Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نےنان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کرنےسے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےنان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کرنےسے روک دیا

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو ٹیکس نان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کرنےسے روک دیا۔

    باغی ٹی وی: موبائل فون کمپنی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ قانون میں ترمیم آئین کے آرٹیکل 18میں کاروبار کی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے، عدالت نے حکومت کو ٹیکس نان فائلرز کی موبا ئل سمز بلاک کرنےسے روک دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے موبائل فون کمپنی کی درخواست پر 27مئی تک حکم امتناع جاری کیا۔

    قبل ازیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے پانچ لاکھ ستر ہزار سے زائد نان فائلرز پر اڑھائی فیصد کی بجائے نوے فیصد اضافی ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا،ذرائع کے مطابق حالیہ انکم ٹیکس جنرل آرڈر کے ذریعے جن پانچ لاکھ ستر ہزار سے زائد نان فائلرز کی فہرستیں جاری کی گئی ہیں ان پر انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے تک نوے فیصد اضافی ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں خرابیوں پر تشویش کا …

    پری پیڈ و پوسٹ پیڈ نان فائلرز کی جانب سے لوڈ کئے جانیوالے بیلنس سے خودکار سسٹم کے زریعے نوے فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں کٹوتی کرکے ایف بی آر کو جمع کرایا جائے گا۔ اگر کوئی صارف سو روپے کا بیلنس لوڈ کروائے گا تو اس میں سے نوے روپے ایف بی آر کو جائیں گے، اگر موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے ان نان فائلرز کی سمز بلاک کرنے کے باوجود بھی انہوں نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے تو اس صورت میں اگر وہ کوئی دوسری موبائل فون سم نکلوا کر استعمال کرتے ہیں تو اس پر بھی نوے فیصد اضافی ٹیکس دینا پڑے گا، نان فائلرز کے ہر دفعہ موبائل اور ڈیٹا لوڈ پر بھی اضافی ٹیکس لاگو کیا جائے گا نان فائلرز کی سمز بند کروانے کے لیے ان کا ڈیٹا پہلے ہی پی ٹی اے اور ٹیلی کام کمپنیوں کے سپرد کیا جاچکا ہے۔

    نیب ترامیم کیس :عمران خان کوویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت

  • شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا-

    باغی ٹی وی : شیریں مزاری کی 2022میں ہونیوالی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار ایمان مزاری کی جانب سے فیصل چودھری ایڈووکیٹ پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    دوران سماعت عدالت نے اینٹی کرپشن حکام سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی ٹیم گرفتاری کیلئے آئی تھی؟ اینٹی کرپشن حکام نے کہا کہ جی 21مئی 2022کو ہم گرفتاری کیلئے آئے تھے،ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ہم نے شیریں مزاری کو نوٹس کیاتھا،گرفتاری سے پہلے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اور تھانہ کوہسار کی پولیس ہمارے ساتھ تھی-

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ اینٹی کرپشن حکام کو چاہئے تھا کہ گرفتاری کے بعد مجسٹریٹ کے پاس لے جاتے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ گرفتاری غلط ڈیکلیئر ہو جائے تو اس دوران جو ہوا اس کی حیثیت کیا ہوگی؟ہم یہ دیکھ رہے ہیں ہمارے دائرہ اختیار میں گرفتاری درست ہوئی یا نہیں،کسی دوسرے صوبے کو گرفتاری چاہئے ہو گی کیا باہر سے کوئی آکر اٹھا کر لے جائے گا؟یہ تو ایسے ہی ہوا یہاں کورٹ سے ایک آدمی اٹھا کر لے گئے،دروازے توڑ کر چیزیں توڑ کر جیسے لے گئے، کیا ایسے ہی گرفتاری ہوئی تھی، پھر وہ گرفتاری سپریم کورٹ نے غیرقانونی ڈیکلیئرکر دی تھی،جو آج ہو رہا ہے، دو سال بعد دوسرے والوں کے ساتھ ہو رہا ہو گا۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ ہم یہیں بیٹھیں ہوں گے،ایسے منہ اٹھا کر کوئی دوسرے صوبے میں جا کر کیسے گرفتار کر سکتا ہے، شیریں مزاری کمیشن نے ایکشن کی سفارش کی ہوئی ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ وقت وقت کی بات ہے، یہ ایک سائیکل ہے،کل ادھر والے دوسرے طرف کھڑے ہوں گے،آج جو حکومت میں ہیں کل وقت بدلے گاتووہ اٹھائے گئے ہوں گے۔

    عدت نکاح کیس:وکیل کی عدم پیشی،عمران خان و اہلیہ کی سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت …

    عدالت نے اینٹی کرپشن حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری افسران کو ’نہ‘کرنا آنا چاہئے،کمیشن رپورٹ اور عدالت کے فیصلے کے تناظر میں ہم نے آگے چلنا ہے،یہ جو اس کورٹ کے اندر ہوا ہم تو اس کی انکوائری نہیں کر سکے،وکیل فیصل چودھری نے کہاکہ یہاں ہائیکورٹ کا تو پرچہ بھی درج نہیں ہوا، عدالت نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • بشری بی بی کو  اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ  جاری

    بشری بی بی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد: بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر کے مطابق بشری بی بی چاہتی ہیں کہ انہیں جیل میں رکھا جائے تاکہ ان کی تنہائی دور ہو عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ قید تنہائی میں رکھنا صرف سزا نہیں بلکہ ٹارچر ہے، بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنا یا گیا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے سے بشریٰ بی بی کے بچے آسانی سے گھر نہیں آ جا سکتے ان کے شوہر کے بچے اور خاندان کے افراد کو بھی گھر آنے کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل یا عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل پراپرٹی مالک سے اجازت لی گئی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر پرائیویٹ پراپرٹی کا ورچوئل قبضہ حاصل کر لیا گیا پراپرٹی مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر اسے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    عدالت نے فیصلے میں بنی گالہ رہائش کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے کی وجوہات بھی بیان کیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ قیدی کے طور پر ایڈمٹ کرنے کے بعد سب جیل بھجوایا گیا، سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ان کی درخواست پر چیف کمشنر اسلام آباد نے خان ہاؤس کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔

    بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کوکرنا ہے،امریکا

    فیصلے کے مطابق چیف کمشنر نے خان ہاؤس کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفکیشن میں وجوہات ہی بیان نہیں کیں، رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں، بشریٰ بی بی کی پروٹیکشن کے لیے سب جیل میں رکھا گیا رپورٹ کے مطابق جیل میں 2174 کی گنجائش مگر 7 ہزار قیدی، 75 خواتین کو رکھنے کی جگہ پر 250 خواتین قید ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق بشریٰ بی بی کو سب جیل میں رکھنے کے بعد 125 مزید خواتین جیل میں بطور قیدی لائی گئیں، بشریٰ بی بی کو جیل میں پروٹیکشن دینا ریاست کی ذمے داری ہے سزا یافتہ قیدی کی جیل سے منتقلی کے لیے آئی جی جیل خانہ جات کا آرڈر ضروری ہے، بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے سب جیل منتقل کرنے کے لیے آئی جی جیل خانہ جات کا آرڈر موجود نہیں۔

    شمالی وزیرستان میں نامعلوم شرپسندوں نے لڑکیوں کے نجی اسکول کو بم سے اڑا دیا

  • توشہ خانہ ریفرنس:نئی انکوائری  کیخلاف عمران خان اور اہلیہ کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ ریفرنس:نئی انکوائری کیخلاف عمران خان اور اہلیہ کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں نیب کی نئی انکوائری کے خلاف دائر درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ نیب تحقیقات بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف نیب کی نئی انکوائری کے معاملے پر دونوں درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کردئیے گئے۔

    اعتراضات دور ہونے کے بعد رجسٹرار ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی نیب نئی انکوائری میں طلبی نوٹسز کے خلاف درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کر لیا جن پر چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری بدھ 08 مئی کو سماعت کریں گے،درخواست گزاروں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ درخواستوں پر فیصلے تک نیب انکوائری میں طلبی کے نوٹسز معطل کیے جائیں۔

    او آئی سی اجلاس میں اسلاموفوبیا کے حل کیلئے تجاویز دیں،اسحاق ڈار

    وزیراعلیٰ پنجاب کا لاہور کو 22 کروڑ روپے مالیت کی 17 گاڑیوں کا تحفہ

    انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی

  • عمران خان کی  سیاسی بیانات اور میڈیا سے گفتگو پر پابندی کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان کی سیاسی بیانات اور میڈیا سے گفتگو پر پابندی کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے سیاسی بیانات اور میڈیا سے گفتگو پر پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران سیاسی یا کسی ادارے و شخصیت کے حوالے سے عمران خان اور بشری بی بی کے بیانات پر احتساب عدالت نے پابندی عائد کی تھی، اب عمران خان نے احتساب عدالت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کردیا اور اُن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کردی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی ریاستی اداروں کیخلاف بیانات دینے سے گریز کریں اور میڈیا اپنی رپورٹنگ صرف ٹرائل کی حد تک محدود رکھے، احتساب عدالت نے فیصلے میں کہا کہ میڈیا وکلا اور گواہان کے بیانات رپورٹ نہ کرے جبکہ اوپن کورٹ میں موجود صحافیوں کے حقوق پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی اور صحافیوں کو ٹرائل کے دوران وکلا، گواہان یا ملزمان کے بیانات نشر کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم کا بیان دینا اور میڈیا کا اس بیان کو رپورٹ کرنے کی اجازت آئین کا آرٹیکل 19 دیتا ہے، پاکستانی عوام کا بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے آگاہ رہنا چاہتے ہیں اور آرٹیکل 19 کے تحت انہیں اس کا حق حاصل ہے، احتساب عدالت کا 19 اپریل کا حکم نامہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے برخلاف ہے لہذا 19 اپریل کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے اور احتساب عدالت کو بانی پی ٹی آئی کو سیاسی بیانات دینے سے نہ روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ احتساب عدالت کو میڈیا کو کسی بھی شخص کی جانب سے دیئے گئے بیانات نشر کرنے سے نہ روکنے سے کے احکامات دیئے جائیں، درخواست پر فیصلہ ہونے تک احتساب عدالت کا 19 اپریل کا حکم نامہ معطل کیا جائے-

    بھارتی شہر احمد آباد میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں

    صدر مملکت سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    اعلی عدلیہ کیخلاف مہم ، ایف آئی اے میں اندراج مقدمہ درخواست دائر

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیر افضل مروت کی قصور میں درج مقدمہ میں حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیر افضل مروت کی قصور میں درج مقدمہ میں حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نےپی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قصور میں درج مقدمہ میں حفاظتی ضمانت منظورکرلی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں قصور میں درج مقدمہ میں شیر افضل مروت کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواست پر سماعت کی،جسٹس طارق محمود نے استفسار کیا کہ افضل مروت صاحب! کوئی علاقہ چھوڑا ہے جہاں آپ پر پرچہ نہیں ہوا-

    جس پر شیر افضل مروت نے کہاکہ پورے ملک میں میرے خلاف پرچے ہو رہے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ مقدمہ قصور میں درج ہوا تھا؟ شیر افضل مروت نے کہا جی ہاں قصور میں جلسہ کیا تھا تو پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا،عدالت نے شیر افضل مروت کی قصور میں درج مقدمہ میں حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور پنجاب پولیس کو گرفتاری سے روک دیا –

    وزیر اعظم نے چیف کمشنر اسلام آباد کو عہدے سے ہٹا دیا

    عدالت نے شیر افضل مروت کی 10ہزار روپے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کی اور پی ٹی آئی رہنما کو 2ہفتے میں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔

    حماد اظہر کیخلاف مقدمات کی تفصیلات لاہور ہائیکورٹ میں پیش

    ضمنی الیکشن:شہروں میں دفعہ 144کے نفاذ کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

  • بشریٰ بی بی کے طبی معائنہ کی اجازت کیلئے درخواست،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو فوری طلب کرلیا

    بشریٰ بی بی کے طبی معائنہ کی اجازت کیلئے درخواست،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو فوری طلب کرلیا

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے طبی معائنےکے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو فوری طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی اجازت کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،کیس کی سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ہمارے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو فوری طلب کرلیا۔

    دوران سماعت عدالت نے سٹیٹ کونسل کو ہدایت کی کہ جائیں اور ایڈووکیٹ جنرل کو بلا کر بلائیں،عدالت نے کہاکہ وفاقی حکومت کو ایڈووکیٹ جنرل کا عدالت کی معاونت نہ کرنے کا بتائیں گے، معاونت نہ کرنے پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ دیدیا،اسٹیٹ کونسل عبد الرحمان نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل آج یہاں نہیں ہیں، عدالت نے بشریٰ بی بی کا نجی لیب سے طبی معائنہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
     

    کراچی میں ڈرائیور نے تیز رفتار گاڑی فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر چڑھادی

    مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل، آج سے موسلادھار بارشوں کا امکان

  • وزیرِ اعظم کا  ٹیکس کیسز  التوا کا نوٹس ،متعلقہ تمام افسران کو معطل کرکے انکوائری کا حکم

    وزیرِ اعظم کا ٹیکس کیسز التوا کا نوٹس ،متعلقہ تمام افسران کو معطل کرکے انکوائری کا حکم

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ٹیکس کیسز میں دانستہ التوا کا نوٹس لیتے ہوئے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو اسلام آباد اور ان کے ساتھ متعلقہ تمام افسران کو معطل کرکے انکوائری کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی :وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی خزانے کا اربوں روپے قانونی تنازعات کا شکار ہے، کسی بھی قسم کی لاپرو ا ہی اور کوتاہی قبول نہیں کروں گا، ٹیکس نظام میں اصلاحات کی خود نگرانی کر رہا ہوں، ایک ایک پائی بچانے اور محصولات میں اضا فے کیلئے محنت کرنی ہو گی، واضح رہے کہ ٹیکس ٹربیونلز میں سینکڑوں ارب روپے کے کیسز زیر سماعت ہیں۔ وزیراعظم نے چیف جسٹس سے ان کیسز کو جلد نمٹانے کی درخواست کی تھی۔وزیراعظم شہباز شریف نے افسران کو معطل کرنے کے ساتھ انکوائری کا حکم بھی دیا ہے۔

    6 ججز کا کو خط ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی زیرصدارت فل …

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف آئی اے انسپکٹر عمران کی طبیعت خراب ہوئی جس پر انہیں ایمبولینس کے ذریعے پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گئےپولیس کے مطابق انسپکٹر عمران کی طبعیت اس وقت خراب ہوئی جب وہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی عدالت میں تھے، جاں بحق ایف آئی اے انسپکٹر عمران کارپوریٹ کرائم سرکل میں بطور ایس ایچ او تعینات تھے۔

    آرمی چیف سے ایرانی صدر کی ملاقات،دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق

  • 6 ججز کا  کو خط ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی زیرصدارت فل کورٹ اجلاس آج ہو گا

    6 ججز کا کو خط ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی زیرصدارت فل کورٹ اجلاس آج ہو گا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عدالتی امور میں مداخلت پر 6 ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط کے معاملے پر آج فل کورٹ میٹنگ بلالی۔

    باغی ٹی وی :اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا تھا سپریم کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لے کر اپنے حکم میں تمام ہائیکورٹ ججز سے اس معاملے پر تجاویز مانگی تھیں۔

    سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں چیف جسٹس آفس نے تمام ججز سے تجاویز طلب کی تھیں جبکہ اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ایسٹ اور ویسٹ کو بھی تجاویز جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی،تمام ججز کی جانب سے اس معاملے پر تجاویز جمع ہونے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آج 23 اپریل کو فل کورٹ اجلاس بلایا ہے، فل کورٹ میٹنگ میں اس معاملے کو زیر بحث لایا جائے گا۔

  • ججز کے خط کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    ججز کے خط کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت ہائی کورٹ کے ججز کے خط کی روشنی میں شفاف تحقیقات کرائے،شفاف تحقیقات کے بعد عدلیہ کو نیچا دکھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل سے متعلق ہو تو عدالت کونسل کو جائزے کے لیے سفارشات بھیجے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججزنے خط میں سنگین نوعیت کے واقعات بیان کیے ہیں،آزاد عدلیہ آئین کی بنیاد اور فراہمیٔ انصاف کا واحد ذریعہ ہے، عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتا کسی صورت قبول نہیں ہو گا.

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔