Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • شبلی فراز نے گرفتاری سے بچنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    شبلی فراز نے گرفتاری سے بچنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد:سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    باغی ٹی وی : شبلی فراز نے کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکنے اور مقدمات کی تفصیلات کے لیے درخواست دائر کر دی، درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈی جی ایف آئی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ شبلی فراز کے خلاف بے شمار من گھڑت اور جعلی مقدمات بنائے گئے ہیں، پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف 100 سے زائد مقدمات بنائے گئے ہیں، شبلی فراز نے درخواست میں استدعا کی کہ کسی بھی معلوم اور نامعلوم مقدمے میں گرفتا ر نہ کیا جائے، کسی بھی مقدمے میں گرفتاری عدالت کی اجازت سے مشروط کی جائے درخواست گزار کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے حفاظتی ضمانت دی جائے، درخواست گزار سے متعلق تمام مقدمات کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

    26ویں ترمیم (ن) اور (ش) کے گلے پڑے گی ،شیخ رشید

    دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 532 کارکنوں کی ضمانتوں کی درخواستیں منظور کرلیں۔

    انسداد دہشتگردی عدالت میں ملزمان کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ملزمان کی جانب سے انصر کیانی و دیگر وکلاء پیش ہوئے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے تمام 532 ملزمان کی ضمانتیں منظور کرلیں اور بیس بیس ہزار روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیدیا، ان سب کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور انہیں شناخت پریڈ پر بھیجا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس وین سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 86 ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ 28 ملزمان کو مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

    چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،اسحاق ڈار

     

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا  ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ لینے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ لینے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے خلاف درخواست منظور کرتے ہوئے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو ایک ماہ میں دوبارہ ٹیسٹ لینے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں نصاب سے باہر سوالات کے خلاف متاثرہ طلبا کی درخواستوں پر سماعت کی، پی ایم ڈی سی رپورٹ کے مطابق ایم ڈی کیٹ پیپر میں سوالات آؤٹ آف سلیبس تھے۔

    عدالت نے طلبا کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی ایک ماہ میں دوبارہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ لے، وکیل قاضی عادل ایڈووکیٹ کا کہنا ہےکہ امتحان میں 30 سوالات نصاب سے باہر کے تھے، ایک طرف اسلام آباد میں صرف تین لوگوں کا رزلٹ 190 سے اوپر آیا دوسری طرف پنجاب میں 2800 طلبہ ہیں ان کا مقابلہ کیسے ہوگا۔

    فیصلے پر طلبا نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مستقل خراب ہونے سے بچ گیا،متاثرہ طلباکے وکیل کا کہنا ہے کہ پیپر کی تیاری کے لیے ماہرین سے پیپر بنوایا جائے تاکہ طلبہ دوسری یونیورسٹیز میں جاکر مقابلہ کر سکیں۔

  • آئینی ترامیم کا ڈرافٹ پبلک کرنے کی درخواست پر سماعت

    آئینی ترامیم کا ڈرافٹ پبلک کرنے کی درخواست پر سماعت

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممکنہ آئینی ترامیم کا ڈرافٹ پبلک کرنے اور عوامی رائے لینے کا حکم دینے کے لیے سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی درخواست پر سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملہ زیرالتواء ہے ،پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کا پورا طریقہ کار موجود ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں قانون سازی سے پہلے کی بات کر رہا ہوں،آئینی ترامیم کے ذریعے آئین میں بنیادی سٹرکچر تبدیل کیا جا رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ اخبارات کی کلپنگ کی بات کر رہے ہیں ابھی تک کچھ معلوم نہیں، اخبارات میں تو آئینی بنچ کی بات بھی آرہی ہے، اگر آپ نیوز کلپنگ پر ہی جا رہے ہیں تو اس کے مطابق تو مشاورت جاری ہے،دس دن پہلے ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا پھر پتہ چلا فیک ہے یہ ہمارے ہاں ہی ہوتا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں کیس قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ ہے پشاور ہائیکورٹ نے نوٹس کر دیے،اگر مختلف ہائیکورٹس میں معاملہ ہے تو آپ سپریم کورٹ جا کر اکٹھے کروا سکتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • انتظار پنجھوتھ کی بازیابی کی درخواست پر وزارت دفاع سے رپورٹ طلب

    انتظار پنجھوتھ کی بازیابی کی درخواست پر وزارت دفاع سے رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے فوکل پرسن انتظار پنجھوتھ کی بازیابی کی درخواست پر وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی-

    باغی ٹی وی:اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن انتظار پنجھوتھ کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، آئی جی اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہوئے،دوران سماعت وکیل نے بتایا کہ انتظار پنجھوتھ کی آخری لوکیشن ایف 6 ہے جس کے بعد معلوم نہیں کہاں گئے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آخری لوکیشن کس جگہ کی ہے؟آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم بنائی ہے ایس ایس پی انویسٹیگیشن سربراہی کریں گے ، ڈیجیٹل سرویلینس ، سیف سٹی کیمروں سے ہم نے کوشش کی ہے، ایف 6 اور ایوب چوک کے کیمروں میں انتظار پنجوتھہ کی گاڑی نظر آتی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے مرزا آصف ایڈووکیٹ کے ساتھ وہ فیض آباد تک گئے۔

    آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ایک موبائل نمبر سامنے آیا ہے جو واٹس ایپ پر ہے ، واٹس ایپ لوکیشن ہم آئی بی سے لیتے ہیں ابھی کچھ معلوم نہیں ، آخری دفعہ گاڑی ایوب چوک دیکھی گئی ہے ، جبکہ وکیل مرزا آصف کے بیان کے مطابق وہ آخری دفعہ فیض آباد تھے ، ہم نے دیگر آئی جیز کے ساتھ گاڑی اور موبائل نمبر بھی شیئر کیا ہے۔

    چیف جسٹس کہا کہ آئی جی صاحب یہ کیوں ہو رہا ہے ؟ اس پر آگاہ کریں، وزارت دفاع سے رپورٹ منگواتا ہوں، اس کا مجاز افسر بھی بلاتا ہوں ، رپورٹ منگوا کر کل کے لئے کیس رکھ رہا ہوں۔

    وکیل نے کہا کہ ہمیں تو امید تھی کہ آئی جی صاحب انتظار پنجوتھہ کو لے کر آئیں گے، اس پر چیف جسٹس بولے کہ اگر آئی جی صاحب کے پاس کوئی ایسی چھڑی ہوتی تو وہ لے آتے،بعدازاں عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • کے پی  ہاؤس کو سیل کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    کے پی ہاؤس کو سیل کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    اسلام آباد :خیبرپختونخوا حکومت نے کے پی ہاؤس کو سیل کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : خیبر پختونخواہ حکومت نے سیکرٹری ایڈمن کے ذریعے درخواست جمع کرائی جس میں سیکرٹری قانون، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، ڈی جی ایف آئی اے، سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد اور ڈائریکٹر بلڈنگ اینڈ کنٹرول سی ڈی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

    کے پی حکومت نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی پراپرٹی کے پی ہاؤس کو غیر قانونی طور پر سیل کیا گیا، جس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ گئے تو کہا گیا کہ متعلقہ فورم اسلام آباد ہائیکورٹ بنتا ہے۔

    درخواست گزار نے استدعا کی کہ کے پی ہاؤس کو سیل کر کے سرکاری گاڑیاں تحویل میں لینے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے، خیبرپختونخواہ ہاؤس کو فوری ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے کے پی ہاؤس اسلام آباد سیل کرنے کے خلاف کے پی حکومت کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کی ہدایت کی تھی چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ فیڈریشن حکام نے اگر یہ کیا ہوتا تو ہم کیس سنتے، لیکن یہ تو لوکل اتھارٹی ہے، اس کے ساتھ ہم کیا کریں، آپ اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں، اگر یہاں پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کچھ کرے تو کیا آسلام آباد کورٹ اس پر کچھ کرے گی؟ایک صوبے کا ہاؤس سیل کرنا بالکل غلط ہے لیکن آپ غلط جگہ کیس لائے ہو، یہ کیس واپس لیں اور کل اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں۔

  • عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلا کی ملاقات نہ کرانے پر سیکریٹری داخلہ اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلا کی ملاقات نہ کرانے پر سیکریٹری داخلہ اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلا کی ملاقات نہ کرانے پر سیکریٹری داخلہ اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ توہینِ عدالت کی درخواست اس کیس میں نہیں بنتی، میں نوٹس جاری کر دیتی ہوں لیکن میں مطمئن نہیں ہوں-

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلا کی ملاقات نہ کرانے پر توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت کی دوران سماعت جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں دیئے گئے عدالتی آرڈر کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ایس او پیز بنانے کی ڈائریکشن دی تھی، اگر خلاف ورزی ہوئی ہے تو توہینِ عدالت کی درخواست اُس بینچ میں ہوگی،میرے خیال میں یہ توہینِ عدالت کی درخواست اس کیس میں نہیں بنتی، میں نوٹس جاری کر دیتی ہوں لیکن میں مطمئن نہیں ہوں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی کہ تب تک آپ دیگر پہلوؤں پر بھی غور کرلیں،بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ انتظار پنجوتھہ ایڈووکیٹ نے توہینِ عدالت کی درخواست میں سیکرٹری داخلہ اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنا رکھا ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عمران خان سے وکلا کی ملاقات کرانے کا حکم جاری کرے جبکہ عدالت نے ایف آئی اے کو جواب داخل کرانے کے لیے نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

  • احتجاج رکوانے کا کیس: پی ٹی آئی کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    احتجاج رکوانے کا کیس: پی ٹی آئی کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کا احتجاج رکوانے کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پی ٹی آئی کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتی، میں حکومتی اداروں کو آرڈر جاری کر سکتا ہوں کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں-

    باغی ٹی وی : راجہ حسن اختر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اسلام آباد ہائیکورٹ کے کورٹ روم نمبر ون میں کی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو تین بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

    سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جی راجہ صاحب کیا عجلت ہے؟ میں عموماً ہفتے کو کیسز نہیں کرتا لیکن آپ بتائیں کہ کیاعجلت ہے،جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دو دن سے پورا اسلام آباد بند ہے، کاروبار بند ہے، بچوں کے امتحانات ہیں، ڈیڑھ لاکھ بندوں کی روزانہ آمدورفت ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں صورتحال سمجھ سکتا ہوں، میں خود کنٹینرز کے درمیان سے گزر کر آیا ہوں، وکیل نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس بھی ہونے جا رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اُس کانفرنس میں توابھی ہفتہ پڑا ہوا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک چیز ہر ایک کو یاد رکھنی چاہیے کہ ہر شہری کے حقوق ہیں، ایک شہری کے حقوق کے ساتھ ساتھ دیگر کے حقوق کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے، امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا حکومت کا کام ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ سیکرٹری داخلہ سے کہیں عدالت میں پیش ہو جائیں، پولیس کے بھی کسی ذمہ دار افسر کو پیش ہونے کا کہہ دیں، وزیر داخلہ کو بلانا تو شاید مناسب نہ ہو لیکن اگر ہوں تو انہیں بھی بلا لیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پی ٹی آئی کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتی، میں حکومتی اداروں کو آرڈر جاری کر سکتا ہوں کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں، موبائل سگنل دو دن سے بند ہیں کسی کی ایمرجنسی ہو جائے تو کیا ہو گا۔

    سیکریٹری داخلہ خرم علی آغا کی آمد پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سیکرٹری صاحب آپ نے پورا شہر کیوں بند کیا ہوا ہے؟ جس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ملائشیا کے وزیراعظم گزشتہ روزاسلام آباد میں موجود تھے، اسلام آباد میں احتجاج کیلئے قانون موجود ہے، تین چار دن میں اہم سعودی وفد بھی پاکستان پہنچ رہا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حکومت ہیں اور آپ کا کام برابری کے حقوق کو یقینی بنانا ہے، سرکار کا کام ہے کہ شہریوں کے برابر کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس :بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ ٹو کیس :بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹس جاری کردئیے-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی، بشری بی بی کی جانب سے خالد یوسف ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ہفتے تک جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔

    بشریٰ بی بی کے وکیل نے دوران سماعت مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی 13 جولائی سے اس مقدمے میں قید ہیں، ٹرائل کورٹ نے بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی عدالت سے استدعا ہے کہ سماعت آئندہ پیر کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کی جائے-

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ کیس کو معمول کے مطابق چلنے دیں، اگلے ہفتے کی نئی تاریخ بعد میں دی جائے گی، بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

  • بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات  عدالت میں جمع

    بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات عدالت میں جمع

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے کیس میں پولیس نے رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت اسلام آباد پولیس کے ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل کے ذریعے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

    پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں ایک مقدمہ درج ہے، جو 6 جون 2023 کو درج کیا گیا تھا۔

    سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشد کیانی بھی پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایف آئی اے میں توشہ خانہ ٹو کیس ہی درج ہے،درخواست گزار بشریٰ بی بی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عدت کیس میں بریت کے بعد نیب نے گرفتار کر لیا تھا۔

    عدالت نے کہا کہ جو بھی مزید کیس ہوگا اسٹیٹ کونسل بتائیں گے، جس پر اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ ایک ہی کیس تھانہ کوہسار میں پہلے کا درج ہے جسے یہاں چیلنج بھی کیا گیا ہے،بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی پر درخواست پولیس رپورٹ جمع ہونے پر نمٹا دی۔

  • جسٹس بابر ستار ایک ماہ کی چھٹی پر چلے گئے

    جسٹس بابر ستار ایک ماہ کی چھٹی پر چلے گئے

    اسلام آباد: جسٹس بابر ستار ایک ماہ کی چھٹی پر چلے گئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جسٹس بابر ستار کی چھٹی منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار جان ججوں میں سے ایک تھے جنہوں نے عدالتی امور میں انٹیلی جنس آپریٹو کی مداخلت پر چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، موسم گرما کے بعد اپنی ذمہ داریاں بحال کرنے کے فوراً بعد ایک ماہ کی رخصت پر چلے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چھٹی کے لیے چیف جسٹس عامر فاروق کو درخواست پیش کی، انہوں نے ایک ماہ کی چھٹی کی درخواست منظور کرلی وزارت قانون، سیکرٹری ٹو چیف جسٹس اور رجسٹرار سمیت دیگرمتعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا، جسٹس بابر ستار کی 30 ستمبر سے 29 اکتوبر تک کی چھٹی منظور کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار 30 ستمبر سے ایک ماہ کے لیے چھٹی پر ہوں گے۔

    نیپرا اجلاس: بجلی کی کھپت میں 25 فیصد کمی، عوام پر اضافی بوجھ کا خدشہ

    اگرچہ نوٹیفکیشن میں 30 ستمبر سے 29 اکتوبر تک ایک ماہ کی چھٹی کا ذکر کیا گیا مگریہ قابل توسیع چھٹی ہے اور اسے دسمبر تک بڑھایاجا سکتا ہےجسٹس بابر ستار کی عدالت سے کیسز کی سماعتیں ایک ماہ تک ملتوی کردی گئیں، موسم گرما کی تعطیلات میں ایک ماہ جسٹس بابر ستار کیسز کی سماعتیں کرتے رہے ہیں۔

    اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان