Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کا کیس دوسری عدالت منتقل

    گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کا کیس دوسری عدالت منتقل

    ریسٹورنٹ ، ہوٹل ، بیکر اور کیٹرنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کے کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی ،صدر آل راولپنڈی ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن چوہدری فاروق عدالت میں پیش ہوئے،وکیل درخواست گزار ایڈوکیٹ عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے،عمران شفیق نے عدالت میں کہا کہ اس طرح کا ایک اور کیس پہلے ہی جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں زیر سماعت ہے، ہماری استدعا ہے کہ یہ کیس بھی اُسی عدالت میں یکجا کردیا جائے ، عدالت نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی

    آل راولپنڈی ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر فاروق چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گیس ٹیرف سے متعلق ہم نے اوگرا کے باہر احتجاج کیا تھا ،ہمارے احتجاج کے بعد اوگرا نے رابطہ کیا ہے ،وزیر مملکت مصدق ملک نے ہم سے آج ملاقات کا وقت طے کیا ہے، آج ہماری وزیر مملکت مصدق ملک سے میٹنگ ہے،امید ہے کہ گیس ٹیرف سے متعلق ہمارا مطالبہ پورا ہوجائے گا ،

    وکیل درخواست گزار عمران شفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا تھا ، آج ہائیکورٹ میں اس کیس کی سماعت تھی ،جسٹس بابر ستار نے سماعت کی یے ،ہم نے درخواست کی کہ اس طرح کا معاملہ پہلے ہی جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں ہے ،ہمارا کیس بھی جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت بھیج دیا جائے، ہماری استدعا پر عدالت نے فائل چیف جسٹس کو بھیج دی ہے، اب چیف جسٹس ہمارا کیس دوسری عدالت کو منتقل کریں گے،

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • ارشد شریف کا قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، ابھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارشد شریف کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کی، وزارت داخلہ اور خارجہ کی جانب سے ارشد شریف کے قتل سے متعلق رپورٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے پاس جمع کرائی گئی۔

    باغی ٹی وی :دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ارشد شریف کی فیملی کے پاس گیا ہے؟ کیا انہیں کوئی معاونت چاہئے؟،جس پربیرسٹر شعیب رزاق نے بتایا کہ ارشد شریف کی ڈیڈ باڈی آج پہنچ جائے گی-

    ارشد شریف کی موت،وزیراعظم کا کینیا کے صدر سے رابطہ ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    بیرسٹر شعیب رزاق نے عدالت سے استدعا کی کہ قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

    جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ارشد شریف کا قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، ابھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی ضرورت نہیں،ریاستی ادارے اس معاملے کو زیادہ بہتر حل کر سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وہ آج صرف اسی کیس کی سماعت کے لیے آئے ہیں، اس موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہوا ہے،کینیا کی حکومت کی جانب سے رپورٹ آ جائے، اگر انہیں اس پر کوئی اعتراض ہوا تو اس کیس کو مزید سن لیا جائے۔

    ارشد شریف کی کینیا میں ناگہانی وفات پر گہرا دکھ ہے۔ ترجمان پاک فوج

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انکوائری کے معاملے پر صحافتی تنظیموں کو آن بورڈ رکھا جائے،اس مرحلے پر کمیشن بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا-

    جس کے بعد کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

    قبل ازیں عدالت نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں ارشد شریف کیس کے سوا باقی تمام کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کر دی تھی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ روز سیکرٹری داخلہ اور خارجہ کو ارشد شریف کی فیملی سے رابطے کا حکم دیا تھا۔

    ارشد شریف کو گولی کیسے لگی؟ حقائق سامنے آ گئے

  • بہارہ کہو بائی پاس منصوبہ،آئندہ سماعت تک مزید کام عدالت نے روک دیا

    بہارہ کہو بائی پاس منصوبہ،آئندہ سماعت تک مزید کام عدالت نے روک دیا

    بہارہ کہو بائی پاس منصوبہ،آئندہ سماعت تک مزید کام عدالت نے روک دیا

    مری، کشمیر اور گلیات کے رہائشیوں، سیاحوں کے لیے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آبادہائیکورٹ نے بہارہ کہو بائی پاس منصوبے پر آئندہ سماعت تک مزید کام سے روک دیا قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسرز نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ،وکیل یونیورسٹی نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کی زمین استعمال کرکے بھارہ کہو بائی پاس بنایا جا رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا بھارہ کہو بائی پاس عوامی منصوبہ نہیں ہے ؟کیا قائداعظم یونیورسٹی کی عمارت گرا کر روڈ بنا رہے ہیں؟سعودی عرب میں تو مساجد گرا کر سڑک بنا دیتے ہیں،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے،سڑک قائداعظم یونیورسٹی کے اندر سے گزاری جارہی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سی ڈی اے کے پاس قائداعظم یونیورسٹی کو دی گئی زمین کا قبضہ ہے؟ وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ ہم نےجو زمین قائداعظم یونیورسٹی کو دی وہ تمام نقائص سے پاک ہے قائداعظم یونیورسٹی ایک ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بات نہ کریں، سی ڈی اے جس کے خلاف جانا چاہے اسے نادہندہ بنا دیتا ہے،پھر ٹھیکیدار کو کہیں قائداعظم یونیورسٹی کے اساتذہ کو اٹھا کر باہر پھینک دے،پھر یوں کرتے ہیں آپ سب لوگ موقع پر جائیں، جو جگہ دی جارہی ہے اسے فنانس کردیں،مجھے تو لگتا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کو زیادہ قیمتی زمین واپس دی جا رہی ہے قائداعظم یونیورسٹی کی کوئی عمارت متاثر نہیں ہورہی، پھر کیسے ا سٹے آرڈر دے دیں ؟وائس چانسلر کو بلالیتے ہیں کیا انہیں دی گئی زمین قبول ہے ؟ یونیورسٹی کا فیصلہ کسی فرد نے نہیں انتظامیہ نے کرنا ہے،کیا ماحولیاتی ایجنسی سے منصوبے کا ماحولیاتی جائزہ کرایا گیا جب تک ماحولیاتی ایجنسی سے منصوبے کی منظوری نہیں ہوتی کام روک دیں،

    اسلام آبادہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • بندہ اٹھایا ہی ہوا ہے ناں؟ بتا دیں کہیں مار تو نہیں دیا ؟عدالت کا استفسار

    بندہ اٹھایا ہی ہوا ہے ناں؟ بتا دیں کہیں مار تو نہیں دیا ؟عدالت کا استفسار

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ڈی آئی جی آپریشن کی عدم پیشی پر جسٹس عامر فاروق نے پولیس پر برہمی کا اظہار کیا ، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ڈی آئی جی آپریشن کہاں ہیں؟ ایس ایس پی آپریشن نے کہا کہ ڈی آئی جی آپریشن بیمار ہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی تو ٹھیک ہیں ناں؟ ان کو ہی بلا لیتے ہیں، اسلام آباد پولیس کا کنڈکٹ ہی اپنی عزت کرانے والا نہیں ہے، جس دن کورٹ کا نوٹس جاتا ہے اسی دن بیمار ہوتے ہیں؟ سمجھنا چاہتے ہیں آخر ہو کیا رہا ہے؟دنیا کو بھی پتہ چلے پولیس کر کیا رہی ہے؟دو باتیں ہیں، یا تو پولیس نااہل ہے یا دوسری پارٹی کے ساتھ ملی ہے، چار ماہ سے اس عدالت کے سامنے مختلف بیان دیئے جا رہے ہیں،یہاں آ کر بس کھڑے ہوجاتے ہیں کچھ کر ہی نہیں رہے، ایک بندہ خیبرپختونخوا سے آکرسی ٹی ڈی نے اٹھایا آپ کو مل نہیں رہا،بندہ اٹھایا ہی ہوا ہے ناں؟ بتا دیں کہیں مار تو نہیں دیا ؟ آٹھ ماہ سے بندہ غائب ہے اگرمار دیا ہے تو بتا دیں، آئینی حقوق بھی کوئی چیز ہے، کسی کیس میں گرفتار کرنا ہے تو کریں لیکن زیر زمین تو نہیں چلا گیا ؟ میں ایسا جج نہیں جو بلاوجہ آفیشلز کو بلاتا رہوں مجبور مت کریں کہ سب کو بلانا پڑے، عدالت نے ڈی آئی جی آپریشن ، ایس ایس پی آپریشن کو جمعے کوپیش ہونے کا حکم دے دیا،

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اداروں کے نام پر ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے سی ڈی اے کو اسلام آباد میں قائم غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لسٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا کہ سی ڈی اے کل تک غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لسٹ جمع کرائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے کی لسٹ کدھر ہے کہ کتنی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں ؟ سی ڈی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ابھی لسٹ میرے پاس نہیں ہے عدالت نے سی ڈی اے کو غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لسٹ کل تک جمع کرانے کا حکم دے دیا

  • شہباز گل کی ضمانت منسوخی کی درخواست  دائر

    شہباز گل کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    شہباز گل کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی ضمانت منسوخی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے

    حکومت نے شہباز گل کی ضمانت منسوخی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ہائیکورٹ نے حقائق کا صحیح جائزہ نہیں لیا ، 15 ستمبرکا حکم کالعدم قرار دیا جائے، درخواست سٹی مجسٹریٹ غلام چانڈیو کے ذریعے دائر کی گئی ہے ضمانت کی درخواست راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے دائر کی ۔

    واضح رہے کہ شہباز گل کو اداروں کے خلاف بیان دینے پر بغاوت کا مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کی درخواست ضمانت منظور کی تھی، شہباز گل اڈیالہ جیل میں رہے ،عدالت نے انکا ریمانڈ دیا تو شہباز گل کے کافی ڈرامے دیکھنے کو ملے،تا ہم عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انکی رہائی ہوئی

    شہباز گل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریریری فیصلے میں کہا تھا کہ شہباز گل کا بیان لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ تھا،پارٹی ترجمان اور ماہر تعلیم ہونے کے دعویدار سے لاپرواہ بیان کی امید نہیں تھی، افواج پاکستان کی جانب سے مقدمے میں کوئی شکایت نہیں کی گئی، افواج پاکستان کا نظم و ضبط اتنا کمزور نہیں کہ کسی سیاسی لیڈر کے لاپرواہ بیان سے متاثر ہوجائے پولیس کوئی شواہد نہیں دے سکی کہ شہباز گل نے پہلے یا بعد میں کسی افسر یا سپاہی سے رابطہ کیا، شہباز گل سے تفتیش مکمل ہوچکی ،مزید جیل میں نہیں رکھا جاسکتا،شہباز گل کو مزید جیل میں رکھنا بےسود ہوگا بلکہ ٹرائل سے پہلے سزا دینا ہوگا

    رہائی کے بعد شہباز گل کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تو عمران خان نے انہیں آرام کرنے اور گھر جانے کا حکم دیا.

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  • یہ دارالحکومت ہے تورا بورا نہیں ہے،کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    یہ دارالحکومت ہے تورا بورا نہیں ہے،کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    لاپتہ منیب اکرم کی بازیابی کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    لاپتہ شہری منیب اکرم کو پولیس نے چیف جسٹس کی عدالت میں پہنچا دیا ،عدالت نے بازیاب شہری منیب اکرم کو روسٹرم پر طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں ، کہاں تھے آپ ،جس پر بازیاب شہری نے عدالت میں کہا کہ میں حافظ منیب اکرم ہوں ، مجھے 19 اگست کو رات گھر سے کچھ لوگوں نے اٹھایا،میرا لیپ ٹاپ اور موبائل لیکر چیک کیا اور مجھے دھمکیاں دی گئیں، میں ڈر کی وجہ سے گاؤں چلا گیا اور موبائل بند کردیا،یکم اکتوبر کو گھر واپس آیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے اٹھایا؟ جس پر بازیاب شہری نے عدالت میں کہا کہ مجھے علم نہیں ، مگر سول کپڑوں میں لوگ آئے تھے، عدالت نے ایس ایچ او سے استفسار کیا کہ ایس ایچ او صاحب آپ کے علاقے یہ کیا ہورہا ہے ؟ عدالت نے بازیاب شہری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر چھ گھنٹے بعد آپ کو چھوڑا تو گھر کیوں نہیں بتایا، بازیاب شہری نے عدالت میں کہا کہ میں گھر والوں کو بتاتا تو گھر والے واپس لے آتے، اور مجھے دوبارہ اٹھائے جانے کا خوف تھا،عدالت نے ڈی ایس پی لیگل پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ کہانیاں نہ بتائیں باہر سے سی ٹی ڈی آکر اس عدالت کی حدود یہ چیزیں کررہی ہیں، اس عدالت نے کئی بار کہا کہ یہ عدالت اس قسم کے واقعات برداشت نہیں کرے گی ،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ عدالت کس کو قصوروار ٹھہرائے اب ؟ یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ بچہ سچ بول رہا یا جھوٹ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو بتائے بغیر کسی کی ہمت نہیں کہ ایسا کوئی کام کرے، آپ کو ریاست نے لوگوں کو تحفظ کے لیے رکھا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب بتائیں کہ اس کیس کا کیا کریں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کی ناکامی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست ناکام ہے تو کوئی اور کیسے ہمت کرے گا، اس عدالت کو پتہ ہے کہ پولیس کے علم میں لائے بغیر ایسا کچھ ممکن نہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ یہ بچہ صحیح سلامت واپس آ گیا ہے، نہ آتا تو پھر؟ جس ایس ایچ او کی حدود سے یہ لڑکا اٹھایا گیا پولیس نے اسکے خلاف کیا کارروائی کی؟ کیوں نہ اس ایس ایچ او سے آئی جی تک سب کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟ یہ دارالحکومت ہے تورا بورا نہیں ہے، یہ اتنے آرام سے ہو سکتا ہے کہ لوگ آئیں اور ایک لڑکے کو رات کو اٹھا کر لے جائیں؟

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

  • گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم بیان حلفی سے منحرف

    گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم بیان حلفی سے منحرف

    گلگت بلتستان سپریم ایپلیٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم بیان حلفی سے منحرف ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : توہین عدالت کیس میں رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیا معافی نامہ جمع کرا دیا رانا شمیم نے نئے معافی نامے میں بیان حلفی میں درج الفاظ واپس لے لیے۔

    کراچی سمیت ملک بھر میں مہنگا آٹا مزید مہنگا

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے لندن میں قلمبند کرایا گیا بیان حلفی غلط قرار دے کر توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے-

    رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیا غیر مشروط معافی نامہ داخل کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنے غلط اور غیر ضروری بیان حلفی پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔

    انہوں نے اپنے معافی نامے میں لکھا کہ بیان حلفی میں غلطی سے ہائیکورٹ کے جج کا نام شامل ہو گیا تھا، اپنی اس سنگین غلطی پر معافی کا طلبگار ہوں10 نومبر 2021 کے بیان حلفی میں جج کا نام غلط فہمی کی وجہ سےشامل ہوا، میں اپنے بیان حلفی کے متن کو واپس لیتا ہوں-

    حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر ملک بھرمیں جلوس اور مجالس

    رانا شمیم اس سے قبل بھی ایک معافی نامہ جمع کرا چکے جسے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اور عدالت نے انہیں دوبارہ جواب جمع کروانے کا موقع دیا تھا گزشتہ معافی نامے میں انہوں نے کہا تھا کہ چیف جسٹس کے بعد سینئر ترین جج کا نام بیان حلفی میں لکھنا تھا۔ سینئر ترین جج کی جگہ جسٹس عامر فاروق کا نام بیان حلفی میں غلط فہمی کی بنا پر لکھ دیا۔

    جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ غیرمشروط معافی عدالت سے متعلق نہیں بلکہ اپنے اقدام کا داغ دور کرنا ہوتا ہے۔اگر کوئی حقیقی معافی مانگے اور کنڈکٹ درست ہو تو عدالت کو معافی تسلیم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ رانا شمیم اگر اپنے بیان حلفی کے متن کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر بات تو برقرار ہے۔

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 37 افراد جاں بحق

    واضح رہے کہ رانا محمد شمیم نے 10نومبر 2021کو لندن میں ایک بیان حلفی قلمبند کرایا تھا جس میں سابق چیف جسٹس پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کو نواز شریف اور مریم نواز کو جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل ضمانت پر رہا نہ کرنے کیلئے کہا تھا۔

  • جو بھی فورم کسی کو بلاتا ہے تو احتراما جانا چاہیے،عدالت

    جو بھی فورم کسی کو بلاتا ہے تو احتراما جانا چاہیے،عدالت

    جو بھی فورم کسی کو بلاتا ہے تو احتراما جانا چاہیے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ سے نکلوانے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ عدالت کوئی غیرقانونی کام نہیں کر سکتی تو کوئی بھی نہیں کر سکتا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ میں کیسے ڈال سکتی ہے؟ یہ عدالت پہلے بھی کہہ چکی کہ ا سٹاپ لسٹ کے پیچھے کوئی قانون موجود نہیں، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ا سٹاپ لسٹ (پی آئی این ایل) بنائی گئی تھی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کسی قانون کے تحت بنانے کا حکم دیا ہو گا، اعظم خان سرکاری افسر ہیں وہ کونسا بھاگ کر جا رہے ہیں، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اعظم خان کو کئی بار بلانے کے باوجود پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا مخصوص اختیار ہے کیا وہ اس میں جا سکتی ہے؟ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اعظم خان کو کس معاملے میں طلب کیا تھا؟ وکیل نے کہا کہ اعظم خان کو طیبہ گل کیس میں طلب کیا گیا تھا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا طیبہ گل کیس کے دیگر ملزمان کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے مالم جبہ کیس میں اعظم خان کو طلب کیا، عدالت نے کہا کہ اس عدالت سمیت ہر ایک قانون کا پابند ہے، جو بھی فورم کسی کو بلاتا ہے تو احتراما جانا چاہیے، وکیل نے کہا کہ اعظم خان کی بیرون ملک سے واپسی کے بعد بلانے پر پیش ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خود کو شرمندہ نہ کریں، پی این آئی ایل کا کوئی لیگل ا سٹیٹس نہیں،ایسی کوئی وجہ نہیں کہ نام پی این آئی ایل میں شامل کیا جائے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اعظم خان کی 8 ستمبر کو روانگی اور 25 ستمبر سے پہلے واپسی ہے،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اس سے پہلے بھی پیش ہو سکتے ہیں، عدالت نے کہا کہ اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اعظم خان کو 8 ستمبر سے پہلے بلاتی ہے تو وہ پیش ہو جائیں،اعظم خان کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی، وکیل اعظم خان نے کہا کہ کیا ان کو بلانا صرف شرمندہ کرنا ہے یا واقعی کچھ پوچھنا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعظم خان کو اگر پارلیمنٹ میں طلب کیا گیا تھا تو انہیں جانا چاہیے تھا، عدالت نےعمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بلائے تو اعظم خان پیش ہو جائیں،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کی مزید جسمانی ریمانڈ لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کا معاملہ دوبارہ سیشن کورٹ کو بھیج دیا،عدالت نے کہا کہ سیشن جج درخواست سن کر اس کا میرٹ پر فیصلہ کریں اسلام آباد ہا ئیکورٹ نے سیشن جج کو درخواست پر آج ہی سماعت کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کی استدعا منظور کر لی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف درخواست قابل سماعت قرار دے دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ فریقین سیشن جج کے پاس پیش ہو کر دلائل دیں ،

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،اورعدالت میں کہا کہ شہبازگل سے تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ، مزید جسمانی ریمانڈ دیا جانا چاہیے تھا .قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اس کو قانونی طور پر دیکھا جائے، عدالت نے قانونی نقطے کو دیکھنا ہے،یہ درست ہے کہ جس کا کیس ہے وہ پولیٹیکل فِگر ہے،جس کا کیس ہے وہ سیاسی جماعت کا عہدیدار ہے وہ جو بھی ہے اس عدالت کے سامنے یہ بات بے معنی ہے،یہ بتائیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کیسے قابل سماعت تھی؟ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے پھر تو بات ہی ختم ہو گئی، کسی ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنا سنجیدہ معاملہ ہے،بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیشن عدالت کا ایک فورم موجود ہے کہ وہ سپروائز کر لے،سیشن عدالت دیکھ لے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کر دیا،

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت جسمانی ریمانڈ کی استدعا دیکھ لے وہ اہم ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ استدعا میں تو انہوں نے ہائیکورٹ سے ریمانڈ بھی مانگا ہے ، ہائیکورٹ تو نہیں دے سکتی،اس حد تک دلائل سن رہا ہوں کہ سیشن کورٹ میں اپیل سنی جا سکتی تھی یا نہیں ہائیکورٹ کا کام نہیں کہ وہ تحقیقات کو انٹرپٹ کرے تفتیش کرنا پولیس کا کام ہے اور اس کو سپروائز مجسٹریٹ نے ہی کرنا ہےملزم ہمیشہ عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے یہ ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں کہ وہ دیکھے کہ ملزم کا کتنا ریمانڈ دینا ہے،عدالت یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا سیشن عدالت نے اپنا اختیار درست استعمال کیا

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست سیشن عدالت میں قابل سماعت ہوئی تو پھر میرٹ پر دلائل سنوں گا، اگر درخواست سیشن عدالت میں قابل سماعت نہ ہوئی پھر تو ضرورت ہی نہیں،

    شہباز گل کے بیان کا ٹرانسکرپٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گِل کے خلاف بغاوت مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شہباز گل کے خلاف درج مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے، خارج کیا جائے،جو دفعات لگائی گئیں ان کی منظوری حکومت سے لینی تھی جو نہیں لی گئی،رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کے بیان کا ٹرانسکرپٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا ،وکیل نے کہا کہ شہباز گل کے بیان کا مخصوص حصہ لیا گیا ہے مقدمہ حکومتی ایما پر درج کرایا گیا،حکومتی وزرا خود اس سے زیادہ سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں،بغاوت مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ہے، ،اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو گرفتار کیا گیا ہے ، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • طیبہ گل کو ہراساں کرنے کیخلاف پی اے سی کو شکایت سے متعلق کیس کی ہوئی سماعت

    طیبہ گل کو ہراساں کرنے کیخلاف پی اے سی کو شکایت سے متعلق کیس کی ہوئی سماعت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں طیبہ گل کو ہراساں کرنے کے خلاف پی اے سی کو شکایت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سابق قائم مقام چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب کی اے پی سی میں طلبی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کی سفارش معطل کرنے کے حکم میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے وکیل کی استدعا پر کیس 13 ستمبر تک ملتوی کر دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ادھر تو چیلنج صرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائی کو کیا گیا اگر وہ نہیں چلا رہے تو یہ غیر موثر ہو جائے گا،

    واضح رہے کہ طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین نیب نے انہیں ہراساں کیا ہے،سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئی تھیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں، مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف