Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس:سول جج عاصم حفیظ کو نوکری سے برخاست کرنے کی درخواست دائر

    گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس:سول جج عاصم حفیظ کو نوکری سے برخاست کرنے کی درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں کم سن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے کیس میں سول جج عاصم حفیظ کو نوکری سے برخاست کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : درخواست سول سوسائٹی نیٹ ورک اسلام آباد کے صدر عبد اللّٰہ ملک نے دائر کی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آج سول جج عاصم حفیظ کو نوکری سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی-

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت اور ایڈوکیٹ جنرل افس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت طلب کر لی ،چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل احسن رضا اور اسٹیٹ کونسل کو روسٹرم پر طلب کر لیا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ سول جج کا معاملہ ویسے تو ایڈمنسٹریٹو سائیڈ پر ہے لیکن ہم جوڈیشل سائیڈ پر بھی دیکھیں گے ہمارے پاس اس حوالے سے تفصیلی درخواست آئی ہے ، بچوں پر تشدد اور چائلڈ لیبر سے متعلق فیڈریشن کو دیکھنا چاہیے ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران طیبہ تشدد کیس کا حوالہ بھی دیا کہا کہ اس سے قبل کم سن طیبہ تشدد کیس سمیت متعدد واقعات سامنے آئے ہیں ، ہم اس درخواست پر وفاق اور ایڈوکیٹ جنرل آفس کو نوٹس کر رہے ہیں –

    اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ ہمیں درخواست کی کاپی فراہم کی جائے تاکہ ہم نوٹس کی تیاری کرلیں ،جس کے بعد کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی-

    سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کم سن رضوانہ پر تشدد کے الزام میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں جبکہ سول جج کو تشدد کیس کے باعث لاہور ہائی کورٹ نے او ایس ڈی بنا رکھا ہے کمسن ملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں ملزمہ سومیہ عاصم کے شوہر اور سول جج عاصم حفیظ کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے طلب کر رکھا ہے جے آئی ٹی سول جج عاصم حفیظ کو 5 بار طلب کر چکی ہے، سول جج تاحال جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

    زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک انتقال کر گئے

    دوسری جانب اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ ہمیں بچوں کی محفوظ کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنازیشن کی جانب سے چالڈ ٹریفکنگ اور چائلڈ لیبر کے موضوع پر پریس کانفرس کا انعقاد کیا گیا جہاں معروف اداکارہ ماہرہ خان نے گفتگو میں کہا کہ ایسی بہت سی نوجوان لڑکیاں تھیں جن کے ساتھ یہ گھناؤنا سلوک ہوا اور یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر آج ہم نے موقف اختیار نہیں کیا اور ان مجرموں کو سخت سے سخت سزا نہ دی تو مستقبل میں ان گنت دیگر نوجوان لڑکیاں بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہوں گی۔

    ماہرہ خان کا مطالبہ تھا کہ فاطمہ اور رضوانہ کے معاملے مزید رپورٹنگ ہونے کی ضرورت ہے جب بھی کوئی واقعہ ہوتا تو اس کی خبریں چلتی ہیں لیکن پھر مجرم جیل میں چلے جاتے ہیں اور ہم چپ ہوجاتے ہیں لیکن ہوتا کچھ نہیں ہے ، ہمیں بچوں کو محفوظ کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے، انہیں تعلیم دینے اور ہنر سکھانے کی ضرورت ہے کہ تاکہ وہ کسی خود کمائیں بجائے اسکے کہ وہ کسی شیطان نما شخص کے گھر کام کریں ۔

    سمندری طوفان امریکی ریاست ٹیکساس کے ساحل سے ٹکرا گیا

    پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ ترقی نہیں کر سکتی اداکارہ نادیہ جمیل کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ جب تک مجرم کو سزا نہیں ملتی ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے ان گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اکثر بڑے اثر و رسوخ، طاقت اور یہاں تک کہ سیاسی پشت پناہی کے حامل ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کے لیے کسی بھی قسم کی سزا سے بچنا، آسانی سے اپنے جرائم سے بچنا ناقابل یقین حد تک آسان ہو جاتا ہے مجرمان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں قانون کی مکمل حد تک سزا دی جائے گی۔

    فریحہ الطاف کہتی ہیں کہ ایک ملک اس وقت تک کیسے باوقار ہوسکتا ہے جب تک اس کے بچوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے انہوں نے شکوہ کیا کہ جب بھی کوئی فاطمہ یا رضوانہ جیسا واقعہ تو باہر کے ملکوں وہ فرنٹ پر آتا ہے لیکن ہمارے ملک ایسے واقعات کو زیادہ کوریج نہیں دی جاتی ہم رضوانہ کے کیس سے دیکھ سکتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہم پڑھے لکھے سمجھتے ہیں وہ بھی بدترین مجرموں میں شمار ہوسکتے ہیں ہم رضوانہ اور فاطمہ کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سمیت ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

    یونان کے جنگلات میں لگی آگ پر چار روز بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا

  • آفریدی کیس،حراست میں رکھنا ہے تو اسکی وجوہات دینا ہوں گی ،عدالت

    آفریدی کیس،حراست میں رکھنا ہے تو اسکی وجوہات دینا ہوں گی ،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شہریار آفریدی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ ساتواں ایم پی او آرڈر پاس ہوا ملزم 90 روز سے جیل میں ہے ، عدالت کی ہدایت پر ایم پی او آرڈر پڑھا گیا ، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ اس سے پہلے ڈی سی نے کونسا ایم پی او کا آرڈر پاس کیا تھا ؟ شہریار آفریدی کے خلاف پہلے کا تھری ایم او آرڈر پڑھا گیا ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ سات مقدمات میں گرفتاری ہوئی پھر وہ ضمانت پر رہا ہو گئے ،سات ایم پی اوز کے آرڈر شہریار آفریدی کے خلاف اب تک غیر قانونی قرار دئیے جا چکے ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کون سی جگہ رہ گئی ؟ بلوچستان ؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ بلوچستان اور سندھ دو جگہیں رہ گئیں جہاں سے ابھی ایم پی او جاری نہیں ہوئے ،سرکاری وکیل کی جانب سے ایم پی او کا آرڈر پڑھا گیا،جسٹس بابر ستار نے کہاکہ کس تاریخ کو اکسا رہا تھا ؟ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں کچھ نہیں ، آپ نے کسی شہری کو حراست میں رکھنا ہے تو اس کی وجوہات دینا ہوں گی ، عدالت نے کل شہریار آفریدی کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

    عدالت نے ڈی سی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا اورڈی سی اسلام آباد سے کل تک 3 ماہ کے ایم پی او کا ریکارڈ طلب کر لیا عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ چار اگست کوشہر یار آفریدی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رہائی کے بعد فوری گرفتار کیا گیا ہے، شہر یار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے انہین رہا کرنے کا حکم دیا تھا

    نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے فوجی تنصیبات پر حملے کئے تھے، شہریار آفریدی کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کارکنان کو جی ایچ کیو کی طرف جانے کا کہہ رہے ہیں، شہریار آفریدی کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گزشتہ سماعت پر جیل حکام نے تصدیق کی تھی کہ آفریدی اڈیالہ جیل میں ہی ہیں.

  • عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی ٹرائل کورٹ سے سزا کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے اہیل پر سماعت کی،روسٹرم پر 35 سے زائد وکلاء موجود تھے، عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے وکلاء کو حراساں کرنے کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھا دیا ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی اور سسٹم کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں، وکلاء کو ہراساں کیا جارہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر کو چیمبر میں بلا لیا ، چیف جسٹس عامر فاروق نے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت کے بعد آپ میرے چیمبر میں آجائیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے جج ہمایوں دلاور کے خلاف کارروائی کی استدعا کردی. لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ملزم کے حق دفاع ختم کرنے کے خلاف اپیل آپ کے سامنے زیر التوا ہے،جب ایک کیس میں حق دفاع کی اپیل زیر التوا ہو تو ماتحت جج کیسے کیس کا فیصلہ سنا سکتا ہے، جج نے دو دن کا انتظار تک نہیں کیا، کل آپ حق دفاع ختم کرنے کے خلاف درخواست سنیں گے، ملزم کو سزا ہوچکی ہے اب آپ کیا درخواست سنیں گے؟ ایک ایڈشنل سیشن جج اگر عدالت کے حکم کی پاسداری نہیں کرے گا تو پھر یہاں کونسا نظام انصاف ہے؟ لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کی سزا آج ہی معطل کردی جائے،

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل کی درخواست پر لطیف کھوسہ نے روسٹرم پر آکر دلائل شروع کیے تو کیس کے مرکزی وکیل خواجہ حارث اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے ٹرائل کورٹ سے کیس کا سارا ریکارڈ طلب کر لیا

    عمران خان کے وکلا نے عدالت میں کہا کہ نوٹسز کررہے ہیں تو سماعت کل کے لیے رکھیں، جس پر عدالت نے کہا کہ ریکارڈ منگوانا ہے، کل سماعت ممکن نہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ عام حالات میں ، میں آخری آدمی ہوں جو کیس چھوڑ کر کسی جج پر بات کروں گا، دکھ ہوتا ہے جب ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی تمام گزارشات آرڈر میں آبزرو کریں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس کیس میں سزا معطلی عمران خان کا آئینی حق ہے، ٹرائل جج نے تیسرے ہی دن فیصلہ کردیا،تیسرے نہ صحیح، پانچویں دن فیصلہ کر دیتے،کیا جلدبازی تھی؟ اگر چھ ماہ بعد آپ نے اس سزا کو ختم کرنا ہے تو ایک دن بھی عمران خان جیل کیوں رہیں؟ توشہ خانہ کیس میں ایک بھی گواہ نے یہ نہیں کہا عمران خان نے جرم کیا ہے،اس کیس میں صرف جج صاحب نے کہا جرم ہوا ہے، اس کیس میں جرم کی نیت کا پہلو ہی موجود نہیں جس کی عدم موجودگی میں سزا ہو نہیں سکتی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اپیل اسی طرح سنی جائے جیسے روزانہ کی بنیاد پر جج ہمایوں دلاور نے ٹرائل چلایا، 5 اگست کو کیا کچھ ہوا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں بتایا خواجہ حارث نے اپنے ایسوسی ایٹ کے وٹس ایپ وائس نوٹ کا ٹرانسکرپٹ ججز کے سامنے رکھ دیا ،خواجہ حارث نے اہم تصاویر ججز کے سامنے رکھ دیں ،میں 5 اگست کو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں لیٹ کیوں پہنچا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں ثبوت دے دیئے،اور کہا کہ میرے منشی کو ہائیکورٹ داخلے سے روکنے والے افراد کی تصویر موجود ہے، میں نے منشی سے کہا کہ خود کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا آڈیو نوٹ بھیج دو، میں آڈیو نوٹ کا ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے لایا ہوں، اب عدالت دیکھ لے کہ یہ سزا معطلی کا مثالی کیس ہے یا نہیں۔جج نے کہا کہ فیصلہ کر چکا ہوں، اب آپ کو نہیں سن سکتا، جج نے مجھے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ سنانا شروع کر دیا،ہم نے کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف دو درخواستیں دائر کیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کیا،ٹرائل کورٹ نے ہمیں سماعت کا مناسب موقع دیے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کی توشہ خانہ میں سزا کو فوری طور پر معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کل میں نے میڈیکل چیک اپ کروانا ہے شاید میں کل دستیاب نہ ہوں، چھٹیوں کے بعد درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کر رہے، آپ فکر نہ کریں اگلے چار پانچ دنوں میں درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیں گے،

    قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہائیکورٹ بار روم آمد ہوئی،چیف جسٹس نے ہائیکورٹ سے بار روم جانے کے راستے کا افتتاح کیا ،بار روم سے ہائیکورٹ کی جانب جانے والے گیٹ افتتاح کے بعد کھول دیا گیا .گیٹ کھلنے سے بار روم سے بآسانی ہائیکورٹ تک رسائی ہوسکے گی صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک کی دعوت پر ججز نے بار روم کا دورہ کیا ، چیف جسٹس کے ساتھ دیگر ججز بھی شامل تھے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ،جسٹس طارق محمود جہانگیری بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھیں ،بار روم میں ججز سے ہائیکورٹ بار کے وکلاء کی ملاقات بھی ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر فریقین سے جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 1997 کی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا نئی مردم شماری کے نتائج جاری کئے جا چکے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلیوں کی نشستیں بڑھا کر حلقہ بندیاں کی جائیں

    شہری کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے فریقین سے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس عامرفاروق نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں  ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دے دی گئی ملک بھر میں نئے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونگے ،پہلی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 میں مکمل ہو چکی ہے

  • قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی پٹیشنر کی جانب سے شیر افضل مروت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئےوکیل شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گزشتہ روز ملاقات کا آرڈر کیا تھا، عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نےاستفسار کیا کہ انہوں نے ملاقات نہ کرانے کی کوئی وجہ بتائی؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھ بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، آرڈر لیٹ جاری ہوا تھا 6 بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، کل ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے، اور ایف آئی اے نے کل ایک وکیل کو بلایا اور آج خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا، میں ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر اس کو دیکھوں گا، خیال رکھیں قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، جو قانون میں ہے وہ آپ کو ضرور دیں گے۔

    وکیل شیر افضل نے استدعا کی کہ لسٹ کے مطابق اگر عدالت آرڈر کر دے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرڈرکردوں گا لیکن سیاسی اجتماع نہ بنائیے گا۔ جس پر وکیل شیر افضل نے یقین دہانی کرائی کہ سارے لوگ ایک دم نہیں جائیں گے، نوازشریف نے بھی اے کلاس سہولت لی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اے کلاس سہولت کے حقدار ہیں، لیکن انہیں 9×5 کے اٹک جیل سیل میں رکھا گیا ہے ، وہاں مچھر ہیں، حشرات الارض ہیں، بارش کا پانی بھی اندر گیا تھا۔

    جج نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش کے نام پر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو تنگ کیا جائے، قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے، ہر کسی کے حقوق ہیں، وکیل سے ملاقات کرانے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صرف یہ خیال رکھیں کہ اس کو سیاسی معاملہ اور وہاں پر رش نا بنائیں، ایک ایک، دو یا تین وکلاء مل کر چلے جائیں، اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں اس لیے قیدیوں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی رکھا جاتا ہے، کیا اٹک اور دیگر جیل بھجوانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل رولز کے مطابق اے کلاس کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، اٹک کی ڈسٹرکٹ جیل میں اے کلاس نہیں اس لیے وہاں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان کو بیرک کے بجائے سیل میں رکھا گیا ہے، رات کو بارش کا پانی بھی اس کمرے میں گیا جہاں چیئرمین پی ٹی آئی کو رکھا گیا ہو سکتا ہے سیکیورٹی کے باعث بیرک میں نا رکھا گیا ہوچیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا گیا تھا مگر اٹک جیل بھجوا دیا گیا۔

    چیف جسٹس استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل کے بجائے ڈسٹرکٹ جیل اٹک بھجوانے کا آرڈر کس نے کیا؟ ٹرائل کورٹ نے سزا دی مگر بطور قیدی حاصل حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صرف جیل میں اے کلاس کے حق سے محروم کرنے کے لیے اٹک جیل میں رکھا گیا، سابق وزیرِ اعظم کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دینے کا بھی آرڈر کیا جائے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ قیدی کی جیل منتقلی کا فیصلہ کون کرتا ہے، پرسوں تک پوچھ کر بتائیں۔وکیل شیر افضل مروت نے استدعا کی کہ اس کیس کو پرسوں کے بجائے کل سماعت کے لیے رکھا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ طبیعت خرابی کے باعث شاید کل میں دستیاب نہیں ہوں گا عدالت نے کیس کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔

  • توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت آج ہو گی

    توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت آج ہو گی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت آج ہو گی-

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ میں سزا معطلی اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست پر سماعت آج ہوگی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ 12 بجے کیس کی سماعت کرے گا،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری بینچ کا حصہ ہوں گے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک سزا معطل کی جائے اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے –

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت بھی آج ہوگی، گزشتہ روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامرفاروق نے درخواست پراعتراض دور کرکے پٹیشن کو نمبر لگانے کا حکم دیا تھا اور عدالت نے وکلا کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینے کا عندیہ بھی دیا۔

    جج ہمایوں دلاور کی لندن میں کانفرنس میں شرکت، پی ٹی آئی کا یونیورسٹی کے …

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت منگل کو چیف جسٹس کی درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں حراست غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    خورشید احمد ندیم قومی رحمت للعالمین اتھارٹی کے چئیرمین تعینات

    واضح رہے کہ اسلام آباد سیشن کورٹ نے 5 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا سنائی تھی توشہ خانہ کیس میں ان کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے ہیں اسلام آباد کی عدالت نےتوشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور پانچ سال کیلئے نااہل قراردے دیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔

  • تین وکلا کوچیئرمین تحریک انصاف سےجیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی

    تین وکلا کوچیئرمین تحریک انصاف سےجیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین وکلا کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی اٹک جیل سےاڈیالہ منتقلی اورسہولیات فراہمی کی درخواست پررجسٹرارآفس کے اعترا ضات ختم کردیئے گئے عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست کل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی،اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے تین وکلا کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی۔

    وکیل شیر افضل مروت ، عمیر نیازی اور نعیم حیدر پنجھوتھا کو عدالت نے ملاقات کی اجازت دی اور حکم دیاکہ اٹک جیل حکام تینوں وکلا کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی سہولت فراہم کرے اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ وکلا وکالت نامہ پر دستخط اور ہدایات لینے کے لیے ملاقات کرنا چاہ رہے ہیں۔

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے

    واضح رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔

    قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی گئی

  • سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

    سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

    خواجہ حارث کی طرف سے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع کی استدعا
    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا

    توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ کل جاری ہو گا چیئرمین پی ٹی آئی کی کیس دوسری عدالت منتقلی درخواست پر بھی کل فیصلہ جاری ہو گا ،ٹرائل کورٹ میں حق دفاع بحال کرنے کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،حق دفاع بحالی کی درخواست پر سماعت کے دوران حکم امتناع کی درخواست پر بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے آج چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر آج فیصلہ محفوظ کیا .عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد آٹھ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا

    توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کا ٹرائل روکنے اور کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ بھی روسٹرم پر موجود تھے

    وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ میں ایک چیز آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں 31 جولائی کو 342 کا بیان ہوا ،کل ہم نے گواہوں کی لسٹ عدالت میں جمع کرائی اور کہا 24 گھنٹے میں گواہ دستیاب نہیں ہو سکے ،ٹرانسفر درخواست پر جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ٹرائل کورٹ حتمی فیصلہ نہیں دے سکتی ،اس میں کیا جلدی ہے ایک دن بھی گواہ لانے کے لیے نہیں دیا گیا ،ہم نے حق دفاع ختم کرنے کا کل کا آرڈر بھی آج چیلنج کیا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے کہا آج گیارہ بجے دلائل دیں نہیں تو میں فیصلہ محفوظ کر لوں گا اس سے جج کا تعصب ظاہر ہوتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی جج سے متعلق ایف آئی اے کی ایک رپورٹ بھی آئی ہے، وکیل نے کہا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ جج کے فیس بک اکاؤنٹ سے وہ پوسٹ نہیں ہوئی،یکطرفہ رپورٹ کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ تو ہے ، آپ کی ٹرانسفر درخواست جانبداری کی بنیاد پر ہے ؟آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے میں عدالت کے سامنے اپنی گزارشات رکھتا ہوں ،عدالت ٹرائل کورٹ کو مزید کاروائی آگے بڑھانے سے روکے ،ہائیکورٹ میں آج ہماری آٹھ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں ، میرے حوالے سے ٹرائل کورٹ نے لکھا کہ انہوں نے سسٹم کو تباہ کر دیا ہے ،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا سسٹم پرفیکٹ نہیں اس میں کچھ خامیاں ہیں ،ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ خامیاں ختم ہو سکیں۔ میری خواہش ہے کہ ہم رولز میں یہ ڈال سکیں کہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ہو ،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ دوسری درخواست دائرہ اختیار سے متعلق ہے، ہم نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ قانون کے مطابق مجسٹریٹ کے پاس جانا تھا،ہائیکورٹ نے ہماری کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل منظور کی،ہائیکورٹ نے اگر کیس ریمانڈ بیک کیا تھا تو کسی اور جج کو بھیجا جانا چاہئے تھا، عدالت نے استفسارکیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کسی دوسرے جج کو آپکی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنا چاہئے تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے کیس کو ایک دن وقفے کے بعد لگانے پر اتنا زیادہ زور لگانا پڑتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ وکلاء جا کر پریس کانفرنسز کریں تو اس سے کیا اثر پڑے گا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کیسز سے متعلق ایک بحث صبح یہاں ہوتی ہے اور ایک شام کو ہوتی ہے،‏شام میں جو بحث ہوتی ہے اسکا یہاں ہونے والی بحث سے زیادہ اثر ہوتا ہے، شام کو ہونے والی بحث سے عوامی رائے بنتی ہے انکے دیکھنے سننے والے زیادہ ہوتے ہیں، اس عدالت کی سماعت میں تو زیادہ سے زیادہ پچاس سے ستر لوگ موجود ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمان کو سوچنا اور قانون بنانے چاہئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق پیمرا کا کوڈ اینڈ کنڈکٹ موجود ہے،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ زیرسماعت مقدمات پر تبصرہ نہیں ہو گا، خواجہ حارث نے کہا کہ زیرالتواء کیسز پر کسی فریق کو کوئی بات نہیں کرنی چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں الیکٹرانک میڈیا کی بات کر رہا ہوں کہ رات آٹھ سے بارہ بجے تک کیا چلتا ہے،خواجہ صاحب آپ نے پچھلے سالوں میں کافی سیاسی کیسز کئے، خواجہ صاحب،آپ کو کبھی آٹھ بجے کسی چینل پر نہیں دیکھا،پرانے وقتوں میں تو کہتے تھے کہ ججز اخبارات بھی نہ پڑھیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج کا یہ کام نہیں کہ وہ سوچے کہ فیصلے سے عوام کیا سوچے گی،

    سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت میں وقفہ کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین بجے کے بعد آپکی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوگی ، خواجہ صاحب بہت سنئیر وکیل ہیں، امجد پرویزنے کہا کہ خواجہ صاحب کی تعریف پر اب ہم جلنا شروع ہوگئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ میرے بھائی ہیں آپ کو یاد ہوگا بہت پہلے ہم دونوں اکٹھے ایک ایف آئی ار کا متن لکھا تھا، میں خواجہ صاحب کے سنئیر ہونے کی وجہ سے تعریف کررہا ہوں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کو بتا دیں کہ ہائیکورٹ میں دلائل جاری ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل ہو گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈویژن بنچ بھی ہے اور ایک اجلاس بھی بلایا ہوا ہے ،تین بجے کے بعد دوبارہ سماعت کرینگے

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسٹے ملے گا یا نہیں ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر جاری کرے گی ،

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف نہ مل سکا

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف نہ مل سکا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ فوجداری کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری ریلیف نہ مل سکا

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرکے آئندہ ہفتے جواب طلب کر لیا چیئرمین پی ٹی آئی کی حکم امتناع کی درخواست پر بھی آئندہ ہفتے کے لئے نوٹس جاری کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ، نہ ٹرائل رکا نہ جج تبدیل ، اب ٹرائل کورٹ کل سے ٹرائل آگے بڑھائے گی دو گواہوں کے بیانات ہوں گے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے آٹھ جولائی کو سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی ٹرائل کورٹ نے 8 جولائی کو کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ سنایا اس عدالت نے ٹرائل کورٹ کو سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا اس عدالت نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات کے جوابات دینے کا بھی کہا تھا عدالتی حکم کے مطابق ہمارے تمام سوالات کا جواب بھی نہیں دیا گیا تمام تر سوالات اہمیت کے حامل ہیں جن کا جواب آنا ضروری تھا، ہمارا اعتراض یہ بھی ہے کہ مجاز اتھارٹی نے کمپلینٹ فائل نہیں کی عدالت نے 8 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا اور 15منٹ بعد سنا دیا الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل کے 15 منٹ بعد ہی فیصلہ سنا دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں آئندہ سماعت کب ہونی ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں کیس کل سماعت کیلئے مقرر ہے ہائیکورٹ کیس دوسری ٹرائل کورٹ بھیجے تو دوسری عدالت کو بھیجتی ہے ، ایک جج جو اپنا مائنڈواضح کر چکا ہو اسے دوبارہ کیس نہیں بھیجا جاتا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    ٹرائل کورٹ نے آٹھ جولائی کو توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ دیا تھا ،چیئرمین پی ٹی آئی نے اپیل میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے کیس کے ٹرائل پر حکم امتناعی دینے کی بھی استدعا کر رکھی ہے

  • توشہ خانہ کیس:عمران خان کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کیس:عمران خان کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے آئندہ ہفتے کی کازلسٹ جاری کر دی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے،چیف جسٹس عامر فاروق 17 جولائی کو چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کریں گے-

    چیف جسٹس عامر فاروق کی طبیعت ناسازی کے باعث رواں ہفتے درخواست پر سماعت نہیں ہوسکی تھی ۔ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس قابلِ سماعت قرار دیا تھا چیئرمین پی ٹی آئی نے کیس قابلِ سماعت قرار دینے کا فیصلہ چیلنج کررکھا ہے ٹرائل کورٹ نے بھی کیس 17 جولائی کو سماعت کیلئے مقرر کر رکھا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کیس کے ٹرائل پر حکم امتناعی دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔

    توشہ خانہ کیس:عمران خان کل ذاتی حیثیت میں طلب

    چیئرمین پی ٹی آئی نے خواجہ حارث کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں 8 جولائی کا سیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہےدرخواست گزار نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی شکایت 120دن میں دائر نہیں کی گئی اور کیس ٹرائل کورٹ کو بھجواتے ہوئےقانونی طریقہ نہیں اپنایا گیا توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے ،استدعا ہے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    مایوسی کی باتیں کرنے والے غلط پروپیگنڈا کر رہے. آرمی چیف عاصم منیر