Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • قومی اسمبلی اجلاس،نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

    قومی اسمبلی اجلاس،نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

    قومی اسمبلی اجلاس، ایک گھنٹہ تاخیر سے اجلاس کا آغاز ہوا

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اجلاس کی صدارت کی،اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا،تلاوت کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی،اجلاس میں نو منتخب اراکین موجود ہیں،پاکستان کی 16 ویں قومی اسمبلی معرض وجود میں آگئی ۔ نو منتخب ارکان اسمبلی نے اپنا حلف اٹھا لیا،سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے حلف لیا.

    سپیکر قومی اسمبلی الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا فیصلہ فوری جاری کرنے کی رولنگ دیں،عمر ایوب
    عمر ایوب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان تاحال نامکمل ہے، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر فیصلہ نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی، سپیکر قومی اسمبلی الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا فیصلہ فوری جاری کرنے کی رولنگ دیں، اپنے حلقے کی عوام اور قائد کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم اپنے منتخب اراکین کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں، عمر ایوب خان نے اپنی تقریر میں رول 51 کا حوالہ دے دیا، عمر ایوب خان نے خواتین کے لئے مخصوص نشستوں میں نامزد عالیہ حمزہ کی تصویر ایوان میں لہرا دی،عالیہ حمزہ اس وقت جیل میں ہیں،

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب قومی اسمبلی پوری ہو تب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوتا ہے، ببائیں جانب جو بیٹھے ہیں دنیا جانتی ہے وہ اجنبی لوگ ہیں، آئین پر عمل درآمد کئے بغیر ملک آگے نہیں لے جایا جا سکتا،

    قومی اسمبلی،خواجہ آصف نے گھڑی لہرا دی،بولے "یہ گھڑی کے لیے شور کر رہے ہیں”
    خواجہ آصف کو مائک ملنے پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین نےشدید احتجاج کیا،سنی اتحاد کونسل کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے شدید نعرے بازی کی،خواجہ آصف نے بھی اپوزیشن اراکین کو گھڑی لہرا کر دکھا دی، خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا نکتہ اعتراض آیا اس نکتہ اعتراض کا جواب دے رہا ہوں،سنی اتحاد کونسل نے کسی مخصوص نشست کے لئے کوئی فہرست نہیں دی،انہوں نے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا کہ کوئی فہرست نہیں ،میں نے جواب دے دیا اب یہ شور اس لیے کر رہے ہیں ،خواجہ آصف نے گھڑی لہرانا شروع کر دی اور کہا کہ یہ گھڑی کے لیے شور کر رہے ہیں

    اپوزیشن کے شور شرابہ میں اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دی

    سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف، صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف، سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان، خورشید شاہ، سردار ایاز صادق،عمر ایوب، شہر یار آفریدی، علی محمد خان، شیر افضل مروت اور دیگر نو منتخب اراکین ایوان میں موجود ہیں، پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی یوسف تالپور وہیل چیئر پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے۔

    سابق وزیراعظم نوازشریف بھی قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچ گئے، نواز شریف نے سابق صدر آصف زرداری سے مصافحہ کیا،ایوان میں آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے مصافحہ کیا،آصف علی زرداری نے رول آف سائن پر دستخط کر دیئے،مولانا فضل الرحمان نے رول آف ممبرز پر دستخط کر دیے،اسپیکر قومی اسمبلی نے کھڑے ہوکر مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا،عمر ایوب نے بانی پی ٹی آئی کا پوسٹر تھامے رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،نواز شریف نےبھی رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے، نواز شریف کے دستخط کرتے وقت لیگی کارکنان نے "وزیراعظم نوازشریف” کے نعرے لگائے جبکہ سنی اتحاد کونسل اراکین کی جانب سے "دیکھو دیکھو کون آیا؟” کے نعرے لگائے گئے،صاحبزادہ حامد رضا نے رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،خالد مگسی، بیرسٹر عقیل ملک، شیخ آفتاب احمد، طارق بشیر چیمہ نے بھی رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،مولانا عبد الغفور حیدری، اعجاز الحق، نے بھی رول آف ممبرز پر دستخط کر دیئے،بیرسٹر گوہر نے رول آف ممبر پر دستخط کرنے کے بعد عمران خان کی تصویر لہرا دی.

    اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی منظور
    قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لیے سردار ایاز صادق، ملک محمد عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے نامزد امیدوار سردار ایاز صادق کے تجویز کنندان میں چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، سید نوید قمر اور اویس احمد لغاری شامل ہیں،ملک عامر ڈوگر کے تجویز کنندان میں صاحبزادہ صبغت اللہ، علی محمد اور ڈاکٹر امجد علی خان شامل، ہیں،قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے سید غلام مصطفی شاہ اور جنید اکبر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ڈپٹی اسپیکر کے لیے نامزد امیدوار غلام مصطفیٰ شاہ کے لیے تجویز کنندان میں محمد رضا حیات ہراج اور اعجاز حسین جاکھرانی شامل ہیں،جنید اکبر کے تجویز کنندان میں محمد ثناء اللہ خان مستی خیل، محمد ریاض خان فتیانہ اور مہر غلام محمد لالی شامل ہیں،اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب بروز جمعہ یکم مارچ 2024 کو ہو گا،قومی اسمبلی کے آج منعقد ہونے والے اجلاس میں 282ممبران قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور رول آف ممبر پر دستخط کیے،

    سپیکر کے لئے ملک عامر ڈوگر،ایاز صادق کے کاغذات جمع
    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے لیے ملک عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے گئے،ڈپٹی سپیکر کے لیے جنید اکبر خان کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے گئے، مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق نے بھی سپیکر قومی اسمبلی کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے ہیں۔پیپلزپارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔سیکریٹری قومی اسمبلی نے ایوان کے اندر ہی کاغذات نامزدگی وصول کیے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی،مہمانوں کی گیلری میں مریم اورنگزیب اور اسحاق ڈار کے ہمراہ موجود تھیں، پیپلز پارٹی کی آصفہ بھٹو نے بھی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی،

    قبل ازیں اراکین اسمبلی کی ایوان میں آمد شروع ہو گئی ہے،عطا اللہ تارڑ، سید خورشید شاہ، شہلا رضا، تہمینہ دولتانہ، انجینئر امیر مقام، شیخ آفتاب ایوان میں موجود ہیں،اویس لغاری، ریاض پیرزادہ، طاہرہ اورنگزیب، نور عالم خان، کھیل داس کوہستانی، ذرائع گل، دانیال چودھری ایوان میں موجود ہیں،رومینہ خورشید عالم، نوشین افتخار، نوید قمر، آغا رفیع اللہ، خالد مگسی، خواجہ آصف ایوان میں موجود ہیں،علیم خان، زرتاج گل، علی محمد خان بھی ایوان میں پہنچ گئے،نامزد امیدوار وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے.

    سابق صدر آصف علی زرداری کی ایوان میں آمد ہوئی،پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے ڈیسک بجا کر آصف علی زرداری کا استقبال کیا، ایوان میں ایک زرداری سب پہ بھاری کے نعروں کی گونج سنائی دی، آصف زرداری نے نعروں کے جواب میں ہاتھ ہلایا،

    یوسف رضا گیلانی سینیٹ سے مستعفیٰ،قومی اسمبلی میں حلف لے لیا
    پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوگئے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کا حلف لے لیا، یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کردیا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یوسف رضا گیلانی کا استعفی منظور کرلیا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے

    قومی اسمبلی اجلاس، کون بچائے گا پاکستان قیدی نمبر 804 کے نعرے
    تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے ایوان میں عمران خان کی تصاویر لہرا دیں، ’’عمران خان زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے،پی ٹی آئی کے اراکین عمران خان کی تصویریں لے کر قومی اسمبلی میں موجود ہیں،سنی اتحاد کونسل کے اراکین نےسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا،بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ جاری ہے،عمر ایوب خان شیخ وقاص اکرم شیر افضل مروت سمیت دیگر اراکین موجود ہیں،سنی اتحاد کونسل اراکین کی قومی اسمبلی ہال میں نعرے بازی جاری ہے، اراکین کی جانب سے کون بچائے گا پاکستان قیدی نمبر 804 کے نعرے لگائے گئے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں،آئی آئی پی ٹی آئی ،عمر ایوب، اسد قیصر نے ایوان میں نعرے لگوائے،

    اپوزیشن ہم ہیں حکومت میں نہیں بیٹھیں گے،نورعالم خان
    جمعیت علمائے اسلام کے رہنما نور عالم نے پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ہم ہیں حکومت میں نہیں بیٹھیں گے، اپوزیشن میں آواز اٹھانی آتی ہے، ہم فرد واحد کے لیے نہیں ملک کے لیےلڑتے ہیں اور عوام کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، پہلے بھی عوام کے لیے آواز اٹھائی اب بھی اٹھائیں گے،مہنگائی ہو، امن و امان ہو یا رائلٹی کی بات ہو، آواز اٹھائیں گے، ملک کی بات ہو یا اداروں کے لیے بات ہو سب کریں گے، اسمبلی میں آئیں لیکن احتجاج کا طریقہ ہوتا ہے،احتجاج ہم سب کو کرنا چاہیے، پاکستان کی سیاست میں آئی ایم ایف باہر کے ممالک کو ملوث کرتے ہیں، اندرونی معاملات امریکا اور آئی ایم ایف کے حوالے کر رہے ہیں،پاکستانی قوم کو احتجاج کرنا چاہیے، عوام کو اپنے ان ارکان قومی اسمبلی سے پوچھنا چاہیے باہر ممالک کو کیسے خطوط لکھ رہے ہیں۔

    صدارتی ووٹ دینے سے متعلق وقت آنے پر بات کریں گے۔فاروق ستار
    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ حکومت اور ریاست سے دنیا کے تعلقات میں رخنہ ڈالنا غیر آئینی بھی ہے۔مشکل حالات ہیں، ڈیلیور کرنا ہوگا، لوگوں کی مشکل آسان کرنا ہو گی، مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بحران بڑے چیلنجز ہیں،صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کو خط لکھا اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ نامناسب بات ہے کہ گھر میں جھگڑا ہے تو عالمی ادارے کو آگاہ کریں،صحافی نے سوال کیا کہ ایم کیو ایم کو کتنی وزارتیں مل رہی ہیں؟ جس پرفاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کا بنیادی نکتہ آئینی ترمیمی بل ہے، مقامی حکومتوں اور ضلع کی سطح پر اختیار ہونے چاہئیں، مضبوط مرکز مضبوط پاکستان کی ضمانت ثابت نہیں ہوئے، صدارتی ووٹ دینے سے متعلق وقت آنے پر بات کریں گے۔

    اپوزیشن نے شرپسندی کی تو سختی سے نمٹیں گے، احسن اقبال
    ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جمہوریت کا ایک پہیہ ہے.اپوزیشن اگر مثبت کردار ادا کرے تو ہم خیرمقدم کریں گے.شرپسندی کی گئی تو سختی سے نمٹیں گے.پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کوئی ایک جماعت اکیلے نہیں کرسکتی.پی ٹی آئی کو چار میں سے ایک فیڈریٹنگ یونٹس کا مینڈیٹ ملا ہے، ہمیں چار میں سے تین یونٹس کا مینڈیٹ ملا ہے، ایک یونٹ کا میڈیٹ رکھنے والے کیسے کہہ سکتے ہیں دھاندلی ہوئی، اتحادی حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہے،

    آج پارلیمنٹ میں سرپرائز دیں گے، شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ آج پارلیمنٹ میں سرپرائز دیں گے، جو اجنبی لوگ ہیں پارلیمان میں جو فارم 47 پر آئے ہیں، وہ ایم این اے نہیں ہیں آج پارلیمان میں بیٹھے ہونگے، ان لوگوں کا اسمبلی میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے، ان لوگوں کو یہ سیٹیں ہضم نہیں کرنے دیں گے، آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا معاملہ بانی پی ٹی آئی دیکھیں گے،

    عمران خان کو اسمبلی میں بطور وزیر اعظم لائیں گے،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت قرضے درست طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، عالمی مالیاتی ادارے چاہتے ہیں کہ ان کے قرض کا درست استعمال ہو۔عمران خان کو اسمبلی میں بطور وزیر اعظم لائیں گے، عوام کے مسائل کے خاتمے کی بھرپور کوششں کریں گے،آج ہم اس اجلاس میں آواز اٹھائیں گے، یہاں پر ہماری ترجیح ہوگی کہ ہم اپنے لیڈرز جو جیل میں ہیں ان کو یہاں پر لائیں گے,الیکشن کمیشن ڈنڈی مار رہا ہے،
    ہم محب وطن ہاکستانی ہیں، ہم چاہتے ہیں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ صحیح کاموں میں استعمال ہو،اپوزیشن لیڈر لانے کا فیصلہ نہیں ہوا،پی ڈی ایم حکومت کا سٹریکچر بنایا گیا، یہ چوں چوں کا مربع کچھ نہیں کر پائے گا،پاکستان کو ہماری ہی پارٹی مشکلات سے نکال سکتی ہے، ہمارا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد ہے، تحریک انصاف کا انٹراپارٹی انتخابات ہورہا ہے، تمام معاملات جلد ہو جائینگے،

    سب سے زیادہ والد صاحب کو مِس کر رہا ہوں،زین قریشی
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ والد صاحب کو مِس کر رہا ہوں، آج وہ یہاں ہوتے تو انکے لیئے فخر کا مقام ہوتا، ان کی غیر موجودگی میں ظاہر ہے دل بھاری ہے انہوں نے بہت بڑی قربانی دی ہے، انکی قربانی کی وجہ سے نہ صرف میں بلکہ میرے جیسے کئی ایم این ایز الیکٹ ہو کر آئے ہیں،

    اراکین قومی اسمبلی کے حلف کے بعد سب سے پہلا مرحلہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا ہو گا، پہلے سامنے آنے والے مجوزہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی یکم مارچ کو جمع ہونے تھے اور 2 مارچ کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہونا تھاتاہم اب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے نیا شیڈول جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کاغذات نامزدگی آج دن 12بجے سے پہلے جمع کرائیں گے اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا الیکشن جمعہ یکم مارچ کو ہو گا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ ن نے ایاز صادق کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے پیپلز پارٹی نے غلام مصطفیٰ شاہ کو نامزد کیا ہے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے تاحال کسی کو بھی امیدوار نامزد نہیں کیا گیا جبکہ جے یو آئی نے ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دیں گے یا اپنا امیدوار سامنے لائیں گے۔

    قومی اسمبلی کااجلاس طلب کرنے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے صدرمملکت کے اعتراضات کا جواب دیدیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے طلب

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح دس بجے طلب

    قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا گیا،

    قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے طلب کر لیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے طلب کرلیا ،قومی اسمبلی اجلاس آرٹیکل 91 کی سب کلاز 2 کے تحت طلب کرلیا گیا ،شام 5 بجے تک صدر مملکت کے احکامات کا انتظار کیا گیا، قومی اسمبلی کا اجلاس صدر کی جانب سے طلب نہ کیے جانے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے طلب کرلیا ،قومی اسمبلی اجلاس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا،
    qomi

    قومی اسمبلی اجلاس میں نو منتخب اراکین حلف اٹھائیں گے، اسپیکر راجہ پرویز اشرف حلف لیں گے،یکم مارچ کواسپیکر اور ڈپٹی ا سپیکر کے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے، 2مارچ کوا سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا، 3مارچ کو وزیراعظم کے انتخاب کیلئے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کروائیں گے،4مارچ کو قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب ڈویژن کے ذریعے کرے گی،مسلم لیگ ن نے ایاز صادق کو سپیکر کا امیدوار نامزدکر رکھا ہے

    دوسری جانب نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور قومی اسمبلی ہال کا دورہ کیا، وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے انتظامات کا جائزہ لیا،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے متعلق انتظامات کے بارے میں نگراں وفاقی وزیر کو بریفنگ دی،نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کی سہولت کے لئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ،نومنتخب اراکین کو اسمبلی ہال تک رسائی کے لئے خصوصی پاس جاری کئے جائیں گے، اراکین کے لئے اسمبلی ہال میں نشستوں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں قائم فیسلی ٹیشن سینٹر کا دورہ بھی کیا اور وہاں موجود عملہ سے ملاقات کی.اس موقع پر وفاقی وزیر کو فیسلی ٹیشن سینٹر کے امور اور نومنتخب اراکین اسمبلی کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بریفنگ دی گئی

    قومی اسمبلی کااجلاس طلب کرنے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے صدرمملکت کے اعتراضات کا جواب دیدیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    تحریک انصاف ، سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا

    عمر ایوب نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی،عامر ڈوگر ،بیرسٹر گوہر،اسد قیصر، ریاض فتیانہ، علی محمد خان،شیر افضل مروت، ارشد ساہی،شہریار آفریدی سمیت دیگر نومنتخب ارکان اسمبلی نے شرکت کی،تحریک انصاف کےپارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمر ایوب کو وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کرنے کی منظوری دی گئی.

    طے پایا ہے کہ ہم اجلاس میں بھر پور شرکت کریں گے،عاطف خان
    سنی اتحاد کونسل کے رہنما عاطف خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پی ہائوس میں ہمارا اجلاس ہوا ہے، خصوصی طور پر ایک قرارداد پاس ہوئی ہے، اس میں یہ طے پایا ہے کہ ہم اجلاس میں بھر پور شرکت کریں گے، جو ہمارے کارکنان اور لیڈران جیل میں ہیں ان کی ضمانت کی جائے، عوام کا ووٹ ان کا حق ہے ان کا حق واپس کیا جائے، آئین کے مطابق ہمیں ہماری ریزروڈ سیٹ ملنی چاہیے،جس کی جتنی سیٹیں ہو گی ان کو اس حساب سے ریذورڈ سیٹ ملیں گی، عامر ڈوگر کا نام اسپیکر اور وزیراعظم کے لئے عمر ایوب کا نام فائنل ہوا ہے،پی ٹی آئی کو جلسے نہیں کرنے دئیے گئے، باقی پارٹیوں نے جلسے کئے اور عوام نے پھر بھی انہیں ووٹ نہیں دیا، عمران خان کا فیصلہ ہے وہ جس مرضی کو منتخب کریں، ہمارا احتجاج چلتا رہے گا ،

    پارلیمانی پارٹی کے ارکان کو اجلاس کے ساتھ خیبر پختونخوا ہاوس میں ظہرانہ بھی دیا گیا،پارلیمانی پارٹی میں پی ٹی آئی کے سنی اتحاد کونسل میں شامل تمام ارکان قومی اسمبلی کو دعوت دی گئی تھی،پارلیمانی پارٹی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی حکمت عملی طے کی

    دوسری جانب تحریک انصاف نے عاقب اللہ کو اسپیکر کے پی اسمبلی کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کے بھائی اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پارٹی کے سیاسی امور سے متعلق فیصلے کرنے سے روک دیا ہے، نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ پارٹی ذرائع کے مطابق اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ کو اسپیکر کیلئے نامزدگی سے ہٹانے کا فیصلہ عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر کے شدید ردعمل کے بعد آیا،عمر ایوب نے عاقب اللہ کی جگہ بابر سلیم سواتی کو اسپیکر کیلئے نامزد کرنے کا اعلان کیا ،ہ بابر سلیم کی تعیناتی کا فیصلہ عمر ایوب کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات میں کیا گیا

    اب تحریک انصاف نے اسد قیصر کو سیاسی امور سے متعلق فیصلوں سے بھی روک دیا ، موجودہ سیاسی کمیٹی کو مذاکرات، حکومت سازی سے متعلق روابط سے بھی روک دیا گیا، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب سیاسی جماعتوں کے روابط سے متعلق کمیٹی کے ناموں کا فیصلہ کریں گے، پارٹی کے حتمی فیصلوں کی منظوری عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر دیں گے جس کے بعد سیاسی کمیٹی مذاکرات اور بات چیت کرے گی.

    بہت جلد بانی پی ٹی آئی رہا ہونگے،ہم اپنا مینڈیٹ حاصل کرکے رہینگے،فیصل جاوید
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے میڈیا سے گفتگوکرتےہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے انتخابات میں ہیٹرک کر لی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا،ہیٹرک کا کریڈیٹ خیبرپختونخوا کی عوام کو جاتا ہے،خیبرپختونخوا کی عوام باشعور ہے جو کام کرتے ہے انکو دوبارہ لاتے ہے جو کام نہیں کرتے انکو موقع نہیں دیتے،گڈ گورننس کی وجہ سے پی ٹی آئی نے اس بار کلین سویپ کیا ہے،خیبرپختونخوا کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،پی ٹی آئی کی حکومت سب سے پہلے ہیلتھ کارڈ کو بحال کریگی،اس بار پی ٹی آئی امیدوار عوام کے پاس نہیں گئے بلکہ عوام امیدور کے پاس گئی اور کامیاب کرایا،اس الیکشن میں ہمارے امیدواروں کو کیمپین کا موقع ہی نہیں دیا گیا،بہت جلد بانی پی ٹی آئی رہا ہونگے،ہم اپنا مینڈیٹ حاصل کرکے رہینگے،بانی پی ٹی آئی کی کال پر ہفتہ کو نکلین گے اور اپنا حق لے کر رہینگے،مخصوص نشستوں کے حصول کے حوالے سے قانونی راستہ اختیار کرینگے،کور کمیٹی اس پر کام کر رہی ہے اپنا حق لے کر رہینگے.

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • شیریں مزاری  مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت  پیش

    شیریں مزاری مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر شیریں مزاری کے مئی 2022 میں مبینہ اغوا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،سیکرٹری کابینہ عدالتی حکم پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وہ گرفتاری خلاف قانون تھی؟ سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نومبر 2022 میں یہ رپورٹ آئی تھی، رپورٹ کے مطابق گرفتاری میں پروسیجرل غلطیاں تھیں، وزیراعظم نے رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار نہیں بلکہ اغواء کیا گیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی سیکرٹ دستاویز نہیں بلکہ صرف ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے، ہم انسانی حقوق کا معاملہ دیکھ رہے ہیں، سابق چیف جسٹس نے معاملہ کابینہ کو بھیجا تھا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں چھپانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر کیا ایکشن لیا؟یہ معاملہ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھا جائے،ہم نے پراسیس دیکھنا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوئی یا نہیں،اس حوالے سے رپورٹ پڑھنی پڑے گی، اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کے لیے جمع کرا دیں، کیا اس معاملے کو اب آنے والی کابینہ دیکھے گی؟سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ جی، نئی کابینہ اس معاملے کو اب دیکھے گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے کردار کو دیکھنا ہے، آفیشلز کے خلاف ایکشن کو دیکھنا ہے،

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • این اے 15 مانسہرہ،الیکشن کمیشن نے نوا ز شریف کو دیا جھٹکا،درخواست مسترد

    این اے 15 مانسہرہ،الیکشن کمیشن نے نوا ز شریف کو دیا جھٹکا،درخواست مسترد

    الیکشن کمیشن نے این اے 15 مانسہرہ سے انتخابی عذرداری کیس میں نواز شریف کی درخواست خارج کردی۔

    الیکشن کمیشن نے این اے 15 مانسہرہ پر ری الیکشن سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی درخواست خارج کر دی ، الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی،الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کو تین دن میں حلقے کا حتمی نتیجہ مرتب کرنے کا حکم دیا ہے۔

    گزشتہ روز وکلاء کے دلائل مکمل ہونے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، کیپٹن ر صفدر اور نوازشریف کے وکیل جہانگیر جدون کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے ، دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے 15 فروری کو آر او رپورٹ مانگی، 650 صفحات کی آر او رپورٹ دی گئی ، ہمار اکیس اب آر او کی رپورٹ کے رکارڈ پر ہوگا، درخواست گزار کو 82 ہزار سے زائد ووٹ ملے ، مخالف امیدوار کو ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد ووٹ پڑے، مسترد ووٹ 9 ہزار 82 تھے ، این اے 15 میں ٹوٹل 550 پولنگ سٹیشن تھے ، ہمیں 123 پولنگ سٹیشنز کا لا ڈھاکہ کے تھے ، ان کے فارم 45 نہیں ملے ، الیکشن کے دن موبائل انٹرنیٹ کنیکٹوٹی نہیں تھی، پریزائیڈنگ افسر نے ذاتی طور پر آراو کو رزلٹ دینا تھا، کچھ بیلٹ بیگز کی سیل مکمل اور کچھ کی جزوی ٹوٹی تھی، فارم 51 نہیں ملا، ہم نے دیکھنا تھا کہ کون سی سیل ٹوٹی ،یہ ڈسکہ سے زیادہ حساس کیس ہے ، ٹیمپرنگ کی گئی ، اے آر او پر ایف آئی آر کٹی کہ سامان چھوڑ کر کہا ں چلے گئے ،ایف آئی آر میں ہے کہ اے آر او بتائے بغیر ہسپتال سے غائب ہو گئے ۔

    این اے 15 دوبارہ الیکشن کروایا جائے، نواز شریف کے وکیل کا کمیشن سے مطالبہ
    ممبر کمیشن نے پوچھا کہ فارم 51 آپ کو کیوں فراہم کیا جائے ؟آپ نے سیل ٹوٹے بیگز دیکھنے ہیں تو ٹربیونل میں جائیں، آپ کے پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 ملے ؟پریزائیڈنگ افسر کیوں آپ کو فارم 45 نہیں دے رہے تھے، سارے ملے ہوئے تھے ؟ جہانگیر جدون نے کہا کہ بیلٹ بیگز کی ٹیمپرنگ ہوئی، فارم 45 کی ٹیمپرنگ کی گئی، این اے 15 کا الیکشن نہ آئین ، نہ الیکشن ایکٹ نہ الیکشن رول کے مطابق ہے ، ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ پورے ملک کے الیکشن کے بارے میں تو نہیں کہہ رہے ناں ؟جہانگیر جدون نے کہا کہ ریکارڈ ٹیمپر ہونے کے باعث ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، اس حلقے میں ہمارا رزلٹ متاثر ہوا، پورا حلقہ مثاتر ہواہے،ممبرکمیشن نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن ہو، جہانگیر جدون نے کہا کہ اب گنتی کی گنجائش نہیں، پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروایا جائے ، یہاں برف تھی، کنیکٹوٹی نہیں تھی، حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دیا جائے .

    واضح رہے کہ این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گستاسب کامیاب ہوئے تھے،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی این اے15انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی تھی تا ہم نواز شریف کے وکیل دوبارہ پیش ہوئے اور عذر داری بحال کرنے کی درخواست دی تھی،الیکشن کمیشن نے درخواست منظور کر لی تھی، الیکشن کمیشن نے آر او کا بھی تبادلہ کر دیا تھا،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ پر اپنی شکست تسلیم کریں این اے 15 مانسہرہ میں کہیں سےدھاندلی کی شکایت نہیں ملی، وہ خود بھی امیدوار تھے اور سارے حلقے میں ان کے ایجنٹ موجود تھے این اے 15سے وہ خود اور نواز شریف ہارگئے ہیں نواز شریف جس بنیاد پر عدالت جا رہے ہیں وہ بہت کمزور ہے-

    مانسہرہ این اے 15 انتخابی نتائج،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی نتائج چیلنج کیئے تھے،نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے انتخابی نتائج چیلنج کیے،درخواست میں کہا گیا کہ 125 پولنگ اسٹیشن کے نتائج مکمل نہیں ہوئے،آار او نے بقیہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے بغیر ہی فارم 47 جاری کر دیا،نواز شریف نامکمل فارم 47 پر ہارے ، انھیں فارم 47 پر تحفظات ہیں،مانسہرہ این اے 15 کے نتائج روکے جائیں،بقیہ پولنگ اسٹیشن کو حتمی نتیجے میں شامل کیے جائیں ،تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے

    این اے 15 مانسہرہ، نواز شریف کو شکست، آزاد امیدوار جیت گیا
    این اے 15 مانسہرہ ، نواز شریف ہار گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار شہزاد محمد گستاسپ خان نے ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انچاس ووٹ حاصل کئے،نواز شریف نے اس حلقے سے80 ہزار 382 ووٹ حاصل کئے ہیں، نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسہ بھی کیا تھا ،کیپٹن ر صفدر بھی مانسہرہ میں نواز شریف کی بھر پور مہم چلاتے رہے، اس حلقے سے اعظم سواتی دستبردار ہو گئے تھے

  • لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ، نگران وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ لاپتہ بلوچ طلبہ کیس میں طلب کیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو طلب کر رکھا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بلوچ لاپتہ طلبا کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ، وزیر داخلہ گوہر اعجاز و دیگر عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئین کے اندر رہ کر کام کررہے ہیں، میں قانون کے مطابق جواب دہ ہوں ، آپ نے ہمیں بلایا ہم آگئے ہیں ، میں بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں ، ہم بلوچستان میں مسلح شورش کا سامنا کررہے ہیں،مجھے بلوچستان سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے حالات کا زیادہ علم ہے، بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہو رہی ہے، بلوچستان میں کچھ لوگ نئی ریاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،نان اسٹیک ایکٹرز کی خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ ہوتی ہیں، ہمارے بلوچستان کے ایک سابقہ چیف جسٹس کو مغرب کی نماز کے وقت ان مسلح جتھوں نے شہید کیا تھا، ان چیف جسٹس صاحب نے ایک انکوائری کی سربراہی کی تھی، زندہ رہنے کا حق سر فہرست ہے،

    سسٹم میں کمی اور خامیاں ، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی بالکل ایک مختلف معاملہ ہے، ریاستی اداروں کو معلوم ہے ملک کیسے چلانا ہے،لیکن لوگوں نے حقوق کی خلاف ورزی کرکے ملک نہیں چلانا،یواین کا بھی ایک طریقہ ہے وہ پوچھتے ہیں کون لاپتہ ہوا، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ وہ پوچھتے ہیں آپ جسٹس محسن اختر کیانی ہیں آپ لاپتہ ہو گئے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میں نے جبری لاپتہ ہو جانا ہے؟ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میں مثال دے رہا ہوں، میں انوار کا نام لے لیتا ہوں،یہ بسوں سے اتار کر نام پوچھتے اور چودھری یا گجر کو قتل کر دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ سٹوڈنٹس کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نا کریں ،سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،وہ ایک نئی ریاست تشکیل دینے کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں،ریاست اخلاقی طور پر خود کو بالادست سمجھتی ہے تو ان کی جوابدہی زیادہ ہوتی ہے،ایسا نہیں ہے کہ خود کش حملہ آور نیک نامی کا باعث بنتے ہیں،90 ہزار افراد آج تک اس ملک میں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں، فرقہ واریت کی بنا پر لوگوں کے نام پوچھ کر قتل کئے گئے ہیں، تم چوہدری ہو گولی، تمہارا نام گجر ہے گولی، یہ سلسلہ ہے، کلاشنکوف اٹھانے والا اور نہتا فرد ایک جیسے نہیں ہو سکتے،مجھے صحافی نے پوچھا کہ آپ بلوچستان واپس کیسے جائیں گے؟

    مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے نگران وزیراعظم سے استفسار کیا کہ بلوچستان تو دور یہ آپ کے سامنے مطیع اللہ جان جان کھڑے ہیں، دن دھاڑے اسلام آباد سے انہیں اغواء کر لیا گیا۔لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالہ سے کامیاب اقدامات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے، قانون کی پاسداری ہر شہری کا حق ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،عدالت نے کہا کہ اس بات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے 59 لوگوں میں سے صرف 8 لوگ رہ گئے ہیں،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پیرا ملٹری فورسز، کاؤنٹر ٹیرارزم کے اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں، پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک نے بڑے بڑے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، سسٹم کمزور ضرور ہے لیکن بے بس نہیں ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میرا بیٹا فوج میں بھرتی ہوتا ہے تو میں کیا چاہوں گا کہ قانون میرے ساتھ کھڑا ہو یا دہشت گردوں کے ساتھ؟بیس سال سے لڑائی چل رہی ہے، آئندہ پارلیمنٹ آئے گی وہ بھی دیکھے گی، آئے روز کے الزامات سے ریاست کو نکالنا چاہیے، ہم نے اس لیے ہتھیار نہیں اٹھایا کہ ریاست نے ہمارے حقوق کی گارنٹی دی ہے،میں صرف لاپتہ افراد کے حوالے سے وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتہ افراد کا پوچھیں تو پانچ ہزار نام دے دیتے ہیں، یہ خود بھی اس ایشو کو حل نہیں کرنا چاہتے،آئین پاکستان مجھ سے غیرمشروط وفاداری کا مطالبہ کرتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ خوبصورت باتیں کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس بہت سی مثالیں موجود ہیں،

    روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،نگران وزیراعظم
    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے، آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ روکنا چاہیے، قانون کو یہ دیکھنا ہوگا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز اور سٹیٹ ایکٹرز کو کیسے دیکھنا ہوگا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بات عدالت ، ایمان مزاری اور آپ کی ایک ہی ہے، ریاست مخالف لوگوں کو کوئی عدالت پروٹیکشن نہیں دے سکتی، کیا اس معاملے پر آپ قانون سازی کرسکتے ہیں؟ نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں نہیں کرسکتا ، نیا پارلیمان کے پاس اختیارات ہونگے وہ کرسکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ پرچہ کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک میں بڑے بڑے دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں،جن لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے انکو عدالتوں میں پیش کرنا لازم ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ بڑی سیاسی جماعتوں کو اٹھاکر حل کرنا چاہیے، ہمارے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، روزانہ اداروں کے جوان شہید ہورہے ہیں، روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 میرے سے غیر مشروط وفاداری مانگتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی،جسٹس محسن اختر کیانی نےکہا کہ گرفتاری میں قانون کی خلاف ورزی ہو تو وہ غیرقانونی ہو جاتی ہے، کابینہ کے سامنے معاملہ رکھیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں، عدالت نے کیس کی سماعت 3 اپریل تک ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم کو پہلے بھی طلب کیا تھا تاہم وزیراعظم عدالت پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے دوبارہ انوار الحق کاکڑ کی طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، آج نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت پیش ہو گئے ہیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، آئی جی اسلام آباد بھی عدالت پہنچ چکے ہیں،پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.

    آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،نگران وزیراعظم کا صحافی سے مکالمہ
    اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت سے نکلے تو صحافیوں سے بات چیت کی، اس دوران نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت میں جبری گمشدگی کا دفاع بالکل نہیں کیا، جبری گمشدگی کے نام پر جو الزامات لگ رہے ہیں، ان کا دفاع کیا، وزیراعظم اور صحافی کے درمیان سخت سوال و جواب ہوئے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،صحافی نے سوال کیا کہ یہ افراد سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے تو پہلے کیوں نہیں بتایا گیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ الزام کو الہامی حیثیت دینا چاہتے ہیں،ہم انکوائری کریں گے پھر بتا دیں گے،صحافی نے سوال کیا کہ نگران حکومت نے کس آئین کے تحت 6 ماہ کا وقت لیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 1973 کے تحت،

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،

    بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،
    اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں گی یا نہیں، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹی گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،علی ظفر
    الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، دونوں طرف سے بحث ختم ہو چکی ہے، آئین پاکستان واضح کہتا ہے جیتنے والی سیٹوں کی تعداد کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائیں،ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں لیکن موقع ملے تو دوسرے کا حق غبن کرتی ہیں،آج مخالف جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ ہم اپنا مخصوص حصہ لے چکے ہیں،قانون میں کہاں قدغن ہے کہ دوبارہ فہرست نہیں دی جا سکتی،اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹیں گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں کوئی حیرات نہیں ہمارا آئینی حق ہے، ہم نے کہا یہ الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑ سکتا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • اسلام آباد وائلد لائف نے ہری پور سے چیتے کے 2 بچے ریسکیو کرلئے

    اسلام آباد وائلد لائف نے ہری پور سے چیتے کے 2 بچے ریسکیو کرلئے

    خیبرپختونخوا وائلڈ لائف نے چیتے کے دو بچے ریحیبلیشن کے عمل کے لیے اسلام آباد وائلڈ لائف کے ریسکیو سینٹر منتقل کر دیے۔

    اسلام آباد وائلڈ لائف نے چیتے کے دو بچے، جن کی عمر تقریباً 2 ماہ تھی، کو کے پی کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے 24 فروری کو ریسکیو کیا جن کو rehabilitation کے عمل کے لیے اسلام آباد وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا۔ نیلو اور سلطان نامی نر اور مادہ کے بچے مارگلہ کی پہاڑیوں کے بالمقابل ضلع ہری پور میں جابری کے پہاڑی علاقے میں سے ریسکیو کیے گئے۔ ریسکیو کے بعد ان بچوں کو 15 فروری کو ایبٹ آباد منتقل کیا گیا۔

    کے پی کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ان کی ماں کو تلاش کرنے کی کوششوں کے باوجود، یہ طے پایا کہ بچے اس کے بغیر جنگل میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے انہیں اسلام آباد کے پرانے چڑیا گھر کی جگہ پر واقع آئی ڈبلیو ایم بی اور سیکنڈ چانس وائلڈ لائف کے ‘ریسکیو اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر’ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔آئی ڈبلیو ایم بی اور سیکنڈ چانس وائلڈ لائف نے نیلو اور سلطان کی ضروری دیکھ بھال کی فراہم کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ جنہیں اپنی کم عمر کی وجہ سے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

    اسلام آباد میں ریسکیو سنٹر پہنچنے پر، بچوں کا جانوروں کے ڈاکٹر کے ذریعے مکمل صحت کا معائنہ کیا گیا جبکہ انہیں ویکسین اور ڈی ورمنگ کی ضرورت ہوگی تاہم چیتے کے بچوں کے لیے مستقل مسکن کا تعین کے لیے کام جاری ہے۔ چڑیا گھر کی سابقہ ​​جگہ، جو 28 ایکڑ اراضی پر پھیلی ہوئی ہے، دو تیندووں کے لیے ایک پناہ گاہ بنانے کے لیے کافی جگہ فراہم کرتی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی طرف سے پاکستان میں انتہائی خطرے سے دوچار عام تیندوے کو ملک بھر میں شکار سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

    کے پی کے ضلع نوشہرہ میں چیتے کی ہلاکت

    سوات ،چیتے کے حملے میں دو افراد زخمی، چیتے کو مارنے پر مقدمہ درج

    بالاکوٹ؛ چیتوں نے 35 بکریوں کو مار ڈالا

    ڈی یچ اے فیز 2 میں خوف پھیلانے والا تیندوا کئی گھنٹوں بعد گرفت میں آگیا

    اسلام آباد کے گاؤں سید پور میں چیتوں کی موجودگی کے بعد علاقے میں خوف و ہراس

  • انتخابات کے نتائج کے خلاف آخری دم تک احتجاج کریں گے،عمرا یوب

    انتخابات کے نتائج کے خلاف آخری دم تک احتجاج کریں گے،عمرا یوب

    تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑے عرصے کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کے جذبے بلند ہیں ،

    عمر ایوب کا کہنا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے بات ہوئی کہ فارم 47 کے ذریعے دھاندلی کی گئی ،قلم کی جنبش کے ذریعے ہمارے سیٹوں پر کٹ لگایا گیا، 2 مارچ کو مختلف پارٹیوں کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے، ملکی تاریخ میں اتنی بڑی دھاندلی نہیں ہوئی، عوام کے ووٹ پر شب خون مارا گیا ، عوام نے پی ٹی آئی کو دیا ہے، لودھراں میں بھی ہمارے ایم این اے کو ہرایا گیا ،ہم انتخابات کے نتائج کے خلاف آخری دم تک احتجاج کریں گے ،عوام کا مینڈیٹ ہے جسے چوری کیا گیا اور یہ مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی کو دیا گیا ، بانی پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے کیے عامر ڈوگر کا منتخب کیا گیا ، ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ کے لئے مالاکنڈ سے نومنتخب ممبر جنید خان کو نامزد کیا ہے ،جیت پی ٹی آئی کی ہو گی، قائد نے ایک چیز سیکھائی کے آخری دم تک لڑنا ہے ، فارم 45 ہمارے پاس موجود ہیں، ہم آخری دم تک لڑیں گے،

    29 فروری کو ہم حلف لینے جائیں گے،شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے خط کے حوالے سے ہمارا موقف ہے کہ آج خط لکھ دیا جائے گا ، 29 فروری کو ہم حلف لینے جائیں گے، جمہوری قوتوں پر خان صاحب نے احتجاج کے لیے زور دیا ہے ، پاکستان اور ملک بھر میں پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کو احتجاج کی دعوت دی ہے، بانی پی ٹی آئی سے پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات پر بھی بات ہوئی،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن سینیٹ کے الیکشن اور ضمنی الیکشن میں کام آئیں گے۔ ہمیں اب مشکلوں کی عادت ہوگئی ہے۔ ہم گھر سے نکلتے ہیں تو ہر قسم کی پریشانی تکلیف مصیبت کیلئے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں ،مولانا فضل الرحمن کیساتھ ہمارے اتحاد کے کوئی معاملات نہیں چل رہے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ احتجاج میں شامل ہوں لیکن وہ شامل نہیں ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن کیساتھ ملاقات کو ورکرز کیطرف سے ستائش کی نظر سے نہیں دیکھا گیا ،ہم نے پنجاب کے ان تمام دھاندلی والے حلقوں کے چیلنج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنی جان چھڑا رہی ہے، ہمیں کہتے ہیں کہ آپ ٹربیونل میں جائیں،ملک بھر میں تحریک انصاف کے میڈینٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، ہم پہلے بھی اس پر احتجاج کر چکے ہیں، ہمارے امیدواروں کے حتمی نتائج آنے کے بعد دوسرے امیدواروں کو جتوایا گیا ہے،

    جی ڈی اے، تحریک لبیک اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کریں گے،اسد قیصر
    اڈیالہ جیل کے باہر تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آج بہت اچھی ملاقات ہوئی ہے، اختر مینگل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بات کرنے کی ہدایت کی گئی ، ون پوائنٹ ایجنڈ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کا مکمل طور پرمستقل خاتمہ ہو ، جی ڈی اے، تحریک لبیک پاکستان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کریں گے ،مریم نواز جو کل وزیراعلی بنی ہے اس کو کون مانے گا لوگوں کو زبردستی ساتھ ملایا گیا ، ہم چاہتے ہیں کہ لیول پلینگ فیلڈ سب کو ملے اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ، ہم مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے ،ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ لیول پلینگ فیلڈ اور قانون کی حکمرانی ہو ،حکمرانی کے حوالے سے بند کمروں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے ،حلف اٹھانے کے حوالے سے کل ہماری پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں فیصلہ ہو گا ہم چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے ، ہماری جدوجہد قانون اور آئین کے مطابق ہے، لوگوں سے درخواست ہے کہ پرامن احتجاج کریں،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا صدر مملکت کا کام ہے ، اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر ہی نہیں سکتا ، جاتی امرا کے لاڈلے کی بیٹی کا وزیراعلی بننا غیر قانونی ہے ، جب صوبائی اسمبلی کا کورم ہی مکمل نہیں تو کس طرح قائد ایوان کا انتخاب ہوا ،

    مریم نواز کو اس لئے مبارکباد نہیں دی کیونکہ پہلے وہ اپنی سیٹ تو جیتیں،علی محمد خان
    تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ قوم کے حق پر ڈالا ڈالا گیا ہے ،غریب کا آخری ہتھیار اس کا ووٹ ہے ، غریب آدمی سوچتا ہے اپنے ووٹ سے ملک ٹھیک کروں گا ،مریم نواز نے کل وزیر اعلٰی کا حلف اٹھایا میں انہیں ضرور مبارکباد دیتا ،مریم نواز کو اس لئے مبارکباد نہیں دی کیونکہ پہلے وہ اپنی سیٹ تو جیتیں ،پاکستان کو بچانا ہے تو جس کا میڈینٹ ہے اس کو دیا جائے، دھاندلی کے باوجود لوگوں نے نکل کر فسطائیت کا مقابلہ کیا،

    جیتی گئی سیٹیں دوبارہ گنتی میں اب ہم سے واپس لی جا رہی ہیں، علیمہ خان

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    محمود اچکزئی آپکے ساتھ مل جائیں تو کیا پھر وہ غدار نہیں ہوں گے،عمران خان نے جواب نہ دیا

    عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

  • یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 29 فروری کو صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی، یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 (4) کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 ایام کے اندر کروانا لازم ہے۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 91 اور 130 کے تحت تمام اسمبلیوں کی پہلی نشست انتخابات کے بعد 21 ایام کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔ 29 فروری 2024 کو تمام اسمبلیاں وجود میں آجائیں گی اور اس طرح سے صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی۔ الیکشن کمیشن یکم مارچ 2024ء کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا۔ آئین کے تحت کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائیگا۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔ لہذا تمام خواہش مند امیدواران آج سے ہی کا غذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا اور بلوچستان سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور راہنمائی کیلئے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے ٹیلی فون نمبر 051-9219335 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی