حملے کرنا شروع کردیئے ہیں، فلسطین لڑاکوں نے ایسی کاروائی کی موساد کا بھی سر شرم سے ڈوب گیا ہے.

    میڈیا ٹوڈے مطابق ایسا پہلے کبھی بھی نہیں ہوا ہے جبکہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں لگائی گئی باڑ کو بھی اکھاڑ پھینکا گیا ہے، فلسطینی لڑاکوں نے پیرا گلائیڈرز کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے، جبکہ 70 سال سے جو دنیا فلسطین کے ظلم کو نظر انداز کررہی تھی آج انہیں اسرائیل کا درد سنائے دے رہا ہے، اب انہیں یہ سب دہشتگردی لگ رہا ہے .

    میڈیا ٹوڈے نے بتایا کہ اسرائیل نے دھمکی دی کہ اسکی بڑی قیمت چکانی پڑے گی لیکن وہ قیمت اس سے بڑی کیا ہوگی جو اسرائیل 70 سال سے فلسطین پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور ان کے پیدا ہونے والے بچوں کو بڑا ہونے سے پہلے ہی مار دیتا اور کئی گھر تباہ کردیئے جبکہ انہیں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور سمیت در بدر ہونے پر مجبور کردیا اس سے بڑی قربانی کیا ہوگی. لہذا اب لگتا کہ وہ قیمت اسرائیل کے چکانے کا وقت آگیا ہے.

    خیال رہے کہ قطرکی ثالثی میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات جاری ہیں اور کہا جارہا ہے اسرائیلی بچوں اور خواتین کے بدلے فلسطینی بچے او ر خواتین چھڑوانے کیلئے مزاکرات جاری ہیں،

  • اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    اسرائیل میں ہلاکتیں 700،دس نیپالی طلبا بھی ہلاک،ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں

    ہفتے کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد سے لڑائی اب تک جاری ہے، اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کی ہے، حماس کے حملوں میں 700 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں تو وہیں اسرائیلی حملوں میں 450 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں

    اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، اسرائیلی فوج نے 20 مقامات پر ٹینک اور بھاری توپ خانہ غزہ کے قریب پہنچا دیا ہے، اسرائیلی فوج جب غزہ کے قریب پہنچی تو اسرائیلی شہریوں نے اپنے پرچم اٹھا کر اسرائیلی فوج کا استقبال کیا،

    حماس کے حملے میں نو امریکی شہری بھی مارے گئے ہیں،نو امریکی شہریوں کی موت کی امریکہ نے تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کئی امریکی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملرکاکہنا تھا کہ تین دن بعد آج ہم نو امریکی شہریوں کے قتل کی تصدیق کر سکتے ہیں

    خواتین اور بچوں کی رہائی،قطر میدان میں آ گیا،حماس سے رابطہ
    اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے قطر میدان میں آ گیا، قطری ثالثوں نے حماس سے رابطہ کیا ہے تا کہ حماس کے ہاتھوں غزہ میں قید اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے بات چیت کی جا سکے۔رائٹر نے دعوی کیا ہے کہ حماس سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیل میں قید 36 فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لئے بات چیت کی جائے گی،

    قطر کی وزارت خارجہ نے رائٹرز کو تصدیق کی ہے کہ وہ حماس اور اسرائیل کے ساتھ ثالثی کے طور پر کام کر رہے ہیں،ہم مذاکرات کر رہے ہیں جس میں قیدیوں کی رہائی شامل ہے، ہماری ترجحات خونریذی کا خاتمہ بھی ہے، قطری وذارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی.

    ہلال احمر کی ایمبولینس گاڑیاں بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ
    اسرائیل کی جانب سے ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہےہلال احمر سوسائٹی کی تین ایمبولینس گاڑیاں اسرائیلی حملے کی زد میں آئی ہیں، ہلال احمر کے ترجمان بشار مراد کا کہنا ہے کہ ایمبولینسوں میں سوار عملے کی بھی موت ہوئی ہے،اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد کو پناہ گاہوں کی ضرورت ہے جو بے گھر ہو چکے ہیں، ہسپتال بھر چکے ہیں،زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ایک ہسپتال میں زخمی کو لے کر جاتے ہیں تو وہاں جگہ نہیں ہوتی اسلئے پھر دوسرے کی جانب جانا پڑتا ہے، اسرائیل روزانہ بیس گھنٹے سے زائد عرصے کے لیے بجلی کاٹتا ہے، "جو زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ بنتا ہے،

    حماس کے حملے میں ہزاروں اسرائیلی زخمی بھی ہو ئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ حماس کو اس کی اتنی بھاری قیمت چکانی پڑ گی جس کا اس نے سوچا بھی نہیں ہو گا،امریکہ نے اسرائیل کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کاروائی ہے،

    حماس کے حملے میں دس نیپالی طلبا بھی ہلاک
    میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں‌کو یرغمال بھی بنایا ہے، حماس کے مجاہدین گھروں میں گھسے اور اسرائیلیوں پر حملے کئے، یہ ایسا پہلی بار ہوا کہ حماس نے اتنی طاقت سے حملہ کیا ،کہ اسرائیل سمیت کسی کو بھی حملے سے قبل خبر تک نہ ہوئی،حماس نے اسلامی ممالک اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جنگ میں انکا ساتھ دیں،حماس کے اس حملے میں نیپال کے 10 طلبا بھی ہلاک ہوئے ہیں،یوکرین کی ایک خاتون کی بھی موت ہوئی ہے،

    میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی مدد کے بغیر حماس حملہ نہیں کر سکتا ،تا ہم ایران نے تردید کی، اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس حوالہ سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطین کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہیں تاہم ہم فلسطین کے اقدام میں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ صرف فلسطین کا فیصلہ ہے،

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کاروائی کے بعد غزہ میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، غزہ میں اب تک ایک لاکھ 23 ہزار 538 افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ خوف، عدم تحفظ اور گھروں کا تباہ ہونا ہے، اسرائیلی فوج نے بے گھر افراد جہاں مقیم تھے وہان بھی بمباری کی،کئی سکول تباہ ہو چکے ہیں، سکولوں میں بے گھر افراد نے پناہ لی ہوئی تھی ، اب انہیں کھلے آسمان تلے رہنا پڑ رہا ہے،

    ڈانس پارٹی کے مقام سے ملی 260 لاشیں
    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج اور حماس کے مابین چھ مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں،ڈانس پارٹی میں جانے والے بھی حماس کے حملوں کا نشانہ بن گئے ہیں، ڈانس پارٹی پر حماس کے حملے کے وقت موجود ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ میں نے ہر طرف سے گولیوں کی آواز سنی، وہ دونوں طرف سے فائرنگ کر رہے تھے، سب بھاگ رہے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ جان بچا کر کہاں جائیں، ہر طرف افراتفری تھی،ہم ایک کار میں سوار ہو کر فرار ہوئے، کئی گھنٹے ایک ہی جگہ پر چھپے رہے،کار میں آگ لگی تو پیدل بھاگنا پڑا، اس ڈانس پارٹی کے مقام سے 260 لاشیں ملی ہیں،

    اتوار کی شب اسرائیلی وزارت صحت نے حماس کے حملوں میں ہونے والے زخمیوں کے بارے میں اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ کم ازکم 2243 افراد زخمی ہیں،

    اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟
    ایک بات حیران کن اور ابھی تک کسی کو بھی نہیں سمجھ آ رہی کہ اسرائیل کا دفاعی نظام اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟ اسرائیل کو اس حملے کی خبر کیوں نہ ہو سکی، اسرائیلی دفاعی نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں ، بی بی سی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں یہ نظام ریڈار کی مدد سے اس کی جانب داغے گئے راکٹس کو ٹریک کرتا ہے اور ان کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹ کرنے والے میزائل داغتا ہے۔آئرن ڈوم کی بنیاد سنہ 2006 میں اسرائیل اور جنوبی لبنان میں موجود حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے وقت رکھی گئی تھی حزب اللہ نے ہزاروں راکٹ داغے تھے جس سے اسرائیل میں کافی مالی نقصان ہوا اور درجنوں اسرائیلی بھی مارے گئے ایک سال بعد اسرائیل کی ریاستی دفاعی کمپنی رفائل ایڈوانس سسٹمز نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نیا میزائل شکن دفاعی ڈھال کا نظام تیار کریں گےاس پروجیکٹ کے لیے امریکہ نے 20 کروز ڈالر بھی دیے تھے کچھ برسوں کی تحقیق کے بعد یہ نظام سنہ 2011 میں پہلی مرتبہ جنگی حالات میں ٹیسٹ کیا گیا جب اس نے جنوبی شہر بیرشیبہ پر داغا گیا ایک راکٹ مار گرایا تھا

    اب سوال اٹھتا ہے کہ سال 2011 سے اسرائیل کی راکٹوں سے حفاظت کرنے والے آئرن ڈوم کے اب ناکام ہونے کا سبب کیا ہے؟ دراصل جدید نظام ہونے کے باوجود آئرن ڈوم کی کچھ کمزوریاں بھی ہیں آئرن ڈوم غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں کو 90 فیصد تک ناکام بنا دیتا ہے لیکن اگر بہت زیادہ تعداد میں راکٹ یا میزائل داغے جائیں تو یہ حفاظت میں ناکام بھی ہو سکتا ہے، اور اس بار اسی طرح ہوا، حماس نے حکمت عملی کے تحت ایک ساتھ ہزاروں میزائل داغے جس کی وجہ سے آئرن ڈوم فیل ہو گیا، یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ موساد کو اس حملے کی کوئی اطلاع کیوں نہ مل سکی؟

    موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی اور اس کے ارد گرد اسرائیلی بستیوں میں ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فورسز کو کسی بھی قسم کی کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی تھی،

    صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں،اسرائیلی میڈیا
    حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی وزیراعظم پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اپنے شہریوں کوبچانے میں اسرائیل بطور ریاست اوراسرائیلی فوج اور جاسوسی کے جدید ترین آلات رکھنے کے باوجود انٹیلی جنس بری طرح ناکام ہوئی تاہم لیڈر ذمہ داری لینے کے بجائے الزام فوج پر دھر رہے ہیں،اسرائیلی اخبار کے مطابق 1973 میں یوم کپور کے موقع پر 3 ہزاراسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں اور اس بار زیادہ تراموات شہریوں کی ہوئی ہیں جو شرمناک ہے،صورتحال کے تمام تر ذمہ دار وزیراعظم نیتن یاہو ہیں جنگ ختم ہونے کے بعد انہی کواس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے قید اسرائیلی فوجیوں کے حوالے سے آڈیو پیغام جاری کیا ہے،حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان نے پیغام میں کہا ہے کہ زیر حراست اسرائیلیوں کی تعداد اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہےاسرائیلی قیدیوں کو غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہےآپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا اسرائیلی علاقے میں داخلے اور میزائل حملے بھی سوچی سمجھی کارروائی کا حصہ تھے اس آپریشن کے بیشتر نکات ہماری منصوبہ بندی کے مطابق چل رہے ہیں

    اسرائیل سب حملوں کو بھول جائے گا، ایران
    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو اس پر چاروں اطراف سے اتنا شدید حملہ ہو گا کہ وہ سب حملوں کو بھول جائے گا،دی سپیکٹیٹر انڈکس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا جاتا ہے کہ اسرائیل پر لبنان، یمن اور عراق سے حملہ کیا جائے گا جبکہ شام سے مجاہدین بھیجے جائیں گے

    حماس کی جانب سے تین اسرائیلی شہروں میں راکٹ حملوں کے بعد صیہونی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آئی ہے، ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے میزائل اسٹاک میں کمی کی وجہ سے موثر جواب نہیں دیا جا سکا، اسرائیلی فوج آئرن ڈوم سسٹم سے لیس کچھ یونٹوں کو گولہ بارود فراہم نہیں کر رہی، اسرائیلی فوج کے پاس گائیڈڈ اینٹی ائیر کرافٹ میزائل بھی محدود تعداد میں ہیں، اسرائیلی فوج غزہ سے قریب اشکلون، اشدد، سدیرات شہروں پر حماس کے راکٹ حملوں کا جواب نہ دے سکی

    حماس کے حملوں کے بعد ابھی تک اسرائیل کی جوابی کاروائی جاری ہے، حماس کے حملے بھی جاری ہیں،ایسے میں سعودی عرب نے غزہ پٹی اوراردگرد کے علاقوں میں جارحیت اور پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، سعودی وزارت خارجہ نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے ،

  • اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل پرحملوں کی منصوبہ بندی اورتیاری کے لیے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کو ایران نے مدد فراہم کی۔

    باغیی ٹی وی: وال اسٹریٹ جنرل میں شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن طوفان االاقصیٰ کے تحت سرپرائزحملوں کی تیاری اور منصوبہ بندی کیلئے حماس کو ایران کی جانب سے مدد فراہم کی گئی تھی۔

    تاہم امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملےبلنکن کا کہنا ہے کہ مطابق حماس کا یہ حملہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے بڑھتے تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش ہوسکتا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے تو ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی لیکن یران کی حمایت یافتہ طاقتور مسلح جماعت حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے فلسطینی عوام کے ساتھ ”یکجہتی“ کے طور پر شیبا فارمز میں تین پوسٹوں پر گائیڈڈ راکٹ اور توپ خانوں سے حملہ کیا۔

    غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لی اپنا جنگی بیڑہ بھیجنے کا اعلان بھی کردیا ہےامریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ کو اسرائیل کے قریب لے جا رہا ہے، جس میں فورڈ کیریئر اور دیگر جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع کے مطابق جنگی بحری بیڑےاسرائیل کی مدد کے لیے روانہ کررہے ہیں، امریکا اسرائیل کو گولہ بارود بھی فراہم کرے گا۔ اسرائیل بھیجے جانے والے بحری بیڑے میں طیارہ بردار جہاز سمیت 5 تباہ کن بحری جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مدد کیلئے جنگی بحری بیڑے کو اسرائیل کی طرف روانہ کر رہے ہیں، امریکی ائیرفورس کے ایف 15، ایف 16، ایف 35 اور اے 10 لڑاکا طیارے بھی اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں، اسرائیل کو امریکی سکیورٹی امداد کی فراہمی آج سے شروع ہو جائے گی۔

    سائفرکیس : سماعت اڈیالہ جیل میں شروع،، چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ ہفتہ 7 اکتوبر کو فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کا مقصد 1967 میں ایک مختصر جنگ کے دوران اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔