Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ  کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی س دوران صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ یا آپ ہیں یا ہم؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس کی کیا حیثیت،کس کا نام تم نے لے لیا خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے اگر آج نامعلوم پیچھے ہو جائیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے، باجوہ صاحب اب کیا کہیں گے کہ شہباز شریف 40 منٹ جھاڑ کھاتے رہے۔

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تو ہے ہی نہیں، سکیورٹی تو صرف اپنی ہے۔

    صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب آپ صحتیاب ہوگئے ہیں،کیا کوئی مذاکرات کریں گے؟پاکستان اور عوام کو سیاسی مفاہمت اور سیاستدانوں کی بات چیت کی ضرورت ہےاس پر عمران خان نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    تام انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور جو امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہوں ان کو لیول پلینگ فیلڈ کا کیا پتہ، مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ الیکشن کروائیں۔ ان کو کیا پتہ لیول پلینگ فیلڈ کا، یہ تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں۔

    ملک میں کس کی حکومت ہے؟ سوال کے جواب پر عمران خان نے کہا کہ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سب کو معلوم ہے۔ ملک میں رول آف لاء ختم ہوچکا ہے، اظہر مشوانی کو اغوا کیا گیا ہے اور حسان کی ضمانت ہوئی اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا۔

  • عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی:عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کررہے ہیں چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست پراعتراض دور ہو گئے ہیں، آپ کو پہلے بھی بتایا کہ بائیو میٹرک تو کہیں سے بھی ہو سکتی ہے وکیل نے کہا کہ میں معزرت خواہ ہوں اگلی بار دیکھ لیں گے، 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی بائیو میٹرک کا ایشو ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا 60 سال والوں کے انگھوٹے کا نشان نہیں ہوتا، ابھی تو ہم نے بائیو میٹرک بہت آسان کردیا ہے وکیل نے کہا عمران خان نے17 مارچ حفاظتی ضمانت لاہورہائیکورٹ سےکرائی تھی، 18 مارچ یہاں آئے لیکن انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت نہیں لے سکے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیوں ٹرائل کورٹ نہیں گئے؟ پہلے اس پرعدالت کی معاونت کریں، آخری سماعت پر کہا کہ ہم درخواست کے قابل سماعت ہونے کو دیکھ لیں گے، وکیل نےکہا کہ وہ ضمانت آج بھی گروانڈ پرموجود ہیں، درخواست گزار کی زندگی کی حفاظت ضروری ہے، ان پر ایک بار قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو لاء آرڈر کے حالات بناتے ہیں وہ آپ خود بنا رہے ہیں، اگر آپ عدالت پیشی پر 10 ہزار لوگوں کو لائیں گے تو لاء آرڈر کے حالات تو ہوں گےدوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کورٹ کو خود مخاطب کرنے کے لیے روسٹرم پر آ گئے، تاہم چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کو بات کرنے سے روک دیا اور ان کو واپس اپنی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات ہیں جو جینوئن ہوں گے، ان پر ایک مرتبہ حملہ بھی ہوچکا ہے۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کو روسٹرم پر بلا لیا، اور جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے متعدد بار چیف کمشنرکو سیکیورٹی فراہم کرنے کا کہا ،ایڈووکیٹ جنرل نےعدالت کوبتایا کہ ٹرائل کورٹ کوایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس شفٹ کیا گیا، عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن ماحول کو یقینی بنائیں، یہ وہاں گاڑی سے نہیں اترے اور ان کے لوگوں نے وہاں گاڑیاں جلا دیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ سیکورٹی فراہم نہیں کرتے تو پھر وہ کیا کریں، ہمارے پاس آج ہی ایک پٹیشن آئی کل سنیں گے، جب انتظامیہ غیر ذمہ دارانہ ہو گی تو پھرکیا ہوگا، کسی شہری سے متعلق کیا انتظامیہ ایسا کوئی بیان دے سکتی ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں دو سابق وزرائے اعظم قتل ہو چکے ہیں، ایک وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے، آج میں نے 7 ضمانت کی درخواستیں دائر کی ہیں، اور ہمیں جوڈیشل کمپلیکس داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

    چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ عمران خان بطور سابق وزیراعظم کس سیکیورٹی کےحقدار ہیں، وہ سیکیورٹی تو ساتھ ہی ہوتی ہوگی فواد چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

    چیف جسٹس نےاستفسارکیا کہ پٹیشنر اب اسلام آباد میں ہیں تو یہاں سیکیورٹی کس نے دینی ہے فواد چوہدری نے جواب دیا کہ یہاں سیکیورٹی وزارت داخلہ نے دینی ہے، اور وزیر داخلہ کا بیان تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہےچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی سے سلمان تاثیر کا واقعہ بھی ادھر ہوا ہے۔

    دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور فواد چودھری کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں نے بھی سیکیورٹی کے حوالے سے بات کی ہے۔ فواد چوہدری نے جواب دیا کہ نہیں، آپ نے یہ بات نہیں کی، آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے فواد چودھری کو جواب دیا کہ آپ سے زیادہ جھوٹ کوئی نہیں بولتا۔

    عدالت نے فواد چوہدری اورایڈووکیٹ جنرل کو کراس ٹاک سے منع کردیا، اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی 7 مقدمات میں 6 اپریل تک ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے پولیس کو عمران خان کو 7 مقدمات میں گرفتار کرنے سے بھی روک دیا۔

    عمران خان نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہےاور مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے مقدمات درج کیے گئے ہیں درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فریقین کو درخواست گزار کی گرفتاری سے روکے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے زمان پارک سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تھےعمران خان کے ساتھ اسلام آباد آنے والی گاڑیوں کو گولڑہ موڑپر روک لیا گیا اور ان کے ساتھ صرف 4 گاڑیوں کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دی گئی جس میں جیمر والی گاڑی بھی شامل ہے-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت


    عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر داخلے کی اجازت مل گئی، پولیس نے ہائیکورٹ سائیڈ پر تمام گاڑیوں کو روک لیا۔

    اسلام آباد پولیس نے غلام سرور خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے پولیس نے عمران خان کی پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ آنے والے ان کے فوٹو گرافر نعمان جی کو حراست میں لے لیاپولیس نے نعمان جی کے ہمراہ دیگر 3 کارکنان کو بھی قیدیوں والی گاڑی میں منتقل کردیا۔

    دوسری جانب عمران خان کی پیشی سے متعلق وفاقی پولیس نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں پولیس حکام کا کہنا ہےکہ ساڑھے 2500 اہلکار اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس موقع پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم بھی موجود ہوگی سیکیورٹی پلان کو مخلتف سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے، آنسو گیس، ربرکی گولیاں، واٹرکینن اورقیدی وین کے حوالےسے پلان فائنل کرلیا گیا ہے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان ممکنہ طورپر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑپھوڑ کے مقدمات میں ضمانت کیلئےرجوع کریں گے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے عمران خان کی عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر اعتراضات عائد کردیے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی عبوری ضمانت کی 7 درخواستوں پراعتراضات عائد کیےکہ عمران خان نےبائیو میٹرک نہیں کرایا اورٹرائل کورٹ سے پہلےہائیکورٹ میں کیسے درخواست دائر ہوسکتی ہے؟-

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

  • توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کے حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق عمران خان کے وکیل خواجہ حارث ایڈوکیٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کریں گے جس میں ممکنہ طور پر توشہ خانہ ضابطہ فوجداری کیس دوسرے جج کو منتقل کرنے کی درخواست پر فوری سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

    زمان پارک؛ پولیس پرپتھراؤ اور توڑپھوڑ کرنے والے 700 کارکنان کی شناخت کرلی گئی

    واضح رہے کہ جمعرات کو سیشن عدالت نے عمران خان کی تحریری یقین دہانی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے ریمارکس دیے تھے کہ میں نے تفصیلی فیصلے میں سب کچھ لکھ دیا ہے کہ وارنٹ ہوتا کیا ہے اور کب جاری کیا جاتا ہے سب کچھ لکھ دیا ہے، مید ہے فیصلہ پڑھ کر آپ کو مزا آئے گا۔

    عدالت کی جانب سےجاری تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہےکہ عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، درخواست گزار نے لاہور میں امن و امان کی صورتحال پیدا کی، ایسا رویہ عدالت کیلئے کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے، اس صورتحال کے بعد عمران خان کسی عمومی قانونی ریلیف کے مستحق نہیں، عمران خان کو عدالتی کارروائی کی خلاف ورزی پر ذاتی طور پر پیش ہونا پڑے گا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون معاشرے کے طاقت ور اور کمزور تمام طبقوں کے لیے برابر ہے ، یہ کوئی مذاق نہیں کہ قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے کے بعد انڈرٹیکنگ دے دی جائے ، لاہور میں قومی خزانے ، املاک اور لوگوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، عمران خان کے اس کنڈکٹ اور عمل کے بعد محض انڈرٹیکنگ پر وارنٹ منسوخ نہیں کئے جا سکتے، عمران خان کے وکیل نے وارنٹ پر عمل درآمد پر مزاحمت کو افسوس ناک قرار دیا۔

    دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ کی بڑی مقدار برآمد. آئی ایس پی آر

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عمران خان نے ریاست ریاست کی رٹ اور تقدس کو چیلنج کیا ، پولیس کی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے ظالمانہ طاقت کا استعمال کیا گیا، یہ تمام صورتحال پیدا کرنے کے بعد عمران خان وارنٹ گرفتاری معطلی کے حقدار نہیں ہے، عمران خان کے فالورز نے کئی پولیس اہلکاروں کو زخمی کہیں پولیس گاڑیوں کو جلایا۔

    عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں ان کے فالورز نے پولیس کے وارنٹ گرفتاری تعمیل میں رکاوٹ ڈالی، عمران خان کےکنڈکٹ اورعمل کے باعث غریب قوم کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے، قانون کے مطابق عوام پولیس کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد میں معاونت کی پابند ہے، عدالت طلبی کے باوجود مسلسل عدم حاضری پر ملزم کے وارنٹ جاری کرتی ہے۔

    علی امین گنڈاپور کی ایک اور آڈیو لیک؛ زمان پارک بندے پورے نہ لانے پر …

    فیصلے میں لکھا گیا کہ عدالت ناقابل ضمانت وارنٹ میں پولیس کو ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیتی ہے، وارنٹ گرفتاری ملزم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے پر منسوخ ہو جاتے ہیں، قابل ذکر ہے کہ پولیس نے عمران خان کو بلا تاخیر گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے، پولیس عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ پر پاکستان میں کسی بھی مقام پر عمل درآمد کرا سکتی ہے، جس پولیس افسر کو وارنٹ جاری کیا جاتا ہے وہ اس پر عمل درآمد کا پابند ہوتا ہے، عدالتی ریکارڈ کے مطابق عمران خان اس کیس میں کبھی عدالت پیش نہیں ہوئے اس عدالت نے چار بار عمران خان کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی۔

  • ای سی ایل، شہبازشریف،اسحاق ڈارکے نام کس پالیسی کے تحت نکالے گئے؟ عدالت

    ای سی ایل، شہبازشریف،اسحاق ڈارکے نام کس پالیسی کے تحت نکالے گئے؟ عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو لوٹنے کے کیس میں نیب کیس میں ملزم آدم امین چودھری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف، اسحاق ڈار ، سلیمان شہباز کے نام کس پالیسی کے تحت نکالے گئے؟ یہ دوہرا معیار نہیں چل سکتا، ان سب کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے تو درخواست گزار کا نام کیوں برقرار رکھا گیا؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اور وفاقی حکومت سب کیساتھ ایک جیسا سلوک کرے،

    عدالت نے ملزم کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا

    واضح رہے کہ شہباز شریف سمیت کئی ن لیگی رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں تھے تا ہم پی ڈی ایم کی حکومت آنے کے بعد ن لیگی رہنماؤں کے نام ای سی ایل سے نکال دیئے گئے، پی ڈی ایم کی حکومت آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤن کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں، شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، مونس الہیٰ کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تا ہم عدالت نے نام نکالنے کا حکم دے دیا تھا،عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے، فرح گوگی کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا گیا تھا تاہم فرح گوگی بیرون ملک چلی گئیں

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

  • ٹریان وائٹ سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم

    ٹریان وائٹ سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان نااہلی کیس میں ٹریان وائٹ کیس سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کی جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر لارجر بینچ میں شامل ہیں –

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان نے متفرق درخواست دائر کی ہے جس پر اعتراض عائد کیا گیا،نادرا نے بائیومیٹرک تصدیق سے انکار کر دیا ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کسی د کان پر چلے جائیں وہاں بائیومیٹرک ہو جائے گا،عمران خان کے وکیل نے گزشتہ سماعت پر اعتراض اٹھایا تھا،عمران خان کے وکیل کا موقف ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں-

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کے رکن قومی اسمبلی نہ ہونے پر درخواست قابل سماعت نہیں-

    مدعی کے وکیل اور سابق جسٹس حامد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان نے بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کوکاغذات نامزدگی میں ظاہرنہیں کیا لہذا ہماری استدعا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے،عمران خان حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں-

    عمران کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دو دفعہ الیکشن کمیشن اس معاملے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر عمران خان ممبر قومی اسمبلی نہیں تو پھر کیا صورت حال بنے گی ؟ مدعی کے وکیل اور سابق جسٹس حامد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان ابھی بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا لاہور ہائیکورٹ نے ابھی فیصلہ دیا ہے الیکشن کمیشن نا اہل نہیں کر سکتا؟ اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائی کورٹس اور عدالتوں کا ہے۔

    چیف جسٹس عمر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا حلف اٹھانے کیلئے کوئی مدت متعین ہے؟حامد علی شاہ نے کہا کہ قانون حلف لینے کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں کرتا،چودھری نثار حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں-

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے آیا تھا چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ عدالت کے سامنے پیش کریں-

    وکیل حامد علی شاہ نے دوران سماعت اپنے ہی لکھے پرانے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس عمر فاروق نے کہا کہ یہ تو آپ کا ہی فیصلہ ہے، چیف جسٹس کی نشاندہی پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں امیدوار کیلئے بیان حلفی جمع کرانے کی شرط رکھی تھی-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کے پاس غلط معلومات ملنے پر الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے، چیف جسٹس عمر فاروق بولے کہ کیس میں ایسا نہیں ہوا، اس الیکشن کو تو کسی نے چیلنج ہی نہیں کیا،فیصلے کیمطابق اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائیکورٹس اور عدالتوں کا ہے،اس فیصلے کو بھی دیکھ لیں گے-

    چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ حبیب اکرم کیس میں سپریم کورٹ نے بیان حلفی کاغذات کا حصہ بنایا، الیکشن ایکٹ کے مطابق زیر کفالت بچوں کی تفصیلات بتانا لازم تھیں، مگر بچوں کی تفصیلات بتانا تو لازم نہیں ہیں نا؟۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ تفصیلات لازم نہیں ہیں، مگر اثاثوں کی فہرست میں بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات بتانی ہیں، اس اعتبار سے بالواسطہ طور پربچوں کی تفصیلات لازم ہیں۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر تفصیلات غلط جمع کرائی گئی ہوں تو الیکشن ایکٹ کیا کہتا ہے؟۔ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ اگر تفصیلات غلط ہوں تو یہ کرپٹ پریکٹس میں آئے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ غلط تفصیلات پر الیکشن کمیشن نے 120دن کے اندر ایکشن لینا ہوتا ہے، اگر الیکشن کمیشن نے ایکشن نہیں لیا تو پھر بس نہیں لیا۔

    وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق پارٹی سربراہ کو پبلک آفس ہولڈر تصور کیا جائے گا، اس دوران عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بولنے لگے تو چیف جسٹس نے کہا کہ تحمل کریں، انکی بات بھی سن لیں کوئی جلدی نہیں ہے-

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل میں تو نہیں گیا؟وکیل نے کہا کہ معاملہ ٹربیونل میں گیا لیکن وہاں میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف 2 ریفرنسز مسترد کر چکا ہے؟-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج کیے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر بیان حلفی غلط ثابت ہوتا ہے تو اسکے کیا نتائج ہونگے؟وکیل درخواست گزار نے جواب دیا غلط بیان حلفی پر 62 ون ایف لگتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے سامنے فیصل واوڈا کیس موجود ہے، اسکو دیکھ لیجئے گا،

    عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ٹریان وائٹ کیس سے متعلق تمام ریفرنسسز ریکارڈ پر لانے کا حکم دے دیا اور سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کردی۔

    عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر لارجر بینچ کی سماعت 8مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ بدھ اور جمعرات کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا-

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بدھ اور جمعرات کو آپ دلائل مکمل کریں، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل سنیں گے-

    کیس قابل سماعت ہونے پر آئندہ بھی دلائل جاری رہیں گے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ :عمران خان کی گاڑی کواحاطے کےاندر جانے کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ :عمران خان کی گاڑی کواحاطے کےاندر جانے کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی گاڑی کواحاطے کےاندر جانے کی اجازت مل گئی-

    باغی ٹی وی: رجسٹرار ہائیکورٹ نے عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت دی،عمران خان نے بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا،عمران خان خان کورٹ روم نمبر ون کی جانب روانہ ہو گئے-

    واضح رہے کہ توشہ خانہ ریفرنس کے فوجداری کارروائی کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔

    عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سیشن کورٹ پیش نہیں ہوئے، جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ عمران خان کو عدالت نے آج طلب کر رکھا تھا۔

    سیشن جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کو بار بار موقع دیا لیکن وہ پیش نہ ہوئے، لہٰذا وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیا جائے۔ کیس کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی گی۔

  • آصف زرداری پر الزام تراشی:شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری

    آصف زرداری پر الزام تراشی:شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: آصف زرداری پر عمران خان کے مبینہ قتل کی سازش کے الزام کے کیس میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری کردیئے گئے۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کے روبرو شیخ رشید کی جانب سے درخواست ضمانت کے لیے وکیل سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ آصف زردای کیخلاف بیان پر میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ آصف زرداری نے کوئی شکایت نہیں کی، تیسرے فریق کی شکایت پر مقدمہ بنا۔ جیل میں ہوں اب مزید کسی تفتیش کے لیے پولیس کو میری ضرورت نہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ضمانت منظور کی جائے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 فروری تک جواب طلب کرلیا۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں،منشیات برآمد،ملزمان گرفتار

  • شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    اسلام آباد: سابق وفاقہ وزیرداخلہ اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی ضمانت کی درخواستیں مجسٹریٹ اور سیشن عدالت سے مسترد کی جاچکی ہیں جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی ہے۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    شیخ رشید کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ آصف زرداری کے خلاف بیان پر میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں ، آصف زرداری نےکوئی شکایت نہیں کی، تیسرےفریق کی شکایت پرمقدمہ بنا۔

    درخواست میں کہا گیا ہےکہ جیل میں ہوں، اب مزید کسی تفتیش کے لیے پولیس کو میری ضرورت نہیں، مچلکے جمع کرانے کے لیے تیار ہوں لہٰذا ضمانت منظور کی جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت 13 فروری کو ہوگی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    مری کی عدالت کا شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کاحکم

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

    شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ ہفتے کے روز تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔

    صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

  • شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد کی عدالت نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج ہوا، شیخ رشید کے مطابق عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق ان کے پاس شواہد موجود ہیں جو شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پولیس کو شیخ رشید کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکا گیا، شیخ رشید کا بیان بیرون ملک بھی نشر ہوا جس سے وہ انکاری نہیں۔

    عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرانسکرپٹ کے مطابق ثابت نہیں ہوتاکہ عمران خان نے شیخ رشید سے کوئی معلومات شیئر کی ہوں، شیخ رشیدکی عمران خان سے ملاقات ہوئی، ملاقات کی تفصیل دیے- بغیر آصف زرداری پر الزام لگایاگیا-

    تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شیخ رشید ایک طرف کہتے ہیں قتل کی سازش سے متعلق تمام معلومات ہیں لیکن پولیس سے شیئر نہیں کیں، شیخ رشید کے بیان سے دونوں سیاسی کارکنان میں اشتعال پیدا ہوسکتا ہے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ شیخ رشید سینئر سیاستدان ہیں اور ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سنجیدہ ہیں، شیخ رشید اپنے بیانات کے اثرات سے لاعلم ہیں، وہ ماضی میں بھی اس طرح کے غیرسنجیدہ بیان دے چکے ہیں۔

    عدالتی فیصلے میں شیخ رشید کی جانب سے الزام کو بار بار دہرانا ضمانت کی استدعا مسترد ہونے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہسابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں۔

    گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

    شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ ہفتے کے روز تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔

  • عمران خان نااہلی کیس: عدالت نے نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی

    عمران خان نااہلی کیس: عدالت نے نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی:مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کو کاغذات نام زدگی میں ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کو نااہل کرنے کی درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ نے کی،لارجر بینچ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل ہے، لارجربینچ بنانےکا فیصلہ سنگل بینچ پر اعتراض کے بعد چیف جسٹس نے کیا تھا ۔

    دوران سماعت عدالت نے عمران خان کیخلاف درخواست گزار کی نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی-

    درخواست گزار شہری محمد ساجد کےوکیل سلمان اکرم نےکہا کہ میں بھی کچھ دستاویزات جمع کراناچاہتا ہوں،عدالت کچھ وقت دیدے تاکہ میں بھی دستاویز ات جمع کروا دوں،عدالت نے عمران خان کی مزید دستاویزات جمع کرانے کی استدعا منظور کر لی-

    وکیل درخواست گزارسلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عمران خان کو کیس کے میرٹ پر تحریری جواب جمع کرانا چاہئے، عمران خان پارٹی کے سربراہ ہیں ان کے خلاف کیس قابل سماعت ہے، عمران خان ممبر اسمبلی نہ بھی ہوں تو بھی کیس قابل سماعت ہیں، ان کو میرٹ پر جواب بھی ابتدائی جواب کے ساتھ ہی دینا چاہئے-

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف نئی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست دائر کی گئی تھی،دستاویزات میں عمران خان کی 7 نشستوں سے ضمنی الیکشن میں کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی شامل تھانئی دستاویزات سے متعلق درخواست میں عمران خان کے خلاف ٹیریان وائٹ کیس سے متعلق پرانے فیصلے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    شہری محمد ساجد کی درخواست میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں اپنی مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔