Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس،دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں،تحریری فیصلہ

    سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت اور اخراج مقدمہ کی درخواست مسترد ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا،دفتر خارجہ کے سابقہ اور موجودہ افسران بالخصوص سائفر بھیجنے والے اسد مجید کے بیانات ریکارڈ پر ہیں،دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں،اس بات سے انکار نہیں کہ شفاف ٹرائل ملزم کا بنیادی حق ہے آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزم کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز سے کسی قسم کا تعصب ظاہر نہیں ہوتا،عدالت میں پیش دستاویزات کے مطابق دفتر خارجہ کی پالیسی واضح ہے پالیسی کے مطابق سائفرکلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ ہے جسےغیرمجازافراد سے شیئرنہیں کیا جا سکت سائفر کو کچھ وقت کے بعد واپس فارن آفس جانا ہوتا ہے وکیل کےمطابق ملزم پابند تھےکہ حکومت گرانےکی غیرملکی سازش عوام کو بتاتے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ حکومت گرانے کی سازش سے عوام کو آگاہ کرنے دلیل میں وزن نہیں ،عمران خان بطوروزیراعظم فرائض انجام دینے کے بجائے سیاسی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے،آئین کاآرٹیکل248 بطو روزیراعظم فرائض کی ادائیگی پر استثنیٰ سے متعلق ہے پٹیشنرکا سائفر سے متعلق سیاسی اجتماع سے خطاب بطور وزیراعظم اداکی جانے والی ذمہ داریوں میں نہیں آتا،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

    سائفر کیس سننے والی خصوصی عدالت برائے آفیشل سیکرٹ ایکٹ نے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا

    سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،ایف آئی اے سپشیل پراسیکیوٹر رضوان عباسی
    کیس کی سماعت کے دورا ن اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہاکہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں،یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے ،سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،نعمان سائفر اسسٹنٹ کے پاس سائفر آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان ہے ، شاموں قیصر وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر آفیسر ، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر کا 161 کابیان ہے ،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،اعظم خان کبھی بھی اس کیس میں ملزم نہیں تھے بلکہ وہ گواہ ہیں ان کے ایک اعتراض کی وضاحت کر دوں ، ان کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر تھانہ کوہسار میں درج ہوئی تھی کچھ دنوں بعد انہوں نے اس کیس کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا کہا پیس آف مائنڈ کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ کہیں چلے گئے تھے پھر انہوں نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے

    نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماوں سے مشاورتی ملاقات کی ہے

    ملاقات میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ سعد رفیق شریک تھے،مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عطاء اللہ تارڑ بھی مشاورت میں شریک تھے،مشاورت میں نواز شریف کی قانونی ٹیم بھی شریک تھی،نواز شریف نے قانونی اور سیاسی امور پر رہنماوں سے مشاورت کی،قانونی ٹیم نے اجلاس میں کیسز کی صورتحال پر بریفنگ دی،نواز شریف کی قانونی ٹیم نے کیسز کا فیصلہ میرٹ پر لینے کی ہدایت کی،

    سابق وزیرعظم نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے ۔ نواز شریف نے پارٹی کو ملک بھر میں انتخابی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کر دی ،ن لیگ تمام صوبوں میں جلسے کرے گی ،نواز شریف خطاب کریں گے پنجاب میں نواز شریف اپنی انتخابی مہم کا آغاز قصور میں جلسے سے کریں گے، بلوچستان ،سندھ اور کے پی میں بھی جلسے کیے جائیں گے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کا معاملہ ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی نفری تعینات کر دی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 1200 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیںَ,اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر اور احاطہ عدالت میں پولیس و ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات ہیں ، بغیر کارڈ ہائی کورٹ کے تیسرے فلور پر جانے کی اجازت نہیں ، عدالت کے باہر صرف پولیس اور رینجر اہلکار موجود ہیں ، رجسٹرار آفس نے کمرہ عدالت کے لئے 108 کارڈ جاری کیے نون لیگ کے لیے 54 کارڈ ، کورٹ رپورٹرز کو 30 کارڈ ، لا افسران ، لیگل ٹیم کے لیے 24 کارڈ جاری کئے گئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    میاں نواز شریف کا قافلہ منسٹر انکلیو پہنچ گیا،میاں نواز شریف قانونی ٹیم کے ساتھ مشاورت کریں گے،میاں نواز شریف کچھ دیر میں ہائیکورٹ پیش ہوں گے،قبل ازیں سابق وزیراعظم نوازشریف مری سے اسلام آباد پھلگراں ٹول پلازہ پہنچے تواسلام آباد پھلگراں ٹول پلازہ پر اسلام آباد پولیس اور اے ٹی ایس کے جوانوں نے نوازشریف کے قافلے کو سکواڈ کرلیا ،جیمر اور ٹریفک پولیس کی گاڑیاں بھی سابق وزیراعظم نوازشریف کے قافلہ میں شامل ہوگئیں

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے،مریم نواز، جنید صفدر، دیگر فیملی ممبران بھی نواز شریف کے ہمراہ موجود ہوں گے میاں نواز مری کے راستے ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئےاسلام آباد پہنچیں گے،میاں نواز شریف کی اسلام آباد روانگی کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں،سابق وزیراعظم مری جھنگا گلی سے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں،میاں نواز شریف کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے قبل منسٹر انکلیو جانے کا امکان ہے وہ سابق وزیراعظم منسٹر انکلیو میں اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ٹھہریں گے،نواز شریف منسٹر انکلیو میں قانونی ٹیم سے مشاورت کریں گے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • سابق حکومت کے لگائے کتنے وفاقی سیکرٹری کام کر رہے؟ رپورٹ طلب

    سابق حکومت کے لگائے کتنے وفاقی سیکرٹری کام کر رہے؟ رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: نگران دور حکومت میں الیکشن کمیشن کے حکم پر افسران کے ٹرانسفر کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،

    اب تک سابق حکومت کے لگائے کتنے وفاقی سیکرٹری کام کر رہے ہیں ؟ عدالت نے تفصیل طلب کر لی،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن ٹرانسفر سے متعلق اپنے نوٹیفکیشن پر بلاامتیاز عمل کرائے، اگر آئندہ منگل تک الیکشن کمیشن کے حکم پر بلاامتیاز عمل نہ ہوا تو اس کیس میں آرڈر معطل کر دوں گا،الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن میں پولیس کا خاص طور پر لکھا، کتنے ٹرانسفر ہوئے؟

    سی ڈی اے میں تعینات ڈیپوٹیشن افسر ممبر پلاننگ کی تبادلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر آپ کے کہنے پر ٹرانسفر ہوئے تھے؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کہنے پر دونوں افسران ٹرانسفر ہوئے تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا ٹرانسفر سے متعلق آپ کے نوٹیفکیشن پر مکمل عمل درآمد ہو گیا؟ چھ آٹھ ماہ سے تو سیکرٹری ایجوکیشن وہی ہے، الیکشن کمیشن اس لئے ٹرانسفر چاہتا ہے کہ یہ وہ افسران پچھلی حکومت نے تعینات کئے تھے،کیا صرف یہی لوگ تھے جو تعینات تھے؟ یا کچھ سیکرٹریز بھی تھے؟ جو ابھی بھی موجود ہیں، پچھلی تاریخ پر پوچھا تھا کیا سات آٹھ ماہ سے تعینات سیکرٹری ایجوکیشن وہی ہے؟ آپ کو ایک اور موقع دے رہے ہیں اپنے نوٹیفکیشن پر بلاامتیاز عمل کرائیں،جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نگران وزیراعظم تھے انہوں نے ایک دفعہ بتایا نگراں دور میں الیکشن کمیشن سب کچھ ہوتا ہے، الیکشن کمیشن نگران دور میں اپنے احکامات میں پک اینڈ چوز نہیں کر سکتا، عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے الیکشن کمیشن کو ایک اور موقع دے رہی ہے،

    عدالت نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ پولیس کا نام آپ نے خاص طور پر لکھا ہوا ہے کتنے لوگوں کی ٹرانسفر ہوئی؟ اس سے تو یہ بھی لگتا ہے الیکشن کمیشن کے آرڈرز کو مان ہی نہیں رہے،عدالت نے الیکشن کمیشن کو موقع دیتے ہوئے منگل تک سماعت ملتوی کردی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سی ڈی اے میں افسران کے تبادلوں کے واضح احکامات ،وفاقی ترقیاتی ادارے نے احکامات ہوا میں اڑا دیے

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

    اگر کلب کوریگولرائزکر دینگے توجو عام آدمی کا گھربن گیا اس کو کسطرح گرا سکتے ہیں؟ عدالت

    گھر غیر قانونی ہے تو کارروائی کریں،عدالت کا اہم شخصیت کی جانب سے سرکاری اراضی پر قبضہ کیس پر حکم

  • نیب مقدمات،عمران خان کی ضمانت کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا

    نیب مقدمات،عمران خان کی ضمانت کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی دو نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرانے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں ،وکیل عمران خان نے کہا کہ اِن درخواستوں پر وقت کی پابندی کا نیب کا اعتراض درست نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نواز شریف تو ہیں نہیں جو نیب مخالفت نہ کرے، چیئرمین پی ٹی آئی کا جہاں نام آ جائے نیب نے مخالفت کرنی ہوتی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ گرفتار تصور نہیں ہوں گے ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب نے اپنا بیان دیا ہے کہ اس کو گرفتار نہیں کیا گیا ،نیب کا اپنا طریقہ کار ہے چیئرمین نیب وارنٹ جاری کرتا ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں ،

    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری کے بعد تمام کیسز میں گرفتار قرار کیوں نہیں دیا گیا؟ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے اس حوالے سے فیصلے موجود ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے بغیر تو گرفتار نہیں کیا جا سکتا،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کیا ان کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا، میں وارنٹ جاری نہ کئے جانے کی وجوہات بتاؤں گا، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ جب چیئرمین پی ٹی آئی زیرحراست ہیں تو نیب ان سے تفتیش کیوں نہیں کر رہا؟ نیب چیئرمین پی ٹی سے تفتیش کیوں نہیں کر رہا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ جو کچھ ہو رہا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے الگ قانون اور دوسروں کے الگ ہے ،

    عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ آپ نے زیر حراست ہونے کی وجہ سے ابھی تک تفتیش شروع کیوں نہیں کی ؟وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہی بات تو ہم بھی کر رہے ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ رہے، آپ تو ضمانت کی درخواستیں بحال کرانے کی درخواستیں لائے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت بحال کی جائے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ایک شخص گرفتار ہو چکا تو عبوری ضمانت کیسے بحال ہو سکتی ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسی عدالت کے دوسرے بنچ نے ہماری چھ مقدمات میں عبوری ضمانت بحال کی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ جس بنچ نے یہ آرڈر پاس کیا میرا اُس سے اختلافِ رائے ہے، میں یہ کیس نہیں سن رہا، جس بنچ نے فیصلہ دیا وہی یہ کیس سنے گا، میرا موقف یہ ہے کہ ایک شخص گرفتار ہے تو دیگر مقدمات میں بھی گرفتار قرار دیا جائے گا،

    نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ دونوں کیسز میں وارنٹ گرفتاری موجود ہیں ، قانونی طور پر اس طرح ہم تفتیش نہیں کر سکتے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جو دونوں کیسز میں اس تحقیقات چل رہی ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی تحقیقات چل رہی ہیں ،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ میں متفق نہیں ہوں اس لئے دوسرے بنچ کے سامنے کیس لگایا جائے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چھ نومبر کو جسٹس طارق محمود جہانگیری آجائیں گے ،آپ کا کیس اسی روز اسی بنچ کے سامنے مقرر ہو گا ،جسٹس بابر ستار بینچ سے الگ ہو گئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت کرنے والے بنچ سے جسٹس بابر ستار الگ ہو گئے،چیئرمین پی ٹی آئی کا کیس اب نئے بنچ کے سامنے مقرر ہو گا

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    احتساب عدالت سے ضمانت مںظور ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    شہباز شریف ، خواجہ آصف سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی اسلام آبا د ہائیکورٹ پہنچ گئے، نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.حنیف عباسی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،نواز شریف کورٹ نمبر ایک میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے،سردار ایاز صادق ،ظفراللہ خان ، حافظ حفیظ الرحمان ،طارق فضل چوہدری ،امیر مقام،دانیال چوہدری،رانا تنویر،عطا تارڑ،سینیٹر افنان اللہ،حنا پرویز بٹ،مریم اورنگزیب ،خواجہ آصف ،اعظم نزیر تارڑ، محسن شاہنواز رانجھا کے ساتھ مسلم لیگ ن کے متعدد رہنما نواز شریف کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے

    چار سال اشتہاری رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرنڈر کر دیا

    سماعت کا آغاز ہوا تواسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت شروع، یہ کیا ہے ؟،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دو درخواستیں ہیں اپیلیں بحال کرنے کی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل سے مطمئن نہ ہوئے تو پھر ، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں مطمئن کرونگا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر ہم نیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی روٹین کا معاملہ نہیں، آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ آپ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟ نواز شریف نے جسٹیفائی کرنا ہے کہ کیوں وہ اشتہاری ہوئے؟، وہ عدالت کیوں پیش نہیں ہوتے رہے

    نواز شریف کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر عدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے ، عدالت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی، میڈیکل رپورٹس جمع کراتے رہے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اوررنگزیب نے نواز شریف کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات واضح کردوں آپ نے قانون کے مطابق چلنا ہے، کیا ملزم اپنی مرضی سے وطن واپس آ کر اپیلیں بحال کرانے کا کہہ سکتا ہے؟، کیا عدالت اپیلیں بحال کرنے کی پابند ہے؟ اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی معمول کا معاملہ نہیں،اعظم نذیر تارڑ نے استدعا کی کہ یہ فرسٹ امپریشن کا کیس ہے، ہمارے حفاظتی ضمانت کے آرڈر میں کچھ روز کی توسیع کر دیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کے سامنے اقرارکیا کہ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پر ہمیں اعتراض نہیں ہے،ہم نے اپیلوں کی بحالی سے متعلق درخواستیں پڑھی ہیں، ہمیں ان درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے،اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کیسز میں 5 سال بعد واپس آیا ہوں، سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کیا یہ وہی نیب ہے .آپ کو پتہ ہے عام عوام کا کتنا وقت اس کیس میں لگا ؟،بڑا آسان ہے عدالت میں الزام لگایا جائے ،میں کنفیوژ ہوں کہ کیا یہ وہی نیب ہے؟،2 ہائیکورٹس کے ریٹائرڈ جج اور پوری ریاستی مشینری اس وقت متحرک تھی، اب وہی نیب پیش ہو کر کہہ رہی ہے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ٹائم اور کیوں ضائع کرتے ہیں، کیا اب نیب یہ کہے گی کہ کرپٹ پریکٹسز کا الزام برقرار ہے، نوازشریف کو چھوڑ دیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب کہاں ہیں ؟،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ وہ ملک میں ہی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر عدالت ضمانت میں توسیع نہیں کرتی تو کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرے گا؟،جس طرح میں نے کہا میں اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں،چیئرمین نیب کے سامنے معاملہ رکھیں، کیوں عوام کا وقت دوبارہ ضائع کر رہے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اگر سمجھتا ہے کہ ریفرنسز غلط دائر ہوئے تو وہ واپس لے لے، اگر نیب نے ریفرنسز واپس لینے ہوں تو کیسے لئے جا سکتے ہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہائے کیا زود پشیماں کا پشیماں ہونا، ایسا نہ کریں، نواز شریف پر بہت سے الزامات لگائے گئے، نواز شریف کو عدلیہ اور آئین سرخرو کرینگے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو بھی تاریخ مقرر کریں گے آپ چیئرمین نیب سے ہدایات لے کر آئیں، آئندہ سماعت پر آپ کلیئر پوزیشن لیں، یہ آپ کے ادارے کےلئے بھی ٹھیک نہیں ، ہمیں واضح بتا دیں تاکہ ہم فیصلہ دے کر کوئی اور کام کریں، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں جواب دیا ،جی سر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا اور کہا کہ ہم پھر پوچھ رہے ہیں کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتا ہے؟ ، کیا حفاظتی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے،پراسکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ہم گرفتار نہیں کرنا چاہتے، حفاظتی ضمانت میں توسیع پر بھی کوئی اعتراض نہیں،عدالت نے کہا کہ شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ پوچھتے ہیں کیا آپ نوازشریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ نہیں، گرفتار نہیں کرنا چاہتے ،

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی، عدالت نے نیب سے جواب طلب کر لیا،نواز شریف کی سزا کیخلاف درخواستیں بحال کرنے کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا،عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی،عدالت نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں جمعرات تک توسیع کردی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 2 دن کی توسیع کی گئی.جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں کو میرٹ پر دیکھیں گے.

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے کمرہ عدالت سے تمام وکلاء لیگی رہنما اور صحافیوں کو باہر نکال دیا گیا،کمرہ عدالت میں کی سیکورٹی کلیرنس کے بعد لوگوں کو دوبارہ اندر آنے کی اجازت دی جائے گی

    نواز شریف کے کیسز پر سماعت مسلم لیگ ن کے وکلا اور رہنماؤں کی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاخیر کا شکار ہوئی، عدالتی عملے کی جانب سے کمرہ عدالت خالی کرانے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ جب تک کورٹ روم خالی نہیں کریں گے، بم ڈسپوزل سکواڈ سیکورٹی کلیئرنس نہیں کرے گا،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک نےبھی وکلا سے کمرہ عدالت خالی کرنے کی اپیل کی،عطا تارڑ کی جانب سے بھی وکلا اور ن لیگ رہنماؤں کو سیکورٹی کلیئرنس کے لیے کورٹ روم خالی کرنے کی ہدایت کی گئی،نواز شریف کیس میں مخصوص وکلا اور تیس کورٹ رپورٹرز کو کورٹ روم داخلے کی اجازت ہے

    واضح رہے کہ نواز شریف احتساب عدالت پیشی کے بعد منسٹر انکلیوچلے گئے تھے، نواز شریف احتساب عدالت آئے بھی منسٹر انکلیو سے تھے، وہاں سے پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تو انکے ساتھ 18 گاڑیاں تھیں، نواز شریف کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ملی،
    nawaz

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشی کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے نواز شریف کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی ہے نوازشریف کی سکیورٹی سکواڈ میں 3 سپیشل پولیس وینز شامل کی گئی ہیں،اے ٹی ایس اہلکاروں کا خصوصی دستہ بھی نواز شریف کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے.

    کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ؟ نواز شریف سے صحافی کا سوال، جواب نہ ملا،گارڈ کے صحافی کو دھکے
    نواز شریف کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر کوریج کرنے والے صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کرنے کی کوشش کی تو انہیں دھکے دیئے گئے، اس ضمن میں صحافی زبیر علی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوال پوچھا کہ کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ہے؟ جنرل باجوہ کا احتساب آپ کریں گے؟ میاں صاحب نے سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن ان کے گارڈز نے دھکے دیے موبائل چھننے کی کوشش کی

    صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن میں حصہ لیں گے،جس کے جواب میں نواز شریف مسکرا دیے،صحافی نے سوال کیا کہ ملڑی کورٹس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے؟ نواز شریف نے ججز کی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کورٹ آرہی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: میاں نواز شریف کا مرکزی گیٹ پر کارکنان کی جانب سے استقبال کیا گیا،کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،کارکنان کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے گئے،کمرہ عدالت کے اندر شدید بد نظمی، وکلاء نے نواز شریف کو گھیر لیا،وکلاء دھکم پیل کرکے زبردستی کمرہ عدالت میں داخل ہوگئے، پولیس کی ایک نہ چلی،کمرہ عدالت کا ڈیکورم شدید متاثر، لیگی وکلاء کمرہ عدالت میں ہی سیلفیاں لینے لگ گئے،لیگی رہنماؤں، وکلاء اور کارکنان کے سامنے اسلام آباد پولیس بے بس ہو گئی.

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، آج 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نواز شریف مری روانہ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کا سرکلر جاری

    نواز شریف مری روانہ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کا سرکلر جاری

    سابق وزیراعظم نوازشریف لاہور سے مری روانہ ہو گئے ہیں

    نواز شریف مری میں دو سے تین دن قیام کریں گے، نواز شریف کل احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوں گے، مری میں نواز شریف کی اہم ملاقاتیں ہوں گی،نواز شریف سخت سیکورٹی میں روانہ ہوئے،مریم نواز، پرویز رشید، اسحاق ڈار بھی نواز شریف کے ہمراہ ہیں

    دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کی کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے لئے سرکلر جاری کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کمرہ عدالت میں صرف ان افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی جنہیں رجسٹرار آفس سے داخلہ کارڈ جاری ہوں گے، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفسز کے 10 افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی، تیس صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہو گی، نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے

    دوسری جانب ن لیگی رہنما سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اس صدی میں پاکستان میں چار انتخابات ہوئے، نواز شریف کو تین انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا،2002 میں نواز شریف کو نا اہل کر کے جلا وطن کر دیا گیا۔ 2008 اور 2018 کے انتخابات میں بھی نواز شریف کو نا اہل کیا گیا۔ نواز شریف نے صرف 2013 کا انتخاب لڑا، وزیراعظم بنے اور پھر نا اہل کر دئیے گئے۔ کیا لیول پلینگ فیلڈ کا واویلا کرنے والوں کو کچھ یاد ہے؟

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، کل 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے، نواز شریف احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • اسلام آبا د ہائیکورٹ سے بھی نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آبا د ہائیکورٹ سے بھی نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،ن لیگی وکلا اعظم نزیر تارڑ ، امجد پرویز عدالت کے سامنے پیش ہوئے نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود اور نعیم سنگھیڑا ہائیکورٹ میں موجودتھے، دوران سماعت ن لیگی وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف ٹرائل کورٹ میں اشتہاری تھے اس میں وارنٹ معطل ہوگئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ کے پاس وہ آرڈر ہے؟ اعظم نذیر نے بتایا کہ آرڈر ہوگیا ہے،وکلا ابھی احتساب عدالت سے آرہے ہیں ،

    سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم حفاظتی ضمانت دے کر کیس پیر کو مقرر کردیتے ہیں ، وکیل نواز شریف نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے منگل کے لیے کیس رکھا ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی پر ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے 24 اکتوبر تک روک دیا ، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے احکامات جاری کئے، عدالت نے نواز شریف کو 24 اکتوبر کو ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا.

    عدالتی فیصلہ، نواز شریف اب لاہور ہی آئیں گے
    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ اب نواز شریف پہلے کے شیڈول کے مطابق لاہور ایئر پورٹ پر ہی اتریں گے، نواز شریف نے عدالت میں سرینڈر کرنے کے لئے دائر درخواست میں لکھا تھا کہ وہ عدالت پیش ہوں گے اور اسکے لئے انہیں اسلام آباد ایر پورٹ اترنا تھا تا ہم اب عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف لاہور ایئر پورٹ ہی لینڈ کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 24اکتوبر تک نواز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیاہے

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیز یہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گئی،توشہ خانہ کیس اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں4 سال رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • ہم نے جیل ہسپتال کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہم نے جیل ہسپتال کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کو اڈیالہ جیل میں سہولیات فراہمی اور فیملی ، وکلا ذاتی معالج سے ملاقات کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، وکیل شیر افضل مروت نے دلائل میں کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے میں کوئی ہدایت نہیں کہ وہ جس سہولت کے اہل ہیں وہ دی جائیں ، سنگل بنچ نے فیصلے میں بی کلاس دینے کا حکم نہیں دیا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاستفسار کیا کہ ابھی کتنے مقدمات عمران خان کے خلاف چل رہے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ ابھی وہ سائفر کیس میں جیل میں ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی عبوری حکم میں آپ کیا مانگ رہے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ ہم ورزش کے لئے جیل میں مشین مانگ رہے ہیں ، عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس کا طریقہ کار کیا ہو گا ؟ اٹک جیل میں تو آپ کو سہولیات حاصل تھیں ؟ وکیل نے کہا کہ اٹک جیل میں بھی ہمیں سہولیات حاصل نہیں تھیں نا اڈیالہ جیل میں ہیں ، ذاتی معالج ، فیملی ، وکلا کی ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دوسری طرف کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیتے ہیں ، ہم ان سے عمل در آمد رپورٹ بھی طلب کر لیتے ہیں ، جیل رولز کیا کہتے ہیں ؟ آپ اس حوالے سے بھی عدالت کی معاونت کریں ، وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے جیل رولز عدالت کے سامنے پڑھے گئے،وکیل نے کہا کہ سنگل بنچ کا فیصلہ آئے ایک ماہ گزر گیا لیکن جیل حکام نے اجازت نہیں دی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے جیل کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، آپ کی درخواست کے حوالے سے تحریری آرڈر پاس کریں گے ،

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ایم این اے صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے وکیل بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈاکٹر صاحب بندہ واپس آ گیا؟ جس پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ میں اس مرد حریت کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں جس نے بندہ بازیاب کروادیا ،عدالت حکم نامے میں لکھوادے کہ صداقت عباسی کیس میں اینکر کو پھل مل گیا، بابر اعوان کی استدعا پر کمرہ عدالت میں قہقے گونج اٹھے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے وکیل بابر اعوان کو جواب دیا کہ آپ نے ایک لائن میں پوری بات کردی پھر تو کیسں نمٹادیتے ہیں،

    واضح رہے کہ صداقت عباسی نے پی ٹی آئی چھوڑ دی اور ایک انٹرویو میں کہا کہ میں کہیں غائب نہیں تھا بلکہ اپنے دوست کے ہاں گیا تھا کیونکہ 9 مئی واقع کے بعد پولیس نے پکڑ دکھڑ شروع کی ہوئی تھی۔

    سانحہ مری،صداقت عباسی نے دیئے شہریوں کو اجتماعی طورپر پانچ سو روپے،ویڈیو وائرل

    ریلوے کس کے دور میں اچھی رہی، سعد رفیق یا شیخ رشید؟ کمیٹی میں انکشاف

    عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکلتے دیکھیں گے،خواجہ سعد رفیق

    ٹرمپ میرے خواب میں آئے ،بھارتی شہری نے ٹرمپ کے دورہ بھارت سے قبل ایسا کام کیا کہ سب حیران

  • شوہر کو تحفظ فراہم کیا جائے،بشریٰ بی بی کا ایک بار پھر  اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    شوہر کو تحفظ فراہم کیا جائے،بشریٰ بی بی کا ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد: چئیرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے شوہر کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی ہے-

    باغی ٹی وی : سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، اور چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سیکیورٹی کی درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی ہے بشریٰ بی بی نے درخواست میں مؤقف پیش کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، خدشہ ہے کہ شوہر کو جیل میں زہردیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 2 اکتوبر کو جیل میں سیکیورٹی کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے وکیل کے ذریعے درخواست جمع کرائی تھی، جس میں کہا کہ جیل میں میرے شوہر کو زہر دیئے جانے کاخدشہ ہے بشریٰ بی بی نے اپنی درخواست میں مؤقف پیش کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گھر کے کھانے کی اجازت نہیں دی گئی، جب کہ ماضی میں قیدیوں کو سہولت دی جاتی رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کو عہدے سے ہٹانے اور پارٹی کا انتخابی نشان واپس …

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ ذمہ دار میڈیکل افسر کے ذریعے عمران خان کو خالص خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ملاوٹ زدہ خوراک ان کی زندگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے سابق وزیراعظم کو جیل مینوئل کے مطابق وہ سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں جس کے وہ حقدار ہیں، ان کے ساتھ جیل میں غیرانسانی سلوک آئین کے آرٹیکل 9 اور14 کی خلاف ورزی ہے چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں واک اور ایکرسائز کی سہولت فراہم کی جائے، اور جیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کرایا جائے۔

    ورلڈکپ: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ