Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا  ایف آئی اے کو اہم شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایف آئی اے کو اہم شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

    اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نےسابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی فیض حمید صحافی جاوید چوہدری اور شاہد میتلا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی رکاوٹ توڑنے، لاپرواہی برتنے اور مختلف واقعات کو غلط بیان کرنے پر جنرل قمرجاوید باجوہ، فیض حمید اور دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر اعتراض کردیا، جس پر عدالت نے جنرل (ر) باجوہ کے اعتراضات کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔

    وکیل جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ 6 ماہ پہلے کہا گیا کہ درخواست دائر ہوئی ہے، 6 ماہ بعد پتہ چلا کہ ایف آئی اے کودرخواست موصول ہی نہیں ہوئی، جو درخواست 6 ماہ بعد جمع ہو اس کی کوئی وقعت نہیں اسے خارج کردینا چاہیئے۔

    پی ٹی آئی کا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بائیکاٹ کا …

    ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ درخواست آگئی ہے توہم قانون کے مطابق دیکھ کر فیصلہ کریں گے جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ یہ عام مقدمہ ہے ٹھیک ہے بڑے لوگ بھی اس میں ہیں لیکن ایف آئی اے نے پہلے دیکھنا ہے کہ اس میں کوئی جرم بنتا ہے کہ نہیں، اس سے قبل 22 اے کا ایک کیس آیا تھا اس میں سینئر ججز نے آرڈر کیا تھا، جن سینئیر ججز نے آرڈر کیا میں نام نہیں لیتا لیکن میں وہ آرڈر نہیں کرتا، پرچہ دیں یا نہ دیں میرا کام یہ نہیں کام پھر بھی ایف آئی اے کا ہے، کل کو کیا پتہ ایف آئی اے کہہ دے پرچہ بنتا ہے یا کہہ دے پرچہ نہیں بنتا۔

    بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافہ ، مہنگائی 50 سال کی بلند ترین سطح پر …

    چیف جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ قانون اور قاعدے کے مطابق ایف آئی اے نے انکوائری کا فیصلہ کرنا ہے، ہم ڈائریکٹ نہیں کہہ سکتے کہ پرچہ کریں، ایف آئی اے کو قانون اور قاعدے کے مطابق فیصلہ کرنے دیں، ضرورت ہوئی تو ہم ڈویژن بینچ کو بھی معاملہ بھیج سکتے ہیں، یہ بھی نہیں کہوں گا روزانہ بلا کر تنگ کریں یا تنگ نہ کریں، جو بھی تفتیشی ہوگا اسے کہیں قانون قاعدے کے مطابق دیکھے، اس میں جرنلسٹ بھی ہیں اور دیگر لوگ بھی ہیں-

    عدالت  نے ایف آئی اے میں دائر درخواست پر ایف آئی اے کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

    سعودی عالمِ دین فیصل مسجد میں نمازِعید پڑھائیں گے

  • ججز کو خط میں بھیجا گیا مبینہ پاؤڈر اینتھریکس کیا ہے؟

    ججز کو خط میں بھیجا گیا مبینہ پاؤڈر اینتھریکس کیا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مبینہ طور پر خط کے ذریعے بھیجےگئے پاؤڈر اینتھریکس بیکٹیریا کو بائیولوجیکل یا حیاتیاتی ہتھیار بھی کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی :منگل 2 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز کو موصول ہونے والے مشکوک خطوط میں سے دو کے اندر مشکوک پاؤڈر تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا ہے،عدالتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کویہ خط ایک خاتون ریشم زوجہ وقار حسین نامی خاتون نے بھیجے تھے، دو ججوں کے اسٹاف نےخطوط کھولے تو ان میں پاؤڈر تھا،خط میں ڈرانے دھما کے کے لیے مشکوک نشان بھی موجود تھا۔

    عدالتی ذرائع نے بتایاکہ اسٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر سفوف تھا اور خط کھولنے کے بعد آنکھوں میں جلن شروع ہو گئی، متاثرہ اہلکار نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھویا، خط میں موجود متن پر لفظ anthrax لکھا تھا۔

    بانی پی ٹی آئی کیلئے7 سیل مختص، 14سکیورٹی اہلکار ،کھانا ایک اسپیشل کچن سے جاتا …

    ماہرین کے مطابق اینتھریکس بیکٹریا قدرتی طور پر مٹی میں غیر فعال پڑا رہتا ہے لیکن انسان کے رابطے میں آنے سے یہ فعال ہوجاتا ہےاینتھریکس بیکٹیریا کو لیبارٹری میں بھی تیارکیا جاسکتا ہے، مہلک بیکٹیریا کو خط کے ذریعے، کھانے اور پانی میں ملا کر یا ہوا میں بھی اچھال کر پھیلایا جاسکتا ہے۔

    9مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست دائر

    طبی ماہرین کےمطابق اینتھریکس سفوف جسم کے کسی حصےکو لگنے سے شدید فلو جیسی شدید بیماری لاحق ہو سکتی ہے، انفیکشن میں‌ چھالے بھی بن جاتے ہیں جن میں‌ کھجلی ہوتی ہے۔ مناسب علاج نہ ہونے پرموت بھی واقع ہو سکتی ہے۔پچھلی تین سے چار دہائیوں میں مخالفین کے خلاف اینتھریکس کےاستعمال کےکئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکو ہلاک اور ایک فرار

    سال2001 میں امریکا میں خطوط سے بھیجھےگئے اینتھریکس سے 22 افراد متاثر ہوئے تھے، جن میں سے 5 جان کی بازی ہار گئے تھے،ان اینتھریکس حملوں نے امریکی ڈاک کے نظام کو معطل کر کے رکھ دیا تھا اور کچھ دیر کے لیے امریکی سینیٹ کی عمارت کو بھی بند کرنا پڑا تھا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو  دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مشکوک اور دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی:تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی آر آئی برانچ کے ڈیوٹی کلرک / بیلف قدیر احمد کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ تمام ججز کے اسٹاف کو آج خطوط میں نے تقسیم کئے، کچھ دیر بعد قمر خورشید کی کال آئی کہ اس میں پاؤڈر ہے،اس کے بعد تمام ریڈر صاحبان کو مطلع کیا گیا کہ وہ لفافے نا کھولیں، تحریک ناموس پاکستان کا حوالہ دے کر جسٹس سسٹم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، دھمکی کے لیے مخصوص شکل اور انگریزی لفظ Bacilus Anthracis استعمال کیا گیا۔

    ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ تمام ججز صاحبان کے نام لیٹر میں نے تقسیم کروائے، تمام لیٹرز ریشم خاتون زوجہ وقار حسین نامکمل ایڈریس کے نام سے موصول ہوئے، عدالتی اہلکار قمر خورشید نے فون پر بتایا خطوط نہ کھولے جائیں اس میں کیمیکل ہے ریشم اور نامعلوم افراد نے مقدمات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جبکہ خطوط سے متعلق پولیس کو فوری طور پر آگاہ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت 8 ججز کو پاؤڈر سے بھرے دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے تھے جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری عدالت پہنچی دو ججز کے عملے نے خطوط کھولے تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا، خط کھولنے کے بعد آنکھوں میں جلن شروع ہوگئی، متاثرہ اہلکار نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھوئے،عدالتی ذرائع نے بتایا کہ خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود ہے، کسی خاتون نے بغیر اپنا ایڈریس لکھے 8 خط ہائیکورٹ ججز کو ارسال کیے ہیں، یہ خطوط چیف جسٹس عامر فاروق سمیت 8 ججز کو بھیجے گئے ہیں، خط ریشم اہلیہ وقار حسین نامی خاتون نے لکھا ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو خطوط کے ذریعے تھریٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو خطوط کے ذریعے تھریٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مشکوک خطوط موصول ہو گئے، ایک جج کے اسٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا اسلام آباد پولیس کی ایکسپرٹس کی ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود تھا، کسی خاتون نے بغیر اپنا ایڈریس لکھے خط ہائیکورٹ ججز کو ارسال کئے ،پاؤڈر کیا ہے ؟ ابھی ایکسپرٹس کی ٹیم تحقیقات میں مشغول ہے، عدالتی عملے کے مطابق خط کھولا تو آنکھوں میں جلن شروع ہو گئی، متاثرہ اہلکار نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھویا، خط میں موجود متن پر لفظ anthrax لکھا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مشکوک خط ملنے کے بعد اسلام آباد پولیس کی ٹیم ہائیکورٹ میں موجود ہے تحقیقات جاری ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ انتظامیہ نے دہشتگردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو فوری طلب کر لیا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے سائفر کیس کے اختتام پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 8 ججوں کو خطوط ملے ہیں جن میں اینتھرکس (پاوڈر) پڑا ہے اسی لیے ہم نے سائفر کیس کی سماعت تاخیر سے کی،بنیادی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کو تھریٹ کیا گیا ،

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

    6 ججز کا خط ،پی ٹی آئی کا کھلی عدالت میں اس پر کارروائی کا مطالبہ

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    اسلام آباد: سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے طنزیہ ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں اگر کوئی کہے پاک ایران گیس پائپ لائن بنا دوں تو کیا جیل میں ڈال دیں گے؟ ایف آئی آر تو کٹے گی نا؟-

    باغی ٹی وی : سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ اسد مجید کہتے ہیں میں نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں کہا ڈونلڈ لو کی بات پر اسٹرانگ ڈیمارش ہونا چاہیے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں کہا گیا مستقبل میں تعلقات خراب ہوسکتے ہیں، وزیراعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی، اسد مجید امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے انہوں نے سائفر بھیجا، اسد مجید نے بتایا کہ وہ ڈونلڈ لو کے ساتھ کھانے پر بیٹھے تھے، اسد مجید نے اپنے بیان میں یہ نہیں کہا کہ کیا بات تھی جس کی بنیاد پر سائفر بھیجنا پڑا، اسد مجید نے اپنے بیان میں کہا کہ سائفر میں سازش کی کوئی بات نہیں لکھی، پراسیکیوشن کا کیس کسی موقع پر بھی صفحہ مثل پر نہیں آیا، اسد مجید بھی نہیں لائے، ٹرائل جج نے لکھا کہ سائفر episode سے دونوں ممالک کے تعلقات کو بہت نقصان پہنچا۔

    راولپنڈی،اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ سائفر episode کا کیا مطلب ہے؟ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جج کو اس متعلق مزید مخصوص انداز میں لکھنا چاہیے تھا، اسد مجید نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اس نے بھیجا کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل جج نے لکھا کہ اس سائفر کے معاملے سے مستقبل کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے عوام کو اعتماد میں لے کر اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اسد مجید وہ گواہ تھے جو سائفر کے متن سے آگاہ تھے، اس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی بالکل وہ آگاہ تھے انہوں نے ہی ڈیمارش کرنے کی سفارش کی، دفتر خارجہ کے لئے یہ ٹرائل بہت مہنگا رہا ہے یو اے ای سے دو تین دفعہ بیان دینے کے لئے آئے، ایڈیشنل سیکرٹری امریکا فیصل نیاز ترمذی یو اے ای سے دو تین دفعہ آئے، امریکی ناظم الامور انجیلا مرکل کو نہ بیان کے لیے لایا گیا اور نہ ان کا واٹس ایپ ریکارڈ پر لایا گیا۔

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ ڈسکس کر رہے کیا سفیر کو بلایا جا سکتا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فیصل نیاز ترمذی نے امریکی ناظم الامور کے میسج کے حوالے سے بتایا کہ کاغذ لہرایا گیا، ڈونلڈ لو اور امریکی ناظم الامور کے کہنے پر سابق وزیر اعظم کو جیل میں ڈال دیا یہ ان کا کیس ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے طنزیہ ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں اگر کوئی کہے پاک ایران گیس پائپ لائن بنا دوں تو کیا جیل میں ڈال دیں گے؟ ایف آئی آر تو کٹے گی نا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فیصل ترمذی کو جو میسج آیا وہ عدالتی ریکارڈ پر تو لایا جاتا لیکن نہیں لایا گیا سابق وزیر خارجہ کی تقریر ایک سیاسی تقریر تھی۔

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    عدالت نے کہا کہ آئیڈیلی تو اعظم خان اور اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان لاپتا ہوئے اور مقدمہ درج ہوا، واپس آئے تو بیان دیا، اعظم خان کے 164 کے بیان اور کورٹ میں دیے گئے بیان میں بہت زیادہ فرق ہے۔

    جسٹس گل حسن نے کہا کہ 164 کے بیان اور کورٹ کے سامنے اعظم خان کے بیان میں کیا فرق ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کہہ رہا ہے یہ ایک پیپر تھا جس کو لہرایا گیا، جسٹس گل حسن نے کہا کہ آپ بتائیں بانی پی ٹی آئی نے جلسے میں کیا لہرایا تھا ؟ اس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے وہ کیا لہرایا گیا؟َ،بعدازاں سائفر کیس کی سماعت 2 اپریل منگل تک ملتوی کردی گئی۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

  • ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر  ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججز کا خط، الزامات کی تحقیقات کے لئے ہائی پاور کمیشن کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں درخواست ممتاز قانوندان میاں داؤد ایڈوکیٹ نے دائر کی،درخواست میں وفاقی حکومت اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کو بھی فریق بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انکوائری کمیشن میں جو بھی مس کنڈکٹ کا مرتکب پایا جائے اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، ججز کے 25 مارچ کے خط میں لگائے کی انکوائری کیلئے اعلی سطحی انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے جو بھی مس کنڈیکٹ کا مرتکب پایا جائے اس کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے. جو جج یا آئی ایس آئی افسر الزام ثابت نہ کر سکے،متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے،ہائی کورٹ ججز کا خط اعتراف ہے کہ وہ حلف کے مطابق بےخوف و خطر کام نہیں کر پا رہے اس لیے اسلام آباد ہائی کورٹ ججز انصاف فراہمی جیسا حساس کام اس وقت نہیں کرسکتے، اسلام آبادہائی کورٹ میں اہم سیاسی نوعیت کے مقدمات زیرِ التوا ہیں اس لیے تمام حساس مقدمات دیگر صوبائی ہائی کورٹس کو منتقل کیے جائیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کا سپریم کورٹ کے ججز کو خط ایک طے شدہ منصوبہ لگتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے اشارے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے خط لکھا ہے، آئی ایس آئی کی عدالتی کارروائی میں مداخلت کے خلاف ججز کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنے نے سارا معاملہ مشکوک کر دیا ہے یہ آئینی نقطہ نظام عدل سے وابستہ عام فرد بھی جانتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایسے تنازعات کی تحقیقات کا ادارہ نہیں، اس کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا جو عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کے مترادف ہے، 6 ججز نے اپنے خط میں عمران خان کے صرف ایک مقدمے کی مثال پیش کی، عمران خان کے مقدمے کے علاوہ ججز نے خط میں ایک بھی مقدمے کا واضح حوالہ اور ثبوت نہیں دیا، ججز کا خط عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ مقدمات میں غیر معمولی ریلیف اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملا

    میاں داؤد ایڈوکیٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے، مئوقف اختیار کیا ہے کہ بظاہر ججز نے PTI کا بیانیہ بنانے کیلئے خط لکھا۔ استدعا ہےکہ بااختیار کمیشن بنا کر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کےISIکے عدالتی فیصلوں پر اثرانداز اور عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں۔

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

  • ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط کے بعد پاکستان بھر کی بار کونسل متحرک ہو گئی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ بار، لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار، اسلام آباد بار کا مؤقف سامنے آیا ہے.

    ججز کا خط، اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا انکوائری اور ملوث افراد کیخلاف کاروائی کا مطالبہ
    اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت ریاست علی آزاد ایڈ و و کیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن منعقد ہوا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معز زججز صاحبان کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو جاری کئے گئے خط میں انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے بے جا مداخلت کی بابت مراسلہ ارسال کیا گیا ہے اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا موقف در ج ذیل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالا دستی اور آزاد اور خود مختار عدلیہ پر یقین رکھتی ہے۔ اس ضمن میں اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن قابل احترام چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے اور جو لوگ اس معاملے میں ملوث میں انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کسی بھی ادارے کی دوسرے ادارے میں مداخلت کی بھر پور مذمت کرتی ہے،اسلام آباد با ئیکورٹ بار ایسوسی ایشن عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ آزاد قانون اور آئین کے مطابق فیصلوں کو بے خوف وخطر یقینی بنایا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن ججز صاحبان کے اس اقدام کو سراہتی ہے جو انہوں نے دلیری اور بہادری کا مظاہر ہ کیا یہ کہ وہ ملک اور قومیں ترقی نہیں کرتیں جو رول آف لاء کی پاسداری نہ کرتی ہیں،یہ کہ مستقبل میں غیر قانونی اقدام کو روکنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن اگر ضرورت پڑی تو عدلیہ کی آزادی کی خاطرہراول دستہ ثابت ہو گی اور ہر وہ اقدام اٹھائے گی جو آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ضروری ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن عدلیہ کی آزادی کی خاطر وکلا نمائندہ کنونش، ملک گیرو کلاء کنونشن بھوک ہڑتال اورتحریک سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔

    اسلام آباد بار کا ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر گہری تشویش کا اظہار
    اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے بھی ججز کے خط کے بعد اعلامیہ جاری کیا ہے،اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن راجہ محمد شکیل عباسی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کو آئین کا بنیادی وصف سمجھتی ہے. نظام عدل و انصاف پر عوام الناس کا اعتماد عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری سے وابستہ ہے۔ عدلیہ کی آزادی پر حرف نظام عدل و انصاف اور معاشرے کیلئے شدید نقصان دہ ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن آئین و قانون کی عملداری، عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے اصولوں کے ساتھ کھڑی ہے،اسلام آباد بار ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ ججز کے پیشہ وارانہ امور کی آزادانہ ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ آئین کے مطابق بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی بلا تفریق فراہمی ممکن ہو سکے

    عدلیہ کے کام میں مداخلت قانون کی حکمرانی ،عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے،لاہور ہائیکورٹ بار
    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھے جانے پر اعلامیہ سامنے آیا ہے، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، جمہوری نظام اور سویلین کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔پاکستان کو ایک انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا ہے جس میں ان مقاصد کو شدید خطرات لاحق ہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ معزز ججوں کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط سے واضح ہو گیا ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدلیہ اور عدالتی انتظامیہ کے کام میں مداخلت قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے، ہم اسلام آباد کے چھ ججز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایجنسیز کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت کیے جانے کے سچ کو بےنقاب کیا،ہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس اقدام کو قابل تعریف نہیں سمجھتے جنہوں نے اپنے ججز کی حفاظت کے لیے کسی قسم کے عملی اقدامات بروئے کار نہیں لائے۔ ہم حساس اداروں کی جانب سے عدلیہ کے فیصلوں میں مداخلت اور اثر انداز ہونے کی پرزور مزمت کرتے ہیں، ہم حساس اداروں کے اپنی مرضی کے فیصلے لکھوانے کے عدلیہ پر دباؤ کی سخت مزمت کرتے ہیں۔ ہم فی الفور ان حساس اداروں کی شخصیات کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جنہوں نے آئین اور قانون کو پامال کیا۔پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل ے بعض منتخب اراکین کے ساتھ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر منتخب عہدیداروں نے اس وقت اور پاکستان میں ہر جگہ عدلیہ کی آزادی کے دفاع میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ہم سپریم جوڈیشل کونسل سے ان ججوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو ایسی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور اس طرح ملک میں انصاف کی انتظامیہ کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم چیف جسٹس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ ساتھ ماتحت عدالتوں کے ججوں کے تحفظ کے لیے کام کریں گے تاکہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے حالات اور ماحول پیدا کیا جا سکے جس میں جج بغیر کسی خوف اور حمایت کے انصاف فراہم کر سکیں۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن لاہور میں وکلاء کا قومی کنونشن منعقد کرے گی،ہم عدلیہ کی آزادی، آزادانہ اور منصفانہ آئینی انتظام اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں.

    ججز کا خط، چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پر سوموٹو نوٹس لیں،بلوچستان بار کونسل
    بلوچستان بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط میں اداروں کی جانب سے عدالتوں میں مبینہ مداخلت کے معاملات پر چیف جسٹس آف پاکستان سے سومو ٹو لینے کا مطالبہ کیا ہے،بلوچستان بار کونسل نے اپنے ایک بیان میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جججز کی جانب سے لکھے گئے خط میں اداروں کی جانب سے عدالتوں میں مبینہ مداخلت کی معاملات پر تحفظات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے حجزکا خط تشویش ناک عمل ہے جو کہ آزاد عدلیہ پر ایک قدغن ہے، اس سے قبل بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی نے خفیہ اداروں کی جانب سے مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا اس وقت کے سپریم جوڈیشل کونسل نے خفیہ اداروں کی جانب سے مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اس وقت کے سپریم جوڈیشل کونسل نے خفیہ اداروں کے مداخلت پر تحقیقات کے بجائے معزز جج کو نوکری سے برخاست کیا اور سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو مسترد کر کے معزز جج کو بحال کیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا حالیہ خط اور اداروں کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت قابل مذمت ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس کا فوری طور پر سوموٹو نوٹس لیں بیان میں پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر ملک گیر وکلاء نمائندگان کا نفرنس ،اجلاس طلب کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں.

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

  • ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج آپ کے سامنے ہم سیاسی مسئلہ کی بجائے قانونی اور آئینی مسئلہ رکھیں گے،اس مسئلے کے ساتھ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ جڑے ہیں،

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 جج صاحبان نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا،جج صاحبان نے زندگی میں پہلی بار ایسا خط لکھا ہے، جج صاحبان کی برداشت ختم ہوگئی، سب جج صاحبان نے انفرادی طور پر اس خط پر دستخط کیے ،اورسپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا،پاکستان تحریک انصاف کا ہر ورکر اور سپورٹر معزز عدلیہ کے تحفظ کے لیے کھڑا رہے گا، ہمارے لیے ہر جج قابل احترام ہے، ججز کا آئینی ذمہ داری نبھانے دی جائے، بار کونسلز اور ایسو سی ایشنز سے درخواست کرتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے جو ممکن ہوسکے وہ اقدامات لیں،جن ججز نے خط لکھے، اُن کی جان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، مطالبہ کرتے ہیں اس معاملے پر انکوائری کی کروائی جائے، اس کی انکوائری سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کے ذریعے کی جائے،سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں اس معاملے پر آج ہی لارجر بینچ تشکیل دیا جائے،

    ججز کے خط کے بعد عمران خان کے مقدمات کالعدم قرار دے کر رہا کیا جائے،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو ایسی سزائیں سنائی گئیں، جہاں ہمیں جرح کا حق نہیں دیا گیا، ایسے فیصلے سنائے گئے جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا،یہ تمام فیصلے دبائو میں دیئے گئے، ججز کے خط کے بعد عمران خان کے مقدمات کالعدم قرار دیئے جائیں ۔ انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے، جب عمران خان کو ایک دن میں 3 سزائیں سنائی گئی ،تو ایک جج نے بتایا کہ اُن کے نہیں پتا کہ اس کے بچے کہاں ہے۔ ایک نے بتایا کہ اُن کے بیٹے کا ولیمہ کینسل کروایا گیا ہے۔اس طرح ججز سے فیصلہ کروایا گیا تھا، ہم گئے لیکن جج صاحب نے اپنا فیصلہ سنا دیا، اسی طرح کے فیصلے ہوئے، ابھی فیصلے کی کاپی نہیں ملی تھی کہ عمران خان کے گھر کے دروازے توڑ کر انکو گرفتار کر کے جیل پہنچا دیا گیا تھا.بانی پی ٹی آئی کو ایسی سزائیں سنائی گئیں جہاں ہمیں جرح کا حق نہیں دیا گیا، ججز کا خط چارج شیٹ ہے، اس پر فوری ایکشن ہونا چاہیے،خط پر کارروائی نہ ہوئی تو عوام کا عدلیہ پر اعتماد اٹھ جائے گا،عدلیہ ملک کا وہ ستون ہے جس کی طرف 25 کروڑ عوام دیکھتے ہیں،وکلاء کے بار کونسل سے التجا کرتے ہیں عدلیہ کی آزادی کے لئے اپنا کردار ادا کریں، چاہتے ہیں عدلیہ کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہو،اس معاملے پر ہم ایوان میں قرارداد بھی لائیں گے

    ججزکا خط،واضح ہوا نشانہ صرف ایک شخصیت تھی،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما، رکن قومی اسمبلی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کل چھ ججز نے جو لیٹر لکھا یہ موجودہ سسٹم کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے،ہم اس معاملے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے،اس لیٹر کے بعد تمام سسٹم ایکسپوز ہوچکا ہے، تمام ججز سے التجا ہے کہ ہر ادارے کو اپنے اختیارات تعین کروانے میں اپنا کردار ادا کریں، جج صاحبان نے پاکستان کے انتظامی امور کے خلاف ایک چارج شیٹ پیش کی،اس سے ہم سب کے سر شرم سے جھک گئے، اس سے واضح ہوا کہ نشانہ صرف ایک شخصیت تھی ،رول آف لاء ختم ہوچکی ہے، ایسے معاملات کے باعث ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئے گا، چیف جسٹس اور سپریم جوڈیشل کونسل کے معزز جج صاحبان سے درخواست کرتے ہیں کہ وقت کا تقاضا ہے کہ آپ جلد از جلد ایکشن لیں، ہر ادارہ آئین اور قانون کے مطابق کام کرے،

    نو مئی سے نو فروری تک سارے سانحے کا جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائے،لطیف کھوسہ
    تحریک انصاف کے رہنما ، رکن قومی اسمبلی سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججزنے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن کو خط لکھا ہے، خط میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو خط کے ساتھ لگائے گئے ثبوت دیکھنے کے قابل ہیں، وہ کہتے ہیں شوکت صدیقی کا فیصلہ آپ نے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ہے،ہم تو حاضر سروس 6 ججز ہیں ہمیں بھی انصاف دیا جائے،یہی اثرات تمام عدالتوں‌پر ہیں، عنقریب دیکھیں گے کہ باقی ججز بھی دلیری کا مظاہرہ کریں گے اور قوم کے سامنے آئیں گے، اس طرح نظام عدالت کو چلانا ہے تو یہ آئین سے بغاوت ہے، جو بھی اس کا ذمہ دار ہے، اسکے خلاف کاروائی ہو، نو مئی سے نو فروری تک سارے سانحے کا جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائے، عمران خان کی پارٹی کو ختم کرنے کے لئے نو مئی کا بیانیہ بنایا گیا،شوکت صدیقی نے کہا کہ ان پر ایجنسسز کی مداخلت تھی،سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کو نکال باہر کیا مگر سپریم کورٹ نے بحال کیا،سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کا فیصلہ مسترد کیا،جج محمد بشیر ایمبولینس میں تھے مگر ان کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سزا دینے کا کہا گیا،جج محمد بشیر بار بار چھٹی کی درخواست کرتے رہے،مگر بالآخر ان کو سزائیں دینا پڑ گئیں،سردار لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدارا اب 45 سال مت لینا کہ بھٹو کا ٹرائل غیر آئینی تھا سیاسی استحکام تب ہی آسکتا ہے جب مقتدر حلقے انتقام اور نفرت کی سیاست چھوڑ دیں،اس ملک میں عمران خان کے بغیر سیاست نہیں ہوسکتی، عمران خان ایک حقیقت ہے اسے تسلیم کرنا ہوگا،تحریک انصاف کا نشان چھین لیا، صدر، پنجاب کے صدر، سینیٹر اعجاز، صنم چودھری سب پابندسلاسل ہیں، پی ٹی آئی قیادت کے اندر ہونے کے باوجود لوگوں نے بینگن ،کٹورا، چارپائی، کھڑکی کے نشان ڈھونڈے اور ووٹ دیا، پاکستانی عوام نے ضد کر لی تھی کہ ہمارا حق ہے ووٹ دینا اور عمران خان کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے.دوسری پارٹی میں شامل ہونا ہماری مجبوری بن گئی، آج پہلا قطرہ بارش کا آیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے توسط سے، باقی ججز بھی بولیں گے، عدالتی نظام کو مفلوج کیا گیا ہے، عوام اور آئین کے ساتھ بہت کھلواڑ ہو گیا، چیف جسٹس کمیشن بنائیں تا کہ ہر ایک کا دائرہ اختیار جو آئین میں متعین شدہ ہے سب اپنی حدود میں رہیں،

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    محکمہ بہبود آبادی،عوامی آگاہی کیلئے مسلسل مصروف عمل،تحریر:صباءفاروق

     نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،

    بریسٹ کینسر،بڑھتی آبادی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، صدر مملکت

    پاکستان دنیا بھر میں گنجان آبادی کے اعتبار سے کونسے نمبر پر؟

    ڈیجیٹل مردم شماری ،پاکستان کی آبادی 241.49 ملین تک پہنچ گئی ،ادارہ شماریات

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

  • پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں جلسے کی درخواست،فریقین کو نوٹسز جاری

    پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں جلسے کی درخواست،فریقین کو نوٹسز جاری

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی وفاقی دارالحکومت میں جلسے کی اجازت کی درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر کے کل جواب طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شیر افضل عدالت میں پیش ہوئے ،دوران سماعت شیر افضل مروت نےکہا کہ آئی جی اسلام آباد نے سیکیورٹی تھریٹس کو وجوہات بنایا ہے، جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ جو بھی آپشنز ہوں گے ان کو کل دیکھ لیں گے،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی ۔

    اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی سی کو پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم ڈی سی اسلام آباد نے سیکیورٹی وجوہات اور پولیس نفری کی کمی کی وجہ بتا کر درخواست مسترد کر دی تھی۔

    بھارتی کرکٹر کیخلاف آسٹریلیا میں ریپ کیس ٹرائل شروع

    صنم جاوید کو سینیٹ کا الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کا تحریری فیصلہ جاری

    ماسکو حملے میں 100 سے زائد لوگوں کی زندگی بچانے والا 15 سالہ …

  • خاتون کی قابل اعتراض تصاویر وائرل کرنیوالے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

    خاتون کی قابل اعتراض تصاویر وائرل کرنیوالے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون کی قابل اعتراض تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانے والے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

    باغی ٹی وی : لڑکی کی قابل اعتراض تصاویر فیس بک اور واٹس ایپ پر شیئر کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت عدالت نے مسترد کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ملزم حسیب کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی جائزہ رپورٹ کے مطابق ملزم نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا، ملزم نے لڑکی کے والد ، شوہر اور دوستوں کو تصاویر بھجوائیں اور فیس بک پر بھی اپلوڈ کیں، معاشرے میں یہ جرم بہت عام ہو گیا ہے، لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں ہوتے ہیں تو لڑکیاں اپنی قابل اعتراض تصاویر لڑکوں کو بھیج دیتی ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ لڑکے اور لڑکی کا تعلق ٹوٹنے پر لڑکے قابل عتراض تصاویر فیس بک پر اپلوڈ یا لڑکی کے دوستوں اور فیملی ممبرز سے شیئر کر دیتے ہیں، یہ تصاویر لڑکیوں کے لیے زندگی بھر کی رسوائی کا سبب بن جاتی ہیں اور ان کی فیملی لائف تباہ ہو جاتی ہے اکثر کیسز میں لڑکیوں نے خودکشی بھی کی ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

    احد چیمہ کے دو بیٹوں کی فیس معا فی کا معاملہ، ایچی سن کالج کے …

    عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کے پروڈکشن آرڈر جاری

    سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری