Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    سول ایوی ایشن (سی اے اے) کی جانب سے کورونا کی نئی قسم کے پیش نظر نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سول ایوی ایشن نے نیا سفر ہدایت نامہ پاکستان آنے والی فلائٹس سے متعلق جاری کیا ہے سی اے اے نے جنوبی افریقہ سمیت افریقہ کے 6 ملکوں اور ہانگ کانگ میں سفری پابندی عائد کر دی۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کیٹگری سی میں شامل ممالک کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے۔ کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے جنوبی افریقہ سمیت 7 ممالک کو کیٹگری سی میں شامل کیا گیا ہے کیٹگری سی کی فہرست میں شامل ممالک میں جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، موزمبیق، لیسوتھو، بوٹسوانہ، نمیبیا، ایسواتینی ہیں۔

    بیرون ملک سے آئے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان پہنچنے پر مسافروں کا ایئرپورٹ پر ریپد انٹیجن ٹیسٹ ہو گا سی اے اے کے مطابق کورونا مثبت آنے پر مسافروں کو سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب ملک میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا کیس سامنے آنے پراسرائیل نے چودہ دن کے لیے غیر ملکیوں کی اپنے ملک میں آمد پر پابندی عائد کر دی ہے اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی وفاقی کابینہ کی جانب سے سرحدیں مکمل طور پر بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور پابندی کا اطلاق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سے ہوچکا ہے۔

    غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے ویکسینیٹڈ اسرائیلی شہریوں کو بھی تین دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا جبکہ وہ اسرائیلی شہری جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی انہیں سات دن کے لیے قرنطینہ مکمل کرنا ہوگا۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    اسرائیل نے 50 افریقی ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے ان ممالک سے سفر کر کے اسرائیل آنے والے اسرائیلی شہریوں کو حکومت کی طرف سے متعین کردہ ہوٹلوں میں لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا اور ٹیسٹس کروانے ہوں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے مزید افریقی ممالک کیلئے پروازیں روک دی ہی ۔سعودی وزارت داخلہ نے ملاوی،زیمبیا،مڈغاسکر اور انگولا کے لیے پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب نے سیشلز، ماریشس اور کوموروس جزائر کیلئے بھی پروازیں روک دی ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری پابندی عائد کر دی

    دوسری جانب امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے اعلان کیا یے کہ وہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے لیے ویکسین کے بوسٹر شاٹ تیار کرے گی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی نے کورونا کے نئے ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے تین آپشنز پر مشتمل حکمت عملی میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اومی کرون سے بچنے کے لیےموجودہ ویکسین کی زیادہ خوراک استعمال کی جائے۔

    موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیفن بینسل نے کورونا کی نئی قسم کو تشویشناک قرار دیا ہےان کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نئی قسم کے خلاف اپنی حکمت عملی پر جلد عملدرآمد کریں۔

    پاکستان میں مزید 303 کورونا کیسز رپورٹ

    دوسری جانب یورپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹرزکا کہنا ہے کہ وہ نئی قسم کا جائزہ لے رہے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اومی کرون کے لیے نئی ویکسین کی ضرورت ہے یا نہیں اومی کرون سے متعلق معلومات ابھی نا کافی ہیں ان معلومات سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قسم زیادہ پھیلے گی یا ویکسین سے حاصل کی گئی مدافعت اس کے لیے کافی نہیں ہوگی یہ جاننے میں کچھ وقت لگے گا کہ اومی کرون کے لیے کسی نئی میڈیسن کی ضروت ہو گی یا نہیں۔

    کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں انکشاف ہوا اور اس کے بعد یہ وائرس بیلجیئم، بوٹسوانا، اسرائیل، ہانگ کانگ اور یورپی ممالک میں بھی پایا گیا ہے۔

    کورونا وائرس کی نئی اور خطرناک ترین قسم اومی کرون یورپ بھی پہنچ گئی غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی نئی قسم اومی کرون جرمنی، اٹلی اور برطانیہ بھی پہنچ گئی ہے جرمنی کے وزارت صحت کے حکام کے مطابق جنوبی جرمنی کی ریاست باویریا میں نئےکورونا وائرس کے دو کیسز اور ایک مشتبہ کیس ملک کے مغرب میں پایا گیا ہے۔

    سب سے پہلے جنوبی افریقہ سے واپس آنے والے ایک شخص میں اومی کرون کی علامات کی تشخیص ہوئی ہے۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ برطانیہ میں اومی کرون وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز ہیں، ایک کیس چیلمسفورڈ اور ایک ناٹنگھم میں پایا گیا ہے دونوں افراد حال ہی میں جنوبی افریقہ کے سفر سے واپس آئے تھے۔

    اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ موزمبیق سے میلان واپس آنے والے ایک شخص میں اومیکرون کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اس کے علاوہ چیک ریپبلک میں بھی نئے ویرینٹ کا ایک مشتبہ کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی بتایا گیا ہے کہ یہ قسم کورونا کی پہلے سے معلوم اقسام سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ابھی اس نئی قسم کے بارے میں مکمل سائنسی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ۔ کینیڈا، برازیل، پاکستان، جاپان اور ساوتھ کوریا سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اور کئی ایونٹ بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کا ویمن ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائر میچ منسوخ کردیا گیا تھائی لینڈ بمقابلہ امریکہ اور پاکستان بمقابلہ زمباوے میچز شیڈول کے مطابق ہوں گےورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 12 ویں وزارتی کانفرنس کو بھی ملتوی کر دیا ہے، کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ جنرل کونسل کے صدر نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا اور کہا کہ صحت کے لئے ضروری ہے کہ کام چلتا رہے، کانفرنس بعد میں منعقد کی جائے گی-

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی-

  • اسرائیل اور بیرون ممالک سے فنڈ لیے گئے، مریم اورنگزیب

    اسرائیل اور بیرون ممالک سے فنڈ لیے گئے، مریم اورنگزیب

    ‏ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کی احتساب عدالت کےباہرمیڈیاسےگفتگو‏
    ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عوام سے بہتر کوئی نہیں جانتا ،اسرائیل اور بیرون ممالک سے فنڈ لیے گئے ،‏لاہور کو آلودہ ترین شہر قرار دےدیا گیا ،حکمرانوں نے ڈھائی سال سے اپنے مخالفین کو کال کوٹھریوں میں بند کر رکھا ہے ،
    سیسلین مافیا وہ ہوتاہے جو عوام کا آٹا اور چینی چوری کرتاہے،سیسلین مافیا وہ ہوتاہے جو اسرائیل اور بھارت سے فنڈ منگوائے ،سوال پوچھوتو شہباز شریف جیل جاتاہے،
    سیف اللہ نیازی سینیٹ کی سیٹ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ،پاکستان پر مافیا مسلط ہے ،نوکریاں فرینڈز آف بنی گالہ کو ملتی ہیں ،ہر روز ایک ڈاکے،چوری کی تصویر پاکستانی عوام کے سامنے آتی ہے،سوال پوچھو تو، شہباز شریف،رانا ثناء اللہ،حمزہ شہباز جیل جاتے ہیں،جب تک ملک میں آلودہ حکمران مسلط ہوں گے،معیشت آلودہ ہوگی،مریم اورنگزیب

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔

  • "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 کیا ہے؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    مسئلہ فلسطین دنیا کے بڑے اور تاریخی تنازعات میں سے ایک ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد بالخصوص برطانیہ و دیگر ممالک نے جیوش ایجنسی کے ساتھ مل کر نام نہاد "ہولو کاسٹ” میں بچ جانے والے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک جگہ پر بسانے کھ منصوبے پر کام شروع ہوا جس کے لیے بیت المقدس(یروشلم) اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ یہودی بیت المقدس پر ہیکل سلیمانی کا دعویٰ کرتے ہیں. اس پلان کی وجہ سے ایک تو یہودیوں کو کوئی دیس مل جاتا اور دوسرا مستقل عرب دنیا کو ایک خطرے سے دوچار رکھا جاسکتا تھا تاکہ وہ آگے چل کر دنیا میں کوئی موثر کردار نہ ادا کرپائیں.
    اس کے لیے چودہ مئی 1948 کو یروشلم کو عالمی نگرانی کے تحت چلانے ، اس کے گرد و نواح میں یہودیوں کی آبادکاری اور اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو گیارہ مئی 1949 کو منظور کرکے اسرائیل کے قیام باقاعدہ عمل میں لایا گیا.جس کو عرب لیگ اور عرب ہائی کمیٹی نے مسترد کیا اور اس خطے میں جنگ چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے جس میں بڑی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہوتے رہے اور اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہوتی رہی لیکن ان سب جھڑپوں اور جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد بے گھر ہوتی چلی گئی اور اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتا چلا گیا.
    بین الاقوامی اداروں اور ملکوں کی مداخلت کے باوجود مسئلہ فلسطین لاینحل مسئلہ رہاہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل کی ایک وجہ بھی یہی مسئلہ فلسطین ہے.ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ایک پلان پیش کی ہے جس کو دی ڈیل آف سنچری کا نام دیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا. اس منصوبے کے مین نکات یہ ہیں.

    مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے گا اور شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا.
    چار سال کے لیے یہودی بستیوں کی آبادکاری پر پابندی عائد ہوگی جبکہ مغربی کناروں سمیت اب تک جو یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہوں گی.
    اپنی بستیوں سے نکالے گئے فلسطینی جو غزہ کی پٹی میں محصور ہوچکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے.
    اسرائیل اردن کے بادشاہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی انتظامیہ کا موجودہ نظام برقرار رہے گا
    فلسطینیوں کے لیے مختص کیے گئے علاقے آئندہ چار سال آمد و رفت کے لیے کھلے رہیں گے اور وہاں کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔
    اس وقت کے دوران فلسطینیوں کے پاس موقع ہوگا کہ وہ اس پلان کا جائزہ لیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور ’خود مختار ریاست کے لیے تعین شدہ پیمانے پر پورا اتریں.

    اس منصوبے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پلان کے تحت فلسطینیوں کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں. ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پلان سے فلسطینی علاقہ دوگنا ہو جائے گا اور مشرقی یروشلم دارالحکومت بن جائے گا جہاں امریکہ اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔
    اسرائیل نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہتے ہوئے انھیں ‘وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا بہترین دوست’ قرار دیا ہے.
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ‘منصوبہ اس صدی کا ایسا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کریں گے۔
    جبکہ فلسطینی اتھارٹی اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غرب اردن پر اسرائیلی حاکمیت کو مستقل طور پر مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
    فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ’سازش‘ ہے میں ٹرمپ اور نتن یاہو کو کہتا ہوں یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہمارے حقوق برائے فروخت نہیں ہیں اور نہ ہی سودے کے لیے ہیں۔ آپ کا منصوبہ، آپ کی سازش منظور نہیں ہوگی۔‘
    حماس نے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے اس منصوبے کو اشتعال انگیز اور فضول قرار دیا ہے۔ ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
    پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت کی ہے، پاکستان فلسطینیوں کو جائز حقوق اور حق خود ارادیت دینے کا حامی ہے اور پاکستان ایسی فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا جو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدی حدود پر مشتمل ہو اور القدس جس کا دارالحکومت ہو.
    امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر غور کے لیے عرب لیگ کا اجلاس ہفتے کے روز طلب کیا گیا ہے۔

  • شام میں پھراسرائیل کے فضائی حملے، 23 افراد ہلاک درجنوں زخمی

    تل ابیب :اسرائیل جنگی طیاروں نے شام میں ایرانی فورسز اور شامی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ مبصرین کے گروہ کا کہنا ہے کہ حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔شام میں آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اسرائیل پر 4 راکٹ حملوں کے ردعمل میں انہوں نے ایرانی القدس فورس اور شامی فوج پر درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔

    عالمی جریدے بلومبرگ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قرار دے دیا

    برطانیہ میں مقیم مبصر تنظیم شامی بصر برائے انسانی حقوق (ایس او ایچ آر) کا کہنا تھا کہ حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 6 غیر شامی افراد تھے۔واضح رہے کہ ایران نے شامی صدر بشار الاسد کی فورسز کے ساتھ ملک میں 8 سالہ خانہ جنگی میں شرکت کی ہے۔

    خبردار! ناشتے نہ کرنے والے بچے تعلیمی میدان میں‌ پیچھے رہ جاتے ہیں،ماہرین طب

    وزیراعظم بینجمن نتن یاہو نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘جو بھی ہمیں نقصان پہنچائے گا ہم اسے نقصان پہنچائیں گے’۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک رات میں ایرانی قدس فورس اور شامی فوجی اہداف جن میں ویئر ہاؤسز اور فوجی کمانڈ سینٹر بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنایا ہے’۔

    مقبوضہ کشمیر کے دکھی بچوں کو نہ بھولیں، عمران خان کا خصوصی پیغام

    فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا تھا کہ ‘سب سے اہم ہدف دمشق کے مرکزی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب کنٹرول تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، یہی وہ عمارت تھی جو ایران کے پاسداران انقلاب سازو سامان کی مایران سے شام اور شام سے آگے منتقلی کے لیے استعمال کرتی تھی

  • صہیونی حکومت کا نیا سیکورٹی پلان ، اربوں کی رقم مختص

    صہیونی حکومت کا نیا سیکورٹی پلان ، اربوں کی رقم مختص

    مقبوضہ بیت المقدس : فلسطینیوں کے حملوں سے بچنے کےلیے یہودی حکومت کا ایک اور خطرناک منصوبہ منظر عام پر آگیا ، اسرائیلی "گلوبز” ویب سائٹ نے ہفتہ کے روزایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک حساس حفاظتی منصوبے کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔

    امریکہ سعودی عرب میں مفت میں فوج نہیں بھیج رہا ، ٹرمپ

    ذرائع کےمطابق اس منصوبے کے بارے میں معروف عبرانی ویب سائٹ میں کہا گیا ہےکہ اسرائیل ہر صورت اس منصوبے کو مکمل کرنا چاہتا ہے ، دوسری طرف مطابق اسرائیلی سیاسی اورسلامتی کے امور سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں صہیونی ریاست کے حساس حفاظتی کمیٹی کے بجٹ کے لیے 320 ملین شیکل کی رقم مخص کی گئی ہے۔سائٹ کے مطابق اس مرحلے میں اس منصوبے کے بجٹ "فیز اے” کی منظوری دی گئی ہے،

    دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس منصوبے کے بعد میں باقی مرحلوں کے لیے بجٹ مختص کرنے پر غور کیا جائے گا۔سائٹ کے مطابق فوج کے بجٹ میں یہ اضافہ جلد ہی فنانس کمیٹی اور کمیٹی برائے امور خارجہ اور سلامتی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔یاد رہےکہ اسرائیلی حکومت آئے روز اپنے اپ کو محفوظ تر رکھنے کے لیے غیر قانونی منصوبوں کو مکمل کرنا چاہتی ہے

    پاکستان،ایران خطے کے دواہم ملک ملکرمسائل حل کریں گے،ایرانی صدرحسن روحانی

  • اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    آج کا وقت اپنے آپ کو دوہرا رہا ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے گزر کر امن تلاش کرنے میں مصروف عمل ہوئی۔ دنیا میں طے پانے لگا کہ اب جنگوں کی بجاے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا۔ تمام ممالک کو شامل کیا جانے لگا۔26 اکتوبر 1945 میں قائم ہونے والے یو این او کے وہ کردار جو اپنے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آرٹیکل 2 کے تحت تمام ممالک کو برابری کی حیثیت حا صل ہو گی۔ تمام دنیا کے ممالک کو جنگوں سے محفوظ کیا جائے گا۔یو این او کی مکاری اور ظلم پر مبنی ضابطے آج فلسطین پون صدی کا قصہ بن چکا نسلوں کی نسلیں گزر گئی ان کا کردار صفررہا۔ اس موقع پر یو این کاکردار اسرئیل کی لونڈی کا ہے۔نوے کی دہا ئی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اس کے بعد دوبارہ بیس سو دس کی دہائی میں دوسرا حملہ کر دیا یو این کی نیٹو فورسزنے پورا کردار ادا کیا اور امریکہ کے شانہ بشانہ لڑے ۔روس نے 1979 میں افعانستان میں فو جیں داخل کر دیں یو این او نے گونگے شیطان کا کردار ادا کیا۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پچھلے ستر برس سے جاری ہے موجودہ دور کے جدید میڈیا نے اس یو این کا پول کھول دیا کہ لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے مگریو این اوتماشائی بنا رہا، شام اجڑ گیا مگر اس یواین کی ایک دن بھی غیرتنہیں جاگی، بوسنیا میں لاکھوں افراد کا اجتماعی قتل عام کر کے انسانوں کو زندہ اس لیے گاڑ دیا گیا کہ کہ وہ مسلمان تھے 1527 عیسوی میں بننے والی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 ء میں منہدم کر دیا گیا پورے ہند وستان میں فسادات شروع ہو گئے صرف گجرات میں 28 ہزرا مسلمانوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا آج یو این ایسے شحص کو گجرات کا جو قصائی نازی ہٹلر تھا اور جو قتل عام مین پیش پیش تھا اسے وزیر اعظم تسلیم کرلیتی ہے۔ یو این منہ چڑہاتی رہ گئی 84 ء میں آپریشن بلیو سٹار کیا گیا معصوم اور نہتے لوگوں کو سرعام ٹینکوں کے گولوں کا نشانہ بنایا گیا یو این او یہاں مائی میسنی کا کردار ادا کرتی رہی، عراق میں امریکی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ ہے فلسطین میں اسرئیل کی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں تعداد 5 لاکھ ہے، افغانستان میں امریکی اور روسی دہشت گردوں کے ہا تھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 21 لاکھ ہے،شام میں ایک اندازے کیمطابق 2 لاکھ پچاس ہزار افرد مارے گئے 80 لاکھ لوگ مہاجر ہیں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کشمیر میں 47ء سے اب تک 4 لاکھ لوگ دہشت گردی کیبھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک پچھلے 35 سالوں میں چالیس لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے اور اقوم متحدہ کا کردار اور فیصلہ کیا مسلمان دہشت گردہیں دنیا کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا اوراس دھوکے سے باہر نکل کر اپنے مسائل کے کے لیے مل بیٹھنا ہو گا اپنی علیحدہ یو این او بنانا ہوگی۔ یہ والی یواین او دنیا کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے ہے انہی کے مسائل حل کرتی ہے۔ مشرقی تیمور ہو جنوبی سوڈان آج کشمیر میں چالیسواں دن ہے کرفیوکا یہ کرفیوں عیسائیوں کے کسی ملک میں لگا ہوتا آج یو این کی نیندیں حرام ہوتیں۔ آج کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان او ر انکی ٹیم ہمہ وقت ۰۴دن یو این کو صدا دے رہی ہے مگر طاقتوروں کی لونڈی کان دھرنے کے لیے تیارہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کمزور لوگوں کو بڑا فیصلہ کرناہوگا اور کمزوروں کومل کر ایک بڑی قوت بننا ہوگا جو عالمی ظالم سامراجی قوتوں سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کردے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر27 ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں کرفیو ہٹا کر ان کے بنیادی حقوق بحال نہیں کیے جاتے تو یو این او کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔جب اس یو این او نے مسئلہ حل ہی نہیں کرنا وہاں جا کر صرف تقریر کر کے آجانا ہے تو بائیکاٹ بہتر ین پیغام ہو گا کر کے دیکھ لو جن کے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں یہ چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔

  • ڈیل یا ڈھیل : اسرائیل کا حزب اللہ پر حملے نہ کرنے کا اعلان

    ڈیل یا ڈھیل : اسرائیل کا حزب اللہ پر حملے نہ کرنے کا اعلان

    بیروت: ڈیل یا ڈھیل یا نئی جنگی حکمت عملی ، حزب اللہ کے جوابی حملوں پر اسرائیل نے دوبارہ حزب اللہ پر حملے نہ کرنے کا حلف اٹھا لیا۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنے گھٹنے ٹیک دیے اور روس کو ثالث بناتے ہوئے شام کے ’’عقربا‘‘ میں حزب اللہ پر حملے نہ کرنے کا حلف اٹھایا۔

    دوسری طرف خلاف توقع اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1701 کی بھی مکمل پابندی کی یقین دہانی کرائی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ وعدے کی پاسداری کرے گا

    چند دن قبل اسرائیل کی طرف سے لبنانی فضائی حدود کی کھلی خلاف ورزی اور حزب اللہ لبنان کے مراکز کو نشانہ بنایا تھا جس پر حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی بکتر بند گاڑی کو اینٹی ٹینک میزائل سے نشانہ بنایا جس میں اسرائیلی کمانڈر سمیت متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔

  • امریکہ، اسرائیل بائیکاٹ مہم کے خلاف بل منظور

    امریکہ، اسرائیل بائیکاٹ مہم کے خلاف بل منظور

    امریکی کانگرس کے ایوان بالا سینٹ میں اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے عالمی مہم’ بی ڈی ایس’ کے خلاف ایک نیا بل منظور کیا گیا ہے۔ منظور ہونے والے اس بل میں امریکی سینٹ میں ری پبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹس ارکان کے درمیان اختلاف نمایاں دیکھا گیا۔ بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور ہوا ۔
    فلسطین کا اسرائیلی کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ
    بل پر رائے شماری کے دوران 398 ارکان نے حمایت اور 17 نے مخالفت کی۔ مخالفت میں ووٹ دینے والوں میں 16 ڈیموکریٹس ارکان شامل تھے۔ ان میں دو مسلمان عرب ارکان کانگرس الھان عمر اور رشیدہ طلیب بھی شامل ہیں۔

  • اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    منظر فلسطین کے شہر غزہ کا ہے رات کا سناٹا چھایا ہے اسرائیلی فوج نے کرفیوں لگا رکھا ہے جو کہ چار دن سے جاری ہے کسی کو باہر آنے جانے کی اجازت نہیں ام عبداللہ اپنے دو بیٹوں عبداللہ جس کی عمر 12 سال اور عبدالہادی جس کی عمر 6 سال ہے کو لئے گھر میں بغیر مرد کے بیٹھی ہے کیونکہ چھ ماہ پہلے اسرائیلی فورسز نے ام عبداللہ کے شوہر محمد خالد کو شہید کر دیا تھا رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی ہے اتنے میں عبدالہادی چلانے لگتا ہے ماما رات بھی آپ نے کھانا نہیں دیا مجھے بھوک لگی ہے کھانا دو ماما مجھے کھانا دو ماں کی ممتا ٹرپ جاتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور کہتی ہے میرے لال تمہارا ماموں کھانا لے کر آ رہا ہے تو فکر نا کر سو جا صبح ہونے والی ہے صبح ہوتے ہی تیرے ماموں جان ضرور آئینگے عبدالہادی چیخ پڑا ماما جی آپ روز یہی کہتی ہیں مگر ماموں جان نہیں آتے پاس بیٹھا عبداللہ بولا ماما جی اجازت دیجئے میں خود ہی نانی اماں کے گھر سے کھانا لے آتا ہوں ام عبداللہ نے جب اپنے لخت جگر کی بات سنی تو ٹرپ کر بولی میرے جگر باہر صیہونی فوج کرفیو لگائے بیٹھے ہیں وہ تو ہم سب کی جان کے پیاسے ہیں میرے لال میں تمہیں ہرگز نا جانے دونگی عبداللہ بولا ماما جی چار دن سے کچھ نہیں کھایا اگر اب کھانا نا ملا تو ہم تینوں مر جائینگے لہذہ میری ماں مجھے جانے دیجئے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی تو نانی جان کا گھر ہے میں ابھی گیا اور ابھی آیا مجھ سے عبدالہادی کا رونا نہیں دیکھا جاتا ماں خاموش ہو گئی اور اپنے جگر گوشے کا ماتھا چوما اور دل میں ہزاروں وسوسے چھپائے بولی جا بیٹا احتیاط سے جانا اور نانی جان کو میرا سلام کہنا ام عبداللہ اپنے جگر کو دروازے تک چھوڑنے گئی اور ڈورتے ہوئے عبداللہ کو حسرت سے دیکھتی رہی
    دوسری طرف ستر سالہ ام جعفر اپنے نواسے کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور سینے سے لگا کر بولی میرے پیارے تو اتنے خطرے میں کیوں گھر سے نکلا تو عبداللہ نے سارا ماجرا بیان کیا ام جعفر عبداللہ کی باتیں سن کر پریشان ہوگئی کیونکہ یہی ماجرہ ان کے اپنے ساتھ بھی تھا خیر ام جعفر نے پوتے کو تسلی دی اور خود کچن میں جا کر دیکھنے لگی آخر سوکھی ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے ملے اور اپنے نواسے کو دیتے ہوئے بولی لے میرے جگر ان سے گزارہ کرنا ابھی دن کا اجالا نمودار نہیں ہوا جا اجالا ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جا اور یہ ڈبل روٹی کھا کر اللہ کو یاد کرنا اللہ مدد فرمائینگے
    12 سالہ عبداللہ ہاتھ میں سوکھی روٹی کے ٹکڑے اٹھائے گھر کی جانب بھاگ رہا تھا جب گھر کی چوکھٹ کے قریب پہنچا تو اپنے سامنے صیہونی فوج کو دیکھا ابھی عبداللہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اسرائیلی فوجی کی گولی عبداللہ کے عین دل کے اوپر لگی اور بیچارہ عبداللہ اپنے اور اپنے بھائی کے پیٹ کا سامان جہنم ہاتھ میں پکڑے رب کی جنت کا مہمان بن گیا ادھر کمرے میں بند ام عبداللہ نے تشویش سے گھر سے باہر جھانکا تو اپنے لخت جگر عبداللہ کو خون میں لت پت دیکھا تو فوری اپنے لال کے اوپر اپنی مامتا کی آغوش کا سایہ کرکے رونے لگی کہ اتنے میں ظالم فوجی کی دوسری گولی آئی اور ام عبداللہ بھی اپنے لخت جگر کے اوپر گر کر رب کی جنت کی مہمان بن گئی ادھر یہ دونوں ماں بیٹا صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو اندر ننھا عبدالہادی بھوک کیساتھ ٹرپ ٹرپ کر رب کی جنتوں کا مہمان ٹھہرا
    آہ بھوک کیسی ظالم چیز ہے پاکستانیوں ان بے کسوں سے پوچھو