Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • چیئرمین پی ٹی آئی کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کی درخواست مسترد

    چیئرمین پی ٹی آئی کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کی درخواست مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کی ان کے وکیل کی عبوری ریلیف کی درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے9 مقدمات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدرعدالت میں پیش ہوئے ،سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کیلئے اسپیشل پراسیکیوٹرز نے پیش ہونا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سائبر کیس میں بھی 3 اسپیشل پراسیکیوٹرز کے سامنےدلائل دیئے، استدعا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائےعدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی عبوری ریلیف کی درخواست مسترد کردی اور ریمارکس دیئے کہ ایسی کوئی روایت نہیں ڈالنا چاہتے، یہ آرڈر نہیں کریں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    پولیس چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات کی رپورٹ جمع کرانے کیلئے مزید وقت طلب کرلیا وکیل سلمان صفدر نے مؤقف پیش کیا کہ ہم 6 ماہ سے رپورٹ مانگ رہے ہیں جو کہ نہیں دی جارہی، ہم اس وقت ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست دائر نہیں کرسکتے کیسز میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر نہیں کی،اورضمانت قبل از گرفتاری کے لیے خود عدالت پیش نہیں ہوسکتے۔

    سات دنوں میں ایک ارب یونٹ بجلی ریکور کی،پاور ڈویژن کا دعویٰ

     

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس کو اگلی جمعرات تک ملتوی کر دیتے ہیں جس پر وکیل سلمان صفدر نے استدعا کی کہ عدالت آئندہ سماعت تک عمران خان کو کسی اور کیس میں گرفتارنہ کرنے کے احکامات جاری کرےچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے، ان سے رپورٹ مانگ لی ہے جو آ جائے گی عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔

    جائیداد کی لالچ میں بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

  • آئی جی اسلام آباد نے جرمانے کی رقم شیریں مزاری کو ادا کردی

    آئی جی اسلام آباد نے جرمانے کی رقم شیریں مزاری کو ادا کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر آئی جی اسلام آباد نے جرمانے کی رقم شیریں مزاری کو ادا کردی۔

    باغی ٹی وی : شیریں مزاری کے ای سی ایل میں نام کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی،دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ جب مقدمات بنے تب گرفتاری کیوں نہیں کی؟، 2014 کے مقدمات کا کیا اسٹیٹس ہے؟ ای سی ایل میں بھی وفاقی حکومت ہی منظوری دیتی ہے ان مقدمات کو 10 سال ہوگئے ہیں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کیا وفاقی حکومت سے اجازت لی گئی؟

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے، جس پر حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہمیں تفتیشی ایجنسی لکھتی ہے تب ہی نام شامل کیا جاتا ہے وفاقی حکومت منظوری دیتی ہے جب کہ فہرست وزارت داخلہ تیار کرتی ہے، وفاقی حکومت اپنا اختیار کسی کو دے ہی نہیں سکتی، رولز میں سے وفاقی حکومت کا لفظ ہے ڈی پاسپورٹ کا لفظ نہیں۔

    ایشیا کپ سپُر فور مرحلہ:پاکستان اور بنگلادیش کی ٹیمیں ٹکرائیں گی

    عدالت نے استفسار کیاکہ کیا آئی جی اسلام آباد نے 25 ہزار جرمانہ ادا کیا ہے؟۔ آئی جی کو کہیں جرمانہ ادا کریں ورنہ توہین عدالت لگا کر جیل بھیجیں گےآپ نے عدالتی احکامات کو مذاق بنا رکھا ہےعدالت نے آئی جی اسلام آباد کو 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا، جس پر آئی جی اسلام آباد نے 25 ہزار روپے کا جرمانہ شیریں مزاری کو کمرہ عدالت میں دے دیا،شیریں مزاری نے جرمانے کی مد میں آنے والے 25 ہزار روپے شوکت خانم کو دینے کا اعلان کیا۔

    بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے 19 ستمبر تک ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

  • بشریٰ بی بی کی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری

    بشریٰ بی بی کی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ پر مقدمات، انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے حکم دیا کہ جو محکمہ جس روز رپورٹ جمع کرائے اس کے بعد ایف آئی آر یا انکوائری نہیں نکلنی چاہئے،اگر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو متعلقہ افسران ذمہ دار ہونگے، لاء افسران متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو یقینی بنائیں، عدالت نے درخواست کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں حکومت پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی درخواست گزار کے خاوند اور جیل میں قید ہیں، درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج ہیں،درخواست گزار کیخلاف مختلف حکام کی جانب سے نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور پولیس میں ایف آئی آرز، انکوائرئیز زیر التوا ہیں، عدالت تمام معلوم اور نامعلوم کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے، عدالت تمام کیسز میں درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کرے، عدالت درخواست گزار کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کا حکم دے،

     بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    رات کے اندھیرے میں بشریٰ بی بی،بزدار یتیم خانوں میں کیا کرتے تھے؟

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں اٹک جیل میں ہیں، عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہوئی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی، عمران خان اب بھی جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں نیب نے بشریٰ کو طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئیں، نیب نے القادر یونیورسٹی کس میں بھی بشریٰ کو طلب کیا تھا، بشریٰ نے عدالت سے ضمانت کروا رکھی ہے تا ہم پھر بھی انکو گرفتاری کا خوف کھائے ہوئے ہے، بشریٰ بی بی جیل میں عمران خان سے ملنے بھی جا چکی ہیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کا تھری ایم پی او معطل کرکے رہا کرنے کا حکم دے دیا

    پرویز الہی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی سی اسلام آباد کو منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کو آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پرویز الٰہی آئندہ سماعت تک کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیں گے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے 3 ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے پرویز الہیی کی فوری رہائی کا حکم دیا،

    لاہور ہائیکورٹ نے یکم ستمبر کو پرویز الہی کی رہائی کا حکم دیا ،لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کو کسی بھی اور کیس میں گرفتار کرنے سے روکا ،اسلام آباد پولیس نے لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر کو فرسٹریٹ کرنے کیلئے پرویز الہی کو گرفتار کیا،وکیل پرویز الہی نے عدالت میں کہا کہ معلوم پڑا ہے کہ اب پرویز الہی کو اٹک جیل سے نکال کر پولیس لائنز لایا گیا ہے،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ پرویز الہی کو پہلی بار کب گرفتار کیا گیا تھا؟ وکیل پرویز الہی نے کہا کہ پرویز الہی کو ابتدائی طور پر یکم جون کو گرفتار کیا گیا تھا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو پرویز الہی تین ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، کیا پرویز الہی اسلام آباد کے رہائشی ہیں؟ وکیل پرویز الہی نے کہا کہ پرویز الہی لاہور کے رہائشی ہیں، اسلام آباد میں بھی انکا گھر ہے، ایم پی او آرڈر میں لکھا گیا کہ پرویز الہی نے کارکنوں کو اشتعال دلایا

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا پرویز الہی کے خلاف اسلام آباد میں کوئی مقدمہ درج ہے؟ وکیل نے کہا کہ نہیں، پرویز الہی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے ،اسلام آباد پولیس نے پرویز الہی کو لاہور پولیس سے چھین کر دوسری گاڑی میں ڈالا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ایم پی او آرڈرز کو کالعدم قرار دے چکی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پھر اسی طرح کا ایم پی او آرڈر جاری کر دیا، کیا وہ اتنا طاقتور ہو گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الہی کی ایم پی او کے تحت نظربندی کا آرڈر معطل کر دیا

    پرویز الہیٰ کو تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا پرویز الہیٰ عدالت سے گھر جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اٹک جیل منتقل کر دیا، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چوہدری پرویز الٰہی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی ،وکیل نے کہا کہ صرف لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر کو فرسٹریٹ کرنے کیلئے پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا ،بغیر کسی وارنٹ اور آرڈر کے پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ کا حکم واضح تھا کہ ایم پی او کے تحت بھی گرفتار نہ کیا جائے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا اس پر کوئی اعتراض لگا ہے ،وکیل چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر موجود ہے کہ کوئی اتھارٹی کسی کیس میں گرفتار نہیں کرے گی ، ڈی سی اسلام آباد کو بھی آرڈر کیا گیا ہے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ آپ وہ آرڑد پڑھیں ،

    وکیل پرویز الہٰی نے لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر پڑھ کر سنایا ،وکیل پرویز الہٰی نے شہریار آفریدی کیس کا حوالہ بھی دیا، عدالت نے کہا کہ آپ کی درخواست پر آفس کے اعتراضات ہیں ، ابھی وہ اعتراضات ختم کر رہے ہیں ،عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

    پرویز الہیٰ کو تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا پرویز الہیٰ عدالت سے گھر جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اٹک جیل منتقل کر دیا، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • توشہ خانہ کیس،فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست،سماعت ملتوی

    توشہ خانہ کیس،فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ کیس میں فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپیل واپس لینے کی دوسری سماعت ہے، ابھی آپ کیا چاہ رہے ہیں؟پہلے ہفتے میں ہی آپ کی درخواستیں سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی دوسری درخواست پر اعتراضات برقرار ہیں،عدالت نے دیگر کیس 13 ستمبر کو مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں،  چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عدالت کا آئی جی اسلام آباد کو جرمانہ،شیریں مزاری کو دینے کا حکم

    عدالت کا آئی جی اسلام آباد کو جرمانہ،شیریں مزاری کو دینے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیریں مزاری کی ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست کی سماعت ہوئی،

    جواب جمع نہ کروانے ہر عدالت نے آئی جی اسلام آباد پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دی، عدالت کی جانب سے بار بار حکم کے باوجود جواب جمع نہ کروانے پر عدالت نے جرمانہ عائد کیا ، دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل آئی جی اسلام آباد 25 ہزار روپے پٹیشنر شیریں مزاری کو دیں ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری آرڈر جاری کردیا

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    واضح رہے کہ شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی، عدالت میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

  • عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے، سزا معطلی کی درخواست منظور کرکے 5 اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے، درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے،ٹرائل کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ پر سزا کا فیصلہ سنایا

    سزا معطلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قائم علی شاہ کیس کا حوالہ بھی شامل،اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے،عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے،” سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر کیس میں سزا معطل ہو ، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے ، اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے ، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے ، سزا معطلی کی درخواست منظور کر کے پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی، عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہفیصلہ باضابطہ طور پر کمرہ عدالت میں نہیں سنا رہے، عدالت نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا کہ تحریری فیصلے میں سزا معطلی کی وجوہات بتائی جائیں گی ،

    عدالت نے فیصلہ سنایا تو وکلا کی بڑی تعداد عدالت کے اندر موجود تھی، عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان اور علیمہ بھی کمرہ عدالت میں آئیں تا ہم 12 بج کر پچاس منٹ پر عمران خان کی بہنیں فیصلہ سنے بغیر ہی واپس چلی گئیں،،اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر بھی تعینات کی گئی تھی،درخواست پر 9 کو اگست پہلی سماعت ہوئی تھہ آج 20 روز بعد فیصلہ سنایا گیا، عدالت نے فیصلہ سنانے کا وقت گیارہ بجے کا مقرر کیا تھا مگر فیصلہ تاخیر سے سنایا گیا،

    فیصلے کے انتظار کے دوران وکلا کمرہ عدالت میں ویڈیو بناتے رہے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی عملے کی جانب سے تنبیہ کی گئی اور کہا گیا کہ ویڈیو نہ بنائیں، موبائل سائلنٹ کردیں، سیٹوں پر بیٹھ جائیں، کچھ ہی دیر میں ججز آنے والے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    عمران خان نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی جانب سے لطیف کھوسہ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ ایک دن میں فیصلہ کریں تا ہم ایک دن میں فیصلہ نہ ہو سکا، آج عدالت نے فیصلہ سنایا ہے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے،شہباز شریف
    عدالتی فیصلے پر سابق وزیراعظم، ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس کا "گُڈ ٹو سی یو” اور "وشنگ یو گڈ لک” کا پیغام اسلامآباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتہ ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔ اعلی عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟

    سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی،مجرم ابھی بھی مجرم ہے
    صحافی فیصل عباسی کہتے ہیں کہ سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی ہے اور کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔ مجرم ابھی بھی مجرم ہے اور الیکشن کے لیے نااہل ہے۔ قانون کے مطابق ٹرائل کورٹ سے تین سال کی سزا تک کو اعلی عدلیہ اس وقت تک معطل کر سکتی ہے جب تک اس کیس کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔ اس عمل میں سزا پھر بھی قائم رہتی ہے اور مجرم ، مجرم ہی رہتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت عمران خان کی سزا تب تک معطل کرے گی جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ سیکشن 426 کے مطابق یہ معطلی صرف اُس وقت تک ہے جب تک اسکی مین اپیل کورٹ میں پینڈنگ ہے.

  • توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دینے جج ہمایوں دلاور نے ہائیکورٹ رپورٹ کر دیا

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دینے جج ہمایوں دلاور نے ہائیکورٹ رپورٹ کر دیا

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دینے والے جج ہمایوں دلاور نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رپورٹ کر دیا ہے

    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رپورٹ کیا،تین دن قبل جج ہمایوں دلاور کواسلام آباد ہائیکورٹ نے او ایس ڈی بنا دیا تھا،رجسٹرار ہائیکورٹ نے او ایس ڈی بننے کے بعد ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی ہدایت پر ایڈیشنل رجسٹرار نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کو او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا

    آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج ہمایوں دلاور نے رپورٹ کر دیا ہے، جج ہمایوں دلاور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو 17 اگست کو خط لکھا تھا اور انہوں نے یہ خط برطانیہ سے واپسی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھا تھا.جج ہمایوں دلاور نے خط میں سکیورٹی وجوہات کے باعث ٹرانسفر کی درخواست کی اور کہا کہ میں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنایا، ٹرائل کے دوران اور فیصلہ سنانے کے بعد سوشل میڈیا پر میرے خلاف ایک مہم چلائی گئی جس کے باعث بیرون ملک سے میرے خاندان کو بھی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

    خط کے متن کے مطابق میرے بچوں کو اسکول جانے میں دشواری اور ناخوشگوار صورتحال کا سامنا ہے، میرے اور میرے خاندان کے افراد کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی۔ جبکہ جج ہمایوں دلاور نے خط میں کہا کہ ہل یونیورسٹی میں ورکشاپ کے دوران بھی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا ان وجوہات کی بنا پر درخواست ہے کہ میرا تبادلہ کسی اور جگہ کر دیا جائے، جوڈیشل کمپلیکس میں اسپیشل کورٹس یا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کیا جا سکتا ہے، آپ کی توجہ اور مناسب احکامات پر شکر گزار ہوں گا۔

    تاہم یاد رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے 6 اگست کو توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال کی قید، 5 سال کی نااہلی اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان توشہ خانہ فوجداری کیس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا