Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ قومی دھارے اور موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

    رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ ہماری قومی موسمیاتی پالیسی اور موافقت کے منصوبوں میں جنس کو بجا طور پر ایکشن کے لیے ترجیح دی گئی ہے۔ وہ پاکستان جینڈر کلائمیٹ ایوارڈ 2024 کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب کر رہی تھیں، جس کی میزبانی سول سوسائٹی کے اتحاد برائے موسمیاتی تبدیلی نے فرانس کے سفارت خانے، فرانسیسی ترقیاتی ادارے، پاکستان میں یورپی یونین کے وفد، متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے اور یو این ڈی پی کے تعاون سے کی تھی۔

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ اس تقریب ایوارڈ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے والی خواتین کی پہچان صنف اور آب موسمیات کے درمیان اہم گٹھ جوڑ کو واضح کرتی ہے۔ یہ اس ناگزیر کردار کی طاقتور یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے جو خواتین اکثر موسمیاتی چیلینجر اور رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے موسمیاتی عمل کو آگے بڑھانے میں ادا کرتی ہیں۔ وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر نے موسمیاتی لحاظ سے پائیدار مستقبل کی طرف اس اجتماعی سفر میں تعاون اور شراکت داری کے لیے تقریب میں نمائندگی کرنے والی غیر ملکی حکومتوں کی بھی دلی تعریف کی۔

    کامیابی حاصل کرنے والی خواتین کو مبارکباد دیتے ہوئے، انہوں نے کلائمیٹ بیٹ رپورٹر شبیر کو بھی یاد کیا جو رپورٹنگ کے دوران انتقال کر گئے اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہی پیدا کر رہے تھے اور کہا کہ ان کی وزارت ان کے نام سے منسوب کلائمیٹ ایوارڈ پر کام کر رہی ہے۔

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    توانائی کی منصفانہ منتقلی کو یقینی بنانے کےلئے کثیر الجہتی تعاون ناگزیر ہے، رومینہ
    سبز توانائی کی طرف منتقلی کے لئے منافع اور مسابقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے : ڈاکٹر عابد سلہری
    ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی کے موضوع پر سمپوزیم سے ثوبیہ بیکر ،عقیل جعفری اور دیگر کا خطاب
    ماہرین نے کہا ہے کہ صنعتی شعبے میں توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھانے کےلئے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان کوآرڈینیشن کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان میں توانائی کی منصفانہ منتقلی کو یقینی بنانے کے لئے کثیر الجہتی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)اور جرمنی کی کلائمیٹ اینڈ انرجی پارٹنرشپ (پی جی سی ای پی) نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی کے موضوع پرمشترکہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

    سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کو کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) کی وجہ سے آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے اور اس عمل کو آسان بنانے کے لئے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری کا کردار انتہائی اہم ہے اور وہ اقتصادی امور، کامرس، بجلی، منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارتوں سمیت اس موضوع سے متعلق دیگر وزارتوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ملک کو ایک طرف اپنی مسابقت اور معاشی نمو کو بہتر بنانا ہے تو دوسری طرف معاشی بحران، شرح سود میں اضافہ اور سی بی اے ایم کے مسائل ہیں۔ وزیر اعظم نے موسمیاتی گورننس اور فنانس ریویو پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جس کی سربراہی ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی کر رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ سبز توانائی کی منتقلی کے لئے منافع اور مسابقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اپنے افتتاحی کلمات میں پاکستان جرمن کلائمیٹ اینڈ انرجی پارٹنرشپ (پی جی سی ای پی) کی مشیر ثوبیہ بیکر نے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز کے حل اور آگے بڑھنے کے لیے کھل کر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کےلئے ایک مکمل معاشرے کے نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔پاکستان میں جرمن سفارتخانے کی ڈپٹی ہیڈ آف ڈیولپمنٹ کوآپریشن ہیلن پاسٹ نے کہا کہ توانائی کا شعبہ مسلسل پائیدار طریقوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی توانائی کی منصفانہ منتقلی کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کےلئے پرعزم ہے۔ ہم اس جانب پیش رفت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی پراجیکٹ لیڈر یولیا بچینووا نے جرمنی اور پاکستان کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مکالمے کے لئے ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔ ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو زینب نعیم نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں توانائی کی منتقلی کے مواقع اور چیلنجز پر پہلے پینل کی نظامت کی۔

    پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے سی ای او شیخ محمد اقبال نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ڈھانچے اور ویلیو چین پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری صرف توانائی کی منتقلی کے لئے پرعزم ہے تاہم، قومی سطح پر کسی بنیادی اعداد و شمار کی عدم موجودگی کے باوجود آب و ہوا کی مالیات اور توانائی کی منتقلی کے بارے میں کوئی پالیسی نہیں ہے۔

    اپٹما کے سیکرٹری جنرل شاہد ستار نے کہا کہ مصنوعات کی لازمی ٹریسیبلٹی ضروری ہے کیونکہ اگر کاروبار معمول کے مطابق جاری رہتا ہے تو سی بی اے ایم ایک وجودی خطرہ ہوگا۔ وزارت توانائی کے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) عقیل حسین جعفری نے کہا کہ توانائی وہ اہم جزو ہے جو برآمدی مصنوعات میں مسابقت لاتا ہے۔ تاہم، شمسی توانائی صنعت کے لئے بجلی اور پیداوار کی لاگت کو کم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (ڈی جی گیپکو) نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی میں فنانسنگ اخراجات اہم رکاوٹیں ہیں۔ ایس ڈی پی آئی میں انرجی یونٹ کے سربراہ انجینئر عبید الرحمن ضیاءنے ٹیکسٹائل سیکٹر میں توانائی کی منتقلی کے مواقع اور چیلنجز پر دوسرے پینل کی نظامت کی۔ سینئر اکانومسٹ عافیہ ملک نے کہا کہ مسابقتی مارکیٹ آگے بڑھنے کا راستہ ہے لیکن ہمیں آزاد اور منظم مارکیٹ کے درمیان فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آزاد مارکیٹ منصفانہ اور مسابقتی ہے۔

    اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے سی ای او محمد امجد نے کہا کہ مجوزہ نظام کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے عمر ہارون نے کہا کہ ٹیکس بل اور کراس سبسڈی کے تجزیے کے ساتھ ساتھ ٹیرف کی تفہیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مشیر سی ٹی بی سی ایم گل حسن بھٹو نے کہا کہ حکومت کو توانائی کے شعبے کے دائرہ کار کو بڑھانے اور توانائی کے تحفظ کے اہداف کے حصول کے لئے مسابقتی مارکیٹ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تیسرے سیشن میں توانائی کی منتقلی کے لئے فنانس کو متحرک کرنےکے مواقع اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں،اسد قیصر

    ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    اسد قیصر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے باپ سے معافی نہیں مانگتے کسی اور سے کیا مانگیں گے؟ ہم چاہتے ملک میں آئین اور قانون بالا دست ہو، چاہتے ہیں کہ تمام شہریوں کے برابر کے حقوق ہوں، اس کے لیے تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلے دن سے مطالبہ رہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے،تا کہ سب کچھ سامنے آ سکےکہ نومئی کا ذمہ دار کون ہے،9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے؟ عمران خان کے امریکی مداخلت کے الزام کا مقصد ایسا نہیں تھا کہ امریکا سے تعلق خراب کیے جائیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان پاک فوج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج قومی فوج ہے،اس کے اندر تمام مکتبہ فکر، قومیت، رنگ ، نسل ، مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں، کسی قسم کی کوئی سیاسی سوچ نہیں ہوتی، حکومت وقت سیاسی ہوتی ہے، ہر حکومت کے ساتھ فوج کا غیر سیاسی تعلق ہوتا ہے،ہم کسی خاص سیاسی سوچ کو نہیں دیکھتے، ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں جو عوام کے نمائندے ہیں قابل احترام ہیں، اگر کوئی سیاسی سوچ یا لیڈر، یا ٹولہ اپنی فوج پر حملہ آور ہو، عوام اور فوج کے مابین نفرت اور خلیج پیدا کرے، شہیدوں کی تضحیک کرے، اسی قوم کی فوج بارے دھمکیاں دے، پراپیگنڈہ کرے اس سے کوئی بات چیت نہیں کرنی، ایسے سیاسی انتشاری ٹولے کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے صدق دل سے معافی مانگے،انتشار اور نفرت کی سیاست سے اور پاکستان میں تعمیری سیاست کرے، بات چیت سیاسی جماعتوں کو زیب دیتی ہے اداروں کو نہیں، میں نے بڑا کلیئر بتایا کہ ایساسیاسی ٹولہ جو سامنے کر رہا ہے ان سے کوئی بات نہیں ہو گی.یہ چاہتے ہیں کسی وجہ سے ملک معاشی طور پر ہر لحاظ سے نیچے جائے، کچھ بھی کرنے اور کہنے کو تیار ہیں، افسوسناک ، انتہائی افسوسناک،

  • احسن اقبال کی قیادت اعلیٰ سطحی وفد چین پہنچ گیا

    احسن اقبال کی قیادت اعلیٰ سطحی وفد چین پہنچ گیا

    وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور معاون خصوصی امور خارجہ طارق فاطمی بیجنگ پہنچ گئے ہیں

    نئی حکومت کے آنے کے بعد اعلیٰ سطح کے پاکستانی وفد کا یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔ وہ چین کی اعلیٰ قیادت سے سی پیک فیز ٹو پہ بات چیت کریں گے۔ سی پیک کی تیرہویں جے سی سی میٹنگ کے ایجنڈے اور وزیر اعظم پاکستان کے متوقع دورہ چین پہ بھی بات چیت ہو گی۔

    قبل ازیں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصؤصی اقدامات احسن اقبال کی پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زئی ڈونگ سے ملاقات ہوئی ، ملاقات میں سیکرٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ ملاقات میں توانائی و بجلی ، انفراسٹکچر، زراعت ، اور مواصلات کے منصوبوں پر باہمی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ چینی قیادت اورحکومت پاک چین دوستی کو مزید گہرا کرنے اور سی پیک کےاگلےمرحلےمیں جانے کا خواہاں ہیں۔ حکومت سی پیک منصوبوں کو بغیر کسی تاخیر کے مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ سی پیک تمام شعبوں میں تعان کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم کا دورہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا بھر کی نظریں وزیراعظم کے دورے پر جمی ہیں۔

    چین کے سفیر سے ملاقات میں وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کا بنیادی مقصد پاکستان میں صنعت، توانائی، انفراسٹرکچر، سماجی شعبے اور زراعت کے شعبوں میں ہاہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ایم ایل ون منصوبے پر مثبت پیش رفت سے ٹرانسپورٹیشن اور مال برداری کے شعبوں میں جدت آئے گی جبکہ پاکستان زراعت کے شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چین کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ سبز انقلاب 2.0 کے لئے چین کے ساتھ تعاون سرمایہ کاری سے زراعت کے شعبے کو جدت سے روشناس کرایا جا سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ چین پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی مینوفکچرنگ یونٹس کو صنعتی زون میں بنائے، پاکستان میں مینوفیکچرنگ سے چین کی پیداواری لاگت کم ہوگی، چین کو انسانی وسائل کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کو چینی ماہرین کی۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے جنوبی ایشیائی گیمز 2025 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں جنوبی ایشیائی گیمز کا انعقاد کیاجا رہا ہے، ہمیں ابھی سے جنوبی ایشیائی کھیلوں کے لیے اپنے کھلاڑیوں کو تیار کرنا ہے، ہماری خواہش ہے کہ چین پاکستان میں ہمارے اتھلیٹس/ کھلاڑیوں کو اپنے چینی کوچز کے ذریعے ٹریننگ دے۔

    پاکستان میں مقیم چین کے سفیر جیانگ زئی ڈونگ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مابین سی پیک فیز 2 کو تیز کرنے پر اتفاق ہوا۔ مزید چین کے سفیر نے حکومت خصوصاً وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی کوششوں کو سراہا اور تمام تر شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے پاکستان کوجنوبی ایشیائی گیمز کے انعقاد پر مبارکباد بھی دی۔

  • انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    کرومیٹک نے انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز کردیا۔

    اسلام آباد: صحت عامہ کے شعبہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک نے چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز کردیا ہے۔ کرومیٹک پوسٹ کارڈ مقابلوں کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    رواں برس کرومیٹک پوسٹ کارڈ مقابلوں کا عنوان ” تمباکو نوشی، معیشت اور صحت عامہ پر بوجھ” ہے۔
    پوسٹ کارڈ مقابلوں میں شریک نوجوانوں میں پہلی پوزیشن لینے والے کو 50 ہزار روپے، دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو 30 ہزار روپے جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والے کو 20 ہزار روپے نقد انعام دیا جائے گا۔
    کرومیٹک انسداد تمباکو نوشی پوسٹ کارڈ سیزن 4 مقابلوں میں شرکت کے خواہشمند 15 سے 25 سال کے طلباء و طالبات سمیت کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نوجوان آرٹ ورک اور ڈیجیٹل ڈیزائن پر مبنی پوسٹ کارڈز کرومیٹک کو Pactpostcard@gmail.com پر بذریعہ ای میل 24 مئی تک بھجوا سکتے ہیں جبکہ اس حوالے سے تقریب تقسیم انعامات 31 مئی کو منعقد ہوگی۔

    کرومیٹک کی طرف سے منعقد کئے جانے والے انسداد تمباکو نوشی پوسٹ کارڈ مقابلوں کی اہمیت اور مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا یے کہ گذشتہ مقابلوں میں نوجوانوں کی طرف سے پاکستان بھر سے ہزاروں نوجوانوں نے آرٹ ورک اور ڈیجیٹل ڈیزائنوں کے ذریعے تمباکو نوشی کے خلاف مہم میں حصہ لیا۔

    کرومیٹک انسداد تمباکو نوشی پوسٹ کارڈ مقابلوں کو نہ صرف حکومتی سطح پر سراہا جاتا ہے بلکہ ماہرین صحت اور بین الاقوامی ادارے بھی پوسٹ کارڈ مقابلوں کے انعقاد کو تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، ایئر سیال کو   برطانیہ سمیت کئی ممالک میں  آپریشنز   کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، ایئر سیال کو برطانیہ سمیت کئی ممالک میں آپریشنز کی منظوری

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
    وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سرمایہ کار وفد کی پاکستان آمد سعودی عرب اور پاکستان کے معاشی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے اس دورے کو کامیاب بنانے کے حوالے سے وفاقی وزراء، افسران اور اسٹاف کی کارکردگی کو سراہا۔وفاقی کابینہ نے وزارت ہوا بازی کی سفارش پر ائیر سیال کو چین، ملائشیا ، سری لنکا ، تھائی لینڈ، ترکیہ ، برطانیہ اور کویت میں فلائیٹ آپریشنز شروع کرنے کی منظوری دے دی. یہ منظور ی نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2023 اور ائیر سروسز ایگریمنٹ کے تحت دی گئی ہے.

    وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور کنگڈم آف کولمبیا کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر ڈائیریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن کو وفاقی وزارت انسانی حقوق سے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے چینی سرمایہ کاری منصوبہ جات کی 30 اپریل 2024 کو ہوئے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔

  • ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ججز اذ خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ مجھے گزشتہ آرڈر کی کاپی ابھی نہیں ملی،مجھے اس کیس میں وزیراعظم سے بھی بات کرنی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آرڈر پر تین دستخط ابھی بھی نہیں ہوئے۔کمرہ عدالت میں ججزکو آرڈرکاپی دستخط کرنے کیلئے دے دی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو کتنا وقت چاہئے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجھے کل تک کا وقت دے دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آج کون دلائل دینا چاہے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم 45منٹ میں دلائل مکمل کر لیں گے،

    اعتزاز احسن کی جانب سے خواجہ احمد حسین سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار اور بلوچستان بار کے وکیل حامد خان پیش ہوئے،وکیل حامد خان نے دلائل کیلئے ایک گھنٹہ مانگ لیا،سپریم کورٹ بار کے صدر اور ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ کے درمیان روسٹرم پر اختلاف ہو گیا،سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت نے دلائل کیلئے آدھا گھنٹہ مانگ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ہم پہلے وکلا تنظیموں کو سنیں گے، ایڈیشنل سیکرٹری شہبازکھوسہ نے کہاکہ ذاتی حیثیت میں الگ درخواست دائرکی ہے ،ایگزیکٹو کمیٹی کی کل رات میٹنگ ہوئی ہے ،صدر شہزادشوکت نے کہایہ معلوم نہیں کیوں اپنی تشہیر چاہتے ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ نے کہاکہ میں کوئی تشہیر نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تعجب ہو رہا ہے کہ اتنے وکیل ہیں لیکن ایک پیج پر نہیں آسکتے، تعجب ہے کہ وکیل عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی ایک پیج پر نہیں آ سکتے، پاکستان بار کونسل سے شروع کرتے ہیں، ہر شخص کہہ رہاہے کہ اپنی بات کرنی ہے,جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انفرادی طور پر یہ کریں، میں یہ تجویز کر رہا تھا کہ ایک باڈی کی میٹنگ کر لیتے، جمہوری ادارے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اہم حصہ ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل کو جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی پڑھنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایک جج کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے وہ پڑھیں،اٹارنی جنرل کو پڑھنے پردشوارپرجسٹس اطہر من اللہ نے خود اپنا نوٹ پڑھ دیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نوٹ میں لکھا ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ مطمئن کرے مداخلت نہیں،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہایہ بات اصل آرڈر کے پیراگراف 5میں بھی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس پیرا گراف میں صرف تجاویز مانگنے کی بات تھی۔

    ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جج کچھ نہیں کر سکتا تو گھر بیٹھ جائے، ایسے ججز کو جج نہیں ہونا چاہیے جو مداخلت دیکھ کر کچھ نہیں کرتے، صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی لائیو سماعت روکی جائے، یہاں جو ہوا اس سے اچھا پیغام نہیں گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پلیز پروسیڈ،

    پاکستان بار کونسل کے وکیل ریاضت علی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، وکیل نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے معاملے پر جوڈیشل تحقیقات کرانا چاہتی ہے، ایک یا ایک سے زیادہ ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنا کر قصورواروں کو سزا دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018/19 میں ہائی کورٹس کا سب سے بڑا چیلنج سپریم کورٹ کا مسائل پر خاموشی اختیار کرنا تھا،لگتا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ ہائیکورٹس کے جواب کی روشنی میں نہیں کیں، پاکستان بار کونسل یہ توقع کرتی ہے کہ ضلعی عدالت کا جج وہ کام کر لے جو سپریم کورٹ کا جج بھی نہیں کر سکتا؟ حقیقت بہت مختلف ہے، وکیل شہزاد شوکت وائس چیئرمین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ جب آپ براہ راست نشریات میں کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ مداخلت پر خاموش رہی تو اس سے عوام میں اچھا پیغام نہیں جاتا،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مداخلت پر سزاؤں کا قانون لانے کی سفارش کرتی ہے،اس معاملے سے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے،

    سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر کی تھی، لیکن کاروائی نہیں ہوئی،جسٹس اطہرمن اللہ
    احسن بھون نے کہا کہ جج کے پاس توہین عدالت سمیت دیگر آپشنز موجود ہیں کاروائی کر سکتے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں جو کام سپریم کورٹ نہیں کر سکتی وہ ڈسٹرکٹ جج کرے ۔ سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر (جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی) کی تھی جس پر عوامی طاقت پر بحال ہونے والی سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے بحالی کے بعد کوئی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کریں،ہائیکورٹس کے ججز نے جو کہا ہے اسکو دیکھیں وہ ججز ہیں وہ غلط نہیں کہہ سکتے۔

    سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے، ہائیکورٹ کے ججز نے نشاندہی کی کہ مداخلت کا سلسلہ ابتک جاری ہے اور سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، ساری ہائیکورٹس نے اپنی رپورٹس میں سیاسی مقدمات پر سنگین باتوں کو اجاگر کیا ہے اور ایک ہائیکورٹ نے تو یہ کہا کہ یہ آئین کو سبوتاژ کیا گیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی، ہم سب کو ماننا چاہیے انڈر ٹیکنگ دیں کہ وکلا کی مداخلت بھی روکی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہو یا نہ ہو؟ مجھے بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ آگے بڑھتے ہیں کیونکہ دیگر افراد بھی ہیں، میں سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ہوں لیکن میں بطور خود سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں دیگر ممبران بھی ہیں۔

    پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، سارے میڈیا نے چلایا، کسی نے نہیں پوچھا اس کا کوئی ثبوت ہے، دوسرے ممالک میں ایسا الزام لگے تو ہتک عزت کیس میں ان کی جیبیں خالی ہوجاتی ہیں، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا قبضہ ہے۔میں نے جج بنتے وقت حلف لیا ہوا ہے، یہ میرا فرض ہے، ہمیں تنخواہ اسی چیز کی ملتی ہے، اس میں دو رائے نہیں کہ میں آزاد بیٹھنا چاہوں یا نہیں، پریشرمیں آنا چاہوں یا نہیں، یقیناً آپ بھی اپنے دلائل یا ڈانٹ ڈپٹ کر مجھ پر پریشر ڈالیں گے، پریشر بہت سارے ہو سکتے ہیں،پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو،

    عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے، سپریم کورٹ بار
    دوران سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت میں اپنی تجاویز جمع کرائیں جس میں سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ بارعدلیہ کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کو کسی بھی قسم کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے تھی، ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل،، قتل کرنا کب سے منع ، کیا وہ رک گیا ہے؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل ہوتا ہے، قتل کرنا کب سے منع ہے، کیا وہ رک گیا ہے؟ معاشرے ہوتے ہیں، لوگ ہوتے ہیں، یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، آج حکم دیں کہ قتل ہونا بند کر دیا جائے، یہ رکے گا تو نہیں چلتا رہے گا، بات یہ کہ ہم اسے کیسے ڈیل کرتے ہیں، سزا و جزا کا عمل ہے جو چلتا رہے گا، ایک ڈیٹرنس تو یہ ہو سکتا ہے کہ سزائے موت دیکھ کر دوسرے کہیں قتل نہیں کرنا چاہیے، دوسرا یہ کہ کچھ نہ ہو، سزا نہ ہو تو وہ کہیں گے کہ ہم بھی کر لیتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے، حکومت اس مداخلت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی، سوال یہ ہے کہ اس مداخلت کو ختم کیسے کیا جائے؟ مداخلت کا معاملہ اب 6 ججز کے خط سے آگے بڑھ چکا ہے،پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، عدلیہ کو خود ایکشن لینا ہو گا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عوام کو سچ جاننے کا پورا حق ہے، عوام کو سب جواب دہ ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وائس چیئرمین صاحب! ہم آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، آپ کو سننا چاہتے ہیں، سب لوگوں نے لمبا وقت لیا، کب تک مکمل کریں گے؟پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ ججوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے کہ ان کے پاس جو قانون موجود ہے اسے استعمال کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 3 چیزیں کہہ رہے ہیں، ایک تو تحقیق ہو، دوسرا فوجداری قوانین کو جج استعمال کریں، تیسرا یہ کہ توہینِ عدالت کی کارروائی ہو۔

    ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پاکستان بار کو یہ بھی تجویز دینا چاہیے تھی کہ وکلاء کی جانب سے مداخلت کو کیسے روکیں؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے وکلاء کی نمائندگی کر رہے ہیں، ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، چیف جسٹس کافی مشکل وقت سے بھی گزرے، 2018 سے آج تک میری دیانتداری پر سوال اٹھا، لیکن کچھ فرق پڑا؟ ججز کو تنقید سے فرق نہیں پڑنا چاہیے، عوام کا ججز پر اعتماد ہونا چاہیے، ملک میں جوڈیشل تاریخ میں سب سے بڑی توہینِ عدالت کیا تھی؟

    خطرناک بات جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،احسن بھون
    احسن بھون نے کہا کہ لاہور اور پشاور ہائی کورٹ سے جو ردِ عمل آیا ہم نے وہ عدلیہ پر چھوڑا ہے، کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈیٹرنس ہونا چاہیے، انتہائی خطرناک بات ہے کہ جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے کہا کہ یہ کیسے روکا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے واقعات کی تفتیش ہو یا نہ ہو؟.جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے جو بذات خود ٹھیک سمجھا وہی کہا ہے، میری رائے ہے کہ دنیا بھر میں سماعتوں میں مداخلت ہوتی ہے، 3 نومبر کو سپریم کورٹ کے 8 ممبر بینچ نے عدلیہ بحال کی، کیسے ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں؟ ابھی تک معاملہ زیرِ التواء ہے، آپ توہینِ عدالت کی درخواست لائیں، اب تو سب ریٹائرڈ ہو چکے، یہی تو المیہ ہے،احسن بھون نے کہا کہ اسی لیے کہا ہے کہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

    تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس
    ریاضت علی خان نے کہا کہ عدلیہ کو آزاد کرنے کے لیے ایگزیکٹیو کی ایک فورس عدلیہ کے ماتحت ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا ایگزیکٹیو اب عدلیہ کے ماتحت نہیں ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آگے بڑھیں، کیونکہ ایسے باتیں ختم نہیں ہوں گی، بیوروکریٹ کے پاس تو کوئی توہینِ عدالت کا اختیار نہیں، عدالت کے پاس تو توہینِ عدالت کا اختیار ہوتا ہے، تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، میڈیا نے جھوٹ چلایا، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ان سے پوچھا کہ آپ توقع کرتے ہیں کہ ماتحت عدلیہ کا جج وہ کام کرے جو سپریم کورٹ کے جج نہیں کر سکتے؟ 6 ججز نے ایک ایشو اٹھایا، جس کی ساری ہائی کورٹس نے توثیق کی، ساری ہائی کورٹس نے کہا کہ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے، اگر کوئی نشاندہی کرے گا تو اس کے ساتھ ایسا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسی ڈیٹرنس ہونی چاہیے کہ جو ایسا کرے اس کو بھگتنا پڑے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ جج کمپرومائز ہیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت سے کیا عدلیہ کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ایسا نہ کہیں کہ سب برابر ہے، ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، کہیں کہ کچھ اچھے نکلے اور کچھ برے نکلے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پچھلے 50 سال میں کیا ہوا، میں آپ سے ہمدردی کر سکتا ہوں، بدل نہیں سکتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بتائیں کہ ایسی صورتِ حال میں کیا کیا جائے جس پر ہائی کورٹس بھی روشنی ڈال رہی ہیں؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اگر یہ پیغام جائے گا کہ آپ ججز ملے ہوئے ہیں تو کیا پیغام جائے گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ دلائل دیں ورنہ ہم آپس میں لگے رہیں گے، لائٹر نوٹ پر بتاؤں مجھے کسی نے کہا تھا کہ جج کو سنیں اور وکیل کو بولنے دیں،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ کیسے یقین دہانی کی جائے کہ مداخلت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سچ کہیں اور اسے نظر آنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوری مجھے یہاں مداخلت کرنا پڑے گی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ آپ یہ کہہ کر قبول کر رہے ہیں کہ آپ ملے ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ آپ کو یہاں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، سوری میں بہت بلنٹ بات کر رہا ہوں کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کو نہیں بیٹھنا چاہیے، ہائی کورٹ کے ججوں کا خط باہمی خفیہ ادارہ جاتی خط و کتابت تھی جو میڈیا میں آئی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ججز کا خط لیک ہونے کی انکوائری ہونی چاہیے، خط کوئی شکایت نہیں ہے اور یہ عوام کے لیے خط و کتابت نہیں تھی، جسٹس بابر ستار نے یہ کہا ہے جو کہ خط پر دستخط کنندہ ہیں

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں کوئی گولی تو نہیں ملتی کہ جس سےمضبوط جج بنا جاسکے، سسٹم بنانا ہوگا،کمپرومائزڈ جج کو ایک منٹ میں سسٹم سے باہر نکال دینا چاہیے، اگر کوئی جج کھڑا ہو تو اُس کیساتھ کھڑے ہوجائیں،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بھی توہین عدالت کی کارروائی کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج محسن اختر کیانی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کو خط لکھا ہے جس میں اپنے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی بدنیتی پر مبنی مہم پر توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کی ہے۔

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو اپنے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے خط لکھا تھا جس پر فیصلہ کیا گیا کہ خط کو توہین عدالت میں تبدیل کرکے کارروائی کی جائے گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو جج صاحبان کے خطوط پر آج بینچ تشکیل کیے جانے کا امکان ہے

    واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار کی امریکی شہریت سے متعلق سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تردید جاری کی تھی کہ جسٹس بابر ستار کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی ملک کی شہریت نہیں، سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ہتک آمیز اور بے بنیاد مہم چلائی جارہی ہے۔جسٹس بابر ستار کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اعلامیہ کے مطابق جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا اس وقت کے چیف جسٹس کو علم تھا۔جسٹس بابر ستار کے جج بننے کے بعد ان کے بچوں نے پاکستانی سکونت اختیار کی۔1992 میں جسٹس بابر ستار کی والدہ نے سکول کھولا جس کے وہ لیگل ایڈوائزر رہے اور فیس وصول کی۔غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل فرد کی وجہ سے جسٹس بابر ستار نے کو امریکہ کا مستقل ریڈیڈنسی کارڈ ملا تھا۔ 2005 میں جسٹس بابر ستار امریکی نوکری چھوڑ کر پاکستان آگئے اور تب سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت کا کیس، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    کراچی بار کی جانب سے تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ججز کو پابند بنایا جائے کہ مداخلت کی ہر کوشش س 7 دن میں مجاز اتھارٹی کو آگاہ کریں، مجاز اتھارٹی کو بھی پابند کیا جائے کہ رپورٹ کرنے والے ججز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، عدم تحفظ کے باعث بہت سے ججز ایسے واقعات سے مجاز حکام کو آگاہ ہی نہیں کرتے،مداخلت کی کوشش ریاستی اداروں سے ہو، خود عدلیہ سے یا نجی سیکٹر سے، ہر صورت آگاہ کیا جائے،عدلیہ اور حکومت کے درمیان آگ کی دیوار ہمیشہ قائم رہنی چاہیے،قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ججز کو سرکاری حکام اور انٹیلی جنس نمائندوں کیساتھ ملنے سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر سرکاری کام کیلئے حساس اداروں کے افسران سے ملنا ضروری ہو تو مجاز حکام کو آگاہ کیا جائے، مداخلت سے آگاہ کرنے کو جج کا مس کنڈکٹ قرار دیا جائے،مداخلت کے حوالے سے غلط بیانی کرنے والے ججز کی خلاف کارروائی کی جائے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس مداخلت رپورٹ کرنے کیلئے خصوصی سیل قائم کریں، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کا بھی جائزہ لیا جائے، بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہونا درست نہیں، ہائی کورٹس میں بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا فیصلہ ججز کی تین رکنی کمیٹی کرے،سپریم کورٹ چھ ججز کے خط کی آزادانہ انکوائری کرائے، عدالت ذمہ داران کا تعین کرکے سخت کارروائی کا حکم دے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • نقاب پوش ڈاکو ؤں کی نوکروں کو رسیوں سے باندھ کر گھر میں واردات

    نقاب پوش ڈاکو ؤں کی نوکروں کو رسیوں سے باندھ کر گھر میں واردات

    تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس سوتی رہی، تین نقاب پوش ڈاکو نوکروں کو رسیوں سے باندھ کر میاں بیوی کو یرغمال بناکر پانچ سونے کی چوڑیاں دو سونے کی بالیاں نقدی 80ہزار لوٹ کرفرار ہوگئے،

    واقعہ 28اپریل کو رات دو بجے پیش آیا جبکہ درخواست پر ای ٹیگ 4مئی کو لگا اور مقدمہ 5مئی کودرج ہوا ،واقع تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود راول ٹاؤن راجہ ریاست کے ساتھ رونما ہوا، شہزاد ٹاؤن پولیس نے مقدمہ نمبر۔ 545جرم 392ت پ درج کرلیا ،ڈی آئی جی آپریشنز نے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتوں پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ آئی جی اسلام آباد کی طرف سے سات دنوں میں کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایات پر بھی کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس تھانہ بنی گالا کی بڑی کارروائی ،ڈکیت گینگ بچھو کے تین کارندے گرفتار کر لیے، ڈکیت گینگ بنی گالہ کے ایریا میں واردات کے دوران شہری کو زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ ڈولفن سکواڈ کے اہلکار پر بھی حملے میں ملوث تھا،ملزمان ساتھیوں کی رہائی کیلئے پولیس ٹیم پر فائرنگ کرنے میں ملوث تھے،ملزمان کی شناخت فیضان محمود، زاہد محمود اور حسنین محمود کے ناموں سے ہوئی ہے،ملزمان کے قبضہ سے 3عدد 30بور پسٹل اور زیر استعمال موٹر سائیکل برآمد ہوئی،زیر استعمال موٹرسائیکل تھانہ بنی راولپنڈی کا مسروقہ برآمد ہوا،ملزمان نےمتعدد وارداتوں کا انکشاف کیا،ڈی آئی جی آپریشنز نے پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی

    21سال سے کم عمر افراد کو ای سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی

    ای سگریٹ سے نوجوان نسل کو روکنا ہو گا، کرومیٹک

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ملک میں انٹرپرینیورشپ اور انوویشن کے فروغ کے لیئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی "سٹیٹ آف یوتھ انٹرپرینیورشپ ایکوسسٹم ان پاکستان رپورٹ” لانچنگ کی تقریب سے یہاں سوموار کو خطاب کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لیئے کوشاں ہے، ہمارے نوجوانوں میں بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں،آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کے لیئے بے پناہ مواقع ہیں، ملک کی معاشی ترقی میں آئی ٹی سیکٹر کا بڑا اہم کردار ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا نوجوانوں کو جدید آئی ٹی سکلز سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر اعظم پاکستان ویژن کے تحت آئی ٹی کے شعبے میں سکلز ٹریننگ کو فروغ دے رہیں ہیں،نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشرے کا مفید شہری بنائیں گے۔

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل