Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • آڈیو لیکس کیس ، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے ذاتی حیثیت میں طلب

    آڈیو لیکس کیس ، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے ذاتی حیثیت میں طلب

    آڈیو لیکس کے خلاف نجم ثاقب اور بشری بی بی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس کیس میں ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے کو 19 فروری 2024 کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،

    بشری بی بی اور سردار لطیف کھوسہ کی آڈیو آڈیو ٹیپ کیسے ہوئی ؟ کس نے لیک کی ؟ اکاؤنٹ ہولڈر کون ہے ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی آئی بی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ آئی بی اس حوالے سے تحقیقات کرکے تفصیلی رپورٹ جمع کرائے جسٹس بابر ستار نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے وزیر اعظم آفس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آڈیو ٹیپنگ کی آئی ایس آئی، ایف آئی اے ،آئی بی کسی ایجنسی کو بھی آڈیو ٹیپ کرنےکی اجازت نہیں،ایف آئی اے کو پہلے دیکھنا ہے کس نے کال ریکارڈ کی، عدالتی احکامات کے بعد ایف آئی اے ٹیلی کام کمپنیوں کو لکھ رہا ہے ایف آئی اے کو سن آئی پی ایڈریسز تک رسائی چاہیے ہوگی اگر کوئی حکومتی ایجنسی ریکارڈنگز کر رہی ہے تو غیر قانونی کر رہی ہے آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا فلیٹ فارمز سے رپورٹ لینی پڑے گی، تب ہی تحقیقات آگے بڑھ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے سپشل رپورٹ جاری کر دی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ 20 دسمبر 5 بجے معلوم ہوا کہ چیئرپرسن بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر مہارنگ بلوچ کی قیادت میں کچھ مظاہرین پشاور ٹول پلازہ پر جمع ہیں ،مظاہرین 08 گاڑیوں پر 12 بچوں اور 45 خواتین سمیت تقریباً 250 مظاہرین تھے، ایس ایس پی اور ایس پی صدر نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے،مظاہرین کو H-9 سیکٹر میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جگہ کی پیشکش کی،مظاہرین نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،دوسرے آپشن کے طور پر F-9 پارک میں رہنے کی پیشکش بھی کی گئی،مظاہرین زبردستی اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں داخل ہوئے،مظاہرین نے 26 نمبر چونگی پر سڑکیں بلاک کرنا شروع کر دیں،اسی دوران تقریباً 250 مظاہرین، جن میں سے کچھ لاٹھیوں سے لیس تھے، نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے اور دونوں طرف کی سڑکیں بند کر دیں،پولیس نے مظاہرین کو آگاہ کیا کہ ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی عائد ہے،

    پریس کلب کے باہر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور الزام پولیس پر عائد کیا،پولیس نے مجموعی طور پر 300 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 5 خواتین شامل ہیں،مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں اور ریاست اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی،

    جو لوگ بلوچستان سے آئے ان کی طرف سے کوئی شرانگیزی نہیں کی گئی لیکن کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی، فواد حسن فواد
    حکومت کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کی ہے، نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کل مظاہرین اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے، وزیر اعظم نے مزاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، ہم نے مزاکرات کیے بچوں اور عورتوں سے بھی ملے،

    فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ جب مظاہرین اسلام آباد پہنچے تو انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا، پولیس نے مظاہرین کو دو جگہوں کی آفر کی،پریس کلب کے باہر کئی خواتین تئیس دنوں سے بیٹھی ہیں، پریس کلب کے باہر بیٹھی خواتین کو انتظامیہ نے کچھ نہیں کہا،مظاہرین اور پولیس کے درمیان کلیش ہوا، مجبورا پولیس کو مظاہرین کو گرفتار کرنا پڑا،بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ریاست کو مجبور کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں،صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی،کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی ، چہرہ ڈھانپ کر کچھ لوگوں نے پتھراو کیا جس کے بعد صورتحال خراب ہوئی ، جو لوگ بلوچستان سے آئے تھے ان میں سے کسی نے شرانگیزی نہیں کی ،احتجاج روکنا مقصد نہیں تھا ، احتجاج تو 23دن سے جاری ہے ،جولوگ بلوچستان سے آ رہے تھے ان میں سے کسی نے کوئی تشدد نہیں کیا ،کچھ لوگوں کی شناخت اور تحقیقات کا عمل جاری ہے،وزارتی کمیٹی نے قابل شناخت تمام افراد رہا کردئیے ۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بلوچ مظاہرین کے لیے سیشن عدالت سے بڑی خبر،بلوچ ہیومن ایکٹویسٹ مہارنگ بلوچ سمیت 33 بلوچ مظاہرین کو عدالت پیش کردیا گیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام 33 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،بلوچ مظاہرین کو جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا،پانچ ہزار کے ضمانتی مچلکوں اور ایک لوکل شورٹی کے عوض ضمانت منظور کر لی گئی.

    گرفتار بلوچ خواتین کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت بھی وزیر اعظم کے کہنے پر کوئٹہ واپس نہیں جائینگے،ہم پریس کلب جائیں گے .

    دوسری جانب نیشنل پارٹی کے صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے ٹیلوفونک رابطہ ہوا ہے، انہوں نے بلوچ لانگ مارچ کے شرکاء کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شریک خواتین اور بچوں پر رات گئے تشدد اور گرفتاری پرتشویش سے آگاہ کیا.

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا،کوہلو اور بارکھان میں سینکڑوں افراد کا احتجاج، بلوچستان پنجاب شاہراہ بند کر دی گئی، کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے باہر دھرنا شروع ہو گیا،

    دوسری جانب بلوچ لانگ مارچ پر تشدد کیخلاف عدالت نے آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا تھا، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نےسماعت کے دوران آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا۔پٹیشنرز کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ پر امن بلوچ مظاہرین کل اسلام آباد پہنچے جن پر لاٹھی چارج اور فورس کا استعمال کیا گیا، پر امن مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا جو غیر قانونی ہے، مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،دوبارہ سماعت ہوئی،تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہو گئے،سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پاکستانی شہری ہیں اور احتجاج تو ان کا آئینی حق ہے، کسی نے کوئی دہشت گردی تو نہیں کی،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے عدالت میں کہا کہ مظاہرین کے پاس ڈنڈے تھے اور انہوں نے پتھر مارے جس سے کچھ لوگ زخمی ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آبادسے سوال کیا کہ پٹیشن میں 86 لوگوں کے نام ہیں ان کا کیا اسٹیٹس ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ لسٹ میں جو نام لکھے گئے ہیں ان کی کوئی تفصیل موجود نہیں، ترنول کی ایف آئی آر میں تمام لوگ رہا ہو چکے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ لوگوں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش بھی کیا ہے یا نہیں؟ تھانہ کوہسار کی ایف آئی آر کب ہوئی ہے؟ جس کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے ہم نے پیش کر دیا ہے،لاء افسر نے عدالت میں کہا کہ کچھ کو ڈسچارج، کچھ کو جوڈیشل اور کچھ کو شناخت پریڈ کیلئے رکھا ہے،عدالت نے آئی جی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے گا آپ کا کوئی آفیسر کوئی رکاوٹ نہ ڈالے، آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ہمارے ملک کے بچے ہیں ہم خیال رکھیں گے،عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے کل تک مزید رپورٹ طلب کرلی اور حکم دیا کہ آئی جی کل تک بتائیں کتنے افراد جوڈیشل ہوئے، کتنے گرفتار ہیں اور کتنے رہا ہوئے؟

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، دکانیں اور سڑکیں بلاک کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت تھانہ کوہسار اور تھانہ ترنول میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کیخلاف بی این پی نے گورنر بلوچستان کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی، گرفتار مظاہرین کی رہائی، انکے مطالبات کے حل کیلئے صدر، نگراں وزیراعظم اور دیگر سے ملاقات کریں گے، مسئلہ حل نہ ہوا تو گورنر استعفے دیں گے-

    علاوہ ازیں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچ مظاہرین سے مزاکرات کے لے کمیٹی بنا دی،کمیٹی تین وفاقی وزرا پر مشتمل ہے ۔کمیٹی فواد حسن فواد۔ مرتضیٰ سولنگی اورجمال شاہ شاملِ ہیں۔کمیٹی مظاہرین سے ابھی مزاکرات کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب آپ کا کیس ایک گھنٹے بعد سنیں گے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی بلا لیتے ہیں پھر تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں ، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا چودہ دسمبر کا فیصلہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا،

    وقفے کے بعد کیس کی سماعت ہوئی، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس کی تمام کارروائی ان کیمرہ کرا دی ہے ،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ملک میں ہیں ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی وہ ملک میں موجود ہیں،سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ ایف آئی آر پڑھ دیتا ہوں کہ اصل میں الزام کیا ہے ،پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل ان کیمرہ کرنے کا فیصلہ سنایا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے ان کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا ؟ملزمان پر فرد جرم کب عائد ہوئی ؟عدالت نے پوچھا کہ اس کیس میں مسئلہ ہو رہاہے ، ٹرائل کوئی کر رہاہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت کہا کہ مسٹر پنجوتھا یہاں ہیں ، یہ ٹرائل کر رہے ہیں، مسٹر پنجوتھا نے بتایا 14 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی ،13 دسمبر کو ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر 14 دسمبر کیلئے نوٹس ہوا تھا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا ملزمان کے اہل خانہ کو ٹرائل میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اہل خانہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کر سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر فرد جرم عائد ہو گئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فرد جرم عائد ہو گئی ہے ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بالکل انہیں پابند کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے ، میڈیا ، سوشل میڈیاپر سائفر کیس کی کارروائی پبلش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی ، عدالت نےٹرائل روکنے کی درخواست فوری منظور نہیں کی،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان نے سائفر کیس کی ان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا۔عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سائفر عدالت کا 14 دسمبرکا حکم نامہ اسلام آبادہائیکورٹ کے 21 نومبر کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں سائفرکیس کی رپورٹنگ پربھی پابندی عائد کردی جو خلاف آئین ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی، انصاف کو صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا دکھائی دینا چاہیے اس لیے انصاف کے تقاضے پورےکرنے کے لیے عوام اور میڈیا کی موجودگی میں اوپن ٹرائل ضروری ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ٹرائل کورٹ کا 14دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اس درخواست کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کااسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار،چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیئے

    رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں قابل اعتراض اور عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے والی لینگوئج استعمال کی گئی،مقدمات کی منتقلی سے متعلق ایسی درخواست کو انٹرٹین نہیں کیا جا سکتا،بانی پی ٹی آئی نے اپنے کیسز میں چیف جسٹس عامر فاروق کو بینچ سے الگ ہونے کے لیے درخواست دائر کی تھی

    عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقدمات سے الگ ہونے کے لئے درخواست دائر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اسلام آبا ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق عمران خان کے تمام کیسز سے خود کو علیحدہ کریں ان سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے، چیف جسٹس کا آفس سنبھالنے کے بعد جسٹس عامر فاروق نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے معاملے میں ون مین ہائیکورٹ کا تاثر دیا، انٹرا کورٹ اپیلوں کے علاوہ ہر سنگل اور ڈویژن بنچ میں چیف جسٹس عامر فاروق نے خود کو شامل کیا.

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

  • جعلی بیان حلفی،دس لاکھ روپے جرمانہ،اپیل مسترد

    جعلی بیان حلفی،دس لاکھ روپے جرمانہ،اپیل مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ: زمین تنازعہ کے مقدمہ میں جعلی بیان حلفی جمع کرانے پر اپیل ہرجانے کے ساتھ مسترد کر دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نےدرخواست گزار کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ 10 دنوں میں فریقین کو ادا کرنے کا حکم دے دیا،عدالت کو گمراہ کرنے ، حقائق چھپانے اور جھوٹے بیان حلفی جمع کرانے پر سیشن جج کو درخواست گزار کے خلاف کارروائی کا حکم بھی عدالت نے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ سیشن جج کریمنل کارروائی کر کے 6 ماہ میں رپورٹ پیش کریں،جسٹس طارق محمودجہانگیری نے شہری شکیل احمد کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا

    فیصلہ میں کہا گیا کہ درخواست گزار شہری نے کمپلینٹ فائل کرتے وقت ساتھی پٹیشنرز کے غلط بیان حلفی جمع کروائے ،غلط دستاویزات پیش کرکے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی،عدالت نے پوچھا کہ غلط بیانی اور دھوکہ دہی پر کیوں نا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے ؟ عدالتی سوال کا جواب دینے کے بجائے درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ فریقین کے مابین مفاہمت کا امکان ہے، مختلف وجوہات کی بنا پر التوا لیا جاتا رہا اور پھر عدالتی سوال کا جواب دینے کے بجائے وکیل تبدیل کر لیا، عدالتی سوال کا جواب دینے کے بجائے ایک سال تک معاملے کو لٹکانا توہین آمیز ہے،درخواست گزار نے اپنے حق میں فیصلہ لینے اور مذموم مقاصد کے لیے بدنیتی کے تحت حقائق چھپائے اور غلط بیانی کی ،

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

  • بلوچ طلبا بازیابی کیسَ:کیا ہم خود جب لاپتہ ہوں گے تب سمجھ آئے گی؟،اسلام آباد ہائیکورٹ

    بلوچ طلبا بازیابی کیسَ:کیا ہم خود جب لاپتہ ہوں گے تب سمجھ آئے گی؟،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد: بلوچ طلبا بازیابی کیس میں عدالت نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے کہا کہ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے، پھر آپ دونوں کو گھر جانا پڑے گا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کمیشن عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محسن اخترکیانی نے سماعت کی اس موقع پر نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، نگراں وزیر انسانی حقوق خلیل جارج اور لاپتہ بلوچ افراد کے اہل خانہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے، نگراں وزیراعظم انوار الحق عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے۔

    بلوچ طلبا بازیابی کیس کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے کہا کہ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے، پھر آپ دونوں کو گھر جانا پڑے گا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں شروع

    دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ مجموعی طور 69 طلباء لاپتہ تھے،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ وزیراعظم بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے، مزید 22 بلوچ طلباء بازیاب ہوگئے ہیں، 28 بلوچ طلباء تاحال لاپتہ ہیں، میں یقین دہانی کراتا ہوں تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں کریں گے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ بنیادی حقوقِ کا معاملہ ہے، جس کا پاکستان میں جو دل کررہا ہے وہ کررہا ہے، اس کیس میں سارے طالبعلم ہیں، یہ ہمارے اپنے شہری ہیں، پاکستان میں کوئی قانون نہیں، لاپتہ افراد کا الزام ہماری ایجنسیوں پرہے، یا تو بتائیں کہ دوسرے ملک کی ایجنسی نے بندے اٹھائے ہیں ، ایک مخصوص ادارے پر الزامات ہیں ،تحقیقات بھی اسی سے کرائیں گے ؟ ریاستی ادارہ کوئی کام کرے تو انہیں پراسکیوٹ کون کرے گا، ان میں سے کوئی دہشت گرد ہے تو کارروائی کریں، سوال بہت سادہ ساہے پیش کی گئی رپورٹ سےلگتا ہے اگر ہم کلبھوشن کا ٹرائل کرسکتے تو باقیوں کا بھی کرسکتے ہیں۔

    ملزم کو جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کا بھرپور وقع دیا جائے،لاہور ہائیکورٹ

    وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بہت سارے افراد عدالتی مفرور ہیں، کچھ افراد افغانستان چلےگئے، الخانہ کمیشن میں درخواست دے دیتے تو یہ افراد فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ پاکستان میں جس کا جو دل کر رہا ہے وہ کر رہا ہے، المیہ ہے کہ مقدمہ اندراج کے بعد خاموشی چھاجاتی، کیا ہم خود جب لاپتہ ہوں گے تب سمجھ آئے گی؟

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بلوچستان کا بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور یہاں انتظامیہ 365 کے تحت ایک کارروائی کرکے منہ دوسری طرف کر لیتی ہے ، جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں عدالت کے سامنے پیش کریں ، کسی ایجنسی کو استثنی نہیں کہ جس کو مرضی برسوں اٹھا کر لے جائیں ، پھر وہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کے حوالے کر دیں ، کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ کام ہوتے ہیں ، جو بھی لاپتہ شخص بازیاب ہوتا ہے وہ آکر کہتا ہے میں کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا ، بند کمروں میں کسی کی نہیں سنوں گا ، جو کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں۔

    فائرنگ کے مختلف واقعات ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ کوئی قانون سے ماورا نہیں، قانون کا یہ چکر چلے گا تو وہ لوگ بھی پراسکیوٹ ہوجائیں گے جو جبری گمشدگیاں کر رہے ہیں جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پولیس بندہ لیکر جاتی ہے بعد میں بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے، تھانے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہاں بندہ ہی نہیں، جبری گمشدگی والے کیسز میں لوگ آپ کے اپنے اداروں کے پاس ہیں ، سیکرٹری دفاع ذمہ دار ہیں کہ ان کے ادارے کسی ایسے کام میں ملوث نا ہوں، جبری گمشدگی کیسز کا حل نکال کر رہا کریں یا عدالت پیش کریں ، آج تک کسی اسٹیٹ کے ادارے کو ذمہ دار ٹھہرا کر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ جسٹس محسن اخترکیانی نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا مائنڈ بتا دیا ہے۔

    لاپتہ بلوچ شخص کی بہن عدالت کے سامنے بات کرتے ہوئے جذبات پر قابو نا رکھ سکیں اور رو پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف بلوچ اور کزن رشید بلوچ کو 2018 میں گرفتار کیا گیا ، سرفراز بٹی کہتے ہیں یہ چھوٹا سا مسئلہ ہے میرا سب کچھ رک گیا ، ہم سارا گھر ختم ہو گیا ہے چھ سال سے دھکے کھا رہے ہیں۔

    کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 470 پوائنٹس کا اضافہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے، پھر آپ کو اور وزیراعظم کو گھر جانا پڑے گا، دو ہفتے میں ان افراد سے ملاقات کریں اور مسئلہ حل کرائیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے سرفراز بگٹی سے کہا کہ اس معاملے پر سیکرٹری دفاع کو ہدایات جاری کریں اور ماتحت اداروں کو بلا کر پوچھیں بڑے واضح الفاظ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں ، سیکرٹری دفاع و سیکرٹری داخلہ بھی ذمہ دار ہوں گے ، مجھے رزلٹ چاہے یہ بچی آئندہ سماعت پر کہے کہ میرا بھائی واپس آگیا ہے، ان سے ملیں ان کو بلا لیں یا خود پریس کلب جائیں ان کی بات سنیں،نگران وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ دو دن میں مل لوں گا کھانے پر بلاؤں گا، بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت 10جنوری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 22 نومبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت عالیہ نے وزیراعظم سمیت وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو بھی آج عدالت طلب کیا تھا۔

    شہباز شریف رمضان شوگر ملز ریفرنس میں احتساب عدالت پیش

  • فواد چودھری کو بی کلاس فراہم،ملاقات کی بھی اجازت،عدالت میں جواب

    فواد چودھری کو بی کلاس فراہم،ملاقات کی بھی اجازت،عدالت میں جواب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: فواد چودھری کو جیل میں سہولیات اور وکلا و فیملی ارکان سے ملاقات کی اجازت دینے کا کیس کی سماعت ہوئی

    عدالتی حکم پر چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹن ر انوار الحق اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے،فواد چوہدری کو جیل میں بی کلاس فراہم کردی گئی ، فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی بھی اجازت دے دی گئی،چیف کمشنر نے فواد چوہدری کی درخواست پر عمل درآمد رپورٹ جمع کروادی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی رپورٹ آگئی ہے ،ٹھیک ہے آپ جا سکتے ہیں ،

    فواد چوہدری کو اہلیہ سے جیل میں پرائیویسی میں ملاقات کرانے کی اجازت مل گئی، عدالت نے فواد چوہدری کو جیل مینوئل کے مطابق طبی سہولیات بھی فراہم کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےڈپٹی سپرنٹینڈنٹ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ صاحب درخواست گزار کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ،جیل میں فیملی اور وکلاء ملاقات کی ملاقات پر آصف علی زرداری اور محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی روکا جاتا تھا، ایسے واقعات آپکے افسران کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں ، کتنے کیسز درج ہیں فواد چوہدری کے خلاف ،فیصل چودھری نے کہا کہ ایک کیس میں گرفتار ہیں باقی پتہ نہیں کتنے کیسز ہیں ،ایک کیس جہلم میں درج ہے اور ایک اور کیس پنجاب کے کسی شہر میں درج ہے ، عدالت نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں جیل سپرنٹینڈنٹ سے کیسوں کی تفصیلات منگوا لیتے ہیں ،

    گزشتہ سماعت پر عدالت نے چیف کمشنر کے خلاف توہین عدالت کارروائی کا عندیہ دیا تھا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کیس کی سماعت کی ،چیف کمشنر کو پٹیشنر کی جانب سے دی گئی درخواستوں کو زیر غور لا کر فیصلہ کرنے کی ہدائت کی گئی تھی،عدالت نے فواد چوہدری کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

  • ایون فیلڈ اورالعزیزیہ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج ہوگی

    ایون فیلڈ اورالعزیزیہ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج ہوگی

    اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی ایون فیلڈ اورالعزیزیہ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہو گی۔

    باغی ٹی وی: اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب کریں گے کمرہ عدالت میں رجسٹرار آفس سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے انٹری کارڈ پر داخلے کی اجازت ہوگی، سماعت کے دوران صرف مخصوص وکلا اور صحافیوں کو اندر داخلے کی کی اجازت ہوگی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 اکتوبر کو نواز شریف کی جانب سے دائر درخواستوں پر ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کیخلاف اپیلیں بحال کی تھیں، اپیلوں کی بحالی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں 23 اکتوبر کو نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کے بعد دائر کی گئی تھیں،گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف مری پہنچ گئے تھے،جہاں انہوں نے لیگی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی، آج نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں گے ،نوازشریف کے ہمراہ سینیئرلیگی رہنما بھی پیشی پر اسلام آباد جائیں گے۔

  • رینجر اہلکار اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھت  سے گر کر جاں بحق

    رینجر اہلکار اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھت سے گر کر جاں بحق

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھت پر جاتے ہوئے رینجر اہلکار پھسل کر نیچے گرنے سے انتقال کر گیا-

    ذرائع کے مطابق رینجر اہلکار اسلام آباد ہائیکورٹ کی دوسری منزل سے نیچے گر کر انتقال کرگیا، رینجر اہلکار کے گرنے کا واقعہ شام کے وقت ڈیوٹی تبدیلی کے وقت پیش آیا، رینجر اہلکار دوسری منزل سے نیچے گرا جس کے فوری بعد قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم رینجر اہلکار جانبر نہ ہو سکا۔
    https://x.com/ICT_Police/status/1726650144656113722?s=20
    ترجمان اسلام آبادپولیس کے مطابق دوران ڈیوٹی رینجر اہلکار حادثاتی طور پر ہائی کورٹ کی چھت سے گر کر زخمی ہو گیا زخمی اہلکار کو ہسپتال منتقل کیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکا جاں بحق ہونے والے رینجر اہلکار عطا اللہ کے پوسٹمارٹم اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی زیادتی کا شکار ڈھائی سالہ بچی کی عیادت

    لاہور: بجلی چوری کی روک تھام کیلئے پانچوں اضلاع میں سکیننگ میٹر نصب

    میٹروبس سروس میں چوری کی وارداتیں کرنیوالا لیڈی گینگ کو گرفتار

  • نواز شریف کی عدالت پیشی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکورٹی سرکلر جاری

    نواز شریف کی عدالت پیشی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکورٹی سرکلر جاری

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب کیسز میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل ہو گی

    کمرہ عدالت میں صرف مخصوص افراد، وکلا اور صحافیوں کو داخلے کی اجازت ہو گی، صدر اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو سماعت کی کوریج کیلئے 30 کورٹ رپورٹرز کے نام جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے قواعد و ضوابط سے متعلق سرکلر جاری کردیا،جاری سرکلر میں کہا گیا کہ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب 21 نومبر کو اپیلوں پر سماعت کریں گے، آئی جی اسلام آباد نواز شریف کی پیشی کے موقع پر مناسب سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں، کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلہ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری سکیورٹی پاسز سے مشروط ہوگا، درخواست گزار کی قانونی ٹیم کے 15 وکلاء کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے 5، 5 سرکاری وکلاء کو کمرہ عدالت میں داخلہ کی اجازت ہوگی،اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے 30 صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ملازمین ان انٹری پاسز سے مستثنیٰ ہوں گے،

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی ،نواز شریف آج لاہور سے مری پہنچیں گے، نواز شریف کل مری سے اسلام آباد آئیں گے،نواز شریف اپنی اپیلوں کی وجہ سے اسلام آباد میں قیام کریں گے،نواز شریف کی رواں ہفتے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات متوقع ہے، نواز شریف کی خیبرپختونخوا کی لیڈر شپ سمیت دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی امکان ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری